11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsسراج البیان

Ayahs 11:41–42

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور بولا ، کشتی کا چلنا اور ٹھہرنا اللہ کے نام سے ہے ، تو اس میں چڑھو ، میرا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف 2) ۔

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور کشتی ان کو ایسی موجوں میں کہ پہاڑ کی مانند تھیں ، لئے پھرتی تھی ، اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو کہ کنارا پر تھا (کشتی میں نہ آیا تھا) کہا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہو اور کافروں کے ساتھ نہ رہ ۔

(ف 2) نوح (علیہ السلام) مومنین کی ایک قلیل جماعت ساتھ لے کر کشتی میں بیٹھ گئے ، آپ نے سب کو ہدایت کردی کہ خدا کا نام لے کر کشتی میں سوار ہوجاؤ اللہ تمہیں محفوظ رکھے گا ۔
Ayah 11:43

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

وہ بولا ، میں پہاڑ پر لگ رہوں گا ، وہ مجھے پانی سے بچائے گا ، کہا ، اللہ کے عذاب سے آج کوئی بچا نہیں سکتا ، وہی بچے گا جس پر رحم ہوا اور دونوں کے درمیان ایک موج حائل ہوگئی سو وہ ڈوبنے والوں میں ڈوب گیا (ف 1) ۔

(ف 1) ” واھلک “۔ میں چونکہ اہل کا وعدہ تھا ، اس لئے نوح (علیہ السلام) نے جذبہ پدری سے سرشار ہو کر بیٹے کو آواز دی کہ کشتی میں آجائیے ، بیٹا مغرور تھا کہنے لگا میں پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا ، آپ فکر نہ کریں ، آپ نے فرمایا آج خدائی کی پکڑ سے تمہیں پہاڑ کی بلندیاں نہیں بچا سکیں گی سبحان اللہ ! شفقت پدری بھی کیا چیز ہے ۔
Ayahs 11:44–46

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور کہا گیا اے زمین اپنا پانی نگل جا ، اور اے آسمان ٹھہر جا ، اور پانی سکھا دیا گیا ، اور کام پورا ہوگیا ، اور کشتی کوہ وجودی پر ٹھہر گئی ، اور کہا گیا ظالم دور ہوں (ف 2) ۔

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا اور کہا اے رب میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے ‘ اور تیرا دور سچا ہے ، اور تو سب سے بڑا حاکم ہے ۔

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

فرمایا اے نوح (علیہ السلام) ، وہ تیرے اہل میں نہیں ‘ اس کے کام بد ہیں ، سو جس بات کا تجھے علم نہیں ‘ اس کی بابت ہم سے نہ پوچھ ، میں تجھے نصیحت دیتا ہوں کہ جاہلوں میں نہ ہو ،

قرآن کی بلیغ ترین آیت : (ف 2) اس پانی کے طوفان میں تمام منکرین خس و خاشاک کی طرح بہ گئے ، ان کا غرور انکے کام نہ آسکا ، اور خدا کے غضب سے سب غرق ہوگئے ، اس آیت میں قرآن حکیم نے طوفان تھم جانے کی تصویر جن الفاظ میں کھینچی ہے وہ بلاغت کا حیرت انگیز مرقع ہے ، علماء نے اس آیت کے اسرار ونکات پر کتابیں لکھی ہیں ، اس کی معنوی اور لفظی خوبیاں اس قدر حیران کن ہیں ، کہ ہر پڑھا لکھا انسان اعتراف کرتا ہے علامہ ابوحیان اندلسی نے نے بدیع کی اکیس قسموں کو اس میں جلوہ گر دیکھا ہے ، سید محمد بن اسمعیل نے اس ایک مخصوص رسالہ لکھا ہے ، زمخشری جو اسرار و رموز ادب کا سب سے بڑا ماہر ہے ، دلائل الاعجاز میں صفحے کے صفحے لکھ گیا ہے ۔ اس آیت کے الفاظ کا نظم ونسق اتنا بہتر ہے کہ واقع کی تصویر کھینچ جاتی ہے ، اگر تم ترنم وترتیل کے آیت کی تلاوت کرو ، تو معلوم ہوگا ، کہ بادوباراں کا ایک طوفان ہے ، جو تھمتا ہوا نظر آ رہا ہے وہی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ۔ حل لغات : ابلعی : بلغ یبلع ۔
Ayahs 11:47–48

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

کہا اے رب میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ جو میں نہیں جانتا اس کی بابت تجھ سے پوچھوں اور اگر تو مجھے نہ بخشے اور مجھ پر رحم نہ کرے تو میں زیاں کاروں میں ہوں گا (ف 1) ۔

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا کہ اے نوح (علیہ السلام) ہماری طرف سے سل امتی اور برکتوں کے ساتھ کشتی سے اتر ، وہ برکتیں تجھ پر اور ان امتوں پر ہیں جو تیرے ساتھ ہیں ، اور کتنی امتتیں ہیں جنہیں ہم فائدہ دیں گے پھر ہماری طرف سے انہیں دکھ کی مار پہنچے گی ،

(ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) جہاں اللہ کے پیغمبر تھے ، وہاں ایک شفیق اور مہربان باپ بھی تھے ، اس لئے بیٹے کو اپنی آنکھوں کے سامنے ڈوبتا ہوا نہ دیکھ سکے ، شفقت پدری جوش میں آگئی ، الفاظ کا بہانہ ڈھونڈا اور اللہ سے درخواست کی کہ اے رب تونے وعدہ کیا تھا کہ تیرے اہل کو بچاؤں گا ، تیرا وعدہ سچا ہے میرا لڑکا بھی تو میرے اہل میں سے ہے ، پھر وہ کیوں کشتی میں نہیں بیٹھ سکتا ، دل میں اللہ کا ڈر بھی موجود ہے ، سفارش کے ساتھ یہ بھی کہے جاتے ہیں ، تو احکم الحاکمین ہے تو فیصلہ فرما دے ، اس میں تنقید کی گنجائش نہیں ۔ اللہ نے جواب دیا ، انبیاء کا مرتبہ صلبی درجوں سے بالا ہے ، اہل وہ نہیں جو تیرا عزیز ہے اہل وہ ہے جو مومن ہے ، جسے تیرے عقائد کے ساتھ محبت ہے ، بیٹے سے زیادہ کون عزیز ہو سکتا ہے ، اور نوح (علیہ السلام) سے زیادہ کون معزز ہے ، پھر جب نوح (علیہ السلام) کی اس باب میں نہیں سنی گئی ، اور اس کے حقیقی بیٹے کو بلحاظ عمل بیٹا قرار نہیں دیا گیا ، تو وہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں اور محض جھوٹی نسبتوں پر نازاں ہیں ، کس قدر بیوقوف ہیں ، وہ خدا کے آئین شرف ومجد سے آگاہ نہیں ، اللہ کے نزدیک ایک اچھے آدمی سے تعلقات اور رشتہ داریاں وجہ شفاعت نہیں ہو سکتیں ، نیک اعمال اور عقائد کی درستی ہی سے اللہ کا قرب حاصل کیا سکتا ہے ، حل لغات : انباء : جمع نبا ، خبر ۔
Ayahs 11:49–51

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ غیب کی بعض خبریں ہیں ، جن کو ہم (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بذریعہ وحی تجھ تک پہنچاتے ہیں ، اس سے پہلے نہ تو ان باتوں کو جانتا تھا اور نہ تیری قوم کا پس صبر کر ، آخر کار ڈرنے والوں کا بھلا ہے (ف 1) ۔

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے عاد کی طرف اس کے بھائی ہود کو بھیجا اس نے کہا اے قوم اللہ کی عبادت کرو ‘ تمہارے لئے اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ‘ تم نرا جھوٹ بولتے ہو ۔

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے قوم ! میں اس پر تم سے اجرت نہیں مانگتا میری اجرت اسی پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ، کیا تم نہیں سمجھتے ؟

(ف 1) نوح (علیہ السلام) کی دعوت تبلیغ قوم کا انکار ، وجمود بالآخر خدا کی غیرت کا جوش میں آنا ، زمین کا ابال ، آسمان سے بےپناہ بارش لڑکے کے لئے سفارش اور اس کی نامنظوری ، یہ سب باتیں جو قرآن حکیم نے تفصیل کے ساتھ بیان کی ہیں کسے معلوم تھیں ؟ قرآن حکیم انہیں غیب کی خبریں قرار دیتا ہے ، وہ قوم جس میں تعلیم نہیں ، تاریخ اقوام کی تدوین وترتیب کا کوئی سامان نہیں ، اس میں ایک امی شخص کھڑا ہوتا ہے اور تمام گذشتہ قوموں کے کارناموں کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنا شروع کردیتا ہے ، یہ بجز الہام اور تائید ربانی کیونکر ممکن ہے ۔ حل لغات : فطرنی : جس نے مجھے پیدا کیا ، بنایا ۔ مدرارا : وہ ابر جو خوب برسے ۔
Ayahs 11:52–55

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے قوم ! اپنے رب سے مغفرت مانگو ، پھر اس کی طرف رجوع ہو ‘ وہ تم پر آسمان کی دھاریں چھوڑ دے گا ، اور تمہیں قوت پر قوت دے گا ، اور تم گنہگار ہو کر نہ بھاگو (ف 1) ۔

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

بولے ، اے ہود ! تو ہمارے پاس کچھ سند لے کر نہیں آیا ، اور ہم اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سے نہ چھوڑیں گے اور تجھ پر ایمان نہ لائیں گے ،

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم یہی کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تجھے برائی سے آسیب پہنچایا ہے کہا میں خدا کو گواہ لاتا ہوں ‘ اور تم گواہ رہو کہ میں اللہ کے سوا تمہارے شریکوں سے بیزار ہوں ۔

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

سو تم سب مل کر میرے حق میں بدی کرو پھر مجھے مہلت نہ دو ۔

دین قوت وعزت کا نام ہے : (ف 1) (آیت) ” یرسل السمآء علیکم مدرارا “۔ کے معنی یہ ہیں کہ حضرت ہود (علیہ السلام) قوم کو دین ودنیا کی بشارتیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دینداری کے معنی ضعف واضمحلال کے نہیں ، فقروافلاس کے نہیں محکومی اور مظلومیت کے نہیں ، بلکہ قوت و عظمت کے ہیں ، اگر تم دیندار ہوجاؤ ، تو آسمان کے بابرکت دروازے تمہارے لئے کھل جائیں گے زمین تمہارے لئے سیم وزر کے خزانے اگلے گی ، اللہ تمہاری قوتوں میں اضافہ کر دے گا ، تم دنیا میں زبردست بن کر زندگی بسر کرو گے ، تمہارا افلاس دولتمندی سے بدل جائے گا ، دل و دماغ میں ایمان ویقین کی شمعیں روشن ہوں گی ، ایمان کے ساتھ دولت وقوت لازم ہے ، خدا سے محبت کا نتیجہ رفعت وبلندی ہے ، یہ غلط بات ہے کہ دینداری محرومی وبدقسمتی ہے ، دیکھ لیجئے ابتداء سے دین کا یہی مفہوم ہے جو انبیاء پیش کرتے چلے آئے ہیں ، کہ تم مومن ہوجاؤ اللہ کی رحمتیں تمہارے شامل حال ہوجائیں گی ، یہ خدا کا اٹل اور مضبوط فیصلہ ہے ، یہ ایک محکم قانون ہے جس میں کبھی تخلف نہیں ہو سکتا ، جس طرح طلوع آفتاب کے ساتھ روشنی اور حرارت ضروری ہے ، جس طرح شگفتگی وتازگی موسم بہار کا خاصہ ہے ، اسی طرح جب ایمان کا آفتاب دلوں میں چمکے تو ضرور ہے کہ تاریکیاں چھٹ جائیں ، جب اسلام کا عہد بہار شروع ہو ، تو دل شگفتہ اور دماغ تازہ ہوجائیں ، بہرحال اسلام ایمان شرط ہے ، اللہ کو ظاہر کے ساتھ باطن بھی پسند ہے ، صرف ظاہری ایمان جو صرف الفاظ تک محدود ہو ، اللہ کے نزدیک قابل وقعت نہیں ، جب تک اس ظاہر کے ساتھ بطن بھی شامل نہ ہو ، جب تک ایمان زندگی بخش نہ ہو ، دلوں میں کوئی تبدیلی نہ پیدا کر دے ، خدا کے نزدیک صحیح معنوں مین ایمان نہیں ، یہ محض فریب خوردگی ہے کہ ہم خدا کی نافرمانی کے باوجود اپنے آپ کو نجات کا مستحق سمجھتے ہیں ، اللہ ہماری معصیتوں کا بخش دے یہ اس کی نوازش ہوگی ، لیکن جہاں تک ہماری جدوجہد کا تعلق ہے وہ حصول نجات کے لئے ناکافی ہے ۔ حل لغات : فکیدونی کیدا ۔ تدبیر ۔ پر سگالی ، حیلہ ۔
Ayah 11:56

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں نے اللہ پر جو میرا اور تمہارا رب ہے بھروسا کیا ، کوئی چلنے والا نہیں ہے ، جس کی چوٹی اللہ کے ہاتھ میں نہ ہو ، ضرور میرا رب راہ راست پر ہے (ف 1) ۔

(ف 1) ” اخذبنا صیتھا “۔ اصل میں تمثیل ہے تسخیر مخلوقات کی یعنی تمام کائنات اس طرح اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے جس طرح کسی جاندار کو سر سے پکڑ رکھا ہو ، (آیت) ” ان ربی علی صراط مستقیم “۔ سے غرض یہ ہے کہ خدا جس راہ کی جانب اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے حق وصداقت کی رہی راہ ہے ۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ قوم دشمن ہے اور نقصان پہنچانا چاہتی ہے تو آپ نے پورے صبر اور استقلال سے مقابلہ کیا ، دعوت وتذکیر کے عمل کو جاری رکھا اور کہا میں تمہاری شرارتوں سے ڈرتا نہیں اللہ پر میرا بھروسہ ہے جو میرا اور تمہارا رب ہے ۔ بات یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو چونکہ اپنی صداقت پر یقین کامل ہوتا ہے ، اس لئے کوئی عداوت انہیں دبا نہیں سکتی جس قدر ان کی مخالفت کی جاتی ہے ، ان کا جذبہ حق پسندی ترقی پذیر ہوتا ہے ، ان کے عزم و استقلال میں اور اضافہ ہوجاتا ہے وہ پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ خدا کے دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہیں ۔
Ayahs 11:57–59

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

پھر اگر تم نہ مانو ، تو میں جو چیز دے کر تمہاری طرف بھیجا گیا تھا ، تم پاس پہنچا چکا ، اور میرا رب تمہارے سوا دوسرے آدمی (دنیا میں) تمہارے (ف 2) ۔ جانشین کر دے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے میرا رب ہر شے پر نگہبان ہے ۔

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم آیا ، ہم نے ہود کو اور اس کے ایماندار ساتھیوں کو اپنی رحمت سے بچا لیا ، اور سخت عذاب سے انہیں ہم نے نجات دی ۔

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ (سرگزشت) قوم عاد (کی) ہے ‘ انہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی ، اور ہر کسی سرکش مخالف کا حکم مانا تھا ۔

(ف 2) ” خدا کے اس ہمہ گیر قانون کی جانب اشارہ ہے کہ قومیں اپنے جذبہ ایمان کی وجہ سے زندہ رہتی ہیں ، کوئی قوم خدا کی خاص محبوب نہیں ، وہ سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے ، اس کے نزدیک سب قومیں برابر بقاء قیام کا استحقاق رکھتی ہیں ، بقاء وفنا کے لئے اللہ تعالیٰ نے قانون وضع کردیا ہے ، جو قوم اس قانون کو اپنے لئے مشعل راہ بنائے گی زندہ وکامیاب رہیگی ، جو نافرمانی کرے گی ، فناء ہوجائے گی ، اللہ کے دین میں قوموں کے عروج وزوال سے کوئی خلل واقع نہیں ہوتا ، جب ایک قوم دین کی حمایت سے دستبردار ہوجاتی ہے ، اللہ دوسری قوم کو لا کھڑا کرتے ہیں جو اس کے دین کے مشن کو پورا کرتی ہے اور اس کے حکموں پر عمل کرتی ہے ۔ حل لغات : جحدوا انکار کے بعد اصرار کا نام ہے ۔
Ayah 11:60

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور ان کے پیچھے اس دنیا میں اور قیامت کے دن لعنت لگائی گئی ، سنتا ہے ، عاد نے اپنے رب کا انکار کیا ، سنتا ہے ، پھٹکار (ف 1) ۔ ہو عاد پر ہود کی قوم تھی ،

(ف 1) بعد اور لعنت کا اطلاق بطور گال کے نہیں ہوتا ، بلکہ یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی رحمتوں کے سزاوار نہیں رہے ، اب وہ بخشش اور رحمت سے دور ہیں ۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کی طرف اس کا بھائی صالح بھیجا کہا اے قوم اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ‘ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس میں تمہیں بسایا ، سو تم اس سے مغفرت مانگو ، پھر اس کی طرف توبہ کرو ، بیشک میرا رب نزدیک ہے قبول کرنے والا (ف 2) ۔

خدا قریب ومجیب ہے ! : (ف 2) حضرت صالح (علیہ السلام) قوم ثمود کی جانب مبعوث ہوئے ثمود اس قوم کا نام ہے جو شام اور مدینہ کے درمیان مقام ہجر میں آباد تھی سابق دین حق کی طرح حضرت صالح (علیہ السلام) کا پیغام بھی یہی تھا کہ ایک خدا کی پوجا کرو ، اللہ کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے اسی نے تمہیں اپنی زمین پر آباد کیا ہے ، اس سے گناہوں کی بخشش مانگو ، اسی کے آستانہ کرم پر جھکو ، وہ بہت قریب ہے ، سب کی سنتا اور قبول کرتا ہے اس کے دربار میں توسل کی ضرورت نہیں ، انابت و خلوص کافی سفارشیں ہیں ، وہ تمہارے حالات سے براہ راست باخبر اور آگاہ ہے ، اس لئے تم نیاز مندی کے ساتھ اس کے سامنے جھکو ، خواہشات نفس کو ترک کر دو ، اللہ کی پوجا تمہیں اس کے قریب کر دے گی ، تمہاری باتیں سنی جائیں گی اور تمہاری آرزوئیں مقبول ہوں گی ، وہ قریب اور مجیب ہے تمہارے نزدیک ہے تمہاری پکار اور دعا کو سنتا اور قبول کرتا ہے ۔
Ayah 11:62

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

کہا اے صالح (علیہ السلام) اس سے پہلے تو ہم میں تجھ سے امیدیں کی جاتی تھیں ، کیا تو ہمیں ان کی عبادت سے جنہیں ہمارے بڑے پوجتے تھے ، منع کرتا ہے ‘ اور جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے (ف 3) ۔ اس میں ہمیں ایسا شک ہے کہ دل نہیں ٹھہرتا ،

(ف 3) حیف ہے آباء و اجداد کی ایسی تقلید پر کہ انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت توحید کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ ہم باپ دادا کے مسلک کو نہیں چھوڑ سکتے ، چونکہ ہمارے بزرگ بت پرست تھے اور وہ بتوں کو خدا مانتے تھے ، اس لئے اب ہمارے ماتھے خدا کے سامنے نہیں جھک سکتے ، (آیت) ” قد کنت فینا مرجوا “۔ کے معنی یہ ہیں کہ تیرے اعلان توحید سے ہمیں کامل مایوسی ہوئی اس سے قبل ہمیں توقع تھی کہ تیری نیکی پر سعادت مندی ہماری مخالفت پر تجھے آمادہ نہیں کرے گی ہمیں تجھ سے امیدیں تھیں ، مگر توحید کے وعظ نے ہمیں ناامید کردیا ۔ آباء سے مراد آباء علم بھی ہوسکتے ہیں یعنی ہم نے اپنے ملانوں اور مولویوں کو اسی طرح شرک کی آلودگیوں سے ملوث دیکھا ہے ۔ حل لغات : واستعمرکم : استعمار سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی آبادی چاہنے ، اور زندگانی کرنے کے ہیں ۔ مجیب : کے معنی قبول کرنے والے کے ہیں ۔
Ayah 11:63

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

کہا اے قوم بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے حجت پر ہوں ، اور اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت بخشی تو اللہ سے کون میری مدد کریگا اگر میں اس کی نافرمانی کروں ‘ سو تم سوائے خسارہ کے میرا کچھ نہیں بڑھاتے (ف 1) ۔

(ف 1) غرض یہ ہے کہ ابنیاء (علیہم السلام) کے پاس دلائل ہوتے ہیں ، وہ لوگوں کو علی وجہ البصیرت حق کی جانب بلاتے ہیں انہیں پورا پورا یقین ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں رشد وہدایت کے لئے مامور فرمایا ہے ، وہ کامل وثوق کے ساتھ اللہ کے دین کو پیش فرماتے ہیں ۔
Ayahs 11:64–67

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور اے قوم یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمہارے لئے نشان سو تم اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین کھاتی پھرے ، اور اسے برائی سے نہ چھوؤ کہ تمہیں عذاب قریب سے پکڑ لے گا (ف 2) ۔

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

پھر انہوں نے اس کے پیر کاٹ ڈالے ، تب صالح (علیہ السلام) نے کہا تین دن اپنے گھروں میں فائدہ اٹھا لو ، یہ وعدہ جھوٹا نہ ہوگا ۔

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم آیا ، تو ہم نے صالح (علیہ السلام) اور اس کے ایماندار ساتھیوں کو اپنی رحمت سے بچا لیا ، اور اس دن کی رسوائی سے بھی ، بیشک تیرا رب وہی زور آور غالب ہے ۔

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور ظالموں کو چنگھاڑنے پکڑ لیا ، سو وہ فجر کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے ،

(ف 2) اونٹنی کو نشانی قرار دینے کا مقصد یہ تھا کہ دیکھیں ان کے بغض وعناد کی مقدار کیا ہے ؟ قاعدہ ہے ، کہ جب ایک شخص سے محبت ہو تو اس کی ہر چیز سے محبت ہوجاتی ہے ، اور اگر بغض ہو ، تو پھر اس کی کوئی چیز دل کو نہیں بھاتی ، حضرت صالح (علیہ السلام) نے اسی اصول پر محبت اور عقیدت کو جانچا ، اور کہا دیکھو اس اونٹنی کو نہ چھیڑنا ورنہ سمجھ لیا جائے گا ، تمہیں ہم سے بیحد عداوت ہے ، اور تمہیں یہ بھی گورار نہیں کہ ہماری اونٹنی زندہ رہے ۔ حل لغات : تخسیر : گھاٹا ، خسارہ ۔ ناقۃ اللہ : یعنی اللہ کی پیش کردہ اونٹنی ۔ نسبت اضافت تشریف کے لئے ہے ۔ اللھم اغفر لکاتبیہ ولمن سعے فیہ ۔
Ayah 11:68

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

گویا وہاں کبھی نہ بسے تھے سنتا ہے ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا ، سنتا ہے لعنت ہو ثمود پر (ف 1) ۔

(ف 1) قوم ثمود نے حسب دستور مخالفت کی اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں ، اور انتہائی بغض عناد کا ثبوت دیا اللہ تعالیٰ نے پہلے سے آگاہ کردیا تھا ، کہ عذاب تمہارے سر پر منڈلا رہا ہے ، اللہ کے شعائر سے تعرض نہ کرو ورنہ نتیجہ ہلاکت ہوگا ، یہی ہوا کہ سخت آواز نے انہیں آگھیرا اور ایسے مٹ گئے کہ (آیت) ” کان لم یغنوا فیھا “۔ گویا کہ ان میں کبھی آباد ہی نہ تھے ۔
Ayahs 11:69–70

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت دینے آئے بولے سلام ، ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا سلام ‘ پھر دیر نہ کی کہ ایک تلا ہوا بچھڑا لے آیا ، (ف 2) ۔

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس طرف نہیں آتے (نہیں کھاتے) تو انہیں اوپری جانا اور ان سے دل میں ڈرا ، (سمجھا کہ چور ہیں) وہ بولے مت ڈر ، ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ۔

مہمانوں سے حسن سلوک : (ف 2) یہاں سے حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے بطور تمہید کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر بھی آگیا ہے ، یہی وجہ ہے ، اس قصہ کا انداز بیان دوسروں سے مختلف ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں دو باتیں ایسی بیان کی ہیں جن کا تعلق آداب یا عوائد رسمیہ سے ہے جب فرشتے حضرت اسحاق کی تولید کی خوشخبری لے کر آئے تو فورا ہی انہوں نے السلام علیکم کہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی سلام کہہ کر جواب دیا جس کا مقصد یہ کہ مسلمان جب ایک دوسرے سے ملیں تو سلسلہ گفتگو ان میں علیک سلیک سے شروع ہو ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس رسمی گفتگو کے بعد مہمانوں کے سامنے ماحضر پیش کیا جس سے معلوم ہوا کہ مسلمان میں مہمان نوازی کا جذبہ بہت پرانا ہے ۔ حل لغات : جثمین : سینہ کے بل اوندھے پڑے ہوئے بےحس و حرکت شدگان وہلاک شدگان ۔ حنیئذ : بھنا ہوا ، اوجس : دل میں محسوس کیا ۔
Ayahs 11:71–72

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور اس کی عورت کھڑی تھی ، وہ ہنسی پھر ہم نے اس عورت کو اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت دی اور اسحاق (علیہ السلام) کے بعد یعقوب (علیہ السلام) کی (ف 1) ۔

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

بولی ، خرابی میری کیا میں جنوں گی ، حالانکہ بڈھی ہوں ، اور یہ میرا شوہر پیر مرد ہے ، یہ تو تعجب کی بات ہے ۔

(ف 1) وامراتہ قآئمۃ “۔ سے صاف ظاہر ہے کہ مہمانوں کی عزت افزائی میں عورت بھی شریک ہونی چاہئے ، خاوند کی حاضری میں مہمانوں سے گفتگو شرعا جائز ہے ، البتہ موجود تہذیب کی آزادی اور جلوت وخلوت میں اغیار سے ملاقاتیں ، بالکل جائز نہیں ، کیونکہ اس طریق سے اخلاق کو صدمہ پہنچتا ہے ، عورت کی تخلیق کا مقصد عفاف ہے یہی اس کا زیور ہے ، اور اسی سے اس کی عزت قائم ہے یہ نہیں تو پھر عورت میں تعلیم وتہذیب کی خوبیاں بھی عیب ہیں ، اسلام چونکہ مذہب فطرت ہے ، توازن و اعتدال میں سمویا ہوا ہے اس لئے اس کی ہدایات میں توسط و احتیاط کا ہر پہلو موجود ہے ، عورت کو اس حد تک آزادی دی ہے جس حد تک اس کے لئے مفید ہے وہ آزادی جو سراسر آوارگی ہے ، اسلام میں درست نہیں ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کا فرشتوں کے پاس کھڑے ہو کر باتیں سننا ، جواب دینا ، اور ہنسنا ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ خاوند کی موجودگی میں مہمانوں کے ساتھ گفتگو کرنے میں شرعا مضائقہ نہیں اس سے مہمان کی عزت افزائی ہوتی ہے اور وہ سمجھتا ہے مجھے غیر نہیں سمجھا گیا ،
Ayahs 11:73–77

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

کہا کیا تو خدا کے حکم سے تعجب کرتی ہے (ف 2) ۔ اے اہل بیت تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں ، بیشک وہ سزاوار حمد اور بزرگ ہے ۔

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پھر جب ابراہیم (علیہ السلام) کا خوف دور ہوا ، اور اس کو بشارت پہنچی ، تو ہم نے قوم لوط (علیہ السلام) کے بارے میں جھگڑنے لگا ۔

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بڑا بردبار نرم دل تھا ۔

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم (علیہ السلام) ! یہ جھگڑا چھوڑ ، تیرے رب کا حکم آچکا ، اور ان پر عذاب آئے گا ، جو نہ ٹلے گا ۔

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے رسول لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے وہ ان سے ناخوش اور تنگ دل ہوا ، اور کہا یہ دن بڑا سخت ہے ۔

سارہ کا تعجب : (ف 2) حضرت سارہ نے فرشتہ سے جب بچے کی خوشخبری سنی ، تو انہیں تعجب ہوا ، کہنے لگیں ، میں تو اب بوڑھی ہوچکی ابراہیم (علیہ السلام) بھی عمر رسیدہ ہیں ، اس حالت میں پھر کیونکر ” ماں “ بننے کا فخر مجھے عنایت ہوگا فرشتے نے جوابا کہا ، کہ تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو ؟ تعجب انگیز نہٰن ، اس کا کرم ہے ، جب چاہے ، نازل ہوجائے ، اعتراض کیسا ، تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہو نگی اور خدا لائق صد مدح و ستائش ہے وہ جو چاہئے کرے یعنی اللہ کی ہر بات ضاطہ اور قانون ہے وہ سب کچھ کرسکتا ہے ، بڑھاپے میں اولاد کی نعمت سے نواز دے یا عین جوانی میں محروم رکھے ، ہر طرح ممکن اور صحیح ہوگا ، اس کے اعمال پر اعتراض کرنا نادانوں کا کام ہے ۔ حل لغات : اھل البیت : خاوند ، بیوی ، اور بچے ، اس لفظ سے جو حضرت سارہ (علیہ السلام) کے لئے بالخصوص استعمال کیا گیا ہے ، یہ معلوم ہوا کہ لفظ اہل الہیت کا اولین اطلاق عورت پر ہوتا ہے ، الروع : ڈر ، خوف ، ہراس ۔
Ayahs 11:78–79

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور اس کی قوم کے لوگ اس کے پاس بےاختیار دوڑے آئے ، اور پہلے سے وہ برے کام کیا کرتے تھے ، لوط (علیہ السلام) بولا اے قوم یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں وہ تمہارے لئے زیادہ پاک ہیں سو اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو ، کیا تم میں کوئی شائستہ آدمی نہیں (ف 1) ۔ ؟

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

بولے تجھے تو معلوم ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کچھ حق نہیں ‘ اور جو ہم چاہتے ہیں تو جانتا ہے ۔

(ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم خلاف وضع فطرت کی عادی تھی ، ان کا خبث باطن اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ ہر وقت ان کی نظر انہیں شہوانی مشاغل کی جالب رہتی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جب فرشتے بطور مہمان کے آئے تو انہیں خوبصورت دیکھ کر خباثت نفس میں جوش پیدا ہوا بھاگتے اور لپکتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کی بدمعاشی سے ڈرے کہ کہیں یہ میرے مہمانوں کو ذلیل نہ کریں ، چناچہ انہیں نصیحت فرمائی کہ کمبختو ! یہ عورتیں موجود ہیں ، جو فطرت کے تسکین نفس کے لئے پیدا کی ہیں ، ان کو چھوڑ کر تم لونڈوں پر کیوں مرتے ہو ، انہوں نے کہا ، آپ کی ان بیٹیوں (یعنی عورتوں) سے ہمیں رغبت نہیں اور آپ اس سے خوب آگاہ ہیں ، ہم تو جس خاص ارادے سے آئے ہیں ، اس کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں ، حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم پہلی قوم ہے جس کی وجہ سے یہ برائی دنیا میں پھیلی ، اور آج بھی یہ مرض تہذیب شائستگی کے زمانے میں موجود ہے ، یہ مرض قوم میں اس وقت پیدا وہتا ہے جب حسن اخلاقی مردہ ہوجائے اور قوم میں شہوانی ماحول پیدا کردیا جائے ۔ انسان الطبع تنوع پسند ہے ، اس لئے جب جائز وناجائز کا سوال اٹھ جائے ، تو پھر تسکین نفس کے لئے عجیب عجیب طریق اختیار کئے جاتے ہیں ، اس بدنفسی سے قومیں تباہ ہوجاتی ہیں ، ذہنی پستی اور مردانہ جذبات ختم ہوجاتے ہیں ۔ حل لغات : ضاق بھم ذرعا : محاورہ ہے یعنی تنگ دل ہوا ، عصیب : دشوار گزار مشکل ۔ یھرعون : لپکتے ہوئے ۔ ھؤلاء بناتی : اشارہ عام عورتوں کی جانب ہے شفقت کے اظہار کے لئے بیٹیاں کہا ہے یعنی یہ بیچاری عورتیں جو میری بیٹیاں ہیں ، تمہارے طرز عمل کی شاکی ہیں ۔
Ayah 11:80

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

بولا کاش کہ تمہارے مقابلہ میں مجھے قوت ہوتی ، یا میں کسی محکم آسرے میں جا بیٹھتا (ف 1) ۔

(ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) کا قوت طلب کرنا اس کے صاف صاف معنی یہ ہیں کہ اس مرض کو سختی کے ساتھ روکنے کی کوشش کرنا چاہئے کیونکہ یہ نہایت خوفناک بداخلاقی ہے ۔