Ayah 16:119آیت : (119)
اگر کوئی شخص گناہ کے انجام سے لا علمی کی بنا پر گناہ کر بیٹھتا ہے ‘ خواہ وہ گناہ عمداً ہی کیوں کہ کیا ہو تو گناہ کے ارتکاب کے وقت اس کے قلب میں لازمی طور پر علم کم ہوجاتا ہے۔ جب وہ توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیتا ہے ‘ یعنی ترک گناہ کے بعد گناہ پر نادم ہوتا ہے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے ‘ اس پر رحم کرتا ہے ‘ اس کی توبہ قبول کر کے اس کو اس کی پہلی حالت کی طرف لوٹا دیتا ہے یا پہلے سے بھی بلند تر مقام عطا کرتا ہے۔
Ayahs 16:120–123آیت : (120-123)
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) کو فضیلت بخشی اور انہیں فضائل عالیہ اور مناقب کاملہ سے مختص کیا۔ فرمایا : (ان ابراھیم کان امۃ) ” بیشک ابراھیم ایک امت تھے “ یعنی امام ‘ بھلائی کے خصائل کے جامع ‘ ہدایت یافتہ اور راہنما تھے۔ (قانت اللہ) ” اللہ کے فرماں بردار “ اپنے رب کے دائمی مطیع اور اس کے لئے دین کو خالص کرنے والے۔ (حنیفا) ” سب سے ایک طرف ہو کر “ یعنی محبت ‘ انابت اور عبودیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنے والے اور ماسوا سے منہ موڑنے والے : (ولم یک من المشرکین) ” اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے “ اپنے قول و عمل اور اپنے تمام احوال میں مشرکین میں سے نہ تھے کیونکہ وہ یک سوموحدین کے امام تھے۔ (شاکرا لانعمہ) ” اس کے احسانات کا شکر ادا کرنے والے “ یعنی اللہ تالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں بھلائی عطا کی ‘ ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا اور انہوں نے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ان تمام اچھی خصلتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ (اجتبہ) ” ان (ابراہیم علیہ السلام) کے رب نے ان کو چن لیا “ انہیں اپنا خلیل بنایا اور انہیں اپنی مخلوق میں سے چنے ہوئے مقرب بندوں میں شامل کیا۔ (وھدہہ الی سراط مستقیم) ” اور انہیں (اپنے علم و عمل سے) صراط مستقیم پر گامزن کیا “ یعنی انہوں نے حق کو جان لیا اور اسے دیگر ہر چیز پر ترجیح دی۔ (واتینہ فی الدنیا حسنۃ) ” اور دی ہم نے ان کو دنیا میں بھلائی “ یعنی ہم نے انہیں دنیا میں کشادہ رزق ‘ خوبصورت و نیک سیرت بیوی ‘ نیک اولاد اور اچھے اخلاق اور عادات سے نوازا (وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین) ” اور وہ آخرت میں اچھے لوگوں میں سے ہیں “ یعنی وہ لوگ جنہیں عالی قدرت منزلت اور اللہ تعالیٰ کا قرب عظیم حاصل ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سید الوریٰ اور کامل ترین ہستی ‘ نبی مصطفیٰ ﷺ کی طرف وحی کی اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی اتباع کریں ‘ آپ اور آپ کی امت کی پیروری کریں۔
Ayah 16:124آیت : (124)
(انما جعل السبت) ہفتے کا دن فرض کیا گیا (علی الذین اختلفوافیہ) ” صرف انہی پر جو اس میں اختلاف کرتے تھے “ یعنی جب وہ جمعہ کے دن کے بارے میں بھٹک گئے۔۔۔۔۔ مراد یہود ہیں۔۔۔۔۔ ان کا اختلاف اس بات کا سبب بنا کہ اللہ ہفتے کے دن کا احترام اعر تعظیم ان پر واجب کر دے ورنہ حقیقی فضیلت تو جمعہ کے دن ہی کو حاصل ہے۔ جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس امت کی راہنمائی فرمائی۔ (وان ربک لیحکم بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون) ” بیشک آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا ان چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے “ پس اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے سامنے حق پسند اور باطل پسند کے درمیان فرق واضح کر دے گا اور ظاہر کر دے گا کہ ثواب کا مستھق کون ہے اور عذاب کا مستحق کون ہے۔
Ayah 16:125آیت : (125)
یعنی تمام مخلوق کو ‘ خواہ وہ مسلمان ہوں یا کافر ‘ آُ کی اپنے رب کے سیدھے راستے کی طرف دعوت ‘ علم نافع اور عمل صالح پر مشتمل ہونی چاہیے (بالحکمۃ) ” حکمت کے ساتھ “ یعنی ہر ایک کو اس کے حال ‘ اس کی فہم اور اس کے اندر قبولیت اور اطاعت کے مادے کے مطابق دعوت دیجئے۔ حکمت یہ ہے کہ جہل کی بجائے علم کے ذریعے سے دعوت دی جائے اور اس چیز سے ابتدا کی جائے جو سب سے زیادہ اہم ‘ عقل اور فہم کے سبب سے زیادہ قریب ہو اور ایسے نرم طریقے سے دعوت دی جائے کہ اسے کامل طور پر قبول کرلیا جائے۔ اگر حکمت کے ساتھ دی گئی دعوت کے سامنے سر تسلیم خر کر دے تو ٹھیک ورنہ اچھی نصیحت کے ذریعے سے دعوت کی طرف منتقل ہوجائے اور اس سے مراد امرونہی ہے جو ترغیب و ترہیب سے مقرون ہو۔۔۔۔۔ یا تو ان متعدد مصالح کا ذکر کرے جن پر اوامر مشتمل ہیں اور ان متعدد مضرتوں کو بیان کرے جو نواہی میں پنہاں ہیں ‘ یا ان لوگوں کی اللہ کے ہاں تکریم کو بیان کرے جنہوں نے اللہ کے دین کو قائم کیا اور ان لوگوں کی اہانت کا تذکرہ کرے جنہوں نے اللہ کے دین کو قائم نہیں کیا ‘ یا اس دنیاوی اور اخروی ثواب کا ذکر کرے جو اس نے اپنے اطاعت کیش بندوں کے لئے تیار کر رکھا ہے اور اس دنیاوی اور اخروی عذاب کا ذکر کرے جو اس نے نافرمانوں کے لئے تیار کیا ہوا ہے۔
اگر وہ شخص جس کو دعوت دی گئی ‘ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف برحق ہے یا داعی باطل کی طرف دعوت دینے والا ہے تو اس کے ساتھ احسن طریقے سے بحث کی جائے۔ یہ ایسا طریقہ ہے جو عقلاً اور نقلاً دعوت کی قبولیت کا زیادہ موجب ہے ‘ مثلاً اس شخص سے ایسے دلائل کے ساتھ بحث کی جائے جن کو وہ خود تسلیم کرتا ہو یہ حصول مقصد کا قریب ترین ذریعہ ہے۔ یہ بحث جھگڑے اور گالی گلوچ تک نہ پہنچے ورنہ مقصد فوت ہوجائے گا اور کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔ بحث کا مقصد گو لوگوں کی حق کی طرف راہنمائی کرنا ہے نہ کہ بحث میں جیتنا وغیرہ۔
(ان ربک ھواعلم بمن ضل عن سبیلہ) ” آپ کا رب ہی بہتر جانتا ہے اس کو جو بھٹک گیا اس کے راستے سے “ یعنی آپ کا رب اس سبب کو زیادہ جانتا ہے جو نے اسے گمراہی میں مبتلا کیا ہے اور وہ اس کے ان اعمال کو بھی جانتا ہے جو اس کی گمراہی پر مترتب ہوئے ہیں وہ عنقریب ان کو ان اعمال کی جزا دے گا۔ (وھو اعلم بالمحتدین) ” اور وہ ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ “ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت سے نوازا ‘ پھر ان پر احسان کرتے ہوئے انہیں چن لیا۔
Ayahs 16:126–128آیت : (126-128)
اللہ تبارک و تعالیٰ عدل کو مباح کرتے ہوئے فضل اور احسان کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے : (وان عاقبتم) ” اور اگر تم بدلہ لو “ اگر تم اس شخص کا مواخذہ کرنا چاہو جس نے تمہیں قول و فعل کے ذریعے سے برے سلوک کا نشانہ بنایا ہے (فعاقبوابمثل ما عوقبتم بہ) ” تو بدلہ لو اسی قدر جس قدر کہ تم کو تکلیف پہنچائی گئی “ یعنی تمہارے ساتھ جو معاملہ کیا گیا ہے ‘ بدلہ لیتے وقت تمہاری طرف سے اس میں زیادتی نہ ہو۔ (ولئن صبرتم) ” اور اگر تم صبر کرلو “ یعنی دلہ نہ لو اور ان کا جرم معاف کردو تو (لھو خیر اللصبرین) ” وہ صبر کنے والوں کے لئے بہتر ہے۔ “ یعنی یہ بدلہ لینے سے بہتر ہے اور جو اجر وثواب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ تمہارے لئے بہتر اور انجام کے اعتبار سے اچھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ) (الشوریٰ ::40/42) ” جو معاف کر کے معاملے کی اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ “ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت پر صبر کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں اور نفس پر بھروسہ نہ کریں چناچہ فرمایا : (واصبر وما صبرک الا باللہ) ” اور صبر کیجئے اور آپ کے لئے صبر ممکن نہیں ‘ مگر اللہ ہی کی مدد سے “ وہی صبر پر آپ کی مدد کرتا ہے اور آپ کو ثابت قدم رکھتا ہے (ولا تحزن علیھم) ” اور ان کے بارے میں غم نہ کرو۔ “ یعنی جب آپ ان کو دین کی دعوت دیں اور دیکھیں کہ وہ اس دعوت کو قبول نہیں کر رہے تو غمزدہ نہ ہوں کیونکہ حزن و غم آپ کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ (ولا تک فی ضیق) ” اور تنگ دل نہ ہوں۔ “ یعنی آُ کسی سختی اور حرج میں نہ پڑیں۔ (مما یمکرون) ” ان کی چالوں سے “ کیونکہ ان کے مکر و فریب کا وبال انہی پر لوٹے گا اور آپ تو پرہیز گاروں اور نیکوکاروں میں سے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اپنی معونت ‘ توفیق اور تسدید کے ذریعے سے پرہیز گاروں اور نیکوکاروں کے ساتھ ہے یہ وہ لوگ ہیں جو کفر اور معاضی سے اجتناب کرتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں مقام احسان پر فائز ہیں یعنی وہ اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں گویا وہ اسے دیکھ رہے ہیں اگر ان پر یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی تو انہیں یہ یقین حاصل ہو کہ اللہ تعالیٰ تو انہیں دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر احسان یہ ہے کہ اسے ہر لحاظ سے فائدہ پہنچایا جائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں پرہیز گاروں اور احسان کرنے والوں میں شامل کرے۔