Ayah 9:112آیت : (112)
گویا کہ سوال کیا گیا ہے کہ وہ مومن کون ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں داخلے اور اس کی طرف سے عزت و اکرام کی خوشخبری ہے ؟ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (التایبون) ” توبہ کرنے والے “ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو ہر وقت تمام گناہوں سے توبہ کا التزام کرنے والے ہیں (العبدون) ” عبادت کرنے والے “ جو اللہ تعالیٰ کے لئے عبودیت کی صفت سے متصف ہیں ‘ ہر وقت واجبات و مستحبات کی ادائیگی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی دائمی اطاعت کا التزام کرتے ہیں۔ جس کی بنا پر بندہ عبادت گزاروں میں شمار ہوتا ہے۔ (الحمدون) ” حمد کرنے والے “ جو رنج و راحت ‘ تنگ دستی اور خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں ‘ وہ اللہ تعالیٰ کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا اعتراف کرتے رہتے ہیں۔ دن رات ان نعمتوں کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ذریعے سے اد کی مدح و ثنا میں مصروف رہتے ہیں۔ (السائحون) ” سیاحت کرنے والے “ سیاحت کی تفسیر روزوں سے کی گئی ہے ‘ یا طالب علم کے لئے سفر کرنے سے کی گئی ہے اور سیاحت کی تفسیر اللہ تعالیٰ کی معرفت و محبت اور اس کی طرف دائمی انابت میں قلب کی سیاحت سے کی گئی ہے۔ مگر اس کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ سیاحت سے مراد اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لئے حج ‘ عمرہ ‘ جہاد ‘ طلب علم اور اقارب سے ملنے کے لئے سفر کرنا ہے۔ (الرکعون السجدون) ” رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے “ یعنی کثرت سے نماز پڑھتے ہیں جو رکوع و سجود پر مشتمل ہے۔ (الامرون بالمعروف) ” نیک بات کا حکم دینے والے ہیں “ اس میں تمام واجبات و مستحبات داخل ہیں (والناھون عن المنکر) ” بری بات سے روکنے والے ہیں۔ “ اس میں وہ تمام امور شامل ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے روکا ہے۔ (والحفظون لحدود اللہ) ” اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں “ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر جو حدود نازل فرمائی ہیں ‘۔ یعنی اوامرو نواہی اور احکام میں کیا چیز داخل ہے اور کیا چیز داخل نہیں ہے ‘ ان کا علم حاصل کر کے ان حدود کی حفاظت کرتے ہیں اور ترکا اور فعلا ان کا التزام کرتے ہیں۔
(وبشر المومنین) ” اور مومنوں کی خوش خبری سنا دیجئے “ یہاں اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں فرمایا کہ اہل ایمان کے لئے کسی چیز کی خوشخبری ہے تاکہ یہ خوشخبری دین و دنیا اور آخرت کے ثواب کو شامل ہو جو ایمان پر مترتب ہوتا ہے۔ یہ خوشخبری ہر مومن کے لئے ہے۔ رہی اس خوشخبری کی مقدار اور اس کا وصف تو اہل ایمان کے احوال ‘ ان کے ایمان کی قوت ‘ ضعف اور اس کے تقاضے پر عمل کے مطابق ہوتی ہے۔
Ayahs 9:113–114آیت (113-114)
یعنی نبی ﷺ اور اہل ایمان کئے لائق ہے نہ ان کے لئے زیبا ہے۔ (ان یستغفرواللمشرکین) ” کہ وہ ان لوگوں کے لئے استغفار کریں جنہوں نے (کفر یا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو) شریک کیا۔ “ (ولو کانو اولی قربی من بعد ما تبین لھم انھم اصحاب الجحیم) ” اگرچہ وہ رشتے دار ہوں ‘ اس بات کے واضح ہوجانے کے بعد کہ وہ جہنمی ہیں “ کیونکہ اس حال میں ان کے لئے بخشش کی دعا کرنا غلط اور ان کے لئے غیر مفید ہے ‘ اس لئے یہ استغفار نبی اکرم ﷺ اور اہل ایمان کی شان کے لائق ہیں ‘ کیونکہ جب وہ شرک کی حالت میں مرگئے یا یقینی طور پر معلوم ہوگیا کہ وہ شرک کی حالت میں مریں گے تو ان پر عذاب اور جہنم میں ہمیشہ رہنا واجب ہوگیا کسی شفاعت کرنے والے کی شفاعت اور ان کی بخشش کی دعا کرنے والے کی دعا ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی۔ نبی کریم ﷺ اور اہل ایمان پر واجب ہے کہ اپنے رب کی رضا اور نارای کے بارے میں اس کی موافقت کریں جس کو اللہ تعالیٰ نے دوست بنایا ہے اس سے موالات رکھیں اور جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دشمن قرار دیا ہے اس سے عداوت رکھیں اور جس شخص کے بارے میں یہ واضح ہوچکا ہو کہ وہ جہنمی ہے اس کے لئے استغفار کرنا اس کے منافی اور متناقض ہے۔
اگر اللہ رحمن کے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لئے استغفار کیا تھا (عن موعدۃ وعدھا ایاہ) تو ایک وعدے کی بنا پر تھا جو انہوں نے اپنے باپ کے ساتھ ان الفاظ میں کیا تھا (ساستغفر لک ربی انہ کانا بی حفیا) (مریم : 47/19) ” میں اپنے پروردگار سے آپ کے لئے ضرور دعا کروں گا کہ وہ آپ کو بخش دے کیونکہ وہ مجھ پر بہت مہربانی ہے۔ “ دا کا یہ وعدہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس وقت کیا تھا جب آنجناب (علیہ السلام) کو اپنے باپ کے انجام کا علم ہوا تھا۔
جب ابراہیم (علیہ السلام) پر واضھ ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اسے موت بھی کفر ہی پر آئے گی اور وعظ و نصیحت نے اسے کوئی فائدہ نہ دیا (تبرامنہ) ” تو اس سے بیزار ہوگئے۔ “ یعنی اپنے رب کی موافقت اور اس کی اتباع میں اس سے بیزاری کا اعلان کردیا۔ (ان ابرھیم لاواہ) ” کچھ شک نہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) بڑے نرم دل تھے۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت زیادہ رجوع کرنے والے اور بہت کثرت سے ذکر ‘ دعا ‘ استغفار کرنے والے اور اپنے رب کی طرف پلٹنے والے تھے۔ (حلیم) ” نہایت بردبار تھے۔ “ یعنی وہ مخلوق الٰہی پر بہت مہربان اور اپنے حق میں ان سے صادر ہونے والی کوتاہیوں اور لغزشوں سے درگزر کرنے والے تھے۔ جہلاء کی جہالت انہیں آپے سے باہر نہیں کرسکتی تھی۔ وہ کسی مجرم کا مقابلہ جرم کے ذریعے سے نہیں کرتے تھے۔ ان کے باپ نے ان سے کہا : (لا رجمنک) (مریم : 46/19) ” میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ “ جواب میں آپ نے فرمایا : (سلم علیک ساستغفر لک ربی) (مریم : 48/19) ” آپ پر سلامتی ہو میں اپنے رب سے آپ کے لئے بخشش طلب کرتا رہوں گا۔ “ پس تم پر واجب ہے کہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی اور ہر معاملے میں ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کرو ‘ سوائے آُ کے اس قول کے (الا قول ابراھیم لابیہ لاستغفرون لک) (الممتحنۃ : 4/60) ” ابراھیم (علیہ السلام) کے اس قول کے سوا جو انہوں نے باپ سے کہا تھا کہ میں آپ کے لئے مغفرت طلب کرتا رہوں گا۔ “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔
بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :
Ayahs 9:115–116آیت (115-116)
یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہدایت سے نوازتا ہے اور اسے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کا حکم دیتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس قوم پر اپنے احسان کی تکمیل کرتا ہے اور ان تماما مور کو ان پر واضح کردیتا ہے جن کے وہ محتاج ہیں اور ضرورت جن کا تقاجا کرتی ہے ‘ پس وہ ان کے دین کے امور کے بارے میں گمراہ اور جاہل نہیں چھوڑت۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بےپایاں رحمت کی دلیل ہے ‘ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت بندوں کی ان تمام ضروریات کو پورا کرتی ہے جن کے وہ اپنے دین کے اصول و فروغ میں محتاج ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (وما کان اللہ لیضل قوما بعد اذ ھد ھم حتیٰ یبین لھم ما یتقون) ” اللہ ایسا نہیں کہ وہ کسی قوم کو راہ راست دکھانے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان پر وہ امور واضح نہ کر دے جن سے وہ بچیں “۔ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان پر وہ تمام امور واضح فرما دیتا ہے جن سے ان کو پرہیز کرنا چاہیے اور وہ ان پر عمل پیرا نہیں ہوتے ‘ تو اللہ تعالیٰ ان کو واضح حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کردیتا ہے ‘ لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔ (ان اللہ بکل شیء علیم) ” بےچک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ “ یعنی اس کا کامل اور ہر چیز کو شامل علم ہی ہے کہ اس نے تمہیں ان امور کی تعلیم دی جنہیں تم نہ جانتے تھے اور ہر وہ چیز تم پر واضح کردی ہے جس سے تم فائدہ اٹھاتے ہو۔ (ان اللہ لہ ملک السموت والارض یحی ویمیت) ” بیشک اللہ ہی ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ “ یعنی وہ زمین و آسمان کا مالک ہے وہ زندگی اور موت اور مختلف انواع کی تدابیر کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے جب اس کی تدبیر کونی و قدری میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا تو تدبیر دینی میں ‘ جو اس کی الوہیت سے متعلق ہے ‘ کیوں کر خلل واقع ہوسکتا ہے ‘ وہ اپنے بندوں کو کیوں کر بیکار اور مہمل یا جاہل اور گمراہ چھوڑ سکتا ہے، حالانکہ وہ اپنے بندوں کا سب سے بڑا سرپرست ہے ؟ بنا بریں فرمایا : (وما لکم من دون اللہ من ولی) ” اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حمایتی نہیں “ جو تمہاری سرپرستی کرے اور تمہیں مختلف قسم کی منفعتیں عطا کرے۔ (ولا نصیر) ” اور نہ کوئی مددگار “ جو تم سے مضرتیں دور کر کے تمہاری مدد کرے۔
Ayahs 9:117–118آیت : (117-119)
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان ہے کہ (تاب اللہ علی النبی) ” مہربان ہو وہ اپنے پیغمبر پر “ (والمھجرین والانصار) ” اور مہاجرین اور انصار پر “ پس ان کی تمام لغزشیں معاف کردیں ‘ انہیں بیشمار نیکیاں عطا کیں اور انہیں بلند ترین مراتب پر فائز فرمایا اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے نہایت مشکل اور مشقت سے لبریز عمل کئے ‘ اسی لئے فرمایا : (الذین اتبعوہ فی سعۃ العسرۃ) ” جو ساتھ رہے اس پیغمبر کے مشکل کی گھڑی میں “ یعنی وہ غزوہ تبوک میں دشمن کے ساتھ جنگ کے لئے آپ کے ساتھ نکلے ‘ سخت گرمی کا موسم تھا ‘ سامان سفر اور سواریوں وغیرہ کی قلت اور دشمن کی افرادی تعداد زیادہ تھی۔ یہ ایسے حالات تھے جو لوگوں کے پیچھے رہنے کا باعث بنے ہیں۔ پس اس صورت میں وہ اللہ تعالیٰ سے مدد کے طالب گار ہوئے اور اس پر قائم رہے (من بعد ما کاد یزیخ قلوب فریق منھم) ” بعد اس کے کہ قریب تھا کہ دل پھرجائیں ان میں سے کچھ لوگوں کے “ یعنی ان کے دل آرام و راحت اور سکون کی طرف مائل تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا کی ‘ ان کی تائید کی اور ان کو قوت سے نوازا اور زیخ قلب (دل کے پھرجانے) سے مراد ہے قلب کا صراط مستقیم سے انحراف کرنا۔ اگر یہ انحراف اصول دین میں ہو ‘ تو یہ کفر ہے اور اگر انحراف شرائع کے احکام میں ہو ‘ تو یہ انحراف اس حکم شریعت کے مطابق ہوگا جس سے انحراف کیا گیا ہے۔ یہ انحراف یا تو اس حکم شریعت پر عمل کی کوتاہی کے سبب سے ہوتا ہے یا اس شرعی حکم پر غیر شرعی طریقے سے عمل کرنے کے باعث ہوتا ہے فرمایا : (ثم تاب علیھم) ” پھر وہ مہربان ہوا ان پر “ یعنی اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ (انہ بھم رؤف رحیم) ” بیشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔ “ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ورافت ہے کہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا پھر ان کی توبہ کو قبول فرمایا اور ان کو اس توبہ پر ثابت قدم رکھا۔
(وعلی الثلثۃ الذین خلفوا) ” اور ان تینوں پر پھر (اللہ مہربان ہوا) جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔ “ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان تین حضرات کی توبہ قبول کرلی جو اس غزوہ میں جہاد کے لئے مسلمانوں کے ساتھ نہ نکل سکے تھے۔ وہ تھے کعب بن مالک اور ان کے ساتھی (ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع ؓ ان کا قصہ صحاح اور سنن میں مشہور و معروف ہے۔ (1) (حتی اذا) یہاں تک کہ جب وہ بہت زیادہ غم زدہ ہوگئے (وضاقت علیھم الارض بما رحبت) ” اور زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی “ یعنی اپنی وسعت اور کشادگی کے باوجود (وضاقت علیھم انفسھم) ” اور تنگ ہوگئیں ان پر ان کی جانیں “ جو کہ انہیں ہر چیز سے زیادہ محبوب تھیں۔ پس کشادہ فضا ان کے لئے تنگ ہوگئی اور ہر محبوب چیز ان کے لئے تنگ ہوگئی جو عادۃ کبھی ان کے لئے تنگ نہ تھی۔ یہ صورت حال صرف اسی وقت ہوتی ہے جب کوئی انتہائی گھبراہٹ والا معاملہ ہو جو شدت اور مشقت میں اس حد تک پہنچ گیا ہو جس کی تعبیر ممکن نہ ہو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے۔ (وظنوا ان لا ملجا من اللہ الا الیہ) ” اور وہ سمجھ گئے کہ کہیں پناہ نہیں اللہ سے مگر اسی کی طرف “ یعنی انہیں یقین ہوگیا اور اپنے حال کے ذریعے سے ان کو معلوم ہوگیا کہ ان سختیوں سے نجات دینے والا اور جس کے پاس پناہ لی جائے اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا کوئی نہیں ‘ تب مخلوق کے ساتھ ان کا تعلق منقطع ہوگیا اور انہوں نے اپنے رب کے ساتھ اپنا تعلق جوڑ لیا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے بھاگ کر اللہ ہی کے پاس پناہ لی۔ وہ پچاس راتوں تک اس شدت اور کیفیت میں مبتلا رہے۔ (ثم تاب علیھم) ” پھر مہربان ہوا ان پر “ یعنی اللہ نے ان کو توبہ کی اجازت دے دی اور ان کو توبہ کی توفیق سے نواز دیا (لیتوبوا) ” تاکہ وہ توبہ کریں۔ “ تاکہ ان کی طرف سے توبہ واقع ہو اور اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لے (ان اللہ ھوالتواب) ” بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لے (ان اللہ ھوالتواب) ” بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے “۔ یعنی اللہ تعالیٰ بہت کثرت سے توبہ قبول کرتا ہے ‘ بہت کثرت سے معاف کرتا ہے اور بہت کثرت سے لغزشوں اور نقائص کو بخش دیتا ہے۔ (الرحیم) عظیم رحمت اس کا وصف ہے جو ہر آن ‘ ہر وقت اور ہر لحاظ اس کے بندوں پر نازل ہوتی رہتی ہے جس سے ان کی دنیاوی اور دینی امور سر انجام پاتے ہیں۔
(1) ان آیات کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کی توبہ قبول کرنا ‘ جلیل ترین مقصد اور بلند ترین منزل ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے توبہ کو اپنے خاص بندوں کا مقام و منزل قرار دیا ہے۔ جب بندے ایسے اعمال کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور جن سے وہ راضی ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ ان کو توبہ کی منزل سے نوازتا ہے۔
(2) اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ان پر سایہ کناں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہلا دینے والے مصائب کے وقت ان کے ایمان میں ثابت قدم اور استقامت عطا کرتا ہے۔
(3) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ نفس پر شاق گزرنے والی عبادت ایسے فضیلت کی حامل ہوتی ہے جو کسی اور عبادت میں نہیں ہوتی۔ عبادت میں مشقت جتنی زیادہ ہوگی اجر اتنا ہی بڑا ہوگا۔
(4) بندے کی اپنے گناہ پر ندامت اور تاسف کے مطابق اللہ تعالٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ جو کوئی گناہ کی پرواہ نہیں کرتا اور گناہ کے ارتکاب پر کوئی حرج محسوس نہیں کرتا ‘ تو اس کی توبہ عیب دار اور کھوکھلی ہے اگرچہ وہ اس زعم میں مبتلاہوتا ہے کہ اس کی توبہ مقبول ہے۔
(5) جب قلب مخلوق سے کٹ کر کامل طور پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ متعلق ہوجائے ‘ تو یہ بھلائی اور شدت (تنگی) کے زوال کی علامت ہے۔
(6) ان تینوں اصحاب پر یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے انکو کسی ایسے وصف سے موصوف نہیں کیا جو ان کے لئے عار کا باعث ہو ‘ چناچہ فرمایا : (خلفوا) ” جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے “ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل ایمان ان کو پیچھے چھوڑ گئے تھے یا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو ان لوگوں سے پیچھے چھوڑ دیا گیا ‘ جن کو ان کی معذرت کے قبول یارد کے سلسلے میں علیحدہ کردیا گیا تھا اور یہ ان کا پیچھے رہ جانا بھلائی سے روگردانی کی بناء پر نہ تھا ‘ اسی لئے (تخلفوا) کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔
(7) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو صدق سے نوازا اور اسی لئے ان کی اقتدار کا حکم دیا ‘ چناچہ فرمایا :
Ayah 9:119آیت : (119)
(یایھا الذین امنو اتقو اللہ) ” اے اہل ایمان ! اللہ سے ڈرتے رہو۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ اور ان امور پر ایمان رکھنے والو ! جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی منہیات سے اجتناب اور ان سے دور رہ کر تقویٰ کا التزام۔ (وکونوامع الصدقین) ” اور سچوں کے ساتھ رہو “۔ یعنی ان لوگوں کے ساتھ رہو جو اپنے اقوال ‘ افعال اور احوال میں سچے ہیں۔ جن کے اقوال سچے ہیں ‘ جن کے اعمال و احوال صدق پر مبنی ہیں ‘ جو کسل مندی اور فتور سے خالی اور برے مقاصد سے محفوظ ہیں ‘ جو اخلاص اور نیک نیتی پر مشتمل ہیں۔ صدق نیکی کی طرف راہ نمائی کرتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ھذا یوم ینفع الصدقین صدقھم) (المائدۃ : 119/5) ” آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی راستبازی فائدہ دے گی۔ “
Ayahs 9:120–121آیت : (120-121)
اللہ تبارک و تعالیٰ مدینہ منورہ میں رہنے والے مہاجرین و انصار اور مدینہ منورہ کے ارد گرد رہنے والے اعراب کو ‘ جو اسلام لائے اور انہوں نے اپنے اسلام کو صحیح کرلیا ‘ ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے : (ما کان لاھلالمدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ) ” اور نہیں چاہیے مدینے والوں کو اور ان کے ارد گرد رہنے والے گنواروں کو کہ وہ پیچھے رہ جائیں رسول اللہ کے ساتھ سے “ یعنی یہ بات ان کو زیبا نہیں اور نہ ان کے احوال کے لائق ہے (ولایرغبوا بانفسھم) ” اور نہ یہ کہ وہ اپنی جانوں کو چاہیں “ اپنے نفس کی بقاء اور اپنی راحت و سکون کی خاطر (عن نفسہ) ” رسول کی جان سے زیادہ “ یعنی اپنے نفس کی تو حفاظت کریں ‘ لیکن نبی کریم ﷺ کے نفس زکیہ و کریمہ کی حفاظت سے روگردانی کریں ‘ بلکہ اس کے برعکس انکا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ نبی اکرم ﷺ اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہوں۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کو اپنی ذات پر مقدم رکھے اور آپ پر اپنی جان قربان کر دے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم ‘ آپ سے محبت اور آپ پر کامل ایمان کی علامت یہ ہے کہ اہل ایمان آپ کو چھوڑ کر پیچھے نہ رہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس ثواب کا ذخر فرمایا جو جہاد کے لئے نکلنے پر آمادہ کرتا ہے۔ فرمایا : (ذلک بانھم) ” یہ اس واسطے کہ وہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے (لا یصیبھم ظما ولا نصیب) ” نہیں پہنچتی ان کو کوئی پیاس اور نہ محنت “ یعنی تھکان اور مشقت (ولا مخمصۃ فی سبیل اللہ) ” اور نہ بھوک اللہ کی راہ میں۔ “ (ولا یطؤن موطئا یغیظ الکفار) ” اور نہیں قدم رکھتے کہیں جس سے کہ خفا ہوں کافر “ یعنی ان کے دیار میں گھس جانے اور ان کے وطن پر قبضہکر لینے کی وجہ سے (ولا ینالون من عدونیلا) ” اور نہیں چھینتے وہ دشمن سے کوئی چیز “ مثلاً لشکر یا سریہ کہ ذریعہ سے فتح و ظفر یا مال غنیمت کا حصول (الا کتب لھمبہ عمل صالح) ” مگر اس کے بدلے ان کے لئے نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے “ کیونکہ یہ وہ آثار ہیں جو ان کے اعمال سے جنم لیتے ہیں۔ (ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین) ” کچھ شک نہیں کہ اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ “ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے احسن طریقے سے آگے بڑھتے ہیں ‘ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرتے ہیں۔ پس یہ اعمال ان کے عمل کے آثار ہیں۔ پھر فرمایا : (ولا ینفقون نفقۃ صغیرۃ ولا کبیرۃ ولا یقطعون وادیا) ” اور نہیں خرچ کرتے ہیں کوئی خرچ چھوٹا اور نہ بڑا اور انہیں طے کرتے کوئی میدان “ یعنی دشمن کی طرف جانے کے لئے (الاکتب لھم لیجزیھم اللہ احسن ما کانو ایعملون) ” مگر لکھ لیا جاتا ہے ان کے لئے ‘ تا کہ بدلہ دے انکو اللہ بہتر اس کا مکا جو وہ کرتے تھے “ اور اسی میں یہ اعمال بھی شامل ہیں جب ان میں خیر خواہی اور اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص ہو۔
ان آیات کریمہ میں نفوس کے لئے جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب اور ان کو شوق دلایا گیا ہے اور جہاد میں تکالیف پہنچنے پر ثواب کی امید دلائی گئی ہے نیز یہ کہ جہاد ان کے لئے ترقی درجات کا باعث ہے۔ نیز ان آیات کرمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بندہ مومن کے عمل پر مترتب ہونے والے آثار میں بہت بڑا اجر ہے۔
Ayah 9:122آیت (122)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان چیزوں سے آگاہ کرتے ہوئے ‘ جو ان کے لائق ہیں ‘ فرماتا ہے : (وما کانا لمومنون لینفرواکافۃ) ” اور ایسے تو نہیں مومن کہ کوچ کریں سارے “ یعنی یہ تو ہو نہیں سکتا کہ تمام کے تمام مومن دشمن کے خلاف جنگ کے لئے نکل پڑیں ‘ کیونکہ اس طرح وہ مشقت میں پڑجائیں گے اور بہت سے دیگر مصالح فوت ہوجائیں گے۔ (فلو لا نفر من کان فرقۃ منھم) ” پس کیوں نہ نکلا ہر گروہ میں سے “ یعنی شہروں ‘ قبیلوں اور خاندانوں میں سے (طائفۃ) ” انکا ایک حصہ “ جس سے ان کا مقصد اور کفایت حاصل ہوجاتی تو یہ بہتر تھا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو آگاہ فرمایا کہ جو لوگ جہاد کے لئے نہیں نکلے اور پیچھے ٹھہر گئے ان کے نہ نکلنے میں کچھ مصالح تھے جو گھر سے نکلنے کی صورت میں ضائع ہوجاتے۔ پس فرمایا : (لیتفقھوا من الدین) ” تاکہ وہسمجھ ھاصلکریں دینی میں “ یعنی پیچھے بیٹھ رہنے والے (ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم) ” اور تاکہ ڈرائیں وہ اپنی قوم کو جب وہ لوٹیں ان کی طرف “ تاکہ وہ علم شریعت حاصل کرتے ‘ اس کے معافی کی معرفت حاصل کرتے اور پھر دوسروں کو تعلیم دیتے اور جب واپس لوٹتے تو اپنی قوم کو ڈراتے۔۔۔ اس سے علم کی فضیلت مستفاد ہوتی ہے خاص طور پر دین میں سمجھ کی فضیلت ‘ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تفقہ فی الدین بہت اہم معاملہ ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو کوئی کسی قسم کا علم حاصل کرتا ہے تو اس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اس علم کو اللہ کے بندوں میں پھیلائے۔ اس بارے میں ان کے ساتھ خیر خواہی کرے ‘ کیونکہ عالم سے علم کا پھیلنا اس کی برکت اور اس کا اجر ہے جو بڑھتا رہتا ہے۔
رہا عالم کا اپنے آپ پر اقتصار کرنا ‘ حکمت و دانائی اور بہترین نصیحت کے ذیرعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت نہ دینا ‘ جہال کو ان امور کی تعلیم دینا ترک کردینا جو وہ نہیں جانتے۔۔۔۔۔ تو اس کے علم سے مسلمانوں کو کون سا فائدہ حاصل ہوا اور اس کے علم کا کیا نتیجہ نکلا ؟ بس اس کی انتہا یہ ہے کہ اس عالم کے مرجانے کے ساتھ اس کا علم بھی موت کی آغوش میں چلا جائے گا۔ یہ اس شخص کی حرماں نصیبی کی انتہا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم و فہم سے نوازا۔
نیز اس آیت کریمہ میں ایک اہم فائدہ کی طرف راہنمائی اور نہایت لطیف اشارہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مصالح عامہ میں سے ہر مصلحت کے لئے کچھ لوگوں کو تیار کریں جو انمصالح کا انتظام کریں اور ان مصالح کے حصول کے لئے ہمہ وقت جدوجہد کریں اور وہ دیگر امور کی طرف التفات نہ کریں ‘ تاکہ ان مصالح کا اچھی طرح انتظام ہو ‘ تاکہ مسلمانوں کے مفادات کی تکمیل ہو اور تمام مسلمانوں کا مقصد ایک ہو اور وہ ہے ان کے دین و دنیا کے مصالح کا قیام۔ اگرچہ راستے مختلف ہوں ‘ مشرب متعدد ہوں ‘ کام ایک دوسرے سے جدا ہوں ‘ مگر مقصد ایک ہو۔ تمام امور میں یہ عام حکمت نافعہ ہے۔
Ayah 9:123آیت : (123)
جنگی معاملات کی تدبیر میں اہل ایمان کی راہ نمائی کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف راہنمائی فرمائی ہے کہ ان کفار سے ابتدا کی جائے جو سب سے قریب ہیں ان کے ساتھ رویہ سخت رکھا جائے اور جنگ میں ان کا نہایت سختی ‘ بہادری اور ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے (واعلموا ان اللہ مع المتقین) ” اور جان رکھو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔ “ یعنی تمہیں یہ علم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد تقویٰ کے مطابق نازل ہوتی ہے ‘ اس لئے تقویٰ کا التزام کرو ‘ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے دشمن کے خلاف تمہیں نصرت سے نوازے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد : (قاتلو الذین یلونکم من الکفار) ” قریب کے کافروں سے قتال کرو۔ “ عام ہے ‘ تاہم جب مصلحت اس بات کا تقاضا کرے کہ ان کافروں کے ساتھ لڑائی کی جائے جو قریب نہیں ہیں ‘ تو اس وقت ایسا کرنا ضروری ہوگا اور یہ خاص حکم اس عموم سے مستثنیٰ ہوگا ‘ کیونکہ مصالح کی اقسام تو بیشمار ہیں۔
Ayahs 9:124–126آیت : (124-126)
نزول قرآن کے وقت منافقین اور اہل ایمان کا جو حال ہوتا ہے ‘ اور اس وقت ان کے درمیان جو تفاوت ہوتا ہے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (واذا ما انزلت سورة ) ” اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے “ جس کے اندر او امر و نواہی نازل کئے گئے ہوں ‘ آپ ﷺ کے اپنے بارے میں خبر دی گئی ہو ‘ امور غائبہ سے آگاہ کیا گیا ہو اور جہاد کی ترغیب دی گئی ہو۔ (فمنھم من یقول ایکم زادتہ ھذہ ایمانا) ” تو ان میں سے بعض کہتے ہیں ‘ تم میں سے کس کا ایمان اس سورت نے زیادہ کیا ؟ “ یعنی دونوں گروہوں میں سے اسے استفہام حاصل ہے جسے اس سورت پر ایمان حاصل ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ان دونوں گروہوں کا حال واقع بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (فاما الدین امنوا فزادتھم ایمانا) ” پس جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ‘ ان کا ایمان اس سورت نے زیادہ کردیا “ اس سورت کے علم ‘ اس کے فہم ‘ اس پر اعتقاد ‘ اس پر عمل ‘ بھلائی کا کام میں رغبت اور برائی کے کام سے رکنے کے ذریعے سے ان لوگوں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جو اہل ایمان ہیں۔ (وھم یستبشرون) ” اور وہ خوشخبری حاصل کرتے ہیں “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو جو اپنی آیت سے نوازا ہے اور ان کا فہم حاصل کرنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق بخشی ہے اس پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہیں۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کو آیت الٰہی پر انشراح صدر ‘ اطمینان قلب اور سرعت اعاعت حاصل ہے ‘ کیونکہ یہ آیت ان کو اس امر کی ترغیب دیتی ہیں۔
(واما الذین فی قلوبھم مرض) ” اور لیکن جن کے دلوں میں روگ ہے “ یعنی شک اور نفاق ہے (فزادتھم رجسا الی رجسھم) ” پس ان کو اس سورت نے بڑھا دیا گندگی پر گندگی میں “ یعنی ان کے مرض کے ساتھ مرض اور ان کے شک کے ساتھ مزید شک کا اضافہ ہوتا گیا ‘ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیت کے ساتھ کفر کیا۔ ان کے خلاف عناد رکھا اور ان سے روگردانی کی تھی۔ بنا بریں ان کا مرض بڑھ گیا تو اس مرض نے ان کو ہلاکت کے گڑھے میں پھینک دیا۔ (و) ” اور “ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے یہاں تک کہ (ماتوا وھم کفرون) ّ ” وہمریں گے بھی تو کافر کے کافر “۔ یہ ان کے لئے سزا ہے ‘ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیی کی آیت کا انکار کیا ‘ اس کے رسول کی نافرمانی کی اس لئے اس کی پاداش میں اس دن تک کے لئے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا ‘ جس روز وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے۔
اللہ تعالیی اس بات پر کہ وہ کفر و نفاق پر جمے ہوئے ہیں ان کو زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرماتا ہے : (اولا یرون انھم یفتنون فی کل عامر مرۃ او مرتین) ” کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ آزمائے جاتے ہیں ہر برس اک یا دو مرتبہ “ یعنی جو ان کو مصیبت پہنچتی ہے یا امراض لاحق ہوتے ہیں یا او امر الیہ کے ذریعے سے ان کی آزمائش کی جاتی ہے (ثم لایتوبون) “ پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے۔ “ یعنی ان برائیوں سے توبہ نہیں کرتے جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں (ولا ھم یذکرون) ” اور نہ وہ نصیحت پکڑتے ہیں “ یعنی کیا چیز انہیں فائدہ دیتی ہے کہ وہ اسے اختیار کریں اور کیا چیز نقصان دیتی ہے کہ وہ اس کو ترک کردیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ ۔۔۔۔ جیسا کہ تمام قوموں میں اس کی عادت ہے۔۔۔۔ ان کو تنگ دستی ‘ فراخی اور او امر و نواہی کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے ‘ تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں مگر وہ توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت پکڑتے ہیں۔
ان آیاتکریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا بڑھتا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کو ٹٹولتا اور اس کی حفاظت کرتا رہے ‘ اس کی تجدید اور نشونما کرتا رہے ‘ تاکہ اس کا ایمان ترقی کی منازل کی طرف گامزن رہے۔
Ayah 9:127آیت : (127)
یعنی وہ منافقین جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے بارے میں کوئی سورت نازل نہ ہوجائے جو ان کے دلوں کا بھید کھول دے (و اذا ما انزلت سورة ) ” جب ان پر کوئی سورت نازل کی جاتی ہے “ تاکہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کے مضامین پر عمل کریں (نظر بعضھم الی بعض) ” تو وہ ایک دوسرے کی طرف دکھنے لگتے ہیں۔ “ تاکہ اہل ایمان کی نظروں سے چھپے رہیں اور کہتے ہیں (ھل یرلکم من احد ثم انصر فوا) ” کیا دکھتا ہے تم کو کوئی مسلمان ‘ پھر کھسک جاتے ہیں “ یعنی کھسک کر نکل جاتے ہیں اور نہ موڑ کر لوٹ جاتے ہیں۔ تب اللہ ان کے عمل کی جنس ہی سے انہیں جزا دیتا ہے۔ پس جیسے انہوں نے عمل سے منہ پھیرلیا (صرف اللہ قلوبھم) ” الہ نے ان کے دلوں کو (حق سے) پھیر دیا “ یعنی روک دیا اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا (بانھم قوم لا یفقھون) ” کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔ “ یعنی وہ ایسی سمجھ نہیں رکھتے جو ان کو فائدہ دے ‘ کیونکہ اگر وہ سمجھ رکھتے ہوتے ‘ تو جب بھی کوئی سورت نازل ہوتی ‘ وہ اس پر ایمان لا کر اس کے احکام کی تعمیل کرتے۔ اس کا مقصد جہاد وغیرہ شرائع ایمان سے ان کی شدت نفور کو بیان کرنا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتا ہے : (فاذا انزلت سورة محکمۃ وذکر فیھا القتال رایت الذین فی قلوبھم مرض ینظون الیک نظر المغشی علیہ من الموت) (محمد : 20/48) ” جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں جہاد کا ذکر ہوتا ہے ‘ تو جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے ‘ آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف اس شخص کی طرح دکھنے لگتے ہیں جس پر موت کی غشی طاری ہو “۔
Ayahs 9:128–129آیت : (128-129)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں پر انے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے ان کے اندر نبی امی ﷺ کو مبعوث فرمایا جو خود ان میں سے ہیں وہ آپ کا حال جانتے ہیں ‘ وہ آپ سے اخذ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور آپ کی اطاعت کرنے کو ناپسند نہیں کرتے اور خود رسول اللہ ﷺ ان کے بےانتہا خیر خواہ اور ان کے مصالح کے لئے کوشش کرنے والے ہیں۔ (عیز علیہ ماعنھم) ” تمہاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے۔ “ یعنی آپ ﷺ پر ہر وہ معاملہ بہت شاق گزرتا ہے جو تم پر شاق گزرتا ہے اور تمہیں تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔ (حریض علیکم) ” حریض ہیں تمہاری بھلائی پر “ پس آپ ﷺ تمہارے لئے بھلائی پسند کرتے ہیں اور تمہیں بھلائی تک پہنچانے کے لئے بھرپور کوشش کرتے ہیں ‘ ایمان تک تمہاری راہ نمائی کے خواہش مند ہیں۔ آپ شر کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور شر سے تمہیں نفرت دلانے کے لئے پوری کوشش صرف کرتے ہیں۔ (بالمومنین رؤف رحیم) ” اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے ولاے مہربان ہیں۔ “ یعنی اہل ایمان کے لئے انتہائی رافت و رحمت کے حامل ہیں بلکہ وہ مومنوں کے لئے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر رحیم ہیں۔ بنا بریں آپ کا ھق تمام مخلوق پر فائق اور مقدم ہے۔ آپ ﷺ پر ایمان لانا ‘ آپ کی تعظم کرنا ‘ آپ کی عزت و توقیر کرنا تمام امت پر فرض ہے۔ (فان) ” پس اگر “ وہ ایمان لے آئیں تو یہ ان کی خوش نصیبی اور توفیق الٰہی ہے۔ اور اگر وہ (تولوا) ” پھرجائیں۔ “ یعنی ایمان و عمل سے روگردانی کریں تو آپ ﷺ اپنے راستے پر گامزن رہیں اور ان کو دعوت دیتے رہیں۔ (فقل حسبی اللہ) ” اور کہہ دیں ! کہ (تمام امور میں) میرے لئے الہ کافی ہے۔ “ (لا الا الا ھو) ” اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ “ (علیہ توکلت) ” میں نے اسی پر توکل کیا۔ “ یعنی امور نافعہ کے حصول اور ضرر رساں امور کو دور ہٹانے کے لئے ‘ میں اسی پر اعتماد اور بھروسہ کرتا ہوں (وھو رب العرش العظیم) ” اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔ “ یعنی جب اللہ تعالیٰ اس عظیم عرش کا رب ہے جو تمام مخلوقات پر سایہ کناں ہے تو عرش سے کم تر مخلوق کا رب ہونا اولیٰ اور احریٰ ہے۔