Ayahs 16:39–41آیت 39
اپنے رسولوں کو جھٹلانے والے مشرکین کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (واقسموا باللہ جھد ایمانھم) ” اور یہ اللہ کی بڑی پکی قسمیں کھاتے ہیں۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی تکذیب پر بہت پکی قسمیں کھتاے ہیں اور اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا نہ وہ ان کے مٹی ہوجانے کے بعد ان کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے : (بلی) ” کیوں نہیں۔ “ اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا، پھر انہیں ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں (وعداً علیہ حقاً ) ” اس پر وعدہ ہوچکا ہے پکا “ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف کرتا ہے نہ اسے تبدیل کرتا ہے (ولکن اکثر الناس لایعلمون) ” لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے “ اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی اور جزا سزا کو جھٹلانا ان کی سب سے بڑی جہالت ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ زندگی بعد موت اور سزا و جزا کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (لییبین لھم الذی یختلفون فیہ) ” تاکہ وہ ان کے سامنے واضح کرے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں “ وہ مسائل بڑے ہوں یا چھوٹے۔ پس وہ ان کے حقائق کو بیان کرے گا۔ (ولیعلم الذین کفروا انھم کانوا کذبین) ” اور تاکہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔ “ حتی کہ وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے اعمال ان کے لئے حسرت کا باعث ہیں اور جب آپ کے رب کا حکم آگیا تو ان کے خود ساختہ معبود ان کی کوئی مدد نہ کرسکے جن کو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکارا کرتے تھے اور اس وقت وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے معبود ان باطل جہنم کا ایندھن ہیں اور سورج اور چاند بےنور کردیئے جائیں گے، ستارے جھڑ کر بکھر جائیں گے اور جو لوگ سورج، چاند اور ستاروں کی عبادت کیا کرتے تھے ان پر واضح ہوجائے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے غلام اور اس کے سامنے مسخر ہیں اور ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے۔ کیونکہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ صرف اتنا کہتا ہے ” ہوجا “ اور وہ ہوجاتی ہے بغیر اس کے کہ کوئی جھگڑا ہو یا کوئی رکاوٹ بلکہ وہ چیز اس کے ارداے اور مشیت کے مطابق ہی ہوتی ہے۔
Ayah 16:42آیت 42
اللہ تبارک و تعالیٰ ان اہل ایمان کی فضیلت سے آگاہ کرتا ہے جن کو امتحان میں ڈالا گیا تھا۔ چناچہ فرمایا (والذین ھاجروا فی اللہ) ” جنہوں نے اللہ کی رضا کی خاطر (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) ہجرت کی “ (من بعد ماظلموا) ” بع د اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا “ یعنی انکی قوم کی طرف سے اذیت اور تعذیب کے ذریعے سے ان پر ظلم کیا گیا، کفر اور شرک کی طرف واپس لانے کے لئے ان کو آزمائش اور ابتلاء میں ڈالا گیا۔ پس انہوں نے اپنے وطن اور دوست احباب کو اللہ رحمٰن کی اطاعت کی خاطر چھوڑ دیا۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ثواب کی دو اقسام بیان کی ہیں :
(1) دنیاوی ثواب : یعنی کشادہ رزق اور خوشحال زندگی اس ثواب کا انہوں نے ہجرت کے بعد اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ انہوں نے اپنے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت حاصل کی، ان کے شہر فتح کئے، انہیں غنیمت میں بہت سامال ہاتھ آیا جس سے وہ مال دار ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس دنیا ہی میں بھلائی سے نواز دیا۔
(2) اخروی ثواب : (ولاجر الاخرۃ) ” اور آخرت کا اجر “ یعنی وہ ثواب جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر کیا ہے، (اکبر) ”(دنیا کے ثواب سے) بہت بڑا ہے۔ “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کیا، ان کے لئے اللہ کے ہاں سب سے بڑا درجہ ہے اور یہی لوگ کامیاب ہیں ان کا رب انہیں اپنی رحمت، خوشنودی اور ایسی جنتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لئے ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں ان جنتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ “ (لوکانوا یعلمون) ” کاش وہ جانتے “ یعنی کاش انہیں اس اجر وثواب کا علم اور یقین ہوتا جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے اور اس کی راہ میں ہجرت کی اور ہجرت کرنے سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا : (الذین صبروا) ” وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں۔ “ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی، اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں اذیتوں پر صبر کرتے ہیں (عل یربھم یتوکلون) ” اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب امور کے نفاذ میں اپنے آپ پر بھروسہ نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کے تمام معاملات سر انجام پاتے ہیں اور ان کے احوال درست رہتے ہیں کیونکہ صبر اور تولک تمام امور کا سرمایہ ہے۔
جب بھی کوئی شخص کسی بھلائی سے محروم ہوتا ہے تو عدم صبر اور اپنے مقصد میں عدم جہدجہد کی وجہ سے ناکام ہوتا ہے یا اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور توکل نہیں کرتا۔
Ayahs 16:43–44آیت : (43-44)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (وما ارسلنا من قبلک الا رجالا) ” نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے مگر مردوں ہی کو “ یعنی آپ ﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں۔ پس آپ سے پہلے ہم نے فرشتوں کو رسول بنا کر نہیں بھیجا بلکہ کامل ترین انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور اسی طرح عورتوں میں سے بھی کسی عورت کو رسول نہیں بنایا۔ (نوحی الیھم) ” وحی کرتے تھے ہم ان کی طرف “ ہم ان رسولوں کی طرف شریعت اور احکام وحی کرتے تھے جو بندوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے اور یہ رسول اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔
(فسئلوا اھل الذکر) ” پس پوچھ لو یاد رکھنے والوں سے “ یعنی اہل کتاب سے (ان کنتم لا تعلمون) ” اگر تم نہیں جاتے۔ “ یعنی اگر تمہیں گزشتہ امتوں کے بارے میں کوئی خبر نہیں اور تمہیں شک ہے کہ آیا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو رسول بنایا ہے یا نہیں تو تم ان لوگوں سے پوچھ لو جو اس کا علم رکھتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی کتابیں اور معجزات نازل ہوئے جنہوں نے ان کتابوں کو پڑھا اور سمجھا۔ ان سب کے ہاں یہ بات متحقق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بستیوں میں سے صرف انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔
اس آیت کریمہ کا عمومی اہل علم کی مدح پر دلالت کرتا ہے ‘ نیز علم کی تمام انواع میں کتاب اللہ کا علم بلند ترین علم ہے ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو جو علم نہیں رکھتا حکم دیا ہے کہ وہ تمام حوادث میں اہل علم کی طرف رجوع کرے۔ یہ آیت کریمہ اہل علم کی تعدیل اور ان کے تزکیہ کو بھی متضمن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کرنے کا حکم دیا ہے ‘ نیز جاہل آدمی اہل علم سے سوال کرنے پر گرفت سے نکل جاتا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل علم کو اپنی وحی اور تنزیل کا امین بنایا ہے اور وہ تزکیہ اور صفات کمال سے متصف ہونے پر مامور ہیں اور اہل ذکر میں بہترین لوگ اہل قرآن ہیں کیونکہ وہی در حقیقت اہل ذکر ہیں اور دوسروں کی نسبت زیادہ اس نام کے مستحق ہیں ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وانزلنا الیک الذکر) ” اور ہم نے آپ کی طرف ذکر نازل کیا “ یعنی قرآن جس میں ہر وہ چیز مذکور ہے ‘ جس کی بندوں کو ظاہری اور باطنی طور پر اپنے دینی اور دنیاوی امور میں سخت ضرورت ہے۔ (لتبین للناس ما نزل الیھم) ” تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ان باتوں کی وضاحت کریں جو ان کی طرف نازل کی گئیں “ اور یہ تبیین ‘ الفاظ اور معانی دونوں کو شامل ہے۔ (ولعلھم یتفکرون) ” اور تاکہ وہ غور و فکر کریں “ پس وہ اس میں گور و فکر کر کے اپنی استعداد اور اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی توجہ کے مطابق ‘ اس کے علم میں سے معانی کے خزانوں کا استخراج کریں۔
Ayahs 16:45–47آیت : (45-47)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انکار کرنے والوں ‘ جھٹلانے والوں اور گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے تخویف ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کا عذاب انہیں غفلت میں نہ آپکڑے اور انہیں شعور تک نہ ہو۔ یہ عذاب ان پر یا تو اوپر سے نازل ہو ‘ یا نیچے سے پھوٹ پڑے ‘ جیسے زمین میں دھنس جانے یا کسی اور صورت میں ظاہر ہو یا یہ عذاب ان پر اس وقت نازل ہو ‘ جب وہ زمین پر چل پھر رہے ہوں اور اپنے کاروبار میں مصروف ہوں اور عذاب کا نازل ہونا ان کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو یا اس حال میں ان پر عذاب نازل ہو کہ وہ عذاب سے خائف ہوں۔ پس وہ کسی بھی حالت میں اللہ تعالیٰ کو بےبس نہیں کرسکتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے قبضہء قدرت میں ہیں اور ان کی پیشانیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نہایت مہربانی اور بہت رحیم ہے ‘ وہ گناہ گاروں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ وہ ان کو ڈھیل دیتا ہے اور ان کو معاف کردیتا ہے ‘ وہ ان کو رزق سے نوازتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اسے اور اس کے اولیاء کو ایذا پہنچاتے ہیں۔
بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے توبہ کے دروازے کھول رکھے ہیں ‘ وہ انہیں گناہوں کو ختم کرنے کی دعوت دیتا ہے ‘ جو ان کے لئے سخت ضرر رساں ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس کے بدلے میں بہترین اکرام و تکریم اور ان کے گناہوں کو بخش دینے کا وعدہ کرتا ہے۔۔۔۔۔ پس مجرم کو اپنے رب سے شرمانا چاہیے کہ اس کی نعمتیں ہرحال میں اس پر نازل ہوتی رہتی ہیں اور اس کے بدلے میں اس کی طرف سے ہر وقت نافرمانیاں اپنے رب کی طرف بلند ہوتی ہیں۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ڈھیل دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا اور جب وہ گناہ گار نافرمان کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ ایک غالب اور مقتدر ہستی کی پکڑ ہے۔ پس اسے توبہ کرنی چاہیے اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چہائے۔ بس اس کی بےپایاں رحمت اس کے لامحدود احسان کے سائے کے نیچے آجاؤ اور جلدی سے اس راستے پر گامزن ہوجاؤ جو رب رحیم کے فضل و کرم کی منزل تک پہنچتا ہے اور یہ راستہ اللہ تعالیٰ کے تقویٰ اور اس کے محبوب اور پسندیدہ امور پر عمل کرنے سے عبارت ہے۔
Ayahs 16:48–50آیت : (48-50)
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (اولم یرو) ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا۔ “ یعنی کیا اپنے رب کی توحید ‘ اس کی عظمت اور اس کے کمال میں شک کرنے والوں نے نہیں دیکھا ؟ (الی ما خلق اللہ من شیء) ” ان چیزوں کی طرف جن کو اللہ نے پیدا کیا “ یعنی تمام مخلوقات کی طرف (یتفیوا ظللہ) کہ ’ انکے سائے لوٹتے رہتے ہیں “ (عنالیمین والشمائل سجدۃ اللہ) ” ان کی دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے ‘ اللہ کو وجدہ کرتے ہوئے “ یعنی تمام اشیاء کے سائے ‘ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے سامنے نہایت عاجزی کے ساتھ سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ (وھم دخرون) ” اور وہ جھکے رہتے ہیں۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ذلیل ‘ مسخر اور اس کے دست تدبیر کے تحت مقہور ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کی پیشانی اللہ تعالیٰ کی گرفت میں اور اس کی تدبیر اس کے پاس نہ ہو۔ (وللہ یسجد ما فی السموت وما فی الارض من دابۃ) ” اور اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے جانداروں میں سے “ یعنی تمام انسانوں اور حیوانات میں سے (والملئکۃ) ” اور فرستے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی فضیلت ‘ انکے شرف اور ان کی کثرت عبادت کی وجہ سے ‘ تمام مخلوقات کا عمومی ذکر کرنے کے بعد ان کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ بنابریں فرمایا : (وھم لا یستکبرون) ” اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ “ یعنی وہ اپنی کثرت ‘ عظمت اخلاق اور قوت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی عبادت سے انکار نہیں کرتے ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (لن یستنکف المسیح ان کون عبداللہ ولا الملئکۃ المقربون) (النساء : 182/4) ” مسیح (عیسیٰ علیہ السلام) اور مقرب فرشتے اس بات کو عار نہیں سمجھتے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں۔ “ (یخافون ربھم من فوقھم) ” ڈر رکھتے ہیں وہ اپنے رب کا اپنے اوپر سے “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی کثرت اطاعت اور ان کے خشوع و خضوع پر ان کی مدح کرنے کے بعد ‘ اللہ تعالیٰ سے ان کے خوف پر ان کی مدح فرمائی ہے ‘ جو بالذات ان کے اوپر ‘ ان پر غالب اور کامل اوصاف کا مالک ہے اور وہ اس کے دست قدرت کے تحت ذلیل اور مقہور ہیں۔ (ویفعلون ما یؤمرون) ” جو ان کو ارشاد ہوتا ہے وہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ جو بھی انہیں حکم دیتا ہے وہ خوشی اور پسندیدگی سے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔
(1) سجدہ اضراری : یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کی صفات کمال پر دلالت کرتا ہے۔ اس سجدہ میں مومن اور کافر ‘ نیک اور بد ‘ انسان اور حیوان سب شامل ہیں۔
(2) سجدہ اختیاری : جو اس کے اولیاء ‘ اس کے مومن بندوں ‘ فرشتوں اور دیگر مخلوقات سے مختص ہے۔
Ayahs 16:51–55آیت : (51-55)
اللہ تعالیٰ صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ وہی یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور اس پر وہ اس بات سے استدلال کرتا ہے کہ نعمتیں عطا کرنے والا صرف وہی اکیلا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (لاتتخذ و الھن الثنین) ” نہ بناؤ تم معبود دو “ یعنی تم ان کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک نہ ٹھہراؤ۔ (انما ھو الہ واھد) ” وہ صرف ایک ہی معبود ہے “ وہ اپنی ذات ‘ اپنے اسماء وصفات اور اپنے افعال میں متفرد ہے۔ پس جس طرح وہ اپنی ذات ‘ اپنے اسماء وصفات اور افعال میں ایک ہے ‘ اسی طرح ان کو چاہیے کہ وہ عبادت میں بھی اس کو ایک مانیں۔ اسی لئے فرمایا : (فایای فارھبون) ” پس مجھ ہی سے ڈرو “ میرے حکم کی تعمیل اور میرے نواہی سے اجتناب کرو اور میرے ساتھ مخلوق میں سے کسی کو شریک ٹھہراؤ ‘ کیونکہ تمام مخلوق تو اللہ تعالیٰ کی مملوک ہے۔ (ولہ ما فی السموت والارض ولہ الدین واصبا) ” اور اسی کے لئے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی اطاعت ہے ہمیشہ “ یعنی اطاعت ‘ عبادت اور تذلل دائمی طور پر ہر وقت صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے تمام مخلوق پر فرض ہے وہ اطاعت کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کریں اور اس کی عبودیت میں رنگے جائیں۔ (افغیر اللہ تتقون) ” کیا اللہ کے سوا اوروں سے تم ڈرتے ہو “ زمین والوں میں سے یا آسمان والوں میں سے ؟ وہ تمہارے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے اور اللہ تعالیٰ اپنی نوازشات اور احسانات میں یکتا ہے۔
(وما بکممن نعمۃ) ” اور جو کچھ تمہارے پاس ہے نعمت “ ظاہری اور باطنی (فمن اللہ) ” پس وہ اللہ کی طرف سے ہے “ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو یہ نعمتیں عطا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہو۔ (ثما اذا مسکم الضرر) ” پس جب پہنچتی ہے تمہیں کوئی تکلیف “ یعنی محتاجی ‘ بیماری یا کوئی اور مصیبت (فالیہ تجرون) ” تو تم اسی سے فریاد کرتے ہو۔ “ یعنی گڑ گڑا کر آہ وزاری کرتے ہوئے دعا کرتے ہو کیونکہ تم جانتے ہو کہ نقصان اور مصیبت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا۔ پس وہ اللہ جو تمہاری پسندیدہ اشیاء عطا کرنے اور ناپسندیدہ امور کو تم سے دور کرنے میں متفرد (یکتا) ہے تو اس اکیلے کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں۔ مگر بہت سے لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ ان کو مصیبت سے نجات دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر حمد وثناء بیان کرتے ہیں۔ مگر جب وہ آرام اور خوشحالی کی حالت میں آجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے اتھ اس کی محتاج مخلوق کو شریک ٹھہرا دیتے ہیں ‘ اسی لئے فرمایا : (لیکفروا بما اتینھم) ” تاکہ انکار کریں وہ اس چیز کا جو ہم نے ان کو دی “ یعنی جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا۔ کیونکہ ہم نے انہیں سختیوں سے نجات دلائی اور مشقت سے چھڑایا۔ (فتمتعوا) ” پس فائدہ اٹھا لو تم “ اپنی دنیا میں تھوڑا سا۔ (فسوف تعملون) تمہیں عنقریب اپنے کفر کا انجام معلوم ہوجائے گا۔
Ayahs 16:56–60آیت : (56-60)
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت ‘ ان کے ظلم اور اللہ تبارک و تعالیٰ پر ان کی افترا پردازی کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ نیز وہ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے ان بتوں کو۔۔۔۔ جو کوئی نہ علم رکھتے ہیں ‘ نہ کوئی نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔۔۔۔ اس رزق میں حصہ دار بنا تے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا اور جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق سے اس کا شریک بنانے میں مدد حاصل کی اور خود ساختہ اور گھڑے ہوئے بتوں کے تقرب کے لئے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو پیش کرتے ہیں ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث والانعام نصیبا فقالوا ھذا للہ بزعمھم وھذا لشرکائنا فما کان لشرکاءھم فلا یصل الی اللہ) الایۃ (الانعام : 136/6) ” ان مشرکین نے اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے اللہ کے لئے ایک حصہ مقرر کردیا اور بزعم خود کہتے ہیں کہ اللہ کے لئے ہے اور یہ ہمارے خود ساختہ شرکوں کے لئے ہے پھر جو حصہ ان کے شریکوں کے لئے ہے ‘ وہ اللہ تک نہیں پہنچتا۔۔۔۔ (تاللہ لتسئلن عما کنتم تفترون) ” اللہ کی قسم ! تم جو افترا پردازی کرتے ہو اس کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔ “ فرمایا (اللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون۔ وما ظن الذین یفترون علی اللہ الکذب یوم القیمۃ) ” کیا اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو ؟ اور ان لوگوں کا کیا خیال ہے ‘ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ قیامت کے روز ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا “ اس افترا پردازی پر انہیں سخت عذاب دیا جائے گا۔ (یونس : 59, 60/10)
(ویجعلون للہ البنت سبحنہ) ” اور ٹھہراتے ہیں وہ اللہ کے لئے بیٹیاں ‘ وہ اس سے پاک ہے “ کیونکہ انہوں نے فرشتوں کے بارے میں ‘ جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں ‘ کہا تھا کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں (ولھم ما یشتھون) ” اور ان کے لئے وہ جو وہ چاہتے ہیں “ یعنی خود اپنے لئے بیٹے چاہتے ہیں حتیٰ کہ بیٹیوں کو سخت ناپسند کدتے ہیں۔ پس ان کا یہ حال تھا کہ (واذا بشر احد ھم بالانثی ظل وجھہ مسودا) ” جب انمیں سے کسی کو بیٹی کی خوش خبری ملتی تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا “ اس کرب و غم سے جو اس کو پہنچتا۔ (وھو کظیم) ” اور وہ جی میں گھٹتا۔ “ یعنی جب اسے بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی تو وہ حزن و غم کے مارے خاموش ہوجاتا حتیٰ کہ وہ اس خبر سے اپنے ابنائے جنس میں اپنی فضیحت محسوس کرتا اور اس خبر پر وہ عار کی وجہ سے منہ چھپاتا پھرتا ‘ پھر وہ اپنی اس بیٹی کے بارے میں جس کی اس کو خوش خبری ملتی ‘ اپنی فکر اور فاسد رائے کی وجہ سے تذبذب کا شکار ہوجاتا کہ وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرے ؟
(ایمس کہ علی ھون) ” کیا اسے رہنے دے ‘ ذلت قبول کر کے “ یعنی آیا اہانت اور ذلت برداشت کر کے اسے قتل نہ کرے اور زندہ چھوڑ دے۔ (امیدسہ فی التراب) ” یا اس کو دابدے مٹی میں “ یعنی اسے زندہ دفن کر دے۔ یہی وہ بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو سخت مذمت کی ہے۔ (الاساء ما یحکمون) ” خبردار ‘ برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں “ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو اوصاف سے متصف کیا جو اس کے جلال کے لائق نہ تھیں ‘ یعنی اس کی طرف اولاد کو منسوب کرنا ‘ پھر انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دونوں قسموں میں سے اس بدتر قسم کو اللہ کی طرف منسوب کیا جس کو خود اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے اسے منسوب کردیتے تھے ؟ پس بہت ہی برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے۔ چونکہ یہ بری مثال تھی جس کو اللہ تعالیٰ کے دشمنوں ‘ مشرکین نے الہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (للذین لا یومنون بالاخرۃ مثل السوء) ” ان لوگوں کے واسطے جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ‘ بری مثال ہے “ ناقص مثال اور کامل عیب (وللہ المثل الاعلی) ” اور اللہ کے لئے مثال ہے سب سے بلند “ اس سے مراد ہر وصف کمال ہے اور تمامکائنات میں جو بھی صفت کمال پائی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے اور کسی بھی پہلو سے کسی نقص کو مستلزم نہیں ہے اور اس کے اولیاء کے دلوں میں بھی مثل اعلیٰ یعنی اسکی تعظیم ‘ اجلال ‘ محبت ‘ اسکی طرف انابت اور اس کی معرفت جاگزیں ہے۔ (وھو العزیز) ” اور وہ زبردست ہے “ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور تمام کائنات اس کی مطیع ہے (الحکیم) ” حکمت والا ہے “ جو تمام اشیاء کو انکے لائق محل و مقام رکھتا ہے۔ وہ جو بھی حکم دیتا ہے اور جو بھی فعل سر انجام دیتا ہے ‘ اس پر اس کی ستائش کی جاتی ہے اور اس کے کمال پر اس کی ثناء بیان کی جاتی ہے۔
Ayah 16:61آیت : (61)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ظالموں کی افترا پردازی بیان کرنے کے بعد اپنا کامل حلم و صبر ذکر کرتے ہوئے فرمایا (ولو یؤاخذ اللہ الناس بظلمھم) ” اگر پکڑے اللہ لوگوں کو ان کی بےانصافی پر “ بغیر کسی کمی یا زیادتی کے (ما ترک علیھا من دابۃ) ” نہ چھوڑے وہ زمین پر ایک بھی چلنے والا “ یعنی معصیت کا ارتکاب کرنے والوں کے علاوہ چوپایوں اور حیوانات میں سے بھی کچھ نہبچتا ‘ کیونکہ گناہوں کی نحوست کھیتوں اور نسل کو ہلاک کردیتی ہے۔ (ولکن یوخرھم) ” لیکن وہ ان کو ڈھیل دیتا ہے “ یعنی انہیں جلدی سزا نہیں دیتا ‘ بلکہ ایک مقرر مدت یعنی قیامت کے روز تک موخر کردیتا ہے (فاذاجاء اجلھم یا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون) ” پو جب ان کا مقرر وقت آجائے گا ‘ تو پیچھے سرک سکیں گے ایک گھڑی نہ آگے سرک سکیں گے “ اس لئے جب تک انہیں مہلت کا وقت حاصل ہے ‘ اس سے پہلے کہ وہ وقت آن پہنچے جب کوئی مہلت نہ ہوگی ‘ انہیں ڈر جانا چاہیے۔
Ayahs 16:62–63آیت : (62-63)
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے : (ویجعلون للہ مایکرھون) ” اور وہ کرتے ہیں اللہ کے لئے وہ ‘ جسے خود پسند نہیں کرتے “ یعنی خود بیٹیوں اور دیگر اوصاف قبیحہ کو ناپسند کرتے ہیں۔ اس سے مراد شرک ہے ‘ یعنی عبادت میں بعض ہستیوں کو کیسے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی غلام ہیں۔ (وتصف السنتھم الکذب ان لھم الحسنی) ” اور ان کی زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں کہ ان کے لئے بھلائی ہے۔ “ وہ اس عظیم برائی کے ساتھ ساتھ یہ جھوٹ بھی بولتے ہیں کہ ان کے لئے آخرت کی بھلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (لا جرم ان لھم النارو وانھم مفرطون) ” یقیناً ان کے لئے آگ ہے اور وہ (اس کی طرف) بڑھائے جا رہے ہیں “ یعنی وہ جہنم میں داخل ہوں گے ‘ جہنم میں رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے سامنے واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ پہلے رسول نہیں ہیں جن کو جھٹلایا گیا ہے۔ (تاللہ لقد ارسلنا الی امم من قبلک) ” اللہ کی قسم ! ہم نے آپ سے پہلے ‘ مختلف امتوں کی طرف رسول بھیجے۔ “ ایسے رسول ‘ جو انہیں توحید کی دعوت دیتے تھے۔ (فزین لھم الشیطن اعمالھم) ” پس اچھے کر کے دکھلائے انکو شیطان نے ان کے کام “ پس انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور انہوں نے یہ باطل گمان کیا کہ وہ جس راستے پر چل رہے ہیں وہی حق اور ہر دکھ سے نجات دینے والا ہے جس راستے کی طرف انبیاء و رسولبلاتے ہیں وہ اس کے برعکس ہے۔ پس جب شیطان نے ان کے سمانے ان کے اعمال مزین کردیئے (فھو ولیھم الیوم) ” تو وہ آج ان کا دوست ہے “ دنیا میں۔ پس وہ اس کی اطاعت کرنے لگے اور انہوں نے اس کو اپنا دوست بنا لیا۔ (افتتخذونہ وذریتہ اولیاء من دونی وھم لکم عدو بئس للظلمین بدلا) (الکھف : 50/18) ” کیا تم اسے اور اس کی ذریت کو میرے سوا اپنا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں اور یہ ظالموں کے لئے بہت برا بدل ہے۔ “ (ولھم عذاب الیم) ” اور (آخرت میں) ان کے لئے دردناک عذاب ہے “ کیونکہ وہ اللہ رحمان کی دوستی سے منہ موڑ کر شیطان کی دوستی پر راضی ہوگئے۔ بنابریں وہ رسوا کن عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
Ayah 16:64آیت : ( 64)
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ ہم نے آپ پر یہ قرآن صرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ آپ توحید ‘ تقدیر ‘ احکام افعال اور احوال معاذ کے بارے میں ان کے اختلاف کے موقع پر ان کے سامنے حق واضح کردیں تاکہ اللہ تعالیٰ اور اس کی نازل کردہ کتاب پر ایمان رکھنے والوں کے لئے کامل ہدایت اور بےپایاں رحمت ہو۔
Ayah 16:65آیت : (65)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ سب سے بڑی نعمت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر کو سمجھیں اور وہ اس حقیقت پر استدلال کریں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے صرف وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ بارش نازل کر کے اور مختلف اصناف کی نباتات اگا کر بندوں کو نعمتوں سے نوازتا ہے اور اس پر بھی استدلال کریں کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور وہ ہستی جس نے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کیا ‘ وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے اور وہ ہستی جس نے ان احسانات کو عام کیا ‘ وہ بےکراں رحمت اور عظیم سخاوت کی مالک ہے۔
Ayahs 16:66–67آیت : (66-67)
(وان لکمفیالانعام) ” اور بیشک تمہارے لئے چوپایوں میں “ جن کو اللہ تعالٰ نے تمہارے فوائد کے لئے مسخر کیا (لعبرۃ) ” سوچنے کی جگہ ہے “ جس سے تم اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور وسعت احسان پر استدلال کرسکتے ہو کیونکہ اس نے تمہیں ان مویشیوں کے پیٹ سے (دودھ) پلایا جس کا مادہ گوبر اور خون پر مشتمل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گوبر اور خون سے ایسا دودھ نکالا جو ہر قسم کی آلائش سے پاک اور اپنی لذت کی بنا پر پینے والوں کے لئے انتہائی خوش ذائقہ ہے ‘ نیزیہ کہ اس کو پیا جاتا ہے اور اس سے غذا حاصل کی جاتی ہے۔ کیا یہ سب کچھ طبیعی امور کی بجائے قدرت الہیہ نہیں ہے ؟ اس عالم طبیعیات میں کونسی چیز ہے جو اس چارہیکو جسے چوپائے کھاتے ہیں اور اس میٹھے یا کھارے پانی کو جسے یہ چوپائے پیتے ہیں ‘ پینے والوں کے لئے خالص اور لذیذ دودھ میں بدل دیتی ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے کھجور اور انگور پیدا کئے ‘ نیز بندوں کے فوائد کے لئے رزق حسن کی مختلف انواع پیدا کیں ہیں جن کو وہ تازہ بتازہ اور انکے پکنے کے بعد کھاتے ہیں ‘ انہیں ذخیرہ کرتے ہیں ‘ انہیں کھانے پینے کے لئے استعمال میں لاتے ہیں ‘ ان کے پکنے کے بعد کھاتے ہیں ‘ انہیں ذخیرہ کرتے ہیں ‘ انہیں کھانے پینے کے لئے استعمال میں لاتے ہیں ‘ انسے رس نچوڑ کر نبیذ اور دیگر نشہ آور مشروبات بناتے ہیں جو اس سے قبل ان کے لئے حلال تھے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام نشہ آور چیزوں کو حرام قرار دے دیا اور اس کے عوض انہیں پھلوں سے نچوڑے ہوئے پاک و صاف رس ‘ نبیذ اور مختلف اقسام کے لذیذ اور مباح مشروبات عطا کئے۔ اس لئے جن مفسرین کا قول یہ ہے کہ ” یہاں نشہ آور چیزوں سے مراد ‘ لذیذ مطعومات و مشروبات ہیں “ وہ پہلے قول سے زیادہ قرین صواب ہے۔ (ان فی ذلک لایۃ لقوم یعقلون) ” جو لوگ عقل رکھتے ہیں ان کے لئے ان (چیزوں) میں نشانی ہے۔ “ یعنی ان میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو اس کی قدرت کاملہ کو خوب سمجھتے ہیں کیونکہ اس نے درختوں پر ایندھن سے مشابہت رکھنے والی چیزیں پیدا کیں جو ایک لذیذ پھل اور خوش ذائقہ میوہ بن جاتی ہیں۔ اس کی رحمت عام اور بےپایاں ہے جو اپنے تمام بندوں پر سایہ کناں ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس رحمت کو سب کے لئے آسان کردیا۔۔۔۔۔ نیز وہ اکیلا ہی معبود برحق ہے کیونکہ ان نعمتوں کو عطا کرنے میں وہ یکتا ہے۔
Ayahs 16:68–69آیت : ( 68-69)
اس چھوٹی سی شہد کی مکھی میں بھی غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں جس کی اللہ تعالیٰ نے حیرت انگیز طریقے سے راہنمائی کی اور اسے (پھولوں کا رس چوسنے کے لئے) پھلواریاں مہیاکیں ‘ پھر ان گھروں کی طرف واپس لوٹنے کے لئے وحی کی جو اس نے اللہ تعالیٰ کی تعلیم سے تیار کئے تھے۔ وہ شہد کی اس مکھی کے پیٹ سے نہایت لذیذ شہد نکالتا ہے جو زمین اور پھلواری کے مطابق مختلف رنگوں کا ہوا ہے۔ شہد میں لوگوں کے لئے متعدد امراض سے شفا رکھ دی گئی ہے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی لا محدود عنات اور اپنے بندوں پر اس کے کامل لطف و کرم پر دلالت کرتی ہے ‘ نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے سوا کسی سے محبت کی جائے نہ اس کے سوا کسی کو پکارا جائے۔
Ayah 16:70آیت : (70)
اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہی ہے جس نے بندوں کو پیدا کیا اور ان کی تخلیق کے ایک مرحلے سے دسرے مرحلے میں داخل کیا اور جب وہ اپنی مدت مقررہ پوری کرلیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو وفات دے دیتا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ طویل عمر عطا کرتا ہے حتیٰ کہ (یرد الی ارذل العمر) ” اس کو بدترین عمر تک پہنچا دیتا ہے “ اس عمر میں انسان ظاہری اور باطنی قوی کی کمزوری کا شمار ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ عقل بھی ‘ جو کہ انسان کا جوہر ہے ‘ اس سے متاثر ہوتی ہے ‘ اس کی عقل کی کمزوری میں اضافہ ہوتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ ان تمام چیزوں کو بھول جاتا ہے جو اسے معلوم تھیں ‘ اس کی عقل بچے کی عقل کی مانند ہوجاتی ہے ‘ اس لئے فرمایا : (لکی لا یعلم بعد علم شیئا ان اللہ علیم قدیر) ” تاکہ سمجھنے کے بعداب کچھ نہ سمجھے ‘ اللہ تعالیٰ جاننے والا ‘ قدرت والا ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے۔ یہ چیز بھی اللہ تعالیٰ کے دست قدرت کے تحت ہی ہے کہ آدمی تخلیق کے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوتا ہے ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا وشیبۃ یخلق مایشاء وھو العلیم القدیر) (الوم : 53/30) ” وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد اس نے تمہیں قوت عطا کی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دے دیا ‘ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ‘ وہ علم اور قدرت والا ہے۔ “
Ayah 16:71آیت : (71)
یہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل اور شرک کی قباحت پر برہان ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سب اس بات میں مشترک ہو کہ تم مخلوق اور مرزوق ہو (فضل بعضکم علیبعض فی الرزق) (البتہ اللہ تعالیٰ نے) ” رزق کے معاملے میں تمہیں ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے “ تم میں سے بعض کو آزاد بنایا ‘ انکومال و دولت اور ثروت سے نوازا اور تم میں بعض کو ان کا غلامبنا دیا ‘ وہ دنیا میں کسی چیز کے مالک نہیں ہیں اور جسطرح ان غلاموں کے وہ آقا جن کو اللہ تعالیٰنے رزق میں فضیلت عطاکی ہے۔ (برادی رزقھم علی ما ملکت ایمانھم فھم فیہ سواء) ” وہ روزی پہنچانے والے نہیں ان کو جن کے ان کے دائیں ہاتھ مالک ہوئے وہ سب اس میں برابر ہوجائیں “ اور وہ اس امر کو محال سمجھتے ہیں۔ اسی طرح وہ ہستیاں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا رکھا ہے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے غلام ہیں وہ کسی ذرہ بھر چیز کے مالک نہیں ہیں۔۔۔۔ پھر تم ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک کیسے ٹھہراتے ہو ؟ کیا یہ سب سے بڑا ظلم اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار نہیں ؟ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (افبنعمۃ اللہ یجحدون) ” کیا پس وہ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں ؟ “ اگر انہوں نے اس نعمتوں کا اقرار کیا ہوتا اور ان کو اس ہستی کی طرف منسوب کیا ہوتا جو اس کی مستحق ہے تو یہ کبھی شرک نہ کرتے۔
Ayah 16:72آیت : (72)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اس احسان عظیم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے ان کی بیویاں بنائیں تاکہ وہ ان بیویوں کے پاس سکون حاصل کریں اور ان بیویوں سے ان کو اولاد عطا کی تاکہ ان سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ‘ یہ اولاد ان کی خدمت کرے اور ان کی مختلف حوائج پوری کرے اور وہ متعدد پہلوؤوں سے اپنی اولاد سے فائدہ اٹھائیں اور ان کو پاک مطعومات و مشروبات سے نوازا اور دیگر ظاہری نعمتیں عطا کیں جن کو شمار کرنا بندوں کے بس میں نہیں۔ (افبالباطل یومنون) ” کیا پس وہ باطل کو مانتے ہیں ؟ “ یعنی کیا یہ لوگ باطل پر ایمان رکھتے ہیں جو کوئی قابل ذکر چیز تھا ہی نہیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وجود عطا کیا اور اس کا وجود عدم کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ پس یہ باطل معبود تخلیق ‘ رزق اور تدبیر کسی چیز پر بھی قادر نہیں اور یہ بات ہر اس چیز کو شامل ہے جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے ‘ کیونکہ وہ باطل ہے۔ تب مشرکین اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کو معبود کیسے بنا لیتے ہیں ؟ (وبنعمت اللہ ھم یکفرون) ” اور وہ اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں “ اور الہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور کفر میں اس کو استعمال کرتے ہیں۔ کیا یہ سب سے بڑا ظلم ‘ سب سے بڑا گناہ اور سب سے بڑی حماقت نہیں ؟
Ayahs 16:73–75آیت : (73-76)
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کے ظلم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے شرک ٹھہرایا ہے اور ان باطل معبودوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان کے لئے زمین و آسمان میں رزق کا اختیار نہیں رکھتے۔ وہ بارش برسا سکتے ہیں نہ رزق عطا کرسکتے ہیں اور نہ ہی زمین میں نباتات اگا سکتے ہیں ‘ وہ زمین و آسمان میں کسی ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں بلکہ اگر وہ چاہیں بھی تو کسی چیز کے مالک نہیں بن سکتے ‘ کیونکہ بسا اوقات کسی چیز کا غیر مالک بھی اس چیز پر ‘ جو نفع دے سکتی ہو ‘ قدرت اور اختیار رکھتا ہے۔۔۔۔ مگر یہ خود ساختہ معبود کسی چیز کے مالک ہیں نہ قدرت اور اختیار رکھتے ہیں۔ یہ ہیں ان کے خود ساختہ معبودوں کے اوصاف ‘ کیسے انہوں نے ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا لیا ‘ مالک ارض و سماء کے ساتھ تشبیہ دے دی جو تمام تر اقدار کا مالک ‘ ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے اور تمام وقت اسی کے پاس ہے ؟ اسی لئے فرمایا : (فلا تضربو اللہ الامثال) ” اللہ کے لئے مثالیں بیان مت کرو “ جو اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان مساوات کو متضمن ہیں۔ (ان اللہ یعلم وانتم لا تعلمون) ” بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے “ پس ہم پر واجب ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلا علم کوئی بات نہ کہیں اور ان مثالوں کو گور سے سنیں جن کو اللہ علیم وخبیر نے بیان کیا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے دو مثالیں بیان کی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔
پہلی مثال ایک غلام کی ہے جو کسی دوسرے کی غلامی میں ہے جو مال کا مالک ہے نہ دنیا کی کسی چیز کا جبکہ دوسرا ایک آزاد اور دولت مندشخص ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مال کی تمام اصناف میں سے بہترین رزق سے نوازا ہے وہ سخی اور بھلائی کو پسند کرنے والا شخص ہے۔ وہ اس مال میں سے کھلے چھپے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ مراد آزاد اور وہ غلام برابر ہوسکتے ہیں ؟ حالانکہ یہ دونوں مخلوق ہیں اور ان کے درمیان مساوات محال نہیں ہے۔ پس جب یہ دونوں مخلوق ہوتے ہوئے برابر نہیں ہوسکتے ‘ تو ایک مخلوق اور غلام ہستی ‘ جو کسی چیز کی مالک ہے نہ کوئی قدرت اور اختیار رکھتی ہے بلکہ وہ ہر لحاظ سے محتاج ہے ‘ رب تعالیٰ کے برابر کیسے ہوسکتی ہے جو تمام سلطنتوں کا مالک اور ہر چیز پر قادر ہے ؟
بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کی اور حمد و ستائش کی تمام انواع سے اپنے آپ کو متصف کرتے ہوئے فرمایا : (الحمدللہ) ” تمام تعریف اللہ کے لئے ہے “ گویا کہ یوں کہا گیا کہ جب معاملہ یہ ہے تو مشرکین نے اپنے خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے برابر کیوں ٹھہرا دیا ؟ اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (بل اکثرھم لا یعلمون) ” بلکہ ان کے اکثر لوگ علم نہیں رکھتے “ پس اگر انہیں حقیقت کا علم ہوتا تو وہ اس شرک عظیم کے ارتکاب کی کبھی جرئات نہ کرتے۔
دوسری مثال یہ ہے (رجلین احد ھما ابکم) ” دو آدمی ہیں ‘ ایک ان میں سے گونگا ہے “ جو سن سکتا ہے نہ بول سکتا ہے (لایقدر علی شیء) ” جو (قلیل یا کثیر) کسی چیز پر قادر نہیں “ (وھو کل علی مولہ) ” اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے “ وہ خود اپنی خدمت کرنے پر قادر نہیں بلکہ اس کے برعکس اس کا مالک اس کی خدمت کرتا ہے اور وہ ہر لحاظ سے ناقص ہے۔ (ھل یستوی ھو ومن یامر بالعدل وھو علی صراط مستقیم) ” کیا برابر ہے وہ اور ایک وہ شخص جو انصاف کے ساتھ حکم کرتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر ہے “ پس اس کے اقوال عدل پر مبنی اور اس کے افعال درست ہیں تو جس طرح یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے ‘ اسی طرح وہہستی جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے درآنحالیکہ وہ اپنے مصالح پر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتی ‘ اللہ تعالیٰ کے برابر کیسے ہوسکتی ہے ؟ اگر اللہ تعالیٰ اس کے مصالح کا انتظام نہ کرے تو وہ ان میں سے کسی چیز پر بھی قادر نہیں۔ ایسا شخص اس شخص کی برابری کرسکتا ہے نہ اس کا ہمسر ہوسکتا ہے جو حق کے سوا کچھ نہیں بولتا اور وہ صرف وہی فعل سر انجام دیتا ہے جو قابل ستائش ہے۔
Ayahs 16:76–77آیت : (77)
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے عیب کا علم رکھنے میں منفرد اور یکتا ہے ‘ پس چھپی ہوئی باطن کی باتیں اور اسرار نہاں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ‘ قیامت کی گھڑی کا علم بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ چناچہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی۔ جب قیامت کی گھڑی نمایاں ہو کر سامنے آجائے گی تو یہ (الاکلمح البصر اوھواقرب) ” آنکھ جھپکنے یا اس سے بھی کم وقت میں آجائے گی۔ “ پس لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور محشر کی طرف دوڑیں گے اور جو لوگمہلت چاہیں گے ان کے لئے مہلت کا وقت ختم ہوجائے گا۔ (ان اللہ علی کل شیء قدیر) ” بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ الہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے ‘ ہر چیز کو شامل ہے ‘ مردوں کو زندہ کرنا کوئی انوکھی بات نہیں۔
Ayah 16:78آیت : (78)
یعنی اللہ تعالیٰ یہ نعمتیں عطا کرنے میں منفرد اور یکتا ہے (اخرجکم من بطون امھتکم لا تعلمون شیا) ” اس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا ‘ تم کچھ نہیں جانتے تھے “ اور نہ کسی چیز پر قدرت رکھتے تھے۔ اور اس نے (وجعل لکم السمع والابصار والافدۃ) ” تمہارے کان ‘ آنکھیں اور دل بنائے “ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں اعضاء کا ان کے فضل و شرف کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے ‘ نیز اس خصوصیت کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ تینوں اعضاء ہر علم کی کلید ہیں۔ صرف یہی تین دروازے ہیں جن کے ذریعے سے علم انسان تک پہنچتا ہے ورنہ تمام اعضاء اور تمام ظاہری اور باطنی قوی اللہ تعالیٰ ہی نے عطا کئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو نشونما دیتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتے ہیں جو انسان کے لائق ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس لئے عطا کیا ہے کہ وہ ان جوارح کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ پس جو کوئی ان جوارح کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ پس جو کوئی ان جارح کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے علاوہ کہیں اور استعمال کرتا ہے تو یہ جوارح اس کے خلاف حجت ہوں گے کیونکہ وہ اللہ کی نعمت کا بد ترین رویے سے مقابلہ کرتا ہے۔