Ayahs 26:213–216آیت 213 سے 216
اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اصلا اور آپ کی امت کو تبعاً غیر اللہ یعنی تمام مخلوق کو پکارنے سے روکتا ہے۔ اس لئے کہ غیر اللہ کو پکار نا عذاب دائمی اور عقوبت سرمدی کا موجب ہے کیونکہ یہ شرک ہے جیسا کہ فرمایا : (من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وماوءۃ النار) (المائدۃ : 5/72) “ جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر جنت کو حرام کردے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ “ کسی کام سے روکنا دراصل اس کے مخالف کام کے کرے کا حکم ہوتا ہے۔ اس لئے شرک سے روکنا درحقیقت عبادت میں اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص، اسی کے لئے محبت، اسی سے خوف، اسی سے امید، صرف اسی کے سامنے اظہار تذلل اور ہر وقت صرف اسی کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے۔
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان امور کا حکم دیا جن سے آپ کے نفس کو کمال حاصل ہوتا ہے تو پھر آپ کو دوسروں کی تکمیل کے بارے میں حکم فرمایا، چناچہ فرمایا : (وانذر عشیرتک الاقربین) ” اور اپنے قریبی عزیزوں کو ڈرائیں۔ “ یعنی جو آپ کے سب سے زیادہ قریبی اور دینی اور دنیاوی احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ یہ چیز تمام لوگوں کو ڈرانے کے حکم کے منافی ہے۔ جیسے، جب انسان کو عمومی احسان کا حکم دیا جاتا ہے اور پھر اسے کہا جاتا ہے : (احسن الی قرابتک) ” اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ “ تب یہ خاص حکم تاکید اور حق کے زیادہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس حکم الٰہی کی تعمیل کی۔ چناچہ آپ نے قریش کے تمام گھرانوں کو عمومی اور خصوصی دعوت دی ان کو وعظ و نصیحت کی۔ آپ نے اپنے رشتہ داروں کی خیر خواہی اور ہدایت کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ جسے ہدایت عطا ہونی تھی اس نے ہدایت حاصل کرلی، جس نے روگردانی کرنی تھی اس نے روگردانی کی۔
(واخفص جناحک لمن اتبعک من المومنین) ” اہل ایمان جو آپ کے متعبین ہیں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کیجئے ‘ ان کے ساتھ نہایت نرمی سے بات کیجئے ان کے ساتھ محبت و مودت، حسن اخلاق اور احسان کامل سے پیش آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد کی تعمیل کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں فرمایا : (فبما رحمتہ من اللہ لنت لھم ولو کنت فظا غلیظ القلب لا نفضوا من حولک فاعف عنھم واستغفر لھم و شاورھم فی الامر) (الٰ عمران : 3/159) ” اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ ان لوگوں کے لئے بڑے نرم واقع ہوئے ہیں اگر آپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے آس پاس سے چھٹ جاتے پس آپ ان کو معاف کر دیجئے، ان کے لئے مغفرت مانگئے اور اجتماعی امور میں ان سے مشاورت کرلیا کیجئے۔ “
رسول مصطفیٰ ﷺ کے یہ اخلاق، کامل ترین اخلاق تھے جن کے ذریعے سے عظیم مصالح حاصل ہوتے ہیں اور بہت سے مضر امور دور ہوتے ہیں۔ جن کا ہر روز مشاہدہ ہوتا ہے۔۔۔ تب کیا اس شخص کے لائق ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی اتباع اور اقتداء کا دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں پر بوجھ بنے، بد اخلاق، سخت طبیعت، سخت دل، بدخو اور بدکلام ہو ؟ اور اگر وہ ان میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سوء ادب دیکھے تو اسن سے ناراض ہوجائے اور ان کو چھوڑ دے تب وہ ان سے نرم برتاؤ کرے نہ اس کے ہاں ان کے لئے کوئی ادب اور کوئی توفیق ہے۔ اس طرز کے نتیجے میں بہت سے مفاسد حاصل اور بہت سے مصالح ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اسے پائیں گے کہ وہ اس شخص کی تحقیر کرتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صفات کو اختیار کرتا ہے، وہ اس کے حسن اخلاق کو نفاق اور مداہنت کا نام دیتا ہے، اپنے آپ کو بہت اونچا سمجھتا ہے اور اپنے عمل پر خوش ہوتا ہے۔ یہ طرز عمل اس کی جہالت، شیطان کی تزیین ور اس کا فریب شمار ہوگا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایا : (فان عصوک) اگر یہ کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی کریں تو آپ ان سے بیزار ہوں نہ ان سے معاملات کو ترک کریں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کریں اور نرمی سے پیش آئیں۔ البتہ آپ ان کے برے عمل سے براءت کا اطہا کریں، ان کو نصیحت کرین اور ان کے ساتھ خیر خواہی سے پیش آئیں۔ ان کو اسے برے عمل سے روکنے اور سے توبہ کروانے کے لئے مقدور بھر کوشش کریں۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے وہم کو رد کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (واخفض جناحک) اہل ایمان سے صادر ہونے والے ہر فعل پر، جب تک وہ مومن ہیں، رضا کا تقاضا کرتا ہ۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 26:217–220آیت 217 سے 220
جن امور کو قائم کرنے کا حکم بندۂ مومن کو دیا گیا ہے، ان کے قیام میں سب سے بڑی مددگار چیز اپنے رب پر بھروسا اور ان امور کو قائم کرنے کی توفیق کے لئے اپنے مولائے کریم سے اعانت کا سوال ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے توکل کا حکم دیا ہے، چناچہ فرمایا : ( و توکل علی العزیز الرحیم) ” اور غالب، مہربان پر توکل کرو۔ “ توکل سے مراد دل کا جلب منفعت اور دفع مضرت کے لئے، اپنے مطلوب کے حصول پر وثوق اور حسن ظن کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر اپنے بندے کو بھلائی عطا کرنے اور اس سے شر کو دور کرنے پر قادر ہے اور وہ اپنی رحمت سے اس فعل کو سرانجام دیتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی اعانت، اس کے قرب کے راستحضر اور مقام احسان پر فائز ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ (الذی یرک حین تقوم۔ وتقلبک فی السجدین) وہ آپ کو، اس عظیم عبادت میں، جو نماز ہے، جب آپ قیام اور رکوع و سجود میں مصروف ہوتے ہیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہا اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ نماز فضل و شرف کی حامل ہے نیز جو کوئی استحضار کے ساتھ نماز پڑھتا ہے وہ اپنے رب کے قریب ہوجاتا ہے اور اسے خشوع و تذلل حاصل ہوتا ہے اور وہ اسے کی تکمیل کرتا ہے۔ نماز کی تکمیل ہی سے تمام اعمال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز ہی کے ذریعے سے دیگر تمام امور پر اللہ تعالیٰ سے اعانت طلب کی جاتی ہے۔ (انہ ھو السمیع) یعنی وہ تمام آوازوں کو، ان کے اختلاف، تشتت اور تنوع کے باوجود سنتا ہے۔ (العلیم) یعنی اس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور غائب و موجود کا احاطہ کر رکھا ہے۔ پس بندۂ مومن کا یہ استحضار اور شہود کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے، وہ جو کچھ بولتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سن رہا ہے، وہ اس کے دل کے عزائم، ارادوں اور نیتوں کو خوب جانتا ہے، منزل احسان تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
Ayahs 26:221–227آیت 221 سے 227
یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد ﷺ پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : (ھل انبئکم) ” کیا تمہیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟ “ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں، یعنی میں تمہیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں۔ (تنزل علی کل افاک) ” ہر کذاب ](قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیطان نازل ہوتے ہیں۔ “ (اثیم) یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان۔۔۔ اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین انہی لوگوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔
(یلقون السمع) ” جو سنی ہوئی بات لاڈالتے ہیں۔ “ یعنی آسمان سے سن گن لے کر چرائی ہوئی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں (واکثرھم کذبون) ” اور وہ اکثر جھوٹے ہیں۔ “ یعنی جو باتیں، ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہیں۔ اگر ایک بات سچی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں شامل کردیتے ہیں۔ تب حق باطل کیساتھ خلط ملط ہوجاتا ہے اور حق اپنی قلت اور عدم علم کی بنا پر کمزور ہوجاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے اوصاف ہیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور یہ شیطانی الہام کا وصف ہے۔۔۔ رہے رسول مصطفیٰ محمد ﷺ تو آپ کا حال ان احوال سے بہت زیاہ مختفل ہے کیونکہ آپ صادق، امین، نیکو کار، رشدو ہدایت پر کاربند ہیں۔ آپ طہارت قلب، صدق مقال، محرمات سے پاک افعال کے جامع ہیں۔ آپ کی طرف جو اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے، نزول کے وقت اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہ وحی صدق عظیم پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہوتا۔ اے عقل مند لوگو ! کیا رسول اللہ ﷺ کا رشدو ہدایت پر مبنی طریقہ اور شیاطین کی افترا پردازی برابر ہوسکتے ہیں ؟ یہ دونوں متضاد اور صاف صرف اسی شخص پر مشتبہ ہوسکتے ہیں جو پاگل ہو اور چیزوں کے درمیان فرق اور امتیاز کرنے سے عاری ہو۔
جب اللہ تبارک وتعالیٰ ن آنحضرت ﷺ کو ان نزول شیاطین سے منزہ قرار دیا تو آپ کو شعر سے بھی مبرا قرار دیتے ہوئے فرمایا : (والشعراء) یعنی کیا میں تمہیں شعرء کے احوال اور ان کے اوصاف ثابتہ کے بارے میں بھی آگاہ نہ کروں ؟ (یتبعھم الغاون) ” ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے “ راہ ہدایت سے اور گمراہی اور ہلاکت کے راستے پر گامزن ہیں۔ پس شعراء خود گمراہی ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ نظریاتی طور پر بھٹکا ہوا گمراہی اور مفسد شخص ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہے۔
(الم تر) کیا آپ نے ان گمراہی اور شدت ضلالت کو نہیں دیکھا (انھم فی کل واد) ” کہ بیشک وہ (شاعری) ہر وادی میں “ (یھیمون) ” آوارہ و سرگشتہ پھرتے ہیں۔ “ کبھی مدح میں اشعار کہت ہیں کبی مذمت میں، کبھی صدق کے بارے میں اور کبھی کذب کے بارے میں، کبھی غزل کہتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑاتے ہیں، کبھی تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی حزن و غم کا۔ ان کو کہیں قرار ملتا ہے نہ کسی حال میں ثبات حاصل ہوتا ہے۔
(وانھم یقولون مالا یفعلون) ” اور بیشک وہ ایسی بات کہتے وہ ہیں جو وہ بذات خود نہیں کرتے۔ “ یہ شعراء کا وصف ہے کہ ان کے قول و فعل میں سخت تضاد ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شاعر کو رقت انگیز غزل کہتے ہوئے سنیں گے تو آپ کہہ اٹھیں گے کہ یہ دنیا میں سب سیزیادہ عشق کا مارا ہوا شخص ہے حالانکہ اس کا دل عشق سے خالی ہوگا۔ اگر آپ اس کو کسی مدح یا مذمت کرتے ہوئے سنیں تو کہیں گے کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بعض افعال پر اپنی ستائش آپ کرتا ہے حالانکہ وہ ان افعال کے قریب سے نہیں گزرا ہوتا، وہ افعال کے ترک کرنے پر اپن تعریف کرتا ہے حالانکہ اس نے اس فعل کو کبھی ترک نہیں کیا ہوتا، وہ اپنی سخاوت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے حالانکہ اس کا اس کو چے سے کبھی گزر ہی نہی ہوا ہوتا۔ وہ اپنی شجاعت کے تذکرے کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے بڑے بڑے شہسواروں کو زیر لیا ہوتا ہے حالانکہ آپ اسے دیکھیں گے کہ وہ انتہائی بزدل ہے۔۔۔ یہ ہیں شعراء کے اوصاف۔
اب آپ غور کیجئے کہ آیا مرقومہ بالا احوال رسول کریم محمد ﷺ جیسی ہدایت یافتہ اور پاکیزہ ہستی کے احوالے سے مطابقت رکھتے ہیں، جن کی پیروی ہر وہ شخص کرتا ہے جو صاحب رشدو ہدایت ہے۔ آپ راہ راست پر نہایت استقامات سے گامزن اور ہلاکت کی وادیوں سے دور رہتے ہیں۔ آپ کے افعال تناقض سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔
آپ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، ہمیشہ سچی خبردیتے ہیں۔ اگر آپ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے ہیں اور اگر کسی کام سے روکتے ہیں تو سب سے پہلے خود اس کام کو ترک کرتے ہیں۔ کیا آپ کا حال ان شاعروں کے احوال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے یا ان کے احوالے کے کہیں قریب دکھائی دیتا ہے ؟ یا ہر لحاظ سے آپ کے احوال ان شعراء حضرات کے احوال سے بالکل مختلف ہیں ؟
اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کا سلام ہو بدال آباد تک اس رسول اکمل اور سب سے افضل، عالی ہمت سردار پر جو شاعر ہے نہ ساحر و مجنون بلکہ اوصاف کمال کے سوا اور کچھ اس لائق نہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے شعراء کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد ان میں ان شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں، نیک کام کرتے ہیں نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کریت ہیں، اپنے مشرک دشمنوں سے انکے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں۔ ان کی شاعری ان کے اعمال صالحہ اور آثار ایمان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ اہل ایمان کی مدح، اہل کفرو شرک سے انتقام، اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع، علوم نافعہ کی توضیح و تبین اور اخلاق فاضلہ کی ترغیب پر مشتمل ہوتی ہے، اس لئے فرمایا : (الا الذین امنوا وعملو الصلحت وذکروا اللہ کثیرا وانتصرو من بعد ما ظلموا وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون) ” مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہے اور اپن اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں۔ “ یعنی حساب کتاب کے لئے، کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہ ہوگی جسے اللہ تعالیٰ نے درج نہ کر رکھا ہو، کوئی حق ایسا نہ ہوگا جسے اللہ تعالیٰ پورا نہ کرے۔ والحمد اللہ رب العالمین۔