19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 19:41–52

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں ؟

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

ابا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا تو میرے ساتھ ہوجائیے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلادوں گا

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

ابا شیطان کی پرستش نہ کیجیے بیشک شیطان خدا کا نافرمان ہے

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

ابا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

اس نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے ؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

(ابراہیم نے) سلام علیک کہا (اور کہا کہ) میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

اور جب ابراہیم ان لوگوں سے اور جن کی وہ خدا کے سوا پرستش کرتے تھے ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور (اسحاق) کو یعقوب بخشے اور سب کو پیغمبر بنایا

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور ان کو اپنی رحمت سے (بہت سی چیزیں) عنایت کیں اور ان کا ذکر جمیل بلند کیا

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو بیشک وہ (ہمارے) برگزیدہ اور پیغمبر مرسل تھے

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب پکارا اور باتیں کرنے کے لئے نزدیک بلایا

آیت 41 تمام کتابوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے افضل اور سب سے زیادہ بلند مرتبے والی کتاب، یہ کتاب مبین اور ذکر حکیم یعنی قرآن مجید ہے۔ اگر اس میں خبریں بیان کی گئی ہیں تو یہ خبریں سب سے زیادہ سچی، سب سے زیادہ حق اور سب سے زیادہ نفع مند ہیں۔ اگر اس میں اوامر ونواہی کا تذکرہ ہے تو یہ اوامرونواہی سب سے زیادہ قدر و قیمت کے حامل اور سب سے زیادہ عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔ اگر اس میں سزا و جزا اور وعدے و عید کا ذکر کیا گیا ہے تو وہ سب سے زیادہ سچی خبر اور سب سے زیادہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے عدل و فضل پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہے اور اگر اس میں انبیاء ومرسلین کا ذکر ہے تو اس میں مذکور یہ مقدس ہستیاں دیگر تمام لوگوں سے کامل اور افضل ہیں۔ بناء بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان انبیائے کرام کے واقعات بیان کئے ہیں اور ان کا بار بار اعادہ کیا ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں پر فضیلت عطا کی اور انہیں قدر و منزلت سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی محبت، اس کی طرف انابت، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور اس راستے میں اذیتوں پر صبر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند درجات عطا کئے اور انہیں مقامات فاخرہ اور منازل عالیہ سے نوازا۔ پس اس سورة ٓ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کا ذکر فرمایا اور اپنے رسول (ٓ) کو حکم دیا کہ وہ بھی ان کا ذکر کریں کیونکہ ان کے تذکرے میں اللہ تعالیٰ کی بھی تعریف ہے اور ان کی مدح ستائش کا اظہار اور ان پر اس کے فضل و کرم کا بیان بھی ہے، نیز اس میں ان پر ایمان لانے، ان کے ساتھ محبت کرنے اور ان کی پیروی کرنے کی ترغیب ہے۔ فرمایا : (واذکر فی الکتب ابرھیم انہ کان صدیقا نبیا) ” اور یاد کرو کتاب میں ابراہیم کو، بیشک وہ سچے نبی تھے۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیک وقت صدیقیت اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ صدیق، بہت راست باز شخص کو کہا جاتا ہے۔ پس وہ اپنے اقوال، افعال اور احوال میں سچا ہونے کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز کی بھی تصدیق کرتا ہے جس کی تصدیق کا اس کو حکم دیا جاتا ہے اور یہ خوبی مستلزم ہے اس عظیم علم کو جو دل کی گہرائیوں تک پہنچتا اور اس پر اثر انداز ہوتا ہے، نیز یقین اور کامل صالح کا موجب ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت محمآ کے بعد تمام انبیاء ومرسلین میں افضل ہیں۔ وہ تمام اصحاب فضیلت گروہوں کے تیسرے باپ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذریت کو نبوت اور کتاب سے نوازا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی پھر اس راستے میں پیش آنے والی اذیتوں اور بڑی بڑی تعذیب پر صبر کیا۔ انہوں نے قریب اور بعید، سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور اپنے باپ کو، جیسے بھی ممکن ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کی بھرپور جدوجہد کی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بحث و تکرار کا ذکر کیا جو انہوں نے اپنے باپ سے کی۔ چناچہ فرمایا : (اذ قال لابیہ) ” جب انہوں نے کہا اپنے باپ سے “ یعنی بتوں کی عبادت کی قباحت بیان کرتے ہوئے اپنے باپ سے کہا : (یابت لم تعبد ما لا یسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیا) یعنی آپ ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو اپنی ذات اور افعال میں ناقص ہیں، جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں، جو اپنے عبادت گزار کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، بلکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع نہیں پہنچاسکتی اور نہ اپنی ذات سے کوئی چیز دور ہٹانے کی قدرت رکھتے ہیں۔ پس یہ اس حقیقت پر ایک روشن دلیل ہے کہ ایسی ہستی کی عبادت کرنا، جو اپنی ذات اور اپنے افعال میں ناقص ہے، عقل اور شرع کے اعتبار سے قبیح ہے۔ اس کی تنبیہ اور اس کا اشارہ دلالت کرتا ہے کہ عبادت صرف اسی ہستی کی واجب اور مستحسن ہے جو کمال کی مالک ہے، جس کے سوا بندے کہیں سے نعمتیں حاصل نہیں کرسکتے، جس کے سوا کوئی اور ہستی ان سے کوئی تکلیف دور نہیں کرسکتی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات۔ (یابت انی قد جاءنی من العلم ما لم یاتک) یعنی ابا جان ! مجھے حقیر نہ جانیں اور یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور یہ کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ میرے پاس نہیں بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا کیا ہے جو آپ کو عطا نہیں کیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قول کا مقصد یہ کہنا تھا کہ (فاتبعنی اھدک صراطا سویا) ” آپ میری پیروی کریں میں دکھلاؤں گا آپ کو سیدھا راستہ “ یعنی سیدھا اور معتدل راستہ اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تمام احوال میں اس کی اطاعت کرنا۔ اس خطاب میں جو لطف و کرم اور جو نرمی ہے وہ مخفی نہیں۔ آپ (علیہ السلام) نے یہ نہیں فرمایا کہ ” ابا جان میں عالم ہوں اور آپ جاہل ہیں “ یا ” آپ کے پاس کوئی علم نہیں “ آپ (علیہ السلام) نے اس پیرائے میں گفتگو فرمائی ” میرے پاس اور آپ کے پاس علم ہے مگر جو علم مجھ تک پہنچا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچا، اس لئے آپ کے لئے مناسب یہی ہے کہ آپ دلیل کی پیروی کریں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیں۔ “ (یابت لا تعبد الشیطن) ” ابا جان ! شیطان کی عبادت نہ کریں “ کیونکہ جس نے غیر اللہ کی عبادت کی اس نے شیطان کی عبادت کی جی اس کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے : (الم اعھد الیکم یبنی ادم ان لا تعبدوا الشیطن انہ لکم عدو مبین) (یٰسین : 63 /06) ” اے آدم کی اولاد ! کیا میں نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ “ (ان الشیطن کان للرحمن عصیا) ” بیشک شیطان رحمن کا نافرمان ہے “ پس جو کوئی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرتا ہے وہ شیطان کا دوست، اور شیطان کی مانند اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ یہاں نافرمانی کو اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (رحمن) کی طرف مضاف کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نافرمانیاں بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کردیتی ہیں اور اس پر رحمت کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رحمت الٰہی کے حصول کا سب سے بڑا سبب ہے، اس لئے فرمایا : (یابت انی اخاف ان یمسک عذاب من الرحمن) ” ابا جان ! مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو کہیں رحمٰن کی طرف سے عذاب نہ آ لے “ یعنی کفر پر آپ کے اصرار اور سرکشی میں آپ کے بڑھتے چلے جانے کے سبب سے۔ (فتکون للشیطن ولیا) ” پس آپ شیطان کے دوست ہوجائیں “ یعنی دنیا و آخرت میں۔ پس آپ اس کے مذموم مقام و منزلت پر اتار دیئے جائیں اور شیطان کی ضرر رساں اور گندی چراگاہ میں چریں۔ اور یوں حضرت خلیل (علیہ السلام) نے اپنے باپ کو آسان سے آسان تر امر کی طرف دعوت دی۔ آپ نے اسے اپنے علم کے ذریعے سے بتایا کہ یہ چیز آپ پر میری اطاعت کی موجب ہے اگر آپ میری اطاعت کریں گے تو میں سیدھے راستے کی طرف آپ کی راہنمائی کروں گا، پھر آپ نے اسے شیطان کی عبادت سے منع فرمایا اور اسے ان مضرتوں کے بارے میں خبردار کیا جو شیطان کی عبادت میں پنہاں ہیں، پھر اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرایا کہ اگر وہ اپنے اسی حال پر قائم رہا تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضی کا اسمنا کرنا پڑے گا اور وہ شیطان کا دوست شمار ہوگا۔ مگر یہ دعوت اس بدبخت کے کسی کام نہ آئی۔ اس نے ایک جاہل کی مانند جواب دیا : (اراغب انت عن الھتی یابرھیم) ” اے ابراہیم ! کیا تو میرے معبودوں سے اعراض کرتا ہے ؟ “ اس نے اپنے معبودوں پر فخر کا اظہار کیا جو پتھر کے بنے ہوئے بت تھے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان معبودوں سے روگردانی کرنے پر ملامت کرنے لگا، یہ اس کی بہت بڑی جہالت اور بہت بڑا کفر تھا، وہ بتوں کی عبادت پر مدح چاہتا تھا اور اس عبادت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا تھا۔ (لئن لم تنتہ) یعنی اگر تو میرے معبودوں کو سب وشتم کرنے اور مجھے اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا (لارجمنک) یعنی میں تجھے پتھر مار مار کر قتل کر دوں گا (واھجرنی ملیا) ” اور چھوڑ دے مجھ کو ایک مدت تک “ یعنی طویل زمانے تک میرے ساتھ بات نہ کر۔ حضرت خلیل نے اپنے باپ کو اس طرح جواب دیا جس طرح رحمٰن کے بندے جہلاء کو جواب دیتے ہیں۔ آپ اس سے سب و شتم سے پیش نہیں آئے بلکہ صبر سے کام لیا اور کوئی ایسی بات نہیں کہی جو اپ کو ناگوار گزرتی۔ فرمایا : (سلم علیک) ” سلام آپ پر “ یعنی آپ میرے خطاب میں سب و شتم ناگوار باتوں سے محفوظ رہیں گے۔ (اسستغفرلک ربی) یعنی میں آپ کے لئے اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور مغفرت کی دعا مانگتا رہوں گا کہ وہ آپ کی اسلام کی طرف راہنمائی کرے جس کے ذریعے سے مغفرت حاصل ہوتی ہے۔ (انہ کان بی حفیاً ) کیونکہ وہ میرے حال پر بہت رحیم اور مہربان ہے اور مجھے اپنے اس یہ اعتناء میں رکھتا ہے۔ پس حضرت ابراہیم اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے دے گا، اپنے باپ کے لئے استغفار کرتے رہے، پھر جب آپ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کے لئے استغفار کرنا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا تو اس کے لئے مغفرت کی دعا کرنا چھوڑ دی اور اس سے برأت کا اظہار کردیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں ملت ابراہیم کی اتباع کا حکم دیا ہے اور انکی ملت کی پیروی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں ہم آپ کی راہ پر گامزن ہوں اور علم و حکمت اور نرم رویہ اپنائیں۔ دعوت الی اللہ میں تدریج اور ترتیب کا طریقہ اختیار کریں، اس پر صبر کریں اور اس سے ہرگز نہ اکتائیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کو، لوگوں کی طرف سے، جن قولی اور فعلی اذیتوں کا اسمنا کرنا پڑتا ہے ان پر صبر کرے اور عفو، درگزر، قولی اور فعلی حسن سلوک کے ساتھ ان ذیتوں کا مقابلہ کے۔ جب ابراہیم اپنی قوم اور اپنے باپ کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے، تو کہنے لگے : (وا اعتزلکم وما تدعون من دون اللہ) یعنی میں تم سے اور تمہارے بتوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں (وادعوا ربی) ” اور میں یہ دعا کروں گا اپنے رب سے “ یہ دعائے عبادت اور دعائے سوال دونوں کو شامل ہے۔ (عسی الا اکون بدعآء ربی شقیاً ) ” امید ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں گا “ یعنی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا اور اعمال کو قبول فرما کر مجھے سعادت سے نواز دے۔ یہ اس داعی حق کا وظیفہ ہے جو ایسے لوگوں سے مایوس ہوگیا تھا جن کو اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے رہے اور وعظ و نصیحت نے ان کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور وہ اپنی سرکشی میں اصرار کے ساتھ سرگرداں رہے۔ جو کوئی اس قسم یک صورت حال میں مبتلا ہوجائے تو اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح میں مشغول رہے اور اپنے رب سے امید رکھے کہ وہ اس کی کوشش کو قبول فرمائے گا اور وہ شر اور اہل شر سے دور رہے۔ انسان کے لئے اپنے وطن مالوف، اپنے اہل و عیال اور اپنی قوم سے جدا ہنا سب سے مشکل اور سب سے زیادہ شاق گزرنے والا کام ہے، اور کس کی کئی وجوہ ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی وجہ سے باعزت اور کثرت والا ہوتا ہے اور جو کوئی اللہ کی خاطر کوئی چیز چھڑوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عوض اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا : (فلما اعتزلھم وما یعبدون من دون اللہ وھبنا لہ اسحاق و یعقوب وکلا) ” پس جب وہ (ابراہیم) ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوار پرستش کرتے تھے، ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کئے، اور سب کو۔ “ حضرت اسحاق اور یعقوب دونوں کو (جعلنا نبیا) ” ہم نے نبی بنایا۔ “ پس حضرت ابراہیم اور ان تمام صلاحین ومرسلین کو یہ شرف نبوت حاصل ہوا جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجا، انہیں اپنی وحی کے لئے مختص کیا، انہیں اپنی راسلت کے لئے تمام جہانوں میں سے چن لیا۔ فرمایا (ووھبنا لھم) یعنی ہم نے حضرت ابراہیم اور ان کے دونوں یٹوں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کو (منر رحمتنا) ” اپنی رحمت سے نوازا۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے بہرہ ور کیا، علوم نافعہ اور اعمال صالحہ کطا کئے اور انہیں بیشمار ذریت عطا کی جو اسری دنیا میں پھیلی اور ان کے اندر بکثرت انبیاء اور صالحین ہوئے۔ (وجعلنا لھم لاسن صدق علیاً ) ” اور ان کے ذکر جمیل کو بلند کیا۔ “ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے ان کو بہرہ ور کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک کام کرنے والے ہر شخص سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی نیکی کے مطابق اسے سچی شہرت عطا کرے گا۔ ان کا شمار تو آئمہ محسنین میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں سچی، جس میں جھوٹ کا شائبہ نہیں، ظاہر وبا ہر اور غیر مخفی ثنائے حسن عطا کی۔ ان کے ذکر خیر، ان کی ثنائے حسن اور ان کے ساتھ محبت نے مشرق و مغرب کو لبریز کردیا ہے۔ خلائق کے دلوں میں ان کی محبت سما گئی، لوگوں کی زبان پر ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا جاری ہوگئی۔ وہ پیروی کرنے والوں کیق ائد اور راہنمائی حاصل کرنے والوں کے راہ نما بن گئے۔ ہر زمانے میں ان کا ذکر خیر نئے نئے اسلیب میں لوگوں کی زبانوں پر جاری رہا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور اللہ تعالیٰ فضل عظیم کا مالک ہے۔
Ayah 19:53

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور اپنی مہربانی سے انکو ان کا بھائی ہارون پیغمبر عطا کیا

آیت 53 یعنی اس قرآن عظیم میں، حضرت موسیٰ بن عمران کی تعظیم و توقیر، ان کے مقام عالی قدر اور اخلاق کاملہ کی تعریف کے طور پر، ان کا ذکر کیجیے۔ (انہ کان مخلصاً ) (مخلصاً ) کو لام کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اس کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے پسند کرلیا اور اسے چن لیا۔ ایک دوسری قرأت میں (مخلصا) کو لام کی زیر کے ساتھ پڑھا گیا ہے تب اس کے معنی یہ ہوگا کہ حضرت موسیٰ اپنے تمام اعمال، اقوال اور نیت میں اللہ تعالیٰ کے لئے مخلص تھے۔ ان کے تمام احوال میں اخلاص ان کا وصف تھا۔۔۔ دونوں معنی ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے اخلاص کی بنا پر ان کو چن لیا اور ان کا اخلاص اس بات کا موجب تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو چن لے اور بندہ مومن کا جلیل ترین حال یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے لئے اخلاص کا حامل ہو اور اس کا رب اسے اپنے لئے چن لے۔ (وکان رسولاً نبیاً ) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان یک ذات میں رسلات اور نبوت کو یکجا کردیا۔ پس راسلت، بھیجنے والے کے کلام کی تبلیغ کا تقاضا کرتی ہے، نیز یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ شریعت کی جو بھی چھوٹی یا بڑی چیز آئی ہے اسے بندوں تک پہنچایا جائے۔۔۔ اور نبوت اس بات کی مقتضی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر وحی آتی ہو اور اللہ تعالیٰ نے وحی کی تنزیل کے لئے اسے مختص کرلیا ہو۔ پس نبوت کا تعلق بندے اور اس کے رب کے درمیان ہے اور راسلت کا تعلق بندے اور مخلوق کے درمیان ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو وحی کی جلیل ترین اور سب سے افضل نوع کے ساتھ خاص فرمایا اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ان سے کلام کرنا اور انہیں اپنی سرگوشی کیلئے اپنے قریب کرنا۔ انبیاء میں سے اس فضیلت کے ساتھ صرف موسیٰ کو خاص کیا گیا کہ وہ رحمان کے کلیم ہیں۔ اسی لئے فرمایا : (ونادینہ من جانب الظور الایمن) یعنی حضرت موسیٰ کی دائیں جانب سے، جب وہ سفر کر رہے تھے، ہم نے ان کو ندادی (الایمن) سے مراد بابرکت ہے یعنی یہ (یمن) ” برکت “ سے ہے اور اس معنی پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے۔ (آیت) ” بابرکت ہے وہ ہستی جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے۔ “ (وقربنہ نجیاً ) ” اور ہم نے موسیٰ کو سرگوشی کے لئے اپنے قریب کیا۔ “ ندا اور مناجات میں فرق یہ ہے، کہ ندا بلند آواز میں ہوتی اور مناجات اس سے کم تردھیمی آواز میں ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کی تمام انواع مثلاً ندا اور مناجات وغیرہ، کا اثبات ہوتا ہے جی اس کہ اہل سنت و اجلماعت کا مذہب ہے۔ اس کے برعکس جھمیہ، معتزلہ اور ان کے ہم مسلک گروہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتے ہیں۔ (ووھبنالہ من رحمتنا اخاہ ہرون نبیاً ) یہ حضرت موسیٰ کی سب سے بڑی فضیلت ہے اور ان کا اپنے بھائی ہارون کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خیر خواہی ہے کہ انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ ان کے بھائی حضرت ہارون کو ان کی ذمہ داری میں شریک کر کے انہیں بھی ان کی مانند رسول بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو رسول بنادیا۔۔۔ پس ہارون کی نبوت حضرت موسیٰ کی نبوت کے تابع ہے، حضرت ہارون نبوت کے معاملات میں حضرت موسیٰ کی مدد اور اعانت کرتے تھے۔
Ayahs 19:54–56

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور کتاب میں اسمعیل کا بھی ذکر کرو وہ وعدہ کے سچے اور (ہمارے) بھیجے ہوئے نبی تھے

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم کرتے تھے اور اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ (وبرگزیدہ) تھے

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو وہ بھی نہایت سچے نبی تھے

آیت 54 یعنی قرآن کریم میں اس عظیم نبی (حضرت اسماعیل) کا ذکر کیجیے جس سے عربی قبیلے کی نسلی چلی جو سب سے افضل اور جلیل قبیلہ ہے، جس سے اولاد آدم کے سردار، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مبعوث ہوئے۔ (انہ کان صادق الوعد) یعنی وہ جو بھی وعدہ کرتے تھے اسے پورا کرتے تھے۔ اس میں وہ تمام وعدے شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ سے کئے گئے اور وہ جو بندوں سے کئے گئے۔۔۔ اسی لئے جب ان کے والد نے ان کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنے آپ سے صبر کرنے کا وعدہ کیا، چانچہ انہوں نے اپنے والد سے کہا (ستجدنی ان شآء اللہ من الصبرین) (الصفت :102/38) ” اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ “ انہوں نے یہ وعدہ پورا کر دکھایا اور اپنے والد کو پورا اختیار دیا کہ وہ ان کو ذبح کریں، جو کہ سب سے بڑی مصیبت ہے جو اناسن کو پہنچ سکتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو راسلت اور نبوت سے متصف کیا جو اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر سب سے بڑا احاسن ہے۔۔۔ اور انہیں مخلوق کے بلند طبقے میں سے کیا۔ (وکان یا مراھلہ بالصلوۃ والزکوۃ) ” اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتے تھے۔ “ یعنی اپنے گھر والوں پر اللہ کا حکم نافذ کرتے تھے۔ پس انہیں نماز کا حکم دیتے جو معبود کے لئے اخلاص کو متضمن ہے اور زکوۃ کا حکم دیتے جو بندوں کے ساتھ احاسن کرنے کو متضمن ہے۔ یوں انہوں نے اپنے آپ کو بھی درجہ کمال پر پہنچایا اور دوسروں کو بھی کامل بنایا، بالخصوص ان کو جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ ان کے نزدیک خاص تھے اور وہ ان کے اہل خانہ تھے کیونکہ وہ دوسروں کے مقابلے میں ان کی دعوت و تبلیغ کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ (وکان عند ربہ مرضیاً ) اور اس کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے اپنے رب کی مرضیات کے سامنے سرتسلیم خم کردیا اور ایسے امور سر انجام دینے میں کوشاں رہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوجائے۔ اس نے ان کو اپنے خاص بندوں اور اولیاء مقربین میں سے کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگئے اور وہ اپنے رب سے راضی ہوگئے۔
Ayah 19:57

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور ہم نے انکو اونچی جگہ اٹھا لیا تھا

آیت 57 یعنی اس کتاب کریم میں تعظیم و اجلال اور صفات کمال سے متصف ہونے کے اعتبار سے ادریس کا ذکر کرو ! (انہ کان صدیقاً نبی تاً ) اللہ تعالیٰ نے ان کو بیک وقت صدیقیت۔۔۔ جو تصدیق تام، علم کامل، یقین ثابت اور عمل صالح کی جامع ہے۔۔۔ اور اپنی وحی اور راسلت کے لئے چن لیا۔ (ورفعنہ مکاناً علیاً ) یعنی اللہ تعالیٰ نے جہانوں میں ان کا ذکر اور مقربین کے درمیان ان کا درجہ بلند کیا۔ پس وہ ذکر کے لحاظ سے بھی بلند تھے اور مقام و مرتبہ کے اعتبار سے بھی بلند۔
Ayah 19:58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے پیغمبروں میں سے فضل کیا (یعنی) اولاد آدم میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو سجدے میں گرپڑتے اور روتے رہتے تھے

آیت 58 جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے مکرمین اور خواص مرسلین کا ذکر فرمایا اور ان کے فضائل و مراتب کا تذکرہ کیا، تو فرمایا : (اولئک الذین انعم اللہ علیھم من النبین) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی نعمت عطا کی ہے جسے کوئی اور حاصل نہیں کرسکتا، نبوت اور راسلت عطا کر کے ان پر ایاس احاسن کیا ہے جس میں کوئی سبقت نہیں کرسکتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان لوگوں کے راستے کی طرف ہماری راہنمائی کرے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا، نیز یہ کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا (مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین و الصدیقین والشھدآء واللحین) (الناسء :69/3) جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ۔ ان میں سے بعض (من ذریۃ ادم وممن حملنا مع نوح) ” آدم کی اولاد میں سے ہیں اور کچھ ان میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کردیا۔ “ یعنی نوح کی ذریت میں سے ہیں۔ (ومن ذریۃ ابراہیم و اسرآئیل) یہ گھرانے دنیا کے تمام گھرانوں سے بہتر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے لئے پسند کرلیا اور چن لیا۔ جب ان کے سامنے رحمٰن کی وہ آیات تلاوت کی جاتی تھیں جو غیب کی خبروں، علام الغیوب کی صفات، روز آخرت کی خبروں اور وعدو وعید کو متضمن ہیں تو ان کا حال یہ ہوتا ہے۔ (خروا سجدا وبکیاً ) یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے سامنے سرتسلیم خم کردیا۔ ان آیات نے ان کے دلوں کو ایمان اور رغبت و رہبت سے لبریز کردیا جو ان کے لئے آہ و بکا، انابت اور اپنے رب کے حضور سجدے کی موجب ہیں۔ وہ ان لوگوں کی مانند نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سنتے ہیں تو ان پر اندھے بہرے بن کر رہ جاتے ہیں۔ آیات کی، اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (رحمان) کی طرف اضافت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کے بندوں پر اس کی رحمت اور احاسن ہے کیونکہ اس نے آیات کے ذریعے سے ان کی حق کی طرف راہنمائی کی، ان کی کو رنگاہی کو دور کر کے بصیرت سے نوازا، انہیں گمراہی سے بچایا اور جہالت کی تاریکیوں میں انہیں علم کی روشنی عطا کی۔
Ayahs 19:59–64

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشنیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گو یا اسے) کھو دیا اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

ہاں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

(یعنی) بہشت جاودانی (میں) جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے (اور جو کوئی آنکھوں سے) پوشیدہ (ہے) بیشک اس کا وعدہ (نیکوکاروں کے سامنے) آنے والا ہے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

وہ اس میں سلام کے سوا کوئی بیہودہ کلام نہ سنیں گے اور ان کے لئے صبح وشام کھانا تیار ہوگا

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو وارث بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اور فرشتوں نے پیغمبر کو جواب دیا کہ ہم تمہارے پروردگار کے حکم کے سوا اتر نہیں سکتے جو کچھ ہمارے آگے اور جو پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہے سب اسی کا ہے اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے

آیت 59 جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام کا ذکر فرمایا جو مخلص، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو ان کے بعد آئے اور انہوں نے امور کو بدل دیا جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا، ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے جو پیچھے لوٹ گئے۔ انہوں نے نماز کو ضائع کیا جس کی حفاظت اور اس کو قائم کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا، انہوں نے نماز کو حقیر سمجھا اور اسے ضائع کردیا۔ جب انہوں نے نماز کو ضائع کردیا جو دین کا ستون، ایمان کی میزان اور رب العالمین کے لئے اخلاص ہے، جو سب سے زیادہ مؤکد عمل اور سب سے افضل خصلت ہے، تو نماز کے علاوہ باقی دین کو ضائع کرنے اور اس کو چھوڑ دینے کی زیادہ توقع کی جاسکتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ شہوات نفس اور اس کے ارادوں کے پیچھے لگ گئے، اس لئے ان کی ہمتوں کا رخ ان شہوات کی طرف پھر گیا اور انہوں نے ان شہوات کو حقوق اللہ پر ترجیح دی۔ یہیں سے حقوق اللہ کو ضائع کرنے اور شہوات نفس پر توجہ دینے نے جنم لیا۔ یہ شہوات نفس جہاں کہیں بھی نظر آئیں اور جس طریقے سے بھی بن پڑا، انہوں نے ان کو حاصل کیا۔ (فسوف یلقون غیاً ) ” پس عنقریب ملیں گے وہ ہلاکت کو۔ “ یعنی کئی گنا سخت عذاب۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے استثناء فرمایا (الا من تاب) یعنی جس نے شرک، بد عات اور معاصی سے توبہ کرلی، ان کو ترک کر کے ان پر نادم ہوا اور دوبارہ ان کا ارتکاب نہ کرنے کا پکا عزم کرلیا (وامن) اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان لایا) (وعمل صالحاً ) ” اور نیک عمل کئے۔ “ اور عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر مشروع فرمایا ہے جبکہ عمل کرنے والے کی نیت رضائے الٰہی کا حصول ہو۔ (فاؤلئک) یعنی جس نے توبہ، ایمان اور عمل صالح کو یکجا کرلیا (یدخلون الجنۃ) ” وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ “ جو ہمیشہ رہنے والی نعمتوں، ہرق سم کے تکدر سے سلامت زندگی اور رب کریم کے قریب پر مشتمل ہوگی۔ (ولا یظلمون شیاً ) یعنی انکے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی بلکہ ان کو ان کے اعمال کا کئی گنا زیادہ اجر ملے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ جنت جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے عام باغات کی مانند نہیں، بلکہ وہ تو (جنت عدن) ” ہمیشہ قیام والی جنتیں ہیں “ جہاں نازل ہونے والے کبھی کوچ کریں گے نہ کہیں اور منتقل ہوں گے اور نہ ان کی نعمتیں زائل ہوں گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہ جنتیں بہت وسیع ہوں گی اور ان میں بیشمار نعمتیں، مسرتیں، رونقیں اور خوش کن چیزیں ہوں گی۔ (التی وعد الرحمٰن عبادہ بالغیب) یعنی جس کا رحمان نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو اپنے اسم مبارک (الرحمان) کی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ ان میں ایسی رحمتیں اور ایسا حسن سلوک ہوگا کہ ان کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور میں کبھی ان کا گزر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو اپنی رحمت سے موسوم فرمایا ہے، چناچہ فرمایا : (وما الذین ابیضت وجوھھم فقی رحمۃ اللہ ھم فیھا خلدون) (ال عمران : 108/3) د ’ اور جن کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ “ نیز اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف ان کی اضافت، ان کی مسرتوں کے دوام پر دلالت کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بقاء کے ساتھ یہ بھی باقی رہیں گی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار اور اس کی موجبات میں شمار ہوتی ہیں۔ اس آیت کریمہ میں (عباد) سے مراد اس کی الوہیت کے معتقد وہ بندے ہیں جو اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی شریعت کا التزام کرتے ہیں۔ پس عبودیت ان کا وصف بن جاتی ہے، مثلاً (عباد الرحمٰن) وغیرہ بخلاف ان بندوں کے جو ملک کے اعتبار سے تو اس کے بندے ہیں مگر اس کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ بندے اگرچہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے بندے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا، وہ ان کو رزق عطا کرتا ہے اور انکی تدبیر کرتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے بندے نہیں اور اس کی عبودیت اختیاری کے تحت نہیں آتے جس کو اختیار کرنے والا قابل مدح ہے۔ ان کی عبودیت تو عبودیت اضطراری ہے جو قابل مدح نہیں۔ ارشاد مقدس (بالغیب) میں یہ احتمال ہے کہ (وعد الرحمٰن) سے متعلق ہو تب اس احتمال کی صورت میں یہ معنی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ ان جنتوں کا غائبانہ وعدہ کیا ہے جن کا انہوں نے مشاہدہ کیا ہے نہ ان کو دیکھا ہے، وہ ان پر ایمان لائے، غائبانہ ان کی تصدیق کی اور ان کے حصول کے لئے کوشاں رہے، حالانکہ انہوں نے ان کو دیکھا ہی نہیں اور اگر وہ ان و دیکھ لیتے تب ان کا کیا حال ہوتا، اس صورت میں ان کی شدید طلب رکھتے ہیں، ان میں بہت زیادہ رغبت رکھتے اور ان کے حصول کے لئے سخت کوشش کرتے۔ اس میں ان کے ایمان بالغیب کی بنا پر ان کی مدح ہے، یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ دیتا ہے، نیز اس امر کا احتمال بھی ہے کہ (بالغیب) (عبادہ) سے متعلق ہو یعنی وہ لوگ جنہوں نے حالت غیب میں اور اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس کی عبادت کی۔ ان کی عبادت کا یہ حال ہے حالانکہ انہوں نے اس کو دیکھا نہیں اگر وہ اس کو دیکھ لیتے تو وہ اس کی بہت زیادہ عبادت کرتے اور اس کی طرف بہت زیادہ رجوع کرتے اور اللہ تعالیٰ کے لئے ان کے اندر بہت زیادہ محبت اور اشتیاق ہوتا۔ اس کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جنتیں، جن کا رحمٰن نے اپنے بندوں کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے، ان کا تعلق ایسے امور کے ساتھ ہے جو اوصاف کے دائرہ اور اک سے باہر ہیں۔ جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پس اس آیت کریمہ میں جنت کے لئے شوق ابھارا گیا ہے، نیز آیت کریمہ میں بیان کردہ مجمل وصف نفوس کو اس کے حصول اور اسکن کو اس کی طلب میں متحرک کرتا ہے اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ (آیت) ” کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے اعمالت کے صلے میں ان کے لئے آنکھوں کی کون سی ٹھنڈ چھپا رکھی گئی ہے۔ “ مذکورہ تمام معانی صحیح اور ثابت ہیں۔ البتہ پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (انہ کان وعدہ ماتیاً ) ” بیشک اس کا وعدہ آنے والا ہے۔ “ یعنی یہ ضرور ہو کر رہے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ وہ سب سے زیادہ سچی ہستی ہے۔ (لایسمعون فیھا لغواً ) یعنی وہ جنت میں کوئی ایسی لغو بات نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی کوئی ایسی بات سنیں گے جس کا سننا گناہ ہو، لہٰذا وہ جنت میں کوئی سب وشتم، کوئی عیب جوئی اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کے سننے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب ہوتا ہو اور نہ ہی تکدر پر مبنی کوئی بات (الا سلما) یعنی وہ صرف ایسی باتیں سنیں گے جو ہر عیب سے پاک ہوں گی۔ یعنی ذکر الٰہی، سلام، پر سرور باتیں، بشارت، دوستوں کے درمیان خوبصورت اور اچھی اچھی باتیں، رحمٰن کا خطاب، حوروں، فرشتوں اور غلمان کی دل ربا آوازیں، طرب انگیز نغمات اور نرم الفاظ سننے کو ملیں گے کیونکہ یہ سلامتی کا گھر ہے جہاں ہر لحاظ سے کامل سلامتی کے سوا کچھ نہیں۔ (ولھم رزقھم فیھا) ” اور ان کے لئے ان کا رزق ہوگا اس میں “ یعنی ماکولات و مشروبات اور مختلف انواع کی لذات جب بھی وہ طلب کریں گے اور جب بھی رغبت کریں گے ہمیشہ موجود پائیں گے۔ ان کی تکمیل، ان کی لذت اور ان کا حسن یہ ہے کہ یہ معلوم اوقات میں ہوں گی (بکرۃ وعشیاً ) ” صبح اور شام “ تاکہ ان چیزوں کا وقوع با عظمت اور ان کا فائدہ کامل ہو۔ وہ جنت جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے۔ (التی نورث من عبادنا من کان تقیاً ) ہم اہل تقویٰ کو اس جنت کا وارث بنائیں گے، اس جنت کو ہم ان کا دائمی گھر بنئایں گے جہاں سے وہ کبھی کوچ کریں گے نہ یہاں سے کہیں اور منتقل ہونا چاہیں گے، جی اس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” دوڑ کر بڑھو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے جو اہل تقویٰ کیلئے تیار کی گئی ہے۔ “
Ayahs 19:65–66

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

یعنی آسمان اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے سب پروردگار کا ہے تو اسی کی عبادت کرو اور اسی کی عبادت پر ثابت قدم رہو بھلا تم کوئی اسکا ہم نام جانتے ہو ؟

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور (کافر) انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا

آیات 65 ایک دفعہ جبرئیل رسول اللہ ﷺ پر دیر سے نازل ہوئے آپ ﷺ نے جبرئیل سے فرمایا ’ آپ جتنی بار ہمارے پاس آتے ہیں، کاش اس سے زیادہ ہمارے پاس آئیں “ آپ نے یہ بات جبرئیل کی طرف اشتیاق اور اس کی جدائی سے وحشت محسوس کرتے ہوئے کہی تاکہ اس کے نزول سے اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جبرئیل کی زبانی فرمایا : (وما نتنزل الا بامر ربک) ” ہم تو اپنے رب کے حکم ہی سے اترتے ہیں “ یعنی اس معاملے میں ہمیں کوئی اختیار نہیں اگر ہمیں نازل ہونے کا حکم دیا جاتا ہے تو ہم اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ہم اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرسکتے جی اس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (لایعصون اللہ مآ امرھم ویفعلون مایومرون) (التحریم :6/66) ” اللہ جو حکم ان کو یدتا ہے، وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔ “ ہم کو مامور و محکوم بندے ہیں۔ (لہ مابن ایدینا وما خلفنا وما بین ذلک) ” اسی کیلئے ہے جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو اس کے درمیان میں ہے۔ “ یعنی وہی ہے جو ہر زمان و مکان میں، امور ماضی، امور حاضر اور امور مستقبل کا مالک ہے اور جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ اختیار میں ہیں، تو ہم محض اس کے بندے اور اس کی دست تدبیر کے تحت ہیں، اس لئے تمام معاملہ ان دو باتوں کے مابین ہے۔ 1۔ آیا حکمت الٰہی اس فعل کا تقاضا کرتی ہے، کہ وہ اسے نافذ فرمائے ؟ 2۔ یا حکمت الٰہی اس فعل کا تقاضا نہیں کرتی ؟ کہ وہ اسے مؤخر کر دے ؟ اس لئے فرمایا : (وما کان ربک نسیاً ) ” اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔ “ یعنی آپ کا رب آپ کو فراموش کر کے مہمل نہیں چھوڑے گا۔ جی اس کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ما ودعا ربک وما قلی) الضحی :3/93) ” آپ ﷺ کے رب نے آپ ﷺ کو چھوڑا ہے نہ وہ آپ سے نارضا ہے۔ “ بلکہ وہ اپنے بہترین قوانین جمیلہ اور تدابیر جلیلہ کے مطباق، آپ کے لئے احکام جاری کرتے ہوئے آپ کے تمام امور کو درخواعتنا رکھتا ہے، یعنی جب ہم وقت معتاد سے تاخیر سے نازل ہوتے ہیں تو یہ چیز آپ ﷺ کو مزدہ نہ کرے اور آپ ﷺ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس تاخیر کا ارادہ کیا ہے کیونکہ اس میں اس کی حکمت ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے احاطہ علم اور عدم نسیان کی علت بیان کترے ہوئے فرمایا : (رب السموت والارض) ” وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا۔ “ پس زمین اور آسمان میں اس کی ربوبیت، اور ان کا بہترین اور کامل ترین نظا مکہ مطابق رواں دواں رہنا، جس میں غفلت کا کوئی شائبہ ہے نہ ان میں کوئی چیز بےفائدہ ہے اور نہ کوئی چیز باطل ہے۔۔۔ اس حقیقت پر قطعی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو شامل ہے، لہٰذا آپ ﷺ اپنے آپ کو اس میں شمغول نہ کریں بلکہ آپ ان امور میں اپنے آپ کو مغشول کریں جو آپ کو کوئی فائدہ دیتے ہیں اور جن کا فائدہ آپ کی طرف لوٹتا ہے اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت جس کا کوئی شریک نہیں۔ (واصطبر لعبادتہ) یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی عبادت پر کار بند رکھئے اس میں کوشاں رہئے اور مقدور بھر اس کا و کامل ترین طریقے سے قائم کیجیے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغولیت عبادت گزار کو تمام تعلقات اور شہوات کے ترک کرنے میں تسلی کا باعث ہوتی ہے۔ جی اس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ان کی اس دنیا شان و شوکت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیے جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو عطا کی ہے، تاکہ ہم اس کے ذریعے سے انہیں آزمائیں اور آپ کے رب کا عطا کردہ رزق بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے، اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیتے رہیے اور اور خود بھی اس کے پابند رہیے۔ “ (ھل تعلم لہ سمیاً ) کیا آپ تمام مخلوق میں اس کی کوئی ہم نام، کوئی مشابہت اور مماثلت رکھنے وال یہستی جانتے ہیں ؟ یہ استفہام نفی کا معنی دیتا ہے جو عقلاً معلوم ہے، یعنی آپ کسی ایسی ہستی کو نہیں جانتے جو اللہ تعالیٰ کی برابری کرنے والی اس کے مشابہ اور مماثل ہو۔ کیونکہ وہ رب ہے اور دوسرے مربوب، وہ خلاق ہے اور دیگر تمام مخلوق، وہ ہر لحاظ سے بےنیاز ہے اور دیگر تمام ہر لحاظ سے بالذات محتاج ہیں، وہ کامل ہے جو ہر لحاظ سے کمال مطلق کا مالک ہے دیگر تمام ناقص ہیں کسی میں کوئی کمال نہیں سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کردیا۔ پس یہ اس حقیقت پر برہان قاطع ہے کہ اللہ تعالیٰ اکیلا عبودیت کا مستحق ہے۔ اس کی عبادت حق اور ماسوا کی عبادت باطل ہے، اس لئے اس نے صرف اپنی عبادت کرنے اور اس پر پابند رہنے کا حکم دیا اور اس کی علت یہ بتلائی کہ وہ اپنے کمال، اپنی عظمت اور اسمائے حسنیٰ میں منفرد ہے۔
Ayahs 19:67–69

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا (ایسا) انسان یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اس کو پہلے بھی تو پیدا کیا تھا اور وہ کچھ بھی چیز نہ تھا ؟

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان کو جمع کریں گے اور شیطانوں کو بھی پھر ان سب کو جہنم کے گرد حاضر کریں گے (اور وہ) گھنٹوں پر گرے ہوئے (ہوں گے)

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ہر جماعت میں سے ہم ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو خدا سے سخت سرکشی کرتے تھے

(آیت 67) یہاں (الانسان) سے مراد ہر وہ شخص ہے جو زندگی بعد موت کا منکر ہے اور وہ مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو بعید سمجھتا ہے، چناچہ وہ نفی، عناد اور کفر کی وجہ سے استفہامیہ اسلوب میں کہتا ہے : (ء اذا ما مت لسوف اخرج حیاً ) یعنی میرے مرنے کے بعد، جبکہ میں بوسیدہ ہوچکا ہوں گا، اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ کیسے زندہ کرے گا ؟ ایسا نہیں ہوسکتا اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اس کی عقل فاسد، برے مقصد، اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور کتابوں کے ساتھ اس کے عناد کے مطابق ہے۔ اگر اس نے تھوڑا اس بھی غور و فکر کیا ہوتا تو اسے معلوم ہوجاتا کہ اس کا دوبارہ زندہ کئے جانے کو بعید سمجھنا بہت بڑی حماقت ہے۔ بناء بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے زندگی بعد موت کے امکان پر ایسی قطعی برہان اور واضح دلیل بیان فرمائی ہے جسے ہر شخص جانتا ہے۔ (اولا یذکر الاناسن انا خلقنہ من قبل ولم یک شیاً ) کیا وہ اس طرف التفات نہیں کرتا اور اپنی پہلی حالت کو یاد نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو پہلی مرتبہ پیدا کیا جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔ پس جو ہستی اسے عدم سے وجود میں لانے کی قدرت رکھتی ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا، کیا وہ ہستی اسے اس کے ریزہ ریزہ ہوجانے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے کی اور اس کے بکھر جا نیکے بعد اس کو دوبارہ اکٹھا کرنے کی قدرت نہیں رکھتی ؟ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ (وھو الذی یبدوا الحق ثم بعیدہ وھو اھون علیہ) (الروم :28/30) ” وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے اور ایسا کرنا اس کے لئے آسان تر ہے۔ “ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد (اولا یذکر الاناسن) میں لطیف ترین پیرائے میں عقلی دلیل کے ذریعے سے غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے اور جو کوئی اس کا انکار کرتا ہے، اس کا انکار پہلی حالت کے بارے میں اس کی غفلت پر مبنی ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ اس کو یاد کر کے اپنے ذہن میں حاضر کرنے کی کوشش کرے تو وہ ہرگز انکار نہیں کرے گا۔
Ayahs 19:70–71

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو اس میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں۔

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور تم میں سے کوئی (شخص) نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا۔ یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے۔

(ایٓت 70) اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی قسم اٹھائی اور وہ سب سے سچی ہستی ہے کہ وہ زندگی بعد موت کا انکار کرنے والوں کو ضرور اکٹھا کرے گا، ان کو اور ان کے شیطانوں کو ایک مقررہ روز جمع کرے گا۔ (ثم لنحضرنھم حول جھنم جثیاً ) یعنی ہولناکیوں کی شدت، زلزلے کی کثرت اور احوال کی خوفناک کی وجہ سے وہ اپنے گھٹنوں کے بل آئیں گے اور بلندو برتر اللہ کے حکم کے منتظر ہوں گے، اس لئے ارشاد فرمایا : (ثم لننزعن من کل شیعۃ ایھم اشد علی الرحمٰن عتیاً ) یعنی ہم ہر گروہ اور ہر فرقے سے ظالموں سے زیادہ سرکش، سب سے بڑا ظالم اور سب سے بڑا کافر ہے۔ پس اس کو عذاب کی طرف ان سب میں مقدم کیا جائے گا، پھر اسی طرح عذاب کی طرف اس کو مقدم کیا جائے گا جو گناہ میں اس سے کم تر ہوگا پھر اسے جو اس سے کم تر ہوگا علی ہذا لاق اس اور وہ اس حال میں ایک دوسرے پر لعنت بھیج رہے ہوں گے۔ ان میں آخری گروہ اولین گروہ سے کہے گا : (ربنا ھولآء اضلونا فاتھم عذاباً ضعفا من النار) (الاعراف :38/8) ” اے ہمارے رب ! یہی لوگ تھے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا پس انہیں جہنم کا دو گنا عذاب دے۔ “ (اور فرمایا : (وقالت اولھم لاخرھم فما کان لکم علینا من فضل) الاعراف :39/8) ” پہلا گروہ آخری گروہ سے کہے گا تمہیں ہم پر کچھ بھی فضیلت حاصل نہیں۔ “ اور یہ سب کچھ اس کے عدل و حکمت اور اس کے لامحدود علم کے تابع ہے۔ بناء بریں فرمایا : (ثم لنحن اعلم بالذین ھم اولی بھا صلیاً ) یعنی ہمار اعلم ہر اس شخص کا احاطہ کئے ہوئے ہے جو آگ میں جھونکے جانے کا زیادہ مستحق ہے، ہمیں ان کے بارے میں علم ہے اور ہم ان کے اعمال، ان اعمال کے استحقاق اور ان کے عذاب کی مقدار بھی جانتے ہیں۔
Ayah 19:72

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے

آیت 72 یہ خطاب نیک و بد، مومن اور کافر، تمام خلائق کے لئے ہے، خلائق میں کوئی ایسا نہیں ہوگا جو جہنم پر وارد نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حتمی فیصلہ ہے اور اس نے اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے اس کا نفاذ البدی اور اس کا وقوع حتمی ہے۔ البتہ وارد ہونے کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ تمام مخلوق جہنم میں حاضر ہوگی حتی کہ تمام لوگ گھبرا اٹھیں گے پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کو نجات دے دے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ وارد ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہوں گے۔ مگر اہل ایمان پر جہنم کی آگ سلامتی والی اور ٹھنڈی ہوجائے گی۔ بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ ’ دوارد ہونے “ سے مراد پل صراط پر سے گزرنا ہے جو جہنم کے اوپر بنا ہوا ہوگا۔ لوگ اپنے اعمال کی مقدار کے مطابق پل پر سے گزریں گے، بعض لوگ پلک جھپکتے گزر جائیں گے، بعض ہوا کی سی تیزی سے گزریں گے، بعض عمدہ گھوڑوں، عمدہ سواریوں کی طرح اور بعض چلتے ہوئے، بعض گھسٹتے ہوئے گزریں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جن کو اچک کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ہر ایک کے ساتھ اس کے تقویٰ کے مطابق معاملہ ہوگا، اس لئے فرمایا، (ثم ننجی الذین اتقوا) یعنی پھر ہم ان لوگوں کو نجات دے دیں گے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر مامورات کی تعمیل کرتے اور محظورات سے اجتناب کرتے رہے ہوں گے۔ (ونذر الظلمین) ” اور چھوڑ دیں گے ہم ظالموں کو۔ “ یعنی جنہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا (فیھا جثیاً ) ” اس میں گھنٹوں کے بل گرے ہوئے۔ “ یہ سب عذاب ان کے ظلم اور کفر کے سبب سے ہوگا، جہنم میں ہمیشہ رہنا ان کا مقدر بن جائے گا، وہ عذاب کے مستحق ہوں گے اور نجات اسباب منقطع ہوجائیں گے۔
Ayahs 19:73–74

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں ؟

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتیں ہلاک کردیں وہ لوگ (ان سے) ٹھاٹھ اور نمود میں کہیں اچھے تھے

آیت 73 جب ان کفار کے سامنے ہماری آیات بینات کی تلاوت کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے رسولوں کی صداقت پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں اور جو کوئی ان کو سنتا ہے اس کے لئے صدق ایمان اور شدت ایقان کا موجب بنتی ہیں۔۔۔ تو یہ ان آیات کا متضاد امور اور استہزا کے ساتھ اسمنا کرتے ہیں اور ان پر ایمان لانے والوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور دنیا میں اپنی خوش حالی سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اہل ایمان سے بہتر ہیں۔ پس وہ حق سے معارضہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : (ای الفریقین) ” دونوں فریقوں میں سے کون۔ “ یعنی مومنین اور کفار میں سے (خیر مقاماً ) ” زیادہ بہتر ہے مقام کے لحاظ سے “ یعنی دنیا میں کثرت مال و اولاد اور تفوق شہوات کے اعتبار سے کون اچھے مقام پر ہے (واحسن ندیاً ) ” اور کس کی مجلس اچھی ہے ؟ “ یعنی انہوں نے دنیا میں اپنے مال اور اولاد کی کثرت اکثر آسائشوں کے حصول اور مجلس آرائیوں سے یہ نتیجہ نکلا کہ ان کے احوال اچھے ہیں اور اہل ایمان کا حال اس کے برعکس ہے، اس لئے وہ اہل ایمان سے بہتر ہیں اور یہ انتہائی فاسد دلیل ہے یہ چیز تقلیب حقائق میں شمار ہوتی ہے۔ ورنہ کثرت سے مال و اولاد اور خوبصورت منظر میں بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو ان لوگوں کی ہلاکت، شر اور شقاوت کی باعث ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وکم اھلکنا قبلھم من قرن ھم احسن اثاثاً ) ” اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتیں ہلاک کردیں وہ زیادہ اچھے تھے مال و متاع کے اعتبار سے۔ “ یعنی برتن، بچھونے، گھر اور اسمان آرائش وغیرہ کے اعتبار سے اچھے تھے۔ (ورء یاً ) ” اور نام و نمود میں۔ “ یعنی آسودہ زندگی، لذتوں کے سرور اور خوبصورت چہروں کے پرکشش مناظر کے اعتبار سے پس جب وہ ہلاک شدگان جو بہترین اثاثے اور خوبصورت مناظر رکھتے تھے، ان چیزوں کے ذریعے عذاب سے نہ بچ سکے تو یہ لوگ کیسے بچ سکتے ہیں جو مال و متاع اور سہولتوں میں ان سے کمتر اور کمزور ہیں۔ ارشاد فرمایا : (اکفارکم خیر من اولئکم ام لکم برآۃ فی الزبر) (القمر :73/03) ” کیا تمہارے کافر ان لوگوں سے بہتر ہیں یا پہلی کتابوں میں تمہارے لئے برأت لکھ دی گئی ہے۔ “ اس سے واضح ہوگیا کہ دنیاوی بہتری سے اخروی بہتری پر استدلال کرنا سب سے فاسد دلیل ہے اور یہ کفار کا طریق استدلال ہے۔
Ayah 19:75

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے خدا اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیے جاتا ہے یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت تو (اس وقت) جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے

آیت 75 جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی باطل دلیل کا ذکر کیا جو ان کے عناد کی شدت اور گمراہی کی قوت پر دلالت کرتی ہے، وہاں اس نے یہ بھی آگاہ فرما دیا کہ جو کوئی گمراہمی میں مستغرق اور اس پر راضی ہے اور گمراہی کے لئے کوشاں رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی گمراہی کو اور زیادہ کردیتا ہے اور گمراہی کے لئے اس کی چاہت میں اضافہ کردیتا ہے۔ یہ اس کے لئے اس جرم کی سزا ہے کہ اس نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی کو اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ونقلب افدتھم وابصارھم کما لم یومنوا بہ اول مرۃ ونذر ھم فی طغیانھم یعمھون) (الانعام :11/6) ” اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے تو جیسے یہ پہلی مرتبہ ایمان نہ لائے تھے (ویسے پھر ایمان نہ لائیں گے) اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگداں چھوڑ دیں گے۔ “ (حتی اذا راوا) ” یہاں تک کہ جب وہ لوگ دیکھیں گے “ جو کہتے تھے :” دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بہتر ہے مقام کے لحاظ سے اور کس کی مجلس اچھی ہے ؟ “ (مایوعدون اما مالعذاب) ” جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو عذاب “ یعنی قتل وغیرہ کے ذریعے ان کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ (واما الاسعۃ) ” اور یا قیامت “ جو اعمال کی جزا کا دروازہ ہے۔ (فسیعلمون من ھو شر مکانا واضعف جندا) ” پس عنقریب وہ جان لیں گے کہ کون بدتر ہے مقام کے لحاظ سے اور زیادہ کمزور ہے جتھے کے اعتبار سے۔ “ یعنی اس وقت ان کے دعوے کا بطلان ظاہر ہوگا تب یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ ان کا دعویٰ کس قدر کمزور تھا اور انہیں یقین ہوجائے گا کہ واقعی وہ بدکار لوگ تھے۔ مگر یہ علم انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا کیونکہ اب ان کا دنیا میں واپس جانا ممکن نہیں کہ وہاں وہ پہلے اعمال کے برعکس اعمال بجا لائیں۔
Ayahs 19:76–79

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اور جو لوگ ہدایت یاب ہیں خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ تمہارے پروردگار کے صلے کے لحاظ سے خوب اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہنے لگا کہ (اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی تو یہی) مال اور اولاد مجھے وہاں ملے گا ؟

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا اس نے غیب کی خبر پا لی ہے ؟ یا خدا کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے ؟

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہرگز نہیں یہ جو کچھ کہتا ہے ہم اس کو لکھے جاتے اور اس کے لیے آہستہ آہستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں

آیت 76 اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد، کہ وہ ظالموں کی گمراہی کو اور زیادہ کردیتا ہے یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں، اپنے فضل و کرم اور رحمت سے مزید اضافہ کردیتا ہے۔۔۔ اور ہدایت، علم نافع اور عمل صالح دونوں کو شامل ہے۔ پس ہر وہ شخص جو علم و ایمان اور عمل صالح کے راستے پر گامزن ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اور زیادہ علم و ایمان عطا کرتا ہے اور اس راستے میں اس کے لئے آسانی کردیتا ہے اور اسے بعض ایسے امور عطا کرتا ہے جو اس کے اپنے کسب کے تحت نہیں آتے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے جی اس کہ سلف صالح کا قول ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے۔ (ویزداد الذین امنوا ایماناً ) (المدثر :31/38) ” تاکہ جو لوگ ایمان لائے ان کے ایمان میں اضافہ ہو۔ “ نیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ (واذا تلیت علیھم ایتہ زادتھم ایماناً ) (الانفال :2/8) ” جب ان کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ “ نیز واقعات بھی اس پر دلالت کرتے ہیں، کیونکہ ایمان دل اور زبان کے قول اور دل، زبان اور اعضاء کے عمل کا نام ہے، اور ان امور میں تمام اہل ایمان ایک دوسرے سے بہت زیادہ متفاوت ہیں۔ پھر فرمایا : (والبقیت الصلحت) یعنی باقی رہنے والے وہ اعمال جو کبھی منقطع نہیں ہوتے جبکہ دیگر اعمال منقطع ہوجاتے ہیں اور جو مضمحل نہیں ہوتے، یہ نیک اعمال ہیں مثلاً نماز، زکوۃ روزہ، حج، عمرہ، قرأ قرآن، تسبیح و تکبیر، تحمید و تہلیل مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور دیگر تمام اعمال قلب اور اعمال بدن وغیرہ۔ پس یہ تمام اعمال (خیر عند ربک ثواباً و خیر مرداً ) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں ان اعمال کا بہتر اجر وثواب ہے، اہل اعمال کے لئے ان اعمال کا فائدہ اور اجر بہت زیادہ ہے۔ یہ اسم تفصیل کو کسی اور جگہ استعمال کرنے کے باب میں ہے کیونکہ وہاں باقیات صالحات کے سوا کوئی عمل صاحب عمل کو کوئی فائدہ دے گا نہ اس کا ثواب صاحب عمل کے لئے باقی رہے گا۔ یہاں باقیات صالحات کو ذکر کرنے کی مناسبت یہ ہے (والللہ اعلم) چونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ ظالم کفار اپنے مال و اولاد اور حسن مقام رغیرہ کے دنیاوی احوال کو اپنے حسن حال کی علامت قرار دیتے ہیں، اس لئے یہاں آگاہ فرمایا کہ معاملہ اس طرح نہیں جس طرح وہ سمجھتے ہیں بلکہ عمل، جو سعادت کا عنوان اور فلاح کا منشور ہے، ان امور کی تعمیل ہے جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور ان پر راضی ہے۔
Ayah 19:80

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا

آیت 80 کیا اس کافر کی حالت پر تعجب نہیں ہوتا جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کو اپنے بہت بڑے دعوے کے ساتھ یکجا کردیا ہے کہ اس کو آخرت میں بھی مال و اولاد سے نوازا جائے گا، یعنی وہ اہل جنت میں سے ہوگا۔ اس کا یہ دعویٰ سب سے زیادہ تعجب انگیز امور میں سے ہے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا ہوتا اور پھر یہ دعویٰ کرتا تو معاملہ آسان تھا۔ یہ آیت کریمہ اگرچہ کسی معین کافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے تاہم یہ ہر کافر کو شامل ہے جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ اہل جنت میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توبیخ و تکذیب کے طور پر فرماتا ہے : (اطلع الغیب) ” کیا وہ غیب پر مطلع پر گیا ہے ؟ “ یعنی کیا اس کے علم نے غیب کا احاطہ کر کرھا ہے حتی کہ اسے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کیا کچھ ہوگا جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ قیامت کے روز اسے مال و اولاد سے نوازا جائے گا (ام اتخذ عند الرحمٰن عھداً ) ” یا اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے “ کہ وہ ان چیزوں کو حاصل کرے گا جن کا اس نے دعویٰ کیا ہے۔۔۔ یعنی کچھ بھی ایسے نہیں ہوگا۔ تب معلوم ہوا کہ وہ شخ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے اور ایسی بات کہتا ہے جس کے بارے میں اسے خود بھی علم نہیں۔ اس تقسیم اور تردید کی غرض وغایت، الزامی جواب اور مخالف پر حجت قائم کرنا ہے۔ کیونکہ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں بھلائی حاصل ہوگی اسے مندرجہ ذیل امور میں سے ایک ضرور حاصل ہے۔ (1) یا تو اس کا یہ قول، امور مستقبل کے بارے میں علم غیب سے صادر ہوا مگر ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ وحدہ کو ہے۔ مستقبل میں پیش آنے والے امور کو کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے رسولوں میں سے جسے اللہ تعالیٰ مطلع کر دے۔ (2) یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں، اپنے ایمان باللہ اور اتباع رسل کے ذریعے سے عہد لے رکھا ہے، جن کے پیروکاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ آخرت میں نجات یافتہ اور کامیاب لوگ ہوں گے۔ جب ان دونوں امور کی نفی ہوگئی تو معلوم ہوا کہ دعویٰ باطل ہے، اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (کلا سنکتب مایقول) ” ہرگز نہیں، وہ جو کہتا ہے ہم لکھ رکھیں گے “ یعنی اصل معاملہ یوں نہیں جس طرح وہ دعویٰ کرت ہے کیونکہ اس کا قائل امور غیبیہ کی اطلاع نہیں رکھتا، اس لئے کہ وہ کافر ہے۔ اس کے پاس نبوت کا علم ہے نہ اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے کیونکہ وہ کافر ہے اور ایمان سے محروم ہے۔ بلکہ اس کے اس جھوٹ کے برعکس وہ جہنم کا مستحق ہے۔ اس کا یہ قول لکھ لیا گیا ہے اور اللہ کے ہاں محفوظ ہے، اسے اس کی سزا ملے گی اور اس کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ونمدلہ من العذاب مداً ) ” اور ہم اس کے لئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔ “ یعنی جس طرح یہ اپنی گمراہی میں بڑھتا گیا اسی طرح ہم اس کو دیئے جانے والے مختلف اقاسم کے عذاب میں اضافہ کریں گے۔ (ونزثہ مایقول) ” اور ہم وارث ہوں گے اس کے جس کی بابت وہ کہہ رہا ہے۔ “ یعنی ہم اس کے مال اور اولاد کے وارث ہوں گے، چناچہ وہ مال، اہل و عیال اور اعوان و انصار کے بغیر اس دنیا سے آخرت کے گھر کی طرف منتقل ہوگا (ویاتینا فرداً ) ” اور آئے گا وہ ہمارے پاس اکیلا ہی۔ “ پس وہ بدترین عذاب کا اسمنا کرے گا جو اس جیسے ظالم لوگوں کی سزا ہے۔