11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا۔ تو ہم نے نوح (کو) حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجا ئیگا) اسکو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو اور جو ایمان لایا ہو اسکو کشتی میں سوار کرلو اور انکے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے۔

(حتیٰ اذا جاء امرنا) ” یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔ “ یعنی جب وہ وقت آگیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لئے مقرر کیا تھا۔ (وفار التنور) ” اور جوش مارا تنور نے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دئیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دئیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃ آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لئے جمع ہوگیا جو مقدر ہوچکا تھا۔ (وقلنا) ” اور ہم نے کہا۔ “ یعنی ہم نے نوح (علیہ السلام) سے کہا (احمل فیھامن کل زوجین اثنین) ” ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں۔ “ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کرلیں، تاکہ تمام مخلوق کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائدجانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانروں کو لادلینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ (واھلک الا من سبق علیہ القول ) ” اور اپنے گھر والوں کو، مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم “ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں، مثلاً نوح (علیہ السلام) کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کرلیں۔ (ومن امن) ” اور سب ایمان والوں کو “ (و) اور حال یہ ہے کہ (ما امن معہ الا قلیل) ” ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔
Ayah 11:41

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

(نوح نے) کہا کہ خدا کا نام لیکر (کہ اسی کے ہاتھ میں) اس کا چلنا اور ٹھہرنا (ہے) اس میں سوار ہوجاؤ۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

“ (وقال) اور نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ (ارکبو فیھا بسم اللہ مجرھا وموسھا) ” اس میں سوار ہوجاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا “ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی (ان ربی لغفوررحیم) ” بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔ “ کیونہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
Ayah 11:42

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ انکو لیکر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ (کشتی سے) الگ تھا ' پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو۔

پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیر نے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ (وھی تجری بھم) ” اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔ “ یعنی کشتی نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ (فی موج کالجبال) ” پہاڑوں جیسی لہروں میں “ اور اللہ تعالیٰ کی کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ (ونادیٰ نوح ابنہ) ” اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا “ یعنی جب نوح (علیہ السلام) کشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا، تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہوجائے۔ (وکان ) ” اور وہ تھا۔ “ یعنی نوح (علیہ السلام) کا بیٹا (فی معزل ) ” الگ “ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوح (علیہ السلام) چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہوجائے۔ اس لئے نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے کہا : (یبنی ارکب معنا ولا تکن مع الکفرین) ” بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو “ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
Ayah 11:43

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

اس نے کہا کہ میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر اس پر جس پر خدا رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آ حائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا۔

(قال) ” اس نے کہا۔ “ یعنی نوح (علیہ السلام) کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ” عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا۔۔۔۔۔۔ “ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا : (ساوی الی جبل یعصمنی من الماء ) ” میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچا لے گا۔ “ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہوجاؤں گا۔ (قال) نوح (علیہ السلام) نے کہا : (لا عاصم الیوم من امر اللہ الا من رحم) ” آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں، مگر جس پر وہی رحم کرنے “ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لئے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کرلے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔ (وحال بینھما الموج فکان) ” اور حائل ہوگئی دونوں کے درمیان موج، پس ہوگیا وہ “ یعنی بیٹا (من المغرقین) ” ڈوبنے والوں میں۔ “
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا۔ اور کشتی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت۔

(وَ ) ” اور “ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کردیا اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا (قلی یا ارض ابلعی مائک ) ” حکم دیا گیا، اے زمین ! نگل لے اپنا پانی “ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا (ویسماء اقلعی) ” اور اے آسمان ! تھم جا “ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ (وغیض الماء) ” اور سکھا دیا گیا پانی “ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا (وقضی الامر) ” اور ہوچکا کام “ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ (واستوت علی الجودی) ” اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔ “ یعنی کشتی ” جودی “ پر لنگر انداز ہوگئی جو سر زمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ (وقیل بعد اللقوم الظلمین) ” اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لئے “ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
Ayah 11:45

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار ! میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اسکو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے۔

(ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اھلی وان وعدک الحق) ” اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بیشک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے، اور تیرا وعدہ سچا ہے “ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا : (احمل فیھا من کل زوجین اثنین واھلک) ” ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کرلو اور اپنے گھر والوں کو بھی “ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے، تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ شاید کہ نوح (علیہ السلام) کی شفقت پدری نے جوش مارا ہو، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا، تو نوح (علیہ السلام) نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں، اس لئے انہوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے دعامانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کردیا اور عرض کیا : (وانت احکم الحکمین) ” اور تو سب سے بڑا حکم ہے۔
Ayah 11:46

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے۔ وہ تو ناشائستہ افعال ہے۔ تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو۔

“ (قال) اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) سے فرمایا : (انہ لیس من اھلک) ” وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے “ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ (انہ عمل غیر صالح) ” بیشک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں “ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لئے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ (فلا تسئلن ما لیس لک بہ علم) ” پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر “ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ (انی اعظک ان تکون من الجھلین) ” میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔ “ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کرکے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کریگا۔
Ayah 11:47

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی مجھے حقیقت معلوم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہوجاؤں گا۔

اس وقت نوح (علیہ السلام) اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا : (قال رب انی اعوذبک ان اسئلک مالیس لی بہ علم والا تغفرلی وترحمنی اکن من الخسرین) ” اے میرے رب ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا، تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤں گا “ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوح (علیہ السلام) کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لئے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ (ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا انھم مغرقون) ” ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا کہ وہ سب غرق ہوں گے۔ “ بلکہ نوح (علیہ السلام) کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور سمجھے کہ ان کا بیٹا (اھلک) کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لئے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اتر آؤ۔ اور کچھ اور جماعتیں ہونگی جن کو ہم (دنیا کے فوائد سے) محظوظ کریں گے پھر انکو ہماری طرف سے عذاب الیم پہنچے گا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (قیل ینوح اھبط بسلم منا و برکت علیک ولی امم ممن معک) ” حکم ہوا اے نوح ! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں، یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوح (علیہ السلام) نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کئے تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انہوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھردیا۔ (وامم سنمعتھم) ” اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے “ یعنی دنیا میں ہم انہیں متمتع ہونے دیں گے۔ (ثم یمسھم منا عذاب الیم) ” پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے درد ناک عذاب “ یعنی یہ نجات دینا، ہمارے لئے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا، تو ہم اس پر عذاب نازل کریں، بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لئے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا، تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ (حالات) من جملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں (اور) اس سے پہلے نہ تم ہی ان جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے۔

یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد۔۔۔۔۔۔ جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے۔۔۔ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ( علیہ السلام) سے فرمایا : (تلک من انباء الغیب نوحیھا الیک ما کنت تعلمھا انت ولا قومک من قبل ھذا ) ” یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے “ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو (محمد ﷺ پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ (ان العاقبۃ للمتقین) ” بیشک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے۔ “ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوح (علیہ السلام) کی قوم کے مقابلے میں نوح (علیہ السلام) کا انجام اچھا تھا۔
Ayah 11:50

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے عدا کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا) انہوں نے کہا کہ میری قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم (شرک کرکے خدا پر) محض بہتان باندھتے ہو۔

(والی عاد) ” اور عاد کی طرف ‘’ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ” عاد “ ایک معروف قبیلہ تھا جو سر زمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ (اخاھم) ” ان کے بھائی۔ “ نسب میں ان کے بھائی (ھوداً ) ” ہود کو “ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کرسکیں۔ (قال) ہود (علیہ السلام) نے ان سے کہا۔ “ (یقوم اعبدو اللہ مالکم من الہٍ غیرہ انتم الا مفترون) ” اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تم بہتان باندھتے ہو “ یعنی ہود (علیہ السلام) نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کو اختیار کرکے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
Ayah 11:51

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

میری قوم ! میں اس (وعظ ونصیحت) کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ بھلا تم سمجھتے کیوں نہیں ؟

پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (یقوم لا اسئلکم علیہ اجراً ) ” اے میری قوم ! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔ “ یعنی تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمہارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمہیں کہنا پڑے ” یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے “ میں تو تمہیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور تمہیں تعلیم دیتا ہوں۔ (ان اجری الا علی الذی فطرنی افلا تعقلون) ” میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے “ یعنی جس کی طرف تمہیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
Ayah 11:52

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے قوم ! اپنے پروردگار سے بخشش مانگو پھر اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم پر آسمان سے موسلادھار مینہ برسائے اور تمہاری طاقت بڑھائے گا۔ اور (دیکھو) گنہگار بن کر روگردانی نہ کرو۔

(ویقوم استغفرو ربکم) ” اور اے میری قوم ! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ “ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہوچکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ (ثم تو بوا الیہ) ” پھر اس کے آگے توبہ کرو۔ “ یعنی آئندہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے (یرسل السماء علیکم مدرارا) ” وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ (ویزدکم قوۃ الی قوتکم) ” اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں “ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لئے انہوں نے کہا تھا : (من اشد منا قوۃ) ” ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے “ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اضافہ کر دے گا۔ (ولا تتولوا) ” اور روگردانی نہ کرو۔ “ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو (مجرمین) ” گناہ گار ہو کر “ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
Ayah 11:53

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

وہ بولے ہود تم ہمارے پاس کوئی دلیل ظاہر نہیں لائے اور ہم (صرف) تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تم پر ایمان لانے والے ہیں۔

(قالوا) انہوں نے ہود (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا : (یھود ماجئتنا ببینۃٍ ) ” اے ہود ! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر انہیں آیا “ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لئے لازم نہیں، بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہود (علیہ السلام) ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں، کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کی اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔ اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لئے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہود (علیہ السلام) کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں، تو ان کی صداقت پر دلیل کے لئے یہی چیز کافی تھی۔۔۔۔۔۔ بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادات معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کردیتا ہے وہ کہتا ہے (انی توکلت علی اللہ ربی وربکم) ” میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمہارا رب ہے “ (انی اشھد اللہ واشھدا انی بری مما تشرکون۔ من دونہ فکیدونی جمیعاً ثم لا تنظرون) ” ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو ۔ “ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہود (علیہ السلام) لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہود (علیہ السلام) کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بےبس ہیں۔ اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔ کفار نے کہا : (وما نحن بتارکی الھتنا عن قولک) ” اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں۔ “ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر۔۔۔ ان کے زعم کے مطابق۔۔۔ کوئی دلیل نہیں، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے (وما نحن لک بمومنین) ” اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ہیں “ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہود (علیہ السلام) کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
Ayahs 11:54–55

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا (کر دیوانہ کر) دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

(یعنی جن کی) خدا کے سوا (عبادت کرتے ہو تو) تم سب مل کر میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی چاہو) کرلو اور مجھے نہ دو ۔

54-55: (ان نقول) ہم تیرے بارے میں یہی کہتے ہیں : (الا اعتراک بعض الھتنا بسوء) ” تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے “ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کرکے تجھے جنون لاحق کردیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کردیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کردی۔ انہوں نے کس طرح سب سچے انسان کو جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا، تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔ اسی لئے ہود (علیہ السلام) نے واضح فرمایا کہ انہیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انہیں تکلیف نہیں پہنچ سکتی “ بنا بریں فرمایا : (ان اشھد اللہ واشھد و انی بری مما تشرکون۔ من دونہ فکیدونی جمعیاً ) یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کرلو (ثم لا تنظرون) ” پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو ۔ “
Ayah 11:56

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں خدا پر جو میرا اور تمہارا (سب کا) پروردگار ہے بھروسہ رکھتا ہوں (زمین پر) جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔ بیشک میرا پروردگار سیدھے راستے پر ہے۔

(انی توکلت علی اللہ ) ” میں نے اللہ پر توکل کیا۔ “ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ (ربی وربکم ) ” جو میرا اور تمہارا رب ہے “ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمہاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی (ما من دابۃ الا ھو اخذ بنا صیتھا) ” جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔ “ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمہیں مجھ پر مسلط نہ کرے، تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکتے اور اگر وہ تمہیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ (ان ربی علی صراط مستقیم) ” بیشک میرا رب سیدھے راستے پر ہے “ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضاد قدر، شرع و امر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
Ayah 11:57

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

اگر تم رودگرانی کرو گے تو جو پیغام میرے ہاتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے وہ میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے اور میرا پروردگار تمہاری جگہ اور لوگوں کو لابسائے گا۔ اور تم خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے۔ میرا پروردگار تو ہر چیز پر نگہبان ہے۔

(فان تولوا) ” پس اگر تم روگردانی کرو۔ “ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمہیں بلاتا ہوں (فقد ابلغتکم ما ارسلت بہ الیکم) ” تو تم تحقیق میں پہنچا چکا تمہیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا تھا “ پس میرے ذمے تمہارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں۔ (ویستخلف ربی قوماً غیر کم) ” اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمہارے علاوہ کسی اور قوم کو “ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ (ولا تضرونہ شیئا) ” اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے “ کیونکہ تمہارا ضرر تمہاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ (من عمل صالحاً فلنفسہ ومن اساء فعلیھا) ” جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لئے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لئے ہے۔ “ (ان ربی علی کل شئی حفیظ) ” بیشک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔ “
Ayah 11:58

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے انکو اپنی مہربانی سے بچا لیا۔ اور انھیں عذاب شدید نجات دی۔

(ولما جاء امرنا) ” اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔ “ یعنی جب نا مبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ (ما تذرمن شئی اتت علیہ الا جعلتہ کالرمیم) ” جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کئے دیتی تھی۔ “ (نجینا ھوداً والذین امنو معہ برحمۃ منا ونجینھم من عذاب غلیظ) ” تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا “ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کردی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
Ayah 11:59

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

یہ (وہی) عاد ہیں جنہوں نے خدا کی نشانیوں سے انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر وسرکش کا کہا مانا۔

(وتلک عاد) ” یہ قوم عاد تھی “ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا، کیونکہ (جحدوا بایت ربھم) ” انہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا “ اور کہنے لگے : (ما جئتنا ببینۃٍ ) ” تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے “ پس اس سے واضح ہوا کہ ہود (علیہ السلام) کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انہیں یقین تھا، انہوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ (وعصوا رسلہ ) ” اور انہوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔ “ یعنی انہوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے، کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔
Ayah 11:60

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

تو اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہی اور قیامت کے دن بھی (لگی رہے گی) دیکھو عاد نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ (اور) سن رکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔

(واتبعوا امر کل جبار) ” اور انہوں نے حکم نامہ ہر اس شخص کا جو سرکش تھا “ یعنی وہ شخص جو جب ر استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہوجاتا ہے۔ (عنید) ” سرکش “ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انہوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ (واتبعوافی ھذہ الدنیا لعنۃ) ” اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار “ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ (ویوم القیمۃ) ” اور قیامت کے روز بھی “ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ (الا ان عاداً کفرو ربھم) ” خبردار ! بیشک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا “ انہوں نے اس ہستی کا انکار کردیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی (الا بعدالعاد قوم ھود) ” سنو ! ہود کی قوم عاد کے لئے دوری ہو “ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کردیا۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا کہ قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پید کیا اور اس میں آباد کیا۔ تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بیشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے۔

(والی ثمود) ” اور ثمود کی طرف۔ “ یعنی ہم ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ (اخاھم) ” ان کے بھائی۔ “ یعنی نسب میں ان کے بھائی (صلحاً ) ” صالح (علیہ السلام) کو “ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ (قال یقوم اعبدو اللہ) ” انہوں نے کہا، اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لئے خالص کرو۔ (مالکم من الہ غیرہ) ” اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں “ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ (ھو انشاکم من الارض) ” اسی (اللہ تعالیٰ ) ہی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا “ (واستعمرکم فیھا) ” اور اس میں تمہیں بسایا “ یعنی تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا، تمہیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا، تمہیں زمین میں تمکن و اقتدار عطا کیا، تم عمارتیں بناتے ہو، باغات لگاتے ہو اور کھیتیاں اگاتے ہو، جو چاہتے ہو کاشت کرتے ہو، اس سے منفعت حاصل کرتے ہو اور اسے اپنے مصالح اور مفاد میں استعمال کرتے ہو۔ جس طرح ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ (فاستغفروہ) ” پس اسی سے مغفرت طلب کرو۔ “ یعنی تم سے کفر، شرک اور دیگر جو گناہ صادر ہوئے ہیں ان کی بخشش طلب کرو اور ان گناہوں کو چھوڑ دو ۔ (ثم توبوا الیہ ) ” پھر اس کے حضور توبہ کرو۔ “ یعنی خالص توبہ اور انابت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ (ان ربی قریب مجیب) ” بیشک میرا رب نزدیک اور (دعا کو) قبول کرنے والا ہے۔ “ یعنی وہ اس شخص کے قریب ہے جو اس کو سوال کرنے کے لئے پکارتا ہے یا عبادت کے لئے پکارتا ہے وہ اس کو اس کا سوال عطا کرکے اور اس کی دعا قبول کرکے اور اس پر جلیل ترین ثواب عطا کرتے ہوئے اس کی پکارا کا جواب دیتا ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں۔ قرب عام اور قرب خاص۔ قرب عام سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے علم کے ذریعے سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا، قرب کی یہ نوع اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد (ونحن اقرب الیہ من حبل الورید ) ” اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔ “ میں مذکور ہے۔ قرب خاص سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں، اللہ سے سوال کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے قریب ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (واسجدو واقترب) ” سجدہ کر اور اس کا قرب حاصل کر۔” میں قرب کی اسی نوع کا ذکر ہے۔ اس آیت کریمہ میں نیز اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشاد : (واذ سالک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع) ” جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں (تو ان سے کہہ دیں) کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں۔ “ میں اس قرب کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم، ان کی دعاؤں کو قبول کرنے اور ان کی مرادیں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ (القریب) اور (المجیب) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے۔
Ayah 11:62

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

انہوں نے کہا صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوچنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں۔ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں قومی شبہہ ہے۔

جب ان کے نبی صالح (علیہ السلام) نے ان کو اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص ترغیب دی، تو انہوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور آپ سے انتہائی برے طریقے سے پیش آئے (قالو یصلح قد کنت فینا مرجواقبل ھذا) ” انہوں نے کہا صالح ! اس سے پہلے ہم تجھ سے امیدیں رکھتے تھے۔ “ یعنی ہم نے تجھ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تجھ سے عقل مندی اور نفع کی توقع کی تھی۔ یہ ان کی طرف سے ان کے نبی حضرت صالح (علیہ السلام) کے حق میں ایک گواہی ہے کہ وہ مکارم اخلاق اور محاسن عادات میں معروف تھے اور وہ اپنی قوم میں بہترین شخص گردانے جاتے تھے۔ مگر وہ یہ دعوت توحید لے کر آئے جو ان کی فاسد خواہشات کے موافق نہ تھی تب انہوں نے یہ بات کہی جس کے مضمون کا لب لباب یہ ہے۔ ” تو کامل شخصیت کا حامل تھا مگر تو ہمارے ظن و گمان کے بالکل خلاف نکلا اور اب تیری حالت ایسی ہے کہ تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی۔ “ صالح (علیہ السلام) کا گناہ صرف وہی تھا جو وہ آپ کے بارے میں کہا کرتے تھے : (اتنھنا ان نعبدو ما یعبدو اباؤنا) ” کیا تو ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے “ اور وہ سمجھتے تھے کہ صالح (علیہ السلام) میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کیسے وہ ان کی عقل کی خامی بیان کرتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کے گمراہ آباؤ اجداد کو بےعقل کہتے ہیں ؟ اور کیسے وہ ان کو ہستیوں کی عبادت سے روکتے ہیں جو ان کو فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پتھر اور لکڑی کے گھڑے ہوئے یہ معبود کسی کام نہیں آسکتے ؟ صالح (علیہ السلام) نے ان کو حکم دیا کہ وہ دین کو اپنے رب، اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کریں جو انہیں اپنی نعمتوں سے پیہم نوازتا رہتا ہے۔ اس کے دائمی احسانات کا ابر رحمت ان پر برستا رہتا ہے۔ ہر نعمت جو انہیں حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور برائیوں کو ان سے وہی دور کرتا ہے۔ (واننا لفی شک مما تدعونا الیہ مریب) ” تو ہمیں جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اس بارے میں ہم ہمیشہ شک میں مبتلا رہتے ہیں۔ “ یہ شک ہمارے دلوں میں شبہات کو جنم دیتا ہے۔ بزعم خود، اگر وہ صالح (علیہ السلام) کی دعوت کو صحیح سمجھتے تو وہ ضرور ان کی اتباع کرتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے تھے۔
Ayah 11:63

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

صالح نے کہا قوم ! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے (نبوت کی) نعمت بخشی ہو تو اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو اسکے سامنے میری کون مدد کریگا ؟ تم تو (کفر کی باتوں سے) میرا نقصان کرتے ہو۔

بناء بریں صالح (علیہ السلام) نے جھوٹ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : (قال یقوم اریتم ان کنت علی ببینۃ من ربی ) ” اے میری قوم ! بھلا بتاؤ تو اگر میں ہی اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں۔ “ یعنی میں اپنے رب کی طرف سے برہان اور اپنے یقین پر ہوں۔ (واتنی من رحمۃ) ” اور اس نے دی مجھے رحمت، اپنی طرف سے “ اس نے اپنی رسالت اور وحی سے مجھے نوازا۔ تب بھی کیا تم جس چیز کی طرف مجھے بلاتے ہو اور جس پر تم عمل پیدا ہو، میں اس میں تمہاری پیروی کروں ؟ (فمن ینصرنی من اللہ ان عصیتہ فما تزید وننی غیر تخسیر) ” پھر کون بچائے گا مجھ کو اس سے، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ پس تم میرے نقصان ہی میں اضافہ کرتے ہو “ یعنی تم خسارے، ہلاکت اور ضرر کے سوا میرے لئے کسی چیز کا اضافہ نہیں کروگے۔
Ayah 11:64

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور (یہ بھی کہا کہ) اے قوم ! یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی (یعنی معجزہ) ہے تو اس کو چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں (جہاں چاہے) چرے اور اسکو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔

(ویقوم ھذا ناقۃ اللہ لکم ایۃ) ” اور اے میری قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمہارے لئے نشانی “ کنویں سے ایک دن صرف اونٹنی پانی پیے گی، پھر تمام لوگ اس کے تھنوں سے دود پئیں گے اور ایک دن ان کے پانی پینے کے لئے مقرر ہوگا۔ (فذروھا تاکل فی ارض اللہ ) ” پس تم اسے چھوڑدو، وہ کھائے پھرے اللہ کی زمین میں “ یعنی تم پر اونٹنی کے چار وغیرہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے (ولا تمسوھا بسوء) ” اور تم اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا “ یعنی اس کو قتل کرنے کی نیت سے مت چھونا (فیاخذکم عذاب قریب) ” ورنہ تمہیں بہت جلد عذاب آپکڑے گا۔
Ayah 11:65

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ تو (صالح نے) کہا کہ اپنے گھروں میں تین دن (اور) فائدے اٹھالوں۔ یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا۔

“ (فعقروھا فقال ) ” پس انہوں نے اس کے پاؤں کاٹ دئیے تو کہا “ یعنی جناب صالح (علیہ السلام) (تمتعوفی دارکم ثلثۃ ایام ذلک وعد غیر مکذوب) ” تم اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہوگا “ بلکہ یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔
Ayah 11:66

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا) بیشک تمہارا پروردگار طاقتور اور زبردست ہے۔

(فلما جاء امرنا) ” پس جب ہمارا حکم آگیا۔ “ یعنی وقوع عذاب کا (نجیناصلحاً والذین امنو معہ برحمۃ منا ومن خزی یومئذ) ” تو ہم نے صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی، اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے “ یعنی ہم نے ان کو عذاب، رسوائی اور فضیحت سے بچا لیا۔ (ان ربک ھو القوی العزیز) ” بیشک آپ کا رب زور آورغالب ہے “ یہ اس کی قوت ہے اور غلبے کی دلیل ہے کہ اس نے سرکش قوموں کو ہلاک کردیا اور انبیاء ومرسلین اور ان کے متبعین کو بچا لیا۔
Ayah 11:67

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ (کی صورت میں عذاب) نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

(آیت) ” اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑنے آپکڑا۔ “ یعنی ایک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے ان ظالموں کو دھر لیا اور ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے (آیت) ” وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ “ یعنی اپنی بستیوں میں بےحس و حرکت پڑے رہ گئے۔
Ayah 11:68

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

گویا کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ اور سن رکھو ثمود پر پھٹکار ہے

(آیت) گویا کہ۔۔۔ جب ان پر عذاب آیا۔۔۔ وہ اپنی بستیوں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہوئے تھے نہ انہوں نے ان بستیوں میں ایک دن بھی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ نعمتیں ان سے دور ہوگئیں اور سرمدی عذاب نے ان کو آن لیا، وہ عذاب جو منقطع نہیں ہوگا اور وہ جو ہمیشہ رہے گا۔ (آیت) ” سن لو “ بیشک ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا “ یعنی ان کے پاس نمایاں نشان آجانے کے بعد بھی انہوں نے اللہ کا انکار کیا۔ (آیت) ” سنو ! دوری ہے ثمود کے لئے “ پس کتنے بدبخت اور کس قدر زلیل تھے ثمود ! ہم دنیا کے عذاب اور اس کے رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
Ayah 11:69

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا۔ ابھی کچھ وقفہ نہیں ہوا تھا کہ (ابرہیم) بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔

(آیت) ” تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے “ ہمارے قاصد (ابراہیم) ” ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس “ (بالبشریٰ ) ” بشارت کے ساتھ “۔ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحاق کی خوشخبری دیتے جائیں، تو جب فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے (آیت) ” تو انہوں نے سلام کیا ‘ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا۔ “ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیم (علیہ السلام) کو اور ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو، کیونکہ ان کا سلام جملہ فعلیہ کے ذریعے سے تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔ (فما لبث) ” انہوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔ “ یعنی جب ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو انہوں نے تاخیر نہ کی (آیت) ” اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔ “ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لئے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے : (آیت) ” تم کھاتے کیوں نہیں ؟
Ayah 11:70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

جب دیکھا کہ ان کہ ہاتھ کھانے کی طرف نہیں جاتے (یعنی وہ کھانا نہیں کھاتے) تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا۔ (فرشتوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجئے ہم قوم لوط کی طرف (انکے ہلاک کرنے کو) بھیجے گئے ہیں

(آیت) ” جب انہوں (ابراہیم علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے “ (آیت) ” تو انہیں کھٹکا لگا اور دل میں سے ان سے ڈرے “ ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، (آیت) ” انہوں نے کہا، ڈریں نہیں، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی اللہ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجا ہے۔
Ayah 11:71

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی۔

(آیت) ” اور اس کی بیوی “ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی (آیت) ” کھڑی تھی۔ “ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی (آیت) ” وہ ہنس پڑی “ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انہیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی (آیت) ” پس ہم نے اسے خوشخبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی “ اسے اس اس پر تعجب بھی ہوا۔
Ayah 11:72

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

اس نے کہا اے ہے میرے بچہ ہوگا ؟ میں تو بڑھیا ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

(آیت) ” وہ بولیں، کیا میں جنوں گی جب کہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے “ پس یہ دو امور (بظاہر) مانع ہیں (آیت) ” یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔ “
Ayah 11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو ؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہی۔ وہ سزا وار تعریف اور بزرگوار ہے۔

(آیت) ” انہوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے “ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں، اس لئے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ (آیت) ” اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں “ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الہٰی کا نزول ہمیشہ رہے گا (آیت) ” تم پر اے گھر والو ! بیشک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں، کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔ (مجید) اور (مجد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
Ayah 11:74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوش خبری بھی مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں لگے ہم سے بحث کرنے۔

(آیت) ” جب ابراہیم سے خوف دور ہوا “ جو مہمانوں کی آمد پر انہیں لاحق ہوا تھا۔ (آیت) ” اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی “ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے ” کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انہیں زیادہ جانتے ہیں، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔ “
Ayah 11:75

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم بڑے تحمل والے ' نرم دل اور رجوع کرنیوالے تھے۔

(آیت) ” بیشک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔ “ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) اخلاق والے اور کشادہ دل شخصیت تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ و غضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ (آیت) ” نرم دل تھے “ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتے رہتے تھے۔ (آیت) ” رجوع کرنے والے تھے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لئے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کردیا تھا۔
Ayah 11:76

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم ! اس بات کو جانے دو ۔ تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا ہے۔ اور ان لوگوں پر عذاب آنے والا ہے جو کبھی نہیں ٹلنے گا۔

ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا گیا : (آیت) ” اے ابراہیم اس اعراض کریے “ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑ دئیے۔ (آیت) ” تمہارے رب کا حکم آچکا ہے۔ “ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہوچکا ہے۔ (آیت) ” اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹا یا نہیں جائے گا “ اس لئے تمہارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
Ayah 11:77

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے

(آیت) ” اور جب ہمارے فرشتے آئے۔ “ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ (آیت) ” لوط لوط (علیہ السلام) کے پاس، تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔ “ (آیت) ” اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے “ یعنی بہت حرج والا دن ہے، کیونکہ لوط (علیہ السلام) کو لعم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بےریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لئے ان کے بارے میں ان کے دل میں خیال گزرا تھا۔
Ayah 11:78

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔ اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے قوم ! (جو) میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں یہ تمہارے لئے (جائز اور) پاک ہیں تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں ؟

(آیت) ” اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔ “ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جیسے وہ پہلے سے کرتے آئے ہیں، جیسے اللہ کا فرمان ہے : (آیت) ” اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع (بدکاری) کیا کرتے تھے۔ “ یعنی ایسی بدکاری جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ (آیت) ” انہوں نے کہا، اے میری قوم ! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ ہیں۔ “ یعنی میری بیٹیاں تمہارے لئے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں۔ جناب لوط (علیہ السلام) کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کردیا جائے، کیونکہ انہیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوط (علیہ السلام) کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ (آیت) ” پس اللہ سے ڈر و اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ “ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت کھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ (آیت) ” کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے “ جو تمہیں روکے اور تمہیں زجروتوبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
Ayah 11:79

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں حاجت نہیں اور جو ہماری غرض ہے اسے تم (خوب) جانتے ہو۔

(آیت) انہوں نے لوط (علیہ السلام) سے کہا : (آیت) ” تو تو جانتا ہے ہمیں ٰ تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں، اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں “ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں۔