Ayah 11:120جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں انبیائے کرام کے حالات بیان فرمائے، تو اب اس میں پنہاں حکمت کا ذکر فرمایا۔ وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ : اور یہ سب چیز بیان کرتے ہیں ہم آپ کے پاس رسولوں کے احوال سے جس سے مضبوط کریں ہم آپ کے دل کو۔ تاکہ وہ مطمئن رہے، اس کو ثبات حاصل ہو اور وہ صبر کرے، جیسے اولو العزم انبیاء ومرسلین نے صبر کیا تھا، کیونکہ نفوس انسانی اقتدا سے مانوس ہوتے ہیں اور اعمال پر ان کو نشاط حاصل ہوتا ہے اور وہ دوسروں کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، حق کے شواہد اور اس کو قائم کرنے والوں کی کثرت کا ذکر کرنے سے حق کی تائید ہوتی ہے۔
وَجَاۗءَكَ فِيْ هٰذِهِ : اور آیا آپ کے پاس اس میں، یعنی اس سورة مقدسہ میں۔ الْحَقُّ : حق، آپ کے پاس یقین آگیا اور اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی شک نہیں۔ اس کا علم، حق کا علم ہے جو نفس کے لیے سب سے بڑی فضیلت ہے۔ وَمَوْعِظَةٌ وَّذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ : اور نصیحت اور یاد دہانی مومنوں کے لیے۔ یعنی وہ اس سے نصیحت پکڑتے ہیں پس برے کاموں سے باز رہتے ہیں اور محبوب کاموں کو یاد کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ اور جو ایمان نہیں رکھتے انہیں نصیحتیں اور مختلف انواع کی یاد دہانیاں کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔ بنا بریں فرمایا (اگلی آیت)
Ayah 11:121وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ : اور ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو (دلائل قائم ہوجانے کے بعد بھی) ایمان نہیں لاتے۔
اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ : اپنی جگہ عمل کیے جاؤ، یعنی اسی حالت میں جس میں کہ تم ہو، عمل کرتے رہو۔ اِنَّا عٰمِلُوْنَ : ہم بھی (اپنے طریقے کے مطابق) عمل کر رہے ہیں۔
Ayah 11:122وَانْتَظِرُوْا : تم بھی انتظار کرو۔ یعنی ہم پر جو کچھ نازل ہوگا۔ تم اس کا انتظار کرو۔ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ : ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ اور تم پر جو کچھ نازل ہوگا، ہم اس کے منتظر ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں گروہوں کے درمیان جو فرق ہے اسے بیان کردیا۔ اس نے اپنے بندوں کو دکھا دیا کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد کرتا ہے اور انبیائے کرام کو جھٹلانے والے دشمنان الٰہی کا قلع قمع کرتا ہے۔
Ayah 11:123وَلِلّٰهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : اور اللہ ہی کے پاس ہے چھپی بات آسمانوں اور زمین کی۔ یعنی تمام مخفی چیزیں اور غیبی امور جو آسمانوں اور زمین میں سر بستہ ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ وَاِلَيْهِ يُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ : اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کام۔ تمام اعمال اور عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کردے گا۔ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ : پس اسی کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسہ رکھیں۔ یعنی اللہ کی عبودیت کو قائم کیجیے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ تمام احکام ہیں جن کی تعمیل پر آپ صل اللہ علیہ وسلم قادر ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ : آپ کا رب (ان اچھے اور برے) اعمال سے غافل نہیں ہے جن کو تم بجا لاتے ہو۔ بلکہ اس کا علم ان اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ان پر اس کا قلم جاری ہوچکا ہے اور اب اس پر اس کا حکم اور جزا کا فیصلہ جاری ہوگا۔