Ayahs 26:176–191آیت 176 سے 191
(اصحب لئیکۃ) یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انہوں نے اپنے رسول حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ شعیب (علیہ السلام) بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء ومرسلین لے کر آئے تھے۔ (اذ قال لھم شعیب الاتتقون) ” جب شعیب نے انہیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ “ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑدو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں۔ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ اور اس پر یہ چیز مرتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔
اس لئے شعیب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : (اوفوا الکیل) ” ناپ کو پورا کرو “ (ولا تکونوا من المخسرین) ” اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔ “ یعنی جو ناپ تول میں کمی کرکے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں (وزنوا بالقسطاس المستقیم) یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تو لو جو کسی طرف نہ جھکے۔ (واتقوا الذی خلقکم والجبلۃ الاولین) ” اور اس سے ڈرو جس نے کے ساتھ تو لو جو کسی طرف نہ جھکے۔ (واتقو الذی خلقکم والجبلۃ الاولین) ” اور اسے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلی خلفت کو پیدا کیا۔ “ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمہاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لئے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمہیں وجود عطا کیا اور تمہیں بیشمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکرا دا کرو۔
انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا : (انما انت من المسحرین) ” تم اس شخص کو مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کردیا گیا ہو “ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ یہی کیا جاسکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ (وما انت الا بشر مثلنا) ” اور تم ہماری ہی طرح کیا انسان ہو۔ “ اس لئے تمہارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمہیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انہوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کا ان الفاظ میں جواب دیا : (ان نحن الا بشر مثلکم ولکن اللہ یمن علی من یشاء من عبادہ) (ابراہیم : 14/11) ” ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں، لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔ “ (وان نظنک لمن الکذبین) ” اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ “ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انہوں نے بھی اس (نبی) سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انہیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیب (علیہ السلام) ، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث وجدال کرنے کی بنا پر ” خطیب الانبیاء “ کہا جاتا ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔
(فاسقط علینا کسفا من السماء) ” پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔ “ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کردے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ (ان کنت من الصدقین) ” اگر تو سچا ہے۔ “ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی : (واذ قالوا اللھم ان کان ھذا ھوا الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم) (الانفال : 8/32) ” اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجئے جب انہوں نے کہا تھا کہ اے اللہ ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کردے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔ “ یا انہوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا، جن کے سائل کے لئے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں۔ (قال) شعیب (علیہ السلام) نے کہا : (ربی اعلم بما تعملون) ” تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوف واقف ہے۔ “ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمہیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمہاری خیر خواہی کروں۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمہارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمہارا حساب لے گا اور تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔ (فکذبوہ) ” پس انہوں نے اس (شعیب علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ “ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انہیں کوئی فائدہ دی انہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ (فاخذھم عذاب یوم الظلۃ) ” پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔ “ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لئے اس کے نیچے جمع ہوگئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بےحس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جانا نازل ہوئے۔
(انہ کان عذاب یوم عظیم) ” بیشک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔ “ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہوگا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔
(ان فی ذلک لایۃ) اس میں ایک نشانی ہے “ جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ (وما کان اکثرھم مومنین) ان میں اکچر لوگ آیات و معجزات کا مشاہد کرلینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے : (وما اکثر الناس ولو حرصت بمومنین) (یوسف : 12/103) ” خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ “
(وان ربک لھو العزیز) ” بیشک تیرا رب غالب ہے “ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادارک کی گرفت میں نہیں آسکتا اور وہ تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ (الرحیم) وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کردیا جب انہوں نے اس کے انبیاء و رسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کی نجات دی۔
Ayahs 26:192–203آیت 192 سے 203
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انہوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفیٰ ﷺ اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لئے ہدایت ہے، چناچہ فرمایا : (وانہ لتنزلیل رب العلمین) ” اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ “ پس وہ ہستی جس نے اس عظی کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بےانتہا بھلائی اور بےپایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کا متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (وانہ لتنزیل رب العلمین) میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیز اس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمہارا فائدہ اور تمہاری ہدایت ہے۔ (نزل بہ الروح الامین) ” اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔ “ اس سے مراد جبرئیل (علیہ السلام) جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں (الامین) ” وہ امانت دار ہیں، وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ (علی قلبک) ” آپ کے دل پر۔ “ یعنی اے محمد ﷺ ! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا (لتکون من المنذرین) تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشدو ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں۔ (بلسان عربی) ” صاف صاف عربی زبان میں “ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجئے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہوگئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
(وانہ لفی زبر الاولین) ” اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔ “ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لئے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔ (اولم یکن لھم ایۃ) ” کیا ان کیلئے یہ دلیل نہیں “ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر (ان یعلمہ عموا بنی اسرائیل (” کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں “ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصفا کرنے والے لوگ ہیں۔ کیونکہ اگر کسی عاملے میں اشتباہ واقع ہوجائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ کی صداقت کو پہنچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت ہیں دی جاتی۔
(ولو نزلنہ علی بعض الاعجمین) ” اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔ “ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہوں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہوں۔ (فقراہ علیھم ما کانوا بہ مومنین) ” تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔ “ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لئے ان کو اپنے رب کی حمدو ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے ان کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیر خواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر وعناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والیامتوں میں متواتر چلا آرہا ہے، اس لئے فرمایا : (کذلک سلکنہ فی قلوب المجرمین) ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کردیا ہے جیسے سوئی کے ناے میں دھاگہ داخلہ ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔
یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لئے (لایومنون بہ حتی یروا العذاب الالیم) ” یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ( اپنی تکذیب کی پاداش میں) درد ناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔ “ (فیاتیھم بغتۃ وھم لا یشعرون) یہ عذاب ان کا اچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انہیں اس کا احساس تک ہوگا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہوگا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزاد دی جائے۔ (فیقولو) اس وقت یہ کہیں گے (ھل نحن منظرون) ” کیا ہمیں مہلت ملے گی ؟ “ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہوگیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لے منقطع ہوگا۔
Ayahs 26:204–208آیت 204 سے 207
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے :) افبعذابنا) ” کیا یہ ہمارے عذاب کے لئے۔ “ جو بہت بڑا اور دردناک عذاب ہے جسے ہیچ سمجھا جاسکتا ہے نہ حقیر جانا جاسکتا ہے (یستعجلون) ” جلدی مچاتے ہیں ؟ “ کسی چیز نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے ؟ کیا اس عذاب کو برداشت کرنے کی ان میں قوت اور طاقت ہے ؟ جب یہ عذاب نازل ہوجائے گا تو کیا یہ اس کو دور کرنے یا اس کو اٹھا لینے کی قوت رکھتے ہیں۔۔۔ یا یہ ہمیں عاجز سمجھتے ہیں اور گمان رکھتے ہیں کہ ہم عذاب نازل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ؟ (افراء یت ان مثعنھم سنین) ” بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کر برسوں فائدے دیتے رہیں۔ “ یعنی کیا آپ نے کچھ غور کیا کہ اگر ہم ان پر جلدی عذاب نازل نہ کریں اور ان کو چند سالوں کے لئے مہلت دے دیں اور یہ دنیا سے فائدہ اٹھائیں (ثم جاء ھم ما کانو یوعدون) ” پھر ان پر وہ واقع ہوجائے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ “ یعنی عذاب کا۔ (ما اغنی عنھم ما کانو یمتعون) ” جن (لذات و شہوات) سے وہ متمتع ہوتے تھے، وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گی۔ “ یعنی کون سی چیز ان کے کام آسکتی اور انہیں کوئی فائدہ دے سکتی ہے ؟ درآنحالیکہ لذتیں باطل اور مضمحل ہو کر ختم ہوگئیں اور اپنے پیچھے برے اثرات چھوڑ گئیں اور انہیں طویل مدت تک کئی گنا عذاب دیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ وہ وقوع عذاب اور اس کے مستحق ہونے سے بچیں اور رہا عذاب کا جلدی نازل ہونا یا اس کے نزول میں تاخیر ہونا، تو اس کے تحت کوئی اہمیت نہ اس کے نزدیک اس کا کوئی فائدہ۔
Ayahs 26:209–212آیت 209 سے 212
اللہ تبارک و تعالیٰ ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بسی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انہیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں، انہیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں، انہیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں، وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں۔ (ذکری) ” نصیحت “ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لئے یا ددہانی اور ان کے خلاف حجت قائم کرنا ہے (وما کن ظلمین) ” اور ہم ظلم کرنے والے نہیں۔ “ کہ ہم بستیوں کو ان کے انجام سے ڈرائے بغیر ہلاک کردیں، ان کو پکڑ لیں اور ان کی حالت یہ ہوا کہ انہیں ڈرانے والوں کے بارے میں کچھ خبر نہ ہو۔ (وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا) ( بنی اسرائیل : 18/15) ” اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کہ حق و طابل کا فرق سمجھانے کے لئے ایک رسول نہ بھیج دیں۔ “ (رسلا مبشرین ومنذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل) (النساء 4/165) تمام رسولوں کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا ہے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔ “
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن عظیم کا کمال اور اس کی جلالت بیان کرتے ہوئے اس ہر صفت نقص سے منزہ قرار دیا نیز واجح کردیا کہ وہ قرآن کے نازل ہونے کے وقت اور اس کے بعد شیاطین جن و انس سے ان کی حفاظت کرتا ہے۔ چناچہ فرمایا : (وما تنزلت بہ الشیطن۔ وما ینبغی لھم) ” اور اس (قرآن) کو شیاطین لے کر نازل ہوئے ہیں نہ یہ ان کے لائق ہی ہے۔ “ یعنی یہ چیز ان کے حال کے لائق ہے نہ ان سے کوئی مناسبت رکھتی ہے (وما یستطیعون) ” اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں “۔ (انھم عن السمع المعزولون) ” وہ (آسمانی باتوں کے) سننے سے الگ کردئے گئے ہیں۔ “ یعنی وہ اس سے دور کردیے گئے ہیں اور اس کی حفاظت کی خاطر شیاطین کے لئے شہاب ثاقت تیار کئے گئے ہیں۔ اس قرآن کو جبریل لے کر نازل ہوتا ہے جو سب سے طاقتور فرشتہ ہے شیطان اس کے قریب پھٹک سکتا ہے نہ اس کے ارد گرد منڈ لاسکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشد کی مانند ہے :) انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون) (الحجر : 15/9) ” ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ “