16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 16:79

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کی ہوا میں گھرے ہوئے (اڑتے رہتے) ہیں ؟ ان کو خدا ہی تھامے رکھتا ہے۔ ایمان والوں کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

آیت : (79) کیونکہ اہل ایمان آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور آیات الٰہی میں غور و فکر کرتے ہیں۔ رہے کفار ‘ تو وہ آیات الٰہی کو لہو و لعب اور غفلت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس آیت کریمہ کے معنی یہ ہیں کہ پرندوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسی ہئیت میں پیدا کیا ہے جو ان کے اڑے کے لئے درست ہے ‘ پھر ان کے لئے اس لطیف ہوا کو مسخر کردیا ‘ پھر ان پر میں حرکت کرنے کی قوت اور وہ چیز ودیعت کی جن کے ذریعے سے وہ اڑنے پر قادر ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت لامحدود علم ‘ تمام مخلوق پر اس کی عنایت ربانی اور اس کے اقتدار کامل کی دلیل ہے۔ نہایت بابرکت ہے اللہ تعالیٰ جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
Ayahs 16:80–82

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تمہارے لئے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا اور اسی نے چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لئے ڈیرے بنائے جن کو تم سبک دیکھ کر سفر اور حضر میں کام لاتے ہو۔ اور ان کی اون اور ریشم اور بالوں سے تم اسباب اور برتنے کی چیزیں (بناتے ہو جو) مدت تک (کام دیتی ہیں)

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لئے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں اور (ایسے) کرتے (بھی) جو تم کو (اسلحہ) جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا پنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرماں بردار بنو۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ اعراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے۔

آیت : (80-83) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یا دلاتا ہے اور ان سے ان نعمتوں کے اعتراف اور ان پر شکر کا مطالبہ کرتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (واللہ جعل لکم من بیوتکم سکنا) ” اور اللہ ہی نے تمہارے لئے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے گھر اور بڑے بڑے محلبنائے جو گرمی اور سردی سے بچاتے ہیں ‘ تمہیں ‘ تمہاری اولاد اور تمہارے مال و متاع کو ٹھکانا مہیا کرنے ہیں۔ تم ان گھروں میں ‘ اپنے مختلف اقسام کے فوائد اور مصالح کے لئے کمرے اور بالا خانے بناتے ہو۔ ان گھروں میں تمہارے مال و متاع اور تمہاری عزت و ناموس کی حفاظت ہے اور اس قسم کے دیگر فوائد جن کا روز مشاہد ہوتا ہے۔ (وجعل لکممن جنود الانعام) ” اور بنا دیئے تمہارے لئے چوپاؤں کی کھالوں سے “ یعنی یہ تو خود ان چوپایوں کی کھال سے یا اس کھال پر اگنے والے بالوں اور اون سے (بیوتا تستخفونھا) ” ڈیرے ‘ جو ہلکے رہتے ہیں تم پر “ یعنی جن کے بوج کو اٹھانا تمہارے لئے بہت آسان ہوتا ہے (یوم ظعنکم ویوم اقامتکم) ” سفر اور حضر میں “ یعنی وہ سفر اور ان منزلوں میں تمہارے ساتھ ہوتے ہیں جہاں گھر بنانا تمہارا مقصد نہیں ہوتا۔ پس یہ خیمے تمہیں گرمی ‘ سردی اور بارش سے بچاتے ہیں اور تمہارے مال و متاع کو بھی بارشوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ (و) ” اور “ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے بنائے (ومن اصوافھا) ” انکی اون سے۔ “ یعنی ان چوپایوں کی پشم سے (واوبار ھا واشعار ھا اثاثا) ” اور اونٹوں کی پشن سے اور بکریوں کے بالوں سے کتنے اسباب “ (اٹاٹ) کا لفظ برتنوں ‘ خرجیوں ‘ بچھونوں ‘ لباس اور اوپراوڑھنے والے کپڑے وغیرہ سب کو شامل ہے (ومتاعا الی حین) ” اور استعمال کی چیزیں ایک وقت مقرر تک “ یعنی ان چیزوں کو اس دنیا میں استعمال کرتے ہو اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہو۔ پس یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کی صنعت و حرفت کے لئے اللہ نے بندوں کو مقرر کردیا ہے۔ (واللہ جعل لکممما خلق) ” اور بنا دیئے اللہ نے تمہارے واسطے ان میں سے جن کو پیدا کیا “ یعنی جن میں تمہارے لئے کوئی صنعت نہیں ہے۔ (ظلاً ) ” سائے “ مثلاً درختوں پہاڑوں اور ٹٰلوں کے سائے۔ (وجعل لکم منالجبال اکنانا) ” اور بنادیں تمہارے لئے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہیں “ یعنی غار اور کھوہ بنائے جہاں تم گرمی ‘ بارش اور اپنے دشمنوں سے بچنے کے لئے پناہ لیتے ہو (وجعل لکم سرابیل) ” اور بنا دیئے تمہارے لئے کرتے “ یعنی لباس اور کپڑے (تقیکم الحر) ” اور تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سردی کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ اس سورة مبارکہ کی ابتداء میں اصولی نعمتوں کا ذکر ہے اور اس کے آخر میں انکا م اور کا ذکر ہے جو ان نعمتوں کی تکمیل کرتے ہیں۔ سردی میں بچاؤ ایک بنیادی نعمت اور ضرورت ہے اللہ تعالیٰ نے سورت کی ابتداء میں اس کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے : (لکم فیھا دف و منافع) (النحل :5/16) ” جن میں تمہارے لئے جاڑے کا سامان ہے اور فائدے ہیں “ (وسرابیل تقیکم باسکم) ” اور کرتے جو تمہیں لڑائی سے محفوظ رکھیں۔ “ یعنی وہ لباس جو جنگ اور لڑائی کے وقت تمہیں ہتھیاروں کی زد سے بچاتے ہیں مثلاً زرہ ‘ بکتر وغیرہ (کذلک یتم نعمتۃ) ” اسی طرح پوری کرتا ہے وہ اپنی نعمت “ اس نے تمہیں لا محدود نعمتوں سے نوازا ہے جن کا شمار ممکن نہیں۔ (لعلکم) ” تاکہ تم “ جب اللہ کی نعمت کو یاد کرو اور دیکھو کہ اس نعمت نے تمہیں ہر لحاظ سے ڈھانپ رکھا ہے۔ (تسلمون) ” فرماں بردار بن جاؤ “ تب شاید تم اللہ تعالیٰ کی عظمت سے سامنے سر تسلیمخم کرو اور اس کے حکم کی تعمیل کرو اور اس نعمت کو تم اس کے والی اور عطا کرنے والے کی اطاعت میں صرف کرو۔ پس نعمتوں کی کثرت بندوں کی طرف سے ایسے اسباب کی باعث بنتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی حمد وثناء میں اضافے کا موجب ہے۔ مگر ظالموں نے تکبر اور عناد ہی کا مظاہرہ کیا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا : (فان تولوا) ” پھر اگر وہ پھرجائیں “ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی آیات کے ذریعے سے تذکیر کے بعد بھی اگر وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاعت سے روگردانی کریں (فانما علیک البلغ المبین) ” تو آپ کا کام صرف کھول کر سنا دینا ہے “ ان کی ہدایت و توفیق آپ کے ذمے نہیں ہے بلکہ آپ سے صرف وعظ و تذکیر اور انذار و تحزیر کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ جب آُ نے یہ فرض ادا کردیا تو ان کا حساب اللہ کے پاس ہے اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسان کو دیکھ رہے ہیں اور اس کی نعمت کو پہنچانتے ہیں مگر اس کا انکار کردیتے ہیں (و اکثر ھم الکفرون) ” اور ان کے اکثر لوگ انکار کرنے والے ہیں “ ان میں کوئی بھلائی نہیں ‘ آیت الٰہی کا بار بار آنا بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا ‘ کیونکہ ان کی عقل فساد کا اور انکے مقاصد برائی کا شکار ہیں ‘ وہ عنقریب دیکھ لیں گے کہ اللہ تعالیٰ حق کے ساتھ عناد رکھنے والے جابر ‘ اس کی نعمتوں کی ناشکری کرنے ولاے اور اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ تکبر سے پیش آنے والے کو سزا دے گا۔
Ayahs 16:83–87

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں مگر (واقف ہو کر) ان سے انکار کرتے ہیں اور یہ اکثر ناشکرے ہیں۔

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور جس دن ہم ہر امت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ ان کے عذر قبول کئے جائیں گے۔

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو ان کے عذاب ہی میں تحفیف کی جائیگی اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب مشرک اپنے (بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار ! یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ تو وہ (ان کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) ان سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو۔

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا۔

آیت : (84-87) اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کفار کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس روز ان سے کوئی عذر قبول کیا جائے نہ ان سے عذاب کو رفع کیا جائے گا اور ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور وہ اقرار کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اس پر افتراز پردازی کیا کرتے تھے ‘ چناچہ فرمایا : (ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا) ” اور جس دن کھڑا کریں گے ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا “ جو ان کے اعمال پر گواہی دے گا کہ انہوں نے داعی ہدایت کو کیا جواب دیا تھا اور یہ گواہ جس کو اللہ گواہی کے لئے کھڑا کرے گا ‘ وہ سب سے پاک اور سب سے عادل گواہ ہوگا اور یہ گواہ رسول ہی ہوں گے۔ جب وہ گواہی دیں گے تو لوگوں کے خلاف فیصلہ مکمل ہوجائے گا۔ (ثم لا یؤذن للذین کفروا) ” پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی “ یعنی کفار کو معذرت پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ ان کو اپنے موقف کے بطلان کے معلوم ہونے کے بعد ان کا عذر ‘ محض جھوٹا ہوگا ‘ جو ان کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اگر وہ دنیا میں واپس جانا چاہیں گے تاکہ وہ اپنے گناہوں کی تلافی کرسکیں تو انہیں واپس جانے کی اجازت ملے گی نہ ان سے ناراضی کو دور کیا جائے گا بلکہ جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو ان کو جلدی سے عذاب میں دھکیل دیا جائے گا ‘ وہ عذاب جس میں کوئی تخفیف کی جائے گی نہ ان کو کوئی ڈھیل دی جائے گی نہ مہلت ‘ کیونکہ ان کے دامن میں کوئی نیکی نہ ہوگی ان کے اعمال کو شمار کر کے ان کے سامنے کیا جائے گا وہ اس کا اقرار کریں گے اور شرمسار ہوں گے۔ (واذا را الذین اشرکوا شرکاء ھم) ” اور جب دیکھیں گے مشرک اپنے شریکوں کو “ یعنی قیامت کے روز جب وہ اپنے خود ساختہ شریکوں کو دیکھیں گے اور ان کا بطلان ان پر واضح ہوجائے گا اور ان کے لئے انکار ممکن نہیں رہے گا۔ (قالوا ربنا ھؤلاء شرکاؤنا الذین کناند عوا من دونک) ” تو کہیں گے ‘ اے ہمارے رب ! یہ ہمارے شریک ہیں جن وکق ہم تجھے چھوڑ کر پکارتے تھے۔ “ یہ کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ سفارش کرسکتے ہیں۔ وہ خود پکار پکار کر ان خود ساختہ معبودوں کے بطلان کا اعلان کر کے ان کا انکار کریں گے اور ان کے اور ان کے معبودوں کے درمیان عداوت ظاہر ہوجائے گی۔ (فالقوا الیھم القول) ” پس ڈالیں گے وہ ان کی طرف بات “ یعنی ان کے خود ساختہ معبودان کے قول کی تردید کرتے ہوئے کہیں گے : (انکم لکذبون) ” بیشک تم جھوٹے ہو “ کیونکہ تم نے ہمیں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا اور تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہماری بھی عبادت کیا کرتے تھے۔ پس ہم نے تمہیں عبادت کا حکم دیا تھا نہ ہم نے کبھی الوہیت کے استحقاق کا دعویٰ کیا تھا ‘ اس لئے اپنے آپ کو کوسو۔ تب اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے شرک کو تسلیم کرلیں گے اور اس کے فیصلے کے سامنے جھک جائیں گے اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں (وضل عنھم ما کانوا یفترون) ” اور ان سے گم ہوجائیں گے جو جھوٹ وہ باندھتے تھے “ پس وہ جہنم میں داخل ہون گے اور ان کے دل خود اپنے آپ پر غصہ اور اپنے رب کی حمد و ستائش سے لبریز ہوں گے ‘ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں انہی بداعمالیوں کی سزا دی ہے جن کا انہوں نے ارتکاب کیا۔
Ayah 16:88

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکا ہم ان کو عذاب پر عذاب دیں گے اس لئے کہ شرارت کیا کرتے تھے۔

آیت : (88) اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ میں مجرموں کے انجام کا ذکر فرماتا ہے کہ انہوں نے کفر کیا ‘ آیات الٰہی کی تکذیب کی ‘ انبیاء و رسل کے خلاف جنگ کی ‘ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا اور گمراہی کے داعی بن گئے ‘ اس لئے وہ کئی گنا عذاب کے مستحق قرار پائے ‘ جس طرح ان کا جرم کئی گنا ہے اور جس طرح انہوں نے اللہ کی زمین میں فساد برپا کیا۔
Ayah 16:89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر امت میں سے خود ان پر گواہ کھڑے کریں گے اور (اے پیغمبر ﷺ تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے۔

آیت : (89) گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر امت میں ایک گواہ کھڑا کرے گا۔ (فی کل امۃ شھیدا) یہاں بھی گواہ کھڑا کرنے کا ذکر کیا ہے اور رسول کریم ﷺ کے گواہ ہونے کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (وجئنا بک شھیدا علی ھؤلاء) ” اور لائیں گے ہم آپ کو ان پر گواہ “ یعنی آپ ﷺ اپنی امت کے خیر و شر پر گواہ ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کمال عدل ہے کہ ہر رسول انی امت پر گواہی دے گا کیونکہ وہ اپنی امت کے اعمال کے بارے میں کسی دوسرے کی نسبت زیادہ اطلاع رکھتا ہے ‘ وہ اتنا عادل اور اپنی امت کے بارے میں اتنا شفیق ہوتا ہے کہ وہ ان کے بارے میں صرف اسی چیز کی گواہی دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تالیٰ کا یہ قول ہے : (ولذلک جعلنکم امۃ وسطا لتکونوا شھیداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا) (البقرۃ : 143/2) ” اور اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول ﷺ تم پر گواہی دیں۔ “ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ (فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھیدا وجئنا بک علی ھؤلاء شھیدا۔ یومئذ یود الذین کفروا وعصوا الرسول لو تسوی بھم الارض) (النساء :41-42/4) ” اس وقت ان کا کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور ان لوگوں پر آپ کو گواہ بنائیں گے۔ اس روز کافر اور رسول کی نافرمانی کرنے والے تمنا کریں گے کہ کاش وہ زمین میں سما جائیں اور ان پر مٹی برابر کردی جائے۔ “ (وانزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شیء) ” اور اتاری ہم نے آپ پر کتاب ‘ کھلا بیان ہر چیز کا “ دین کے اصول و فروع ‘ دنیا و آخرت کے احکام اور ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہیں اس کتاب میں واضح الفاظ و معانی کے ساتھ مکمل طور پر بیان کردی گئی ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کریم میں بڑے بڑے امور کو بتکرار بیان کرتا ہے جن کے بارے میں قلب کو ہر وقت اور ہر گھڑی تکرار اور بار بار دہرانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان امور کا مختلف عبارات اور متنوع دلائل کے ساتھ اعادہ کرتا رہتا ہے تاکہ وہ دلوں کی گہرائی میں اتر کر اچھی طرح جاگزیں ہوجائیں۔ پس یہ دل میں جس طرح راسخ ہوتے ہیں اس کے مطابق خیر و شر کی صورت میں ثرات حاصل ہوتے ہیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نہایت قلیل اور واضح الفاظ میں بہت سے معانی کردیتا ہے ‘ الفاظ ان معانی کے لئے بنیاد اور اساس کا کام دیتے ہیں۔ اس آیت کریمہ کے بعد آنے والی آیت اور اس میں جو اوامرو نواہی ہیں ‘ جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا ‘ اس پر غو ر کریں تو یہ نکتہ واضح ہوجائے گا۔ چونکہ یہ قرآن عظیم ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اس لئے تمام انسانوں پر حجت ہے۔ اس کے خلاف ظالموں کی حجت منقطع ہوگئی۔ مسلمانوں نے اس سے استفادہ کیا اور وہ ان کے لئے راہ نما بن گیا۔ وہ اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ وہ ان کے لئے رحمت ہے جس کے ذریعے سے وہ دنیا و آخرت کی ہر بھلائی حاصل کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے سے جو عہ علم نافع اور علم صالح حاصل کرتے ہیں ‘ وہی ہدایت ہے۔ دنیا و آخرت کا جو ثواب اس پر مترتب ہوتا ہے ‘ مثلاً اصلاح قلب ‘ اطمینان قلب اور نیکی وغیرہ ‘ وہی رحمت ہے۔ قرآن عظیم کے معانی کے مطابق ‘ جو کہ بلند ترین معانی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ تربیت کے بغیر عقل کی تکمیل نہیں ہوتی۔۔۔۔ اس کے معانی کے مطابق تربیت کے بغیر اعمال کریمہ ‘ اخلاق فاضلہ ‘ رزق کشادہ ‘ قول و فعل کے ذریعے سے دشمنوں پر فتح و نصرت ‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی عزت و اکرام والی جنت حاصل نہیں ہوتی جس میں ہمیشہ رہنے والی ایسی ایسی نعمتیں ہیں جن کو رب رحیم کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Ayah 16:90

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی اور نامعقول کاموں اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔

آیت : (90) اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس عدل کا حکم دیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں عدل اور بندوں کے حقوق کے بارے میں عدل کو شامل ہے۔ عدل یہ ہے کہ تمام حقوق کو پوری طرح ادا کیا جائے۔ بندہ مالی ‘ بدنی اور دونوں پر مبنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کئے ہیں۔ مخلوق کے ساتھ کامل انصاف پر مبنی معاملہ کیا جائے۔ پس ہر ولی اپنے ولایت کے تحت آنے والے ہر معاملے میں عدل و انصاف سے کام لے ‘ خواہ یہ ولایت امامت کبریٰ (خلافت و امارت) یا ولایت قضاء یا خلیفہ کی نیابت یا قاضی کی نیابت ہو ‘ اس معاملے میں سب برابر ہیں۔ عدل وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور اپنے رسول ﷺ کے توسط سے اہل ایمان پر فرض کیا ہے اور عدل کے راستے پر گامزن رہنے کا حکم دیا ہے۔ معاملات میں عدل یہ ہے کہ خریدو فروخت اور تمام معاوضات میں آُ لوگوں کے ساتھ اس طرح معاملہ کریں کہ آپ کے ذمہ جو کچھ ہے اسے پوری طرح ادا کریں۔ آپ ان کے حق میں کمہ نہ دھوکہ دیں نہ ان کے ساتھ فریب کاری کریں اور نہ ان پر ظلم کریں۔ عدل کرنا فرض ہے ‘ احسان سے پیش آنا فضیلت اور مستحب ہے ‘ مثلاً لوگوں کو مال ‘ بدن ‘ علم اور دیگر مختلف قسم کی منفعتوں کے ذریعے سے فائدہ پہنچانا حتیٰ کہ اس جانور کے ساتھ احسان کرنا بھی اس میں داخل ہے جس کا گوشت کھایا جاتا ہے یا نہیں کھایا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرابت داروں کو عطا کرنے کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔۔۔۔۔ اگرچہ وہ (احسان کرنے کے) عمومی حکم میں داخل ہیں۔۔۔۔۔ کیونکہ ان کا حق موکد ‘ ان کے ساتھ صلہ رحمی اور نیکی متعین ہے اور صلہ رحمی کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس حکم میں ‘ قریب اور دور کے تمام رشتہ دار داخل ہیں مگر جو رشتہ میں زیادہ قریب ہے وہ صلہ رحمی اور حسن سلوک کا زیادہ مستحق ہے۔ (وینھی عن الفحشاء) ” اور وہ فحشاء سے منع کرتا ہے “ (الفحشاء) ہر اس بڑے گناہ کو کہتے ہیں جس کو شریعت اور فطرت سلیم برا سمجھتی ہو ‘ مثلاً شرک ‘ قتل ناحق ‘ زنا ‘ چوری ‘ خود پسندی ‘ تکبر اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حقارت سے پیش آنا وغیرہ۔ (المنکر) میں ہر وہ گناہ اور معصیت داخل ہے جس کا تعلق حقوق اللہ کے ساتھ ہو۔ (البغی) سے مراد ہے لوگوں کے جان ‘ مال اور ناموس پر ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرنا۔۔۔۔۔ اس طرح یہ آیت کریمہ تمام مامورات و منہیات کی جامع ہے کسئی چیز ایسی نہیں جو اس میں داخل نہ ہو۔ یہ ایک اصول ہے جس کی طرف تمام جزئیات لوٹتی ہیں۔ پس ہر مسئلہ جو عدل ‘ احسان یا قرابت داروں کو عطا کرنے پر مشتمل ہے تو وہ ان چیزوں میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور وہ مسئلہ جو فواحش ‘ منکرات یا ظلم اور زیادتی پر مشتمل ہے تو وہ ان چیزوں میں سے ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اور اسی سے اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کے حسن و قبح کی معرفت حاصل ہوتی ہے ‘ اسی کے ذریعے سے ولگوں کے اقوال کو جانچا جاتا ہے اور اسی کی طرف تمام احوال لوٹتے ہیں۔ نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے کلام کو ہدایت ‘ شفاء ‘ روشنی اور تمام اشیاء کو پرکھنے کے لئے فرقان بنایا۔ اسی لئے فرمایا : (یعظکم) ” وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان امور کے ذریعے سے تمہیں نصیحت کرتا ہے جن کو اس نے تمہارے لئے اپنی کتاب میں واضح فرمایا۔ وہ تمہیں اس چیز کا حکم دیتا ہے جس میں تمہاری بھلائی ہے اور اس چیز سے روکتا ہے جو تمہارے لئے ضرر رساں ہے۔ (لعلکم تذکروں) ” تاکہ تم نصیحت پکرو “ جس چیز کی تمہیں نصیحت کی گئی ہے۔ پس تم اس کو سمجھو کیونکہ جب تم اس سے نصیحت حاصل کر کے اس کو سمجھ لو گے تب تم اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرو گے اور تم ایسی سعادت سے فیض یاب ہو گے جس کے اندر شقاوت کا شائبہ نہیں ہوتا۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے ان امور کا حکم دیا جو اصل شریعت میں واجب ہیں ‘ تو اس نے ان امور کے پورا کرنے کا بھی حکم دیا جن کو بندہ خود اپنے آپ پر واجب کرتا ہے ‘ چناچہ فرمایا :
Ayahs 16:91–92

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور جب خدا سے عہد واثق کرو تو اس کو پورا کرو۔ اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو ان کو مت توڑو کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو جانتا ہے۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا پھر اس کو توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا۔

آیت : (91-92) یہ آیت کریمہ ان تمام عہدوں کو شامل ہے جو بندے نے اپنے رب کے ساتھ کئے ہیں ‘ مثلاً عبادات ‘ نذریں اور قسمیں وغیرہ جن کو بندے نے اپنے آپ پر لازم کیا ہو جبکہ وہ صحیح اور جائز ہوں اور یہ اس معاہدے کو بھی شامل ہے جو دو بندوں کے درمیان ہو ‘ مثلاً لین دین کرنے والے دو اشخاص کے درمیان معاہدہ اور وہ وعدہ جو بندہ کسی اور کے ساتھ کرتا ہے اور اپنے آُ پر اس کو لازم قرار دے لیتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں قدرت رکھتے ہوئے معاہدوں اور وعدوں کو پورا کرنا واجب ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے عہد توڑنے سے روکا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا) ” اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو ان کو مت توڑو۔ “ یعنی اللہ کے نام پر قسمیں کھانے کے بعد ان کو مت توڑا۔ (وقد جعلتم اللہ علیکم) ” اور تم نے کیا ہے اللہ کو اپنا “ اے معاہدہ کرنے والو ! (کفیلا) ” ضامن “ اس لئے تمہارے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ تم اس کے مطابق عمل نہ کرو جس پر تم نے اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن مقرر کیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کو کترک کرنا اور اس کی استہانت ہے۔ حالانکہ دوسرا فریق تم سے حلف لینے اور اس تاکید پر راضی ہوگیا جس میں تم نے اللہ تعالیٰ کو ضامن بنایا۔ جس طرح اس نے تمہیں امن بنایا اور تم پر اپنے حسن ظن کا اظہار کیا ہے اسی طرح تم بھی اپنے الفاظ اور تاکید کی پاسداری کرو۔ (ان اللہ یعلم ما تفعلون) ” تم جو کھچ کرتے ہو ‘ اللہ جانتا ہے “ اس لئے اللہ تعالیٰ ہر عمل کرنے والوں کو اس کی نیت اور قصد کے مطابق جزادے گا۔ (ولاتکونوا) اپنے عہد توڑنے میں بدترین مثال نہ بنو جو بد عہدی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے والوں کی صفت پر دلالت کرتی ہے (کالتی نقضب غزلھا من بعد قوۃ انکاثا) ” اس عورت کی مانند ‘ جس نے مضبوطی سے سوت کاتنے کے بعد اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ “ یعنی پہلے اس نے محنت سے سوت کا تا ‘ جب وہ مضبوط اور اس کی خواہش کے مطابق ہوگیا ‘ تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا ‘ گویا اس نے پہلے کاتنے کی محنت کی ‘ پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں محنت کی۔ پس ناکامی ‘ تھکاوٹ ‘ حماقت اور عقل کی کمی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ اسی طرح جو کوئی عہدہ کو توڑتا ہے وہ ظلم ‘ جاہل اور احمق ہے ‘ اس کے دین اور مروت میں نقص ہے۔ (تتخذون ایمانکم دخلا بینکم ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ) ” کہ ٹھہراؤ اپنی قسموں کو دخل دینے کا بہانہ آپس میں ‘ اس واسطے کہ ایک فرقہ ہو چڑھا ہوا دوسرے سے “ یعنی تمہارے یہ حالت نہیں ہونی چاہیے کہ موکد اور پختہ قسمیں اٹھاؤ ‘ پھر موقع اور حالات کی تلاش میں رہو۔ پس ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اگر معاہدہ کرنے والا کمزور ہو اور مخالف فریق پر قدرت نہ رکھتا ہو تو معاہدے کو پورا کرے مگر قسم اور معاہدے کی حرمت اور تعظیم کی خاطر نہیں بلکہ اپنی بےبسی کی بنا پر اور اگر معاہدہ کرنے والا طاقتور ہو اور معاہدہ توڑنے میں اسے کوئی دنیاوی مصلحت نظر آتی ہو تو اسے توڑ دالے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے عہد کی پرواہ نہ کرے۔ یہ سب کچھ خواہشات نفس کے تابع ہو اور اسے اللہ تعالیٰ کی مراد ‘ مروت انسانی اور اخلاق فاضلہ پر مقدم رکھا گیا ہو اور یہ اس لئے کہ ایک قوم عدالت اور طاقت کے لحاظ سے دوسری قوم سے بڑی ہے۔ (انما یبلوکم اللہ بہ) ” یہ تو اللہ پر کھتا ہے تم کو اس کے ذریعے سے “ یہ اللہ کی طرف سے تمہارا امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمانے کے لئے مصیبتوں کے اسباب مقرر کرتا ہے جس سے سچا اور وفادار شخص بدعہد اور بدبخت شخص سے ممتاز ہوجاتا ہے۔ (ولیبینن لکم یوم القیمۃ ما کنتم فیہ تختلفون) ” اور آئندہ کھول دے گا اللہ تمہارے لئے قیام کے دن جس بات میں تم جھگڑتے تھے “ پس وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کی جزا دے گا اور بد عہدی کرنے والے کو رسوا کرے گا۔
Ayah 16:93

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو (اس دن) ان کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائیگا۔

آیت : (93) (ولو شاء اللہ) ” اور اگر اللہ چاہے “ تو تمام لوگوں کو ہداکت پر جمع کر دے اور (لجعلکم امۃ واحدۃ) ” تم کو ایک امت بنا دے۔ “ مگر اللہ تعالیٰ ہدایت دینے اور گمراہ کرنے میں یکتا ہے اور اس کا ہدایت دینا اور گمراہ کرنا اس کے ایسے افعال ہیں جو اس کے علم و حکمت کے تابع ہیں ‘ وہ اپنے فضل و کرم سے ایسے شخص کو ہدایت سے نوازتا ہے جو اس کا مستحق ہے اور اپنے عدل کی بنا پر ایسے شخص کو ہدایت سے محروم کردیتا ہے جو اس کا مستحق نہیں۔ (ولتسئلن عما کنتھم تعملون) ” اور جو عمل تم کرتے ہو ان کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔ “ یعنی تمہارے اچھے برے اعمال کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ عدل کے ساتھ تمہیں اسکی پوری پوری جزا دے گا۔
Ayah 16:94

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑکھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو خدا کے راستے سے روکا تم کو عقوبت کا مزا چکھنا پڑے اور بڑا سخت عذاب ملے۔

آیت : (94) (ولاتتخذو ایمانکم) ” اور نہ ٹھہراؤ تم اپنی قسموں کو “ یعنی اپنے عہد اور میثاق کو (دخلاً بینکم) ” آپس میں دھوکے کا ذریعہ “ یعنی اپنی خواہشات نفس کا تابع نہ بناؤ کہ جب چاہو پورا کردو اور جب چاہو توڑ دو ۔ اگر تم ایسا کرو گے تو صراط مستقیم پر سے تمہارے قدم پھسل جائیں گے۔ (وتذوقوا السوء) ” اور چکھو گے تم سزا “ یعنی تم ایسے عذاب کا مزا چکھو گے جو بہت بڑا اور غمزدہ کردینے والا عذاب ہوگا (بما صددتم عن سبیل اللہ) ” اس بات پر کہ تم نے اللہ کے راستے سے روکا “ کیونکہ تم خود بھی راہ راست سے بھٹکے اور دوسروں کو بھی بھٹکا دیا۔ (ولکم عذاب عظیم) ” اور تمہارے لئے عذاب سے بڑا “ یعنی کئی گنا۔
Ayahs 16:95–97

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور خدا سے جو تم نے عہد کیا ہے (اس کو مت بیچو اور) اسکے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو (کیونکہ ایفائے عہد کا) جو (صلہ) خدا کے ہاں مقرر ہے وہ اگر سمجھو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجاتا ہے جو خدا کے پاس ہے وہ باقی ہے (کہ کبھی ختم نہیں ہوگا) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جو شخص نیک عمل کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے۔

آیت : (95-97) اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو متاع دنیا اور اس کے چند ٹکڑوں کی خاطر عہد اور قسم کو توڑتے ہیں۔ فرمایا : (ولاتشتروابعھد اللہ ثمنا قلیلا) ” اور نہ لو تم اللہ کے عہد پر تھوڑا سا مول “ یعنی وہ متاع دنیا جو تم بد عہدی کے ذریعے سے حاصل کرتے ہو۔ (انما عنداللہ) ” بیشک جو اللہ کے ہاں ہے “ دنیوی اور خروی ثواب ‘ اس شخص کے لئے جو اللہ کی رضا کو ترجیح دیتا اور اس عہد کو پورا کرتا ہے جو اللہ نے اس لئے لیا۔ (ھوخیر لکم) ” وہ تمہارے لئے بہتر ہے “ اور وہ زائل ہوجانے والی دنیا کی متاع سے کہیں بہتر ہے۔ پس انہوں نے باقی رہنے والی چیز کو ختم ہوجانے والی چیز پر ترجیح دی ہے۔ (ماعندکم) ” جو کچھ تمہارے پاس ہے “ خواہ وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو (ینفذ) ” وہ ختم (ہو کر فنا) ہوجائے گا “ (وما عنداللہ باق) ” اور جو اللہ کے پاس ہے ‘ وہ باقی رہے گا “ کیونکہ وہ خود باقی رہنے والا ہے ‘ اسے فنا اور زوال نہیں۔ پس وہ شخص عقل مند نہیں جو فانی اور خسیس چیز کو ہمیشہ رہنے والی نفیس چیز پر ترجیح دیتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ (بل تؤثرون الحیوۃ الدنیا والاخرۃ خیر وابقی) (الاعلی : 16-17/87) ” مگر تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی چیز ہے۔ “ (وما عنداللہ خیر للابرار) (آل عمران : 198/3) ” اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہتر ہے۔ “ اس آیت کریمہ میں زہد اور دنیا سے بےرغبتی کی ترغیب دی گئی ہے ‘ خاص طور پر زہد متعین اور اس سے مراد ان چیزوں میں بےرغبتی اور ان سے پہلو بچانا ہے جو بندے کے لئے ضرر رساں ہیں اور اس بات کی موجب ہیں کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی واجب کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ کر ان دنیاوی چیزوں میں مشغول ہوجائے اور حقوق اللہ پر ان دنیاوی چیزوں کو ترجیح دینے لگے ‘ اس لئے کہ یہ زہد فرض ہے۔ زہد کے اسباب میں سے ایک داعیہ (سبب) یہ ہے کہ ابندہ دنیا کی ناپائیدار لذات اور شہوات کا آخرت کی بھلائیوں کے ساتھ تقابل کرے۔ وہ ان کے درمیان بہت بڑا فرق اور تفاوت ائے گا اور یہ تفاوت اسے بلند تر چیز کو ترجیح دینے پر آمادہ کرے گا۔ اور عبادات مثلاً نماز ‘ روزے اور ذکر اذکار وغیرہ پر توجہ مرکوز کرکے دنیا سے منقطع ہوجانا ‘ زہد ممدوح نہیں ہے بلکہ صحیح معنوں میں زاہد بننا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ بندہ مقدور بھر شریعت کے ظاہری اور باطنی احکام کی تعمیل نہ کرے اور قول و فعل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت نہ دے۔ پس حقیقی زہد یہ ہے کہ بندہ ہر چیز سے منہ موڑ لے جس کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں اور ہر اس چیز کے حصول کے لئے رغبت کے ساتھ کوشش کرے جو دین و دنیا میں فائدہ مند ہے۔ (ولنجزین الذین صبروا) ” اور ہم بدلے میں دیں گے صبر کرنے والوں کو “ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے اور اس کی نافرمانی سے بازرہ کر صبر کرتے ہیں اور دنیاوی شہوات سے منہ موڑ لیتے ہیں جو ان کے دین کے لئے مضر ہیں۔ (اجرھم باحسن ماکونوا یعملون) ” ان کے اعمال کا نہایت اچھا بدلہ۔ “ یعنی نیک کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ تک۔ کیونکہ جو کوئی نیک کام کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والون کے لئے دنیاوی اور اخروی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (من عمل صلحا من ذکراوانثی وھوا مومن) ” جس نے نیک کام کیا مرد ہو یا عورت وہ مومن ہو “ اس لئے کہ ایمان ‘ اعمال صالح کی صحت اور ان کی قبولیت کے لئے شرط ہے بلکہ اعمال صالحہ کو ایمان کے بغیر اعمال صالحہ کہا ہی نہیں جاسکتا۔ ایمان ‘ ایمان صالحہ کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ ایمان تصدیق جازم کا نام ہے۔ واجبات و مستحبات پر مشتمل اعمال جو ارح ایمان کا ثمرہ ہیں۔ پس جو کوئی ایمان اور عمل صالح کو جمع کرلیتا ہے (فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ) ” تو ہم اس کو زندگی دیں گے اچھی زندگی “ یہ زندگی اطمینان قلب ‘ سکون نفس اور ان امور کی طرف عدم التفات پر مشتمل ہے جو قلب کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح رزق حلال سے نوازتا ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ (النجزینھم) ” اور ہم بدلے میں دیں گے ان کو “ یعنی آخرت میں (اجرھم باحسن ماکانوا یعملون) ” ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں مختلف قسم کی لذات سے نوازے گا جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں کبھی ان کا خیال گزرا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں بھی بھلائی سے نوازے گا اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے گا۔
Ayahs 16:98–100

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

کہ جو مومن ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں ان پر اس کا کچھ زور نہیں چلتا۔

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

اس کا زور انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے ہیں اور اس کے (وسو سے کے) سبب (خدا کے ساتھ) شریک مقرر کرتے ہیں۔

آیت : (98-100) یعنی جب آپ کتاب اللہ کی قرئات کا ارادہ کریں ‘ جو تمام کتابوں میں سے سے زیادہ شرف کی حامل اور جلیل ترین کتاب ہے۔ اس کتاب میں دلوں کی اصلاح اور بہت سے علوم پنہاں ہیں۔ بندہ جب فضیلت والے امور کی ابتداء کرتا ہے تو شیطان کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ بندے کو ان کے مقاصد اور معافی سے دور کر دے۔ شیطان کے شر سے سلامتی کا راستہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی پناہ کے لئے التجا کرے ‘ چناچہ کتاب اللہ کی قرئات کرنے والا تعوذ کے معانی میں تدبر کے ساتھ (اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم) پڑھے اور اپنے دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے کہ وہ شیطان کے شر کو اس سے دور رکھے گا۔ وہ شیطان کے وسوسوں اور ردی افکار کو دور جھٹکنے کی پوری کوشش کرے اور ان وسوسوں کو دفع کرنے کے لئے مضبوط ترین سبب استعمال کرے اور وہ ہے ایمان اور توکل کے زیور سے آراستہ ہونا اس لئے کہ شیطان (لیس لہ سلطن) ” اسے کوئی تسلط حاصل نہیں “ (علی الذین امنوا وعلی ربھم) ” ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور وہ اپنے رب پر “ جس کا کوئی شریک نہیں (یتوکلون) ” بھروسہ کرتے ہیں۔ “ پس اللہ تبارک و تعالیٰ توکل کرنے والے اہل ایمان سے شیطان کے شر کو دور ہٹا دیتا ہے اور شیطان کو ان پر کوئی اختیار نہیں رہتا۔ (انما سلطنہ) یعنی شیطان کا تسلط (علی الذین یتولونہ) ” صرف انہی لوگوں پر ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں “ اور اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دوستی سے نکل کس شیطان کی اطاعت میں داخل ہوجاتے ہیں اور اس کے گروہ میں شمولتی اختیار کرلیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو شیطان کی سرپرستی میں دے دیتے ہیں۔ شیطان ان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ابھارتا رہتا ہے اور انہیں جہنم کے راستوں پر لے جاتا ہے۔
Ayahs 16:101–102

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جب ہم کوئی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم تو (یونہی) اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں۔

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لیکر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے۔

آیت : (101-102) اللہ تبارک و تعالیٰ اس قرآن کی تکذٰب کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم میں ایسے امور کی تلاش میں رہتے ہیں جو ان کے لئے حجت ہوں حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ حاکم اور حکمت والا ہے ‘ جو احکام کو مشروع کرتا ہے اور اپنی حکمت اور رحمت کی بنا پر کسی حکم کو بدل کر اس کی جگہ کسی دوسرے حکم کو لے آتا ہے۔ پس جب وہ اس قسم کی تبدیلی دیکھتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم میں عیب چینی کرتے ہیں (قالوا انما انت مفتر) ” تو کہتے ہیں کہ تو افترا پرداز ہے “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (بل اکثرھم لا یعلمون) ” بلکہ ان میں سے اکثر نادان ہیں۔ “ پس وہ جاہل ہیں جنہیں اپنے رب کے بارے میں کچھ علم ہے نہ شریعت کے بارے میں اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ جاہل کی جرح و قدح کا کوئی اعتبارک نہیں کیونکہ کسی چیز کے بارے میں جرح و قدح اس کے بارے میں علم کی ایک شاخ ہے جو مدح اور قدح کی موجب ہے۔ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (قلنزلہ روح القدوس) ” کہہ دیجئے ! اس کی روح القدس نے اتارا “ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے فرشتے جناب جبرائیل (علیہ السلام) ہیں جو نہایت مقدس اور ہر عیب ‘ خیانت اور آفت سے پاک ہیں۔ (من ربک بالحق) ” آپ کے رب کی طرف سے سچائی کے ساتھ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ھق کے ساتھ نازل ہوا ہے ‘ اس کی خبریں اور اس کے اوامرونواہی حق پر مشتمل ہیں۔ پس کسی کے لئے گنجائش نہیں کہ اس میں بامعنی جرح و قدح کرسکے ‘ کیونکہ جب اسے معلوم ہوجائے گا کہ یہ حق ہے تو اسے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ جو چیز اس کے متناقض اور معارض ہے ‘ وہ باطل ہے۔ (لیثبت الذین امنوا) ” تاکہ ثبات کرے ایمان والوں کو “ وقتاً فوقتاً اس کی آیات کے نزول اور ان پر توارد کے وقت۔ اور یوں رفتہ رفتہ حق ان کے دلوں میں جاگزیں ہو کر پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہوجاتا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ حق ہے اور جب اللہ تعالیٰ کوئی حکم مشروع کر کے اسے منسوخ کردیتا ہے تو انہیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو اسی جیسے یا اس سے بہتر کسی اور حکم سے دبل دیا ہے ‘ نیز اللہ تعالیٰ کا کسی حکم کو منسوخ کرنا حکمت ربانی اور عقلی مناسبت رکھتا ہے۔ (سھدی وبشری للمسلمین) ” اور ہدایت اور خوش خبری ہے واسطے مسلمانوں کے “ یعنی اللہ تعالیٰ اشیاء کے حقائق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے ‘ ان کے سامنے باطل میں سے حق اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضھ کرتا ہی اور وہ انہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لئے اچھا اجر ہے جہاں وہ ابدالآ باد تک رہیں گے ‘ نیز اللہ تعالیٰ کا اپنے احکام کو رفتہ رفتہ نازل کرنا اہل ایمان کے لئے زیادہ ہدایت اور بشارت کا باعث بنتا ہے۔ یک بارگی نازل کرنے سے فکر تفریق اور تشتت کا شکار ہوا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ حکم اور بشارت کو زیادہ کثرت سے نازل کرتا ہے۔ جب اہل ایمان ایک حکم کو سمجھ کر اس کی فہم حاصل کرلیتے ہیں ‘ انہیں اس کی مراد کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ اس کے مفاہیم و معانی سے خوب سیراب ہوجاتے ہیں تب اللہ تالیٰ اس جیسا ایک اور حکم نازل کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ کتاب اللہ پر عمل کر کے بہت بڑے مقام پر پہنچ گئے ان کی عادات اور طبائع بدل گئیں اور انہوں نے ایسے اخلاق ‘ عادتیں اور اعمال اختیار کر لئے جن کی بنا پر وہ تمام اولین و آخرین سے بڑھ گئے۔ ان کے بعد آنے والوں کے لئے زیادہ مناسب یہی ہے کہ وہ کتاب اللہ کے علوم کے ذریعے سے اپنی تربیت کریں ‘ اس کے اخلاق کو اپنائیں ‘ گماہی اور جہالتوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں سے اس کے نور سے روشنی حاصل کریں اور تمام حالات میں اس کو اپنا راہنما بناءٰن پس اس طرح ہی ان کے دینی اور دنیاوی معاملات درست رہیں گے۔
Ayahs 16:103–105

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کیطرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے۔

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

جھوٹ افترا تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں۔

آیت : (103-105) اللہ تبارک و تعالیٰ پانے رسول ﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ (انھم یقولون انما یعلمہ) ” وہ کہتے ہیں کہ اس کو تو سکھلاتا ہے “ یعنی یہ قرآن جسے رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں (بشر) ” ایک آدمی “ اور وہ شخص جس کی طرف یہ لوگ اشارہ کرتے ہیں عجمی زبان رکھتا ہے (وھذا) اور یہ قرآن (لسان عربی مبین) ” زبان عرنی سے صاف “ کیا یہ بات ممکن ہے ؟ کیا اس بات کا ذرا بھی احتمال ہوسکتا ہے ؟ مگر جھوٹا شخص جھوٹ بولتا ہے اور وہ نہیں سوچتا کہ اس کا جھوٹ اسی کی طرف لوٹ آئے گا۔ اس کی بات ایسے تناقض اور فسا د کی حامل ہوگی جو محض تصور ہی سے اس بات کی تردید کا موجب ہوگا۔ (ان الذین لا یومنون بایت اللہ) ” بیشک وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے “ جو نہایت صرحت کے ساتھ حق مبین پر دلالت کرتی ہیں۔ پس یہ لوگ ان آیات کریمہ کو ٹھکراتے ہیں اور انہیں قبول نہیں کرتے۔ (لایھدیھم اللہ) ” ان کو اللہ ہدایت نہیں دیتا “ کیونکہ ان کے پاس ہدایت آئی مگر انہوں نے اسے ٹھکڑادیا اس لئے ان کو یہ سزا دی گئی کہ ان کو ہدایت سے محروم کردیا گیا اور اللہ تالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ یا (ولھم) ” اور ان کے واسطے “ یعنی آخرت میں (عذاب الیم) ” درد ناک عذاب ہے۔ “ (انما یفتری الکذب) یعنی جھوٹ اور افترا پردازی ان لوگوں سے صادر ہوتی ہے ( الذین لا یومنون بایت اللہ) ” جو آیات الٰہی پر ایمان نہیں رکھتے “ مثلاً وہ لوگ جو واضح دلائل آجانے کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ سے عناد رکھتے ہیں (واولئک ھم الکذبون) ” اور وہی لوگ جھوٹے ہیں “ یعنی جھوٹ ان میں منحصر ہے اور دوسروں کی بجائے وہی جھوٹ کے اطلاق کے زیادہ مستحق ہیں۔ رہے محمد مصطفیٰ ﷺ تو وہ آیات الٰہی پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب کے سامنے عاجزی کے ساتھ جھکتے ہیں اس لئے محال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھیں اور اللہ تعالیٰ سے کوئی ایسی بات منسوب کریں جو اس نے نہیں کہی۔ پس آپ کے دشمنوں نے آپ پر جھوٹ کا الزام لگایا ‘ حالانکہ جھوٹ خود ان کا وصف تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی رسوائی کو ظاہر اور ان کی فضیحت کو واضح کردیا۔ پس ہر قسم کی ستائش اسی کے لئے ہے۔
Ayahs 16:106–109

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کیساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے تو ایسوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا۔ اور اس لئے کہ خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے۔

آیت : (106-109) اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کے احولا بد کے بارے میں خبر دیتا ہے۔ (من کفر باللہ من بعد ایمانہ) ” جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اس پر ایمان لانے کے بعد “ یعنی چشم بینا سے حقائق کو دیکھ لینے کے بعد بھی اندھا ہی رہا ‘ راہ پالینے کے بعد گمراہی کی طرف لوٹ گیا اور اس نے بضا ورغبت ‘ شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ کفر کو اختیار کرلیا۔ ایسے لوگوں پر رب رحیم سخت غضب ناک ہوگا۔ وہ جب ناراض ہوتا ہے تو دنیا کی کوئی چیز اس کے غضب کے سامنے نہیں ٹھہرتی اور ہر چیز ان سے ناراض ہوجاتی ہے۔ (ولھم عذاب عظیم) ” اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے “ یعنی یہ عذاب اپنی انتہائی شدت کے ساتھ ساتھ دائمی بھی ہوگا۔ (ذلک بانھم استحبوا الحیوۃ الدنیا علی الاخرۃ) ” یہ اس واسطے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو پسند کیا آخرت پر “ کیونکہ وہ دنیا کے چند ٹکڑوں میں طمع اور رغبت کی بنا پر اور آخرت کی بھلائی سے روگردانی کر کے الٹے پاؤں پھرگئے۔ پس جب انہوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر کو چن لیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت سے محروم کردیا اور ان کی راہنمائی نہ کی ‘ کیونکہ کفر ان کا وصف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ پس کسی قسم کی بھلائی ان کے اندر داخل نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے اس لئے کوئی ایسی چیز ان میں نفوذ نہیں کرسکتی جو ان کے لئے فائدہ مند ہو اور ان کے دلوں تک پہنچ سکے۔ پس غفلت ان پر طاری ہوگئی ‘ رسوائی نے ان کا احاطہ کرلیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہوگئے جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور یہ اس وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نا کے پاس آئی انہوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور ون پر پیش کی گئی مگر انہوں نے اس کو قبول نہ کیا۔ (لا جرم انھم فی الاخرۃ ھم الخسرون) ” یقیناً وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں “ یہ وہ لوگ ہیں جو قیامت کے روز اپنی جان ‘ مال اور اہل و عیال کے بارے میں گھاٹے میں پڑگئے ‘ ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے محروم ہوگئے اور ان کو درد ناک عذاب میں ڈال دیا گیا۔ اس کے برعکس جس شخص کو جبر کے ساتھ کفر پر مجبور کیا گیا مگر ان کا دل ایمان پر مطمئن ہے اور ایمان میں پوری رغبت رکھتا ہے تو اس پر کوئی حرج ہے نہ گناہ۔ ایسے شخص کے لئے جبروا کراہ کے تحت کلمہء کفر کہنا جائز ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جبرواکراہ کے تحت دی گئی طلاق ‘ غلام کی آزادی ‘ خریدو فروخت اور تمام معاہدوں کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ان امور پر کوئی شرعی حکم مترتب ہوتا ہے کیونکہ جب جبرواکراہ کی صورت میں کلمہء کفر کہنے پر اس پر کوئی گرفت نہیں تو دوسرے امور زیادہ اس باتے کے مستحق ہیں کہ جبر کی صورت میں ان پر گرفت نہ ہو۔
Ayahs 16:110–111

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بیشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت والا ہے۔

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی کا نقصان نہیں کیا جائے گا۔

آیت : (110-111) یعنی بلا شبہ آُ کا رب جس نے اپنے مخلص بندوں کی ‘ اپنے لطف و احسان کے ذریعے سے تربیت کی اس شخص کے لئے بہت غفور و رحیم ہے جو اس کی راہ میں ہجرت کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر اپنا گھر بار اور مال اسباب سب چھوڑ دیتا ہے ‘ دین کی وجہ سے اسے ستایا جاتا ہے تاکہ وہ کفر کی طرف دوبارہ لوٹ آئے ‘ مگر وہ ایمان پر ثابت قدم رہتا ہے اور اپنے یقین کو بچا لیتا ہے ‘ پھر وہ اپنے ہاتھ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتا ہے تاکہ ان کو اللہ کے دین میں داخل کرے اور وہ ان عبادات پر صبر کرتا ہے جو اکر لوگوں پر بہت شاق گزرتی ہیں۔ یہ سب سے بڑے اسباب ہیں جن کے ذریعے سب سے بڑے عطیات اور بہترین مواہب حاصل ہوتے ہیں اور وہ عطیات و مواہب یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ہر امر مکروہ کو اس سے دور کردیتا ہے اور وہ اپنی عظیم رحمت سے اسھ ڈھانپ لیتا ہے جس سے بندوں کے احوال صحیح اور ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں۔ پس قیامت کے روز ان کے لئے رحمت ہے۔ (یوما تاتی کل نفس تجادل عن نفسھا) ” جس دن آئے گا ہر نفس جھگڑا کرتا ہوا اپنی طرف سے “ یعنی ہر شخص (نفسی نفسی) پکارے گا اور اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا ‘ پس اس روز بندہ ذرہ بھر نیکی کے حصول کا بھی محتاج ہوگا۔ (وتوفی کل نفس ماعملت) ” اور پورا ملیل گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا “ یعنی نیک یا بد جو بھی عمل کیا ہوگا (وھم لا یظلمون) ” اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے۔ “ یعنی ان کے گناہوں میں اضافہ کیا جائے گا نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی۔ (فالیوم لاتظلم نفس شیئا ولا تجزون الا ماکنتم تعملون) (یسن : 54/36) ” آج کسی جان پر ظلم نہ کیا جائے گا اور تمہیں ویسی ہی جزا دی جائے گی جیسے تم عمل کرتے رہے ہو۔ “
Ayahs 16:112–113

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا۔

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور ان کے پاس انہی میں سے ایک پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلا سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے۔

آیت : (112-113) اس بستی سے مراد مکہ مرکمہ ہے ‘ جو امن کا گہوارہ اور اطمینان کی جگہ تھی ‘ اس بستی میں کسی کو پریشان نہیں کیا جاتا تھا۔ بڑے بڑے جہلا بھی اس کا احترام کرتے تھے حتیٰ کہ اس بستی میں کوئی شخص اپنے باپ یا بھائی کے قاتل کو بھی دیکھتا تو اس کا جذبہ انتقام جوش نہیں مارتا تھا ‘ حالانکہ ان میں عربی جمیت وتکبر بہت زیادہ تھا۔ مگر مکہ مکرمہ میں کامل امن تھا جو کسی اور شہر میں نہ تھا۔ اسی طرح اس کو کشادہ رزق سے بھی نوازا گیا تھ۔ مکہ مکرمہ ایسا شہر تھا جہاں کھیتیاں تھیں نہ باغات بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے رزق کو آسان کردیا تھا ‘ ہر سمت سے ان کو رزق پہنچتا تھا۔ پس ان کے پاس انہی میں سے ایک رسول آیا ‘ جس کی صداقت اور امانت کو وہ خوب جانتے تھے جو انہیں کامل ترین امور کی طرف دعوت دیتا تھا اور انہیں بری باتوں سے روکتا تھا۔ مگر انہوں نے اسے جھٹلایا اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو امن و اطمینان کے برعکس بدامنی کا مزہ چکھایا ‘ انہیں بھوک کا لباس پہنا دیا جو خوشحالی کی ضد ہے اور اس پر خوف طاری کردیا جو امن کی ضد ہے۔ یہ سب ان کی بداعمالیوں ‘ ان کے کفر اور ان کی ناشکری کی پاداش میں تھا۔ (وما ظلمھم اللہ ولکن کانوا انفسھم یظلمون) (النحل :33/16) ” اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کر تھے تھے۔ “
Ayahs 16:114–118

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

پس خدا نے جو تم کو حلال طیب رزق دیا ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمتوں کا شکر کرو اگر اسی کی عبادت کرتے ہو۔

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

اس نے تم پر مردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور یونہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھال نہیں ہوگا۔

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

(جھوٹ کا) فائدہ تو تھوڑا سا ہے مگر (اسکے بدلے) ان کو عذاب الیم بہت ہوگا۔

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور جو چیزیں ہم تم کو پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے۔

آیت : (114-118) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے حیوانات ‘ غلہ جات اور میوہ جات وغیرہ کھائیں۔ (حللا طیبا) ” حلال اور پاکیزہ “ یعنی اس رزق کو اس حالت میں کھائی کہ وہ مذکورہ دو اوصاف سے متصف ہو یعنی یہ ان چیزوں میں سے نہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ ہو رزق کسی غصب کے نتیجے میں حاصل ہوا ہو۔ پس بغیر کسی اسراف اور زیادتی کے اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاؤ (واشکروانعمت اللہ) ” اور اللہ کی نعمت کا شکرا دا کرو “ قلب کے ذریعے سے اس نعمت کا اعتراف کر کے ‘ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمت وثناء کر کے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کر کے (ان کنتم ایاہ تعبدون) ” اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔ “ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مخلص ہو تو صرف اسی کا شکر ادا کرو اور نعمتیں عطا کرنے ولاے کو فراموش نہ کرو۔ (انما حرم علیکم) ” اس نے تم پر صرف حرام کردیا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے تمہاری پاکیزگی کی خاطر ضرر رساں چیزوں کو تم پر حرام ٹھہرا دیا ہے۔ (المیتۃ) ” مردار۔ “ یعنی ان چیزوں میں ایک مردار ہے اس میں ہر وہ جانور داخل ہے جس کی موت مشروع طریقے سے ذبح کے بغیر واقع ہوئی ہو۔ ٹڈی اور مچھلی کا مرار اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔ (والدم) ” اور خون “ یعنی بہایا ہوا ‘ (جو ذبح کے وقت بہتا ہے) اور وہ خون جو ذبح کرنے کے بعد رگوں اور گوشت میں باقی رہ جائیے اس میں کوئی حرج نہیں۔ (ولحم الخنزیر) ” اور خنزیر کا گوشت “ یہ اس کی گندگی اور ناپاکی کی وجہ سے حرام ہے اور یہ حکم اس کے گوشت ‘ اس کی چربی اور اس کے تمام اجزاء کو شامل ہے۔ (وما اھل بغیر اللہ بہ) ” اور جس پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا۔ “ مثلاً وہ جانور جو بتوں اور قبروں وغیرہ پر ذبح کیا جائے کیونکہ اس کا مقصد شرک ہے۔ (فمن اضطر) ” پس جو شخص مجبور ہوجائے “ ان محرمات میں سے کسی چیز کے استعمال کرنے پر ‘ یعنی ضرورت اسے اس کے استعمال پر مجبور کر دے اور اسے ڈر ہو کہ اگر وہ یہ حرام چیز نہیں کھائے گا تو مرجائے گا تو اس حرام چیز کو کھا لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ (غیر باغ ولا عاد) ” نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ زیادتی کرنے والا “ یعنی جب وہ مجبور نہ ہو تو حرام چیز کھانے کا ارادہ رکھتا ہو نہ حلال کو چھوڑ کر حرام کی طرف جاتا ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ حرام چیز کو استعمال میں لاتا ہو۔ یہ وہ محرمات ہیں جن کو اضطراری حالت میں اللہ تعالیٰ نے حلال کردیا ہے۔ (ولا تقولوالما تصف السنتکم الکذب ھذا حلل وھذا حرام) ” اور نہ کہو تم جن کو تمہاری زبانیں جھوٹ نہ بنالیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے اور افترا پردازی کرتے ہوئے خود اپنی طرف سے حلال اور حرام کے ضابطہ نہ بناؤ۔ (لتفتروا علی الہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لایفلحون) ” تاکہ تم اللہ پر بہتان باندھو۔ بیشک جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے “ دنیا میں نہ آخرت میں اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ضرور ذلیل و رسوا کرے گا ‘ اگر انہوں نے اس دنیا سے فائدہ اٹھایا بھی (متاع قلیل) ” تو یہ بہت ہی قلیل متاع ہے “ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے (ولھم عذاب الیم) ” اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے “ پس اللہ تالیٰ نے اپنے فضل و احسان کی بنا پر ہمیں گندگی سے بچانے کے لئے ہمارے لئے صرف ناپاک چیزوں کو حرام کیا ہے لیکن یہودیوں پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کی سزا کے طور پر طیبات کو حرام ٹھہرا دیا تھا جو ان کے لئے حلال تھیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة الانعام میں ان الفاظ میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔ (وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر ومن البقر والغنم حرمنا علیھم شحو مھما الا ما حملت ظھورھما او الھوایا او ما اختلط بعظم ذلک جزینھم ببغیھم و انا لصدقون) (الانعام :146/6) ” اور یہودیوں پر ہم نے ناخم والے جانور حرام کردیئے ‘ گائے اور بکری کی چربی بھی حرام ٹھہرا دی سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی انتڑیوں یا ہڈی کے ساتھ لگی ہوئی رہ جائے۔ یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی تھی اور بیشک ہم سچے ہیں۔ “