26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 26:10–68

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا کہ ظالم لوگوں کے پاس جاؤ

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

(یعنی) قوم فرعون کے پاس کیا یہ ڈرتے نہیں ؟

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ میرے پروردگار میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے تو ہارون کو حکم بھیج کے میرے ساتھ چلیں

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور ان کا مجھ پر ایک گناہ (یعنی قبطی کے خون کا دعوی بھی) ہے سو مجھے یہ ڈر ہے کہ مجھ کو مار ہی ڈالیں

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

فرمایا ہرگز نہیں تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

تو دونوں کے فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہان کے مالک کے بھیجے ہوئے ہیں

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

اور اس لئے آئے ہیں کہ آپ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیں

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

(فرعون نے موسیٰ سے) کہا کیا ہم نے تم کو کہ ابھی بچے پرورش نہیں کیا اور تم نے برسوں ہمارے ہاں عمر بسر (نہیں) کی ؟

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور تم نے ایک اور کام کیا تھا جو کیا تم ناشکرے معلوم ہوتے ہو

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

(موسی نے) کہا کہ (ہاں) وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطاکاروں میں تھا

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

تو جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم میں سے بھاگ گیا پھر خدا نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور (کیا) یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر رکھتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے ؟

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ تمام جہان کا مالک کیا ؟

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون نے اپنے اہالی موالی سے کہا کہ کیا تم سنتے نہیں ہو

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

(موسی نے کہا) کہ تمہارا اور تمہارے پہلے باپ دادا کا مالک

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا کہ (یہ) پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے مجنون ہے

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

(موسی نے) کہا کہ مشرق اور مغرب میں اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کر دوں گا

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

(موسی نے) کہا خواہ میں آپ کے پاس روشن چیز لاؤں (یعنی معجزہ)

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا اگر سچے ہو تو اسے لاؤ (دکھاؤ )

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

پس انہوں نے اپنی لاٹھی ڈالی دی تو وہ اس وقت صریح اژدہا بن گئی

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ جو نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کے لیے سفید (براق نظر آنے لگا)

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

(فرعون نے) اپنے گرد کے سرداروں سے کہا کہ یہ تو کامل فن جادوگر ہے

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے نکال دے تو تمہارے کیا رائے ہے ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اسکے اور اسکے بھائی (کے بارے) میں کچھ توقف کیجئے اور شہروں میں نقیب بھیج دیجئے

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

کہ سب ماہر جادوگروں (کو جمع کر کے) آپ کے پاس لے آئیں

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع ہوگئے

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہوجانا چاہیے

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہوجائیں

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

جب جادوگر آگئے تو فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم غالب رہے تو ہمیں صلہ بھی عطا ہوگا ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں اور تم مقربوں میں بھی داخل کرلیے جاؤ گے

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو چیز ڈالنی چاہتے ہو ڈالو

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالی اور کہنے لگے کہ فرعون کے اقبال کی قسم ہم ضرور غالب رہیں گے

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ ان چیزوں کو جو جادوگروں نے بنائی تھیں نگلنے لگی

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

تب جادوگر سجدے میں گرپڑے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے کہ ہم تمام جہان کے مالک پر ایمان لائے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا مالک ہے

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے بیشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے سو عنقریب تم (اس کا انجام) معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

انہوں نے کہا کچھ نقصان (کہ بات) نہیں ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

ہمیں امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ بخش دے گا اس لئے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو رات کو لے نکلو کہ (فرعون کی طرف سے) تمہارا تعاقب کیا جائے گا

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

تو فرعونیوں نے شہروں میں نقیب روانہ کئے

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

(اور کہا) کہ یہ لوگ تھوڑی سی جماعت ہے

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور ہم سب با سازوسامان ہیں

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں اور نفیس مکانات سے

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

(ان کے ساتھ ہم نے) اس طرح (کیا) اور ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو کردیا

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

تو انہوں نے سورج نکلتے ہی (یعنی صبح کو) انکا تعاقب کیا

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لئے گئے

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

(موسی نے) کہا ہرگز نہیں میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ مجھے راستہ بتائے گا

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو تو دریا پھٹ گیا اور ہر ایک ٹکڑا (یوں) ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ (ہے)

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور دوسروں کو وہاں ہم نے قریب کردیا

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

اور موسیٰ اور ان کے سب ساتھ والوں کو تو بچا لیا

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

پھر دوسروں کو ڈبو دیا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

بیشک اس (قصے) میں نشانی ہے لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر بھیجا اور انہیں حکم دیا (ان ائت القوم الظلمین) ” ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔ ‘ جنہوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ (قوم فرعون الایتقون) ” قوم فرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں۔ “ یعنی انہیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجئے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمہیں پیدا کیا، تمہیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہو ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کرکے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا : (قال رب انی اخاف ان یکذبون۔ ویضیق صدری ولا ینطلق لسانی) ” انہوں نے کہا، میرے رب ! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبانی رکتی ہے۔ “ عرض کی) رب اشرح لی صدری۔ ویسرلی امری۔ واحلل عقدۃ من لسانی۔ یفقھوا قولی۔ واجعل لی وزیرا من اھلی۔ ھرون اخی) (طٰہٰ : 20/25۔ 30) ” اے میرے رب ! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لئے آسان کردے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں۔ میرا خاندان میں سے میرے لئے ایک وزیر مقرر کردے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔ “ (فارسل الی ھرون) ” پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔ “ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سرفراز فرمایا تھا : (فارسلہ معی ردا) (القصص : 28/34) ” اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔ “ یعنی میرے کام میں ہاروں کو میرا معاون بنا دے تاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں۔ (ولھم ولی ذنب) ” اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔ “ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں (فاخاف ان یقتلون) ” تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ “ (قال کلا) ” اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں “ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کردیں گے۔ (فلا یصلوالیکما بایتنا انتما ومن اتبعکما الغلبون) (القصص : 28/35) ” پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمہارے پیروکار ہی غالب رہیں گے۔ “ اسی لئے فرعون، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہیت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہی جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہوسکا۔ (فاذھبابایتینا) ” پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ “ جو تمہاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں۔ (انا معکم مستمعون) ” ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں۔ “ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ (فاتیا فرعون فقولا انا رسول رب العلمین) ” تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔ “ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لئے اس کی اطاعت کرے۔ (ان ارسل معنا بنی اسرائیل) “ یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ “ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھالے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کرسکیں اور اپنے امور دین کو قائم کرسکیں۔ جب حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت شروع کردی۔ کہنے لگا (الم نربک فینا ولیدا) ” کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔” یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا ؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا ؟ (ولبثت فینا من عمرک سنین۔ وفعلت فعلتک التی فعلت) ” اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔ “ اس سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تھا۔ (فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ) (القصص : 68/15) ” تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو ایک مکار سید کیا اور اس کا کام تمام کردیا۔ “ (وانت من الکفرین) ” اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔ “ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طور پر کفر کا اقرار کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : (فعلتھا اذا وانا من الصالین) ” وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطاکاروں میں سے تھا۔ “ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کردیا۔ (ففررت منکم لما خفتکم) ” پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔ “ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمہارے پاس چلا آیا۔ (فوھب لی ربی حکما و جعلنی من المرسلین) ” پھر اللہ نے مجھے نبوت و علما بخشا اور مجھے پیغمروں میں سے کیا۔ “ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل اور جان بوجھ کر جائل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجنات کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہوگیا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون پر واضح کردیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لئے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون ! باقی رہا تیرا یہ طعنہ : (الن نربک فینا ولیدا) ” کی اہم نے تیری، جب کہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔ “ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں۔ اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : (وتلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل) یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تم نے میرے قوم پر اذیت اور تعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پر جتلاتا ہے ؟ (قال فرعون وما رب العلمین) ” فرعون نے کہا ‘ تمام جہانوں کا مالک کیا ہے ؟ “ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا : (رب السموات والارض وما بینھما) ” آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔ “ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے انکی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو ! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کرسکتے ہو ؟ (ان کنتم موقنین) ” اگر تم یقین رکھتے ہو۔ “ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا : (الاتستمعون) “ کیا تم سنتے نہیں “ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : (ربکم ورب ابائکم الاولین) یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہم تم تکبر کردیا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمہارا اور تمہارے آباؤ و اجداد کا رب ہے۔ فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا : (ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون) ” تمہارا یہ رسول، جسے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔ “ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انہیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کا آراستہ کرکے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا جبکہ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے : (فاستخف قومہ فاطاعوہ انھم کانو قوما فسقین) (الزخرف : 43/54) ” پس اس نے اپنی قوم کو عقل کھودی اور انہوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقیناً وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔ “ فرعون کا انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : (رب المشرق والمغرب وما بینھما) ” مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔ “ یعنی تمام جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آجاتی ہے۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جو چیز میں تمہیں بتارہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کر جہالت کا مظاہرہ کررہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمہاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کردیا ہے۔ درآنحالیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کردیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا نکار کردیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو ؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو ؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کسی چیز پر ایمان لاؤ گے ؟ اللہ کی قسم ! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کردیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنے سے عاجز آگیا (قال) تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے کہا (لئن اتخذت الھا غیری لاجعلنک من المسجونین) ” اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کردوں گا۔ “ اللہ اس کا برا کرے۔۔۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو گمراہ کر دے اور موسیٰ (علیہ السلام) اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا : (اولو جئتک بشی مبین) یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ (قال فات بہ ان کنت من الصدیقین۔ فالقی عصاہ فاذاھی ثعبان) ” فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انہوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔ “ یعنی نرسانپ (مبین) وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔ ) ونزع یدہ) ” اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا “ اپنے گریبان سے۔ (فاذاھی بیضاء للنظرین) ” تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔ “ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔ (قال للملا حولہ) فرعون نے حق اور موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا : (ان ھذا لسحر علیہم۔ یرید ان یخرجکم من ارضکم) ” یہ کامل فن جادو گر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمہارے ملک سے نکال دے۔ “ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیب العقل لوگ ہیں اس لئے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادوگروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہرے ہیں۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انہیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ (فماذا تامرون) “ بتلاؤ ! تمہارا کیا مشورہ ہے “ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں۔ (قالوا ارجہ واخاہ) ” انہوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجئے۔ “ یعنی ان دونوں کو روک لو (وابعث فی المدائن خشرین) اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لئے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو (یاتوک بکل سحار علیم) ” وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں۔ “ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوراہ اور جادو کا گڑھ ہیں۔ تاکہ وہ تمام ماہر جادوگروں کو اکٹھا کرلیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادو گر کا مقابلہ اسی قسم کے جاد ہی سے کیا جاتا ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہی کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (علیہ السلام) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انہیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادوگروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ بازی موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ جادو نہیں۔ فرعون نے ان کی رائے پر عمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دئیے تاکہ وہ جادوگروں کو اکٹھا کریں اور اس نے معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ (فجمع السحرۃ لمیقات یوم معلوم) ” تو جادوگر ایک مقرر دین کی میعاد پر جمع کر لئے گئے۔ “ یہ دن موسیٰ (علیہ السلام) نے مقابلے کے لئے مقرر کردیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ (وقیل للناس ھل انتم مجتمعون) ” اور لوگوں سے کہہ دیا گیا ہے کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔ “ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لئے عام منادی کرائی گئی۔ (لعلنا نتبع السحرۃ ان کانو ھم الغلبن) ” تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہوجائیں۔ “ یعنی انہوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہوجاؤ تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) پر جادوگروں کی فتح کا نظارہ کرسکو۔ یہ بہت ماہر جادو گر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں، اس لئے اس معابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہوگئی۔ (فلما جاء السحرۃ) ” پس جب جادو گر آگئے۔ “ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے : (اہن لنا لاجران کنا نحن الغلبین) ” کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔ “ (قال نعم) ” کہا ضرور “ تم کو اجرت اور انعام ملے گا (وانکم اذا لمن المقربین) ” اور اس وقت تم مقربین میں شامل کرلئے جاؤ گے۔ “ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کرلیاتا کہ ان کے نشاط میں اضاہف ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کا مقابلہ کریں۔ جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰ (علیہ السلام) اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : (ویلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب وقد خاب من افتری) (طہ : 2/61) ” تمہارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمہاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا، اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔ “ اس پردہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انہوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔ (قال لھم موسیٰ القواما انتم ملقون) ” تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا جو تمہارے جی میں آئے اسے پھینکو۔ “ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لئے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں، سب باطل ہے۔ (فالقوا جبالھم وعصیھم) ” تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں۔ “ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرھ انہوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کردیا۔ (وقالوا بعزۃ فرعون ان لنحن الغلبون) ” اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم ! ہم ضرور غالب رہیں گے۔ “ پس انہوں ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کرکے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی۔۔۔ یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور (انھم الغالبون) مقسم علیہ ہے۔ (قالقی موسیٰ عصاہ فاذاھی تلقب مایافکون) ” پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوتے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔ “ اور موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کرلیا جو انہوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سرا سر بہان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔ جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انہیں یقین ہوگیا کہ یہ جادو نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت ور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ (فالقی السحرۃ سجدین) ” پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہوگئے۔ “ (قالو امنا برب العلمین۔ رب موسیٰ وھرون) ” کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایما لائے جو موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کا رب ہے۔ “ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہوگیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا قرار کیا۔ حق واضح ہوگیا اور غالب آگیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ پانی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔ اس نے جادوگر سے کہا : (امنتھم لہ قبل ان اذن لکم) ” کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں، اس پر ایمان لے آئے۔ “ فرعون کے سامنے جادوگروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کر فرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ (انہ الکبیر کم الذی علمکم السحر) ” بیشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ “ حالانکہ اسی نے جادوگروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنہوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) سے ملے تھے نہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کردیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہوچکے تھے۔ اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ خلاف حقیقت ہے، تو وہ اس کی تصدیق کرتے۔ پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا : (لاقطعین ایدیکم وارجلکم من خلاف) ” میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔ “ یعنی میں تمہارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے۔ (ولا وصلبنکم اجمعین) ” اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔ “ تاکہ ساری دنیا تمہاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔ جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ یا تو کہنے لگے : (لا ضیر) ” کچھ نقصان نہیں۔ “ یعنی ہمیں تمہاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں (انا الی ربنا منقلبون۔ انا نطمع ان یغفرلنا ربنا خطینا) ” بیشک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب (کفر اور جادو جیسی) ہماری خطائیں معاف کردے گا۔ “ (ان کنا اول المومنین) ” اس لئے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں۔ “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔ اس کے باوجود کہ موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کردیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھرجاتے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے یمان سے مایوس ہوگئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہوگیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی : (ان اسر بعبادی) یعنی رات کے پہلے حصے بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ (انکم مثبعون) یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمہارا پیچھا کری گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدا ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نکل گئے ہیں۔ (فارسل فرعون فی المدائن حشرین) ” تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہر کارے دوڑائے “ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لئے کہا (ان ھولاء) ” بیشک یہ لوگ “ یعنی بنی اسرائیل (لشرذمۃ قلیلون۔ وانھم لنا لغائظون) ” مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں۔ “ اس لئے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہوگئے ہیں۔ (وانا لجمیع حذرون) اور ہمیں ان سے چوکنار رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں۔ فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑے لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا، اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جاسکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (فاخرجنھم من جنت و عیون) ’ ’ پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال گیا۔ “ یعنی ہمے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتوں سے، جنہوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔ (ومقام کریم) ” اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا “ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنیوالوں کو مشغول کردیتی تھیں۔ انہوں نے طویل زمانے تک اس سازو سامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مند رہے۔ (کذلک و اور ثنھا) ” اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنادیا “ یعنی ان باغات، چشموں، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا (بنی اسرائیل) ” بنی اسرائیل کو “ جن کو اس سے پہلے انہوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے۔۔۔ پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔ (فاتبعوھم مشرقین) یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔ (فلما ترا الجمعن) پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا (قال اصحب موسی) تو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس شکایت کی (انا لمدرکون) ” ہم تو پکڑے گئے۔ “ (قال) موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا : (کلا) ” ہرگز ایسا نہیں ہوگا “ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لئے جاؤ گے۔ (ان معنی ربی سیھدین ) ” بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔ “ یعنی وہ میری اور تمہاری نجات کی راہ دکھائے گا۔ (فاوحینا الی موسیٰ ان اضرب بعصاک البحر “ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔ “ تو آپ نے عصا مارا (فانفلق) ” پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔ “ اور بارہ راستے بن گئے۔ (فکان کل فریق کالطود العظیم) ” اور ہر ایک (یوں) ہوگیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔ “ اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہوگئی۔ (وازلفناثم) ” اور وہاں ہم نے قریب کردیا۔ “ یعنی اسی جگہ (الاخرین) ” دوسروں کو “ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کرکے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قومے سمندر کو پار کیا تھا۔ (وانجینا موسیٰ ومن معہ اجمعین) ” اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچالیا۔ “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آگئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ (ثم اغرقنا الاخرین) ” پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا۔ “ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا (ان فی ذلک لایۃ) اس میں موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ (وماکان اکثرھم مومنین) ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کا تقاضا کرتی ہیں، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ (وان ربک لھو العزیز الرحیم) ” اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔ “ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو نجات دی۔