Ayahs 19:81–84آیت 81
یہ کفار کی سزا ہے۔ اس لئے کہ جب انہوں نے اللہ کے حکموں کو نہیں مانا اور نہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا بلکہ اس کے برعکس انہوں نے شرک کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں یعنی شیاطین کے ساتھ موالات رکھی، تو اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ان پر مسلط کردیا اور شیاطین نے ان کو ورغلا کر گناہوں پر آمادہ کرنا شروع کردیا۔ وہ انہیں کفر کی ترغیب دیتے ہیں، انہیں وسوسوں میں مبتلا کرتے ہیں، ان پر القاء کرتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کو مزین کر کے اور حق کو بدنما بنا کر پیش کرتے ہیں۔ پس باطل کی محبت ان کے دلوں میں داخل ہو کر جاگزیں ہوجاتی ہے، وہ باطل کی خاطر اسی طرح کوشش کرتا ہے جس طرح حق پرست حق کے لئے جدوجہد کرتا ہے، وہ اپنی کوشش اور سعی سے باطل کی مدد کرتا ہے اور باطل کے راستے میں حق کے خلاف جدوجہد کرتا ہے اور یہ سب کچھ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے حقیقی دوست اور سرپرست سے منہ موڑ کر اپنے دشمن کو دوست بنا لیا اور اپنے آپ کو اس کے تسلط میں دے دیا۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتا اور اس پر بھروسہ کرتا تو شیطان اس پر کبھی تسلط قائم نہ کرسکتا جی اس کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اسے ان لوگوں پر کوئی اختیار حاصل نہیں جو ایمان لاتے اور اپنے رب بھروسہ کرتے ہیں اس کا بس تو صرف انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں اور ان پر جو اس (کے گمراہ کرنے) کی وجہ سے شرک کرتے ہیں۔ “
(فلا تعجل علیھم) یعنی آپ ان کفار کے بارے میں عجلت نہ کیجیے جو عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہیں۔ (انما نعدلھم عداً ) ” ہم تو خود ہی ان کے لئے (مدت) شمار کر رہے ہیں۔ “ یعنی ان کے لئے دن مقرر کردیئے گئے ہیں جن میں کوئی تقدیم ہوگی نہ تاخیر۔ ہم انہیں کچھ مدت کے لئے مہلت دے کر برباد باری سے کام لے رہے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ جب اس مہلت کا کوئی فائدہ نہ ہوا تو ہم اسے ایک غالب اور مقتدر ہستی کی طرح اپنی گرفت میں لے لیں گے۔
Ayahs 19:85–87آیت 85
اللہ تبارک و تعالیٰ دونوں گروہوں، یعنی متقین و مجرمین کے درمیان تفاوت بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ متقین کو، ان کے شرک و بدعات اور دیگر گناہوں سے بچنے کے سبب سے، قیامت کے ورز، اکرام و تعظیم کے ساتھ اکٹھا کرے گا اور وہ وفود کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ ان کی منزل اور ان کا مطلوب و مقصود رحمٰن و منان ہوگا اور یہ ضرو ری ہے کہ آنے والے کا دل امید سے لبریز ہو اور جس کے پاس آیا ہے اس پر حسن ظن ہو۔ پس اہل تقویٰ ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باپایاں احاسن کی امید کھتے ہوئے اور اس کی رضا کے گھر میں اس کی نوازشوں سے فوزیاب ہوتے ہوئے، اس کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور اس کا سبب ان کے وہ نیک اعمال ہوں گے جو انہوں نے آگے بھیجے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی اتباع کی اور بیشک اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے انبیاء و رسل کی زبان پر انکے لئے اس ثواب کا عہد کر رکھا ہے۔ پس وہ نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کی طرف رواں دواں ہوں گے۔
رہے مجرم، تو ان کو پیاسا ہی جہنم کی طرف ہانکا جائے گا اور یہ ان کی بدترین حالت ہوگی کہ ان کو انتہائی ذلت و رسوائی کے ساتھ سب سے بڑے قید خانے اور بدترین عذاب میں، یعنی جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ وہ تھکے ماندے سخت پیاسے ہوں گے، وہ مدد کے لئے پکاریں گے مگر ان کی مدد نہ کی جائے گی، وہ دعائیں کریں گے مگر ان کی دعائیں قبول نہ ہوں گی اور وہ سفارش تلاش کریں گے مگر ان کی سفارش نہ کی جائے گی۔
اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لایملکون الشفاعۃ) یعنی وہ سفارش کے مالک ہوں گے نہ انہیں سفارش کا کوئی اختیار ہوگا۔ تمام تر سفارش کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہوگا۔ (قل للہ الشفاعۃ جمیعاً ) الزمر :33/39) ” کہہ دیجیے سفارش سب اللہ کے لئے ہے “ اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا ہے کہ سفاشر کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لا کر اس سے کوئی عہد نہیں لیا۔۔۔ ورنہ وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے عہد لیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی تو وہ ان لوگوں میں شامل ہے جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے اور اس کو سفارش حاصل ہوگی، جی اس کہ فرمایا : (ولا یشفعون الا لمن ارتضی) (الانبیاء :28/21) ” وہ اس کے پاس کسی کی سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے وہ (اللہ تعالیٰ ) راضی ہو۔ “ اللہ تعالیٰ نے ایمان باللہ اور اپنے رسولوں کی اتباع کو عہد قرار دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں میں اور اپنے انبیاء و رسل کی زبان پر عہد کیا ہے کہ وہ ان لوگوں کو جزائے جمیل عطا کرے گا جو ابناء و رسل کی اتباع ریں گے۔
Ayahs 19:88–95آیت 88
یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس عزم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپن ابیٹا بنایا ہے۔ جی اس کہ نصاریٰ کہتے ہیں (المسیح ابن اللہ) التوبۃ 30/9) ” مسیح اللہ کا بیٹا ہے “ یہودی کہتے ہیں (عزیز ابن اللہ) (التوبۃ :30/9) ” عزیز اللہ کا بیٹا ہے “ اور مشرکین کہتے ہیں ” فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔
(لقد جئتم شیاء ادا) یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ (تکاد السموت) قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف (یتفطرن منہ) اس قول سے پھٹ جاتے۔ (وتنشق الارض) اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہوجاتی۔ (وتحر الجبال ھداً ) اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر برابر ہوجاتے۔ (ان دعوا للرحمٰن ولداً ) ” اس بنا پر کہ انہوں نے رحمٰن کی اولاد ٹھہرائی۔ “ یعنی اس بدترین دعویٰ کی بنا پر ان تمام مخلوقات کی حالت یہ ہوتی جو ان آیات میں ذکر کی گئی ہے۔ جب کہ حال یہ ہے (وما ینبغی للرحمٰن) رحمان کے یہ لائق نہیں ہے اور نہ یہ ہو ہی سکتا ہے (ان یتخذ ولداً ) ” کہ وہ اولاد بنائے۔ “ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے لئے بیٹا بنانا اس میں نقص اور احتیاج پر دلالت کرتا ہے جب کہ وہ بےنیاز اور حمید ہے، نیز بٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ ہے نہ مثیل اور نہ اس کی نظیر ہے۔
(ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمٰن عبداً ) ” آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں، وہ سب رحمٰن کے غلام بن کر آنے والے ہیں۔ “ یعنی ذلیل اور مطیع ہو کر بغیر کسی نافرمانی کے رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے، فرشتے، جن و انس سب اللہ کے مملوک اور اس کے دست تصرف کے تحت ہیں، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے۔۔۔ جب اس کی شان اور اس کے اقتدار کی عظمت یہ ہو، تب اس کا بیٹا کیسے ہوسکتا ہے ؟
(لقد احصھم وعدھم عداً ) اس کا علم زمین اور آسمانوں کی تمام خلائق کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے اعمال کو شمار کر رکھا ہے وہ گمراہ ہوتا ہے نہ بھولتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ (وکلھم اتیہ یوم القیمۃ فرداً ) ” ہر ایک اس کے پاس قیامت کے دن اکیلا ہی آئے گا۔ “ یعنی اولاد، مال و دولت اور اعوان و انصار اس کے ساتھ نہ ہوں گے۔ اس کے ساتھ اس کے عمل کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کے اعمال کا بدلہ دے گا اور اس سے پورا پورا حاسب لے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو جزا بھی اچھی ہوگی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو ان کی جزا بھی بری ہوگی۔ جی اس کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : (ولقد جئتمونا فرادی کما خلقنکم اول مرۃ) (الانعام :93/6) ” تم اسی طرح ہمارے پاس تن تنہا آئے ہو جس طرح پہلی مرتبہ ہم نے تمہیں اکیلا پیدا کیا تھا۔ “
Ayah 19:96آیت 96
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے ان بندوں پر انعام ہے جنہوں نے ایمان و عمل صالح کو جمع کیا۔۔۔ کہ وہ ان کے لئے اپنے اولیاء اور زمین و آسمان کے رہنے والوں کے دلوں میں محبت اور مودت ڈال دیتا ہے۔ جب ان کے بارے میں دلوں میں محبت ہوجاتی ہے تو ان کے اکثر معاملات ان کے لئے آسان ہوجاتے ہیں اور ان کو بھلائی، دعائیں، راہنمائی اور امامت حاصل ہوجاتی ہے اس لئے ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ” جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل کو پکار کر کہتا ہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر، پھر جبرئیل آسمان والوں کو پکار کر کہتا ہے کہ اللہ فلاں شخص سے مبحت کرتا ہے، اس لئے تم بھی اسے محبوب رکھو، آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر زمین والوں میں اسے قبولیت عطا کی جاتی ہے “ (1) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے زمین و آسمان کے رہنے والوں کے دلوں میں محبت اس لئے پیدا کی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء اور محبوب لوگوں کے نزدیک ان کو محبوب بنادیا۔
Ayahs 19:97–98آیت 97
(1) صحیح البخاری، الادب، باب المقۃ من اللہ تعالیٰ “ ح :6.30 و صحیح مسلم، البرو اصلۃ باب اذا اجب اللہ عبدا۔۔۔ ، ح :2638)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی نعمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی زبان اقدس پر اس قرآن کریم کو آسان کیا۔ اس کے الفاظ و معانی کو عام فہم بنایا تاکہ مقصد حاصل ہوا اور اس سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔ (لتبشربہ المتقین) تاکہ آپ دنیاوی اور اخروی ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے متقین کو بشارت دیں اور ان اسباب کا ذکر کریں جو بشارت کے موجب ہیں۔ (وتنذربہ قوماً لداً ) تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جو اپنے باطل میں نہایت سخت اور اپنے کفر میں نہایت قوی ہیں۔ اس طرح ان پر حجت قائم ہوگی اور انکے سامنے صراط مستقیم واضح ہوجائے گی۔ تب جو کوئی ہلاک ہوگا تو دلیل کی بنیاد پر ہلاک ہوگا اور جو کوئی زندہ رہے گا تو دلیل کی طاقت سے زندہ رہے گا۔
پھر انکو پہلے لوگوں کی، جنہوں نے انبیاء ومرسلین کو جھٹلایا، ہلاکت کا ذکر کر کے ڈرایا ہے، چناچہ فرمایا : (وکم اھلکنا قبلھم من قرن) ” ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہلاک کردیا۔ “ یعنی قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود وغیرہ جو انبیاء کے ساتھ عناد رکھتے اور ان کی تکذیب کرتے تھے۔ جب وہ اپنی سرکشی میں جمے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ (ھل تحس منھم من احد اوتسمع لھم رکزاً ) یہاں (رکز) سے مراد خفیہ آواز ہے یعنی ان لوگوں کے آثار تک باقی نہ رہے۔ بس ان کے قصے باقی رہ گئے جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے عبرت ہیں اور ان کی کہانیاں باقی رہ گئیں جو نصیحت کے متالشی لوگوں کے لئے نصیحت ہیں۔