Ayahs 26:105–122آیت 105 سے 122
اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنے رسول نوح (علیہ السلام) جو جھٹلایا، نیز نوح (علیہ السلام) نے ان کے شرک کو رد کیا اور انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چناچہ فرمایا : (کذبت قوم نوح المرسلین) ” نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔ “ گویا حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لئے کہ تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لئے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء ومرسلین لے کر آئے ہیں۔
(اذ قال لھم اخوھم نوح) ” جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا “ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں۔ نوح (علیہ السلام) نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا طریقہ تھا۔ (الا تتقون) ” کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے “ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی عبادت کو خالص کرتے ؟ (انی لکم رسول امین) ” بیشک میں تو تمہارا امانت دار رسول ہوں۔ “ حضرت نوح (علیہ السلام) کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کو موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انہیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر اکا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں۔
(فاتقوا اللہ واطیعون) ” پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ “ یعنی جس چیز کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمہیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (وما اسئلکم علیہ من اجر) ” اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا “ جس سے تمہیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ (ان اجری الا علی رب العلمین) ” میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔ “ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جزیل کی امید رکھتا ہوں۔ رہا تمہارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمہاری خیر خواہی اور تمہارا راہ راست پر گامزن ہوتا ہے۔ (فاتقوا اللہ واطیعون) یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوح (علیہ السلام) ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ” اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو “ فرمایا : (فلبث فیھم الف سنۃ الا خمسین عاما) (العنکبوت : 29/14) ” پس وہ (نوح علیہ السلام) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔ “ نوح (علیہ السلام) نے کہا : (رب انی دعوت قومی لیلا ونھارا۔ فلم یزدھم دعاءی الا فرارا) (نوح : 81/5، 2) ” اے میرے رب ! میں اپن قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگھنے لگے۔ “
انہوں نے نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا : (انومن لک واتبعک الارذلون) یعنی ہم تیری اتباع کیسے کرسکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہنچانا جاسکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انہیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجئے ! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کرلی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء و رسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہو۔ جب دو جھگڑے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے مدمقابل دوسرے آدمی کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔
جب ہم حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انہوں نے نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا : (انومن لک واتبعک الارذلون) تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوح (علیہ السلام) کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔ چناچہ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا : (وما علمی بما کانو یعملون۔ ان حسابھم الا علی ربی لو تشعرون) ” اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔ “ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میرے دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سر تسلیم خم کردو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔
(وما انا بطارد المومنین) ” اور میں مومنوں کا نکال دینے والا نہیں ہوں۔ “ یوں لگتا ہے کہ انہوں نے ا۔۔۔ اللہ ان کا برا کرے۔۔۔ تکبر اور جرب سے نوح (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوح (علیہ السلام) نے جواب دیا : (وما انا بطارد المومنین) کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (واذا جاءک الذی یومنون بایتنا فقل سلم علیکم کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ) (الانعام : 6/54) ” اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجئے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کرلیا ہے۔ “
(ان انا الا نذیر مبین) ” میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ “ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیر خواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں، معاملے کا تمام اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہء قدرت میں ہے۔
نوح (علیہ السلام) دن رات، کھلے چھپے، انہیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے : (لئن لم تنتہ ینوح) اے نوح ! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا (لتکونن من المرجومین) ہم تجھے پتھر مار مار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے۔۔۔ ان کا برا ہو۔۔۔ انہوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیر خواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لئے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کر رہے ہیں۔ جب ان کے جرم کی انتہا ہوگئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہوگیا تو ان کے نبی نے ان کے لئے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چناچہ نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا : (رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا) (نوح : 81/26) ” اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ “ اور یہاں فرمایا : (رب ان قومی کذبون۔ فافتح بینی وبینھم فتحا) ” میرے رب ! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کردے۔ “ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کردے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں، اس لئے عرض کیا (ونجنی ومن معنی من المومنین) ” مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ‘ نجات دے۔ “
(فانجینۃ ومن معہ فی الفلک) ” پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچالیا۔ “ (المشحون) جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ (ثم اغرقنا بعد) ” پھر اس کے بعد غرق کردیا۔ “ یعنی نوح (علیہ السلام) اور ان اہل یمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے (البقین) باقی تمام قوم کو غرق کردیا۔ (ان فی ذلک) ” بیشک اس میں۔ “ یعنی نوح (علیہ السلام) اور ان کی متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں (لایۃ) ” ایک نشانی ہے “ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ (وان ربک لھو العزیز) ” بیشک تمہارا تب تو غالب ہے۔ “ جو اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کردیا۔ (الرحیم) ” مہربان ہے۔ “ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ اہل ایمان کی نجات دی۔
Ayahs 26:123–140آیت 123 سے 140
یعنی عادنامی قبیلے نے اپنے رسول ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی، ان کا ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم) ” جب ان کے بھائی نے انہیں کہا۔” یعنی نسبی بھائی (ھود) ” ہود (علیہ السلام) نے “ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا : (الا تتقون) ” کیا تم ڈرتے نہیں۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انہوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ (فاتقوا اللہ واطیعون ) ” پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں، ان میں میری اطاعت کرکے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمہارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیر خواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ (ان اجری الا علی رب العلمین) ” میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے “ جس نے بیشمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء انبیاء کی تربیت فرمائی۔ (اتبنون نکل ریع) ” بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔ “ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر (آیۃ) ” علامت “ یعنی یادگار کے طور پر (تعبثون) ’ ’ کھیل کود کرتے ہوئے۔ “ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمہارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں۔
(وتتخذون مصانع) ” اور تم محل (یاحوض) بناتے ہو۔ “ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لئے حوض بناتے ہو۔ (لعلکم تخلدون) ” شاید تم ہمیشہ رہو گے ؟ “ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لئے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں۔ (واذا بطشتم) ” اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔ “ (بطشتم جبارین) ’ ’ تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔ “ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انہوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اور کہنے لگے : (من اشد منا قوۃ) (حم السجدۃ : 41/15)
” کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور ؟ “ اور انہوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہیت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لئے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ (فاتقوا اللہ) ” پس تم اللہ سے ڈرو۔ “ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو (واطیعون) ” اور میری اطاعت کرو۔ “ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیر خواہ اور امین ہوں۔
(واتقوا الذی امدکم) ” اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمہیں مدد دی۔ “ یعنی جس نے تمہیں عطا کیا (بما تعملون) ” ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجمول ہیں نہ ان کا انکار کیا جاسکتا ہے۔ (امدکم بانعام) ” اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمہاری مدد کی۔ “ یعنی اس نے تمہیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں (وبنین) ” اور بیٹے عطا کیے۔ “ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمہیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ ونصیحت۔ پھر انہیں نزول عذاب سے ڈرایا : (انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم) میں تم پر اپنی شفقت اور تمہارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہوجائے۔ تمہارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہوگیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔ انہوں نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا : (سواء علینا اعظت ام لم تکن من الوعظین) ” خواہ نصیحت کردیا نہ کرو، ہمارے لئے یکسان ہے۔ “ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکری، جن کے سامنے پہاڑوں جیسی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہوجاتے ہیں، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہوجاتی ہے۔ اس الئے انہوں نے کہا : (ان ھذا الا خلق الاولین) ” یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں۔ “ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں۔ یہ سختیان اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں (وما نحن بمعذبین) ’ ’ اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔ “ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گے۔ (فکذبوہ) ’ پس انہوں نے اس کی تکذیب کی۔ “ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انہیں باز نہیں رکھ سکتا۔ (فاھلکنھم) ” تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ “ یعنی (بریح صر صر عاتیۃ۔ سخرھا علیھم سبع لیال وثمنیۃ ایام حسوما فتری القوم فیھا صرعی کانھم اعجاز نخل خاویۃ) (الحاقۃ : 29/6، 8) ” (قوم عاد کو ( نہایت تیز آندھی نے ہلاک کردیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔ (ان فی ذلک لایۃ) اس میں ہمارے نبی ہود علیہ السلام، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ (وما کان اکثرھم مومنین) ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں۔ (وان ربک لھو العزیز) ” اور تمہارا رب تو غالب ہے۔ “ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضر ہود (علیہ السلام) کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ (الرحیم) ” نہایت رحم کرنے والا ہے۔ “ یعنی وہ اپنے نبی ہود (علیہ السلام) پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔