11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 11:80

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

لوط نے کہا کہ اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط قلعہ میں پناہ پکڑ سکتا۔

پس لوط (علیہ السلام) کو شدید قلق ہوا۔ (آیت) ” انہوں نے کہا، کاش میرے پاس تمہارے مقابلے میٰں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا “ مثلاً کوئی قبیلہ ہوتا جو تمہاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انہوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوط (علیہ السلام) سب سے زیادہ، مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔
Ayah 11:81

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا لوط ! ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سہے اپنے گھر والوں کو لیکر چل دو ۔ اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کرنا دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کی جو آفت تم پر پڑنے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ ان سے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے۔ اور کیا صبح کچھ دور ہے ؟

اس لئے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو (آیت) فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) سے کہا : (آیت) ” اے لوط ! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں۔ “ یعنی فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا، تاکہ انہیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ (آیت) ” یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ” پھر حضرت جبریل (علیہ السلام) نے اپنا پر ہلایا اور ان کو اندھا کردیا اور وہ لوط (علیہ السلام) کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں (آیت) ” رات کے کسی حصہ میں “ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں، تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں۔ (آیت) ” اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ “ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمہارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ (آیت) ” بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ “ (آیت ) ” وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔ “ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ (آیت) ” ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔ “ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوط (علیہ السلام) کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہوجائے، چناچہ ان سے کہا گیا : (آیت) ” کیا صبح قریب نہیں ؟
Ayah 11:82

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (الٹ کر) نیچے اوپر کردیا اور ان پر پتھر کی تہ بہ تہ (یعنی پے در پے) کنکر یاں برسائیں۔

“ (آیت) ” تو جب ہمارا حکم آیا “ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا (آیت) ” کردیا ہم نے “ ان کی بستیوں کو (آیت) ” اوپر نیچے “ یعنی ہم نے تلپٹ کردیا (آیت) ” اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے “ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ (آیت) ” تہ بہ تہ “ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
Ayah 11:83

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں۔

(آیت) ” نشان کئے ہوئے تیرے رب کے پاس “ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی (آیت) ” اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں۔ “ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے، تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہوجائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
Ayah 11:84

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ اور تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تو تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور (اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو) مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تم کو گھیر کر رہے گا۔

(آیت) ” اور مدین کی طرف بھیجا “ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ (آیت) یعنی نسب میں ان کے بھائی (آیت) شعیب (علیہ السلام) کو۔ “ گویا وہ جناب شعیب (علیہ السلام) کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لئے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ (آیت) شعیب (علیہ السلام) نے ان سے کہا : (آیت ) ” اے میری قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ “ یعنی اس کے لئے عبودیت کو خالص کرو۔۔۔ کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لئے شعیب (علیہ السلام) نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ (آیت) ” اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو “ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ (آیت) ” میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں۔ “ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بیشمار نعمتوں، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے، اس پر اس کا شکر کرو اور کفر ان نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے (آیت) ” اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیرنے والے دن کے عذاب سے “ یعنی ایسا عذاب جو تمہیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
Ayah 11:85

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے قوم ! ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں خرابی کرتے نہ پھرو۔

(آیت) ” اے میری قوم ! پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ “ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمہیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ (آیت) ” اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔ “ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کرکے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ (آیت) ” اور زمین میں فساد مت مچاؤ “ کیونکہ گناہوں پر اصرار، دیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کردیتا ہے۔
Ayah 11:86

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اگر تم کو (میرے کہنے کا) یقین ہو تو خدا کا دیا ہوا نفع ہی تمہارے لئے بہتر ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔

(آیت) ” جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمہارے لئے بہتر ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمہارے لئے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستعفی ہو اور وہ تمہارے لئے بہت نقصان دہ ہے۔ (آیت) ” اگر تم مومن ہو “ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ (آیت) ” اور میں تم پر نگران نہیں ہوں۔ “ یعنی میں تمہارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمہارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے میں تو تمہیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

انہوں نے کہا شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم انکو ترک کردیں۔ یا اپنے مال میں جو تصرف کرنا چاہیں تو نہ کریں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو۔

(آیت) ” انہوں نے کہا، اے شعیب ! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے “ یہ بات انہوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لئے منع کرتا ہے کہ نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے، تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آباؤ اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کرسکتے ہیں ؟ اسی طرح تمہارا ہمیں یہ کہنا (آیت) ” یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں “ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کری، بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں، انہیں ادا کریں۔ ہم ایسا نہیں کریں گے، بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے، کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمہیں کوئی حق نہیں۔ بنا بریں انہوں نے از راہ تمسخر کہا ! (آیت) ” تو تو بڑا بردباد اور راست باز ہے۔ “ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حکم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا، تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا۔۔۔ یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد در حقیقت یہ تھا کہ شعیب (علیہ السلام) اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں۔۔۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباؤ اجداد احمق اور گمراہ ؟ اور یہ قول جس کی انہوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کرکے معاملے کو شعیب (علیہ السلام) کو قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔ ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں۔ بیشک شعیب (علیہ السلام) کی نماز انہیں حکم دیتی ہے کہ وہ انہیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباؤ اجداد، کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے۔۔۔ کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کونسا کام برا اور فحش ہوتا ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کرکے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیب (علیہ السلام) کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
Ayah 11:88

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل روشن پر ہوں اور اس نے اپنے ہاں سے مجھے نیک روزی دی ہو۔ (تو میں انکے خلاف کرونگا ؟ ) اور میں نہیں چاہتا کہ جس امر سے میں تمہیں منع کروں خود اس کو کرنے لگوں۔ میں تو جہاں تک مجھ سے ہو سکے (تمہارے معاملات کی) اصلاح چاہتا ہوں اور (اس بارے میں) مجھے تو فیق کا ملنا خدا ہی (کے فضل) سے ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

(آیت) جناب شعیب (علیہ السلام) نے ان سے کہا : (آیت) ” اے میری قوم ! بھلا بتاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے “ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو (آیت) ” اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی “ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں (آیت) ” اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمہیں روکتا ہوں “ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمہیں ناپ تول میں کمی سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں۔ (آیت) ” میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہوسکے “ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمہارے احوال کی اصلاح ہو اور تمہارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لئے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لئے قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا (آیت) ” اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے “ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں۔ (آیت) ” میں اسی پر توکل کرتا ہوں۔ “ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ (آیت) ” اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ “ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لئے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندہ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں : 1۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا 2۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا۔۔۔ جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسا کر۔ “ اور فرمایا : (آیت) ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔
Ayah 11:89

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے قوم ! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے کہ جیسی مصیبت نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر واقع ہوئی تھی ویسی ہی مصیبت تم پر واقع ہو۔ اور لوط کی قوم (کا زمانہ تو) تم سے کچھ دور نہیں۔

“ (آیت) ” اے میری قوم ! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرا دے۔ “ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمہیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ (آیت) کہ تم پر عذاب نازل ہوجائے۔ (آیت) ” جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے “ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں۔
Ayah 11:90

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار سے بخش مانگو اور اسکے آگے توبہ کرو۔ بیشک میرا پروردگار رحم والا (اور) محبت والا ہے۔

(آیت) ” اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔ “ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ (آیت) ” پھر اس کے حضور توبہ کرو۔ “ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو (آیت) ” بیشک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔ “ یعنی جو کوئی توبہ کرکے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے اسماء حسنی میں (الودود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔ (ودود) (فعول) کے وزن پر ” فاعل “ اور ” مفعول “ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 11:91

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ شعیب ! تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو۔ اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے تو ہم تم کہ سنگسار کردیتے۔ اور تم ہم پر (کسی طرح بھی) غالب نہیں ہو۔

(آیت) ” انہوں نے کہا، اے شعیب ! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ “ یعنی وہ شعیب (علیہ السلام) کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے “ یہ بات محض اس لئے کہتے تھے، کیونکہ انہیں شعییب (علیہ السلام) کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ (آیت) ” اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں “ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔ (آیت) یعنی اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا (آیت) ” تو ہم تجھے سنگسار کردیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں “ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں۔ ہم تجھے چھوڑ کر در اصل تیرے قبیلے کا احترام کر رہے ہیں۔
Ayah 11:92

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ قوم ! کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر خدا سے زیادہ ہے ؟ اور اس کو تم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے ؟ میرا پروردگار تو تمہارے سب اعمال پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔

(آیت) حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو نرم کرنے کے لئے کہا : (آیت) ” اے میری قوم ! کیا میرا قبیلہ تمہارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے ؟ “ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمہارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ (آیت) ” اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر “ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا نہ کی اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ (آیت) ” بیشک میرا رب تمہارے عملوں کو گھیرنے والا ہے “ یعنی تمہارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں، پس وہ تمہارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
Ayah 11:93

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور برادران ملت ! تم اپنی جگہ کام کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) کام کئے جاتا ہوں۔ تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والا عذاب کس پر آتا ہے۔ اور جھوٹا کون ہے ؟ اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

(آیت) ” اور “ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کرکے ان کو بےبس کردیا تو شعیب (علیہ السلام) نے ان سے کہا : (آیت) ” اے میری قوم ! تم اپنی جگہ کام کئے جاؤ “ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ (آیت) ” میں بھی کام کرتا ہوں، عنقریب تم جان لوگے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے “ یعنی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ (آیت) ” اور جھوٹا کون ہے۔ “ یعنی یہ بھی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انہیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا ؟ (آیت) ” اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظا ر کرتا ہوں۔ “ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
Ayah 11:94

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو تو اپنی رحمت سے بچا لیا اور جو ظالم تھے ان کو چنگھاڑ نے آدبوچا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

(آیت) ” اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔ “ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا (آیت) ” تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے آپکڑا اور ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی (آیت) یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انہوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا
Ayah 11:95

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

گویا ان میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ مدین پر (ویسی ہی) پھٹکار ہے جیسی ثمود پر پھٹکار تھی۔

۔ (آیت) ” سنو، پھٹکار ہے مدین کے لئے “ کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا (آیت) ” جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر “ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ” خطیب الانبیاء “ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں۔ (1) کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور جس بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں، کیونکہ جناب شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔ (2) ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے، تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔ (3) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کرکے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے جیسے ارشاد ہے : (آیت) ” میں تمہیں آسودہ ھال دیکھ رہا ہوں “ اس لئے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا کا باعث نہ بنو۔ (4) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چناچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لئے بہتر ہے (آیت) ” اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمہارے لئے بہتر ہے۔ “ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافہ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔ (5) یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔ (6) اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضیلت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور ان شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندہ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔ (7) وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے، کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کرکے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔ (8) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا : (آیت) ” میں نہیں چاہتا کہ میں تمہیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں “ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” اے مومنو ! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔ “ (9) تمام انبیاء ومرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں۔۔۔ اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں۔ (01) جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے، تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔ (11) بندہ مومن کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لئے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے، بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گا رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہوجائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) (21) اسم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لئے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا۔۔۔ اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لئے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔ (31) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے در گزر کرکے اسے معاف کردیا گیا ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ” توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لئے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی “۔۔۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بیشک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔ “ (41) اللہ تبارک وتعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیب (علیہ السلام) کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لئے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔ لہٰذا اس اصول کو مد نظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لئے کام کریں جس میں افرادیا جماعتوں کے لئے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کرسکیں، تو یہ اس صورتحال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لئے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے۔ البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے، لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہوسکے، تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 11:96

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا۔

(آیت) ” اور اہم نے بھیجا موسیٰ کو “ یعنی موسیٰ بن عمران کو (آیت) ” اپنی نشانیوں کے ساتھ “۔ جو ان کی دعوت کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں، مثلاً عصا اور ید بیضا اور دیگر معجزات، جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا۔ (آیت) ” اور دلیل واضح ( کے ساتھ ) “ اور ایسی واضح دلیل کے ساتھ، جو سورج کی مانند عیاں تھی۔
Ayah 11:97

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ تو وہ فرعون ہی کے حکم پر چلے۔ اور فرعون کا حکم درست نہیں تھا۔

(آیت) ” فرعون اور اس کے اشرافیہ کی طرف “ کیونکہ اشرافیہ متبوع اور دیگر لوگ ان کے تابع ہوتے ہیں۔ ان اشرافیہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ان معجزات کو نہ مانا جو جناب موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو دکھائے تھے جیسا کہ بسط و تفصیل کے ساتھ ان کا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” پس وہ پیچھے لگے فرعون کے حکم کے اور فرعون کا حکم اچھا نہیں تھا “ بلکہ وہ بھٹکا ہوا اور گمراہ ہے۔ وہ جس چیز کا حکم دیتا ہے وہ ضرر محض کے سوا کچھ نہیں۔ اس کی قوم نے اس کی اتباع کی اور اس نے ان کو ہلاک کردیا۔
Ayah 11:98

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آ گے آگے چلے گا اور انکو دوزخ میں جا اتارے گا۔ اور جس مقام پر وہ اتارے جائیں گے وہ برا ہے۔

يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۭ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ : قیامت کے روز اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور اپنی قیادت میں ان کو جہنم میں جا اتارے گا، اور یہ بہت ہی برا مقام ہے جہاں یہ لوگ وارد ہوں گے۔
Ayah 11:99

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور اس جہان میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی (پیچھے لگی رہے گی) جو انعام انکو ملا ہے برا ہے۔

وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً ۔ اور اس میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی۔ یعنی اس دنیا میں وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ ، اور قیامت کے دن بھی، یعنی اللہ تعالی، اس کے فرشتے اور تمام لوگ دنیا و آخر میں ان پر لعنت بھیجیں گے۔ ۭ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ ، بہت ہی برا ہے جو ان کو عطیہ دیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور دنیا و آخرت کی لعنت ان کا پیچھا کرے گی۔
Ayah 11:100

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ (پرانی) بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان میں سے بعض تو باقی ہیں اور بعض کا تہس نہس ہوگیا۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء ومرسلین کے ساتھ ان کی قوموں کے واقعات بیان کرنے کے بعد اپنے رسول ﷺ سے فرمایا (ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي نَقُصُّهٗ عَلَيْكَ ) “ یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جن میں سے بعض ہم آپ کو سناتے ہیں ” تاکہ آپ اسے ذریعے سے اپنی قوم کو ڈرائیں اور یہ چیز آپ کی رسالت پر دلیل اور اہل ایمان کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہو۔ (مِنْهَا قَاۗىِٕمٌ ) “ ان میں سے بعض تو باقی ہیں ”۔ یعنی ان کی بستیوں کی بعض نشانیاں اب بھی باقی کھڑی ہیں یعنی تلف نہیں ہوئیں۔ جو ان قوموں کی تباہی پر دلالت کرتی ہیں۔ (وَّ ) اور ان میں سے بعض نشانیاں (حَصِيْدٌ ) “ ان کی جڑ کٹ گئی ” یعنی ان کے مسکن منہدم ہوگئے، ان کے گھر نیست و نابود ہوگئے اور ان کے نشانات تک باقی نہ رہے۔
Ayah 11:101

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ غرض جب تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا تو جن معبودوں کو وہ خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ انکے کچھ بھی کام نہ آئے اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں اور کچھ نہ کرسکے۔

(وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ ) اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا، یعنی مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ کر ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ (وَلٰكِنْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ ) ، بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ یعنی انہوں نے شرک، کفر اور عناد کے ذریعے سے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔ (فَمَآ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيْ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ لَّمَّا جَاۗءَ اَمْرُ رَبِّكَ ) ، پس نہ کام آئے ان کے وہ معبود جن کو وہ پکارتے تھے اللہ کو چھوڑ کر، کسی چیز میں، جب آپ کے رب کا حکم آیا۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو مصیبت اور سختیوں کے وقت غیر اللہ کی پناہ لیتا ہے، اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ( وَمَا زَادُوْهُمْ غَيْرَ تَتْبِيْبٍ : اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں کچھ نہ کرسکے) ۔ یعنی ان کی خواہشات کے برعکس خسارے اور تباہی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔
Ayah 11:102

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار جب نافرمان بستیوں کو پکڑا کرتا ہے تو اسکی پکڑ اسی طرح کی ہوتی ہے۔ بیشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی (اور) سخت ہے۔

یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ عذاب کے ذریعے سے ظالموں کی کمر توڑ دیتا ہے اور ان کو تباہ و برباد کردیتا ہے اور وہ ہستیاں ان کے کسی کام نہیں آتیں جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔
Ayah 11:103

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

ان (قصوں) میں اس شخص کے لئے جو عذاب آخرت سے ڈرے عبرت ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے اور یہی وہ دن ہوگا جس میں سب (خدا کے روبرو) حاضر کئے جائیں گے۔

(اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ : بیشک ان میں) یعنی عذاب کی مختلف انواع کے ذریعے سے ظالموں کو اللہ تعالیٰ کے پکڑنے میں۔ (لَاٰيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ : اس شخص کے لیے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے) ، یعنی اس میں عبرت اور دلیل ہے کہ جو لوگ ظلم اور جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے لیے دنیاوی سزا اور اخروی عذاب ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذکر سے منتقل ہو کر آخرت کے وصف کا ذکر فرمایا ( ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّهُ النَّاسُ : یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے) یعنی اس روز تمام لوگوں کو جزا و سزا کے لیے جمع کیا جائے گا، تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا عدل عظیم ظاہر ہوا اور اس کے ذریعے سے وہ اس کو اچھی طرح پہچان لیں (وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ : اور وہ دن ہے سب کے پیش ہونے کا) ، یعنی اس روز اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتے اور تمام مخلوقات اس کا مشاہدہ کرے گی۔
Ayah 11:104

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور ہم اسکے لانے میں ایک وقت معین تک تاخیر کر رہے ہیں۔

(وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ : ہم اس میں تاخیر نہیں کر رہے) یعنی قیامت کے روز کی آمد کو ہم موخر نہیں کرتے (اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ : مگر وقت مقرر کے لیے) یعنی جب دنیا کی مدت اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر مقرر کیا ہے پورا ہوجائے گا اس وقت وہ ان کو ایک اور جہان میں منتقل کرے گا اور وہاں ان پر اپنے احکام جزائی اسی طرح جاری کرے گا جس طرح اس دنیا میں ان پر احکام شرعیہ نافذ کیے تھے۔
Ayah 11:105

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جس روز وہ آجائے گا تو کوئی متنفس خدا کے حکم کے بغیر بول بھی نہیں سکے گا۔ پھر ان میں سے کچھ بدبخت ہو نگے اور کچھ نیک بخت۔

( يَوْمَ يَاْتِ : جس روز وہ آجائے گا) یعنی جس روز یہ دن آئے گا اور تمام مخلوق اکٹھی ہوگی۔ (لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ : اس کی اجزت کے بغیر کوئی کلام نہیں کرے گا یہاں تک کہ اس روز انبیائے کرام اور مکرم فرشتے بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کرسکیں گے۔ آیت فمنہم، پس ان میں سے بعض، یعنی تمام مخلوق میں سے، شقی و سعید، بدبخت اور بعض نیک بخت ہیں۔ بدبخت وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور خوش بخت وہ لوگ ہیں جو مومن اور متقی ہیں۔
Ayah 11:106

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

تو جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں (ڈال دیئے جائیں گے) اس میں انکو چلانا اور دھاڑنا ہوگا۔

(فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا : تو جو بدبخت ہوں گے) یعنی وہ لوگ جو بدبختی، رسوائی اور فضیحت میں مبتلا ہوں گے۔ ( فَفِي النَّارِ : تو وہ جہنم کے عذاب میں غوطے کھائین گے اور آگ کا نہایت سخت عذاب ان کو جکڑ لے گا) (لَهُمْ فِيْهَا : ان کے لیے اس میں) یعنی اس سختی کی وجہ سے جس میں وہ مبتلا ہوں گے۔ (زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ: چیخنا ہے اور دھاڑنا ہوگا) اور یہ نہایت بری اور قبیح ترین آواز ہوگی۔
Ayah 11:107

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

(اور) جب تک آسمان و زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ بیشک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔

(خٰلِدِيْنَ فِيْهَا : وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) یعنی اس جہنم میں جس کا عذاب یہ ہے (مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ : جب تک رہے گا آسمان اور زمین، مگر جو چاہے آپ کا رب) یعنی وہ اس میں ہہمیشہ رہیں گے سوائے اس مدت کے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس مدت کے دوران جہنم میں نہ رہیں اور یہ مدت جہنم میں داخل ہونے سے قبل کی ہے۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ پس اس صورت میں استثناء جہنم میں دخول سے قبل کی مدت کی طرف راجع ہے، یعنی وہ تمام زمانوں تک جہنم میں رہیں گے سوائے اس زمانے کے جو جہنم میں داخل ہونے سے پہلے تھا۔ ( اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ : بیشک آپ کا رب جو چاہتا ہے، کرتا ہے) ہر وہ فعل جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے اور اس کی حکمت مقتضی ہوتی ہے، کر گزرتا ہے کوئی اسے اس کے ارادے سے روک نہیں سکتا۔
Ayah 11:108

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور جو نیک بخت ہوں گے ہے بہشت میں (داخل کئے جائیں گے اور) جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ کہ خدا کی بخشش ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی۔

(وَاَمَّا الَّذِيْنَ سُعِدُوْا : اور جو نیک بخت ہوں گے) یعنی وہ لوگ جنہیں سعادت اور فوز و فلاح سے نوازا گیا ہے۔ (فَفِي الْجَنَّةِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ : وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب زمین و آسمان قائم ہیں مگر جو چاہے آپ کا رب) پھر اللہ تعالیٰ نے مزید تاکید کے طور پر فرمایا : ( عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ : بخشش بےانتہا) یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور لذتیں عطا کرے گا وہ ہمیشہ رہیں گی اور کسی وقت بھی منقطع نہ ہوں گی۔ ہم اللہ کریم سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی ان خوش بخت لوگوں کی معیت عطا کرے۔
Ayah 11:109

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

تو یہ لوگ جو (غیر خدا کی) پرستش کرتے ہیں اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔ یہ اسی طرح پرستش کرتے ہیں جس طرح پہلے سے ان کے باپ دادا پرستش کرتے ہیں۔ اور ہم ان کا انکا حصہ پورا پورا بلاکم وکاست دینے والے ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے سول محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کر کے فرماتا ہے (فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هٰٓؤُلَاۗءِ : آپ ان معبودان باطل کی طرف سے کسی شک میں نہ رہیں جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں) یعنی آپ کو ان کے حال کے بارے میں کوئی شک نہ رہے وہ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ باطل ہے اور ان کے پاس کوئی شرعی اور عقلی دلیل نہیں ہے۔ ان کی دلیل اور شبہ تو بس یہ ہے کہ وہ ( مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ : یہ انہی کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت اس سے قبل ان کے باپ دادا کرتے تھے) اور یہ واضح طور پر معلوم ہے کہ ان کے آباء و اجداد کا ان باطل معبودوں کی عبادت کرنا، دلیل ہونا تو کجا یہ تو شبہ کے زمرے میں بھی نہیں آتا، کیونکہ انبیاء کے سوا کسی کا قول حجت نہیں۔ خاص طور پر ان جیسے گمراہ لوگ، جو اصول دین میں بکثرت اغلاط اور فساد اقوال کے حامل ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے اقوال اگرچہ وہ ان کے ہاں متفق علیہ کیوں نہ ہوں خطا اور ضلالت پر مبنی ہیں۔ (وَاِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِيْبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوْصٍ : اور ہم دینے والے ہیں ان کو ان کا حصہ بغیر کمی کیے) یعنی وہ لازمی طور پر دنیا کے حصے سے بہرہ ور ہوں گے جو ان کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔ خواہ یہ دنیاوی نصیب آپ کی نظر میں کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو مگر یہ ان کے احوال کے درست ہونے پر دلالت نہیں کرتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے بھی دنیا عطا کرتا ہے جس سے محبت کرتا ہے اور اسے بھی عطا کرتا ہے جس سے محبت نہیں کرتا مگر ایمان اور دین سے صرف اسی شخص کو نوازتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ گمراہ لوگوں کے اپنے گمراہ آباء و اجداد کے نظریات پر اتفاق کرلینے سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے اور نہ اس بات سے دھوکہ چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیاوی مال و متاع سے نواز رکھا ہے۔
Ayah 11:110

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور وہ تو اس سے قوی شبہ میں (پڑے ہوئے) ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے جناب موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی، جس کو تورات کہا جاتا ہے جو اس کے اوامرو نواہی پر ان کے اتفاق و اجتماع کی موجب ہے۔ مگر اس کے باوجود تورات سے نسبت رکھنے والوں نے اس میں اختلاف پیدا کیا جس نے ان کے عقائد اور ان کی دینی جمعیت کو سخت نقصان پہنچایا۔ (وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ : اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی) ( لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ : تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا) یعنی ظالم پر عذاب نازل ہوچکا ہوتا۔ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے کو قیامت تک کے لیے مؤخر کردے اور یہ لوگ شک و شبہ ہی میں مبتلا رہیں۔ جب ان کا اپنی کتاب کے ساتھ یہ حال ہے، تو قرآن جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرح وحی کیا ہے یہود کے ایک گروہ کا یہ رویہ تعجب خیز نہیں ہے کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور اس کے بارے میں شک و ریب میں مبتلا ہیں۔
Ayah 11:111

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار ان سب کو (قیامت کے دن) انکے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیگا۔ بیشک جو عمل یہ کرتے ہیں وہ اس سے واقف ہے۔

(وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ : اور جتنے لوگ ہیں، سب کو پورا دے گا آپ کا رب ان کے اعمال (کا بدلہ) یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان ضرور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو وہی سزا و جزا دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ (اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ : بیشک وہ اس سے جو عمل یہ کرتے ہیں) اچھے یا برے۔ (خَبِيْرٌ: باخبر ہے) ۔ ان کے اعمال میں سے کوئی چھوٹی یا بری چیز اس پر مخفی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کی عدم استقامت کا ذکر کرنے کے بعد، جو ان کے اختلاف و افتراق کا باعث تھی، اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ اور اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ صراط مستقیم پر گامزن رہیں جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا ہے اور اس شریعت کو لائحہ عمل بنائیں جو ان کے لیے مشروع کی گئی ہے اور ان اعتقادات صحیحہ کو اپنا عقیدہ بنائیں جو اللہ تعالیٰ نے وحی کیے ہیں۔ اس سیدھے راستے کو چھوڑ کر دائیں، بائیں ٹیڑھی راہوں پر نہ چلیں اور دائمی طور پر اسی عقیدے اور اسی شریعت پر عمل پیرا رہیں اور سرکشی اختیار نہ کریں، یعنی استقامت کی ان حدود سے تجاوز نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمائی ہیں۔
Ayah 11:112

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

سو (اے پیغمبر) جیسا تم کو حکم ہوتا ہے (اس پر) تم اور جو لوگ تمہارے ساتھ تائب ہوئے ہیں قائم رہو۔ وہ تمہارے (سب) اعمال کو دیکھ رہا ہے۔

اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ : وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی مخفی نہیں اور وہ تمہیں ان اعمال کی جزا دے گا۔ ان آیات کریمہ میں استقامت کو مسلک بنانے کی ترغیب اور اس کے برعکست راستہ اختیار کرنے پر ترہیب دی گئی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرف میلان رکھنے سے منع فرمایا جنہوں نے استقامت کو چھوڑ دیا۔
Ayah 11:113

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور جو لوگ ظالم ہیں انکی طرف مائل نہ ہونا نہیں تو تمہیں (دوزخ کی) آگ آ لپٹے گی۔ اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں (اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہوگئے) تو پھر تم کو (کہیں سے) مدد نہ مل سکے گی۔

وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا : اور مت جھکو ان لوگوں کی طرف جو ظالم ہیں۔ کیونکہ اگر تم ان کی طرف مائل ہوئے، ان کے ظلم وتعدی پر ان کی موافقت کی یا ان کے ظلم پر راضی ہوئے۔ فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ : تو تمہیں جہنم کی آگ آ لپٹے گی۔ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ : اور اللہ کے سوا تمہارے کوئی مددگار نہیں۔ جو تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں۔ اس آیت کریمہ میں ظالم کی طرف میلان رکھنے سے روکا گیا ہے یہاں جب ظالموں کی طرف میلان رکھنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنی شدید وعید ہے، تو خود ظالموں کا کیا حال ہوگا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے ظلم سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
Ayah 11:114

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح و شام) کے اوقات میں اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ ان کے لئے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنیوالے ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کامل طور پر نماز کو قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ طَرَفَيِ النَّهَارِ : دن کے دونوں طرفوں میں۔ یعنی دن کے ابتدائی اور آخری حصے میں، اس میں فجر، ظہر اور عصر کی نماز شامل ہے۔ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ : اور رات کے چھ حصوں میں، اور اس میں مغرب اور عشاء کی نماز داخل ہے۔ تہجد کی نماز بھی اسی میں شام ہے، کیونکہ بندہ مومن تہجد کی نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّاٰتِ : بیشک نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو۔ یعنی یہ نماز پنجگانہ اور اس سے ملحق نوافل سب سے بڑی نیکی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کہ نماز سب سے بڑی نیکی اور ثواب کی موجب ہے اور برائیوں کو مٹاتی بھی ہے۔ اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں جیسا کہ صحیح احادیث میں اس اطلاق کو مقید کیا گیا ہے، مثلاً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اگر مومن کبائر سے اجتناب کرتا ہے تو نماز پنج گانہ، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک، یہ ان کے مابین ہونے والے گناہوں کو مٹا دینے والے عمل ہیں۔ بلکہ اس آیت کریمہ کے اطلاق کو سورة النساء کی اس آیت نے بھی مقید کردیا ہے فرمایا آیت، ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم و ندخلکم مدخلا کریما (النساء : 31) اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کرو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو مٹا دیں گے اور تمہیں عز و تکریم کی جگہ میں داخل کریں گے۔ ذٰلِكَ ، شاید یہ گزتہ باتوں کی طرف اشارہ ہے جیسے صراط مستقیم پر استقامت کا التزام، حدود الٰہی سے عدم تجاوز اہل ظلم کی طرف عدم میلان، اقامت صلوۃ کا حکم اور یہ بیان کہ نیکیاں تمام برائیوں کو مٹا دیتی ہیں یہ سب ذِكْرٰي لِلذّٰكِرِيْنَ : نصیحت ہے یاد رکھنے والوں کے لیے، وہ اس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی کو سمجھتے ہیں اور ان تمام اوامر کی تعمیل کرتے ہیں جن کا ثمرہ نیکیاں ہیں جو شر اور برائی کو مٹٓتی ہیں۔ مگر ان امور میں مجاہدہ نفس اور صبر کی سخت ضرورت ہے۔ بنا بریں فرمایا (اگلی آیت)
Ayah 11:115

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کئے رہو کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

وَاصْبِرْ : اور صبر کیجیے۔ یعنی اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم اور اس کی نافرمانی سے باز رکھیں اور اس کا ہمیشہ التزام کریں اور تنگ دل نہ ہوں۔ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ : اللہ نیکی کرنے والوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ بلکہ وہ ان کے اچھے اعمال کو قبول فرماتا ہے اور ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزا عطا کرتا ہے۔ جب نفوس ضعیفہ، انقطاع اور اکتاہٹ کا شکار ہو کر کمزور پڑجاتے ہیں تو آیت کریمہ میں ان کو صبر کے التزام کی ترغیب اور اللہ تعالیٰ کے ثواب کا شق دلایا گیا ہے۔
Ayah 11:116

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

جو امتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ؟ ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ انہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جن میں عیش و آرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔

جب اللہ تعالیٰ نے گزشتہ امتوں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا جنہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا، نیز یہ کہ ان میں سے اکثر وہ لوگ تھے جنہوں نے کتب سماویہ کے ماننے والوں سے انحراف کیا، حتی کہ ان لوگوں نے بھی جو کتب الٰہیہ کو ماننے والے تھے اور یہ چیز اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ گزشتہ ادیان انعدام و اضمحلال کا شکار ہوگئے تو اب ذکر فرمایا کہ گزشتہ قوموں میں ایسے اصحاب خیر کیوں نہ ہوئے جو لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتے رہتے، فساد اور ہلاکت سے روکتے رہتے، تو ان سے کچھ فائدہ حاصل ہوتا جب تک ان کے ادیان باقی رہتے۔ مگر ایسے لوگ بہت ہی قلیل تھے۔ اس سارے معاملے کی غرض وغایت یہ ہے کہ گزشتہ امتوں کے جو تھوڑے لوگوں نے نجات پائی تو انہوں نے انبیاء ومرسلین کی اتباع اور اقامت دین کی وجہ سے نجات پائی نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حجت بن گئے جس کو اس نے ان کے ہاتھوں پر جاری کیا، تاکہ جو ہلاک ہو تو دلیل کی بنا پر ہلاک ہو اور زندہ رہے تو دلیل ہی سے زندہ رہے۔ وَاتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَآ اُتْرِفُوْا فِيْهِ : اور پیچھے پڑے رہے ظالم اسی چیز کے جس میں ان کو عیش ملا۔ یعنی وہ جن نعمتوں اور آسائشوں سے متمتع ہو رہے تھے انہی کے پیچھے پڑے رہے اور ان چیزوں کے بدلے انہوں نے کچھ اور نہیں چاہا۔ وَكَانُوْا مُجْرِمِيْنَ : اور تھے وہ گناہ گار۔ یعنی ان نعمتوں اور آسائشوں کے پیچھے پڑ کر انہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا، لہذا وہ عتاب کے مستحق ٹھہرے اور عذاب نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ اس آیت کریمہ میں اس امت کو ترغیب دی گئی ہے کہ ان کے اندر ایسے ہوش مند مصلحین ہونے چاہئیں جو ان امور کی اصلاح کریں جن کو لوگوں نے فاسد کردیا ہے، جو اللہ کے دین کو قائم کرنے والے ہوں، بھٹکے ہوؤں کو ہدایت کی طرف بلاتے رہیں۔ اگر اس راہ میں تکلیفیں آئیں تو اس پر صبر کرتے رہیں اور وہ گمراہی کی تاریکیوں میں لوگوں کو بصیرت کی روشنی دکھاتے رہیں۔ یہ بندہ مومن کا بلند ترین حال ہے جس کی طرف رغبت کرنے والے راغب ہوتے ہیں اور اسی حال کو اختیار کرنے والا مرتبہ امامت پر فائز ہوتا ہے، کیونکہ اس کا عمل خالص رب العالمین کے لیے ہے۔
Ayah 11:117

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو جبکہ وہاں کے باشندے نیکوکار ہوں ازراہ ظلم تباہ کردے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ظلم کے ساتھ بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا در آں حالیکہ وہ اصلاح کرنے والے ہوں، یعنی وہ درست روئیے پر قائم اور اس پر دوام کا التزام کرتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کو صرف اسی وقت ہلاک کرتا ہے جب وہ ظلم کا ارتکاب کریں اور ان کے خلاف حجت قائم ہوجائے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں کہ جب لوگ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلی تو تیرا رب ان بستیوں کو ان کے گزشتہ ظلم کی پاداش میں ہلاک نہیں کرے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کردے گا اور ان کے گزشتہ ظلم کو مٹا دے گا۔
Ayah 11:118

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو تمام لوگوں کو دین اسلام پر مجتمع کر کے انہیں ایک امت بنا دیتا اس کی مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہ تھی اور کوئی چیز اس کی گرفت سے باہر نہیں۔ مگر اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اختلاف کرتے رہیں، صراط مستقیم کی مخالفت کریں اور جہنم کی طرف جانے والے راستوں پر رواں دواں رہیں اور ہر کوئی اپنی رائے کو حق اور دوسرے کے قول کو گمراہی سمجھے۔
Ayah 11:119

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر جن پر تمہارا پروردگار رحم کرے۔ اور اسی لئے اس نے انکو پیدا کیا ہے۔ اور تمہارے پروردگار کا قول پورا ہوگیا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ : مگر جن پر رحم کیا آپ کے رب نے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی علم حق کی طرف رہنمائی کی، انہیں اس پر عمل اور اس پر اتفاق کی توفیق بخشی۔ پس یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے سعادت کو لکھ دیا گیا تھا اور عنایت ربانی اور توفیق الٰہی نے ان کو جالیا تھا۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کو ان کے نفسوں کے حوالے کردیا گیا۔ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ : اور اسی لیے ان کو پیدا کیا۔ یعنی ان کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا، تاکہ ان میں سے کچھ لوگ خوش بخت اور کچھ لوگ بدبخت ہوں، ان میں کچھ لوگ اتفاق کرنے والے اور کچھ لوگ اختلاف کرنے والے ہوں۔ ان میں سے ایک گروہ وہ ہو جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نواز دیا اور ایک گروہ وہ ہو جو گمراہی کا حق دار قرار پایا، تاکہ بندوں پر اس کا عدل اور اس کی حکمت عیاں ہوجائے، نیز طبائع بشر میں جو کچھ بھی اچھائی اور برائی پنہاں ہے وہ ظہر ہوجائے اور تاکہ جہاد اور ان عبادات کا بازار گرم ہو جو امتحان اور آزمائش کے بغیر درست اور مکمل نہیں ہوتیں اور اس لیے کہ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ : آپ کے رب کی وہ بات پوری ہوجائے (جس میں اس نے کہا تھا) کہ میں جہنم کو جنوں، انسانوں سب سے بھر دوں گا۔ پس لازم ٹھہرا کہ وہ جہنم کو اس میں رہنے والے مہیا کرے جو ایسے اعمال بجا لائیں جو جہنم میں پہنچاتے ہیں۔