8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 8:61

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے۔

( آیت نمبر 61) اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : وان جنحوا للسلم فاجنح لھا اس میں لھا فرمایا ہے کیونکہ السلم مونث ہے، اور جائز ہے کہ تانیث فعلتہ کے لیے ہو۔ اور جنوح کا معنی مائل ہونا ہے۔ وہ فرماتا ہے : اگر وہ مائل ہوں۔ یعنی وہ جن کے عہد توڑنے کا علم آپ کو ہوا۔ صلح کی طرف، تو پھر آپ بھی صلح کی طرف مائل ہوجائے۔ اور جنع الرجل الی الآخر کا معنی ہے آدمی دوسرے کی طرف مائل ہوا۔ اور اسی وجہ سے پسلیوں کو جو انح کہا گیا ہے، کیونکہ وہ انتڑویوں پر جھکی ہوئی ہیں۔ (1) اور جنعت الابل ( یہ تب کہا جاتا ہے) جب چال میں اونٹ کی گردن جھک جائے اور ذوا لرمہ نے کہا ہے : اذ مات فوق الرحل احییت روحہ بذکراک والعیس المراسل جنح اور نابغہ نے کہا ہے : جو انح قد ایقن ان قبیلہ اذا ما التقی الجمان اول غالب مراد پرندہ ہے۔ اور جنح اللیل جب رات آئے اور اپنا اندھیرا زمین پر پھیلا دے۔ اور السلم والسلام دونوں کا معنی صلح ہے۔ اعمش، ابو بکر، ابن محیصن اور مفضل نے سین کو کسرہ کے ساتھ للسلم پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس کا مکمل معنی سورة بقرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔ اور کبھی السلام بمعنی التسلیم ہوتا ہے۔ اور جمہور نے نون کے فتحہ کے ساتھ فاجنح پڑھا ہے اور یہ بنی تمیم کی لغت ہے۔ اشہب عقیلی نے نون کے ضمہ کے ساتھ فاجنح پڑھا ہے اور یہ قیس کی لغت ہے۔ ابن جنی نے کہا ہے : یہی لغت قیاس کے مطابق ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اس آیت میں یہ اختلاف کیا گیا ہے، کیا یہ منسوخ ہے یا نہیں ؟ حضرت قتادہ اور عکرمہ رحمتہ اللہ علیہا نے کہا ہے : اسے فاقتلوا المشرکین حیث و جد تموھم ( التوبۃ :5) نے منسوخ کردیا ہے۔ وقاتلوا المشرکین کافۃ ( توبہ :36) اور ان دونوں نے کہا ہے : ہر قسم کی صلح کی برات منسوخ ہوچکی ہے یہاں تک کہ وہ کہہ دیں لا الہ الا اللہ۔ ( یعنی باہمی صلح کے معاہدوں کی ذمہ داری منسوخ ہوچکی ہے کہاں تک کہ وہ کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوجائیں) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا ناسخ فلاتھنو وتدعوا الی اسلم ( محمد :35) ہے۔ اور یہ کہا گیا ہے کہ یہ منسوخ نہیں ہے، بلکہ اہل جزیہ سے جزیہ قبول کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ تحقیق رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کے زمانہ میں اور آپ کے بعد آنے والے بہت سے ائمہ نے بلا وعجم میں سے بہت سے شہروں کی صلح اس بنا پر کی کہ ان سے جزیہ وصول کرلیا اور انہیں ان کے شہروں میں ہی رہنے دیا ‘ حالانکہ وہ انہیں مکمل ختم کرنے پر قادر تھے۔ اور اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اہل بلاد میں سے کثیر کے ساتھ اس مال پر صلح کی جو وہ آپ کو ادا کرتے تھے۔ ان میں سے خیبر بھی ہے ‘ کہ آپ ﷺ نے غلبہ کے بعد وہاں کے باسیوں کو اس شرط پر وہیں رہنے دیا کہ وہ کام کرتے رہیں اور پیداوار کا نصف ادا کریں۔ ابن اسحاق نے کہا : حضرت مجاہد رحمۃ اللہ نے فرمایا : اس آیت سے بنی قریظہ مراد لیے گئے ہیں ‘ کیونکہ ان سے جزیہ قبول کیا جاتا تھا۔ اور رہے مشرک تو ان سے کوئی شی قبول نہیں کی جائے گی۔ اور سدی اور ابن زید رحمۃ اللہ علیہما نے کہا ہے : آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر وہ آپ کو صلح کی دعوت دیں تو آپ ان کی دعوت قبول کرلیں اور اس میں کوئی نسخ نہیں ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : اسی وجہ سے اس کا جواب مختلف ہوتا رہا (1) ‘ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : فلاتھنوا وتدھوا الی السلم وانتم الاعلون واللہ معکم (محمد :35) (اے فرزندان اسلام ! ) ہمت مت ہارو اور (کفار کو) صلح کی دعوت مت دو تم ہی غالب آئو گے۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے) پس جب مسلمان عزت وقوت میں طاقتور ‘ متعدد جماعتوں میں اور انتہائی مضبوط ہوں تو پھر کوئی صلح نہیں ہے۔ جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے : فلا صلح حت تطعن الخیل بالقنا و تضرب با لبیض الرقاق الجہاجم اور اگر مسلمانوں کے لیے صلح میں مصلحت ہو کسی ایسے نفع کے سبب جسے وہ اس کے ساتھ حاصل کرسکتے ہوں یا کسی ضرر اور نقصان کے سبب جسے وہ اس کے ساتھ دو کرسکتے ہوں ‘ تو پھر کوئی حرج نہیں ہے کہ مسلمان اس کی ابتداء کریں جب انہیں اس کی ضرورت ہو۔ تحقیق رسول اللہ ﷺ نے کچھ شرائط پر اہل خیبر سے صلح کی پھر انہوں نے ان شرائط کو توڑ دیا تو آپ ﷺ نے ان یک صلح کو ختم کردیا۔ اور آپ ﷺ سے کیا ہوا عہد توڑدیا۔ اور خلفاء اور صحابہ کرام ؓ اس راستے پر چلتے رہے ہیں جسے ہم نے مشروع قرار دیا ہے اور ان وجوہ اور اسباب کے ساتھ عمل کرتے رہے ہیں جن کی شرح اور وضاحت ہم نے کی ہے۔ علامہ قشیری نے کہا ہے : جب مسلمانوں کے پاس قوت اور طاقت ہو تو پھر چاہیے کہ صلح ایک سال تک نہ پہنچے (یعنی صلح کی مدت سال سے کم ہو) اور جب قوت و طاقت کفار کے پاس ہو تو پھر دس برس تک باہم صلح کرنا جائز ہے اور اس سے زیادہ جائز نہیں۔ تحقیق رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کے ساتھ دس سال کے لیے صلح کی۔ ابن منذر نے کہا ہے : علماء کا اس مدت کے بارے اختلاف ہے جو رسول اللہ ﷺ اور اہل مکہ کے درمیان حدیبیہ کے ساتھ مقرر ہوئی۔ پس حضرت عروہ نے کہا : وہ چار سال تھی۔ ابن جریج نے کہا : وہ مدت تین سال تھی۔ اور ابن اسحاق نے کہا ہے : وہ دس سال کا عرصہ تھا۔ (1) امام شافعی (رح) نے کہا ہے : مشرکین کے ساتھ دس سال سے زیادہ عرصہ کے لیے صلح کرنا جائز نہیں ہے ‘ جیسا کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے حدیبیہ کے سال کیا۔ پس اگر مشرکوں سے اس سے زیادہ عرصہ کے لیے صلح کی گئی تو وہ ٹوٹ جائے گی ‘ کیونکہ دراصل مشرکین کو قتل کرنا فرض ہے یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں یا جزیہ ادا کریں۔ ابن حبیب نے امام مالک (رح) سے بیان کیا ہے : مشرکین کے ساتھ صلح کرنا جائز ہے ایک سال کے لیے ‘ دو سال کے لیے ‘ تین سال کے لیے اور غیر معینہ مدت کے لیے۔ مہلب نے کہا ہے : بیشک حضور نبی مکرم ﷺ نے ان کے ساتھ یہ ایسا معاہدہ کیا جس میں بظاہر مسلمانوں کی کمزوری کا اظہار تھا۔ اور اس کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی ناقہ کو مکہ مکرمہ سے روک دیا ‘ جس وقت آپ نے مکہ مکرمہ کی طرف منہ کیا تو وہ بیٹھ گئی۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا : جسھا حابس الفیل (اسے ہاتھی کو روکنے والے نے روک دیا ہے) اسے امام بخاری (رح) نے مسور بن مخرمہ کی حدیث سے نقل کیا ہے۔ اور یہ مشرکین سے بغیر کسی ایسے مال کے جو ان سے لیاجائے گا صلح اور امن قائم کرنے کے جواز پر دلیل ہے ‘ جب کہ امام وقت اس میں مصلحت اور بہتری دیکھے۔ اور مسلمانوں کی حاجت کے وقت ایس مال کے عوض عقد صلح کرنا بھی جائز ہے جسے وہ دشمن کے لیے خرچ کریں گے ‘ کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ نے جنگ احزاب کے وقت عینیہ بن حصن فزاری اور حارث بن عوف المری کو اس شرط پر قریش سے علیحدہ ہوجانے کو کہا تھا کہ آپ ان دونوں کو مدینہ طیبہ کی کھجوروں کا تیسرا حصہ عطا کریں گے (2) اور وہ دونوں بنی غطفان کو ساتھ لے کر واپس پھرے اور انہوں نے قریش کو رسوا اور ذلیل کیا۔ اور اپنی قوم کو ساتھ لے کر واپس لوٹ گئے۔ اور یہ گفتگو انہیں بہلانے پھسلانے کی تھی یہ معاہدہ نہ تھا۔ پس جب رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو دیکھا کہ وہ دونوں مائل ہیں اور راضی ہیں تو پھر آپ ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ ؓ سے مشورہ کیا ‘ تو ان دونوں عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ یہ ایسا امر ہے جسے آپ پسند کرتے ہیں تو ہم آپ کی خوشنودی کے لیے یہ کریں گے یا یہ ایسی شے ہے جس کے بارے اللہ تعلایٰ ن آپ کو حکم دیا ہے تو ہم اسے سنتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں۔ یا یہ ایسا امر ہے جسے آپ ہمارے لیے کر رہے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” بلکہ یہ ایسا امر (معاملہض ہے جسے میں تمہارے لیے کرہا ہوں کیونکہ عربوں نے ایک معاہدہ کے تحت تمہارا قصد کیا ہے “ تب حضرت سعد بن معاذ ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ قسم بخدا ! م اور وہ مشرک قوم تھے اور بتوں کی پوجا کرتے تھے ‘ نہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے اور نہ اسے پہچانتے تھے اور انہوں نے کبھی یہ طمع نہیں کیا کہ وہ ہم سے پھل حاصل کریں ‘ مگر خرید کر یا بطور مہمان کے (ہم نے انہیں پیش کیا) اس وقت تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے سبب ہمیں عزت و تکریم عطا فرمائی ہے ‘ اس نے ہمیں اس کی طرف رہنمائی اور ہدایت عطا فرمائی ہے اور اس نے آپ کے سبب ہمیں معزز بنا دیا ہے۔ ہم انہیں اپنے اموال دیں ! قسم بخدا ! تلوار کے سو اہم انہیں کچھ نہیں دیں گے ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرمادے۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اس طرح تفسیر کی گئی ہے فرمایا : انتم و ذاک اور عیینہ اور حارث کو فرمایا :” تم دونوں چلے جائو تمہارے لیے ہمارے پاس سوائے تلوار کے سوا کچھ نہیں “۔ اور حضرت سعد ؓ نے صحیفہ پایا اور اس میں لا الہ الا اللہ کی شہادت نہیں تھی تو آپ نے اسے مٹا دیا۔
Ayahs 8:62–63

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو خدا تمہیں کفایت کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بیشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

قولہ تعالیٰ : وان یرید وا ان یخدعوک یعنی اس کے ساتھ کہ وہ آپ کے لیے صلح ظاہر کریں۔ اور باطن میں غدر اور خیانت رکھیں ‘ تو آپ مائل ہوجائیے پس آ پکا ان کی نیتیں فاسد ہونے کے سبب کوئی نقصان نہیں۔ فان حسبک اللہ کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ کافی ہے ‘ یعنی وہ ہی آپ کی کفایت اور آپ کی حفاظت کا والی اور ذمہ دار ہے۔ شاعر نے کہا ہے : اذا کا نت الھیجاء وانشقت العصا فحسبک والضحاک سیف مھند یعنی تجھے اور ضحاک کو تلوار کافی ہے ‘ تو اس میں بھی حسبک بمعین کا فیک ہے۔ قولہ تعالیٰ : ھوالذی ایدک بنصرہ یعنی وہی ہے جس نے آپ کو اپنی نصرت کے ساتھ قوت عطا کی۔ مراد بدر کا دن ہے۔ وبالمؤمنین نعمان بن بشر نے کہا ہے : یہ انصار کے بار میں نازل ہوئی۔ والف بین قلوبھم ‘ یعنی اوس اور خزرج کے دلوں کو (محبت والفت سے) جوڑدیا۔ اور عرب میں شدید عصبیت کے باوجود حضور نبی مکرم ﷺ کی آیات اور آپ کے معجزات کے سبب دلوں میں الفت اور محبت پیدا وہ گئی ‘ کیونکہ ان میں سے کسی کو پھپڑ مارا جاتا تھا تو وہ اس کے عوض جھگڑ پڑتا تھا یہاں تک کہ وہ اس کا قصاص طلب کرتا تھا۔ اور وہ حمیت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں انتہائی شدید اور سخت تھے ‘ پس اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ ان کے درمیان الفت پیدا کردی ‘ یہاں تک کہ ایک آدمی دین کے سبب اپنے باپ اور اپنے بھائی کے خلاف قتال کرنے لگا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہاں مراد مہاجرین و انصار کے دریمان تالیف ہے۔ اور یہ معنی باہم متقارب ہیں۔
Ayah 8:64

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے۔

یایھا النبی حسبک اللہ ومن التبعک من المؤمنین۔ ” اے نبی ( مکرم) کافی ہے آپ کو اللہ تعالیٰ اور جو آپ کے فرمانبردار ہیں مومنوں سے “ یہ تکرار نہیں ہے ‘ کیونکہ ماسبق کلام میں فرمایا ہے : وان یریدوا ان یخدعوک فان حسبک اللہ اور یہ کفایۃ خاصہ ہے اور اس ارشاد یا یھا النبی حسبک اللہ میں تعمیم کا ارادہ فرمایا ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہر حال میں آ پکو کافی ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : یہ آیت حضرت عمر ؓ کے اسلام کے بار میں نازل ہوئی ‘ کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ تنتیس آدمی اور چھ عورتیں اسلام لاچکی تھیں۔ پھر حضرت عمر ؓ نے اسلام قبول کیا اور وہ (مسلمان) چالیس ہوگئے۔ یہ آیت مکی ہے اور رسول اللہ ﷺ کے حکم سے مدنی سورت میں لکھی گئی ہے اسے قشیرمی نے ذکر کیا ہے۔ میں (مفسرض کہتا ہوں : حضرت عمر ؓ کے اسلام کے بارے میں انہوں نے جو حضرت ابن عباس ؓ سے ذکر کیا ہے ‘ تحقیق سیرت میں اس کے خلاف واقع ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا ہے : ہم کعبہ معظمہ کے پاس نماز پڑھنے پر قدرت نہ رکھتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر ؓ اسلام لائے ‘ پس جب آپ نے اسلام قبول کیا تو آپ نے قریش کے ساتھ جھگڑا کیا یہا تک کہ آپ نے کعبہ کے پاس نماز پڑھی اور ہم نے ابھی آپ کی معیت میں نماز پڑھی۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام میں سے جو حبشہ کی طرف ہجرت فرما ہوئے ان کی ہجرت کرنے کے بعد حضرت عمر ؓ اسلام لائے۔ ابن اسحاق (رح) نے کہا ہے : مسلمانوں میں سے وہ تمام جو سرزمین حبشہ کے ساتھ جاملے اور اس کی طرف ہجرت فرما ہوئے۔ ان کے ان بیٹوں کے سوا جوان کے ساتھ چھوٹی عمر میں نکلے یا وہاں پیدا ہوئے۔ وہ تراسی آدمی تھے ‘ اگر حضر عمار بن یاسر ؓ ان میں شامل ہوں۔ کیونکہ ان کے بارے میں شک کیا جاتا ہے۔ اور کلبی (رح) نے کہا ہے : یہ آیت جنگ سے قبل غزوئہ بدر کے بارے میں قمام بیداء پر نازل ہوئی۔ قولہ تعالیٰ : ومن اتبعک من المؤمنین کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے۔ اور مہاجرین و انصار آپ کو کافی ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے اور انہیں کافی ہے جنہوں نے آپ کی اتباع کی۔ اسے شعبی اور ابن زید رحمہما اللہ نے بیان کیا ہے۔ اور پہلا قول حسن سے منقول ہے اور اسے نحاس وغیرہ نے اختیار کیا ہے۔ اور من پہلے قول کی بنا پر محل رفع میں ہے اور اہم جلالت لفظ اللہ پر معطوف ہے۔ اور معنی یہ بنتا ہے : فان حسبک اللہ واتباعک من المؤمنین (بےشک اللہ تعالیٰ اور آپ کی اتباع کرنے والے مومنین آپ کو کافی ہیں) اور دوسرے قول کے مطابق عطف ضمیر پر ہے۔ اور اسی کی مثل حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے : یکفینیہ اللہ وأبناء قیلۃ (اللہ تعالیٰ اور قیلہ کے بیٹے ( مراد اوس و خزرج ہیں) مجھے اس کے لیے کافی ہوں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ معنی اس طرح ہو ومن اتبعک من المؤ منین ‘ حسبھم اللہ (مومنین میں سے جو آپ کی اتباع کرنے وال ہیں اللہ انہیں کافی ہے) ۔ پس خبر مضمر ہوگی اور یہ بھی جائز ہے کہ من محل نصب میں ہو اور معنی یہ ہو یکفیک اللہ ویکفی من اتبعک ( اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے اور وہ انہیں کافی ہے جنہوں نے آپ کی اتباع کی)
Ayahs 8:65–66

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کافروں پر غالب رہیں گے۔ اور اگر سو (ایسے) ہوں گے تو ہزار پر غالب رہیں گے اس لئے کہ کافر ایسے لوگ ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتے۔

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب خدا نے تم پر سے بوجھ ہلکا کردیا اور معلوم کرلیا کہ (ابھی) تم میں کسی قدر کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے، اور اگر ایک ہزار ہوں گے تو خدا کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اور خدا ثابت قدم رہنے والوں کا مددگار ہے۔

قولہ تعالیٰ : یایھا النبی حرض المومنین علی القتال یعنی آپ انہیں جہاد پر برانگیختہ کیجئے اور ابھاریئے۔ کہا جاتا ہے : حارض علی الا مرد واظب وواصب واکب ان تمام کا معنی ایک ہے (یعنی اس نے کام پر ابھارا، برانگیختہ کیا) اور الحارض وہ ہے جو ہلاک ہونے کے قریب ہوجائے۔ اس معنی میں رب کریم کا ارشاد بھی ہے : حتی تکون حرضا (یوسف : 58) (کہیں بگڑنہ جائے آپ کی صحت) یعنی تو غم سے پگھلنے لگے اور تو ہلاک ہونے کے قریب ہوجائے تو تو ہلاک ہونے والوں میں سے ہوجائے گا۔ ان یکن منکم عشرون صبرون یغلبوا مائتین یہ الفاظ تو خبر ہیں، ان کے ضمن میں شرط کے ساتھ ایک وعدہ ہے۔ کیونکہ اس کا معنی یہ ہے اگر تم میں سے بیس صبر کرنے والے آدمی صبر کریں گے تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے ان یصبر منکم عشرون صابرون یغلبوا مائتین، عشرون، ثلاثون اور اربعون ان میں سے ہر ایک ایسا اسم ہے جو اس عدد کے لیے جمع کی صورت میں وضع کیا گیا ہے۔ اور یہ اسم قائم مقام فلسطین کے ہوجائے گا۔ اگر کوئی کہنے والا یہ کہے : عشرین کے پہلے حرف کو کسرہ کیوں دیا ہے حالانکہ ثلاثین اور اس کے ما بعد ثمانین تک سوائے ستین کے تمام میں پہلا حرف مفتوح ہے ؟ تو سیبو یہ کے نزدیک جواب یہ ہے کہ عشرۃ سے عشرین ایسے ہی ہے جسے واحد سے اثنین (واحد سے تثنیہ) ہے پس عشرین کے پہلے حروف کو کسرہ دیا تیا جیسے اثنان کو کسرہ دیا گیا ہے۔ اور اس پر دلیل ان کو قول ستون و تسعون ہے، جیسا کہ ستتہ و تسعتہ کہا گیا ہے۔ ابودائود نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے فرمایا : یہ آیت ان یکن منکم عشرون صبرون یغلبوا مائتین نازل ہوئی اور یہ امر مسلمانوں پر گراں اور شاق گزرا۔ جس وقت اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض قرار دیا کہ ان میں سے ایک دس کے مقابلے سے نہ بھا گے، پھر تخفیف کا حکم نازل ہوا اور فرمایا : الن خفف اللہ عن کہ ابو توبہ نے اس قول تک پڑھا : مائتہ صابرۃ یغلموا مائتین فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے انہیں عدد میں تخفیف فرمائی تو جتنی ان کے لیے تخفیف فرمائی اتنا صبر کم کردیا۔ اور علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : ایک قوم نے کہا ہے بیشک یہ حکم بدر کے دن تھا اور پھر منسوخ ہوگیا۔ اور یہ کہنے والے کی خطا ہے۔ اور کہیں منقول نہیں کہ مشرکین نے مسلمانوں کے مقابلے میں اس پر صف بندی کی لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے ان پر پہلے فرض کیا اور اسے اس کے ساتھ معلق کیا کہ بلا شبہ تم اسے سمجھتے ہو جس پر تم قتال کر رہے ہو اور وہ ثواب ہے۔ اور وہ اسے نہیں جنتے جس پر وہ قتال کرتے ہیں (1) ۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ فرض ہے پھر جب ان پر یہ گراں گزرا تو دو کے مقابلے میں ایک کے ثابت قدم رہنے کے سبب یہ فرض ساقط ہوگیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں تخفیف فرمادی اور ان پر یہ فرض کردیا کہ ایک سو دو سو کے مقابلے سے نہ بھاگیں۔ پس اس قول کی بنا پر تخفیف ہے نہ کہ نسخ۔ اور یہ حسن اور اچھا ہے۔ تحقیق قاضی ابن الطیب نے کہا ہے کہ حکم کا بعض حصہ اور اس کے بعض اوصاف جب منسوخ ہوجائیں یا اس کا عدد بدل دیا جائے تو اس کے لیے یہ کہنا جائز ہے کہ یہ نسخ ہے، کیونکہ اس وقت وہ بعینہ پہلا نہیں ہوتا بلکہ اس کا غیر ہوتا ہے۔ اور اس میں اختلاف ذکر کیا ہے۔
Ayah 8:67

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے۔

اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : اسری یہ اسیر کی جمع ہے، جیسے قتیل کی جمع قتلی اور جریح کی جمع جرحی ہے اور اسیر کی جمع میں اسری (ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ) اور اساری (ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ) بھی کہا جاتا ہے۔ اور یہ علیہ کے ساتھ نہیں ہے (مراد الف مقصورہ ہے) وہ قیدی کو چمڑے کی رسی کے ساتھ باندھ دیتے تھے اور وہ اسار کہلاتا ہے۔ اور پھر ہر پکڑے جانے والے کو اسیر کا نام دیا گیا اگرچہ اسے نہ بھی باندھا جائے۔ اعشی نے کہا ہے : وقیدنی الشعر فی بیتہ کما قید الاسرات الحمارا اور یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور ابو عمرو بن علاء نے کہا ہے : الاسری وہ قیدی ہیں جو اس وقت باندھیں نہ جائیں جب وہ پکڑے جاتے ہیں، اور الاساری وہ ہیں جنہیں رسی وغیرہ کے ساتھ باندھا جائے۔ ابو حاتم نے اسے بیان کیا ہے انہوں نے یہ عربوں سے سنا ہے۔ مسیلہ نمبر 2۔ یہ آیت بدر کے دن نازل ہوئی اور اس میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضور بنی مکرم ﷺ کے اصحاب کو عتاب کیا گیا ہے۔ اور معنی یہ ہے : تمہارے لیے مناسب نہیں کہ تم ایسا فعل کرو جو واجب قرار دے کہ نبی کریم ﷺ کے لیے غلبہ سے پہلے قیدی ہوں۔ اور ان کے لیے یہ خبر اس ارشاد کے ساتھ ہے : تریدون عرض الدنیا (تم دنیاکا سامان چاہتے ہو) اور حضور نبی مکرم ﷺ نے جنگ کے وقت مردوں کو باقی رکھنے کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا اور نہ کبھی آپ نے سامان دنیا کا ارادہ کیا، بلا شبہ جمہور جنگ کرنے والوں نے یہ فعل کیا۔ پس زجرو تو بیخ اور عتاب اس کے سبب سے متوجہ ہے جس نے فدیہ لینے کے بارے میں حضور نبی مکرم ﷺ کو مشورہ دیا۔ یہ اکثر مفسرین کو قول ہے اور یہی وہ قول ہے جس کے سوا کوئی قول صحیح نہیں ہے۔ حضور نبی مکرم ﷺ کا ذکر آیت میں اس وقت آیا جس وقت آپ نے اس سے منع نہیں فرمایا جب آپ نے اسے عریش سے دیکھا جب کہ حضرت سعد بن معاذ، حضرت عمربن خطاب اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے اسے ناپسند کیا، لیکن آپ ﷺ کو معاملے کے اچانک آنے اور مدد و نصرت کے نازل ہونے نے اس سے مشغول رکھا اور آپ ﷺ نے باقی رکھنے کے بارے نہی ترک کردی، یہی وجہ ہے کہ جب یہ آیات بازل ہوئیں تو آپ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ رونے لگے۔ واللہ اعلم۔ مسلم (رح) نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کی حدیث روایت کی ہے اور اس کا پہلا حصہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے اور یہ اس کی تکمیل ہے۔ ابوز میل نے بیان کیا ہے : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب مسلمانوں نے قیدیوں کو قید کرلیا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر ؓ کو فرمایا : ” ان قیدیوں کے بارے میں تم کیا رائے رکھتے ہو ؟ “ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ وہ عمر اد اور خاندان کے لوگ ہیں۔ میری رائے تو یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں، وہ ہمارے لیے کفار کے خلاف قوت و طاقت کا باعث ہوگا اور یہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اسلام قبول کرنے کی ہدایت عطا فرمادے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اے ابن الخطاب تو کیا رائے رکھتا ہے “ ؟ میں نے عرض کی : قسم بخدا ! یا رسول اللہ ! ﷺ میں وہ رائے نہیں رکھتا جو ابوبکر صدیق ؓ کی رائے ہے، بلکہ میری رائے تو یہ ہے کہ آپ ہمیں اختیار اور قدرت دیں تو ہم ان کی گردنیں ماردیں، پس آپ حضرت علی ؓ کو عقیل کے بارے اختیار دیں کہ وہ اس کی گردن مار دیں اور مجھے فلاں (جو حضرت عمر ؓ کی طرف منسوب آدمی) پر قدرت دیں تو میں اس کی گردن ماردوں، کیونکہ یہ کفار کے ائمہ اور ان کے سردار ہیں۔ پس رسول اللہ ﷺ نے اسے پسند کیا جو ابوبکر صدیق ؓ نے کہا اور اسے پسند نہ فرمایا جو میں نے کہا۔ جب دوسرا دن آیا تو میں حاضر خدمت ہوا تو اچانک دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ دونوں بیٹھے رو رہے تھے۔ تو میں عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ ، مجھے بھی بتایئے کون سی وجہ سے آپ اور آپ کے ساتھی رو رہے ہیں۔ پس اگر میں نے رونے کو پالیا تو میں بھی رولوں گا، اور اگر میں نے رونا نہ پایا تو تم دونوں کے رونے کی وجہ سے رونے کی شکل بنا لوں گا۔ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” میں اس وجہ سے ور رہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں نے مجھ پر فدیہ لینے کی رائے پیش کی تحقیق مجھ پر ان کا عذاب اس درخت سے بھی قریب تر پیش کیا گیا ہے “ (1) ۔ (مراد وہ درخت ہے جو اس وقت حضور نبی کریم ﷺ کے بالکل قریب تھا) اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الا رض اس ارشاد تک فکلو امما غنمتم حللا یبا تک نازل فرمائی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا۔ یزید بن ہارون نے بیان کیا ہے کہ ہمیں یحییٰ نے خبر دی ہے انہوں نے کہا ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے انہوں نے عمرو بن مرہ سے انہوں نے ابو عبیدہ سے اور انہوں نے عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : جب غزوہ بدر ہوا اور قیدی لوئے گئے تو ان میں عباس بھی تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تم ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو ؟ “ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ یہ آپ کی قوم ہے اور آپ کے اہل ہیں، آپ انہیں باقی رہنے دیجئے شاید اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی تو فیق عطا فرما دے۔ اور حضرت عمر ؓ نے عرض کی : انہوں نے آپ کی تکذیب کی ہے اور انہوں نے آپ کو (شہر سے) نکالا ہے اور انہوں نے آپ کے ساتھ جنگ کی ہے۔ انہیں آگے لایئے اور ان کی گردنیں مار دیجئے (یعنی انہیں قتل کر دیجئے) اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا : کیثر لکڑیوں (ایندھن) والی وادی دیکھیے اور اسے ان پر بھڑکا دیجئے۔ تو عباس نے کہا درآنحا لی کہ وہ یہ سن رہے تھے : تم نے قطع رحمی کی ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس رسول اللہ ﷺ (اندر) داخل ہوگئے اور آپ نے انہیں کسی قسم کا جواب نہ دیا۔ تو لوگوں نے کہا : آپ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے قول کے مطابق عمل کریں گے۔ اور کچھ لوگوں نے کہا : آپ عمر ؓ کا قول لے لیں گے اور بعض لوگوں نے کہا : آپ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضہ اللہ عنہ کے قول کے مطابق عمل کریں گے۔ پھر رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں بعض لوگوں کے دلوں کو نرم کردیا ہے یہاں تک کہ وہ دودھ سے زیادہ نرم ہوگئے ہیں اور اس نے بعض لوگوں کے دلوں کو سخت کردیا ہے یہاں تک کہ وہ پتھر سے زیادہ سخت ہوگئے ہیں۔ اے ابوبکر ! تیری مثال حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی مثل ہے انہوں نے کہا تھا : فمن تبعنی فانہ منی ومن عصانی مانک غفور رحیم۔ (ابراہیم) (پس جو کوئی میرے پیچھے چلا تو وہ سیرا ہوگا اور جس نے سیری نافرمانی کی (تو اس کا معاملہ تیرے سپرد ہے) بیشک تو غفور رحیم ہے) اے ابوبکر ! تیری مثال حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثل ہے جب انہوں نے کہا : ان تعذبھم فانھم عبادک و ان تغفر لھم فانک انت العزیز الحکیم۔ (المائدہ) ( اگر تو عذاب دے انہیں تو وہ بندے ہیں تیرے اور اگر تو بخش دے ان کو تو بلا شبہ تو ہی سب پر غالب ہے (اور) بڑا دانا ہے) اور اے عمر ! تیری مثال حضرت نوح (علیہ السلام) کی مثل ہے جب کہ انہوں نے کہا : رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ (نوح) ( اے میرے رب نہ چھوڑ روئے زمین پر کافروں میں سے کسی کو بستا ہوا) اور اے عمر ! تیری مثال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مثل ہے جب انہوں نے کہا : ربنا اطمس علی اموالھم واشدد علی قلوبھم فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم۔ (یونس) ( اے ہمارے رب ! برباد کر دے ان کے مالوں کو اور سخت کر دے ان کے دلوں کو تاکہ وہ نہ ایمان لے آئیں جب تک نہ دیکھ لیں دردناک عذاب کو) تم عیال دار ہو تو کوئی بھی فریہ یا قتل کیے جانے کے بغیر نہیں چھوٹے گا “۔ تو عبداللہ نے کہا : سوائے سہیل بن بیضاء کے کیونکہ میں نے اسے اسلام کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے۔ فرمایا : میں نے اپنے آپ کو اس دن سے بڑھ کر خوفزدہ نہیں دیکھا کہ مجھ پر آسمان سے پتھر گرنے لگیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں : ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض، الی آخرالایتین (الا نفال) (1) اور ایک روایت میں ہے، پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بیشک قریب ہے کہ ہمیں ابن خطاب کی مخالفت میں عذاب آپہنچے اور اگر عذاب نازل ہوا تو سوائے عمر کے کسی کو نہ چھوڑے گا “ ابو دائود نے حضرت عمر ؓ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے بیان کیا : جب بدر کا دن تھا اور رسول اللہ ﷺ نے فدیہ لے لیا، تو اللہ تعالیٰ نے ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض، تا قولہ لمسکم فہا اخذتم (یعنی تم نے فدیہ لیا) عذاب عظیم۔ (الانفال) تک دو آیتیں نازل فرمائیں۔ بعدازاں غنائم کو حلال کیا۔ اور علامہ قثیری نے ذکر کیا ہے کہ حضرت سعد بن معاذ ؓ نے بیان کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ بیشک ہمارا مشرکین کے ساتھ یہ پہلا معرکہ ہے پس غلبہ پانا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔ اور الائخان کا معنی ہے کثرت سے قتل کرنا۔ یہ حضرت مجاہد وغیرہ سے مروی ہے۔ یعنی وہ مشرکوں کو قتل کرنے میں مبالغہ کریں۔ عرب کہتے ہیں : اثخن فلان فی ھذا الا مر یعنی فلاں نے اس کام میں مبالغہ کیا۔ اور بعض نے کہا ہے : یہاں تک کہ آپ غلبہ پالیں اور اس کے ساتھ انہیں قتل کریں۔ اور نفضل نے شعر کہا ہے : تصلی الضحی ما دھرھا بتعبد وقد اثخنت فرعون فی کفرہ کفرا اور یہ بھی کہا گیا ہے : حتی یثخنیہاں تک کہ آپ قدرت پالیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الاثخان سے مراد قوت اور شدت ہے پس اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ بدر کے وہ قیدی جن سے فدیہ لیا گیا انہیں قتل کرنا ان کے فدیہ سے اولیٰ اور بہتر تھا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : یہ بدر کا دن تھا اور اس دن مسلمان قلیل تھے، پس جب یہ بڑھ گئے اور ان کی سلطنت مضبوط اور مستحکم ہوگئی تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قیدیوں کے بارے میں یہ فرمان نازل کیا : فاما منابعدو اما فدآئ (محمد : 4) (بعد ازاں یا تو احسان کرکے ان کو رہا کر دو یا ان سے فدیہ لو) جیسا کہ اس کا بیان سورة القتال میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ ؁ تحقیق کیا گیا ہے : بیشک انہیں عتاب کیا گیا کیونکہ واقعہ بدر بہت عظیم واقعہ تھا اور صنا دید قریش، ان کے اشراف، ان کے سرداروں اور ان کے مالون میں قتل، قید کیے جانے اور ان کا مالک بننے کے اعتبار سے یہ بہت بڑاتصرف تھا۔ اور یہ تمام کا تمام ہی انتہائی عظیم واقعہ تھا، پس ان کا حق یہ تھا کہ وہ وحی الہٰی کا انتظار کرتے اور جلدی نہ کرتے، لیکن جب انہوں نے جلدی کی اور انہوں نے انتظار نہ یا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اس انداز سے توجہ فرمائی۔ واللہ اعلم مسئلہ نمبر 3۔ طبری وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ رسوال اللہ ﷺ نے لوگوں کو فرمایا : اگر تم چاہو تو قیدیوں کا فدیہ لے لو اور تم میں سے ان کی تعداد کے برابر ستر افراد جنگ میں شہید کردیئے جائیں گے اور اگر تم چاہو تو انہیں قتل کردیا جائے اور تم سلامت رہو “ لوگوں نے عرض کی : ہم فدیہ لے لیتے ہیں اور یم میں سے ستر آدمی شہید ہوجائیں گے (1) ۔ اور عبدبن حمید نے اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ حضرت جبریل امین (علیہ السلام) لوگوں کو اس طرح کا اختیار دینے کے بارے پیغام لے کر حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے (2) ۔ اس بارے میں گفتگو سورة آل عمران میں گزر چکی ہے۔ اور عبیدہ سلمانی نے کہا ہے : انہوں نے دونوں اختیا طلب کیے (یعنی دونوں کی انہوں نے خواہش کی فدیہ اور شہادت) پس ان میں سے ستر آدمی غزوئہ احد میں شہید کردیئے گئے۔ اور یہاں اشکال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے۔ مسئلہ نمبر 4۔ اشکال میں یہ کہا جاتا ہے کہ جب اختیار دیا گیا تو پھر لمسکم کو قول کے ساتھ زجرو تو بیخ کیونکر واقع ہوئی ’ تو جواب یہ ہے کہ پہلے ان کے فدیہ لینے کی حرص کی وجہ سے زجروتوبیخ واقع ہوئی اور پھر اس کے بعد اختیار دیا گیا۔ اور اس پر حضرت مقداد کا قول دلالت کرتا ہے جو انہوں نے اس وقت کہا جب رسول اللہ ﷺ نے عقبہ بن ابی معیط کو قتل کرنے کے بارے حکم دیا۔ یا رسول اللہ ! ﷺ یہ میرا قیدی ہے۔ اور حضرت مصعب بن عمیر جن کے بھائی کو قیدی بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا : اس پر اپنا ہاتھ مضبوط کرلو، کیونکہ اس کی ماں خوشحال ہے۔ علاوہ ازیں بھی واقعات ہیں جو ان کے فدیہ لینے پر ان کی حرص کی دلیل ہیں۔ پس جب قیدی حاصل ہوگئے اور انہیں مدینہ طیبہ کی طرف چلا یا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے نضر اور عقبہ وغیرہ کو قتل کا حکم نافذ فرمایا اور ان تمام پر سخت یہونے لگی تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے تخییر کا فرمان نازل ہوا۔ تو اس وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا ‘ پس حضرت عمر ؓ قتل کے بارے میں اپنی پہلی رائے پر ہی قائم رہے۔ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی رائے کی طرف مائل ہوئے۔ یہ دونوں آراء تخییر کے بعد اجتہاد ہے۔ اس لیے اس کے بعد اس بارے میں کوئی سخت یا ناراضگی کا حکم نازل نہیں ہوا۔ واللہ اعلم مسئلہ نمبر 5 ۔ ابن وہب نے کہا ہے : امام مالک نے بیان کیا ہے کہ بدر کے قیدی مشرک تھے ‘ پس اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل فرمایا : ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض وہ اس وقت مشرک تھے انہوں نے فدیہ دیا اور واپس لوٹ گئے اور اگر وہ مسلمان ہوتے تو یقیناً وہیں ٹھہر جاتے اور واپس لوٹ کر نہ جاتے۔ ان میں سے جو قتل کیے گئے ان کی تعداد چوالیس تھی ‘ اور انہیں کی مثل قیدی بنائے گئے۔ اور شہداء کی تعداد کم تھی۔ اور عمر وبن علاء نے بیان کیا ہے : بیشک مقتول ستر تھے اور اتنے ہی قیدمی تھے۔ اور اسی طرح حضرت ابن عباس او ابن مسیب ؓ نے کہا ہے۔ اور یہی صحیح ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں بھی ہے ‘ پس اس دن ستر قتل کردیئے گئے اور ستر قیدی بنا لیے گئے۔ اور بیہقی نے ذکر کیا ہے انہوں نے بیان کیا : پس قیدی لائے گئے اور ان پر شقران مولیٰ رسول اللہ ﷺ مقرر تھے اور وہ انچاس آدمی تھے جو گنے گئے او دذراصل وہ ستر تھے ‘ اسی پر اجماع ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : بیشک امام مالک (رح) نے بیان کیا ” اور وہ مشرک تھے “ کیونکہ مفسرین نے روایت کیا ہے کہ عباس نے حضور نبی مکرم ﷺ سے کہا : بلاشبہ میں مسلمان ہوں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ قیدیوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے کہا : ہم آپ کے ساتھ ایمان لائے۔ اس سب کو امام مالک (رح) نے ضعیف قراردیا ہے اور اس کے بطلان پر استدلال اس روایت سے کیا ہے جس میں ان کے واپس لوٹنیکا ذکر ہے اور اس پر مستنر اد یہ ہے کہ انہوں نے احد کے میدان میں پھر آپ ﷺ سے جنگ لڑی (1) ۔ ابو عمر بن عبد البر نے کہا ہے : حضرت عباس ؓ کے اسلام لانے کے وقت میں علماء کے مابین اختلاف ہے۔ پس کہا گیا ہے کہ وہ غزوہ بدر سے پہلے اسلام لائے ‘ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا :” جو کوئی عباس سے ملے تو وہ انہیں قتل نہ کرے کیونکہ انہیں مجبوراً نکالا گیا ہے “۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوئہ بدر کے دن فرمایا :” بیشک بنی ہاشم وغیرہ کے کچھ لوگ بالجبر نکالے گئے ہیں ہمیں انہیں قتل کرنے کی ضرورت نہیں پس تم میں سے کسی کا بنی ہاشم کے کسی فرد سے آمنا سامنا ہوجائے تو وہ اسے قتل نہ کرے اور جو ابو البختری سے ملے وہ اسے قتل نہ کرے اور جس کا سامنا عباس سے ہوجائے تو چاہیی کہ وہ اسے قتل نہ کرے کیونکہ انہیں با لا کراہ نکال کرلیا گیا ہے “۔ اور آگے حدیث ذکر کی۔ اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ اس وقت اسلام لائے جب بدر کے دن قیدی بنائے گئے۔ اور یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ وہ غزوئہ خیبر کے سال اسلام لائے اور وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے مشرکین کی خبریں لکھتے تھے اور وہ ہجرت کرنا پسند کرتے تھے پس رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف ما : أمکث بمکۃ فمقا مک بھا أنفع لنا (2) (تم مکہ میں ہی رہو پس تمہارا وہاں رہنا ہمارے لیے زیادہ نفع بخش ہے)
Ayah 8:68

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر خدا کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا۔

لولا کتب من اللہ سبق لمسکم فیمآ اخذتم عذاب عظیم۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : لولا کتب من اللہ سبق اگر پہلے سے اس بارے میں حکم الہٰی نہ ہوتا کہ وہ کسی قوم کو عذاب نہیں دے گا یہاں تک کہ ان کے لیے اس چیز کو بیان کردے جس سے وہ بچیں اور پرہیز کریں۔ لوگوں نے کتاب اللہ السابق کے بارے میں مختلف قول کیے ہیں۔ ان میں سے صحیح ترین قول یہ ہے کہ اگر غنائم کو حلال کرنے کے بارے میں پہلے سے فیصلہ نہ ہوتا ‘ کیونکہ ہم سیپہلی امتوں پر غنائم کو حرام کیا گیا تھا۔ پس جب غزوہ بدر کا دن تھا ‘ تو لوگ غنائم کی طرف بڑی تیزی سے بڑھے تو اللہ تعالیٰ نے غنائم کو حلال کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی لو لا کتب من اللہ سبق۔ ابو دائود طیالسی نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے۔ سلام نے اعمش سے ‘ انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے ہمیں روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : جب بدر کا دن تھا لوگ بڑی جلدی سے غنائم کی طرف بڑھے اور انہوں نے انہیں پالیا ‘ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ان القیمۃ لاتحل لا حدسود الرئوس غیر کم (1) بیشک مال غنیمت تمہارے علاوہ سیاہ بالوں والے کسی بندے کے حلال نہیں کیا گیا۔ تو نبی ﷺ اور ان کے اصحاب جب مال غنیمت حاصل کرتے اور اسے ایک جگہ جمع کردیتے تو آسمان سے ایک آگ اترتی اور اسے کھا جاتی۔ تب اللہ تعالیٰ نے لولا کتب من اللہ سبق دو آیتوں کے آخر تک نازل فرمائی۔ اسے ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور حضرت مجاہد اور حسن رحمۃ اللہ علیہما نے یہی کہا ہے۔ ان دونوں سے بھی اور حضرت سعید بن جبیر سے یہ بھی مروی ہے کہ کتاب سابق سے مراد اللہ تعالیٰ کا اہل بدر کے اگلے پچھلے گناہوں کی مغفرت فرما دینا ہے۔ اور ایک گروہ نے کہا ہے : الکتاب السابق سے مراد اللہ تعالیٰ کا ان کے اس معین گناہ کو معاف فرمادینا ہے (یعنی مال غنیمت کی طرف تیزی سے بڑھنا) لیکن اس میں عموم اصح ہے ‘ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو اہل بدر کے بارے میں فرمایا :” تجھے کون بتائے کہ اللہ تعالیٰ اہل بدر پر مطلع ہوا اور اس نے فرمایا تم عمل کر رو جو چاہو ‘ تحقیق میں نے تمہاری مغفرت فرمادی ہے “ (2) ۔ اسے مسلم نے بیان کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کتاب سابق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں عذاب نہیں دے گا آنحا لی کہ محمد ﷺ ان میں موجود ہیں۔ اور یہ قول بھی ہے کہ کتاب سابق یہ ہے کہ وہ کسی کو اس گناہ کے بدلے عذاب نہ دے گا جو اس نے عہد جاہلیت میں کیا یہاں تک کہ وہ پھر اس کی طرف بڑھے (یعنی اسلام کے بعد دو بارہ اس کا ارتکاب کرے) اور ایک گروہ نے کہا ہے : کتاب سابق وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنے کے سبب صغیرہ گناہوں کو مٹادینے کے بارے فیصلہ کیا ہے۔ اور علامہ طبری اس طرف گئے ہیں کہ یہ جملہ معانی اس لفظ کے تحت داخل ہیں اور یہ لفظ ان تمام کو شامل ہے۔ اور کسی معنی کی تحصیص کا فائدہ نہیں دے رہا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ بندہ جب ان اقوال میں سے کوئی فعل کر بیٹھے جن کے حرام ہونے کا وہ اعتقادرکھتا ہے اور وہ فعل اللہ تعالیٰ کے علم میں اس کے لیے حلال ہو تو اس پر کوئی سزا نہیں ‘ جیسا کہ روزے دار جب کہے : یہ میرے سفر کا دن ہے پس میں اب روزہ افطار کرتا ہوں یا عورت کہتی ہے : یہ میرے حیض کا دن ہے پس میں روزہ افطار کرتی ہوں ‘ پھر دونوں نے عملاً ایسا کرلیا اور سفر اور حیض دونوں روزہ افطار کرنے کا موجب ہیں۔ تو اس بارے میں مشہور مذہب یہ ہے کہ اس میں کفارہ ہے۔ اور یہی امام شافعی (رح) نے کہا ہے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے : اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔ اور یہ دوسری روایت ہے۔ پہلی روایت کی وجہ یہ ہے کہ اباحت کے طرق تحریم کی سزا میں عذر ثاب ت نہیں کرتے جب اس حرام کا ارتکاب کیا جائے ‘ جیسا کہ اگر کوئی کسی عورت سے پہلے وطی کرے اور پھر اس سے نکاح کرلے۔ اور دوسری روایت کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس دن کی حرمت ساقط ہوچکی ہے پس اس نے ہتک کا ارتکاب ایسے محل میں کیا ہے جو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے علم میں حرام نہیں ہے ‘ پس یہ اس کے قائم مقام ہوگیا کہ اگر کوئی عورت سے وطی کرنے کا قصد کرے جو اسکی طرف شب زفاف بھیجی گئی اور وہ اس کی بارے یہ اعتقادرکھتا ہو کہ وہ اسکی بیوی نہیں ہے جب کہ وہی اس کی بیوی ہو۔ اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ اور پہلی تعلیل لازم نہ آئے گی ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہمارے علم کے ساتھ تحریم کے مسئلہ میں برابر ہے۔ اور ہمارے مسئلہ میں ہمارا علم اور اللہ تعالیٰ کا علم مختلف ہیں پس اس کا حکم اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق ہوگا (1) ‘ جیسا کہ اس نے فرمایا : لو لا کتب من اللہ سبق لمسکم فیمآ اخذتم عذاب عظیم۔
Ayah 8:69

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

تو جو مال غنیمت تم کو ملا ہے سے کھاؤ (کہ وہ تمہارے لئے) حلال (طیب) ہے اور خدا سے ڈرتے رہو بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

فکلوا مما غنمتم حللا طیبا واتقوا اللہ ان اللہ غفور رحیم۔ ” سو کھائو جو تم نے غنیمت حاصل کی ہے حلال (اور) پاکیزہ اور ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ سے یقینا اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے “ اس ارشاد کا ظاہر یہ تقاضا کرتا ہے کہ سارے کا سارا مال غنیمت لشکریوں کے لیے ہو اور وہ تمام کے تمام اس میں برابر شریک ہوں ‘ مگر اللہ تعالیٰ کا ارشاد : واعلمو انما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ (الانفال :41) نے اس سے خمس نکالنے کے وجوب کو بیان کیا ہے اور اسے مذکورہ وجوہ کی طرف پھیر دیا ہے۔ اس بارے میں مکمل بحث پہلے گزر چکی ہے۔
Ayahs 8:70–71

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ جو قیدی تمہارے ہاتھ میں (گرفتار) ہیں ان کے کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے دلوں میں نیکی معلوم کرے گا تو جو (مال) تم سے چھن گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عنایت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دیگا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گے تو یہ پہلے ہی خدا سے دغا کرچکے ہیں تو اس نے ان کو (تمہارے) قبضہ میں کردیا۔ اور خدا دانا حکمت والا ہے۔

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الاسری کہا گیا ہے کہ یہ خطاب حضور نبی مکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کو ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ خطاب صرف آپ کو ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : اس آیت میں قیدیوں سے مراد عباس اور ان کے ساتھی ہیں۔ انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے کہا : ہم اس (دین) کے ساتھ ایمان لائے جو آپ لے کر آئے اور ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ یقینا ہم آپ کے لیے آپ کی قوم پر مخلص رہیں گے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی۔ اور امام مالک (رح) کے قول سے اس کا بطلان پہلے گزر چکا ہے۔ اور مصنف ابی دائود میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے بدر کے دن اہل جاہلیت کا فدیہ چار سو مقرر کیا۔ اور ابناسحاق سے مروی ہے : قریش نے رسول اللہ ﷺ کی طرف اپنے قیدیوں کا فدیہ بھیجا۔ اور ہر قوم نے اپنے قیدیوں کا اتنا فدیہدیا جس پر وہ راضی ہوئے۔ اور عباس نے کہا : یارسول اللہ ! ﷺ بلاشبہ میں مسلمان ہوچکا ہوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تمہارے اسلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے پس اگر ایسا ہوا جیسے تم کہتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی جزا عطا فرمائے گا اور جہاں تک تمہارے معاملے کا ظاہر ہے تو وہ ہم پر عیاں ہے پس تم اپنی ذات ‘ اپنے بھتیجوں نوفل بن حارث بن عبدالمطلب اور عقیل بن ابی طالب اور اپنے حلیف عتبہ بن عمرو جو کہ حارث بن فہر کے بیٹوں کا بھائی ہے کا فدیہ ادا کرو “۔ تو انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ میرے پاس تو کچھ نہیں ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : فاین المال الذی دفنتہ أنت وأم القضل فقلت لھا ان أصبت فی سفر ھذا فھذا المال لبنی الفضل وعبد اللہ وقثم (1) (وہ مال کہاں گیا جسے تو نے اور ام فضل نے دفن کیا اور تو نے اسے کہا اگر میں اپنے اس سفر میں کام آجائوں تو یہ مال میرے بیٹوں فضل ‘ عبد اللہ اور قسم کے لیے ہے) تو انہوں نے کہا : یارسول اللہ ! ﷺ انی لا علم انک رسول اللہ ‘ ان ھذالشئی ما علمہ غیری وغیرام الفضل (یا رسول اللہ ! ﷺ بیشک میں یقینا جان گیا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ‘ بیشک یہ وہ شے ہے جس کا میرے اور ام فضل کے بغیر کسی کو علم نہیں) پس آپ میرے لیے حساب لگائیے یا رسول اللہ ! ﷺ جو مال تم نے مجھ سے لینا ہے مال میں سے بیس اوقیہ میرے پاس ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” نہیں (صرف) وہ شے جو اللہ تعالیٰ نے تجھ سے ہمیں عطا فرمائی ہے “۔ (صرف وہی لینی ہے) پس اس نے اپنا ‘ اپنے بھتیجوں اور اپے حلیف کا فدیہ ادا کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی : یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الاسری ‘ الآ یہ ابن اسحاق نے کہا ہے : تمام قیدیوں میں سے زیادہ فدیہ عباس بن عبدالمطلب کا تھا ‘ کیونکہ وہ خوشحال آدمی تھے ‘ پس انہوں نے سواوقیہ سونا اپنا فدیہ دیا (2) ۔ اور بخاری میں ہے : موسیٰ بن عقبہنے بیان کیا ہے کہ ابن شہاب نے کہا ‘ مجھے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا ہے کہ انصار میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی اور عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ آپ ہمیں اجازت عطا فرمائیں کہ ہم اپنے بھانجے عباس کا فدیہ چھوڑدیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” نہیں قسم بخدا ! تم ایک درہم بھی نہ چھوڑو “ (3) ۔ اور نقاش وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ قیدیوں میں سے ہر ایک کا فدیہ چالیس اوقیہ تھا ‘ سوائے عباس کے۔ کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” عباس پر فدیہ دوگناکردو “ اور آپ نے انہیں پابند کیا کہ وہ اپنے بھتیجوں عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث کا فدیہ بھی دیں چناچہ انہوں نے ان یک طرف سے اسی اوقیہ اور اپنی طرف سے اسی اوقیہ فدیہ ادا کیا اور جنگ کے وقت ان سے بیس اوقیہ لیے گئے۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ ان دس افراد میں سے ایک تھے جنہوں نے اہل بدر کو کھانا کھلانے کا ذمہ اٹھا یا تھا اور ان کی باری بدر کی جنگ کے دن تھی پس انکے کھانا کھلانے سے پہلے ہی جنگ شروع ہوگئی اور ان کے پاس بیس باقی بچے گئے جو جنگ کے وقت ان سے لے لیے گئے۔ اور اس دن ان سے سو اوقیہ اور اسی اوقیہ لیے گئے۔ پس عباس نے حضور نبی مکرم ﷺ کو کہا : تحقیق تم نے مجھے اس حال میں کر چھوڑا ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں ہاتھ پھیلا کر قریش سے مانگتا رہوں۔ تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : این الذھب الذی ترکتہ عند امراتک امر الفضل ؟ ( وہ سونا کہاں گیا جو تو نے اپنی بیوی ام افضل کے پاس چھوڑا تھا) عباس نے کہا : کون سا سونا ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انک قلت لھا ادری مایصیبنی فی وجھی ھذا فان حدث بی حدث فھولک ولم لدک ( بیشک تو نے اسے کہا تھا میں اسے نہیں جانتا جو مجھے پیش آئے گا پس اگر میرے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجائے تو یہ تیرے لیے اور تیری اولاد کے لیے ہے) تو عباس نے پوچھا : اے بھتیجے ! تجھے اس کے بارے کس نے خبر دی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے “۔ تب عباس نے کہا : میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ سچے ہیں اور مجھے آپ کے رسول اللہ ہونے کا کبھی یقین نہیں ہوا مگر آج اور تحقیق میں نے جان لیا ہے کہ آپ کو اس پر کسی نے مطلع نہیں کیا مگر اس نے جو پوشیدہ اور مخفی چیزوں کو جاننے والا ہے۔ اشھد ان لا الہ اللہ وانک عبدہ ورسولہ اور میں اس کے سوا ہر ( معبود باطل) کا انکار کرتا ہوں۔ اور پھر انہوں نے اپنے بھتیجوں کو بھی حکم دیا تو وہ بھی اسلام لے آئے، پس ان دونوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی یا یھا البنی قل لمن فی ایدیکم من الاسری اور جس نے عباس کو قید کیا تھا وہ ابو الیسر کعب بن عمر و بنی سلمہ کے بھائی تھے اور وہ بالکل چھوٹے قد کے آدمی تھے اور عباس موٹے تازے طویل القامت تھے پس جب وہ انہیں لے جر حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں فرمایا : لقد اعانک علیہ مالک ( تحقیق اس پر فرشتے نے تیری مدد کی ہے) مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : ان یعلم اللہ فی قلوبکم خیر اس میں خیر سے مراد اسلام ہے ( یعنی اگر اللہ تعالیی نے تمہارے دلوں میں اسلام جان لیا) یو تکم خیرا مما اخذمنکم تو وہ تمہیں اس فدیہ سے بہتر عطا فرمائے گا جو تم سے لیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ دنیا میں عطا فرمائے گا۔ اور قول بھی ہے کہ آخرت میں عطا فرمائے گا۔ اور صحیح مسلم میں ہے کہ جب حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس بحرین کا مال آیا تو حضرت عباس ؓ نے آپ سے کہا : بیشک میں نے اپنا فدیہ بھی دیا تھا اور عقیل کا فدیہ بھی دیا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا : ” لے لو “ پس انہوں نے اپنا کپڑا بچھایا اور اتنا مال لے لیا جتنا اٹھانے کی طاقت رکھتے تھے۔ یہ مختصر کیا گیا ہے۔ اور غیر صحیح میں ہے : تو حضرت عباس ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کی : یہ اس سے بہتر ہے جو مجھ سے لیا گیا اور اس کے بعد میں یہ امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت فرمادے (1) حضرت عباس ؓ نے بیان کیا : آپ نے مجھے زم زم عطا کیا۔ اور میں پشند نہیں کرتا کہ اس کے بدلے اہل مکہ کے تما اموال میرے لیے ہوں۔ اور طبری نے حضرت عباس ؓ تک سند بیان کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا : میرے بارے میں اس وقت یہ آیت نازل ہوئی جس وقت میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے اسلام کے بارے میں آگاہ کیا اور میں نے آپ سے عرض کی کہ آپ میرے ان بیس اوقیہ کے بارے میں جانچ پرکھ کریں جو فدیہ کی ادائیگی سے پہلے مجھ سے لے لیے گئے تو آپ نے انکار کردیا۔ ” اور فرمایا وہ فے ہے “۔ تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے بدلے میں بیس غلام عطا فرما دئیے وہ سب کے سب میرے مال کے ساتھ تجارت کرتے ہیں۔ (2) اور مصنف ابی دائود میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا : جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کا فدیہ بھیجا تو حضرت زینب (بنت رسول اللہ ﷺ نے ابو العاص کے فدیہ کے لیے کچھ مال بھیجا اور اس میں انہوں نے اپنا وہ ہار بھی بھیجا جو ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ کے پاس تھا اور ابو العاص کے ساتھ شادی کے وقت انہوں نے پہنایا تھا۔ آپ فرماتی ہیںـ: پس جب رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو آپ پر انتہائی رقت طاری ہوگئی۔ اور آپ نے فرمایا : ” اگر تم مناسب سمجھو تو زینب کے لیے ان کی قیدی رہا کردو اور اس کا یہ ہار اسے واپس لو ٹا دو “ تو انہوں نے عرض کی : ہاں (ہم ایسا ہی کرتے ہیں) تو حضور نبی کریم ﷺ نے اس سے یہ وعدہ لیا کہ زینب کو آپ کے پاس بھیج دے گا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ ؓ اور انصار میں سے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا :” تم دونوں بطن یا جج میں جا کر رکو یہاں تک کہ زینب تمہارے پاس سے گزرے پس تم دونوں اس کے ساتھ ہوجانا یہاں تک تم اسے لے آئو “۔ ابن اسحاق نے بیان کیا ہے : یہ غزوئہ بدر کے ایک مہینہ بعد کا واقعہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا ہے : میں نے حضرت زینب بنت رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جب ابع العاص مکہ میں آیا تو اس نے مجھے کہا : تو تیاری کر اور اپنے باپ کے پاس چلی جا۔ پس میں نکلی تیاری کرنے لگی تو مجھے ہند بنت عقبہ ملی اور اس نے کہا : اے محمد کی بیٹی ! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تو اپنے باپ کے پاس جانے کا ارادہ رکھتی ہے ؟ تو میں نے اس سے کہاـ: میں نے اس کا ارادہ نہیں کیا۔ تو اس نے کہا : اے چچا کی بیٹی ! تو ایسا نہ کر، بیشک میں خوشحال عورت ہوں اور میرے پاس تیری حاجب اور ضرورت کا سامان ہے۔ پس اگر تو سامان کا ارادہ کرے تو میں تجھے وہ بیچ دیا نفقہ کے لیے قرض چاہیے تو میں تجھے قرض دے دیتی ہوں، کیونکہ وہ کچھ عورتوں کے درمیان نہیں ہوتا جو مردوں کے درمیان ہوتا ہے۔ آپ فرماتی ہیں : قسم بخدا ! میں اسے دیکھ رہی تھی کہ یہ اس نے بہتان تراشی کے لیے کہا ہے۔ میں اس سے ڈر گئی اور میں نے اس سے اسے چھپائے رکھا اور میں نے کہاــ: اس کا ارادہ نہیں رکھتی۔ بس جب زینب اپنی تیاری سے فارغ ہوگئیں تو آپ وہاں سے چل پڑیں اور ان کے ساتھ انکا دیور اونٹ کی مہار پکڑ کر (قائد) کنانہ بن ربیع بھی نکلا اور یہ دن کے وقت گھر سے نکلے تھے۔ اور اس بارے میں اہل مکہ نے بھی سن لیا، چناچہ ان کی تلاش میں ہبار بن اسود اور نافع بن عبداقیس الفہری نکلے اور سب سے پہلے جو آپ کی طرف آگے بڑھا وہ ہبار تھا اس نے نیزے کے ساتھ آپ کو خوفزدہ کیا اور دھمکایا در آنحالیکہ آپ ہودج میں تھیں۔ کنانہ نے اونٹ بٹھایا اور اپنے تیر پھیلادیئے پھر اپنی قوس پکڑی اور کہا : قسم بخدا ! جو آدمی بھی میرے قریب آئے گا میں اسے تیر ماردوں گا۔ اشراف قریش میں سے ابو سفیان آیا اور اس نے کہا : اے فلاں ! اپنا تیر ہم سے روک لے یہاں تک ہم تیرے ساتھ گفتگو کرلیں۔ پس ابو سفیان اس کے پاس آیا اور کہاــــ: بیشک تو نے کچھ نہیں کیا، تو لوگوں کے سامنے ایک عورت کے ساتھ نکلا ہے، حالانکہ تو ہماری اس مصیبت کو جانتا ہے جو بدر کے مقام پر ہمیں پہنچی پس عرب یہ گمان کرتے ہیں اور ہم یہ گفتگو کرتے ہیں کہ یہ ہماری طرف سے کمزوری اور ضعف ہے کہ تو ہمارے درمیان سے لوگوں کے سامنے ان کی بیٹی کو ساتھ لے کر ان کی طرف نکلے۔ تو اس عورت کے لے کر واپس لوٹ جا اور چند دن یہی قیام کرو، پھر رات کے وقت آہستہ آہستہ ساتھ لے کر چلے جائو اور اس کے باپ کے پاس پہنچادو۔ پس مجھے اپنی عمر کی قسم ! ہمیں اسے اپنے باپ سے روکنے کی کوئی حاجت نہیں اور ہمارے لیے اب اس بارے میں تکلیف کے وہ جذبات بھڑکے ہوئے ہیں جو ہمیں پہنچی ہے۔ پس اس نے ایسا کرلیا، پس جب دو دن یا تین دن اسی طرح گزر گئے تو وہ ان کے ساتھ چل پڑا۔ پس میں چلتی رہی یہاں تک کہ میں رسول ﷺ کے پاس پہنچ گئی۔ اور یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جب ہبار بن ام درہم نے انہیں خوفزدہ کیا تو جو خوف اور ڈر آپ کو لاحق ہوا اس کی وجہ سے وہ حمل ساقط ہوگیا جو آپ کے پیٹ میں تھا۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : مشرکین میں سے جب لوگوں کو قیدی بنایا گیا تو ان میں سے ایک گروہ نے اسلام لانے کی گفتگو کی اور اس بارے میں وہ پر عزم نہ تھے اور نہ ہی اس بارے انہوں نے اعتراف یقینی کیا۔ اور شبہ یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے قریب ہونے کا ارادہ کیا اور مشرکین سے دور نہ ہوئے۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : اگر کوئی کافر دل اور زبان سے ایمان کے بارے کلام کرے اور اس میں اسے عزیمت نہ ہو تو وہ مومن نہیں۔ اور جب اس کی مثل صورت مومن سے پائی جائے تو وہ کافر ہوجائے گا، مگر یہ کہ وہ ایسا وسوسہ ہو جس کو روکنے پر وہ قادر نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا ہے اور اسے ساقط کردیا ہے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول معظم ﷺ کے لیے اس حقیقت کو بیان کیا ہے اور فرمایا ہے : وان یریدواخیانتک یعنی اگر ان کی طرف سے قول بطور خیانت اور مکر ہے۔ فقدخانو اللہ من قبل تحقیق انہوں نے اس قبل کفر کے ساتھ اور آپ کے ساتھ اپنے مکر اور آپ کے ساتھ قتال کرکے اللہ تعالیٰ سے خیانت کی ہے اور اگر ان کی طرف سے یہ قول خبر ہے اور اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے تو وہ اسے قبول کرلے گا اور انہیں اس سے بہتر عوض عطا فرمائے گا جو ان سے نکلا ہے ان کے سابقہ گناہ، ان کی کفر، ان کی خیانت اور ان کا مکر سبھی بخش دے گا (1) ۔ اور خیانۃ کی جمع خیائن ہے۔ اور واجب تھا کہ یہ کہا جاتا : خوائن کیونکہ یہ وادی الفاظ میں سے ہے، مگر انہوں نے اس کے اور خائنۃ کی جمع کے درمیان فرق کیا ہے۔ اور کہا جاتا ہے : خائن و خوان و خونۃ و خانۃ۔