Ayahs 9:58–59آیت 58
یعنی ان منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں جو صدقات کی تقسیم میں آپ کی عیب جوئی اور اس بارے میں آپ پر تنقید کرتے ہیں اور ان کی تنقید اور نکتہ چینی کسی صحیح مقصد کی خاطر اور کسی راجح رائے کی بنا پر نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ انہیں بھی کچھ عطا کیا جائے۔ (فان اعطوا منھا رضوا وان لم یعطوا منھآ اذاھم یسخطون) ” پس اگر اس میں سے ان کو دیا جائے تو راضی ہوجاتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے ان کو تو جب ہی وہ ناخشو ہوجاتے ہیں۔ “ حالانکہ بندے کے لئے مناسب نہیں کہ اس کی رضا اور ناراضی، دنیاوی خواہش نفس اور کسی فاسد غرض کے تابع ہو، بلکہ مناسب یہ ہے کہ اس کی خواہشات اپنے رب کی رضا کے تابع ہوں جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (لایومن احدکم حتی یکون ھواہ تبعاً لما جئت بہ) ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس چیز کے تابع نہ ہوں جو میں لے کر آیا ہوں۔ “ (1)
یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ولو انھم رضوا مآ اتھم اللہ و رسولہ) ” اگر وہ راضی ہوتے اس پر جو دیا ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے “ یعنی انہیں کم یا زیادہ جو کچھ بھی دیا ہے (وقالوا حسبنا اللہ) ” اور کہتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے “ اور اس نے جو کچھ ہماری قسمت میں رکھا ہے ہم اس پر راضی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی امید رکھیں (سیوتینا اللہ من فضلہ ورسولہ انا الی اللہ رغبون) ” وہ اللہ دے گا ہم کو اپنے فضل سے اور اس کا رسول، بیشک ہم تو اللہ ہی کی طرف رغبت رکھتے ہیں۔ “ یعنی اپنی منفعتوں کے حصول اور نقصانات سے بچنے کے لئے نہایت عاجزی سے اس سے دعا کرتے ہیں۔
(1) شرح السنۃ، حدیث :103
Ayah 9:60آیت 60
پھر اللہ تعالیٰ نے صدقات واجبہ کی تقسیم کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا : (انما الصدقت) ’ دصدقات و خیرات “ یعنی زکوۃ واجب۔۔۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مستحب صدقات ہر ایک شخص کو دیئے جاسکتے ہیں، ان صدقات کو خرچ کرنے کے لئے کسی کو مختص نہیں کیا گیا۔ جب کہ صدقات واجبہ صرف ان لوگوں پر خرچ کئے جائیں جن کا قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے صدقات کے مصرف کو صرف انہی لوگوں میں محدود رکھا ہے۔ ان کی آٹھ اصناف ہیں۔
(1، 2) فقراء و مساکین، اس مقام پر یہ دو لاگ اقسام ہیں جن میں تفاوت ہے، فقیر مسکین سے زیادہ ضرورت مند ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان اصناف کے ذکر کی ابتداء (فقیر “ سے کی ہے اور ابتداء کا طریقہ یہی ہے کہ پہلے سب سے اہم چیز کا، پھر اس سے کم تر مگر دوسروں سے اہم تر کا بیان ہوتا ہے۔ فقیر کی یہ تفسیر بیان کی گئی ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو یا جس سے کفایت ہوسکتی ہو اس کے پاس اس کے نصف سے بھی کم ہو۔ مسکین اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے پاس کفایت سے نصف یا اس سے کچھ زیادہ موجود ہو مگر اس کے پاس پوری کفایت موجود نہ ہو، کیونکہ اگر اس کے پاس پوری کفایت موجود ہو تو وہ غنی ہوتا۔ پس فقراء اور مساکین کو اتنی زکوۃ دی جائے جس سے ان کا فقر و فاقہ اور مسکنت زائل ہوجائے۔
(3) وہ لوگ جو صدقات کی وصولی وغیرہ کے کام پر مامور ہوں اور یہ وہ لوگ ہیں جو صدقات کے ضمن میں کسی ذمہ داری میں مشغول ہوں، ان کی وصلی کرنے والے صدقات کے مویشیوں کے چرانے ال، ان کے نقل و حمت کا انتظام کرنے والے اور صدقات کا حساب کتاب کلھنے والے سب ” عاملین “ کے زمرے میں آتے ہیں۔۔۔ لہٰذا ان کو ان کا کام کا معاوضہ صدقات میں سے دیا جائے اور یہ ان کے کام کی اجرت ہے۔
(4) وہ لوگ جن کی تالیف قلب مطلوب ہو۔ (مؤلفۃ القلوب) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی اپنی قوم میں اطاعت کی جاتی ہے، جس کے اسلام قبول کرنے کی امید ہو یا جس کے شرکا خوف ہو، یا جس کو عطا کرنے سے اس کی قوت ایمان میں اضافہ ہوتا ہو یا اس جیسے کسی اور شخص کے اسلام قبول کرنے کی توقع ہو یا کسی ایسے شخص سے صدقات وصول ہونے کی توقع ہو جو صدقات ادا نہ کرتا ہو۔ اس صورت میں (والمولفۃ قلوبھم) کو صدقات میں سے دیا جاسکتا ہے جس میں کوئی مصلحت اور ان کی تالف قلب مطلوب ہو۔
(5) گردنیں چھڑانے میں، اس سے مراد وہ غلام ہیں جنہوں نے اپنے آقاؤں سے مکاتبت کے ذریعے سے آزادی خرید رکھی ہو اور وہ غلامی سے اپنی گردن چھڑانے کے لئے جدوجہد کر رہ ہوں۔ پس زکوۃ کی مد سے ان کی مدد کی جاسکتی ہے اور وہ مسلمان جو کفار کی قید میں ہیں ان کو آزاد کرانے کے لئے بھی زکوۃ کا مال خرچ کیا جاسکتا ہے، بلکہ یہ مسلمان قیدی بدرجہ اولیٰ اس مد کے مستحق ہیں اور مستقلاً کسی غلام کو آزاد کرنے پر خرچ کرنا بھی جائز ہے، کیونکہ یہ بھی (وفی الرقاب) کے زمرے میں آتے ہیں۔
(6) قرض داروں کی مدد کرنے میں۔۔۔ قرض داروں کی دو قسمیں ہیں۔
(اول) وہ قرض دار جنہوں نے لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے قرض اٹھایا ہو۔ اس کی صورت یہ ہے کہ دو گروہوں کے درمیان کوئی فتنہ یا فساد پھیل جائے تو وہ آدمی ان دونوں کے درمیان پڑ کر ان کے مابین صلح کروا کر ان میں سے کسی ایک کی طرف سے یا سب کی طرف سے مالی تاوان ادا کر دے۔ اس قسم کے قرض دار پر زکوۃ کی مد میں سے خرچ کیا جاسکتا ہے، تاکہ اس کے لئے زیادہ نشاط انگیز اور اس کے عزم کے لئے زیادہ قوت کا باعث ہو۔ وہ اگرچہ مال دار بھی ہو، تب بھی اسے زکوۃ کی مد میں سے عطا کیا جاسکتا ہے۔
(ثانی) دوسری قسم کا قرض دار وہ ہے جس نے کسی ذاتی ضرورت کی بنا پر قرض لیا مگر وہ عسرت کی وجہ سے قرض واپس نہ کرسکا۔ تو اسے صدقات میں سے اتنا مال عطا کیا جائے جس سے اس کے ذمہ سے قرض ادا ہوجائے۔
(7) اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے۔ یہ وہ مجاہدین ہیں جو رضا کارانہ جہاد میں شریک ہوتے ہیں جن کا نام باقاعدہ فوج میں درج نہیں۔ ان کو زکوۃ کی مد سے اتنا ملا عطا کیا جاسکتا ہے جو جہاد میں اس کی سواری، اسلحہ اور اس کے اہل و عیال کی کفالت کے لئے کافی ہوتا کہ وہ اطمینان قلب کے ساتھ پوری طرح سے جہاد میں شریک ہو سکے۔
بہت سے فقہاء یہ کہتے ہیں کہ اگر روزی کمانے پر قدرت رکھنے والا شخص اپنے آپ کو طلب علم کے لئے وقف کر دے تو اسے بھی زکوۃ میں سے مال دیا جائے۔ کیونکہ حصول علم بھی جہاد سبیل اللہ کے زمرے میں آتا ہے، نیز بعض فقہا کہتے ہیں کہ کسی فقیر کو فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے زکوۃ میں سے مال عطا کیا جاسکتا ہے۔ مگر یہ قول محل نظر ہے۔ (1)
(8) مسافر، اور یہاں مسافر سے مراد وہ غریب الوطن ہے جو اپنے وطن سے دور پردیس میں منقطع ہو کر رہ گیا ہو۔ اسے زکوۃ کی مد میں سے اتنا مال عطا کیا جاسکتا ہے جو اسے اپنے وطن پہنچانے کے لئے کافی ہو۔
یہ آٹھ قسم کے لوگ ہیں صرف انہی کو زکوۃ دی جاسکتی ہے (فریضۃ من اللہ) ” اللہ کی طرف سے مقرر کردیئے گئے ہیں۔ “ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو فرض اور مقرر کیا ہے اور فریضہ زکوۃ اس کے علم اور اس کی حکمت کے تابع ہے۔ واضح رہے کہ صدقات کے یہ آٹھ مصارف دو امور کی طرف راجع ہیں۔
(1) وہ شخص جسے اس کی حاجت اور فائدے کے لئے زکوۃ دی جاتی ہے، مثلاً فقیر اور مسکین وغیرہ۔
(2) وہ شخص جسے اس لئے زکوۃ دی جاتی ہے کہ مسلمانوں کو اس کی ضرورت و حاجت ہوتی ہے اور اسلام کو اس سے ائدہ پہنچتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مال داروں کے مال میں سے یہ حصہ عوام و خواص، اسلام اور مسلمانوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے مقرر کیا ہے۔ مگر مال دار لوگ اپنے مالوں کی زکوۃ صحیح معنوں میں شرعی طریقے سے ادا کریں، تو مسلمانوں میں کوئی فقیر نہ رہے اور اسی طرح زکوۃ سے اتنا مال جمع ہوسکتا ہے جس سے سرحدوں کی حفاظت، کفار کے ساتھ جہاد اور دیگر تمام دینی مصالح کا انتظام ہوسکتا ہے۔
Ayahs 9:61–65آیت 61
(1) لیکن ان کی بنیاد سنن ابی داؤد وغیرہ کی ایک روایت ہے جس کی رو سے حج وعمرہ پر زکوۃ کی رقم صرف کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ شیخ البانی (رح) نے اسے صحیح کہا ہے لیکن اس میں عمرہ کے ذکر کو شاذ قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو، اور اء الغلیل 382/3) علاوہ ازیں صحابہ میں سے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر اور ائمہ میں سے امام احمد و امام اسحاق رحمتہ اللہ علیہم وغیرہ بھی اس کے قائل ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھیے، راقم کی کتاب ” زکوۃ، عشر اور صدقتہ الفطر “ ص 301، 401 مطبوعہ دار السلام (ص۔ ی)
یعنی یہ منافقین (الذین یوذون النبی) ” جو نبی کو ایذا دیتے ہیں۔ “ یعنی جو روی اقوال اور عیب جوئی کے ذریعے سے نبی اکرم ﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ (ویقولون ھو اذن) ” اور کہتے ہیں کہ وہ کان (کا کچا) ہے۔ “ اور انہیں اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ ان کی بدگوئی کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ کو دکھ پہنچتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ان میں سے کچھ باتیں آپ تک پہنچتی ہیں تو ہم آپ کے پاس معذرت پیش کرنے کے لئے آجاتے ہیں اور آپ ہماری معذرت قبول کرلیتے ہیں، کیونکہ آپ کان کے کچے ہیں۔ یعنی آپ سے جو کچھ کہا جاتا ہے آپ اسے تسلیم کرلیتے ہیں سچے اور جھوٹے میں تمیز نہیں کرتے۔ ان کا مقصد تو محض یہ تھا۔۔۔۔۔۔ اللہ ان کا برا کرے۔۔۔۔۔۔ کہ وہ اس بات کی کوئی پروا کریں نہ اس کو اہمیت دیں، کیونکہ ان کی کوئی بات آپ تک نہ پہنچے تو یہی ان کا مطلوب ہے اور اگر آپ تک وہ بات پہنچ جائے تو صرف باطل معذورتوں پر اکتفا کریں۔ پس انہوں نے بہت سے پہلوؤں سے برائی کا رویہ اختیار کیا :
(1) ان میں سب سے بری بات یہ ہے کہ وہ اپنے نبی ﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں جو ان کی رہنمائی اور ان کو ہلاکت اور شقاوت کے گڑھے سے نکال کر ہدایت اور سعادت کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے تشریف لائے۔
(2) وہ اس ایذا رسانی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے، یہ مجرد ایذا رسانی پر ایک قدر زائد ہے۔
(3) وہ نبی کریم ﷺ کی عقل و دانش میں عیب نکالتے تھے، آپ کو عدم ادراک اور سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز نہ کرسکنے کی صفات سے متصف کرتے تھے۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے زیادہ عقل کامل سے بہرہ مند بدرجہ اتم ادراک کے حامل، عمدہ رائے اور روشن بصیرت رکھنے والے تھے۔
بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (قل اذن خیرلکم) ” آپ کہہ دیجیے، کان ہیں تمہاری بہتری کے لئے “ یعنی جو کوئی بھلی اور سچی بات کہتا ہے آپ ﷺ اسے قبول فرما لیتے ہیں۔ رہا آپ کا صرف نظر کرنا اور جھوٹے عذرات پیش کرنے والے منافقین کے ساتھ سختی سے پیش نہ آنا، تو یہ آپ کی کشادہ ظرفی، ان کے معاملے میں عدم اہتمام اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کی بنا پر تھا۔ (آیت) ” جب تم واپس جب تم واپس لوٹو گے تو یہ منافقین قسمیں کھائیں گے، تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو، پس تم ان کے معاملے کو نظر انداز کردو کیونکہ وہ ناپاک ہیں۔ “ رہی یہ حقیقت کہ آپ ﷺ کے دل میں کیا ہے اور آپ کی رائے کیا ہے تو اس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (یومن باللہ ویومن للمومنین) ” وہ یقین کرتا ہے اللہ پر اور یقین کرتا ہے مومنوں کی بات پر “ جو سچے اور تصدیق کرنے والے ہیں اور وہ سچے اور جھوٹے کو خوب پہچانتا ہے اگرچہ وہ بہت سے ایسے لوگوں سے صرف نظر کرتا ہے جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان میں سچائی معدوم ہے (ورحمۃ للذین امنوا منکم) ” اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو تم میں سے ایمان لائے “ کیونکہ وہی آپ کی وجہ سے راہ راست پر گامزن ہوتے اور آپ کے اخلاق کی پیروی کرتے ہیں۔ رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو انہوں نے اس رحمت کو قبول نہ کیا، بلکہ ٹھکرا دیا اور یوں وہ دنیا و آخرت کے گھاٹے میں پڑگئے۔ (والذین یوذون رسول اللہ) ” اور وہ لوگ جو (قول و فعل کے ذریعے سے) رسول اللہ کو دکھ دیتے ہیں۔ “ (لھم عذاب الیم) ” ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ “ دنیا و آخرت میں اور دنیا میں ان کے لئے دد ناک عذاب یہ ہے کہ آپ کو دکھ پہنچانے والے اور آپ کی شان میں گستاخی کرنے اور ایذا پہنچانے والے کی حتمی سزا قتل ہے۔
(یحلفون باللہ لکم لیرضوکم) ” وہ قسمیں کھتاے ہیں اللہ کی تاکہ تمہیں راضی کریں “ اور ان کی طرف سے جو ایذا رسانی ہوئی وہ اس سے بری ٹھہریں۔ پس ان کی غرض وغایت محض یہ ہے کہ تم ان سے راضی رہو۔ (واللہ و رسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مؤمنین) ” حالانکہ اللہ اور اس کا رسول اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ ان کو راضی کریں اگر مومن ہوں “ کیونکہ بندہ مومن اپنے رب کی رضا پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتا۔ یہ آیت ان کے ایمان کی نفی پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی رضا پر دوسروں کی رضا کو مقدم رکھا اور یہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت اور کھلی دشمنی ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے دشمنی رکھتا ہے اس کے لئے سخت وعید ہے۔ چناچہ فرمایا : (الم یعلموآ انہ من یحادد اللہ و رسولہ) ” کیا انہوں نے نہیں جانا کہ جو کوئی مقابلہ کرے اللہ سے اور اس کے رسول سے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اہانت و تحقیر اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کر کے وہ اللہ اور اس کے رسول سے بہت دور اور ان کے مخالف ہوجائے (فان لہ نار جھنم خالدا فیھا ذلک الخزی العظیم) ” تو اس کے لئے جہنم کی آگ ہے اور اس میں وہ ہمیشہ رہے گا، یہ بڑی رسوائی کی بات ہے۔ “ جس سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں، کیونکہ وہ دائمی نعمتوں سے محروم ہوگئے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب حاصل کرلیا۔ ان کے حال سے اللہ کی پناہ !
Ayahs 9:66–67آیت 66
اس سورة کریمہ کو (الفاضحۃ) ” رسوا کرنے والی سورت “ کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے، کیونکہ اس نے منافقین کے بھید کھولے ہیں اور ان کے رازوں پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ” ان میں سے بعض “ ” ان میں سے بعض “ کہہ کر ان کے اوصاف بیان کئے ہیں۔ لیکن متعین طور پر اشخصا کے نام نہیں لئے، اس کے دو فائدے ہیں۔
(1) اللہ تعالیٰ ” ستار “ ہے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے۔
(2) مذمت کا رخ ان تمام منافقین کی طرف ہے جو ان صفات سے متصف ہیں جس میں وہ بھی آگئے جو (بلاواسطہ) مخاطب تھے اور ان کے علاوہ قیامت تک آنے والے منافقین بھی اس میں شامل ہیں۔
اس اعتبار سے اوصاف کا تذکرہ زیادہ عمومیت کا حامل اور زیادہ مناسب ہے تاکہ لوگ خوب خائف رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو مدینہ میں بری بری افواہیں پھیلاتے ہیں، اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہ بہت تھوڑے دن ہی آپ کے پڑوس میں رہ سکیں گے۔ وہ دھتکارے ہوئے جہاں بھی پائے جائیں، پکڑے جائیں اور قتل کردیئے جائیں۔ “ اور یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے (آیت) ” منافقین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان پر کوئی سورت نازل ہو جو ان کو جتا دے جو ان کے دلوں میں ہے “ یعنی وہ سورت ان کو ان کے کرتوتوں کے بارے میں آگاہ کر کے ان کی فضیحت کا سامان کرتی ہے اور ان کا بھید کھولتی ہے یہاں تک کہ ان کی کارستانیاں لوگوں کے سامنے عیاں ہوجاتی ہیں اور وہ دوسروں کے لئے سامان عبرت بن جاتے ہیں۔
(قل ساتھ زء وا) ” کہہ دو کہ ہنسی مذاق کئے جاؤ۔ “ یعنی استہزاء اور تمسخر کا تمہارا جو رویہ ہے اس پر قائم رہو (ان اللہ مخرج ماتحذرون) ” اللہ کھول کر رہے گا اس چیز کو جس سے تم ڈرتے ہو “ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کردیا اور یہ سورت نازل فرمائی جو ان کے کرتوت بیان کر کے ان کو رسوا کرتی ہے اور ان کے رازوں پر سے پردہ اٹھاتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ولئن سالتھم) ” اور اگر آپ ان سے دریافت کریں۔ “ اس بارے میں جو وہ مسلمانوں اور ان کے دین کی بابت طعن وتشنیع کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ غزوہ تبوک کے موقع پر کہتا تھا ” ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے “ ان کی مراد نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام تھے۔۔۔” جو کھانے میں پیٹو، زبان کے جھوٹے اور میدان جنگ میں بزدلی دکھانے والے ہیں۔ “ (1)
جب انہیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ کو ان کی ہر زہ سرائی کا علم ہوگیا ہے تو معذرت کرتے اور یہ کہتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے (انما کنا نخوص و نلعب) ” ہم تو بات چیت کرتے تھے اور دل لگی “ یعنی ہم تو ایک ایسی بات کہہ رہے تھے جس سے کسی کو نشانہ بنانا یا طعن اور رعیب جوئی ہمارا مقصود نہ تھا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا عدم عذر اور ان کا جھوٹ واضح کرتے ہوئے فرمایا : (قل) ان سے کہہ دیجیے : (آیت) ” کیا تم اللہ سے، اس کے حکموں سے اور اس کے رسول سے ٹھٹھے کرتے تھے ؟ تم بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔ “ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کردیتا ہے، کیونکہ دین کی اساس اللہ تعالیٰ ، اس کے دین اور اس کے رسول کی تعظیم پر مبنی ہے۔ ان میں سے کسی کے ساتھ استہزاء کرنا اس اساس کے منافی اور سخت متناقص ہے۔ بنا بریں جب وہ معذرت میں یہ بات کہتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان سے اس سے زیادہ کچھ نہ فرمایا (آیت) ” کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی کرتے تھے ؟ اب معذرتیں نہ کرو تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کیا۔ “ فرمایا : (آیت) ” ان نعف عن طآئفۃ منکم) ” اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف بھی کردیں۔ “ ان کی توبہ و استغفار اور ان کی ندامت کی وجہ
(1) تفسیر طبری، 220/6
سے (نعذب طآئفۃ ) ” تاہم بعض کو ضرور ہی عذاب دیں گے “ (بانھم) ” کیونکہ وہ “ یعنی اس سبب سے کہ ” کانوا مجرمین) ” وہ گناہگار تھے “ یعنی اپنے کفر و نفاق پر قائم ہیں۔ یہ آیات کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کوئی اپنا بھید چھپاتا ہے خاص طور پر وہ بھید جس میں اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف سازش، اللہ تعالیٰ ، اس کی آیات اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ استہزاء ہو تو اللہ تعالیٰ اس بھید کو کھول دیتا ہے، اس شخص کو رسوا کرتا ہے اور اسے سخت سزا دیتا ہے اور جو کوئی کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت ثابتہ کے ساتھ کسی قسم کا استہزا کرتا ہے، یا ان کا تمخسر اڑاتا ہے، یا ان کو ناقص گردانتا ہے، یا رسول اللہ ﷺ سے اتہزاء کرتا ہے یا آپ کو ناقص کہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر قسم کے گناہ کی توبہ قبول ہوجاتی ہے خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔
Ayahs 9:68–69آیت 68
(آیت) ” منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں ایک ہی ہیں۔ “ کیونکہ نفاق ان میں قدر مشترک ہے اس لئے وہ ایک دوسرے کے باہم دوست ہیں۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان اور منافقین کے درمیان موالات کا رشتہ منقطع ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے منافقین کا عمومی وصف بیان فرمایا جس سے ان کا چھوٹا اور بڑا کوئی بھی باہر نہیں۔ (یامرون بالمنکر) ” وہ بری بات کا حکم دیتے ہیں “ اور وہ ہے کفر، فسق اور معصیت (وینھون عن المعروف) ” اور معروف سے روکتے ہیں “ معروف سے مراد ایمان، اخلاق فاضلہ، اعمال صالحہ اور آداب حسنہ ہیں۔ (ویقبضون ایدیھم) ” اور بند رکھتے ہیں اپنے ہاتھوں کو “ صدقہ اور بھلائی کے راستوں سے پس اللہ تعالیٰ نے ان کو بخل کی صفت سے موصوف کیا ہے۔ (نسوا اللہ) ” وہ بھول گئے اللہ کو “ پس وہ بہت کم اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں۔ (فنسیھم) ” تو وہ بھی بھول گیا ان کو “ یعنی ان پر رحمت کرنے سے پس اللہ تعالیٰ ان کو بھلائی کی توفیق عطا نہیں کرتا اور نہ ان کو جنت میں داخل کرے گا، بلکہ وہ ان جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں چھوڑ دے گا جہاں ان کو ہمیشہ رکھا جائے گا۔ (ان المنفقین ھم الفسقون) ” بیشک منافق ہی نافرمان ہیں “ اللہ تعالیٰ نے فسق کو منافقین میں محصور کردیا، کیونکہ ان کا فسق دیگر فساق کے فسق سے زیادہ بڑا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ان کو دیا جانے والا عذاب دوسروں کو دیئے جانے والے عذاب کی نسبت زیادہ بڑا ہے۔ نیز اہل ایمان جب ان کے درمیان رہ رہے تھے تو ان منافقین کے باعث ان کو آزمائش میں ڈالا گیا اور ان سے بچنے کی نہایت سختی سے تاکید کی گئی۔
(آیت) ” وعد اللہ منفقین والمنفقت والکفارنا رجھنم خلدین فیھاھی حسبھم ولعنھم اللہ و لھم عذاب مقیم) ” وعدہ دیا ہے اللہ نے منافق مرد اور منافق عورتوں کو اور کافروں کو جہنم کی آگ کا، ہمیشہ رہیں گے اس میں، وہی بس ہے ان کو، اور لعنت کی ان پر اللہ نے اور ان کے لئے برقرار رہنے والا عذاب ہے “ اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین اور کفار کو جہنم اور لعنت میں اکٹھا کر دے گا جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، کیونکہ دنیا میں بھی وہ کفر، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار پر متفق تھے۔
Ayah 9:70آیت 70
اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے، اے منافقو ! تمہارا حال تم جیسے ان منافقین کی مانندہ جنہوں نے تم سے پہلے نفاق اور کفر کا ارتکاب کیا۔ وہ تم سے زیادہ طاقتور، تم سے زیادہ دولت مند اور تم سے زیادہ اولاد والے تھے۔ ان کے لئے جو حظوظ دنیا (دنیوی منافع اور حصے) مقدر کئے گئے تھے انہوں نے ان سے خوب فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے تقویٰ سے روگردانی کی۔ انبیائے کرام کے ساتھ نہایت حقارت اور استخفاف کے ساتھ پیش آئے اور اپنے اور انبیائے کرام کے معاملہ میں ان کا خوب تمسخر اڑایا۔ تم نے بھی دنیا کی لذتوں سے، جو تمہارے لئے مقدر کی گئی تھیں، خوب فائدہ اٹھایا جیسے پہلے لوگوں نے فائدہ اٹھایا تھا۔ تم بھی باطل اور ان مکرات میں ڈوبے ہوئے ہو جن میں تمہارے پیشرو ڈوبے ہوئے تھے۔ ان کے اعمال اکارت گئے اور ان اعمال نے ان کو دنیا و آخرت میں کوئی فائدہ نہ دیا اور وہ سراسر خسارے میں رہے۔ تم بھی سوء حال و مآل اور برے انجام میں انہی کی مانند ہو۔ (فاستمتعتم بخلآ قکم) ” تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا۔ “ یعنی اپنے دنیاوی نصیب سے۔ اللہ تعالیٰ کی مراد کو نظر انداز کرتے ہوئے تم نے لذت و شہوت کے پہلو سے دنیا کو استعمال کیا۔ اس نصیب دنیا سے تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مدد لی، تمہارا عزم اور ارادہ ان دنیاوی نعمتوں سے آگے نہ بڑھ سکا، جیسے تم سے پہلے لوگوں نے کیا تھا (وخضتم کالذی خاضوا) ” اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے۔ “ یعنی تم بھی (پہلوں کی طرح) باطل اور جھوٹ میں مستغرق ہو اور حق کو ناکام کرنے کے لئے تم باطل کے ذریعے سے جھگڑتے ہ۔ پس یہ ہیں ان کے اعمال و علوم، نصیب دنیا سے استفادہ کرنا اور باطل میں مشتغرق رہنا۔ اس لئے یہ بھی عذاب اور ہلاکت کے مستحق ہیں جیسے پہلے لوگ اس ہلاکت کے مستحق ٹھہرے جن کے وہی کرتوت تھے جو ان کے ہیں۔ رہے اہل ایمان۔۔۔ اگر انہوں نے دنیاوی نعمتوں میں اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا۔۔۔ تو صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مدد لینے کے لئے رہے ان کے علوم تو یہ درحقیقت انبیاء و رسل کے علوم ہیں جو تمام مطالب عالیہ میں یقین کی منزل تک پہنچاتے ہیں اور باطل کو سرنگوں کرنے کے لئے حق کے ذریعے سے مجادلہ کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ منافقین کو اس عذاب سے ڈراتا ہے جو ان سے پہلے جھٹلانے والی قوموں پر نازل ہوا تھا۔ جیسے قوم نوح، عاد، ثمود، قوم ابراہیم، اصحاب مدین اور الموتفکات یعنی قوم لوط کی بستیاں (اتتھم رسلھم بالبینت) ” ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔ “ یعنی ان سب کے پاس ان کے رسول واضح اور روشن حق لے کر آئے جو تمام اشیاء کے حقائق کو بیان کرتا ہے، مگر انہوں نے اس حق کو جھٹلایا، تب ان پر وہی عذاب نازل ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا۔ پس تمہارے اعمال بھی ان کے اعمال سے مشابہت رکھتے ہیں۔ (فما کان اللہ لیظلمھم) ” اور اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا۔ “ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی تو یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا ظلم نہیں تھا۔ (ولکن کانوآ انفسھم یظلمون) ” بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا “ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی جسارت کی، اس کے رسولوں کی اطاعت نہ کی اور ہر سرکش اور جبار کی بات کے پیچھے لگ گئے۔
Ayahs 9:71–72آیت 71
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ منافقین آپس میں ایک ہی ہیں، تو یہ بھی واضح فرما دیا کہ اہل ایمان بھی ایک دوسرے کے والی اور مددگار ہیں اور ان کو ایسے اوصاف سے متصف کیا ہے جو منافقین کے اوصاف کی ضد ہیں، چناچہ فرمایا : (والمومنون والمومنت) ” اہل ایمان مرد اور عورتیں “ (بعضھم اولیآء بعض) ” ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ “ یعنی محبت، موالات، منوب ہونے اور مدد کرنے میں باہم والیو مددگار ہیں۔ (یامرون بالمعروف) ” وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں “ (المعروف) ہر ایسے کام کے لئے ایک جامع نام ہے جس کی بھلائی مسلم ہو، مثلاً عقائد حسنہ، اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ وغیرہ اور نیکی کے اس حکم میں سب سے پہلے خود داخل ہوتے ہیں۔ (وینھون عن المنکر) ” اور برائی سے روکتے ہیں “ اور ہر وہ کام جو (المعروف) کے خلاف اور اس کے منافی ہو (المنکر) کے زمرے میں آتا ہے، مثلاً عقائد باطلہ، اعمال خبیثہ اور اخلاق رذیلہ وغیرہ۔ (ویطیعون اللہ ورسولہ) ” اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ “ یعنی وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا التزام کرتے ہیں۔ (اولئک سیرحمھم اللہ) ” یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں اپنی بےپایاں رحمت کے سائے میں داخل کرے گا اور انہیں اپنے احسان سے نوازے گا۔ (ان اللہ عزیز حکیم) ” بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔ “ یعنی وہ طاقوتر اور غالب ہے طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ وہ حکمت والا بھی ہے وہ ہر چیز کو اس کے لائق مقام پر رکھتا ہے۔ وہ جو کچھ تخلیق کرتا ہے اور جو کچھ حکم دیتا ہے، اس پر اس کی حمد بیان کی جاتی ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اس ثواب کا ذکر فرماتا ہے جو اس نے اہل ایمان کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ فرمایا (آیت):” وعدہ دیا ہے اللہ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں کا کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں “ ان جنتوں میں ہر نعمت اور ہر فرحت جمع ہے اور وہ تمام تکلیف دہ چیزوں سے بالکل خالی ہیں ان کے محلات، گھروں اور درختوں کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں جو خوبصورت باغات کو سیراب کرتی ہیں۔ ان جنتوں میں جو بھلائیاں ہیں انہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (خلدین فیھا) ” اس میں ہمیشہ رہیں گے “ اور وہ کسی اور جگہ منتقل ہونا نہ چاہیں گے۔ (ومسکن طیبۃ فی جنت عدن) ” اور ستھرے مکانوں کا، ہمیشہ کے باغوں میں “ ان مسکنوں کو آراستہ اور خوبصورت بنا کر اللہ تعالیٰ کے متقی بندوں کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ جنت کے نظارے، اس کی منازل اور آرام گاہیں بہت خوبصورت ہیں۔ بلند مرتبہ مساکن کے تمام آلات اور ساز و سامان ان کے اندر مہیا کئے گئے ہیں۔ تمنا کرنے والے اس سے بڑھ کر کسی چیز کی تمنا نہیں کرسکتے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایسے بالا خانے تیار کر رکھے ہیں جو انتہائی خوبصورت اور پاک صاف ہیں۔ جن کے اندر سے باہر کا نظارہ کیا جاسکے گا اور باہر سے اندر دیکھا جاسکے گا۔ پس یہ خوبصورت مساکن اس لائق ہیں کہ نفس ان میں سکون حاصل کریں، دل ان کی طرف کھینچتے چلے آئیں اور اور اح ان کی مشتاق ہوں، اس لئے کہ وہ جنت عدن میں مقیم ہوں گے اور یہ ایسی جگہ ہے جہاں سے وہ کوچ کرنا اور کسی دوسری جگہ منتقل ہونا نہیں چاہیں گے۔
(وضروان من اللہ) ” اور اللہ کی رضا مندی “ جو وہ اہل جنت پر نازل فرمائے گا۔ (اکبر) ” سب سے بڑی ہوگی “ یعنی ان تمام نعمتوں سے جو ان کو حاصل ہوں گی۔ کیونکہ ان کو حاصل ہونے والی تمام نعمتیں ان کے رب کے دیدار اور اس کی رضا کے بغیر اچھی نہ لگیں گی اور یہ وہ غایت مقصود ہے، عبادت گزار جس کا مقصد رکھتے ہیں اور یہ وہ منتہائے مطلوب ہے، اہل محبت جس کے حصول کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ پس زمین و آسمان کے رب کی رضا جنت کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ (ذلک ھوالفوز العظیم) ” یہی بڑی کامیابی ہے۔ “ کیونکہ ان کا ہر مطلوب و مقصود حاصل ہوگا۔ ان سے ہر خوف دور ہوگا۔ ان کے تمام معاملات خوبصورت اور خوشگوار ہوں گے۔۔۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنے جود و کرم سے ہمیں بھی ان کی معیت نصیب فرمائے۔
Ayahs 9:73–74آیت 73
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے : (یا یھا النبی جاھد الکفار و المنفقین) ” اے پیغمبر ! کافروں اور منفاقوں سے جہاد کریں “ بھرپور جہاد (واغلظ علیھم) ” اور ان پر سختی کریں۔ “ جہاں حالات سختی کا تقاضا کریں وہاں سختی کیجیے۔ اس جہاد میں تلوار کا جہاد اور حجت و دلیل کا جہاد سب شامل ہیں۔ پس جو جنگ کرتا ہے اس کے خلاف ہاتھ، زبان اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے جہاد کیا جائے اور جو کوئی ذمی بن کر یا معاہدہ کے ذریعے سے اسلام کی بالا دستی قبول کرتا ہے، تو اس کے خلاف دلیل وبرہان کے ذریعے سے جہاد کیا جائے۔ اس کے سامنے اسلام کے محسن اور کفر و شرک کی برائیاں واضح کی جائیں۔ پس یہ تو وہ رویہ ہے جو دنیا میں ان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ (و) اور آخرت میں، تو (ماوءھم جھنم) ” اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے “ یعنی ان کی جائے قرار جہاں سے وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ (وبئس المصیر) ” اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ “
(آیت):” قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ انہوں نے نہیں کہا اور بیشک کہا ہے انہوں نے لفظ کفر کا “ یعنی جب انہوں نے اس شخص کی مانند بات کہی تھی جس نے یہ کہا تھا (لیخرجن الاعزمنھا الاذل) المنافقون :8/63) ” عزت دار، ذلیل لوگوں کو مدینہ سے باہر نکال دیں گے “ اور وہ باتیں اور رسول ﷺ کے ساتھ استہزاء کرتے ہوئے ایک کے بعد دوسرا کرتا تھا۔ جب ان کو یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ کو ان کی باتیں معلوم ہوگئی ہیں تو وہ قسمیں کھاتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ انہوں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد قالوا کلمۃ الکفر و کفروا بعد اسلامھم) ” بیشک کہا ہے انہوں نے لفظ کفر کا اور منکر ہوگئے وہ اسلام لانے کے بعد “ گزشتہ وقت میں ان کے اسلام قبول کرنے نے اگرچہ ان کو اپنے منصوبے پر عمل کرنے سے روک دیا۔ (و) ” ان کا حال یہ ہے “ (مانقموآ) یعنی ” وہ رسول اللہ ﷺ پر صرف اس وجہ سے ناراض ہیں “ اور آپ کی عیب جوئی کرتے ہیں (آیت) ” کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے اللہ کے فضل سے ان کی محتاجی کے بعد ان کو غنی کردیا۔ “ یہ نہایت ہی عجیب بات ہے کہ وہ اس ہستی کی اہانت کریں جو ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لانے اور محتاجی کے بعد غنا کا سبب بنی کہ کیا ان پر اس ہستی کا حق نہیں کہ وہ اس کی تعظیم اور توقیر کریں اور اس پر ایمان لائیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے توبہ پیش کرتے ہوئے فرمایا : (فان یتوبوا یک خیراً لھم) ” پس اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کے لئے بہتر ہے “ کیونکہ توبہ دنیا و آخرت کی سعادت کی اساس ہے۔ (وان یتولوا) ” اور اگر وہ منہ پھیر لیں۔ “ یعنی اگر وہ توبہ اور انابت سے منہ موڑ لیں۔ (یعذبھم اللہ عذاباً الیماً فی الدنیا و الاخرۃ) ” تو عذاب دے گا اللہ ان کو درد ناک عذاب دنیا اور آخرت میں “ دنیا میں ان کے لئے عذاب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے دین کو فتح و نصرت سے نوازتا ہے اور اپنے نبی ﷺ کو عزت عطا کرتا ہے اور یہ لوگ اپنا مقصد حاصل نہیں کرپاتے تو حزن و غم کا شکار ہوجاتے ہیں اور آخرت میں ان کو جہنم کا عذاب ملے گا۔ (وما لھم فی الارض من ولی) ” اور زمین میں ان کا کوئی دوست نہیں “ جو ان کے معاملات کی سرپرستی کرے اور ان کو ان کے مقصد تک پہنچائے (ولا نصیر) ” اور نہ کوئی مددگار “ جو تکلیف وہ امور کو ان سے دور کرے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی سرپرتی سے محروم ہوگئے تو پھر شر، خسران، بدبختی اور حرماں نصیبی ہی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔
Ayahs 9:75–80آیت 75
ان منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا (لئن اتنا من فضلہ) ” اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں عطا کرے گا۔ ‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا عطا کر کے اس میں کشادگی پیدا کرے (لنصدقن ولنکونن من الصلحین) ” تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ہم نیکو کاروں میں سے ہوجائیں گے۔ “ پس ہم صلہ رحمی کریں گے، مہمان کی مہمان نوازی کریں گے، راہ حق میں لوگوں کی مدد کریں گے اور اچھے اور نیک عمل کریں گے۔ (فلما اتھم من فضلہ) ” پس جب دیا ان کو اپنے فضل سے ” تو انہوں نے اس وعدے کو پورا نہ کیا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا بلکہ (بخلوا بہ) ” بخل کیا ساتھ اس کے “ (وتولوا) اور اطاعت سے منہ موڑ گئے (وھم معرضون) ” اور وہ روگردانی کرنے والے تھے “ یعنی بھلائی کیطرف التفات نہ کرنیوالے۔ جب انہوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی۔ (فاعقبھم نفاقاً فی قلوبھم) ” پس بطور سزا کردیا نفاق ان کے دلوں میں “ یعنی ہمیشہ رہن والا نفاق۔ (آیت) ” جس دن تک کہ وہ اس سے ملیں گے، اس وجہ سے کہ انہوں نے خلاف کیا اللہ سے جو وعدہ اس سے کیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ “ پس بندہ مومن کو اس برے وصف سے بچنا چاہیے کہ اگر اس کو اس کا مقصد حاصل ہوگیا تو وہ فلاں کام کرے گا اس کے بعد وہ اللہ تعالٰ سے کئے ہوئے عہد کو پورا نہ کرے۔ اس لئے بسا اوقات اللہ تعالیٰ نفاق کے ذریعے سے اس کو سزا دیتا ہے جیسا کہ ان لوگوں کو سزا دی۔ ایک صحیح حدیث میں، جو کہ صحین میں ثابت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
” منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب عہد کرے تو بد عہدی سے کام لے اور ودہ کرے تو اسے پورا نہ کرے۔ “ (1)
پس یہ منافق جس نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے فضل سے نوازا تو وہ ضرور صدقہ کرے گا اور نیک بن جائے گا۔ پس اس نے اپنی بات میں جھوٹ بولا، عہد کی بدعہدی کی اور وعدہ کر کے پورا نہ کیا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو یہ وعید سنائی جن سے یہ کام صادر ہوا چناچہ فرمایا (آیت) ” کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے ان کا بھید اور ان کا مشورہ اور یہ کہ اللہ خوب جانتا ہے سب چھپی باتوں کو “ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے ان اعمال کی جزا دے گا جنہیں وہ جانتا ہے۔
یہ آیات کریمہ منافقین میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں جسے ” ثعلبہ “ کہا جاتا تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ میرے لئے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے نواز دے، اگر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے فضل و کرم سے نواز دیا تو وہ اللہ کے راستے میں صدقہ کرے گا، صلہ رحمی کرے گا اور راہ حق میں خرچ کرے گا۔ “ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے دعا فرمائی۔ اس شخص کے پاس بکریوں کا ریوڑ تھا، وہ ریوڑ بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ اسے اس ریوڑ کو لے کر مدینہ منورہ سے باہر جانا پڑا۔ وہ نماز پنجگانہ میں سے کسی اکا دکا نماز میں حاضر ہوتا تھا پھر اور دور چلا گیا یہاں تک کہ وہ صرف جمعہ کی نماز میں حاضر ہوتا تھا۔ جب بکریاں بہت زیادہ ہوگئیں تو وہ اور دور چلا گیا اور اس نے جماعت اور جمعہ دونوں میں حاضر ہونا بند کردیا۔
پس جب وہ رسول اللہ ﷺ کو نظر نہ آیا اور آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ کو اس کے حال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ آپ نے کسی کو اس کے گھر صدقات کی وصولی کے لئے بھیجا۔ وہ ثعلبہ کے پاس آیا۔ ثعلبہ نے کہا ” یہ تو جزیہ ہے، یہ تو جزیہ کی بہن ہے “۔۔۔۔۔۔ پس اس نے زکوۃ ادا نہ کی، زکوۃ کے تحصیل دار رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو تمام امور سے آگاہ کیا آپ نے تین بار فرمایا (یاویح ثعلبۃ) ” افسوس ثعلبہ کے لئے ہلاکت ہے۔ “ جب اس کے بارے میں اور اس جیسے دیگر لوگوں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو اس کے گھر والوں میں سے کوئی شخص اس کے پاس گیا اور اس آیت کریمہ کے نازل ہونے کے بارے میں آگاہ کیا۔ چناچہ وہ زکوۃ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مگر آپ نے وہ زکوۃ قبول نہ فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد وہ زکوۃ لے کر حضرت ابوبکر صدیق کی خدمت میں حاضر ہوا مگر حضرت ابوبکر نے بھی زکوۃ قبول نہ فرمائی۔ جناب ابوبکر کی وفات کے بعد حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا مگر انہوں نے بھی زکوۃ قبول نہ فرمائی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت عثمان کے عہد میں مرگیا۔ (1)
(1) ثعلبہ کا یہ واقعہ بہت سے مفسرین نے ذکر کیا ہے۔ لیکن اس کو ماہر نقاد محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ جیسے امام ابن حزم بیہقی، قرطبی، ہیثمی، عراقی، ابن حجر، سیوطی اور امام مناوی نے اس کو ضعیف کہا ہے۔
اس قصے کی سند میں، علی بن یزید، معان بن رفاعۃ اور قاسم بن عبدالرحمان ضعیف راوی ہیں اور ابن حزم (رح) نے اس کو متن کے اعتبار سے بھی ضعیف قرار دیا ہے۔ دیکھیے : المحلی (208/11) الاصابۃ : ترجمۃ بعلبہ، مجمع الزوائد)
آیت 80 یہ بھی منافقین کی رسوائی کا باعث بننے والی باتوں میں سے ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے۔۔۔۔۔۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کے امور میں کوئی ایسی چیز دیکھتے جس پر زبان طعن دراز کرسکتے ہوں تو وہ ظلم و تعددی سے کام لیتے ہوئے طعن وتشنیع کرنے سے باز نہ آتے۔ جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے اہل ایمان کو صدقات کی ترغیب دی، تو مسلمانوں نے نہایت تیزی سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تکمیل کی اور ان میں سے ہر امیر و غریب نے اپنے حسب حال اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کیا۔ پس منافقین دولت مند مسلمانوں پر نکتہ چینی کرتے تھے کہ وہ صرف ریاء اور شہرت کی خاطر اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور کم حیثیت مسلمانوں سے کہتے ” اللہ تعالیٰ اس صدقہ سے بےنیاز ہے۔۔۔ “ تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی (الذین یلمزون) ” جو عیب جوئی اور طعن کرتے ہیں “ (المطوعین من المومنین فی الصدقت) ” ان مومنوں پر جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں (ان کے) صدقات میں “ پس کہتے ہیں کہ یہ ریا کار ہیں۔ صدقہ کرنے سے ان کا مقصد صرف ریا کاری اور فخر کا اظہار ہے۔
(و) ” اور “ وہ ان لوگوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں (الذین لایجدون الا جھدھم ) ” جو اپنی محنت کے سوا کچھ نہیں پاتے “ پس وہ اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کے راستے میں (تھوڑا سا) مال نکالتے ہیں۔ ان کے
(32/8 الجامع لاحکام القرآن (21/018) ، فیض القدیر (208/3) فتح الباری (8, 3) ، لباب النقول للسیوطی (121) و تخریج الاحیاء للعراقی (338/3) (از محقق)
اس لئے اس سے حضرت ثعلثہ بن حاطب انصاری کو مراد لینا، درست نہیں ہے۔ اس آیت میں بھی دراصل منافقین ہی کے کردار کے ایک نمونے کا بیان ہے۔ (ص۔ ی)
بارے میں یہ منافقین کہتے ” اللہ تعالیٰ ان کے صدقات سے بےنیاز ہے ‘ (فیسخرون منھم) ” اس طرح وہ ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ “ ان کے تمسخر کے مقابلے میں ان کے ساتھ تمسخر کیا گیا (سخر اللہ منھم ولھم عذاب الیم) ” اللہ نے ان سے تمسخر کیا ہے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے “ کیونکہ انہوں نے اپنے اس کلام میں متعدد ایسے امور اکٹھے کردیئے جن سے بچنا ضروری تھا۔
(1) وہ مسلمانوں کے احوال کی تلاش میں رہتے تھے انہیں یہ خواہش رہتی تھی کہ وہ مسلمانوں کی کوئی ایسی بات پائیں جس پر یہ اعتراض اور نکتہ چینی کرسکیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں بےحیائی پھیلے ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ “
(2) واللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اسلام کے ساتھ بغض کی وجہ سے اہل ایمان پر ان کے ایمان کی وجہ سے زبان طعن دراز کرتے رہتے تھے۔
(3) طعنہ زنی اور چغل خوری کرنا حرام ہے، بلکہ دنیاوی امور میں یہ کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے اور نیکی کے کام میں طعنہ زنی تو سب سے بڑا گناہ ہے۔
(4) جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو اس کے بارے میں مناسب یہ ہے کہ نیکی کے اس کام میں اس کی اعانت اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے، مگر ان منافقین کا مقصد تو صرف اسے نیکی کے کاموں سے باز رکھنا اور اس کی عیب جوئی کرنا تھا۔
(5) اللہ کے راستے میں مال کثیر خرچ کرنے والے کے بارے میں ان کا یہ فیصلہ کہ وہ ریاکار ہے سخت غلطی، غیب دانی کا دعویٰ اور اٹکل پچو ہے اور اس سے بڑی اور کون سی برائی ہوسکتی ہے ؟
(6) قلیل مقدار میں صدقہ کرنے والے کی بابت ان کا یہ کہنا ” اللہ تعالیٰ اس صدقہ سے بےنیاز ہے۔ “ ایک ایسا کلام ہے جس کا مقصود باطل ہے، کیونکہ صدقہ خواہ قلیل ہو یا کثیر، اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والے کے صدقہ سے مستغنی ہے، بلکہ وہ زمین اور آسمان کے تمام رہنے والوں سے بےنیاز ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے امور کا حکم دیا ہے جن کے وہ خود محتاج ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ۔۔۔ اگرچہ ان سے بےنیاز ہے، لیکن لوگ تو اس کے محتاج ہیں۔۔۔۔۔۔ فرماتا ہے : (فم یعمل مثقال ذرۃ خیراً یرہ) (الزلزال :8/99) ” پس جو ذرہ بھر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔ “ چناچہ ان کے اس قول میں نیکی سے باز رہنے کی جو ترغیب ہے، و بالکل ظاہر اور بین ہے، لہٰذا ان کی جزایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ تمسخر کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔ (آیت) ” آپ ان کے لئے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں، اگر آپ ان کے لئے ستر مرتبہ بھی بخشش مانگیں گے “ ستر مرتبہ کا لفظ مبالغہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ورنہ اس کا مفہوم مخالف نہیں ہے (فلن یغفر اللہ لھم) ” تب بھی اللہ انکو ہرگز نہیں بخشے گا “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا : (آیت) ” ان کے لئے برابر ہے آپ ان کے لئے مغفرت مانگیں یا نہ مانگیں اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کیا ہے جو ان کی مغفرت سے مانع ہے چناچہ فرمایا : (آیت) ” یہ اس واسطے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا “ اور کافر جب تک اپنے کفر پر قائم ہے اسے کوئی استغفار کام دے سکتا ہے نہ کوئی نیک عمل (آیت) ” اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا “ یعنی فسق جن کا وصف بن چکا ہے جو فسق و فجور کے سوا کوئی اور چیز نہیں چن سکتے، جو اس کا بدل نہیں چاہتے۔ ان کے پاس واضح حق آتا ہے مگر یہ اسے ٹھکرا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو یہ سزا دیتا ہے کہ وہ اس کے بعد ان کو توفیق سے محروم کردیتا ہے۔
Ayahs 9:81–83آیت 83
اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا ان کے پیچھے رہ جانے پر تکبر اور فرحت کا اظہار کرنے اور اس پر ان کی لاپروائی کو بیان کرتا ہے، جو ان کے عدم ایمان اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ چناچہ فرمایا : (فرح المخلفون بمقعدھم خلف رسول اللہ) ” خوش ہوگئے پیچھے رہنے والے اپنے بیٹھ رہنے سے، رسول اللہ سے جدا ہو کر “ یہ خوش ہونا، پیچھے رہ جانے پر ایک قدر زائد ہے، کیونکہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا حرام ہے اور اس پر مستزادیہ ہے کہ وہ معصیت کے اس فعل پر خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں۔ (وکرھو ان یجاھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ) ” اور وہ گھبرائے اس بات سے کہ لڑیں اپنے مالوں اور جانوں سے، اللہ کی راہ میں “ اور اہل ایمان کا معاملہ اس کے برعکس ہے، وہ اگر پیچھے رہ جائیں۔۔۔ خواہ اس کا سبب کوئی عذر ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ تو اپنے پیچھے رہ جانے پر سخت غمگین ہوتے ہیں، وہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کریں، کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان موجزن ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کی امید رکھتے ہیں۔
(وقالوا) یعنی منافقین کہتے ہیں : (لاتنفروا فی الحر) ” نہ کوچ کرو گرمی میں “ یعنی وہ کہتے ہیں گرمی کے موسم میں جہاد کے لئے باہر نکلنا ہمارے لئے مشقت کا باعث ہے۔ پس انہوں نے مختصر سی عارضی راحت کو ہمیشہ رہنے والی کامل راحت پر ترجیح دی۔ وہ اس گرمی سے گھبرا گئے جس سے سایہ میں بیٹھ کر بچا سکتا ہے جس کی شدت صبح و شام کے اوقات میں کم ہوجاتی ہے اور اس شدید ترین گرمی کو اتخیار کرلیا جس کی شدت کو کوئی شخص برداشت کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اور وہ ہے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قل نار جھنم اشد حراً لو کانوا یفقھون) ” کہہ دیجیے ! جہنم کی آگ، کہیں زیادہ سخت گرم ہے، اگر وہ سمجھتے “ کیونکہ انہوں نے فانی چیز کو ہمیشہ باقی رہنے والی چیز پر ترجیح دی اور انہوں نے نہایت ہی خفیف اور ختم ہوجانے والی مشقت سے فرار ہو کر دائمی مشقت کو اختیار کرلیا۔ (آیت) ” پس ہنسیں وہ تھوڑا اور روئیں زیادہ “ یعنی اس ختم ہوجانے والی دنیا سے خوب فائدہ اٹھائیں۔ اس کی لذات سے فرحت حاصل کریں اور اس کے کھیل کود میں مگن ہو کر غافل ہوجائیں وہ عنقریب درد ناک عذاب میں خوب روئیں گے۔ (جزآء بما کانوا یکسبون) ” بدلہ اس کا جو کماتے تھے۔ “ انہوں نے کفر، نفاق اور اپنے رب کے احکام کی عدم اطاعت پر مبنی افعال سر انجام دیئے تھے، یہ ان کی جزا ہے۔
(فان رجعک اللہ الی طآئفۃ منھم) ” پھر اگر لے جائے اللہ آپ کو ان میں سے کسی فرقے کی طرف “ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی عذر کے بغیر پیچھے بیٹھ رہے تھے اور پھر اپنے پیچھے رہ جانے پر انہیں کوئی حزن و ملال نہ تھا (فاستاذنوک للخروج) ” پس وہ اجازت چاہئیں آپ سے نکلنے کی “ یعنی جب وہ کسی اور غزوہ میں سہولت دیکھیں تو جہاد کے لئے آپ سے اجازت طلب کریں۔ (فقل ) ” تو ان سے کہئے “ یعنی سزا کے طور پر (لن تخرجوا معی ابداً ولن تقاتلوا معی عدواً ) ” تم ہرگز نہ نکلو گے میرے ساتھ کبھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے “ کیونکہ اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بےنیاز کر دے گا۔ (آیت) ” تم نے پسند کیا تھا بیٹھ رہنا پہلی مرتبہ، پس بیٹھے رہو تم پیچھے رہنے والوں کے ساتھ “ یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو الٹ دیں گے (اور) جیسے یہ قرآن پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے تھے (اب بھی نہیں لائیں گے۔ ) کیونکہ وہ شخص جو فرصت کے اوقات میں احکام کی بجا آوری میں سستی سے پیچھے رہ جاتا ہے، تو اس کے بعد اس کو ان احکام کی تعمیل کی توفیق عطا نہیں ہوتی، چناچہ اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں۔
اس آیت کریمہ میں ان کے لئے تعزیر بھی ہے، کیونکہ جب مسلمانوں کے نزدیک یہ چیز متحقق ہوگئی کہ یہ لوگ اپنی نافرمانی کی بنا پر جہاد کی توفیق سے محروم کردیئے گئے ہیں، تو یہ چیز ان لوگوں کے لئے بھی زجر و توبیخ، عار اور عبرت کا باعث ہوگی جو ان کی طرح اس حرکت کا ارتکاب کریں گے۔
Ayah 9:84آیت 84
(ولاتصل علی انحد منھم مات) ” اور آپ نہ نماز پڑھیں ان میں سے کسی پر جو مرجائے “ منافقین میں سے اگر کوئی مرجائے (ولا تقم علی قبرہ) ” اور نہ کھڑے ہوں اس کی قبر پر “ دفن کرنے کے بعد، تاکہ آپ اس کے حق میں دعا کریں، کیونکہ ان کی قبروں پر کھڑے ہو کر انکے لئے دعا کرنا آپ ﷺ کی طرف سے ان کی شفاعت ہے اور شفاعت ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ (آیت) ” بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ مرے نافرمان “ اور جو کافر ہے اور کفر ہی کی حالت میں مرگیا تو کسی شفاعت کرنے والے کی شفاعت اس کے کام نہ آئے گی۔ اس آیت کریمہ میں دوسروں کے لئے عبرت اور زجر و توبیخ ہے۔ اسی طرح ہر اس شخص کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے جس کا کفر اور نفاق معلوم ہو۔
نیز آیت کریمہ میں اہل ایمان کی نماز جنازہ پڑھنے اور ان کی قبروں پر کھڑے ہو کر ان کے لئے دعا مانگنے کی مشروعیت کی دلیل ہے، جیسا کہ اہل ایمان کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کا طریقہ تھا، کیونکہ منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی تقید دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کے بارے میں یہ چیز متحقق اور جائز ہے۔