11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsسراج البیان

Ayahs 11:81–82

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

فرشتے بولے اے لوط (علیہ السلام) ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ‘ یہ تجھ تک پہنچ نہ سکیں گے ، سو کچھ رات گئے تو اپنے اہل لے کر نکل جا ، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھئے مگر تیری عورت کہ اس پر وہی مصیبت آئی ہے جو ان پر آئے گی ، ان کے وعدہ کا وقت صبح ہے ، کیا صبح نزدیک نہیں ؟ (ف 2) ۔

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم آیا ، ہم نے وہ بستی الٹ دی ، اور ان پر کھنگر کی پتھریاں تہ برتہ برسائیں ۔

(ف 2) حضرت لوط (علیہ السلام) کی عورت نے دعوت کو قبول نہ کیا اور کفر وفسق میں قوم کا ساتھ دیا ، اس لئے ضرور تھا کہ جلد اور ضروری اس کو بھی معذبین میں شامل کرلیا جائے ، حضرت لوط (علیہ السلام) چونکہ پیغمبر تھے ، انہوں نے اس برائی کے خلاف تو قوم کو بالخصوص لعن طعن کی ، مگر ان کی دعوت وتبلیغ میں بھی تفصیلی ہدایات موجود تھیں ، جن میں توحید سے لے کر اعمال تک تمام دوسری جزئیات شامل تھیں ، آپ کی بیوی نے آپ کی دعوت کا انکار کیا ، اس طرح وہ اس نظام فسق وفجور کا موجب بنی جو قوم کو تباہ کر رہا تھا ، اور اس لئے عذاب میں اس کا شمول ضروری ٹھہرا ورنہ خلاف وضع فطرت کے فعل میں کوئی عورت ساتھ نہیں دے سکتی ، یہ اس نسوانی فطرت کے خلاف ہے جس سے تخلف ناممکن ہے ۔
Ayah 11:83

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جو کہ تیرے رب کے پاس نشان دار تھیں (ف 3) ۔ اور وہ (لوط (علیہ السلام) کی) بستی ظالموں (اہل مکہ) سے کچھ دور نہیں ۔

ناپاک اور خبیث النفس لوگ : (ف 3) اس بستی کو جہاں یہ ناپاک لوگ رہتے تھے ، اللہ کے عذاب نے آگھیرا اور اسے الٹ دیا گیا ، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مٹ گئے ، یہ کیوں ؟ اس لئے کہ جب قوم میں شہوانی خیالات اس درجہ رائج ہوجائیں کہ اٹھتے بیٹھتے انہیں سوا اس کے اور کوئی مشغلہ ہی پسند نہ ہو ، جس کا روز مرہ فحش اور گندا ہو ، جو فطرت کے مضبوط اور مستقیم اصولوں کو پس پشت ڈالدے ، جو خیر خواہوں کی باتوں کا مضحکہ اڑائے ، جو اس درجہ ذلیل ہوجائے کہ نفس کی خباثتیں اس پر غالب آجائیں ، اس قوم کا ہلاک ہوجانا ہی بہتر ہے ۔ ” فبطن الارض خیرمن ظھرھا “۔ ہر پیغمبر توحید کے ساتھ کچھ مخصوص تعلیمات بھی پیش کرتا ہے جن کا تعلق قوم کے ان اخلاقی ومعاشی نقائص سے ہوتا ہے جو زیادہ ابھرے ہوئے اور نمایاں ہوتے ہیں ۔
Ayahs 11:84–86

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا بولا اے قوم اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، اور ماپ تول میں کمی نہ کرو ، میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں اور مجھے تمہاری آسودہ حال دیکھتا ہوں اور مجھے تمہاری نسبت گھیرنے والے دن کے عذاب کا خوف ہے (ف 1) ۔

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اسے قوم انصاف سے ماپ تول پورا رکھو ، اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد کرتے نہ پھرو ۔

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اللہ کا دیا جو بچے ‘ وہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر مومن ہو ، اور میں تمہارا نگہبان نہیں ۔

(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تجارت سے شغف رکھنے والی قوم تھی ، مگر کم تولنے کی بد عادت میں مبتلا تھی ، اس لئے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انہیں اس برے فعل سے روکا ، اور کہا ، کہ اللہ کی عبادت کے ساتھ معاملات میں بھی منصف اور عادل بننے کی کوشش کرو ، کیونکہ مذہب کا تعلق صرف عقائد سے نہیں ، بلکہ اس کو معاملات میں بھی اصلاحی ہدایات پیش کرنا لازم ہے ، وہ عقیدے اور عبادتیں جو برائیوں سے نہیں روکتیں تمہیں بتاؤ ان کی کیا قیمت ہے ؟ مذہب زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھتا ہے ۔
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

بولے اے شعیب (علیہ السلام) ، کیا تیری نماز نے تجھے یہ سکھلایا ، کہ ہم ان کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے بڑے پوجتے تھے یا یہ کہ ہم اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘ نہ کریں ، تو تو بڑا برد بار نیک ہے (ف 1) ۔

اکل حلال : (ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جب توحید کی طرف قوم کو بلایا ، خدا پرستی کی تلقین کی اور کہا کہ عقیدہ تو حید عام اعمال میں بھی نظر آنا چاہئے پورا تول کر دو اور پورا ناپ کرلو ، تو انہوں نے از راہ بدبختی کہا واہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنے کل مال و دولت میں تمہارے تصرفات کو مان لیں ہم جیسا چاہیں گے کریں گے ، اس کے بعد یہ کہہ کر حضرت شعیب (علیہ السلام) کی کچھ چاپلوسی کی ہے ، کہ تم نہایت بردبار اور نیک ہو ، یہ تجارت اور بزنس کے داؤں گھات ہیں تم کیا جانو ، یہ کیا ہیں اس لئے ان چیزوں کی مخالفت نہ کرو ، اور دخل در معقولات سے باز آجاؤ ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے تو اکل حلال کی تلقین ، کی ، کیونکہ اکل حلال ہی سے صحیح مذہبی روح باقی رہتی ہے ، دل میں جذبات پاکیزہ رہتے ہیں دین کے لئے دلوں میں جوش اور حمیت رہتی ہے ، روح کی بالیدگی اور اعمال کی پاکیزگی کا یہ اولین وسیلہ ہے یہی اصل ریاضت ہے عبادت کی جان ہے اور دین کا اساس ، مگر قوم نے اس کی مخالفت کی اور حرام کھانے کی ٹھان لی ، اس لئے کہ اکل حلال میں مشکلات ہیں ، لوٹنے اور ناجائز طریقوں سے مال حاصل کرنے کا موقع نہیں ملتا ، نفسانی آسائشیں فراوانی سے میسر نہیں ہوتیں یہ لوگ چونکہ محنت کے عادی نہ تھے راحت طلب اور ہوائے نفس کے تابع تھے ، اس لئے شعیب (علیہ السلام) کی دعوت قبول کرنے سے محروم رہے ۔
Ayahs 11:88–90

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

کہا اے قوم دیکھو تو اگر میں اپنے رب سے حجت پر ہوں ، اور اس نے مجھے اپنی طرف سے نیک روزی دی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے تمہیں منع کرتا ہوں وہ میں آپ کروں میرا ارادہ تو صرف اصلاح کا ہے جہاں تک مجھ سے ہو سکے ، اور میری توفیق اللہ ہی سے ہے میں نے اسی پر بھروسا کیا ، اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (ف 2) ۔

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے قوم میری مخالفت تمہارے حق میں اس کا باعث نہ ہو کہ تم پر ویسی مصیبت آئے جیسی قوم نوح (علیہ السلام) یا قوم ہود (علیہ السلام) یا قوم صالح (علیہ السلام) پر آئی تھی ، اور قوم لوط (علیہ السلام) تم سے بہت دور نہیں ۔

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف توبہ کرو بیشک میرا رب مہربان محبت والا ہے ،

(ف 2) قوم کے اعتراضات کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں ، درست ہے ، دلائل کی بنا پر کہہ رہا ہوں ، وہ تجارت یا لین دین کامیاب ہے جو صداقت اور دیانتداری پر مبنی ہو ، میری نیکی سے تم یہ توقع نہ رکھو ، کہ میں ان برائیوں کو نہیں سمجھتا ، اور تمہارا ان میں ساتھ دوں گا میں تو اصلاح چاہتا ہوں ، مجھے تمہاری مخالفت کی پروا نہیں ، کیونکہ میرا تعلق خدائے برتر سے ہے ۔ حل لغات : شقاقی ، میری عداوت ۔ شق سے مشتق ہے ۔
Ayahs 11:91–92

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

بولے ، اے شعیب جو تو کہتا ہے ہم اس میں کی بہت باتیں نہیں سمجھتے اور تجھے ہم اپنے درمیان ناتواں دیکھتے ہیں ‘ اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم تجھے سنگسار کرتے اور تو ہم پر غالب نہیں ہے (ف 1) ۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

بولا ، اے قوم کیا میری برادری خدا کی نسبت تمہارے نزدیک زیادہ زبردست ہے ، اور خدا کو تم نے اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا ، تمہارے کام میرے رب کے قابو میں ہیں ۔

(ف 1) جب قومیں جذبہ دینداری سے عاری ہوجائیں اور ان کا نصب العین دنیا کی پوجا قرار پائے ، جب ہوائے نفس کے بادل قلب و دماغ پر چھا جائیں ، اور دن رات حصول زر کا خیال دامن گیر ہو ، جب دنیا مقصود ٹھہرے اور دین دوسرے درجے کی چیز رہ جائے تو اس وقت پند ونصیحت بیکار ہے ، پھر اخلاقی وعظ ان کے دلوں میں اثر انداز نہیں ہوتے ، اور نہ طبیعتیں قبول حق کے لئے آمادہ ہوتی ہیں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم دنیا داری کے ان درجات کو طے کرچکی تھی ، زر طلبی اور ہوس رانی ، زندگی کا شعار قرار پا چکا تھا ، اس لئے صداقت وسچائی کی راہوں میں کامیابی انہیں مشکل نظر آئی انکی سمجھ میں نہیں آتا تھا ، کہ دیانتداری کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیونکر تجارت میں کامیاب ہو سکتے ہیں ، کاروبار تو جھوٹ اور فریب کے سوا چل نہیں سکتے ، اس لئے انہوں نے صاف صاف کہہ دیا یہ فلسفہ دینداری ہماری عقل سے بالا ہے ، اور جب دیکھا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی کوششیں برابر جاری ہیں ، اور وہ سب کو پاکبازی اور عدل و انصاف کی دعوت دینے میں بدستور مصروف ہیں اور مایوس نہیں ہوئے تو انہوں نے دھمکی دی کہ دیکھئے آپ ہم میں کمزور ہیں آپ کا مار ڈالنا ہمارے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ، ہمیں ان عزیزوں کا خیال ہے ، جو ہمارے بھی عزیز ہیں اور آپ کے بھی اور جو آپ کے ہم عقیدہ نہیں ورنہ کبھی آپ کا کام تمام کردیا ہوتا ۔ حل لغات : ودود : ود سے مشتق ہے یعنی منبع محبت ۔ رھط : گروہ وجماعت مرداں ، واحد پر بھی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے ۔ ظھریا : ظہر سے بنا ہے یعنی پس پشت ڈالا ، ہوا ۔
Ayahs 11:93–96

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور اے قوم ! تم اپنی جگہ میں کام کئے جاؤ میں اپنی جگہ کام کرتا ہوں ، آئندہ کو تمہیں معلوم ہوجائیگا کہ رسوائی کا عذاب کس پر آتا ہے اور کون جھوٹا ہے اور تا کہتے رہو میں بھی تمہارے ساتھ تاکتا ہوں (ف 1) ۔

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم آیا ہم نے اپنی رحمت سے شعیب (علیہ السلام) اور اس کے ایماندار ساتھیوں کو بچا لیا ، اور ایک چنگھاڑ ظالموں پر آئی ، سو وہ صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے مرے پڑے تھے ،

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

گویا وہاں کبھی نہ بسے تھے ، سنتا ہے پھٹکار پڑی مدین پر جیسے ثمود پر پھٹکار پڑی تھی ،

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں اور واضح سند کے ساتھ ۔

(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) نے دھمکی کو صبر و عزیمت کے ساتھ سنا اور کہا ، تمہیں میرے عزیزوں کا تو خیال ہے ، مگر اللہ کا خیال نہیں ، جس کی جانب سے میں مبعوث ہو کر آیا ہوں ، تم اس کی آواز پر کان نہیں دھرتے تمہیں اس بات کی فکر نہیں کہ وہ تمہیں کیا کہے گا تم جو چاہو ، کرتے رہو میں ہرگز تمہارے طرز عمل سے خائف نہیں ، تم عنقریب جان لوگے ، کہ جھوٹا کون ہے ، اور سچا کون ، کس پر اللہ کی رحمتیں ہیں اور کون ذلیل اور کون عذاب کا مستحق ہے ۔ چنانچہ اللہ کا عذاب آیا اور انکار کرنے والے صفحہ ہستی سے ہٹ گئے ، اللھم اغفر لکاتبیہ ولمن سعے فیہ ۔
Ayahs 11:97–100

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

فرعون اور اس کی جماعت کی طرف بھیجا سو وہ لوگ فرعون کے حکم پر چلے ، اور فرعون کا حکم اچھا نہ تھا (ف 1) ۔

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

فرعون قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے ہوگا پھر انہیں آگ پر جا اتارے گا اور برا گھاٹ ہے جہاں جا اترے ۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور اس دنیا میں اور قیامت کے دن ان کے پیچھے لعنت لگی ، برا انعام ہے جو ملا ۔

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ بستیوں کی بعض خبریں ہیں جو ہم تجھے سناتے ہیں بعض بستیاں قائم ہیں اور بعض اجڑ گئیں ،

جہنم کی سرداری : (ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب فرعون کو کبر و غرور سے روکا اور ارکان حکومت کے ساتھ بہترین سلوک روا رکھنے کی تلقین کی ، اس سے کہا گیا کہ بنی اسرائیل پر ظلم نہ کرو ، انہیں آزادی وحریت کی نعمتوں سے ہم کنار ہونے دو ، تو اس کے قیادت پسند مغرور نفس نے اس جائز اور درست مطالبے کو تسلیم نہ کیا جادوگروں کو بلایا ، موسیٰ (علیہ السلام) کو ذلیل ورسوا کرنے کی کوشش کی ، بنی اسرائیل پر اور سختیاں شروع کردیں ، محض اس بنا پر کہ طیبعت میں سیادت وفرمانروائی کا جنون تھا ، دماغ کو کبر غرور کے بام بلند سے نیچے آنا گوارا نہ تھا ، یہ کس طرح پسند نہ تھا کہ بنی اسرائیل اور فرعون ایک دین کے حلقہ بگوش ہوجائیں ایک قبطی اور اسرائیلی دونوں ایک صف میں کھڑے ہوجائیں ، اس طریق سے اس کے جذبہ قیادت وسیادت کو صدمہ پہنچتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے جو سزا تجویز کی ، وہ اس کی نفسیات کے عین مطابق ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ، (آیت) ” یقدم قومہ یوم القیمۃ “۔ یعنی قیامت کے دن بھی اس کی شان قیادت کی لاج رکھی جائے گی ، اپنی قوم کو جہنم میں لے جائے گا اور ان کے آگے آگے ہوگا ، جس طرح دنیا میں اس نے قوم کو قلزم میں غرق کردیا تھا ، اس طرح آخرت میں بھی قوم کو جہنم میں لے جانے کے لئے پیش پیش ہوگا ۔
Ayahs 11:101–107

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، لیکن وہ اپنی جانوں پر خود ظلم کر گئے ، سو جب تیرے رب کا حکم آیا ان کے معبود جنہیں وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے ، اور ان کے لئے سوائے ہلاکت کے کچھ نہ بڑھایا (ف 2) ۔

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور تیرے رب کی ایسی ہی پکڑ ہے جب وہ ظالموں بستیوں کو پکڑتا ہے ، بیشک اس کی گرفت سخت دکھ دینے والی (ہوتی) ہے ۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

جو کوئی عذاب آخرت سے ڈرتا ہے اس کے لئے اس بات میں نشانی ہے ، وہ ایک دن ہے جس میں سب آدمی جمع ہوں گے اور وہ دو دن ہے جس میں سب لوگ حاضر کئے جائیں گے ۔

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور ہم نے اس میں صرف ایک معین وقت تک کیلئے تاخیر کی ہے ۔

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جب وہ دن آئے گا کوئی بےاذن خدا نہ بولے گا ، سو کوئی ان میں بدبخت ہوگا اور کوئی نیک بخت

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

سو جو بدبخت ہیں آگ میں جائیں گے ، ان کو وہاں چلانا ہے اور دھاڑنا ہے ۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

جب تک آسمان و زمین قائم ہے اسی آگ میں رہیں گے مگر جو تیرا رب چاہے ، بیشک تیرا رب جو چاہتا ہے کہ ڈالتا ہے ۔

(ف 2) ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے درمیان بطور تنوع اللہ تعالیٰ نے چند دوسرے قیمتی امور کا ذکر فرمایا ہے کہ قوموں کی داستان کفر ومعصیت جو بیان کی گئی ہے ، ان کا تعلق امور غیب سے ہے ، جس کی انبیاء (علیہم السلام) کے سوا اور کسی کو خبر نہیں ہوتی ، ارشاد فرمایا کہ ان قوموں پر جو عذاب آیا ہے ، ان کی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ہے ورنہ اللہ ظالم نہیں ، جب عذاب آگیا ، تو پھر ان کے مزعومہ خدا انہیں عذاب سے نہ بچا سکے ، یہ کہا کہ یہ بات اللہ کے انتظام میں داخل ہے ، کہ جب شہروں اور بستیوں میں کفر ومعصیت پھیل جائے اور دل مردہ ہوجائیں ، تو اس وقت خدا کا غضب حرکت میں آتا ہے اور انہیں دنیا سے ہٹا دیا جاتا ہے نیز یہ فرمایا کہ یہ واقعات عبرت ونصیحت کے لئے ہیں تاکہ طبیعتوں میں گداز اور تاثر پیدا ہو ۔ حل لغات : الرفد المرفود : جہنم میں ، داخلے سے تعبیر ہے ، بطور تحکم وتوہین کے در دو نار اعانت مقرار دیا ہے ، ۔ حصید : کٹا ہوا تباہ شدہ تتبیب : ہلاکت ، تباب سے ہے ، ۔ یوم مشہود : قیامت ، جس دن سب خدا کے حضور میں کھڑے کئے جائیں گے ۔ زفیر وشھیق : آگ میں جو آواز پیدا ہوگی ، اس کو زفیر وشہیق سے تعبیر کیا ہے زناٹے کی آگ جلے گی ،
Ayahs 11:108–111

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور جو نیک بخت میں ہیں وہ جنت میں ہوں گے جب تک زمین وآسمان ہے ، وہاں رہیں گے ، مگر جو چاہے تیرا رب (اس کی) بےانتہا بخشش ہے (ف 1) ۔

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

تو (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی نسبت جن کو یہ لوگ پوجتے ہیں شک میں نہ رہ جیسے پہلے انکے باپ دادا پوجتے تھے ، ویسے یہ بھی پوجتے ہیں ‘ اور ہم ان کا حصہ بغیر گھٹائے ان کو پورا دیں گے ۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی ، پھر اس میں اختلاف ہوا اور اگر ایک لفظ نہ ہوتا ، جو تیری رب سے پہلے نکل چکا ہے تو ان کے درمیان ابھی فیصلہ ہوتا اور ان لوگوں کو اس میں (یعنی قرآن میں) پکا شبہ ہے ۔

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور بیشک جب وقت آیا تیرا رب سب کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیگا ، کہ وہ ان کے کاموں سے خبردار ہے ۔

رحمت الہی کی فراوانیاں : (ف 1) دنیا میں ہمیشہ دو گروہ رہے ہیں ، ایک وہ جنہیں سعادت ازلی سے بہرہ وافر ملا ہے ، اور دوسرا وہ جن کے حصہ میں محرومی شقاوت کے سوا اور کچھ بھی نہیں ۔ اللہ نے ان گروہوں کے لئے حیات اخروی میں اعمال کے موافق وومقام تجویز فرمائے ہیں ۔ ایک مقام غضب جس کا نام جہنم یا دوزخ ہے اور ایک مقام رحمت وعفو ، جو جنت یا فردوس کے نام سے مشہور ہے ان آیات میں اس حقیقت کی تشریح مذکور ہے ، (آیت) ” مادامت السموت والارض “۔ عربی محاورہ ہے جس سے مراد دوام وتائید ہوتی ہے جیسے ” ما جن اللیل ، ماناح الحمام ما سال سبل ، ماطما جر “۔ وغیرہ محرات میں مقصد دوام ہوتا ہے ۔ عذاب کی آیت میں (آیت) ” الا ما شآء ربک “۔ کہنا اور اس کے بعد (آیت) ” فعال لما یرید “۔ کہنا اور ثواب کی آیت میں استثناء کے بعد (آیت) ” عطآء غیر مجذدود “ کہنا یعنی غیر منقطع انعام اس سے اللہ کی ہمہ گیر رحمت ترشح ہوتی ہے ، ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا دائر عفو ورحمت بہت وسیع ہے ، اس کی اولی رحمت جہنم کی دھکتی ہوئی آگ کو آن وعد میں سرد کرسکتی ہے ، اس کا غصہ اصلاح وہدایت کے لئے ہے انتقام کے لئے ہرگز نہیں ۔ (آیت) ” الا ما شآء ربک “۔ کا استثناء آیت تعذیب میں موصیلہ معنوں کے لئے ہے ۔ اور آیت تبشیر میں تائید حسرت و جنت کے لئے جیسے (آیت) ” سنقرئک فلا تن سے الا ما شآء اللہ “۔ میں یہ منشاء نہیں کہ حضور وحی والہام کو بھول سکتے ہیں ، دوم نسیان کی تاکید فرمائی ہے ، یعنی خدا ہی چاہئے تو نسیان وسہو وی الہام میں پیدا ہو سکتا ہے ، ورنہ نہیں ، آیت بشارت میں بالکل یہی انداز بیان ہے یعنی سعادت مند روحیں ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گی اور سوا خدا کے اور کوئی قوت انہیں جنت کی نعمتوں سے محروم کرسکے گی ، حل لغات : مجذود : کٹا ہوا ۔ جذ کے معنی کاٹنے اور قطع کرنے کے ہوتے ہیں ، جذاذا ، یعنی ٹکڑے ٹکڑے ۔
Ayahs 11:112–113

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

پس تو (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مع اپنے تائب ساتھیوں کے جینا مجھے حکم ہوا ، سیدھا رہ اور سرکشی نہ کرو ، وہ تمہارے کام دیکھتا ہے (ف 1) ۔

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور تم ظالموں کی طرف نہ مجھ کو ، کہ تمہیں آگ نہ پکڑ سے ، اور سوائے اللہ کے کوئی تمہارا دوست نہیں ہے ، پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے ۔

(ف 1) (آیت) ” فاستقم کما امرت : میں تمام اسلامی تعلیم آجاتی ہے اس میں اشارہ ہے کہ فرائض دینی کو عزم و استقلال کے ساتھ ادا کرو ، خدا کی منشاء کے مطابق تمہارا ہر قدم اٹھے ، مخالفت وعناد سے خوف وہراس درست نہیں مرد مومن وہ ہے جو عقائد کو جب عقل و دانش کے معیار پر پرکھ لے ، تو پھر اس کے پائے ہمت میں کہیں لغزش پیدا نہ ہو ، یہ چھوٹا سا جملہ سورة ہود کی جان ہے جس میں جدوجہد کا ایک عالم پہناں ہے اسی لئے حضور فرمایا کرتے تھے ، ” شیبتنی ھود “۔ کہ سورة ہود میں ادائے فرض کی تلقین کے فکر نے مجھے بوڑھا کردیا ہے ، اللہ اللہ ! وہ رسول جس کی ہر ساعت خدمت دین میں صرف ہوتی ہے ، اسے اپنی ذمہ داریوں کا کس قدر احساس ہے ۔
Ayahs 11:114–117

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور تو دن کی دونوں طرفوں میں (ف 2) ۔ اور کچھ رات گئے نماز پڑھا کر ، کہ نیکیاں بدیوں کو دور کرتی ہیں ، یہ ذکر کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے ۔

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کر ، اللہ نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

تو جو امتیں پہلے ہو گزری ہیں ، ان میں ایسے صاحب شعور کیوں نہ ہوئے کہ زمین میں فساد کرنے سے لوگوں کو منع کرتے ، مگر تھوڑے ہوئے جنہیں ہم نے ان میں سے بچا لیا ، اور ظالموں نے اسی راہ کی پیروی کی جس میں آسودگی پائی اور وہ گنہگار تھے ۔

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور تیرا رب ایسا نہیں ، کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کرے ‘ اور وہاں کے لوگ نیک ہوں ۔

(ف 2) طرفی النھار “۔ سے غرض صبح اور شام کے اوقات ہیں بات یہ تھی کہ مجوسی عین طلوع و غروب کے وقت سورج کو قبلہ مان کر عبادت کرتے اس آیت میں نماز کے اوقات ایسے بتائے ہیں کہ سورج پرستی کے لئے کوئی موقع ہی نہ رہے ، اسلام اس لحاظ سے نہایت مکمل مذہب ہے کہ اس میں ہر ممکن احتیاط موجود ہے ، سارے نظام مذہبی میں کہیں شائبہ شرک نہیں ۔ حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں ، طرفین سے فجر وعصر مراد ہے حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک صبح ومغر ہے ، علامہ ابن جریر (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ کے مسلک کی تائید فرمائی ہے ۔ علامہ رازی (رح) نے حضرت حسن ؓ کے قول کو ترجیح دی ہے کیونکہ (آیت) ” زلفا من اللیل “۔ میں مغرب و عشاء دونوں داخل ہیں ۔ اس کے بعد فرمایا ہے کہ نماز میں حصول تقوی کی بہترین صورتیں ہیں ، اس لئے اگر کوئی شخص نماز کو قائم کرے گا ، اور روح صلوۃ کو سمجھنے کی کوشش کرے گا ، تو نماز اس کے دل میں پاکیزگی کے جذبات پیدا کر دے گی ، اسے نیک بنا دے گی اور وہ گناہ بھی اس نے جہالت کی وجہ سے کئے ہیں ، نیکیوں کے تلے دب جائیں گے ، نماز بہترین وظیفہ طہارت ہے ، اور نمازی بہترین روحانی رفیق ، اس لئے گناہوں کا جوش کم ہوجانا طبعی بات ہے ۔ حل لغات : ولا ترکنوا : رکن یرکن مائل ہونا جھکنا ، زلفا : رات کی پہلی ساعتیں ، زلف جمع زلف ، بمعنی رات کا ایک حصہ وسارا ، اول ۔