Ayah 8:11آیت نمبر : 11
قولہ تعالیٰ : آیت : اذیغشیکم النعاس اس میں دو مفعول ہیں۔ اور یہ اہل مدینہ کی قراءت ہے اور یہی اچھی ہے، کیونکہ اس میں فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اس کا ذکر پہلے آیت : وما النصر الا من عند اللہ ( آل عمران : 126) کے تحت گزر چکا ہے۔ اور اس لیے بھی کہ اس کے بعد آیت : وینزل علیکم ہے اور اس میں فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ پس اس طرح اغشاء کی نسبت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے گی تاکہ کلام باہم متوافق اور متشاکل ہوجائے۔ ابن کثیر اور ابو عمرو نے یغشاکم النعاس پڑھا ہے یعنی فعل کی نسبت نعاس کی طرف کی ہے۔ اس کی دلیل آیت : امنۃ نعاسا یغشی ( آل عمران : 154) ہے اس کی قراءت کے مطابق جس نے یا یا تا کے ساتھ قراءت کی ہے۔ پس انہوں نے فعل کی اجافت نعاس کی طرف کی ہے یا امنتۃ کی طرف۔ اور الامنۃ ھی نعاس ( غنودگی) ہے، پس یہ خبر دی کہ غنودگی وہی ہے جو حق کو ڈھانپ لیتی ہے اور باقیوں نے یغشیکم غین کے یا کے ضمہ فتحہ اور شین کی شد کے ساتھ قراءت کی ہے اور النعاس حضرت نافع کی قراءت کے مطابق نصب کے ساتھ ہے، دو لغتیں غشی اور اغشی کے معنی کے مطابق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا آیت : فاغشینھم (یاسین : 9) اور میزید فرمایا : آیت : فغشھا ما غشی (النجم) اور میز ید فرمایا : آیت : کا نما اغشیت وجوھم (یونس : 27) مکی نے کہا ہے : پسندیدہ قراءت یا کے ضمہ، تشدید اور نعاس کی نصب ہے، کیونکہ اس کے بعد امنۃ منہ ہے اور منہ میں باء ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، پس وہی وہ ہے جو لوگوں کو غنودگی کے ساتھ ڈھانپ دیتا ہے۔ اور اس لیے بھی کہ اکثر قراء اسی پر ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ امنۃ من العدو ہے ( یعنی با ضمیر کا مرجع عدو ہیں)
اور امنۃ مفعول من اجلہ ہے یا مصدر ہے، کہا جاتا ہے : امن امنۃ وامناوامانا یہ سب برابر ہیں۔ اور نعاس (غنودگی اور نیند) اس امن والے کی حالت ہے جسے کوئی خوف نہیں ہوتا۔ اور یہ غنودگی اس رات میں طاری ہوئی جس کی صبح کو جنگ تھی، پس یہ نیند بھی عجیب تھی کہ اس کے باوجود کہ ان کے سامنے ایک اہم ترین اور مشکل میں ڈال دینے والا امر تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو مربوط اور پر سکون کردیا۔ حضرت علی ؓ سے روایب ہے انہوں نے کہا : ہم میں حضرت مقدار ؓ کے سوا بدر کے دن کوئی گھوڑ سوار نہ تھا، وہ ابلق گھوڑے پر سوار تھے اور میں نے دیکھا کہ ہم میں رسول اللہ ﷺ کے سوا ہر کوئی سو رہا ہے، آپ ﷺ درخت کے نیچے نماز پڑھتے رہے اور روتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی، اسے بیہقی نے ذکر کیا ہے۔
ماوری (تفسیر ماوردی، صفحہ 299) نے کہا ہے : اس رات نیند کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے انہیں راحت و سکون پہنچانے کی دو وجہ تھیں : ان میں ایک یہ تھی کہ انہیں صبح کی جنگ کے لیے راحت اور سکون پہنچا کر طاقتور اور قوی بنانا تھا۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ان کے دلوں سے رعب زائل کر کے انہیں امن اور سکون پہنچانا تھا، جیسے کہا جاتا ہے : امن سلا دیتا ہے اور خوف جگا دیتا ہے۔ الامن منیم والخوف مسھر اور یہ بھی کہا گیا ہے : اللہ کریم نے انہیں دو لشکروں کے ملنے کی حالت میں ( مراد حالت جنگ) انہیں ڈھانپ دیا۔ اور اس کی مثل گفتگو غزوہ احد کے بیان میں سورة آل عمران میں گزر چکی ہے۔
قولہ تعالیٰ : آیت : وینزل علیکم من السماء ماء لیطھرکم بہ ویذھب عنکم رجز الشیطن ولیربط علی قلوبکم ویثبت بہ الاقدام ظاہر قرآن اس پر دلالت کرتا ہے کہ غنودگی بارش سے پہلے طاری ہوئی۔ اور ابن ابی نجیح نے کہا ہے : بارش نیند سے پہلے ہوئی۔ زجاج نے بیان کیا ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 500) کہ کفار بدر کے دن مومنین سے پہلے بدر کے پانی کے پاس پہنچ گئے اور انہوں نے وہیں پڑاؤ ڈالا۔ اور مومنین اس حال میں باقی رہ گئے کہ ان کے لیے کوئی پانی نہ تھا، پس ان کے نفوس گھبرا گئے اور وہ پیاس محسوس کرنے لگے اور جنبی ہوئے اور وہ اسی طرح نمازیں پڑھنے لگے۔ تو بعض نے اپنے دلوں میں شیطان کے وسوسے ڈالنے کے سبب کہا : ہم گمان کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں اور ہم میں اس کے رسول ﷺ موجود ہیں اور ہماری حالت یہ ہے اور مشرکین پانی پر قابض ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے سترہ رمضان المابرک غزوہ بدر کی رات اتنی بارش برسائی یہاں تک کہ وادیاں بھر کر بہنے لگئٰں۔ اور انہوں نے جی بھر کر پانی پیا، غسل اور طہارت کا اہتمام کیا اور اپنے اونٹوں کو خوب سیراب کیا۔ اور ان کے اور مشرکین کے درمیان جو ریت اور دلدل تھی وہ خوب جم گئی، یہاں تک کہ جنگ کے وقت اس میں مسلمانوں کے پاؤں خوب جمے رہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک یہ احوال ان کے بدر پہنچنے سے پہلے تھے۔ اور یہی اصح ہے۔
اور یہی وہ ہے جسے ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں اور دوسروں نے بھی ذکر کیا ہے۔ اور یہ اس کا خلاصہ ہے : حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا : جب رسول اللہ ﷺ کو ابو سفیان کے بارے خبر دی گئی کہ وہ شام سے آرہا ہے آپ ﷺ نے مسلمانوں کو ان کی طرف ابھارا اور فرمایا :” یہ قریش کا قافلہ ہے اس میں وافر اموال ہیں پس تم ان کی طرف نکلو شاید اللہ تعالیٰ یہ اموال تمہیں بطور غنیمت عطا فرما دے “۔ حضرت ابن عباس رضٰی اللہ عنہما فرماتے ہیں : پس آپ ﷺ کے ساتھ ایک تھوڑی سی جماعت اٹھی اور قوم نے بوجھ محسوس کیا اور نکلنا ناپسند کیا اور رسول اللہ ﷺ نے بہت تیزی کی آپ ﷺ نہ اس کی طرف متوجہ ہوئے جس نے کوئی عذر پیش کیا اور نہ اس کا انتظار کیا جس کا اونٹ غائب تھا، پس آپ ﷺ مہاجرین وانصار میں سے تین سو تیرہ اصحاب کو ساتھ لے کر چل پڑھ۔ اور بخاری میں حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا : بدر کے دن مہاجرین کی تعداد اسی سے کچھ زائد تھی۔ اور انصار کی تعداد دو سو چالیس سے کچھ اوپر تھی۔ اور امام بخاری (رح) نے آپ ہی سے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ ہم گفتگو کرتے تھے کہ حضور نبی مکرم ﷺ کے اصھاب کی تعداد تین سو دس سے کچھ زائد تھی اور یہ طالوت کے ان ساتھیوں کی تعداد کے برابر تھی جنہوں نے اس کے ساتھ دریا عبور کرلیا تھا اور اس کے ساتھ سوائے مومن کے کسی نے عبور نہیں کیا تھا۔ علامہ بیہقی (رح) نے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : پس ہم بدر کی طرف نکلے، جب ہم نے ایک یا دو دن کا سفر کرلیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم ارشاد فرمایا کہ ہم اپنی تعداد شمار کریں چناچہ ہم نے ایسا کہا تو ہم تین سو تیرہ افراد تھے، ہم نے اپنی تعداد کے بارے میں حضور نبی مکرم ﷺ کو عرض کیا تو آپ اس پر بہت خوش ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و چنا بیان کی اور فرمایا : ” یہ اصحاب طالوت کی تعداد تھی “ (صحیح بخاری، کتاب المغازی، جلد 2 صفھہ 564 ) ۔
ابن اسحاق نے کہا ہے : ان تمام لوگوں کا گمان یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ جنگ نہیں لڑیں گے پس انہوں نے زیادہ تیاری نہ کی۔ اور ابو سفیان جس وقت حجاز کے قریب پہنچا تو وہ خبریں لینے لگا اور جس سوار سے ملاقات ہوتی اس سے حالات کے بارے پوچھتا، کیونکہ اسے لوگوں کے مال پر خوف لاحق ہوگیا تھا، یہاں تک کہ بعض سواروں سے اسے یہ خبر پہنچی کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے تمہارے لیے لوگوں کو جمع کیا ہے ( اور جنگ پر ابھارا ہے) تو وہ اس سے ڈر گیا اور اس نے ضمضم بن عرو غفاری کو اجرت پر لیا اور اسے مکہ بھیجا اور اسے یہ حکم دیا کہ وہ قریش کے پاس جائے اور نہیں اپنے اموال ( کی حفاظت) کے لیے جمع کرے اور انہیں یہ خبر دے کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب کے ہمراہ اس کے لیے رکاوٹ ہیں۔ پس ضمضم نے ایسا ہی کیا۔ تو اہل مکہ ایک ہزار یا اسی طرح کی تعداد میں نکلے اور حضور نبی مکرم ﷺ اپنے اصھاب کے ہمراہ نکلے۔ اور آپ ﷺ کو قریش کے بارے خبر موصول ہوئی کہ وہ اپنے قافلے کی حفاظت کے لیے نکل پڑے ہیں۔ تب حضور نبی مکرم ﷺ نے لوگوں سے مشورہ کیا، پس حضرت ابوبکر صدیق ؓ کھڑے ہوئے اور بہت اچھی گفتگو کی، پھر حضرت عمر فاروق اعظم ؓ اٹھے اور آپ نے بھی انتہائی خوبصورت گفتگو کی، پھر حضرت مقداد بن عمرو ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ آپ وہ کیجئے جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم فرمایا ہے، ہم آپ کے ساتھ ہیں، قسم بخدا ہم اس طرح نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے کہا : آیت : فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون ( المائدہ) ( پس جاؤ تم اور تمہارا رب اور دونوں لڑو ( ان سے) ہم تو یہاں ہی بیٹھیں گے)
ولکن اذھب انت وربک فقاتلا انا معکم مقاتلون ( بلکہ آپ چلیں اور آپ کا رب اور دونوں جنگ لڑیں بلاشبہ ہم تمہاے ساتھ مل کر جنگ لڑیں گے) اور قسم ہے اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے آپ برک الغماد یعنی شہر حبشہ تک چلیں، ہم وہاں تک تمہاری معیت میں لڑیں گے۔ رسول اللہ ﷺ اس سے بہت خوش ہوئے اور نہیں دعا خیر سے نوازا۔ پھر ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! مجھے مشورہ دو “۔ آپ کی مراد انصار تھے۔ اس لیے کہ وہی لوگ زیادہ تعداد میں تھے اور انہوں نے جس وقت عقبہ پر آپ کی بیعت کی تھی تو عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ بیشک ہم آپ کی حفاظت اور ذمہ سے بری ہیں یہاں تک کہ آپ ہمارے شہر میں تشریف لے آئیں۔ پس جب آپ ہمارے پاس تشریف لے آئیں گے تو آپ ہماری ذمہ داری میں ہوں گے۔ ہم آپ کی ہر اس شے سے حفاظت کریں گے جس سے ہم اپنی، اپنی اولاد، اور اپنی عورتوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
پس رسول اللہ ﷺ یہ خوف محسوس فرما رہے تھے کہ انصار یہ رائے نہ رکھتے ہوں کہ ان پر آپ ﷺ کی مدد و نصرت کرنا صرف مدینہ طیبہ میں لازم ہے اور ان پر یہ لازم نہیں کہ آپ نہیں ساتھ لے کر ان کے شہروں سے باہر دشمن کی طرف چل پڑیں۔ پس جب رسول اللہ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تو ان میں سے حضرت سعد بن معاذ ؓ اور بعض نے کہا ہے : کہ حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے گفتگو کی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس دن ان دونوں نے گفتگو کی ہو۔ عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا آپ ہم گروہ انصار کا ارادہ فرما رہے ہیں ؟ تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” ہاں “۔ تو انہوں نے عرض کی : بیشک ہم آپ ﷺ کے ساتھ ایمان لائے اور ہم نے آپ کی اتباع اور پیروی کی، آپ وہ کیجئے جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم فرمایا ہے قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ! اگر آپ ہمیں اس سمندر تک لے چلیں اور پھر آپ اس میں کود جائیں تو یقینا ہم آپ کے ساتھ اس میں کود جائیں گے۔ تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : امضوا علی برکۃ اللہ فکانی انظر الی مصرع القوم ( تم اللہ تعالیٰ کی برکت کے ساتھ چلو گویا میں قوم کے گرنے کی جگہوں کی طرف دیکھ رہا ہوں)
پس رسول اللہ ﷺ چل پڑے اور بدر کے پانی تک قریش سے پہلے جا پہنچے۔ اور قریش کو پہلے پہنچنے سے اس موسلا دھار بارش نے روکا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل فرمائی اور مسلمانوں پر صرف اتنی مقدار میں برسی جس نے ان کے لیے وادی کی نرم ریت کو سخت اور مضبوط کردیا اور چلنے میں ان کی معاون ثابت ہوئی۔ الدھس سے مراد ایسی نرم ریت ہے جس میں پاؤں دھنس جاتے ہوں۔ آپ ﷺ بدر کے پانیوں میں سے مدینہ طیبہ کی جانب قریب تر پانی کے پاس اتر پڑے۔ تو حضرت حباب بن منذر بن عمرو بن جموح نے اس کے سوا کی طرف اشارہ کیا اور آپ سے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ اس منزل کے بارے آپ کی کیا رائے ہے، کیا یہ ایسی منزل ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اترنے کا حکم فرمایا اور ہمارے لیے اس جگہ سے آگے پیچھے ہونا جائز نہیں یا پھر یہ رائے اور جنگی چال ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” (نہیں) بلکہ یہ رائے، جنگ اور تدبیر ہے “۔ تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ، بلاشبہ یہ آپ کے لیے اترنے کی جگہ مناسب اور موزوں نہیں ہے، پس ہمیں اٹھا کر اس قوم کے قریب تر پانی کے پاس لے چلیں ہم وہاں پڑاؤ ڈالیں گے اور اس کے پیچھے جو کنویں ہیں ہم انہیں بند کردیں گے، پھر ہم وہاں حوض بنا لیں گے اور اسے پانی سے بھر دیں گے نتجۃ ہم پانی پئیں گے اور وہ نہیں پی سکیں گے۔
حضور نبی رحمت ﷺ نے ان کی اس رائے کو مستحسن قرار دیا اور اسی کے مطابق عمل کیا۔ پھر دشمن سے مقابلہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ اور مسلمانوں کی مدد اور نصرت فرمائی، آپ نے ستر مشرکیں کو قتل کیا اور ان میں سے ستر کو قیدی بنا لیا اور ان سے مومنین کا انتقام لیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول معظم ﷺ کے سینہ مبارک اور آپ کے صحابہ کرام کے سینوں کو ان کے غیظ وغضب سے شفا عطا فرمائی۔ (اور انہیں ٹھنڈا کیا)
اور اسی بارے حضرت حسان ؓ کہتے ہیں :۔
عرفت دیار زینب بالکثیب کخط الوحی فی الورق القشیب
میں نے ٹیلے پر زینب کھ گھر کو اس طرح پہنچان لیا جس طرح بوسیدہ کاغذ پر تحریر کے خط کو پہچان لیا جاتا ہے۔
تداولھا الریاح وکل جون من الوسمی منھمر سکوب
ان گھروں پر ہوائیں چلتی ہیں اور موسم بہار کا ہر سیاہ بادل لگاتار اور موسلا دھار برستا ہے۔
فامسی ربعھا خلقا وامست یبابا بعد ساکنھا الحبیب
پس ان کے نشان بوسیدہ ہوگئے اور وہ اجڑے پڑے ہیں جب کہ پہلے کبھی وہاں محبوب رہتا تھا۔
فدع عنک التذکر کل یوم ورد حرارۃ الصدر الکئیب
تو پر روز ام کو یاد کرنا چھوڑ دے اور اپنے غمزدہ سینے کی حرارت کو ختم کر دے۔
وخبر بالذی لا یعب فیہ بصدق غیر اخبار الکذوب
اور ان جھوٹے قصوں کی اخبار کو چھوڑ کر اسی سچی بات کی خبر دے جس کے سنانے میں کوئی حرج نہیں۔
بما صنع الالہ غداۃ بدر لنا فی المشرکین من النصیب
سنا کہ خداوند (مقتدر) نے ہمیں بدر کے دن مشرکین پر کامیابی عطا فرمائی
غداۃ کان جمعھم حرائ بدت ارکانہ جنح الغروب
وہ دن جب ان کا گروہ کوہ حرا کی طرح معلوم ہوتا تھا لیکن ان کی بنیادیں زوال کے وقت جھک گئیں۔
فلا قیناھم منا بجمع کا سد الغاب مردان وشیب
ہم نے ایک ایسی جماعت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا جس کے بوڑھے اور جوان سب جنگل کے شیر تھے۔
امام محمد قد وازروہ علی الاعداء فی لفح الحروب
وہ جماعت سیدنا محمد ﷺ کے سامنے تھی جس نے جنگ کی لپیٹ میں آپ ﷺ کی حفاظت کی۔
بایدیھم صوارم مرھفات وکل مجرب خاطی الکعوب
ان کے ہاتھوں میں پتلی اور تیز دھار والی تلواریں اور موٹی موٹی گرہوں والے آزمودہ نیزے تھے۔
بنو الاوس الغطارف وازر تھا بنو النجار فی الدین الصلیب
وہ سرداران بنو اوس تھے جنہیں دین محکم میں بنو نجار نے مدد دی تھی۔
فغادرنا ابا جھل صریعا وعتبۃ قد ترکنا بالجبوب
پس ہم نے ابو جہل کو پچھاڑا ہوا اور عتبہ کو سخت زمین پر پڑا ہوا چھوڑا۔
وشیبۃ قد ترکنا فی رجال ذوی حسب اذا نسبوا حسیب
اور شیبہ کو ایسے لوگوں میں چھوڑا جن کے نسب جب بیان کیے جائیں تو وہ بڑے نسب والے نکلیں۔
ینادیھم رسول اللہ لما قذفناھم کباکب فی القلیب
جب ہم نے انہیں جھتوں کی صورت میں کنویں میں ڈالا تو رسول اللہ ﷺ انہیں ندا دے رہے تھے۔
الم تجدوا کلامی کان حقا وامر اللہ یاخذ بالقلوب
کیا تم نے نہیں پایا کہ میرے بات سچ تھی اور اللہ کا حکم دلوں کو ( بھی) پکڑ لیتا ہے۔
فما نطقوا ولو نطقوا لقالوا اصبت وکنت ذار ای مصیب
وہ کچھ نہ بولے اور اگر وہ بولتے تو کہتے کہ آپ نے سچ کہا تھا اور آپ ہی صحیح رائے والے تھے۔
اور یہاں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
امام مالک (رح) نے بیان کیا ہے : مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے حضور نبی کریم ﷺ سے پوچھا : تم میں اہل بدر کیسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ ہم میں انتہائی عظیم اور اچھے لوگ ہیں “۔ تو انہوں نے کہا : ” بلاشبہ وہ ہمارے درمیان بھی اسی طرح ہیں “ (صحیح مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا، جلد 2، صفحہ 387) ۔ تو یہ اس بات پر دلیل ہے کہ مخلوقات کا شرف و عظمت ان کی ذاتوں کے سبب نہیں ہوتا، بلکہ ان کے افعال کے سبب ہوتا ہے۔ پس ملائکہ کے افعال شریفہ دائمہ تسبیح وتحمید پر مواظبت اختیار کرنا ہے۔ اور ہم اورے افعال کا شرف اطاعت و بندگی میں اخلاص پیدا کرنے کے ساتھ ہے۔ اور طاعات کی افضیلت شریعت کے انہیں فضیلت دینے کے ستھ ہے اور ان میں سب سے افضل جہاد ہے اور افضل ترین جہاد یوم بدر ہے، کیونکہ اسلام کی بنیاد (اور مضبوطی) اسی پر ہے۔
مسئلہ نمبر 2 :
حضور نبی مکرم ﷺ کا قافلہ کی راہ روکنے کے لیے نکلنا اس پر دلیل ہے کہ مال غنیمت کے حصول کے لیے لشکر لے کر نکلنا جائز ہے، کیونکہ یہ کسب حلال ہے۔ اور یہ اسے رد کرتا ہے جسے امام مالک (رح) نے مروہ قرار دیا ہے، جب کہ انہوں نے کہا ہے : یہ جنگ دنیا کے حصول کے لیے ہے۔ اور یہ جو روایت ہے کہ جس نے اس لیے قتال کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑنے والا ہے اور یہ اس کے سوا ہے جو مال غنیمت کے حصول کے لیے قتال کرتا ہے، تو اس سے مراد یہ ہے کہ جب اس کا قصد اور ارادہ صرف یہی ہوا اور اس میں دین کا کوئی حصہ نہ ہو۔ حضرت عکرمہ (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے فرمایا : جب حضور نبی مکرم ﷺ غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے (صحابہ کرام) نے آپ ﷺ سے عرض کی : آپ پر قافلے کو پکڑنا لازم ہے، اس کے سوا کوئی شے نہیں۔ تو عباس نے انہیں ندا کہا : کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں میں سے ایک کا آپ کے ساتھ وعدہ فرمایا، تحقیق اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ عطا فرما دیا ہے جس کا اس نے آپ سے وعدہ فرمایا۔ تو حضور نبی کرم ﷺ نے فرمایا : ” تم نے سچ کہا ہے “ (صحیح بخاری، کتاب المغازی، جلد 2، صفحہ 569) اور حضرت عباس کو اس کا علم حضور نبی ﷺ کے اصحاب کی باتوں سے اور جو بدر کا معاملہ ہوا اس سے ہوا۔ پس انہوں نے اسے دوران گفتگو سناج۔
مسئلہ نمبر : 3
مسلم نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن تک مقتولین کی بدر کو چھوڑے رکھا، پھر آپ ﷺ ان کے قریب کھڑے ہوئے اور انہیں ندا دی اور فرمایا :” اے ابا جہل بن ہشام، اے امیہ بن خلف، اے عتبہ بن ربیہ، اے شیبہ بن ربیعہ کیا تم نے اسے سچ نہیں پایا جو تمہارے رب نے وعدہ کا بلاشبہ میں نے اسے سچ پا لیا ہے جو میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا الیس قد وجدتم ما وعد ربکم حقا فانی قدوجدت ما وعدنی ربی حقا (جامع ترمذی، ابواب التفسیر، سورة انفال، جلد 2، صفحہ 134) پس حضرت عمر ؓ نے حضور نبی مکرم ﷺ کا یہ قول سنا تو عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ وہ کیسے سن سکتے ہیں اور وہ کیونکر جواب دے سکتے ہیں حالانکہ وہ مردار ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :
والذی نفسی بیدہ ما انتم باسمع لما اقول منھم ولکنھم لا یقدرون ان یجیبوا ( قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! میرا قول تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے لیکن وہ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے)
بعد ازاں آپ ﷺ نے ان کے بارے حکم دیا پس انہیں گھسیٹا گیا اور انہیں بدر کے کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔ جیفواجیم اور یا کے فتحہ کے ساتھ ہے اور اس کا معنی ہے وہ بدبودار ہوگئے اور مردار بن گئے۔ اور حضرت عمر ؓ کا قول : یسمعون کا اطلاق اس پر بعید ہے جس کے مطابق عادت جاریہ ہے۔ تو حضور نبی مکرم ﷺ نے انہیں جواب دیا کہ وہ زندوں کے سننے کی طرح سن رہے ہیں۔ اور اس میں اس پر دلیل ہے کہ موت نہ عدم محض ہے اور نہ صرف فنا ہے۔ بلکہ یہ تو روح کے تعلق کا بدن سے منقطع ہونا اور اس سے جدا ہونا ہے اور یہ ان دونوں کے درمیان حائل ہونے والی ہے۔ اور حالت کا تبدیل ہونا اور ایک دار سے دوسرے دار کی طرف منقتل ہونا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان المیت اذا وضع فی قبرہ وتولی عنہ اصحابہ انہ یسمع قرع نعالھم، الھدیث (صحیح مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا، جلد 2، صفحہ 386) ( بیشک میت کو جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے واپس آتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز کو سنتا ہے) اخرجہ الصحیح۔
قولہ تعالیٰ : آیت : ویثبت بہ الاقدام اس میں بہ میں ضمیر اس پانی کی طرف لوٹ رہی ہے جس نے وادی کی نرم ریت کو سخت کردیا، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ربط القلوب ( دلوں کو مضبوط کرنا) کی طرف لوٹ رہی ہے۔ پس تثبیت الاقدام سے مراد میدان جنگ میں مدد ونصرت کا حاصل ہونا ہے۔
Ayah 8:12آیت نمبر : 12
قولہ تعالیٰ : آیت : اذ یوحی ربک الی الملئکۃ انی معکم، اذ میں عامل یثبت ہے یعنی یثبت بہ الاقدام ذالک لوقت ( وہ اس وقت اس کے ساتھ قدموں کو جما دے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عامل لیریط ہے ای ولیربط اذ یوحی ( اور تاکہ مضبوط کر دے (دلوں کو) جب اس نے وحی فرمائی) اور تقدیر عبارت ہوگئی : اذکر (یاد کرو) اور آیت : اذ یوحی ربک الی الملئکۃ انی معکم محل نصب میں ہے اور معنی ہے بانی معکم یعنی مدد ونصرت کے ساتھ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ معکم عین کے فتحہ کے ساتھ ظرف ہے اور جنہوں نے اسے ساکن پڑھا ہے ان کے نزدیک یہ حرف ہے۔ آیت : فثبتوا الذین امنوا یعنی تم انہیں بشارت دو مدد ونصرت کی یا ان کے ساتھ مل کر جنگ کرنے کی یا بغیر جنگ کے ان کے ساتھ حاضر رہنے کی، پس فرشتہ صت کے آگے آدمی کی صورت میں چلتا رہا اور یہ کہتا رہا : چلو بیشک اللہ تعالیٰ تمہارا معاون و مددگار ہے۔ اور مسلمان یہ گمان کرتے رہے کہ وہ ان میں سے ہے۔ تحقیق آل عمران میں یہ گزر چکا ہے کہ ملائکہ نے اس دن قتال کیا۔ پس انہوں نے کئی سروں کو گردنوں سے الگ ہوتے دیکھا اس کے بغیر کہ کوئی ظاہر مانے والے نہیں ضرب لگاتے، بعض نے کہنے والے کو سنا کہ اس کا یہ قول سنائی دے رہا ہے لیکن اس کا سراپا نظر نہیں آرہا۔ اقدم حیزوم ( حیزوم آگے بڑھو) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس تثبیت (ثابت قدمی) سے مراد رسول اللہ ﷺ کا مومنین کی مدد کے لے فرشتوں کے نازل ہونے کا ذکر کرنا ہے۔
قولہ تعالیٰ : آیت : سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب اس کا بیان پہلے سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ آیت : فاضربوافوق الاعناق یہ امر (حکم) ملائکہ کو ہے اور بعض نے کہا ہے کہ امر مومنین کے لیے ہے۔ یعنی اضربوا الاعناق ( تم گردنیں مار دو یعنی قتل کرو) اور لفظ فوق زائدہ ہے۔ یہ اخفش، ضحاک اور عطیہ نے کہا ہے۔ اور مسعودی نے روایب کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ میں اس لیے نہیں مبعوث کیا گیا کہ میں اللہ تعالیٰ کا عذاب دوں بلکہ مجھے تو گردونوں کو مانرے اور بیڑیاں باندھنے کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ انی لم ابعث لاعذب بعذاب اللہ ونما بعثت بضرب الرقاب وشد الوثاق (کنزالعمال، کتاب الحدودومحظوراتہ، جلد 5، صفحہ 393۔ حدیث نمبر 13391) اور محمد بن یزید نے کہا ہے : یہ خطا ہے، کیونکہ فوق معنی کا فائدہ دے رہا ہے پس اسے زائدہ بنانا جائز نہیں ہے۔ البتہ معنی یہ ہے کہ ان کے لیے چہروں اور ان کے قریبی اعضاء پر مارنے کو مباح قرار دیا گیا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : اس سے مراد ہر سر اور کھوپڑی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد گردنوں سے اوپر والا حصہ ہے اور وہ سر ہیں۔ یہ عکرمہ نے کہا ہے ( تفسیر طبری، سورة انفال، جلد 9، صفحہ 234، دار احیاء التراث العربیہ) ۔ اور سر پر ضرب لگانا زیادہ بلیغ ہے، کیونکہ ادنی شے بھی دماغ میں اثر کر جاتی ہے۔ اور اس معنی میں سے کچھ سورة النساء میں گزر چکا ہے۔ اور یہ کو فوق زائدہ نہیں ہے۔ یعنی قول باری تعالیٰ : آیت : فوق اتنتین (النسائ : 11) کے تحت یہ معنی گزر چکا ہے۔ آیت : واضربوا منھم کل بنان زجاج نے کہا ہے : بنان کی واحد بنانۃ ہے اور یہاں ان سے مراد انگلیاں اور ان کے علاوہ دیگر اعضاء ہیں۔ اور البنان ان کے اس قول سے مشتق ہے : ابن الرجل بالمکان ( جب کوئی آدمی کسی جگہ مقیم ہوجائے تب یہ جملہ کہا جاتا ہے) پس بنان کا لفظ ہر اس شے کے لیے بولا جاتا ہے جو اقامت اور حیات کے لیے ہوتی ہے۔
اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہاں بنان سے مراد دونوں ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے پورے ہیں (تفسیر طبری، سورة انفال، جلد 9، صفحہ 235، دار احیاء التراث العربیہ) ۔ اور یہ جنگ میں ثابت رہنے اور محل ضرب سے عبارت ہے، کیونکہ جب پوروں پر ضرب لگائی جائے تو مضروب لڑنے کے قابل نہیں رہتا بخلاف دیگر تمام اعجاء کے ( کہ ان پر ضرب لگنے کے باوجود جنگ جاری رکھ سکتا ہے)
جیسا کہ عنترہ نے کہا ہے :
وکان فتی الھیجاء یحمی ذمارھا ویضرب عند الکرب کل بنان
اس سے مراد انگلیوں کے پورے ہیں
اور عنترہ کے قول میں بنان بمعنی انگلیاں بھی ہیں :
وان الموت طوع یدی اذا ما وصلت بنانھا بالھندوانی
اور یہ معنی کہ بنان بمعنی انگلیاں عرب کے اشعار میں کثرت سے موجود ہے۔ ابن فارس نے کہا ہے : البنان سے مراد انگلیاں ہیں۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے : مراد انگلیوں کے پورے ہیں۔
اور بعض نے ذکر کیا ہے کہ ان کا نام بنان رکھا گیا ہے، کیونکہ ان کے ساتھ ان احوال کی اصلاح ہوتی ہے جن کے ساتھ انسان قرار حاصل کرتا ہے اور اقامت اختیار کرتا ہے۔ اور ضحاک (رح) نے کہا ہے : البنان سے مراد عضائے بدن کے تمام جوڑ ہیں (تفسیر طبری، سورة انفال، جلد 9، صفحہ 235) ۔
Ayahs 8:13–14آیت نمبر : 13۔ 14
قولہ تعالیٰ : آیت : ذلک بانھم شاقوا اللہ، ذلک یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے اور تقدیر کلام ہے : ذالک الامر، یا الامر ذالک ( یہ حکم اس لیے ہے) شاقوا اللہ یعنی انہوں نے اللہ کے اولیاء ( اور دوستوں) کی مخالفت کی ہے۔ اور الشقاق کا معنی ہر ایک کا مشقت میں پڑنا ہے ( یا ہر ایک کا ایک طرف اور کنارہ میں ہوجانا ہے) یہ معنی پہلے گزر چکا ہے۔ آیت : ذلکم فذوقوہ وان للکفرین عذاب النار زجاج نے کہا ہے : ذالکم، الآمر یا القصہ مضمر ماننے کے سب مرفوع ہے۔ یعنی الامر ذالکم فذوقوہ ( معاملہ اور قصہ یہ ہے پس چکھو اسے) اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ ذوقوا ( فعل کا مفعول ہونے) کے سبب محل نصب میں ہو، جیسے تمہارا یہ قول : زیدا فاضربہ۔ اور کلام کا معنی کافروں کو جھڑکنا اور زجر وتوبیخ کرنا ہے۔ اور وان، ذلکم پر معطوف ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔ فراء نے کہا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل نصب میں ہو بمعنی وبان للکافرین۔
انہوں نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ یہاں واعلموا ان مضمر مان لیا جائے۔ زجاج نے کہا ہے : اگر واعلموا کو مضمر ماننا جائز ہے تو پھر زید منطلق وعمرا جالسا بھی جائز ہے، بلکہ ابتداء میں زیدا منطلقا کہنا جائز ہو، کیونکہ خبر دینے والا معلم ہے اور نحویوں میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔
Ayahs 8:15–16آیت نمبر : 15۔ 16
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
قولہ تعالیٰ : آیت : زحفا، الزحف، الدنو قلیلا قلیلا یعنی اس کا معنی آہستہ آہستہ قریب ہونا، آگے بڑھنا، اور اس کا اصل معنی ہے الاندفاع علی الالیۃ ( سرین کے بل گھسٹ کر آگے بڑھنا) پھر جنگ میں آخر تک ہر چلنے والے کو زاحف کا نام دیا گیا ہے۔ اور التزاحف کا معنی ہے : باہم ایک دوسرے کے قریب ہونا۔ کہا جاتا ہے : زحف الی العدو زحفا ( وہ دشمن کی طرف انتہائی قریب ہوگیا) اور ازدحف القوم کا معنی ہے ان میں سے بعض بعض کی طرف چلے۔ اور اسی سے زحاف الشعر بھی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ دو حرفوں کے درمیان سے ایک حرف ساقط ہوجائے اور اس طرح ان میں سے ایک دوسرے کے قریب ہوجائے۔ پس رب کریم فرما رہا ہے : جب تم ایک دوسرے کے قریب ہوجاؤ اور ایک دوسرے کو دیکھنے لگو تو پھر تم ان سے مت بھاگو اور نہ تم ان کی طرف اپنی پیٹھیں کرو۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مومنوں پر اس وقت حرام قرار دیا جب ان پر جہاد اور کافروں کا قتال فرض کیا۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : ادبار، دبر کی جمع ہے۔ اس آیت میں لفظ دبر وضاحت کی قدرت رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ بھاگنے والے پر اظہار ناپسندیدگی کے لیے اور اس کی مذمت بیان کرنے کے لیے ہے (المحرر الوجیز، سورة انفال، جلد 2، صفحہ 510، دار الکتب العلمیہ ) ۔
مسئلہ نمبر : 2
اس آیت میں اللہ تعالیٰ عزوجل نے حکم دیا ہے کہ مومنین کفار کے سامنے پیٹھ نہ پھیریں اور یہ امر اس شرط کے ساتھ مقید ہے کہ مومنین کے مقابلے میں دشمن کی تعداد دو مثل تک ہو، پس مومنین کا لشکر مشرکین کے ایسے لشکر کے مقابلہ میں ہو جس کی تعداد مومنین سے دوگنا تک ہو تو پھر فرض ہے کہ وہ اس کے سامنے نہ بھاگئیں۔ پس جو کوئی دو کے مقابلے میں بھاگا تو وہ لشکر سے بھاگنے والا شمار ہوگا۔ اور جو کوئی تین کے مقابلہ سے بھاگا تو وہ لشکر وے بھاگنے والا نہ ہوگا، اور وعید اس کی طرف متوجہ نہ ہوگی۔ اور فرار گناہ کبیرہ ہے، ہلاک کرنے والا ہے۔ یہ ظاہر قرآن سے اور اکثر ائمہ کے اجماع سے ثابت ہے (المحرر الوجیز، سورة انفال، جلد 2، صفحہ 510، دار الکتب العلمیہ ) ۔ ایک جماعت ان میں سے ابن ماجشون ہیں ” الواضحہ “ میں کہا ہے : بیشک ضعف، قوت اور تعداد کی رعایت کی جائے گی، پس ان کے قول کے مطابق ایک سو گھڑ سوار کا ایک سو گھڑ سوار کے مقابلے سے بھاگنا بھی جائز ہے جب کہ انہیں یہ معلوم ہو کہ مشرکین کے پاس موجود قوت و طاقت ان کی قوت و طاقت سے کئی گنا ہے، لیکن جمہور کے قول کے مطابق ایک سو کا فرار اختیار کرنا حلال نہیں ہوگا مگر تبھی جب کفار کی تعداد دو سو سے زائد ہو، پس جب ایک مسلمان کے مقابلے میں دو سے زیادہ ہوں تو پھر پسپائی اختیار کرنا جائز ہوتا ہے، لیکن ڈٹ جانا اور استقامت اختیار کرنا احسان ہے۔ موتہ کی جنگ میں تین ہزار کا لشکر دو لاکھ کے مقابلے میں کھڑا رہا، ان میں سے ایک لاک رومی تھے اور ایک لاکھ لخم اور جذام کے مستعربہ تھے۔
میں (مفسر) کہتے ہوں : فتح اندلس کی تاریخ میں یہ موجود ہے کہ طارق مولیٰ موسیٰ بن نصیر سترہ سو افراد کے ساتھ لے کر اندلس کی طرف چلا اور یہ رجب 93 ھ کا واقعہ ہے، پس اس کا اور شاہ اندلس لڈریک کے درمیان مقابلہ ہوا اس کے ستر ہزار گھڑ سوا تھے۔ پس طارق نے اس کے ساتھ جنگ لڑی اور اس کے مقابلے میں ڈٹ گیا تو اللہ تعالیٰ نے لڈریک کی متکبر فوج کو شکست سے دوچار کیا اور طارق کو فتح و سرفرازی عطا فرمائی۔
ابن وہب نے کہا ہے : میں نے حضرت امام مالک (رح) سے سنا ان سے ایسی قوم کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا جو دشمن کے مقابلے میں ہوتے ہیں یا وہ کسی قلعے میں محصور اور محفوظ ہوتے ہیں پھر ان کا دشمن ان پر چڑھائی کردیتا ہے اور ان کی تعداد قلیل اور تھوڑی ہے، کیا وہ جنگ لڑیں گے یا پیٹھ پھیر کر واپس جائیں گے اور اپنے ساتھیوں کو اس بارے آگاہ کریں گے ؟ تو آپ نے فرمایا : اگر وہ جنگ لڑیں گے یا پیٹھ پھیر کر واپس جائیں گے اور اپنے ساتھیوں کو اس بارے آگاہ کریں گے ؟ تو آپ نے فرمایا : اگر وہ جنگ کرنے اور لڑنے کی قوت رکھتے ہوں تو وہ ان کے ساتھ قتال کریں گے، ورنہ وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ جائیں گے اور انہیں اس پر آگاہ کریں گے۔
مسئلہ نمبر 3 :
لوگوں کا اس بارے اختلاف ہے کہ کہا جنگ کے دوران فرار اختیار کرنا بدر کے دن کے ساتھ مخصوص ہے یا یہ حکم قیامت تک ہونے والی جنگوں کو عام ہے ؟ تو حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایب ہے کہ یہ حکم صرف یوم بدر کے ساتھ مخصوص ہے اور یہی قول نافع، حسن، قتادہ، یزید بن ابی حبیب اور ضحاک کا ہے (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 238) ۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہم نے بھی کہا ہے کہ یہ حکم اہل بدر کے ساتھ کا ص ہے، پس ان کے لیے پسپائی اختیار کرنا جائز نہیں اور اگر انہوں نے پسپائی اختیار کی تو یقینا انہوں نے مشرکین کے لیے پسپائی اختیار کی اور اس وقت ان کے سوا مسلمان نہ تھے اور نہ کوئی حضور نبی مکرم ﷺ کے سوا کوئی مسلمانوں کا لشکر تھا۔ تو رہا اس کے بعد کا زمانہ تو اس میں بعض دوسرے بعض کا لشکر تھے۔ ال کیا نے کہا ہے : یہ قول محل نظر ہے، کیونکہ مدینہ طیبہ میں بہت سے انصار تھے جنہیں حضور نبی مکرم ﷺ نے خروج کا حکم نہیں دیا تھا اور نہ ان کا خیال تھا کہ یہ جنگ ہوگی، بلکہ ان کا گمان تو یہ تھا کہ یہ ایک قافلہ ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ انہی لوگوں کے ہمراہ نکل پڑے جو قلیل تعداد میں آپ کے ساتھ تھے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر تمام علماء سے روایت ہے کہ اس آیت ( کا حکم) یوم قیامت تک باقی رہنے والا ہے (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 843، سورة انفال دار الفکر) ۔
اور پہلے گروہ نے اس سے استدلال کیا ہے جو ہم نے ذکر کردیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد یومئذ سے بھی اور کہا ہے : کہ یہ اشارہ یوم بدر کی طرف ہے اور یہ کہ آیت کا حکم آیۃ الضعف سے منسوخ ہے اور لشکر سے فرار کا حکم باقی ہے لیکن وہ گناہ کبیرہ نہیں ہے۔ تحقیق لوگ غزوہ احد کے دن بھاگتے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا اور غزوہ حنین کے دن ان کے بارے میں فرمایا : آیت : ثم ولیتم مدبرین (التوبہ) ( پھر تم مڑے پیٹھ پھیرتے ہوئے) اور اس پر کوئی عتاب واقع نہیں ہوا۔
اور جمہورعلماء نے کہا ہے : بلاشبہ یہ اس یوم الزحف کی طرف اشارہ ہے جسے قول باری تعالیٰ : آیت : اذا لقیتم متضمن ہے اور آیت کا حکم یوم قیامت تک باقی رہنے والا ہے بشرطیکہ تعداد اتنے گناہ موجود ہو جسے اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں بیان فرمایا ہے اور اس آیت میں نسخ نہیں ہے۔ اور اس پر دلیل یہ ہے کہ آیت، قتال کے بعد، جنگ کے ختم ہوجانے کے بعد اور جو کچھ اس دن میں ہوا اس کے ساتھ دن کے گزر جانے کے بعد نازل ہوئی۔ یہی موقف امامالک، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور اکثر علماء نے اختیار کیا ہے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے اجتناب کرو اور ان میں ایک والتولی یوم الزحف (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 64) ( میدان جہاد سے پیٹھ پھیرنا بھی ہے) اور یہ اس مسئلہ میں نص ہے۔ اور رہا احد کا دن ! تو بلاشبہ لوگ اپنے سے دو گناہ سے زیادہ لوگوں سے بھاگے اور اس کے باوجود ہلاکت اور مشقت میں پڑے۔ اور جہاں تک غزوہ حنین کا تعلق ہے تو اسی طرح اس میں بھی وہی بھاگا جسے کثرت اور زیادتی کا انکشاف ہوا، جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔
مسئلہ نمبر : 4
ابن القاسم نے کہا ہے : اس کی شہادت جائز نہیں ہوتی جو لشکر سے بھاگ آئے اور نہ ہی لشکریوں کے لیے فرار جائز ہوتا ہے اگرچہ ان کا امام (سالار) بھاگ جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ومن یولھم یومئذ دبرہ، الآیہ ( اور جو پھیرے گا ان کی طرف اس روز اپنی پیٹھ) فرمایا : اگر مقابل لشکر کی تعداد دوگنا سے زیادہ ہو تو پھر فرار جائز ہوتا ہے۔ اور یہ تب ہے جب مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تک نہ پہنچے اور اگر بارہ ہزار تک پہنچ جائے تو پھر ان کے لیے فرار جائز نہیں اگرچہ مشرکین کی تعداد دوگنا سے زائد ہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : ولن یغلب اثنا عشر الفا من قلۃ (مسند امام احمد بن حنبل، جلد 1، صفحہ 294) تعداد بارہ ہزار ہو تو اس پر قلت کے سبب ہر گز غلبہ نہیں پایا جاسکتا) اکثر اہل علم نے اس حدیث کے ساتھ آیت کے عموم میں سے اس عدد کو خاص کیا ہے۔
میں ( مفسر) کہتا ہوں : اس حدیث کو ابو البشر اور ابو سلمہ العاملی جو کہ حکم بن عبداللہ بن خطاف ہیں نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث متروک ہے۔ ان دونوں نے بیان کیا ہے : زہری نے حضرت انس بن مالک ؓ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ہمیں حدیث بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :” اے اکثم بن جون اپنی قوم کے سوا کے ساتھ مل کر جہاد کر وہ تیرے اخلاق کو اچھا کر دے گا اور اپنے دوستوں کے ساتھ کرم اور مہربانی کا سلوک کرو۔ اے اکثم بن جون بہترین دوست چار ہیں، ہر اول دستے کی بہترین وہ ہے جو چار ہزار سپاہیوں پر مشتمل ہو اور بارہ ہزار کو قلیل ہر گز قرار نہیں دیا جائے گا “ (کنز العمال، فی آداب الجہاد، جلد 4، صفحہ 359۔ 358 ) ۔ اور امام مالک (رح) سے جو روایت ہے وہ ان کے مذہب کے مطابق اس پر دلالت کرتی ہے اور وہ عمری العابد ( اس سے مراد عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیز بن عمر بن خطاب ہے یہ اپنے اہل زمانہ میں بہت زیادہ زاہد اور پرہیزگار تھے) کے لیے آپ کا قول ہے کہ جب انہوں نے آپ سے پوچھا : کیا آپ کے نزدیک اس کے خلاف جہاد ترک کرنے کی گنجائش ہے جو احکام کو بدل دے، ان میں تغیر پیدا کر دے ؟ تو آپ نے فرمایا : اگر تیرے ساتھ بارہ ہزار کا لشکر ہو تو پھر تیرے لیے اس میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر : 5
اگر کوئی میدان جہاد سے بھاگ جائے تو پھر اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے۔ امام ترمذی (رح) نے بلال بن یسار بن زید سے روایت نقل کی ہے انہوں نے کہا : مجھے میرے باپ نے میرے دادا سے حدیث بیان کی ہے انہوں نے حضور نبی رحمت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : من قال استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم واتوب الیہ غفر اللہ لہ وان کان قد فر من الزحف (جامع ترمذی، کتاب الدعوات، جلد 2، صفحہ 197، ایضا، سنن ابی داود، حدیث نمبر 1296، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ( جس کسی نے کہا ہے میں اس اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہون جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے سب کو زندہ رکھنے والا ہے اور میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں، توبہ کرتا ہوں، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا اگرچہ وہ لشکر سے بھاگا ہی ہو) فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ہم اسے نہیں پہنچانتے مگر صرف اسی سند سے۔
مسئلہ نمبر : 6
قولہ تعالیٰ : آیت : الا متحر فا لقتال او متحیزا الی فئۃ، التحرف کا معنی ہے جھۃ استواء سے زائل ہوجانا، سیدھی جہت سے ایک طرف ہوجانا، پس جنگی چال کے لیے ایک جانب سے دوسری جانب ہٹ جانے والا شکست خوردہ نہیں ہوتا، اسی طرح پلٹنے والا جب مسلمانوں کی جماعت کی طرف پلٹنے کی نیت کرے تاکہ وہ ان سے مدد طلب کرے اور پھر جنگ کی طرف لوٹ آئے وہ بھی شکست خوردہ نہیں ہوتا۔ ابو داؤد نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایب بیان کی ہے کہ آپ رسول اللہ ﷺ کے سرایا میں سے ایک سریہ میں تھے انہوں نے بیان کیا : پس لوگ اردگرد گھومنے لگے اور میں بھی ان اردگرد گھومنے والوں میں سے تھا ( مقصود راہ فرار کی تلاش تھی) وہ کہتے ہیں : جب ہم ظاہر ہوگئے، ہم نے کہا : ہم کیا کریں گے، حالانکہ ہم لشکر سے فرار ہیں اور ہم غضب کے ساتھ پلٹے بھی ہیں۔ تو ہم نے کہا : ہم مدینہ طیبہ میں داخل ہوں گے اور اسی میں ٹھہرے رہیں گے اور ہم چلے جائیں گے اور ہمیں کوئی بھی نہیں دیکھے گا۔ وہ فرماتے ہیں : پس ہم داخل ہوئے اور ہم نے کہا : اگر ہم اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ پر پیش کردیں۔ اگر تو ہمارے لیے توبہ ہوئی تو ٹھہر جائیں گے، وگرنہ ہم واپس چلے جائیں گے ( جنگ کی طرف لوٹ جائیں گے) فرماتے ہیں : پس ہم فجر کی نماز سے پہلے رسول اللہ ﷺ کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ جب آپ ﷺ تشریف لائے تو ہم آپ کے احترام کے لیے کھڑے ہوگئے اور عرض کی : ہم ( اپنے لشکر سے) فرار ہو کر آنے والے ہیں۔ پس آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : لا بل انتم العکارون ( نہیں بلکہ تم تو زبردست حملہ کرنے والے ہو) وہ فرماتے ہیں : فدنونا فقبلنا یدہ ( پس ہم قریب ہوئے اور آپ ﷺ کے دست مبارک کا بوسہ لیا) تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” میں مسلمانوں کا گروہ اور جماعت ہوں “ (سنن ابی داود، کتاب الجہاد، جلد 2، صفحہ 356۔ ایضا، سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 2276، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ ثعلب (رح) نے کہا ہے : عکارون ھم عطافون ہیں ( وہ مہربانی کرنے والے اور مائل ہونے والے ہیں) اور کسی اور نے کہا ہے : وہ آدمی جو جنگ کے وقت پیٹھ پھیر کر آجاتا ہے پر ووبارہ لوٹ جاتا ہے تو اس کے لیے عکر اور اعتکر کہا جاتا ہے۔
جریر نے منصور کے واسطے سے ابراہیم سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : قادسیہ سے ایک آدمی شکست خوردہ ہوا اور وہ بھاگ کر مدینہ طیبہ میں حضرت عمر فاروق اعظم ؓ کے پاس آگیا اور عرض کی : اے امیر المومنین ! میں ہلاک ہوگیا، میں تو لشکر وے بھاگ آیا ہوں۔ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : میں تیری جماعت ہوں۔ اور محمد بن سیرین (رح) نے بیان کیا ہے : جب ابوعبیدہ کے قتل کی خبر حضرت عمر ؓ کے پاس پہنچی تو آپ نے فرمایا : اگر وہ میری طرف لوٹ کر آجاتا تو میں اس کے لیے ایک جماعت تھا، پس میں ہر مسلمان کی جماعت اور گروہ ہوں (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 609، سورة انفال) ۔
ان احادیث کی بنا پر فرار گناہ کبیرہ نہیں، کیونکہ یہاں فئۃ سے مراد مدینہ ہے امام وقت مسلمانوں کی جماعت ہے جہاں بھی یہ ہوں۔ اور دوسرے قول کی بنا پر یہ گناہ کبیرہ ہے، کیونکہ ہو ان فئۃ سے مراد جنگ کے لیے حاضر لوگوں کی جماعت ہے۔
یہ جمہور کے قول کے مطابق ہے کہ لشکر سے بھاگنا گناہ کبیرہ ہے۔ انہوں نے کہا ہے : حضور نبی مکرم ﷺ اور حضرت عمر ؓ کا یہ قول تمام مومنین کا احاطہ کرنے کے اعتبار سے ہے، کیونکہ وہ اس زمانے میں اپنے آپ کو دوچند کرنے کے لیے کئی بار ثبات اختیار کرتے تھے۔ واللہ اعلم۔ اور قول باری تعالیٰ : آیت : والتولی یوم الزھف میں اتنا کافی ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر : 7
قولہ تعالیٰ : آیت : فقد باء بغضب من اللہ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق ہوگا۔ باء کا اصل معنی لوٹنا ہے۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ آیت : وماوہ جھنم یعنی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور یہ ہمیشہ اس میں رہنے پر دلالت نہیں کرتا، جیسا کئی مقامات پر گزر چکا ہے۔ اور حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : من قال استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم غفرلہ وان کان قد فر من الزحف۔
Ayahs 8:17–18آیت نمبر : 17۔ 18
قولہ تعالیٰ : آیت : فلم تقتلوھم ولکن اللہ قتلھم یعنی بدر کے دن تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قتل کیا ہے۔ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب جب غزوہ بدر سے واپس لوٹے تو ان میں سے ہر ایک نے اپنا کارنامہ ذکر کیا : میں نے اس طرح قتل کیا، میں نے اس طرح کیا۔ تو اس وجہ سے ان میں تفاخر اور اس جیسی دیگر چیزیں آنے لگیں۔ تو اس حقیقت پر آگہ کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 511) کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہی مارنے والا ہے اور وہی تمام چیزوں کی قدرت عطا کرنے والا ہے اور یہ کہ بندہ تو صرف اپنے کسب اور اپنے قصد کے ساتھ اس میں شریک ہوتا ہے۔ اور یہ آیت ان کا رد کرتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ بندے اپنے افعال کے خالق خود ہیں۔ پس کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان ملائکہ کے ستھ قتل کیا ہے جن کے ساتھ اس نے تمہاری مدد کی ہے۔ آیت : وما رمیت اذ رمیت اسی کی مثل ہے۔ آیت : ولکن اللہ رمی اس رمی کے بارے میں علماء کے مابین چار مختلف اقول ہیں :
(1) بیشک اس ری سے مراد غزوہ حنین کے دن حضور نبی کریم ﷺ کا کنکریاں پھینکنا ہے۔ اسے وہب نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے۔ امام مالک (رح) نے کہا ہے : اس دن کوئی باقی نہیں بچا مگر اسے آپ ﷺ کی کنکری لگی۔ اسی طرح ان سے ابن القاسم نے بھی روایت کیا ہے۔
(2) یہ غزوہ احد کے دن کا واقعہ ہے جب آپ ﷺ نے ابی بن خلف کی گردن میں چھوٹا نیزہ مارا تو ابی شکست کھا رک واپس لوٹ گیا۔ تو مشریکن نے اسے کہا : قسم بخدا تجھے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ تو اس نے جواب دیا : واللہ لو بصق علی لقتلنی ( قسم بخدا ! اگر آپ مجھ پر تھوک دیتے تو یقینا مجھے قتل کردیتے) کیا انہوں نے یہ نہیں کہا تھا : بل انا اقتلہ (بلکہ میں اسے قتل کروں گا) ابی نے مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ﷺ کو قتل کی دھمکی دی تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا تھا : بل انا اقتلک (البدایہ والنہایہ، فصل فی قتل رسول اللہ ابی بن خلف، جلد 4، صفحہ 35) (بلکہ میں تجھے قتل کروں گا) پس وہ دشمن خدا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹتے ہوئے مقام سرف پر رسول اللہ ﷺ کی اس ضرب سے مرگیا۔
موسیٰ بن عقبہ نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا ہے : جب غزورہ احد کا دن تھا تو ابی لوہے میں لپٹا ہوا گھوڑنے پر بیٹھ کر آیا اور کہنے لگا : اگر محمد ﷺ نجات پا گئے تو پھر میں نہیں بچ سکوں گا۔ چناچہ اس نے قتل کے ارادہ سے رسول اللہ ﷺ پر حملہ کردیا۔ موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا کہ حضرت سعید بن مسیب ؓ نے بیان کیا : پس مومنین میں سے کچھ لوگ اس کے سامنے آگئے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم فرمایا کہ تم اس کا راستہ چھوڑ دو ۔ پھر حضرت مصعب بن عمیر ؓ رسول اللہ ﷺ کو بچانے کے لیے اس کے مقابلے میں آئے اور حضرت مصعب بن عمیر ؓ شہید ہوگئے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ابی بن خلف کی ہنسلی کی ہڈی کو خود اور زرہ کو ملانے والی جگہ کے درمیان سوراخ سے دیکھ لیا۔ پس آپ ﷺ نے اپنے چھوٹے نیزے کے ساتھ اسے مارا تو ابی اپنے گھوڑے سے گر پرا اور اسے نیزہ لگنے کی جگہ سے خون نہ نکلا۔ حضرت سعید ؓ نے کہا ہے : پس آپ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی توڑ دی۔ اور فرمایا : پس اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : آیت : وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی اور یہ ضعیف ہے، کیونکہ یہ آیت غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی ہے۔
(3) اس سے مراد وہ تیر ہے جو رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے قلعہ میں پھینکا تھا پس وہ ہوا میں چلتا رہا یہاں تک کہ ابن ابی الحقیق کو اس کے بستر پر جالگا۔ یہ قول بھی فاسد ہے، خیبر کی فتح تو احد سے بھی بہت بعد میں ہوئی۔ ابن ابی الحقیق کے قتل کے بارے میں صحیح قول اس کے سوا ہے۔
(4) بلاشبہ یہ واقعہ بدر کے دن پیش آیا۔ یہ ابن اسحاق نے کہا ہے : اور یہی اصح ہے، کیونکہ یہ سورت بدری ہے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) نے حضور نبی مکرم ﷺ کو کہا :” آپ مٹی کی ایک مٹھی لیں “ (1) ، پس حضور ﷺ نے مٹی کی ایک مٹھی لی اور اسے ان کے چہروں پر پھینکا اور مشرکین میں سے کوئی بھی نہیں بچا مگر یہ کہ وہ مٹی اس کی آنکھوں، نتھنوں اور اس کے منہ میں پڑی، اور یہی حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے، عنقریب اس کا بیان آئے گا۔
ثعلب نے کہا ہے : اس کا معنی ہے آیت : وما رمیت ان کے دلوں میں گھبراہٹ، خوف اور رعب آپ نے نہیں ڈالا۔ اذ رمیت جب آپ نے کنکریاں پھینکیں اور وہ پسپا ہوگئے۔ آیت : ولکن اللہ رمی بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد فرمائی اور آپ کو فتح و کامرانی عطا فرمائی، عرب کہتے ہٰ : رمی اللہ لک یعنی اللہ تعالیٰ نے تیری مدد کی اور تجھے کامیاب کیا اور تیرے لیے ایسا کیا۔
اسے ابو عبیدہ نے کتاب المعاذ میں بیان کیا ہے۔ اور محمد بن یزید نے کہا ہے : آپ نے اپنی قوت کے ساتھ نہیں پھینکی جب آپ نے پھینکی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قوت کے ساتھ آپ نے پھینکی ہے۔ آیت : ولیبلی المومنین منہ بلآء حسنا یہاں البلاء سے مراد نعمت ( واحسن) ہے۔ اور ” لام “ محذوف کے ساتھ تعلق کے لیے ہے، یعنی ولیبلی المومنین فعل ذالک ( تاکہ اس طرح مومنوں پر احسان فرمائے) آیت : ذلکم وان اللہ موھن کید الکفرین یہ اہل حرمین اور ابو عمرو کی قراءت ہے۔ اور اہل کوفہ کی قراءت موھن کید الکافرین ہے اور تشدید میں مبالغہ کا معنی ہے اور حسن سے موھن کید الکافرین اضافت اور تخفیف کے ساتھ مروی ہے۔ اور معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں رعب ڈال دے گا یہاں تک کہ وہ تمام کے تمام متفرق ہوجائیں گے اور کمزور ہوجائیں گے اور کید کا معنی مکر ہے۔ اس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 8:19آیت نمبر : 19
قولہ تعالیٰ : آیت : ان تستفتحوا فقد جآء کم الفتح یہ شرط اور اس کا جواب ہے۔ اور اس میں تین اقوال ہیں : (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 611) یہ خطاب کفار کے لیے ہوگا، کیونکہ انہوں نے فیصلہ طلب کیا اور کہا : اے اللہ ! جو ہم میں سے زیادہ قطع رحمی کرنے والا ہے اور اپنے ساتھی پر زیادہ ظلم کرنے والا ہے تو اس کے خلاف دوسرے کی مدد فرما، یہ حسن اور مجاہد رحمۃ اللہ علیہما وغیرہما نے کہا ہے۔ انہوں نے یہ قول قافلے کی مدد کے لیے نکلتے وقت کہا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ابو جہل نے جنگ کے وقت کہا تھا۔ اور نضر بن حارث نے کہا تھا : اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء اوائتنا بعذاب الیم ( اے اللہ ! اگر ہو یہی ( قرآن) سچ تیری طرف سے تو برسا ہم پر پتھر آسمان سے اور لے آ ہم پر درد ناک عذاب) اور یہ بھی مقتولین بدر میں سے تھا۔ اور الاستفتاح کا معنی ہے مدد طلب کرنا، یعنی تحقیق تمہارے پاس فتح اور مدد آگئی لیکن وہ تمہارے خلاف مسلمانوں کے لیے ہے، یعنی تمہارے پاس وہ فیصلہ آگیا جس کے ساتھ معاملہ واضح ہوگیا اور تمہارے لیے حق منکشف ہوگیا۔ آیت : وان تنتھوا یعنی اگر تم کفر سے (اب بھی) باز آجاؤ۔ آیت : فھو خیرلکم تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ آیت : وان تعودوا اور اگر تم پھر اس قول کی طرف اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ قتال کی طرف لوٹو گے۔ نعد تو ہم بھی دوبارہ مومنوں کی مدد ونصرت فرمائیں گے۔ آیت : ولن تغنی عنکم فئتکم شیئا اور تمہاری جماعت تمہیں کچھ بھی فائدہ نہ پہنچائے گی۔ آیت : ولو کثرت اگرچہ تعداد میں وہ بہت زیادہ ہو۔
(2) یہ خطاب مومنین کو ہے، یعنی اگر تم مدد طلب کرتے ہو تو تحقیق تمہارے پاس مدد ونصرت آگئی اور اگر تم باز رہے اس قسم کے کاموں سے جو تم نے کیے (مثلا) اجازت سے قبل مال غنیمت اور قیدیوں کو پکڑنا وغیرہ۔ آیت : فھو خیرلکم تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ آیت : وان تعودا اور اگر تم پھر اس قسم کے کاموں کی طرف لوٹ آئے تو ہم بھی دوبارہ تمہیں زجروتوبیخ کریں گے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا : آیت : لو لا کتب من اللہ سبق الآیہ (الانفال : 68) ( اگر نہ ہوتا حکم الہٰی پہلے سے ( کہ خطاء اجتہادی معاف ہے)
(3) کہ آیت : ان تستفتحوا فقد جآء کم الفتح میں خطاب مومنین کو ہو اور جو اس کے بعد ہے وہ کفار کے لیے ہو، یعنی اگر تم قتال کی طرف لوٹو گے تو ہم پھر واقعہ بدر کی مثل تمہیں سزا دیں گے۔ علامہ قشیری نے کہا ہے : صحیح قول یہ ہے کہ یہ خطاب کفار کو ہے، کیونکہ وہ جب قافلے کی مدد کے لیے چلے تھے تو وہ غلاف کعبہ کے ساتھ چمٹ گئے اور یہ کہا : اللھم انصر اھدی الطائفتین و افضل الدنین ( اے اللہ ! دونوں گروہوں میں سے جو زیادہ ہدایت یافتہ ہے اور دو دینوں میں سے افضل ہے اس کی مدد فرما) ۔ مہدوی نے کہا ہے : یہ بھی روایت ہے کہ مشرکین نکلے تو ان کے پاس کعبہ معظمہ کا غلاف تھا وہ اس کے وسیلہ سے مدد طلب کرتے رہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : اس احتمال کی وجہ سے کہ انہوں نے دو حالتوں میں ایسا کیا ہو اس میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ آیت : وان الہ مع المومنین اس میں استیناف کی بنا پر ان کا ہمزہ مکسور ہے۔ اور یہ ہمزہ مفتوح ہوگا اگر اس کا عطف اس ارشاد پر ہو : آیت : وان اللہ موھن کید الکفرین (الانفال) یا اس کا عطف آیت : انی معکم پر ہو۔ اور اس کا معنی ہے : ولان اللہ ( کیونکہ اللہ تعالیٰ ) اور تقدیر کلام ہے لکثرتھا وان اللہ یعنی جس کا مددگار اور ناصر اللہ تعالیٰ ہو تو کوئی جماعت اس پر غالب نہیں آسکتی اگرچہ وہ تعداد میں بہت زیادہ ہو۔
Ayah 8:20ّآیت نمبر : 20
قولہ تعالیٰ : آیت : یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ یہ خطاب تصدیق کرنے والے مومنین کو ہے۔ ان کی عظمت اور بزرگی کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں منفرد خطاب فرمایا اور منافقین کو اس میں شامل نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں از سر نو اپنی اور رسول معظم ﷺ کی اطاعت کا حکم ارشاد فرمایا اور انہیں اس سے روگردانی کرنے سے منع فرمایا : یہ جمہور کا قول ہے۔ اور ایک جماعت نے کہا ہے : اس آیت سے خطاب صرف منافقین کو ہے۔ اور معنی یہ ہے : اے وہ لوگو ! جو صرف اپنی زبانوں کے ساتھ ایمان لائے ہو۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : اگرچہ اس میں یہ احتمال ہو سکتا ہے لیکن یہ بہت ضعیف اور کمزور ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جنہیں خطاب کیا ہے انہیں ایمان کے ساتھ متصف فرمایا ہے۔ اور ایمان تصدیق کا نام ہے اور منافقین کسی شے کے سبب تصدیق سے متصف نہیں۔ اور اس سے زیادہ بعید وہ ہے جس نے یہ کہا ہے کہ یہ خطاب بنی اسرائیل کو ہے، کیونکہ یہ قول تو آیت سے بالکل اجنبی ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 513) ۔
قولہ تعالیٰ : آیت : ولا تولوا عنہ، التولی کا معنی اعراض کرنا ہے۔ اس میں عنہ فرمایا ہے۔ عنھما نہیں کہا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرح ہے : آیت : واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ (التوبہ : 62) ( اس میں بھی ہ ضمیر واحد ذکر کی ہے۔ ھما تثنیہ ذکر نہیں کی) آیت : وانتم تسمعون یہ مبتدا اور خبر حال کی محل میں ہیں۔ اور معنی یہ ہے : حالانکہ تم سن رہے ہو وہ دلائل وبراہین جو قرآن کریم میں تم پر تلاوت کیے جاتے ہیں۔
Ayahs 8:21–22آیت نمبر : 21۔ 22
قولہ تعالیٰ : آیت : ولاتکونوا کالذین قالوا سمعنا یعنی تم یہود یا منافقین یا مشرکین کی طرح نہ بن جانا۔ اور اس میں مراد کانوں سے سننا ہے۔ آیت : وھم لا یسمعون یعنی وہ اس میں تدبر نہیں کرتے جو وہ سنتے ہیں اور نہ وہ اس میں غور وفکر کرتے ہیں۔
پس وہ اس کی طرح ہیں جس نے کچھ نہیں سنا اور حق سے اعراض کرلیا۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ان کی مثل ہونے سے منع فرمایا ہے۔ پس آیت اس پر دلیل ہے کہ مومن کا قول : سمعت واطعت ( میں نے سنا اور پیروی کی) اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے جب تک اتشال فعل کی صورت میں اس پر اس کا اثر ظاہر نہ ہو۔ پس جب اس نے اوامر میں کوتاہی اور سستی برتی تو پھر وہ اس پر عمل پیرا نہ ہوا۔ اور اس نے نواہی پر اعتماد کیا اور ان کا ارتکاب کیا تو پھر اس کے نزدیک کون سی سمع ہے اور کون سے طاعت ہے، بلاشبہ اس وقت تو وہ اس منافق کے قائم مقام ہوجاتا ہے جو ایمان کو ظاہر کرتا ہے اور کفر کو چھپاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد : آیت : ولا تکونوا کالذین قالوا سمعنا وھم لا یسمعون سے مراد یہی ہے، یعنی یہ منافقین کے بارے ہے یا یہود کے بارے یا مشرکین کے بارے ہے، جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ بیشک کفار زمین پر چلنے والوں میں سے سب سے زیادہ شریر ہیں۔ اور بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : آیت : ان شر الدوآب عند اللہ الصم البکم الذین لا یعقلون فرمایا : یہ بنی عبد الدار کے لوگ ہیں (تفسیر ابن عباس، سورة انفال، جلد 1، صفحہ 440 ) ۔ اور شر اصل میں اشر تھا کثرت استعمال کی وجہ سے ہمزہ وحذف کردیا گیا اسی طرح خیراصل میں اخیر تھا۔