9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 9:85

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

اور ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ ان چیزوں سے خدا یہ چاہتا ہے کہ انکو دنیا میں عذاب کرے۔ اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) یہ کافر ہی ہوں۔

آیت 85 اللہ تعالیٰ نے ان کو جو مال اور اولاد سے نواز رکھا ہے اس سے دھوکہ نہ کھایئے، کیونکہ یہ مال اور اولاد ان کی تکریم کے لئے نہیں، یہ ان کی تحقیر اور اہانت کے لئے ہے۔ فرمایا : (آیت) ” اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ ان کو ان چیزوں کی وجہ سے دنیا میں عذاب میں رکھے “ پس وہ اس کے حصول کے پیچھے لگے رہتے ہیں اس کے زوال سے خائف رہتے ہیں اور وہ اس مال سے لطف نہیں اٹھا سکتے، بلکہ وہ مال کے حصول میں تکالیف اور مشقتیں برداشت کرتے رہتے ہیں، مال اور اولاد ان کو اللہ تعالیٰ اور آخرت سے غافل کردیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس دنیا کو چھوڑ کر چل دیتے ہیں۔ (وتزھق انفسھم وھم کفرون) ” اور نکلے ان کی جان اور وہ اس وقت تک کافر ہی رہیں “ مال اور اولاد کی محبت نے ان سے ہر چیز سلب کرلی، ان کو موت نے آلیا تو ان کے دل ابھی تک دنیا سے چمٹے ہوئے تھے اور ان کے ذہن ابھی تک اس کے لئے سرگرم تھے۔
Ayahs 9:86–87

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ہو کر لڑائی کرو۔ تو جو ان میں دولت مند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو رہنے ہی دیجئے کہ جو لوگ گھروں میں رہیں گے ہم بھی انکے ساتھ رہیں۔

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں انکے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔ تو یہ سمجھتے ہی نہیں۔

آیت 86 اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کی دائمی کاہلی اور نیکیوں سے ان کے دائمی گریز کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے نیز آگاہ فرماتا ہے کہ سورتیں اور آیات ان کے رویئے پر کوئی اثر نہیں کرتیں، چناچہ فرماتا ہے : (واذا انزلت سورة ) ” اور جب اترتی ہے کوئی سورت “ جس میں ان کو اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیا گیا ہو (استاذنک اولوا الطول منھم) ” تو رخصت مانگتے ہیں ان کے صاحب حیثیت لوگ “ یعنی دولت مند اور مال دار لوگ جنہیں کسی قسم کا عذر نہیں اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال اور بیٹوں سے نواز رکھا ہے۔ کیا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی تعریف نہیں کرتے اور واجبات کو قائم نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر واجب کردیا ہے اور ان پر اپنا معاملہ سہل کردیا ہے ؟ مگر وہ سستی اور کاہلی کا شکار رہے اور پیچھے بیٹھ رہنے کی اجازت مانگتے رہے۔ (وقالوا ذرنا نکن مع القعدین) ” اور وہ کہتے ہیں ہمیں چھوڑ دو ! ہوجائیں ہم (پیچھے) بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ۔ “ (رضوا بان یکونوا مع الخوالف) ” وہ راضی ہوگئے اس بات پر کہ رہیں وہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ “ وہ کیوں کر اس بات پر راضی ہوگئے کہ وہ ان خواتین کیساتھ پیچھے گھروں میں بیٹھ رہیں جو جہاد کے لئے نہیں نکلیں۔ کیا ان کے پاس کوئی عقل اور سمجھ ہے جو اس پر ان کی راہنمائی کرے ؟ (وطبع علی قلوبھم) یا ” ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔ “ پس وہ کسی بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتے اور ان کے دل ان افعال کے ارادے سے خالی ہیں جو خیر و فلاح پر مشتمل ہیں۔ پس وہ کسی بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتے اور ان کے دل ان افعال کے ارادے سے خالی ہیں جو خیر و فلاح پر مشتمل ہیں۔ پس وہ اپنے مصالح و مفاد کو نہیں سمجھتے۔ اگر وہ حقیقی سمجھ رکھتے ہوتے تو وہ اپنے لئے اس صورتحال پر کبھی راضی نہ ہوتے۔ جس نے ان کو جواں مردوں کے مقام سے نیچے گرا رکھا ہے۔
Ayahs 9:88–89

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن پیغمبر ﷺ اور جو لوگ انکے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے انہی لوگوں کے لئے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد پانے والے ہیں۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

خدا نے ان کے لئے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

آیت 88 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : جب یہ منافقین جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان سے بےنیاز ہے۔ اس کی مخلوق میں اس کے ایسے خاص بندے ہیں جن کو اس نے اپنے فضل سے خاص طور پر نوازا ہے وہ اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور وہ ہیں (الرسول) رسول مصطفیٰ ﷺ (آیت) ” اور وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جہاد کیا انہوں نے آپ کے ساتھ اپنے مالوں اور جانوں سے۔ “ وہ کاہل ہیں نہ سست بلکہ وہ فرحاں اور بشارت حاصل کرنے والے۔ (واولئک لھم الخیرات) ” یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے (دنیا و آخرت) کی بیشمار بھلائیاں ہیں۔ “ (واولئک ھم المفلحون) ” اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔ “ جو بلند ترین مطالب اور کامل ترین مرغوبات کے حصول میں کامیاب ہیں۔ (اعد اللہ لھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ذلک الفوز العظیم) ” تیار کئے ہیں اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ کہ ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہی ہے بڑی کامیابی “ ہلاکت ہے ایسے شخص کے لئے جو ان اور میں رغبت نہیں رکھتا جن میں اہل جنت رغبت رکھتے ہیں اور وہ اپن دین اور دنیا و آخرت میں خسارے میں پڑن والا شخص ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی نظری ہے۔ (آیت) ” کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن لوگوں کو اس سے پہلے کتاب کا علم دیا گیا ہے جب ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں۔ “ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کی نظیر ہے۔ (آیت) ” اگر یہ کفار ان باتوں کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے ان باتوں پر ایمان لانے کے لئے ایسے لوگوں کو مقرر کردیا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں۔ “
Ayahs 9:90–93

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (تمہارے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے۔ اور جنہوں نے خدا اور اس کے رسول ﷺ سے جھُوٹ بولا وہ (گھر میں) بیٹھ رہے۔ سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے انکو دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا۔

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جنکے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد ہوں یعنی) جبکہ خدا اور اسکے رسول ﷺ کے خیر اندیش (اور دل سے انکے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ انکے پاس خرچ موجود نہ تھا۔ انکی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو دولتمند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہے (یعنی اس بات سے) خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو بیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں خدا نے انکے دلوں پر مہر کردی ہے۔ پس وہ سمجھتے ہی نہیں۔

آیت 90 (وجآء المعذرون من الاعراب لیوذن لھم) ” اور آئے بہانے کرنے والے گنوار، تاکہ ان کو رخصت مل جائے “ یعنی وہ لوگ جنہوں نے سستی کی اور جہاد کے لئے نکلنے سے قاصر رہے، اس لئے آئے کہ انہیں ترک جہاد کی اجازت مل جائے۔ انہیں اپنی جفا، عدم حیا اور اپنے کمزور ایمان کی بنا پر معذرت کرنے کی بھی پروا نہیں۔۔۔ اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا، انہوں نے اعتزاز کو بالکل ہی ترک کردیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد (المعذرون) ” عذر کرنے والے “ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو کوئی حقیقی عذر رکھتے تھے اور وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تاکہ آپ ان کی معذرت قبول فرمائیں اور رسول اللہ ﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ عذر پیش کرنے والے کا عذر قبول فرما لیا کرتے تھے۔ (آیت) ” اور بیٹھ رہے وہ لوگ جنہوں نے جھوٹ بولا اللہ اور اس کے رسول سے “ یعنی جنہوں نے اپنے دعوائے ایمان میں، جو جہاد کے لئے نکلنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ان کے عمل نہ کرنے میں، اللہ اور رسول سے جھوٹ بولا۔ پھر ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” اب پہنچے گا ان کو جو کافر ہیں ان میں درد ناک عذاب “ دنیا و آخرت میں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے معذرت پیش کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ ان کی دو قسمیں ہیں : (1) جو شرعی طور پر معذور ہیں۔ (2) جو شرعی طور پر غیر معذور ہیں۔ (اللہ تعالیٰ نے معذور لوگوں کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے (لیس علی الضعفآء) ” نہیں ہے (حرج) کمزوروں پر “ جو کمزور جسم اور کمزور نظر والے ہیں جو جہاد کے لئے باہر نکلنے اور دشمن سے لڑن کی طاقت نہیں رکھتے۔ (ولا علی المرضی) ” اور نہ بیماروں پر “ یہ آیت ان تمام امراض کو شامل ہے جن کی بنا پر مریض جہاد اور قتال کے لئے باہر نہیں نکل سکتا، مثلاً نگڑا پن، اندھا پن، بخار، نمونیہ اور فالج وغیرہ (آیت) ” اور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو نہیں ہے “ یعنی ان کے پاس زاد راہ ہے نہ سواری جس کے ذریعے سے منزل مطلوب پر پہنچ سکیں۔ پس ان مذکورہ لوگوں کے لئے کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی رکھتے ہوں، صادق الایمان ہوں، ان کی نیت اور ان کا عزم یہ ہو کہ اگر وہ جہاد پر قادر ہوئے تو وہ ضرور جہاد کریں گے اور ایسے کام کرتے ہوں جن پر وہ قدرت رکھتے ہیں مثلاً لوگوں کو جہاد کی ترغیب دینا اور جہاد کے لئے ان کا حوصلہ بڑھانا (آیت) ” نیکی کرنے والوں پر کوئی راستہ نہیں “ یعنی ایسا راستہ جس سے نیکی کرنے والوں کو کوئی ضرر پہنچے، کیونکہ انہوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں بھلائی سے کام لے کر ملامت کو ساقط کردیا۔ بندہ مومن جس چیز پر قادر ہے جب اس میں اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو اس سے وہ امور ساقط ہوجاتے ہیں جن پر وہ قادر نہیں۔ اس آیت کریمہ سے اس شرعی قاعدہ پر استدلال کیا جاتا ہے کہ جو کوئی کسی دوسرے شخص پر اس کی جان اور مال وغیرہ میں احسان کرتا ہے، پھر اس احسان کے نتیجے میں کوئی نقصان نقصان یا اتلاف واقع ہوجاتا ہے، تو اس احسان کرنے والے پر کوئی ضمان نہیں۔ کیونکہ وہ محسن ہے اور محسن پر کوئی گرفت نہیں۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ غیر محسن۔۔۔ جو کام کو عمدہ طریقے سے انجام نہ دے اس کی حیثیت کوتاہی کرنے والے کی ہوگی، اس لئے اس پر ضمانت عائد کیا جائے گا۔ (واللہ غفور رحیم) ” اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ “ یہ اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور بےپایاں رحمت ہی ہے کہ اس نے قدرت نہ رکھنے والے بےبس لوگوں کو معاف کردیا ہے اور ان کی نیت کے مطابق ان کو وہ ثواب عطا کرتا ہے جو وہ قدرت رکھنے والوں کو عطا کرتا ہے۔ (آیت) ” اور نہ ان پر کوئی حرج ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں، تاکہ آپ ان کو سواری دیں “ مگر انہوں نے آپ کے پاس کوئی چیز نہ پائی (قلت) اور آپ نے ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا : (آیت) ” میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا کہ میں تم کو اس پر سوار کراؤں، تو وہ الٹے پھرے اور ان کی آنکھوں سے آسنو بہتے تھے، اس غم میں کہ وہ خرچ کرنے کو کچھ نہیں پاتے “ کیونکہ وہ عاجز، بےبس اور اپنی جان کو خرچ کرنے والے ہیں۔ وہ انتہائی حزن و غم اور مشقت میں مبتلا ہیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کردیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے کوئی حرج اور گناہ نہیں، جب ان سے گناہ ساقط ہوگیا تو معاملہ اپنی اصل کی طرف لوٹ گیا یعنی جو کوئی بھلائی کی نیت کرتا ہے اور اس کی اس نیت جازمہ کے ساتھ مقدور بھر اس کی کوشش بھی مقرون ہوتی ہے، اس کے باوجود وہ اس فعل کو بجا لانے پر قادر نہیں ہوتا، تو اس کو فاعل کامل ہی شمار کیا جائے گا۔ (انما السبیل) ” الزام تو “ یعنی گناہ اور ملامت تو (علی الذین یستاذ نونک وھم اغنیآء) ” ان لوگوں پر ہے جو دولت مند ہیں اور پھر بھی آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں۔ “ یعنی جو جہاد کے لئے نکلنے پر قادر ہیں اور ان کے پاس کوئی عذر نہیں۔ (رضوا) ” وہ خوش ہیں۔ “ یعنی اپنے دین اور اپنی ذات کے بارے میں (بان یکونوا مع الخوالف) ” یہ کہ وہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ گھروں میں رہیں۔ “ (و) ” اور “ ان کا اس حال پر راضی رہنا اس وجہ سے تھا کہ (طبع اللہ علی قلوبھم) ” اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ “ اس لئے ان کے اندر کوئی بھلائی داخل نہیں ہوسکتی اور وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کو محسوس نہیں کرتے۔ (فھم لایعلمون) ” پس وہ نہیں جانتے۔ “ کہ یہ اس گناہ کی سزا ہے جس کا انہوں نے ارتکاب کیا ہے۔
Ayahs 9:94–96

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔ تم کہنا کہ عذر مت کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے خدا نے ہم کو تمہارے (سب) حالات بتا دیئے ہیں۔ اور ابھی خدا اور اس کا رسول ﷺ تمہارے عملوں کو (اور) دیکھیں گے پھر تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا۔

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے تو تمہارے روبرو خدا کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو۔ سو ان کی طرف التفات نہ کرنا یہ ناپاک ہیں اور جو کام یہ کرتے رہے ہیں ان کے بدلے ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہوجاؤ۔ لیکن اگر تم ان سے خوش ہوجاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا۔

آیت (94 تا 96) اللہ تبارک و تعالیٰ نے دولت مند منافقین کے پیچھے رہنے کا ذخر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پیچھے رہنے کے لئے ان کے پاس کوئی عذر نہ تھا اور یہ بھی آگاہ فرمایا : (یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم) ” جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔ “ یعنی جب تم ان کے پاس اپنے غزوہ سے واپس لوٹو گے تو یہ منافقین تمہارے پاس معذرت کریں گے۔ (قل) آپ ان سے کہہ دیجئے ! (لا تعتذ روالن نومن لکم) ” تم بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے “ یعنی ہم تمہاری جھوٹٰ معذرتوں کی تصدیق نہیں کریں گے۔ (قد نبانا اللہ من اخبارکم) ” اللہ نے ہمیں تمہارے حالات سے خبردار کردیا ہے “ اور اللہ تعالیٰ اپنے قول میں سچا ہے اب معذرت پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ‘ کیونکہ وہ ایسی ایسی معذرتیں پیش کر رہے ہیں کہ الہ تعالیٰ نے جو آگاہ فرمایا ہے وہ اس کے عین برعکس ہے اور یہ قطعاً محال ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے جھوٹ ہونے کی خبر دے رہا ہے وہ وچ ہو ‘ اللہ تعالیٰ کی خبر تو صداقت کے بلند ترین مرتبے پر ہے۔ (وسیری اللہ علیکم ورسولہ) ” اللہ اور اس کا رسول تمہارے اعمال دیکھیں گے۔ “ یعنی دنیا میں ‘ کیونکہ عمل صداقت کی میزان سے اور عمل کے ذریعے سے سچ اور جھوٹ میں امتیاز ہوتا ہے۔ رہے مجرو اقوال تو ان کی صداقت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ (ثم تردون الی علم الغیب والشھادۃ) ” پھر تم غائب و حاضر کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے “۔ جس سے کوئی چیز اوجھل نہیں۔ (فینبئکم بما کنتم تعملون) ” اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا۔ “ یعنی تم برا یا ھلا جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے بارے میں آگاہ فرمائے گا اور تم پر ذرہ بھر ظلم کئے بغیر اپنے عدل اور فضل سے تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔ واضح رہے کہ برائی کا ارتکاب کرنے ولاے کے تین احوال ہیں : (1) ظاہر اور باطن میں اس کی بات اور عذر کو قبول کیا جائے اور اس بناء پر اس کو معاف کردیا جائے اور اس کی یہ حالت ہوجائے گویا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔ (2) اس کو سزا دی جائے اور اس کے گناہ پر فعلی تعزیر دی جائے۔ (3) گناہ کا ارتکاب کرنے والے سے اعراض کیا جائے اور اس نے جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے اس کے بدلے میں عقوبت فعلی سے گریز کیا جائے۔ یہ تیسرا رویہ ہے جس کی بابت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ منافقین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا جائے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (سیحلفون باللہ لکم اذا انقلبتم الیھم لتعرضوا عنھم فاعرضوا عنھم) ” وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے ‘ تاکہ تم ان سے درگزر کرو ‘ پس تم ان سے درگزر کرو۔ “ یعنی ان کو زجرو تو بیخ کرو نہ ان کو مارو پیٹو اور نہ ان کو قتل کروّ انھم رجس) ” وہ ناپاک ہیں۔ “ یعنی وہ ناپاک اور خبیث ہیں اور وہ اس قابل نہیں کہ ان کی پروا کی جائے ‘ زخرو تو بیخ اور سزا بھی ان کے لئے مفید نہیں (و) ” اور “ ان کے لئے یہی کافی ہے کہ (ماولھم جھنم جزاء بما کانو ایکسبون) ” ان کے کرتوتوں کی پاداش میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (یحلفون لکم لترضوا عنھم) ” وہ قسمیں کھائیں گے تمہارے لئے ‘ تاکہ تم ان سے راضی ہوجائے “ یعنی وہ تم سے یہ آخری مقد حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ مجرد اعراض نہیں چاہتے ‘ بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ گویا کہ انہوں نے کوئی کوتاہی کی ہی نہیں (فان ترضوا عنھم فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین) ” لیکن اگر تم ان سے خوش ہوجاؤ گے تو اللہ تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا۔ “ یعنی ‘ اے مومنو ! تمہارے لیے مناسب نہیں کہ تم ان لوگوں پر رجا مندی کا اظہار کرو جن پر اللہ تعالیٰ راضی نہیں بلکہ تم پر واجب ہے کہ تم اپنے رب کی رضا اور ناراضی میں اس کی موافقت کرو۔ غور کیجئے اللہ تعالیٰ نے کیسے فرمایا ہے : (فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین) ” بیشک اللہ فاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوتا “ اور یہ نہیں فرمایا : (فان اللہ لا یرضی عنھم) ” ان سے راضی نہیں ہوتا “ تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اگر یہ یا کوئی اور جب بھی توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور ان پر راضی ہوجاتا ہے ‘ لیکن جب تک وہ اپنے فسق پر جمے رہیں اس وقت تک اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں ہوتا ‘ کیونکہ اس کی رضا کا مانع موجود ہے ...... اور وہ ہے ان کا ان امور سے باہر نکلنا جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں مثلاً ایمان اور اطاعت اور ایسے امور میں داخل ہونا جو اللہ تعالیٰ کو سخط ناپسند ہیں مثلاً شرک ‘ نفاق اور نافرمانی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو کچھ ذکر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کسی عذر کے بغیر جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنے والے منافقین جب اہل ایمان کے سامنے عذر پیش کرتے ہیں اور وہ ومجھتے ہیں کہ پیچھے رہ جانے میں ان کے پاس عذر تھا تو وہ چاہتے ہیں کہ تم ان کے معاملے کو نظر انداز کر کے ان سے راضی رہو اور ان کا عذر قبول کرلو۔ رہا ان کا عذر قبول کرنا اور ان سے راضی ہونا تو اس میں ان سے کوئی محبت نہیں اور نہ ان کی کوئی تکریم ہے۔ رہا ان سے اعراض کرنا تو اہل ایمان ان سے اس طرح اعراض کیا کرتے تھے جس طرح ناپاک اور ردی امور سے اعراض کیا جاتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں ‘ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (قد نبانا اللہ من اخبارکم) سے اللہ تعالیٰ کے کلام کا اثبات ہوتا ہے اور اسی آیت کریمہ میں اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد (وسیری اللہ علیکم ورسولہ) میں اللہ تعالیٰ کے افعال اختیاری کا اثبات بھی ہوتا ہے جس اس کی مشیت اور قدرت سے واقع ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ان کے عمل کو اس کے واقع ہونے کے بعد دیکھے گا۔ ان آیات کریمہ میں نیکوکاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور فاسقین کے ساتھ ناراضی اور غصے کا اثبات ہوتا ہے۔
Ayahs 9:97–99

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام (شریعت) خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ان سے واقف (ہی) نہ ہوں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ انہی پر بری مصیبت (واقع) ہو اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی قربت اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں دیکھو وہ بےشبہہ ان کے لئے (موجب) قربت ہے۔ خدا ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت : (97 تا 99) اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (الاعراب) ” بدوی “ اس سے مراد حرا اور دیہات میں رہنے والے لوگ ہیں (اشد کفرا ونفاقا) ” زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں۔ “ یعنی صحرا میں رہنے والوں میں شہر کے ان لوگوں کی نسبت زیادہ کفر اور نفاق ہے جن میں نفاق کر مرض پایا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں۔ (1) بدوی لوگ شریعت ‘ اعمال اور احکام سے بہت دور ہوتے ہیں۔ پس وہ اسی قابل ہوتے ہیں (واجدر الا یعلموا حدود ما انزل اللہ علی رسولہ) ” اور اس قابل ہیں کہ جو احکام اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ‘ مثلاً اصول ایمان اور او امرو نواہی وغیرہ۔۔۔۔ ان سے واقف نہ ہوں۔ اس کے برعکس شہر میں رہنے والے لوگ اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان حدود سے واقع ہوں جو اس نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائی ہیں اور اس عمل کے سبب سے ان میں خوبصورت تسورات اور نیکی کے ارادے جنم لیتے ہیں جن کے بارے میں یہ شہری لوگ جانتے ہیں ‘ بدوی ان کا علم نہیں رکھتے۔ (2) شہریوں میں لطافت طبع پائی جاتی ہے اور ان میں داعی حق کی اطاعت کا جذبہ موجود ہوتا ہے جو بدویوں میں نہیں ہوتا۔ (3) شہری بدویوں کی نسبت اہل ایمان کے ساتھ زیادہ اٹھتے بیٹھتے اور ان کے ساتھ زیادہ اختلاط رکتے ہیں۔ بنا بریں اور بدویوں کی نسبت بھلائی کے زیادہ اہل ہوتے ہیں۔ ہرچند کے کفار اور منافقین شہر اور دیہات دونوں جگہ پائے جاتے ہیں مگر دیہات میں شہر کی نسبت کفر و نفاق زیادہ شدید ہوتا ہے۔ (4) بدوی مال و متاع کے زیادہ حریص ہوتے ہیں اور مال کے بارے میں ان میں زیادہ بخل پایا جاتا ہے۔ بدویوں ہی میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں (من یتخذ ما ینفق) ” وہ سمجھتے ہیں اس کو جسے وہ خرچ کرتے ہیں۔ “ یعنی زکوٰۃ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کو (مغرما) ” تاوان “ یعنی خسارہ اور نقصان اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اخروی ثواب نہیں چاہتے اور بہت ناگواری سے زکوٰۃ و صدقات ادا کرتے ہیں۔ (ویتربص بکم الدوائر) ” اور انتظار کرتے ہیں وہ تم پر زمانے کی گردشوں کا “ یعنی اہل ایمان کے ساتھ اپنے بغض اور عداوت کی بنا پر وہ تمہارے بارے میں گردش ایام اور مصائب زمانہ کے منتظر ہیں مگر یہ گردش ایام الٹا انہی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی (علیھم دائرۃ السوء) ” یہ بری مصیبت انہیں پر واقع ہوگی۔ “ رہے اہل ایمان تو ان کے لئے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی اور ان کا انجام اچھا ہے (واللہ علیم حکیم) ” اور اللہ علم رکھنے والا ‘ حکمت والا ہے۔ “ وہ بندوں کی نیتوں کو خوب جانتا ہے اور بندوں سے جو اعمال اخلاص کے ساتھ اور اخلاص کے بغیر صادر ہوتے ہیں وہ ان سے بھی آگاہ ہے۔ تمام اعراب قابل مذمت نہیں ہیں ‘ بلکہ ان میں سے کچھ ایچے لوگ بھی ہیں (من یومن بالللہ والیوم الاخر) ” جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں “ بنا بریں وہ کفر و نفاق سے بچے ہوئے ہیں اور ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ (ویتخذ ما ینفق قربت عنداللہ) ” اور جو وہ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے نزدیک ہونے میں شمار کرتے ہیں “ یعنی وہ اپنے صدقے پر ثواب کی امید رکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور اس کے قرب کے قصد سے صدقہ دیتے ہیں۔ (وصلوت الرسول) ” اور رسول کی دعائیں لینے میں “ اور وہ اس صدقہ کو اپنے لئے رسول ﷺ کی دعاؤں اور برکت کا وسیلہ بناتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کی دعاؤں کے فائدہ مند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (الا انھا قربۃ لھم) ” سنو وہ بیشک ان کے لیے (موجب) قربت ہے۔ “ یعنی یہ صدقات اللہ تعالیٰ کی تقرب کا ذریعہ ہیں۔ صدقات سے ان کا مال بڑھتا ہے اور اس میں برکت نازل ہوتی ہے (سید خلھم اللہ فی رحمتہ) ” اللہ ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ “ وہ ان کو اپنے جملہ نیک بندوں میں شامل کرے گا۔ (ان اللہ غفور رحیم) ” بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ “ جو کوئی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنی رحمت کو اپنے تمام بندوں پر عام کرتا ہے ‘ اس کی بےپایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ وہ اپنے مومن بندوں کو ایسی رحمت کے لئے مخصوص کرتا ہے جس کے تحت وہ ان کو نیکیوں کی توفیق عطا کرتا ہے اور انہیں اپنے احکام کی خلاف ورزی سے محفوظ رکھتا ہے اور انہیں مختلف انواع کے ثواب عطا کرتا ہے۔ (1) اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ بدوی لوگ بھی شہروں میں رہنے والے لوگوں کی مانند ہیں ان میں قابل ستائش لوگ بھی ہیں اور قابل مزمت بھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بدویوں کی محض اس بنا پر مذمت نہیں فرمائی کہ وہ صحراؤں میں رہنے والے ہیں ‘ بلکہ ان کی مذمت اس سبب کی بنا پر کی ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ادا مرکو ترک کردیا اور اوامرو منہیات کی عدم تعمیل کی ان سے زیادہ توقع ہوتی ہے۔ (2) کفر اور نفاق کم یا زیادہ اور حسب احوال سخت یا نرم ہوتا رہتا ہے۔ (3) یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ علم کو فضیلت حاصل ہے۔ علم سے محروم شخص ‘ اس شخص کی نسبت شر کے زیادہ قریب ہے جو علم رکھتا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اعراب کی مذمت کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ وہ کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر بھی کیا ہے جو اس ورثتی کا موجب ہے۔ ان سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ان حدود سے ناواقف ہوں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کی ہیں۔ (4) علم نافع ‘ جو سب سے زیادہ نفع مند علم ہے ‘ دین کے اصول و فروغ کی حدود کی معرفت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائی ہیں ‘ مثلاً حدود ایمان ‘ حدود اسلام ‘ حدود احسان ‘ تقویٰ فلاح ‘ اطاعت ‘ نیکی ‘ صلہ رحمی ‘ بھلائی ‘ کفر ‘ نفاق ‘ فسق و فجور ‘ نافرمانی ‘ زنا ‘ شراب نوشی اور سود خوری وغیرہ کی حدود۔ ان حدود کی معرفت کے بعد ہی عارف ان حدود پر عمل پیرا ہوسکتا ہے جن پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے یا حرام ہونے کی صورت میں ترک کرنے پر قادر ہوسکتا ہے۔ (5) بندہ مومن کے لئے یہی مناسب ہے کہ وہ شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ ان حقوق کو ادا کرے جو اس کے ذمے عائد کیے گئے ہیں اور ہمیشہ فائدہ حاصل کرنے میں کوشاں رہے اور نقصان سے بچتا رہے۔
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

آیت (100) (والسبقون الاولون) ” جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلے “ اس سے مراد اس امت کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان ‘ ہجرت ‘ جہاد اور اقامت دین میں سبقت کی۔ (من المھجرین) ” ہجرت کرنے والوں میں سے۔ “ یعنی وہ لوگ جن کو ان کے گھروں اور مال و متاع سے بےدخل کر کے نکال دیا گیا ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رضا کی تلاش میں رہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ یہی درحقیقت سچے لوگ ہیں۔ (والانصار) ” اور انصاف میں سے۔ “ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے مہاجرین سے پہلے ‘ ہجرت کے گھر (یعنی مدینہ منورہ) اور ایمان میں جگہ پکڑی ‘ جو کوئی ہجرت کر کے ان کے پاس جاتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو عطا کیا گیا ہے وہ اس کے متعلق دل میں کوئی خلش نہیں پاتے اور مہاجرین کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی کیوں نہ ہو۔ (والذین اتبعو ھم باحسان) ” اور جنہوں نے ان کی پیروی کی نیکی کے ساتھ “ جنہوں نے عقائد ‘ اقوال اور اعمال میں ان مہاجرین و انصار کی پیروی کی ‘ یعہی وہ لوگ ہیں جو مزمت سے بچے ہوئے ہیں ‘ جنہیں مداح کا بلند ترین درجہ اور اللہ کی طرف سے کرامت کا افضل ترین مقام حاصل ہے۔ (رضی اللہ عنھم) ” اللہ ان سے راضی ہوگیا “ اور اللہ تعالیٰ کی رضا جنت کی نعمتوں سے بھی بڑی ہے۔ (ورضواعنہ و اعدلھم جنت تجری تحتھا الانھر) ” اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں “۔ بہنے والی وہ نہریں جو جنت ‘ جنت کے خوبصورت پھلواریوں اور جنت کے عمدہ باغات کو سیراب کرتی ہیں۔ (خلدین فیھا ابدا) ” ہمیشہ اس میں رہیں گے ابد تک۔ “ یعنی وہ اس جنت سے کسی اور جگہ منتقل ہونا چاہیں گے نہ اس کو بدلنا ‘ کیونکہ وہ جب بھی کسی چیز کی تمنا کریں گے اس کو حاصل کرلیں گے اور جب بھی کسی چیز کا ارادہ کریں گے اس کو موجود پائیں گے۔ (ذلک الفوز العظیم) ” یعنی ہے بڑی کامیابی۔ “ جہاں انہیں ان کے نفس کی ہر محبوب چیز ‘ روح کی لذت ‘ دلون کی نعمت ‘ اور بدن کی شہوت حاصل ہوگی اور بچنے کے قابل ہر چیز کو ان سے دور رکھا جائے گا۔
Ayah 9:101

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور تمہارے گرد ونواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں۔ اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔ تم انہیں نہیں جانتے ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

آیت (101) (وممن حولکم من الاعراب منفقون و من اھل المدینہ) ” اور تمہارے گرد رہنے والے گنواروں میں سے بعض منافق ہیں اور بعض مدینے والوں میں سے “ یعنی مدینہ میں بھی منافقین موجود ہیں (مردواعلی النفاق) ” اڑے ہوئے ہیں وہ نفاق پر “ یعنی نفاق کے عادی ہیں اور نفاق میں ان کی سرکشی بڑھتی جا رہی ہے (لا تعلمھم) ” آپ ان کو نہیں جانتے۔ “ یعنی آپ ان کے اعیان کو نہیں جانتے کہ آپ ان کو سزا دے سکیں یا ان کے نفاق کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کرسکیں۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت پنہاں ہے۔ (نحن نعلمھم سنعذبھم مرتین) ” ہم ان کو جانتے ہیں ‘ ہم ان کو دو مرتبہ عذاب دیں گے۔ “ اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ ” تثنیہ “ کا لفظ اپنے حقیقی باپ (معنی) میں استعمال ہوا ہو ‘ تب اس سے مراد دنیا کا عذاب اور آخرت کا عذاب ہے۔ پس دنیا میں اہل ایمان کی فتح و نصرت سے ان کو جو غم و ہموم اور سخت ناگواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ دنیا کا عذاب ہے اور آخرت میں ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے اور یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم ان کو نہایت سخت عذاب دیں گے ‘ ان کو دگنا عذاب دیں گے اور بار بار عذاب دیں گے۔
Ayahs 9:102–103

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار کرتے ہیں۔ انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

ان کے مال میں سے زکوٰۃ قبول کرلو کہ اس سے تم ان کو (ظاہر میں بھی) پاک اور (باطن میں بھی) پاکیزہ کرتے ہو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے۔ اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔

آیت (102-103) (واخرون) ” اور دوسرے لوگ ہیں “ مدینہ اور اس کے اردگرد رہنے والے دیگر لوگ ‘ بلکہ تمام بلا داسلامیہ کے لوگ (اعترفو بذنوبھم) ” انہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا۔ “ ان پر نادم ہوئے ‘ پھر وہ گناہوں سے توبہ کرنے اور ان کی گندگی سے پاک و صاف ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ (خلطوا عملا صالحا واخرسیئا) ” ملایا انہوں نے ایک نیک کام اور دوسرا برا کام۔ “ عمل اس وقت تک صالح نہیں ہوسکتا جب تک کہ بندے کے پاس توحید کی اساس اور ایمان موجود نہ ہو جو اسے کفر اور شرک کے دائرے سے باہر نکالتا ہے اور جو ہر عمل صالح کے لئے شرط ہے۔ پس ان لوگوں نے بعض محرمات کے ارتکاب کی جسارت اور بعض واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہوئے نیک اعمال کو بداعمال کے ساتھ غلط ملط کرلیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ تعالیی پر امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے گناہوں کو بخش دے گا۔ تو پس یہی وہ لوگ ہیں (عسی اللہ ان یتوب علیھم) ” ممکن ہے اللہ ان کی توبہ قبول کرلے “۔ اللہ تعالیٰ دو طرف سے اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ (1) اپنے بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ (2) پھر بندے کے توبہ کرنے کے بعد اس توبہ کو قبول کرتا ہے۔ (ان اللہ غفور رحیم) ” بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ “ یعنی مغفرت اور رحمت اس کا وصف ہے ‘ کوئی مخلوق اس کی مغفرت اور رحمت سے باہر نہیں ‘ بلکہ اس کی مغفرت اور رحمت کے بغیر تمام عالم علوی اور عالم سفلی باقی نہیں رہ سکتے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کی پاداش میں پکڑ لے تو روئے زمین پر کوئی جاندار نہیں بچے گا۔ (ان اللہ یمسک السموت والارض ان تزولاولین زالتا ان امسکھما من اھد من بعدہ انہ کانا حلیما غفورا) (فاطر : 53/14) ” اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں ‘ اگر وہ ٹل جائیں ‘ تو اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو اس کو تھام سکے بیشک وہ بہت حلم والا ‘ بخشنے والا ہے۔ “ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مغفرت ہی ہے کہ اپنی جانوں پر زیادتی کرنے والے ‘ جن کی عمریں برے اعمال میں صرف ہوتی ہیں ‘ جب وہ اپنی موت سے تھوڑا سا پہلے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے اس کے حضور توبہ کرلیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر کے ان کی برائیوں سے درگزر کردیتا ہے۔ پس یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جس بندے کی نیکیاں اور گناہ ملے جلے ہوں ‘ وہ اپنے گناہوں کا معترف اور ان پر نادم ہو اور اس نے خالص توبہ کی ہو ‘ وہ خوف ورجاء کے مابین ہوتا ہے وہ سلامتی کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ اور وہ بندہ جس کی نیکیاں اور گناہ خلط ملط ہوں مگر وہ اپنے گناہوں کا معترف ہو نہ ان پر نادم ہو بلکہ وہ ان گناہوں کے ارتکاب پر مصر ہو ‘ تو اس کے بارے میں سخت خوف ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ اور آپ کے قائم مقائم کو ان امور کا حکم دیتا ہے جو اہل ایمان کی تطہیر اور ان کے ایمان کی تکمیل کرتے ہیں ‘ چناچہ فرماتا ہے : (خذ من اموالھم صدقۃ) ” لیں ان کے مالوں سے صدقہ “ اس سے مراد فرض زکوٰۃ ہے (تطھر ھم) ” آپ ان کو پاک کریں “ یعنی آُ ان کو گناہوں اور اخلاق رذیلہ سے پاک کریں (وتزکیھم) ” اور ان کا تزکیہ کریں “ یعنی آپ ان کی نشونما کریں ‘ ان کے اخلاق حسنہ ‘ اعمال صالح اور ان کی دنیاوی اور دینی ثواب میں اضافہ کریں اور ان کے مالوں کو بڑھائیں۔ (وصل علیھم) ” اور ان کے حق میں دعا کیجئے “ تمام مومنین کے لئے عام طور پر اور خاص طور پر اس وقت جب وہ اپنے مال کی زکوٰۃ آپ کی کدمت میں پیش کریں۔ (ان صلوتک سکن لھم) ” آپ کی دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے۔ “ یعنی آُ کی دعا ان کے لئے اطمینان قلب اور خوشی کا باعث ہے (واللہ سمیع) ” اور اللہ سننے والا “ یعنی اللہ آپ کی دعا کو قبال کرنے کے لئے سنتا ہے (علیم) ” جاننے والا ہے۔ “ وہ اپنے بندوں کے تمام احوال اور ان کی نیتوں کو خوب جانتا ہے ‘ وہ ہر شخص کو اس کے عمل اور اس کی نیت کے مطابق جزا دے گا۔ نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل فرمایا کرتے تھے۔ آپ ان کو صدقات کا حکم دیتے تھے اور صدقات کی وصولی کے لئے اپنے عمال بھیجا کرتے تھے ‘ جب کوئی صدقہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ اسے قبول فرما لیتے اور اس کے لئے برکت کی دعا فرماتے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ تمام اموال میں زکوٰۃ واجب ہے ‘ جب یہ اموال تجارت کی غرض سے ہوں تو اس کا وجوب صاف ظاہر ہے ‘ کیونکہ مال تجارت نمو کا حامل ہوتا ہے اور اس کے ذریعے سے مزید مال کمایا جاتا ہے ‘ لہٰذا عدل کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو زکوٰۃ فرض کی ہے اسے ادا کر کے فقرا سے ہمدردی کی جائے۔ مال تجارت کے علاوہ دیگر مال ‘ اگر نمو اور اضافے کا حامل ہو ‘ جیسے غلہ جات ‘ پھل ‘ مویشی ‘ مویشیوں کا دودھ اور ان کی نسل وغیرہ تو اس میں زکوٰۃ واجب ہے۔ اگر مال نمو کے قابل نہ ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ‘ کیونکہ جب یہ مال خالص خوراک اور گزارے کے لئے ہے تو یہ ایسا مال نہیں ہے جسے انسان عادۃ متمول ہونے کے لئے رکھتا ہے جس سے مالی مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں ‘ بلکہ اس سے مالی فوائد کی بجائے صرف گزارہ کیا جاتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ انسان اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کئے بغیر ظاہری اور باطنی طور پر پاک نہیں ہوسکتا۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے سوا کوئی چیز اس کا کفارہ نہیں بن سکتی ‘ کیونکہ زکوٰۃ تطہیر اور پاکیزگی ہے جو زکوٰۃ کی ادائیگی پر موقوف ہے۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ امام یا اس کے نائب کا زکوٰۃ ادا کرنے والے کے لئے برکت کی دعا کرنا مستحب ہے اور مناسب یہ ہے کہ امام باآواز بلند دعا کرے ‘ تاکہ اس سے زکوٰۃ دا کرنے والے کو سکول قلب حاصل ہو۔ اس آیت کریمہ سے یہ معنی بھی نکلتا ہے کہ مومن کے ساتھ نرم گفتگو اور اس کے لئے دعا وغیرہ اور ایسی باتوں کے ذریعے سے اس کو خوش رکھا جائے جن میں اس کے لئے طمانیت اور سکون قلب ہو۔
Ayah 9:104

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ خدا ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا اور صدقات (وخیرات) لیتا ہے ؟ اور بیشک خدا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

آیت (104) کیا وہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت اور اس کے فضل و کرم کے فیضان عام کو نہیں جانتے ؟ (یقبل التوبۃ عن عبادہ) ” اللہ ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے۔ “ توبہ کرنے والے بندوں کی ‘ خواہ یہ توبہ کسی بھی گناہ سے کیوں نہ ہو بلکہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر بہت زیادہ خوش ہوتا ہے۔ (ویاخدوالصدقت) ” اور صدقات لیتا ہے۔ “ یعنی وہ اپنے بندوں کے صدقات قبول کرتا ہے اور ان کو دائیں ہاتھ سے لیتا اور ان کے صدقات کو اس طرح بڑھاتا رہتا ہے جس طرح کوئی کوئی شخص اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے حتیٰ کہ صدقہ میں دیا گیا کھجور کا ایک دانہ بڑے پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے اور اس صدقہ کا کیا حال ہوگا جو کھجور کے دانے سے بہت بڑا اور تعداد میں بہت زیادہ ہو۔ (و ان اللہ ھو التوب) ” اور بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ “ یعنی وہ توبہ کرنے والوں کی بہت کثرت سے توبہ قبول کرتا ہے۔ جو کوئی بھی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرلیتا ہے خواہ وہ بار بار گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کرتا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرنے سے اس وقت تک تنگ نہیں آتا جب تک کہ بندے توبہ کرنے سے تنگ نہ آجائیں اور اس کے دروازے سے بھاگ کر اس کے دشمن کو دوست نہ بنالیں۔ (الرحیم) ” بہت رحم کرنے والا ہے۔ “ جس کی بےپایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے ‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے لئے لکھ دیا ہے جو زکوٰۃ دیتے ہیں ‘ اللہ کی آیت پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے رسول کی اتباع کرتے ہیں۔
Ayah 9:105

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور (ان سے) کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مومن (سب) تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔ اور تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو (سب) تم کو بتائے گا۔

آیت (105) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ سے فرماتا ہے : (وقل) ” اور کہہ دیجئے ! “ یعنی ان منافقین سے کہہ دیجئے ! (اعملوا) ” عمل کیے جاؤ۔ “ یعنی تم جو اعمال بجا لانا چاہتے ہو بجا لاؤ ‘ اپنے باطل پر جمے رہو اور یہ نہ سمجھو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ سے چھپا رہے گا۔ (فسیری اللہ عملکم ورسولہ والمومنون) ” پھر دیکھ لے گا اللہ تمہارے کام کو اور اس کا رسول اور مومن “ یعنی تمہارا عمل ضرور ظاہر ہو کر رہے گا۔ (وستردون الی علم الغیب والشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون) ” اور جلد تم لوٹائے جاؤ گے اس کے پاس جو تمام چھپی اور کھلی چیزوں کو جانتا ہے ‘ پس وہ تم کو ان عملوں کی خبر دے گا جو تم کرتے تھے۔ “ وہ اچھے ہوں گے یا برے۔ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لئے سخت وعید اور تہدید ہے جو اپنے باطل ‘ سرکشی ‘ گمراہی اور نافرمانی پر مصر ہے۔ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ تم جب بھی کوئی اچھا یا برا عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے ‘ وہ اس عمل کے بارے میں اپنے رسول اور اپنے مومن بندوں کو مطلع کر دے گا ‘ خواہ وہ چھپے ہوئے ہی کیوں نہ ہوں۔
Ayah 9:106

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا کام خدا کے حکم پر موقوف ہے۔ چاہے انکو عذاب دے اور چاہے معاف کر دے۔ اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

آیت (106) (واخرون) ” اور کچھ دوسرے لوگ “ یعنی جہاد سے پیچھے رہ جانے والے کچھ دوسرے لوگ (مرجون لامر اللہ) ” جن کا کام اللہ کے حکم پر موقوف ہے۔ “ یعنی جن کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر موخر ہے (امایعذبھم واما یتوب علیھم) ” چاہے ان کو عذاب دے ‘ چاہے ان کی توبہ قبول کرلے۔ “ اس آیت کریمہ میں جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے لئے سخت تخویف ہے اور ان کو توبہ کرنے اور اپنے اس عمل پر نادم ہونے کی ترغٰب دی گئی ہے۔ (واللہ علیم حکیم) ” اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ “ یعنی وہ تمام اشیاء کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے ‘ اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دے اور ان کی توبہ کی توفیق نہ دے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
Ayahs 9:107–110

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور (ان میں ایسے بھی ہیں) جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنائی ہے کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں۔ اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لئے گھات کی جگہ بنائیں اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصود تو صرف بھلائی تھی مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھُوٹے ہیں۔

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

تم اس (مسجد) میں کبھی (جا کر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے۔

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری ؟ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ انکے دل پاش پاش ہوجائیں اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

آیت 107-110 اہل قبا میں سے کچھ منافقین نے مسجد قبا کے پہلو میں ایک مسجد بنائی اس مسجد کی تعمیر سے ان کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور ان کے درمیان اختلاف اور افتراق پیدا کرنا تھا ‘ نیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف تخریب کاری کرنے والوں کے لئے بوقت ضرورت محفوظ پناہ گاہ تیار کرنا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی رسوائی کو بیان کرتے ہوئے ان کا بھید ظاہر کردیا ‘ چناچہ فرمایا : (والذین اتخذوا مسجدالضرار) ” اور وہ لوگ جنہوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لئے “ یعنی اہل ایمان اور ان کی اس مسجد کو نقصان پہنچانے کی خاطر جس میں اہل ایمان جمع ہو کر نماز پڑھتے تھے (وکفرا) ” اور کفر کے لئے “ اس مسجد کی تعمیر میں ان کا مقصد کفر تھا جبکہ ان کے علاوہ دیگر لوگوں کا مقصد ایمان تھا۔ (وتفریقا بین المومنین) ” اور مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لئے “ تاکہ اہل ایمان مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر افتراق کا شکار ہوجائیں اور آپس میں اختلاف کرنے لیں (وارصادا) ” اور گھات لگانے کے لئے “ یعنی تیار کرنے کے لئے (لمن حارب اللہ ورسولہ من قبل) ” اس شخص کو جو لڑ رہا ہے اللہ اور اس کے رسول سے “ پہلے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرنے والوں کی اعانت کے لئے ‘ جن کی جنگ اور تخریب کاری پہلے ہی سے جاری اور جن کی عداوت بہت شدید تھی ‘ مثلاً ابو عامر راہب کی عداوت اور اس کی سازشیں۔ ابو عامر اہل مدینہ میں سے تھا جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس نے آپ کا انکار کردیا حالانکہ وہ زمانہ جاہلیت میں ایک عبادت گزار شخص تھا۔ وہ مشرکین کے پاس چلا گیا ‘ تاکہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ میں مشرکین سے مدد حاصل کرے مگر اسے اپنا مقصد حاصل نہ ہوا ‘ چناچہ وہ اس خیال سے قیصر روم کے پاس چلا گیا کہ وہ اس کی مدد کرے گا۔۔۔۔ مگر وہ لعین راستے ہی میں مرگیا۔ اس نے اور منافقین نے ایک دوسرے کی مدد کا وعدہ کر رکھا تھا ‘ منافقین نے اس کی سازشوں کے لئے پناہ گاہ کے طور پر مسجد ضرار تعمیر کروائی تھی ‘ چناچہ اس بارے میں وحی نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس مسجد کو منہدم کرنے اور اس کو جلانے کے لئے کسی کو بھیجا۔ چناچہ اس مسجد کو منہدم کر کے جلا دیا گیا اور اس کے بعد مسجد ضرار کی جگہ کوڑا ڈالنے کی جگہ بن گئی۔ اس مسجد کی تعمیر میں پنہاں ان کے برے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ولیحلفن ان اردنا) ” اور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے نہیں ارادہ کیا “ یعنی اس مسجد کی تعمیر سے (الا الحسنی) ” مگر بھلائی ہی کا “ یعنی کمزور ‘ معذور اور نابینا اہل ایمان کے ساتھ بھلائی کرنا مقصود ہے۔ (واللہ یشھد انھم لکذبون) ” اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں “۔ پس ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی گواہی ان کے حلف سے زیادہ معتبر ہے۔ (لاتقم فیہ ابدا) ” آپ اس میں کبھی کھڑے بھی نہ ہونا۔ “ یعنی اس موجد میں ‘ جو مسلمانوں کو ضرر پہنچانے کے لئے تعمیر کی گئی ہے ‘ کبھی نماز نہ پڑھیے۔ اللہ آپ کو اس سے بےنیاز کرتا ہے اور آپ اس مسجد کے ضرورت مند بھی نہیں۔ (لمسجد اسس علی التقوی من اول یوم) ” البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پر رکھی گئی “ قبا میں اسی مسجد سے اسلام ظاہر ہوا ‘ اس سے مراد ” مسجد قبا “ ہے۔ جس کی اساس دین میں اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص ‘ اس کے ذخر کی اقمات اور اس کے شعائر پر رکھی گئی ہے۔ یہ قدیم اور معروف مسجد تھی۔ یہ فضیلت والی مسجد (احق ان تقوم فیہ) ” زیادہ قابل ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوا کریں “ یعنی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں عبادت اور اللہ عالیٰ کا ذکر کریں ‘ کیونکہ یہ فضیلت والی مسجد ہے ‘ اس میں نماز پڑھنے والے فضیلت کے مالک ہیں ‘ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح کرتے ہوئے فرمایا : (فیہ رجال یحبون ان یتھروا) ” اس میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک رہیں “ یعنی گناہوں سے اور میل کچیل ‘ نجاستوں اور ناپاکی سے پاک صاف رہنا پسند کرتے ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ جو کوئی کسی چیز کو پسند کرتا ہے وہ اس کے حصول کی سعی اور جہدوجہد کرتا ہے ‘ اس لئے یہ لا بدی ہے کہ اہل قبا گناہ ‘ میل کچیل اور حدیث سے پاک رہنے کے بہت حریض تھے۔ اس لئے وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی ‘ جو نماز قائم کرنے والے ‘ رسول اللہ ﷺ کی معیت میں جہاد کی حفاظت کرنے والے ‘ اقامت دین کی کوشش کرنے والے اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت سے بچنے والے تھے۔ جب اہل قبا کی مدح میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی طہارت کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے عرض کی کہ وہ استنجا کرتے وقت پتھر کے بعد پانی استعمال کرتے ہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل پر ان کی تعریف فرمائی۔ (واللہ یحب المطھرین) ” اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے “ اللہ تعالیٰ معنوی طہارت یعنی شرک اور اخلاق رذیلہ سے تنزہ اور حسی طہارت یعنی نجاستوں اور حدیث سے پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مسجد میں نماز پڑھنے والوں کے مقاصد اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ ان کی موافقت کے مطابق اس مسجد کی دیگر مساجد پر فضیلت بیان کی ‘ چناچہ فرمایا : (افمن اسس بنیانہ علی تقویٰ من اللہ) ” بھلا جس شخص نے بنیاد رکھی اللہ کے تقویٰ پر “ یعنی جو صالح نیت اور اخلاص پر بنیاد رکھتا ہے (ورضوان) ” اور اس کی رضا مندی پر “ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرتے ہوئے اپنے عمل میں اخلاص اور اتباع کو جمع کرتا ہے (خیر ام من اسس بنیانہ علی شفا جرف ھار) ” زیادہ بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد رکھی ایک کھائی کے کنارے پر جو گرنے کو ہے “ یعنی کھوکھلے اور بوسیدہ کنارے پر ‘ جو منہدم ہونے کے قریب ہو۔ (فانھار بہ فی نار جھنم واللہ لایھدی القوم الظالمین) ” پھر وہ اس کو لے کر گرپڑا جہنم کی آگ میں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا “ کیونکہ اس (مسجد ضرار) کے گرانے میں (اہل حق) کے دین اور دنیا کے مصالح ہیں۔ (لا یزال بنیانھم الذی بنواریبۃ فی قلوبھم) ” ہمیشہ رہے گا اس عمارت سے جو انہوں نے بنائی ‘ ان کے دلوں میں شبہ “ یعنی شک اور ریب ‘ جو ان کے دل میں جڑ پکڑ گیا (الا ان تقطع قلوبھم) ” مگر یہ کہ ٹکڑے ہوجائیں ان کے دل کے “ سوائے اس کے کہ انتہائی ندامت کی بنا پر ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں ‘ وہ اپنے رب کی طرف توبہ کے ساتھ رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈریں ‘ تب اس بنا پر اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا۔ وربہ یہ مسجد جو انہوں نے بنائی ہے ان کے شک و ریب اور نفاق میں اضافہ کرتی چلی جائے گی۔ (واللہ علیم) اور اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کے ظاہر و باطن اور ان کے خفی اور جلی تمام پہلوؤں کو جانتا ہے ‘ نیز وہ ان باتوں کو بھی خوب جانتا ہے جو بندے چھپاتے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں۔ (حکیم) وہ صرف وہی کام کرتا ہے یا تخلیق کرتا ہے یا وہ حکم دیتا ہے یا منع کرتا ہے ‘ جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے فللہ الحمد۔ ان آیات کریمہ سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں : (1) کوئی ایسیمسجد تعمیر کرنا جس سے کسی دوسری مسجد کو نقصان پہنچانا مقصود ہو جو اس کے قرب موجود ہے ‘ حرام ہے ‘ نیز یہ کہ ایسی مسجد ضرار کو ‘ جس کی تعمیر کرنے والوں کا مقصد ظاہر ہو ‘ منہدم کرنا واجب ہو۔ (2) کام خواہ کتنا ہی فضیلت والا کیوں نہ ہو ‘ فاسد نیت اس کی نوعیت کو بدل ڈالتی ہے ‘ تب وہی کام ممنوع ہوجاتا ہے ‘ جیسے مسجد ضرار کی تعمیر کرنے والوں کی بری نیت نے ان کے اس نیک کام کر برائی میں بدل ڈالا۔ (3) ہر وہ حالت جس کے ذریعے سے اہل ایمان میں تفرقہ پیدا کیا جائے ‘ گناہ شمار ہوتی ہے اس کو ترک کرنا اور اس کا ازالہ ضروری ہے۔ اسی طرح ہر وہ حالت جس سے اہل ایمان میں اتفاق اور الفت پیدا ہوتی ہے ‘ اس کی پیروی کرنا ‘ اس کا حکم اور اس کی ترغیب دینا ضروری ہے ‘ کیونکہ اس کے مسجد ضرار تعمیر کرنے کی یہ علت بیان کی ہے کہ یہ ان کا فاسد مقصد تھا جو اس مسجد کے ممنوع ہونے کا موجب بنا ‘ جیسے یہ مسجد کفر اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کی موجب ہے۔ (4) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے معصیت کے مقامات میں نماز پڑھنے اور ان کے قریب جانے سے روکا ہے۔ (5) گناہ زمین کے ٹکڑوں کو متاثر کتے ہیں جیسے ان منافقین کے گناہ مسجد ضرار پر اثر انداز ہوئے اور اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔ اسی طرح نیکی زمین کے ٹکڑوں پر اثر انداز ہوتی ہے جیسے مسجد قبا پر اثر انداز ہوئی۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کے بارے میں فرمایا : (لمسجد اسس علی التقوی من اول یوم احق ان تقوم فیہ) بنا بریں مسجد قبا کو یہ فضیلت حاصل ہے جو کسی دوسری مسجد جو حاصل نہیں ہے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ ہر ہفتے مسجد قبا کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے اور اس میں نماز پڑحنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ (6) آیت کریمہ میں مندرجہ بالا تعلیل سے چار اہم شرعی قاعدے بھی مستفاد ہوتے ہیں۔ (الف) ہر وہ کام جس سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچتا ہو یا اس میں اللہ کی نافرمانی ہو۔۔۔۔ اور نافرمانی کفر کی ایک شاخ ہے۔۔۔۔ یا جس سے اہل ایمان میں تفرقہ پیدا ہوتا ہو یا اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عداوت رکھنے والے کی اعانت ہوتی ہو ‘ تو یہ کام ممنوع اور حرام ہے۔ اس کے برعکس اور متضاد تمام کام مستجب ہیں۔ (ب) چونکہ مسجد قبا وہ مسجد ہے جس کی اساس تقویٰ پر کھی گئی ہے (اس کی یہ فضیلت ہے) جبکہ مسجد نبوی جس کی بنیاد خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھی ‘ آپ نے اس میں کام بھی کیا ‘ اللہ تعالیٰ نے بھی اس مسجد کو آپ کے لئے چن لیا ‘ تو اس مسجد کی بنیاد بھی تقویٰ پر ہے اور یہ فضیلت میں زیادہ اولیٰ ہے۔ (ج) وہ عمل جو اخلاص اور اتباع رسول ﷺ پر مبنی ہے۔ یہی وہ عمل ہے جو کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے جو اپنے عامل کو نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے گا۔ (د) وہ عمل جو برے مقصد اور بدعت و ضلالت پر مبنی ہے یہی وہ عمل ہے جس کی بنیاد کھوکھلے اور بوسیدہ کنارے پر رکھی گئی ہے جو اپنے عامل کو جہنم میں لے گرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کی راہ نمائی نہیں کرتا۔
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں (اور اس کے) عوض میں ان کے لئے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے جاتے بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے ؟ تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

آیت : (111) اللہ تبارک و تعالیٰ سچی خبر دیتا ہے ‘ ایک عظیم بیع اور ایک بہت بڑے معاوضے کا سچا وعدہ کرتا ہے اور وہ بیع یہ ہے کہ (اشتری) ” اس نے خرید لیا۔ “ یعنی اللہ نے بنفس نفیس خرید لیا (من المومنین انفسھم واموالھم) ” مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو “ یعنی ان کی جان اور ان کے مال کی قیمت لگا دی گئی ہے اور یہ فروخت شدہ مال تجارت ہے۔ (بان لھم الجنۃ) ” اس کے بدلے میں ان کے لئے (وہ) جنت ہے “ جس میں ہر وہ چیز ہوگی جس کی نفس خواہش کریں گے اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی ‘ یعنی انواع و اقسام کی لذتیں، فرحتیں، مسرتیں، خوبصورت حوریں اور دلکش مکانات ہوں گے۔ اس عقد و بیع کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ‘ اس کے دشمنوں کے خلاف جہاد میں ‘ اس کے کلمہ کو سر بلند کرنے اور اس کے دین کو غالب کرنے کے لئے اپنی جان اور مال خرچ کرتے ہیں۔ (یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون و یقتلون) ” وہ لڑتے ہیں اللہ کے راستے میں ‘ پس مارتے ہیں اور مارے جاتے ہیں “ یہ عقد و بیع بہت سی تاکیدات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئی ہے (وعدا علیھ حقا فی التوراۃ والانجیل والقرآن) ” وعدہ ہوچکا ہے اس کے ذمے سچا ‘ تورات میں ‘ انجیل میں اور قرآن میں۔ “ جو ان تمام کتابوں میں سب سے افضل و اعلیٰ کتاب ہے اور یہ کتابیں سب سے کامل کتابیں ہیں جو اس دنیا میں بھیجی گئیں اور ان کتابوں کو لانے والے سب سے کامل اور اولوالعزم رسول ہیں ‘ یہ تمام کتابیں اس سچے وعدے پر متفق ہیں۔ (ومن اوفی بعدہ من اللہ فستبشروا) ” اور کون ہے اللہ سے زیادہ قول کا پورا ‘ پس خوشی کرو “۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے پر قائم رہنے والے مومنو ! (ببیعکم الذی بایعتم بہ) ” اس سودے پر جو تم نے اس سے کیا ہے “ تاکہ تم راضی اور خوش ہوجاؤ، ایک دوسرے کو خوشخبری دو اور ایک دوسرے کو جہاد کی ترغیب دو (وذلک ھو الفوذ العظیم) ” اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ “ جس سے بڑی اور جلیل القدر اور کوئی کامیابی نہیں ‘ کیونکہ یہ کامیابی ابدی سعادت ‘ دائمی نعمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا ‘ جو کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہے ‘ کو متضمن ہے۔ اگر آپ اس معاہدہ بیع کی قدر و منزلت کو جاننا چاہیں تو خریدار کیطرف دیکھیں کہ وہ کون ہے ؟ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات گرامی ہے اور اس عوض کی طرف نظر کریں جو سب سے بڑا معاوضہ ہے اور اس معاوضے میں سب سے جلیل القدر چیز جنت ہے اور اس قیمت پر غور کریں جو اس معاوضے کے بدلے میں خرچ کی گئی ہے اور وہ ہے جان اور مال جو انسان کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب چیز ہے اور اس ہستی کی طرف دیکھیں جس کے ہاتھ پر یہ معاہدہ بیع منعقد ہوا ہے ‘ وہ تمام رسولوں میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہستی ہے۔ یہ معاہدہ کون سی کتابوں میں رقم کیا گیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی عظیم کتابوں میں یہ معاہدہ تحریر کیا گیا ہے جو مخلوق میں سب سے افضل ہستیوں پر نازل کی گئی ہیں۔