Ayah 8:23آیت نمبر : 23
قولہ تعالیٰ : آیت : ولو علم اللہ فیھم خیرا لا سمعھم کہا گیا ہے : اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خوبی جانتا تو انہیں ضرور دلائل براہیں اس طرح سنا دیتا کہ وہ انہیں سمجھ سکتے، لیکن ان کی شقاوت اور بدبختی پہلے سے اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ آیت : ولو اسمعھم اگر وہ انہیں سمجھا دیتا تو وہ ایمان نہ لاتے کیونکہ ان کا کفر اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں پہلے سے موجود ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے : تو وہ یقینا انہیں ان مردوں کا کلام سنوا دیتا جنہیں زندہ کرنے کا انہوں نے مطالبہ کیا تھا، کیونکہ انہوں نے قصی بن کلاب وغیرہ کو زندہ کرنے کا، مطالبہ کیا تھا تاکہ وہ حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت کی شہادت دیں۔
زجاج نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر اس کا جواب سنا دیا جس کے بارے انہوں نے سوال کیا۔ آیت : ولو اسمعھم لتولوا وھم معرضون کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے موجود ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 8:24آیت نمبر : 24
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
قولہ تعالیٰ : آیت : یایھا الذین امنوا استجیبوا للہ وللرسول بلا اختلاف یہ خطاب تصدیق کرنے والے مومنین کو ہے۔ اور استجابۃ کا معنی الاجابۃ ( جواب دینا) ہے۔ اور یحییکم اصل میں یحییکم تھا، پھر یا پر ضمہ ثقیل ہونے کی وجہ سے اسے یا سے حذف کردیا گیا اور ادغام جائز نہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے : استجیبوا کا معنی اجیبوا ( تم جواب دو ) ہے لیکن عرف کلام یہ ہے کہ استجاب لام کے واسطہ کے ساتھ متعدی ہوتا ہے اور اجاب بغیر لام کے متعدی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : یقومنا اجیبوا داعی اللہ (الاحقاف : 31) ( اے ہماری قوم ! قبول کرلو اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت کو) اور کبھی استجاب بھی بغیر لام کے متعدی ہوتا ہے۔ اور اس پر شاہد شاعر کا یہ قول ہے :
وداع دعا یا من یجیب الی الندی فلم یستجبہ عند ذاک مجیب (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 514)
آپ کہتے ہیں : اجابہ واجاب عن سوالہ ( اس نے اسے جواب دیا اور اس نے اس کے سوال کا جواب دیا) اس میں مصدر الاجابۃ ہے، اور اسم الجابۃ ہے، جیسا کہ الطاقۃ اور الطاعۃ ہے۔ تو کہتا ہے : اساء سمعا فآساء اجابۃ ( اس نے غلط سنا اور غلط جواب دیا) اس حرف کے بارے اسی طرح کلام کی جاتی ہے۔ اور المجاوبۃ والتجاوب کا معنی ہے باہم ایک دوسرے سے گفتگو کرنا، تبادلہ خیال کرنا۔ اور تو کہتا ہے : انہ لحسن الجیبۃ اس میں الجیبۃ ( جیم کے کسرہ کے ساتھ) بمعنی الجواب ہے یعنی ( بیشک اس نے خوبصورت جواب دیا )
آیت : لما یحییکم یہ استجیبوا کے متعلق ہے۔ اس کا معنی ہے : استجیبوا لما یحییکم اذا دعا کم ( تم جواب دو اس امر کا جو تمہیں زندہ کرتا ہے جب وہ رسول تمہیں بلائے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لام بمعنی الی ہے۔ ای الی ما یحییکم یعنی جب وہ تمہیں ایسے امر کی طرف بلائے جو تمہارے دین کو زندہ کرتا ہے اور تمہیں ( نور) علم عطا فرماتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یعنی تمہیں بلاتا ہے ایسے امر کی طرف جس کے ساتھ تمہارے دل زندہ ہوجاتے ہیں۔ پس تم نے اسے واحد اور یکتا تسلیم کرلیا، یہ احیاء مجازی ہے، کیونکہ کہ کفر اور جہالت کی موت سے حاصل ہوتا ہے۔ حضرت مجاہد اور جمہور نے کہا ہے : اس کا معنی ہے تم طاعت کو اور اوامر ونواہی میں سے جنتے احکام کو قرآن کریم متضمن ہے تمام کو قبول کرو (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 514) ، اسی میں ابدی حیات ہے اور یہی نعمت سرمدیہ ہے۔
اور بعض نے کہا ہے : قول باری تعالیٰ : آیت : لمایحییکم سے مراد جہا ہے، کیونکہ ظاہر میں یہی زندگی کا سبب ہے کیونکہ دشمن کے ساتھ جب نہ لڑا جائے تو پھر وہ حملہ آور ہوتا ہے۔ اور اس کے حملے میں موت ہے اور جہاد میں مرنا ابدی حیات ہے، جیسا کہ رب کریم نے ارشاد فرمایا : آیت : ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء ( آل عمران : 169) ( اور ہر گز یہ خیال نہ کرو کہ وہ جو قتل کیے گئے ہیں اللہ کی راہ میں وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں) اور صحیح قول یہی ہے کہ یہ آیت عام ہے جیسا کہ جمہور نے کہا ہے۔
مسئلہ نمبر : 2
امام بخاری (رح) نے حضرت ابو سعید بن معلی ؓ سے حدیث بیان کی ہے انہوں نے بیان فرمایا : میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا ( لیکن) میں نے کوئی جواب نہ دیا، پھر میں حاضر خدمت ہوا اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” کیا اللہ عزوجل نے یہ ارشاد نہیں فرمایا : آیت : استجیبوا للہ وللرسول اذا دعا کم لما یحییکم (صحیح بخاری، کتاب التفسیر سورة انفال، جلد 2، صفحہ 699) اور حدیث ذکر کی “۔ یہ سورة فاتحہ میں پہلے گزر چکی ہے۔
امام شافعی (رح) نے کہا ہے : یہ اس پر دلیل ہے کہ فعل فرض یا قول فرض جب حالت نماز میں کیا جائے تو نماز باطل نہیں ہوتی، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے جواب دینے کا حکم ارشاد فرمایا اگرچہ وہ نماز میں ہو۔
میں ( مفسر) کہتا ہوں : اس میں امام اوزاعی (رح) کے قول کی حجت اور دلیل ہے کہ اگر آدمی نماز پڑھ رہا ہو پھر اس نے کسی بچے کو دیکھا کہ وہ کنوئیں میں چھلانگ لگانے کا ارادہ رکھتا ہے پس اس نے اس کے بارے شور مچایا اور اس کی طرف گیا اور اسے اس پر ڈانٹ پلائی ( اتنے عمل سے) نماز میں کوئی حرج نہیں۔ واللہ اعلم
مسئلہ نمبر 3 :
قولہ تعالیٰ : آیت : واعلموا ان اللہ یحول بین المرء وقلبہ کہا گیا ہے : یہ اس بارے میں نص ہونے کا تقاضا کرتی ہے کہ کفر اور ایمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے پس وہ کافر آدمی اور اس ایمان کے درمیان جس کے بارے اس نے حکم دیا ہے حائل ہوجاتا ہے، پس بندہ اسے حاصل نہیں کرسکتا جب تک وہ اسے اس پر قدرت نہ دے بلکہ اس نے اسے اس ( ایمان) کی ضد پر قدرت دے رکھی ہے اور وہ کفر ہے، اور اسی طرح مومن ہے کہ اللہ کریم اس کے درمیان اور کفر کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ پس اس نص سے یہ ظاہر ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے جملہ اعمال کا خالق ہے چاہے وہ اعمال خیر ہوں یا شر ہوں۔ اور حضور ﷺ کے اس ارشاد کا یہی معنی ہے : لا ومقلب القلوب (معالم التنزیل، جلد 2، صفحۃ 616) ( قسم ہے اس کی جو دلوں کو پھرنے والا ہے) اور اللہ تعالیٰ کا فعل اس کے بارے میں عین عدل ہے جسے اس نے گمراہ کیا اور رسوا کیا، کیونکہ اس نے انہیں اس حق سے روکا نہیں جو اس پر واجب ہو کہ صفت عدل زائل ہوجائے، بلکہ اس نے تو انہیں اس فضل اور مہربانی سے روکا ہے جو اس کے پاس تھی چاہتا تو ان پر فرما سکتا تھا مگر وہ ان کے لیے واجب نہ تھی۔ سدی (رح) نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے پس وہ اس کی اجازت کے بغیر ایمان لانے کی استطاعت نہیں رکھتا اور وہ کفر بھی نہیں کرسکتا مگر اس کی مشیت کے ساتھ۔ اور قلب (دل) غور و فکر کا محل ہے۔ اس کا بیان پہلے سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے، جب وہ چاہتا ہے بندے اور اس کے درمیان کسی بیماری یا آفت کے سبب حائل ہوجاتا ہے تاکہ وہ سمجھ ہی نہ سکے۔ یعنی تم قبولیت کی طرف جلدی کرلو اس سے پہلے کہ تم عقل زائل ہونے کے سبب اس پر قادر ہی نہ رہو۔ اور حضرت مجاہد رحمۃ اللہ نے کہا ہے : اس کا معنی ہے وہ آدمی اور اس کی عقل کی درمیان حائل ہوجاتا ہے یہاں تک کہ آدمی جو کررہا ہوتا ہے اسے سمجھ نہیں سکتا اور قرآن کریم میں ہے : آیت : ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب (ق : 37) اس میں قلب سے مراد عقل ہے۔
( بیشک اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جو دل (بینا) رکھتا ہو) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ آدمی اور اس کے عمل کے درمیان موت کے ساتھ حائل ہوجاتا ہے، لہٰذا جو عمل آدمی سے فوت ہوچکا ہوتا ہے اس کا تدارک اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ غزوہ بدر کے دن مسلمان دشمن کی کثرت کے سبب خوفزدہ ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ فرمایا کہ وہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اس طرح کہ وہ انہیں خوف کے بعد امن سے بدل سے اور ان کے دشمن کو امن سے خوف میں بدل دے۔ اور یہ معنی بیان کیا گیا ہے کہ وہ امور کو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف بدلتا رہتا ہے۔ اور یہی جامع معنی ہے۔ اور علامہ طبری کی پسند یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اخبار ہے کہ وہ بندوں کے دلوں کا مالک ہے اور یہ کہ وہ جب چاہتا ہے ان کے درمیان حائل ہوجاتا ہے یہاں تک کہ انسان اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی شی کا ادراک نہیں کرسکتا۔ آیت : وانہ الیہ تحشرون یہ معطوف ہے۔ فراء نے کہا ہے : اگر جمہ مستانفہ ہوتا تو پھر ان کو کسرہ دیا جاتا۔ لہذا وانہ ہی درست اور صحیح ہے۔
Ayah 8:25آیت نمبر : 25
اس میں دو مسئلے ہیں ؛
مسئلہ نمبر 1 :
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے درمیان منکر اور گناہ کو جڑ نہ پکڑنے دیں کہ ان تمام کو عذاب عام ہوجائے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 515) ۔ ( اور بعض لوگوں کے گناہ کے سبب وہ سارے اس عذاب کی لپیٹ میں آجائیں) اسی طرح حضرت زبیر بن عوام ؓ نے بھی اس کی تاویل کی ہے کیونکہ انہوں نے جمل کے دن کہا اور وہ 36 ھ کا زمانہ تھا : آج مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ اس آیت سے ہم ہی مراد لیے گئے ہیں اور میں اس کو اسی کے بارے گمان کر رہا ہون جسے اس وقت مخاطب بنایا گیا۔ اور اسی طرح حضرت حسن بصری (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 515) اور سدی وغیرہما رحمۃ اللہ علیہما نے بھی تاویل کی ہے۔ حضرت سدی (رح) نے کہا ہے : یہ آیت صرف اہل بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پس انہیں جمل کے دن فتنہ آپہنچا اور وہ آپس میں لڑ پڑے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی اور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مومنین کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے درمیان منکر اور گناہ کو پختہ نہ ہونے دیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں عذاب عام میں مبتلا کر دے۔
اور حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” میرے اصحاب میں سے لوگوں کے درمیان فتنہ برپا ہوگا میرے ساتھ انہیں شرف صحبت ہونے کے سبب اللہ کریم ان کو اس میں معاف فرما دے گا اور ان کے بعد آنے والے لوگوں میں جو اس میں ان کی پیروی کریں گے اللہ تعالیٰ اس کے سبب انہیں جہنم میں داخل کرے گا “ (صحیح مسلم کتاب الفتن، جلد 2، صفحہ 388) ۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ وہ تاویلات ہیں جنہیں احادیث صحیحہ سے تقویت حاصل ہوتی ہے پس صحیح مسلم میں حضرت زینب بنت جحش ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور آپ ﷺ سے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے حالانکہ ہم میں صالحین ہوں گے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” ہاں جب خبث (نجاست، گناہ وغیرہ) زیادہ ہوجائے گا “ (صحیح مسلم کتاب الفتن، جلد 2، صفحہ 388) ۔ اور صحیح ترمذی میں ہے۔ ” بیشک لوگ جب ظالم کو دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے اللہ تعالیٰ اپنی جانب سے ان تمام کو سزا دیں “ (جامع ترمذی، کتاب الفتن، جلد 2، صفحۃ 39) ۔ یہ احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔
اور صحیح بخاری اور ترمذی میں حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ کی حدود پر قئم رہنے والا اور ان میں واقع ہونے والا اس قوم کی مثل ہیں جو ایک جہاز پر سوار ہوں، ان میں سے بعض اس کی اوپروالی منزل میں ہون اور بعض نیچے والی منزل میں، پس وہ جو نیچے والے حصے میں ہیں جب انہیں پانی کی طلب ہو تو انہیں اوپر والوں کی طرف جانا پڑتا ہو چناچہ انہوں نے یہ کہا : اگر ہم اپنے حصہ میں سوراخ کرلیں اور ہم اوپر والوں کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ پس اگر اوپر والے انہیں چھوڑ دیں تو جو انہوں نے ارادہ کیا ہے وہ سب ہلاک ہوجائیں گے اور اگر انہوں نے ان کے ہاتھ پکڑ لیے تو وہ بھی نجات پا گئے اور ان کے ساتھ سبھی نجات پا جائیں گے “ (جامع ترمذی، کتاب الفتن، جلد 2، صفحہ 40، ایضا، حدیث نمبر 2099، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ پس اس حدیث میں خاص لوگوں کے گناہوں کے سبب تمام لوگوں کو عذاب دینے کا تذکرہ ہے۔ اور اس میں یہ بھی ہے کہ اس عذاب اور سزا کا استحقاق امر بالمعروف اور نہیں عن المنکر کا فریضہ ترک کرنے کے سبب ثابت ہوا ہے۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : پس فتنہ جب اس پر عمل کیا جائے تو تمام ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اور ایسا گناہوں کے عام ہونے، منکر کے پھیلنے اور تبدیلی نہ آنے کے سبب ہوتا ہے اور جب حالات میں تبدیلی نہ آئے تو مومنوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے دلوں سے اس کا انکار کرتے ہوئے اس شہر کو چھوڑ دیں اور وہاں سے نکل جائیں۔ اور اسی طرح ان لوگوں کے لیے حکم تھا جو ہم سے پہلے امتوں میں سے تھے، جیسا کہ سبت کے قصہ میں ہے جس وقت انہوں نے نافرمانوں کو چھوڑا اور کہا : ہم تمہارے ساتھ سکونت اختیار نہیں کریں گے۔ اور اسی کے مطابق اسلاف ؓ نے کہا ہے۔ ابن وہب نے امام مالک (رح) سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : اس زمین کو چھوڑ دیا جائے گا جس میں بدکاری علانیہ ہوتی ہو اور اس میں ٹھکانہ نہیں بنایا جائے گا۔ اور انہوں نے حضرت ابو درداء ؓ کے عمل سے استدلال کیا ہے کہ جب امیر معاویہ ؓ نے ربا کا اعلان کیا اور سونے کے برتن کی بیع ایسے برتن کے ساتھ جائز قرار دی جو وزن میں اس سے زیادہ ہو تو آپ ( حضرت ابودرداء ؓ اس زمین سے نکل گئے، اسے صحیح نے نقل کیا ہے۔
اور امام بخاری (رح) نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو وہ عذاب اس میں موجود ہر آدمی کو پہنچتا ہے پھر انہیں ان کے اعمال پر اٹھایا جائے گا “ (صحیح بخاری، کتاب الفتن، جلد 2، صفحہ 1053 ) ۔ پس یہ روایت اس پر دلالت کر رہی ہے کہ عام ہلاک کرنے والا عذاب مومنین کے لیے پاکیزگی کا سبب ہوتا ہے اور وہی فاسقوں کے لیے سزا اور عذاب ہوتا ہے۔ اور امام مسلم نے حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بیان فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے حالت نیند میں اضطراب کا اظہار کیا (یعنی اپنے اعضاء جسم کو حرکت دی جیسے کوئی کسی شے کو پکڑتا ہے) تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ آپ نے حالت نیند میں ایسا عمل کیا ہے جو آپ ﷺ نے کبھی نہیں کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تعجب اور حیرانی ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ قریش کے ایک آدمی کو پکڑنے کے لیے اس بیت ( مراد بیت اللہ شریف) کا ارادہ رکھتے تھے حالانہ وہ آدمی بیت اللہ شریف میں پناہ لیے ہوئے تھا یہاں تک کہ جب وہ مقام بیداء پر پہنچے تو ہو دہنسا دیئے گے “ ( صحیح بخاری، کتاب الفتن، جلد 2، صفحہ 1053 ) ۔ تو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ بیشک راستہ تو بہت سے لوگوں کو جامع ہوتا ہے ( یعنی راستہ تو ہر ایک کو اپنے اوپر چلنے کی اجازت دیتا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا :” ہاں، ان میں کچھ عمدا قصد کرنے والے تھے، کچھ مجبور اور مکرو تھے اور کچھ مسافر تھے وہ سب ایک ہی ہلاکت خیز جھٹکے کے ساتھ ہلاک ہوگئے ہیں اور مختلف مقامات سے نکلیں گے اللہ تعالیٰ انہیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا “ (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 847 ) ۔
اور اگر کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : آیت : ولا تزروازرۃ وزر اخری (انعام : 164) (اور نہ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ) آیت : کل نفس بما کسبت رھینۃ (المدثر) ( ہر نفس اپنے عملوں میں گروی ہے)
آیت : لھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت (البقرہ : 286) ( اس کو اجر ملے گا جو (نیک عمل) اس نے کیا اور اس پر وبال ہوگا جو (براعمل) اس نے کمایا) یہ ارشادات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ کسی کو کسی دوسرے کے گناہ کے بدلے نہیں پکڑا جائے گا، بلاشبہ سزا گناہ کرنے والے کے ساتھ ہی متعلق ہوتی ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ لوگوں میں جب گناہ ظاہر ہوجائے تو ہر دیکھنے والے پر فرض ہے کہ وہ اسے تبدیل کر دے ( یعنی اسے روکنے کی کوشش کرے) اور جب وہ اس پر خاموش رہے تو تمام کے تمام سے گنہگارہوں گے۔ (فرق صرف اتنا ہے) کچھ اس کا ارتکاب کر رہے ہیں ( اس لیے وہ گنہگار ہیں) اور کچھ اس پر راضی ہونے کی وجہ سے گنہگار ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم اور اپنی حکمت میں (گناہ پر) راضی ہونے والے کو ( گناہ) کرنے والے کے قائم مقام قرار دیا ہے، پس سزا میں راضی بھی عامل کے ساتھ شامل ہوگا۔ یہ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : اور یہی ان احادیث کا مضمور ہے جو ہم نے ذکر کی ہیں۔ اور آیت کا مقصود یہ ہے کہ تم بچو ایسے فتنے سے جو ظالم سے تجاوز کر کے ہر نیک و بد تک پہنچ جاتا ہے۔
مسئلہ نمبر : 2
نحویوں نے آیت : لا تصیبن میں نون کے داخل ہونے میں اختلاف کیا ہے۔ فراء نے کہا ہے : یہ تیرے اس قول کی طرح ہے : انزل عن الدابۃ لا تطرحنک ( تو سواری سے اتر آ وہ تجھے نہیں گرائے گی) اور اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : آیت : ادخلوا مسکنکم لایحطمنکم (النمل : 18) یعنی ان تدخلوا لا یحطمنکم ( گھس جاؤ اپنی بلوں میں کہیں کچل کر نہ رکھ دیں تمہیں) تو اس میں نون اس لیے داخل کیا گیا ہے، کیونکہ اس میں جزا کے معنی پائے جا رہے ہیں۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : چونکہ یہ کلام قسم کے محل میں ہے اور نون داخل نہیں ہوتا مگر فعل نہی پر یا جواب قسم پر۔ اور ابوالعباس المبرد نے کہا ہے : بیشک یہ امر کے بعد نہیں ہے اور معنی یہ ہے کہ یہ ظالموں کے لیے نہیں ہے یعنی تم ظلم کے قریب نہ جاؤ۔ اور سیبویہ نے بطور حکایت بیان کیا ہے : لا ارینک ھاھنا یعنی تو یہاں نہ ہو، کیونکہ جو یہاں ہوگا تو میں اسے دیکھوں گا۔ اور علامہ جرجانی نے کہا ہے : اس کا معنی ہے اتقوا فتنہ لا تصیبن الذین ظلموا خاصۃ ( تم بچو اس فتنہ سے جو صرف ان لوگوں تک نہ پہنچے گا جنہوں نے ظلم کیا) پس قول باری تعالیٰ لا تصیبن نکرہ کے وصف کے محل میں نہیں ہے۔ اور اس کی تاویل یہ ہے کہ یہ ان لوگوں کو فتنہ پہنچنے کی خبر ہے جنہوں نے ظلم کیا۔
حضرت علی، حضرت زید بن ثابت، حضرت ابی اور حضرت ابن مسعود ؓ نے لتصیبن کو بغیر الف کے پڑھا ہے۔ مہدوی نے بیان کیا ہے : جنہوں نے لتصیبن پڑھا ہے ان کے نزدیک یہ جائز ہے کہ یہ لا تصیبن سے مقصود ہو اور اس میں الف کو اسی طرح حذف کردیا گیا ہو جیسے ما میں حذف کیا گیا ہے اور یہ ما اخت لا ہے، جیسا کہ اس قول میں ہے ام واللہ لافعلن اور اس کے مشابہ جملوں میں ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جمہور کی قراءت کی مخالفت ہو، پس معنی یہ ہوگا کہ یہ صرف ظالم کو پہنچے گا۔
Ayah 8:26آیت نمبر :26
قولہ تعالیٰ : آیت : واذکروا اذانتم قلیل کلبی نے کہا ہے : یہ آیت مہاجرین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یعنی یہ ہجرت سے پہلے اور ابتدائے اسلام میں ان کی حالت کا بیان ہے۔ مستضعفون یہ صفت ہے فی الارض مراد سر زمین مکہ ہے۔ آیت : تخافون یہ بھی نعت (صفت) ہے۔ آیت : ان یتخطفکم یہ محل نصب میں ہے اور الخطف کا معنی ہے تیزی کے ساتھ کسی چیز کو لے لینا ( اچک لینا) آیت : الناس یہ فاعل ہونے کی بنا پر مرفوع ہے۔ حضرت قتادہ اور عکرمہ رحمۃ اللہ علیہما نے کہا ہے : اس سے مراد مشرکین قریش ہیں۔ وہب بن منبہ نے کہا ہے : یہ اہل فارس اور روم ہیں (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 619) ۔ آیت : فاوکم حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : (پس اللہ نے تمہیں پناہ دی) انصار کے پاس۔ سدی نے کہا ہے : پس اس نے تمہیں مدینہ طیبہ میں پناہ دی۔ دونوں کا معنی ایک ہے اوی الیہ مد کے ساتھ ہو تو معنی ہے ضم الیہ۔ اس نے تجھے اس کے ساتھ ملا دیا۔ اور اوی الیہ (قصر کے ساتھ ہو) تو معنی ہے وائجم الیہ (وہ اس کے ساتھ مل گیا) آیت : وایدکم اور اس نے تمہیں قوت اور طاقت بخشی۔ آیت : بنصرہ اپنی مدد کے ساتھ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نے تمہیں انصار کے ساتھ قوت و طاقت عطا کی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس نے تمہیں بدر کے دن ملائکہ کے ساتھ قوت بخشی۔
آیت : ورزقکم من الطیبت اور اس نے تمہیں غنائم عطا کیں۔ آیت : لعلکم تشکرون اس کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 8:27آیت نمبر : 27
روایت ہے کہ یہ آیت حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جس وقت انہوں نے بنی قریظہ کی طرف ذبح کا اشارہ کیا۔ حضرت ابو لبابہ ؓ نے بیان کیا ہے : قسم بخدا ! میرے قدم نہیں پھسلے یہاں تک کہ مجھے علم ہوگیا کہ میں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم ﷺ کے ساتھ خیانت کی ہے، پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ اور کہا : قسم بخدا ! نہ میں کھانا کھاؤں گا اور نہ پانی پیئوں گا یہاں تک کہ میں مر جاؤں یا پھر اللہ تعالیٰ میرے توبہ قبول فرما لے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 619) ۔ یہ خبر مشہور ہے۔
حضرت عکرمہ (رح) نے بیان کیا ہے : جب بنی قریظہ کا معاملہ پیش آیا تو حضور نبی مکرم ﷺ نے حضرت علیہ ؓ کو ان لوگوں کے ساتھ بھیجا جو آپ ﷺ کے پاس موجود تھے۔ پس جب آپ ان کے پاس جا کر رکے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بارے نازیباکلمات کہے اور حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ابلق ( چتکبرہ گھوڑا) گھوڑے پر تشریف لائے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ نے بیان فرمایا : گویا میں رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھ رہی ہوں کہ آپ حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کے چہورے سے غبار صاف کر رہے ہیں۔ تو میں نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا یہ دحیہ ؓ ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” یہ حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں “۔ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ کون سی شے آپ کو بنی قریظہ سے روک رہی ہے کہ آپ ان کی طرف آئیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میرے لیے ان کے قلعے میں پہنچنا کیسے ممکن ہے “ ؟ تو حضرت جبریل (علیہ السلام) نے کہا : میں اپنا یہ گھوڑا ان پر داخل کروں گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ ننگے گھوڑے پر سوار ہوئے۔ تو جب حضرت علی ؓ نے آپ کو دیکھا، عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ بہتر ہوتا کہ آپ تشریف نہ لاتے، کیونکہ وہ آپ کو برھ بھلا کہہ رہے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہر گز نہیں بیشک عنقریب سلامتی ہوجائے گی “۔
پس حضور نبی مکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا :” اے بندروں اور خنزیروں کے بھائیوں “۔ تو انہوں نے کہا : اے ابا القاسم ! آپ تو فحش کہنے والے نہیں۔ پھر انہوں نے کہا : ہم محمد ﷺ کے حکم پر (نیچے) نہیں اتریں گے، البتہ ہم حضرت سعد بن معاذ ؓ کے حکم پر اترآئیں گے۔ پس وہ اترے۔ اور ان کے بارے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے جنگجوؤں کو قتل کردیا جائے اور ان کی اولادوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اسی (فیصلے) کے ساتھ فرشتہ سحری کے وقت میرے پاس آیا ( تفسیر در منثور، جلد 3، صفحہ 323 ) ، پس ان کے بارے یہ حکم نازل ہوا : آیت : یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول وتخونوا امنتکم وانتم تعلمون یہ آیت حضرت ابو لبابہ ؓ کے بارے نازل ہوئی کہ انہوں نے بنی قریظہ کی طرف اس وقت اشارہ کیا جب انہوں نے کہا : ہم حضرت سعد بن معاذ ؓ کے حکم پر اتریں گے کہ تم اس طرح نہ کرو، کیونکہ یہ ذبح ہے اور ساتھ ہی اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ حضور نبی مکرم ﷺ سے کوئی بات سنتے تھے تو وہ اسے مشرکین تک پہنچا دیتے تھے اور اسے افشا کردیتے تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مال غنیمت میں خیانت کرنا ہے اور اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، کیونکہ وہی وہ ہے جس نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے، کیونکہ آپ ﷺ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ادا کرنے والے اور اسے قائم اور پختہ کرنے والے ہیں۔ اور الخیانۃ سے مراد غدر (دھوکا) اور کسی شی کو چھپانا ہے۔ اور اسی معنی میں یہ ارشاد ہے : آیت : یعلم خآئنۃ الاعین (غافر : 19) ( وہ جانتا ہے خیانت کرنے والی آنکھوں کو) اور آقا (علیہ الصلوۃ والسلام) عرض کرتے ہیں :” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بھوک سے کیونکہ یہ بہت برا ساتھی ہے اور خیانت سے کیونکہ یہ انتہائی برا باطن ہے “ (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوۃ جلد 1، صفحہ 216۔ ایضا، حدیث نمبر 1323، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3344، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ نساء نے اسے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا : کان رسول اللہ ﷺ یقول پھر آگے اسے ہی بیان کیا ہے۔
آیت : وتخونوا امنتیکم یہ محل جزم میں ہے، کیونکہ اس کا عطف ماقبل پر ہے۔ اور کبھی جواب کی بنا پر اس طرح ہوتا ہے جیسے کہا جاتا ہے : لا تاکل السمک وتشرب اللبن ( اس میں تشرب، لا تکل کا جواب ہونے کی وجہ سے مجزوم ہو سکتا ہے) اور امانات سے مراد وہ اعمال ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے بندوں کو امین بنایا ہے۔ اور انہیں امانت کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ انہیں حق کے روکنے سے محفوظ کردیا جاتا ہے، یہ الامن سے ماکوذ ہے۔ اور سورة النساء میں امانات اور ودیعتوں کی ادائیگی کے بارے میں اور دیگر چیزوں کے بارے میں بحث گزر چکی ہے آیت : وانتم تعلمون یعنی خیانت میں جو قبح اور عار (ندامت) ہے اسے تم جانتے ہو۔ ور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے تم جانتے ہو کہ یہ امانت ہے۔
Ayah 8:28آیت : 28
قولہ تعالیٰ : آیت : واعلموا انما اموالکم واولادکم فتنہ حضرت ابو لبابہ ؓ کے اموال واولاد بنی قریظہ میں تھے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 260) اور یہی وہ شے تھی جس نے آپ کو ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کرنے پر ابھارا تھا۔ اور یہ اشارہ اسی طرف ہے۔ فتنۃ کا معنی ہے آزمائش، امتحان ( اللہ تعالیٰ نے) انہیں اس کے ساتھ امتحان میں ڈال کیا۔ آیت : وان اللہ عندہ اجر عظیم پس تم اللہ تعالیٰ کے حق کو اپنے حق پر ترجیح دو ( کیونکہ اللہ تعالیٰ کے پاس اجر عظیم ہے)
Ayah 8:29آیت نمبر : 29
تقوی کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے بارے جانتا ہے کہ وہ تقوی اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔ اسے لفظ شرط کے ستھ ذکر کیا ہے، کیونکہ اس نے بندوں کو ایسے انداز میں خطاب کیا ہے جیسے وہ آپس میں ایک دوسرے کو خطاب کرتے ہیں۔ اور جب بندہ اپنے رب سے ڈرنے لگے اور یہ اس کے اوامر کو بجا لانے اور اس کی نواہی سے اجتناب کرنے سے، محرمات میں واقع ہونے کے خوف سے شبہات کو ترک کرنے، اور اپنے دل کو خاص نیت کے ساتھ بھرنے سے، اور اپنے جوارح کو اعمال صالحہ میں مشغول رکھنے اور اعمال میں غیر اللہ کی رعایت کے سبب شرک خفی اور ظاہر کی آمیزش سے محفوظ رہنے، اور مال سے باز رہنے کے سبب دنیا کی طرف میلان سے بچنے سے حاصل ہوتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے درمیان تمیز اور فرق قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے ہر اس خیر اور نیکی میں رکھ دیا ہے جسے ممکن بنانے کا وہ ارادہ رکھتا ہے۔ ابن وہب (رح) نے کہا ہے : میں نے امام مالک (رح) سے قول باری تعالیٰ : ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اسے مخرج (نکلنے کی جگہ) بنا دیا ہے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : آیت : ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا (الطلاق)
ابن القاسم اور اشہب نے امام مالک (رح) سے بالکل اسی طرح بیان کیا ہے۔ اس سے قبل اسے حضرت مجاہد (رح) نے بیان کیا ہے اور شاعر کا قول ہے :
مالک من طول الاسی فرقان بعد قطین رحلوا وبانوا (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 518)
اور ایک دوسرے شاعر نے کہا :
وکیف ارجی الخلد والموت طالبی وما لی من کاس المنیۃ فرقان
ابن اسحاق نے کہا ہے : آیت : فرقانا اس کا معنی ہے حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا۔ ابن زید نے بھی یہی کہا ہے۔ اور سدی نے کہا ہے : اس کا معنی نجات ہے۔ فراء نے کہا ہے : اس کا معنی فتح ونصرت ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے لیے آخرت میں فرقان بنا دیا ہے، پس یہ تمہیں جنت میں داخل کر دے گا اور کفار کو جہنم میں داخل کرے گا۔
Ayah 8:30آیت نمبر :30
یہ اس خفیہ تدبیر اور مکر کے بارے خبر دی جا رہی ہے جس پر مشرکین حضور نبی مکرم ﷺ کے بارے میں دارالندوہ میں جمع ہوئے تھے۔ پس انہوں نے مشاورت میں آپ ﷺ کو شہید کرنے پر اجماع کیا نتیجۃ انہوں نے آپ کی دربانی کی اور طویل رات آپ ﷺ کے گھر کے دروازے پر آپ کی تاک میں بیٹھے رہے کہ جونہی آپ باہر نکلیں تو وہ آپ کو شہید کردیں۔ حضور نبی مکرم ﷺ نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو اپنے بستر پر سونے کا حکم ارشاد فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی کہ وہ ان پر اپنا اثر ڈال دے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کو ڈھانک دیا اور آپ ﷺ باہر تشریف لائے اس حال میں کہ ان پر نیند چھائی ہوئی تھی، پس آپ ﷺ نے ان کے سروں پر مٹی ڈالی اور وہاں سے چلے گئے۔ جب انہوں نے صبح کی تو حضرت علی ؓ ان کے پاس باہر تشریف لائے اور انہیں بتایا کہ گھر میں کوئی نہیں ہے، تب انہیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ چلے گئے ہیں اور نجات پا گئے ہیں۔ سیرت وغیر میں یہ خبر مشہور ہے۔
اور آیت : لیثبتوک کا معنی ہے تاکہ وہ آپ کو قید کردیں۔ کہا جاتا ہے : اثبتہ یہ تب کہا جاتا ہے جب تو اسے قید کرلے۔ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : لیثبتوک وثاقا ( تاکہ وہ آپ کو بیڑیاں پہنا لیں) آپ سے بھی اور عبداللہ بن کثیر سے یہ منقول ہے : لیسجنوک ( تاکہ وہ آپ کو جیل میں ڈال دیں) اور ابان بن تغلب اور ابو حاتم نے کا ہ ہے : اس کا معنی ہے تاکہ وہ آپ کو زخموں اور شدید مارنے کے سبب نڈھال اور کمزور کردیں، جیسے شاعر کا قول ہے :
فقلت ویحکما ما فی صحیفتکم قالوا الحلیفۃ امسی مثبتا وجعا
آیت : او یقتلوک او یخرجوک یہ کلام معطوف ہے۔ آیت : ویمکرون یہ نیا کلام ہے اور المکر کا معنی ہے کسی معاملے میں خفیہ تدبیر کرنا۔ آیت : واللہ خیر المکرین یہ مبتدا اور خبر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے مکر کا مفہوم یہ ہے کہ وہ انہیں ان کی خفیہ تدبیر پر عذاب کے ساتھ ایسی جزا دے گا جس کے بارے انہیں شعور تک نہ ہوگا۔
Ayah 8:31آیت نمبر : 31
یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ تجارت کی غرض سے حیرہ کی طرف نکلا اور اس نے کلیلہ ودمنہ، کسری اور قیصر کی کہانیاں خرید لیں۔ جب رسول اللہ ﷺ ماضی کی اخبار بیان فرماتے تو نضر کہتا : اگر آپ چاہیں تو میں بھی اس کی مثل بیان کروں۔ اور یہ انتہائی بےشرم اور جھوٹا تھا۔ اور بعض نے یہ کہا ہے : بیشک وہ اس وہم میں پڑگئے کہ وہ اس کی مثل لا سکتے ہیں، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جادوگروں کو وہم ہوا تھا، پھر انہوں نے اس کا قصد کیا تو اس سے عاجز آگئے اور ازروئے عناد کہنے لگے : یہ تو فقط اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 8:32آیت نمبر : 32
قراء نے الحق کو کان کی خبر ہونے کی بنا پر منصوب پڑھا ہے اور درمیان میں ھو ضمیر فصل ہے۔ اور آیت : ھو الحق مرفوع بھی جائز ہے۔ آیت : من عندک ( تیری طرف سے) زجاج نے کہا ہے : مین کسی کو نہیں جانتا جس نے اس کے ساتھ پڑھا ہو۔ اور اس کے جائز ہونے میں علماء نحو کے ددمیان کوئی اختلاف نہیں، لیکن قراءت سنت ہے اور اس میں صرف قرات مرضیہ کے ساتھ ہی پڑھا جائے گا۔ اس بارے میں بھی اختلاف ہے کہ یہ قول کس نے کیا ہے ؟ پس حضرت مجاہد اور ابن جبیر نے کہا ہے : یہ کہنے والا نضر بن حارث تھا۔ حجرت انس بن مالک ؓ نے بیان کیا : یہ کہنے والا ابو جہل ہے (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، سورة انفال، جلد 2، صفحہ 669 ) ۔ اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ پھر یہ کہنا بھی جائز ہے کہ انہوں نے یہ قول اس شبہ کی بنا پر کیا ہو جو ان کے سینوں میں موجود تھا یا عناد کی وجہ سے کہا اور لوگوں کو یہ وہمدلانے کے لیے کہا کہ وہ صاحب بصیرت ہیں، پھر بدر کے دن ان پر وہ عذاب اترا جس کی انہوں نے دعا مانگی۔ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کو یہودیوں میں سے ایک آدمی ملا تو اس یہودی نے کہا : آپ کن میں سے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میں قریش میں سے ہیوں۔ تو اس نے پوچھا : آپ اس قوم میں سے ہیں جنہوں نے یہ کہا تھا : آیت : اللھم ان کان ھذا ھوالحق من عندک الآیہ تو انہیں کیا تھا کہ وہ کہ کہہ دیتے : ان کان ھذا ھو الھق من عندک فاھدنا لہ ! ( اگر یہ تیری جانب سے حق ہے تو ہمیں ان کی طرف ہدایت عطا فرما) بلاشبہ وہ جاہل قوم تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اے اسرائیل ! تو اس قوم میں سے ہے جن کے پاؤں اس سمندر کی تری سے خشک نہیں ہوئے جس میں فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا گیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کو نجات عطا فرمائی گئی۔ یہاں تک کہ وہ کہنے لگا : اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ ( الاعراف : 138) ( ہمارے لیے بھی ایسا الہ بنا دو جیسے ان کے الہ ہیں) تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا : آیت : انکم قوم تجھلون (الاعراف) (بلاشبہ تم جاہل قوم) تو یہودی نے خاموشی سے سر جھکا دیا۔
Ayah 8:33آیت نمبر : 33
جب ابو جہل نے کہا : آیت : اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک، الایہ تب یہ آیت نازل ہوئی : آیت : وماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم اسی طرح صحیح مسلم میں ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : اللہ تعالیٰ نے اہل بستی کو عذاب نہیں دیا یہاں تک کہ حضور نبی مکرم ﷺ اور مومنین اس سے نکل گئے اور وہاں پہنچ گئے جہاں کا انہیں حکم دیا گیا (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 625 ) ۔ آیت : وماکان اللہ معذبھم وھم یستغفرون حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : وہ طواف میں کہا کرتے تھے : غفرانک اور استغفار ان مسلمانوں کی طرف راجع ہے جو ان کے درمیان تھے، یعنی اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دینے والا نہیں ہے حالانکہ ان میں وہ مسلمان بھی ہیں جو مغفرت طلب کر رہے ہیں، پس جب وہ نکل گئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں یوم بدر اور دوسرے عذاب میں مبتلا کردیا۔
ضحاک وغیرہ نے یہی کہا ہے : اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں استغفار سے مراد اسلام ہے یعنی آیت : وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون، ای یسلمون حالانکہ وہ اسلام قبول کر رہے ہوں۔ یہ عکرمہ اور مجاہد نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا : آیت : وھم یسغفرون اور وہ استغفار کر رہے ہوں ان کی صلبوں میں اس کے لیے جو اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے۔
یہ بھی حضرت مجاہد (رح) سے مروی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آیت : یستغفرون کا معنی ہے لو استغفروا یعنی اگر وہ استغفار کریں تو وہ عذاب نہ دیئے جائیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں استغفار کرنے کی دعوت دی۔ حضرت قتادہ اور ابن زید نے یہی کہا ہے۔ مدائنی نے بعض علماء سے یہ نقل کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ کے زمانے میں عرب میں ایک آدمی تھا وہ اپنی ذات پر بہت فضول خرچی کرتا تھا اور وہ گناہ سے نہ بچتا تھا۔ پس جب حضور نبی مکرم ﷺ کا وصال ہوگیا تو اس نے اونی لباس پہنا اور اپنے جملہ اعمال سے رجوع کرلیا اور دین اوعر طاعت و عبادت کو ظاہر کردیا۔ تو اسے کہا گیا : اگر تو یہی عمل اس وقت کرتا جب حضور نبی مکرم ﷺ زندہ تھے تو یقینا آپ تجھ سے خوش ہوتے۔ تو اس نے جوابا کہا : میرے لیے دوامانیں ہیں پس ایک گزر گئی اور دوسری باقی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : وماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم یہ ایک امان ہے اور دوسری آیت : وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون ہے۔
Ayah 8:34آیت نمبر : 34
قولہ تعالیٰ : آیت : ومالھم الا یعذبھم اللہ اس کا معنی ہے : کون سی شے ان کے لیے اس سے مانع ہے کہ وہ عذاب دیئے جائیں، یعنی بلاشبہ وہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں ان برائیوں اور دیگر اسباب کے سبب جن کا انہوں نے ارتکاب کیا ہے، لیکن شے کے لیے ایک مقررہ وقت ہے، پس اللہ تعالیٰ نے حضور نبی مکرم ﷺ کے (مکہ مکرمہ) سے نکلنے کے بعد انہیں تلوار کے ساتھ عذاب دیا۔ اور اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت : سال سآئل بعذاب واقع (المعارج) اور اخفش نے کہا ہے : بیشک ان زائدہ ہے۔ نحاس نے کہا ہے : اگر ایسے ہوتا جیسے انہوں نے کہا تو یعذبھم مرفوع ہوتا۔ آیت : ولکن اکثرھم لا یعلمون یعنی بلاشبہ متقین اس کے دوست ہیں۔
Ayahs 8:35–37آیت نمبر : 35۔ 36۔ 37
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : قریش ننگے بدن بیت اللہ شریف کا طواف کرتے تھے، وہ تالیاں بجاتے تھے اور سیٹیاں مارتے تھے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 627) اور یہ ان کے گمان میں عبادت تھی۔ مکاء کا معنی سیٹی مارنا ہے اور التصدیہ کا معنی تالی بجانا ہے۔ یہ حضرت مجاہد، سدی اور حضرت ابن عمر ؓ نے کہا ہے اور اسی کے مطابق عنترہ کا قول بھی ہے :
وحلیل غانیۃ ترکت مجدلا تمکو فریضتہ کشدق الاغلم (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 523 )
یعنی اس میں تمکو بمعنی تصوت ( آواز نکالنا، سیٹی مارنا کے) ہے۔ اور اسی سے مکت است الدابہ یہ تب کہا جاتا ہے جب جانور ہوا خارج کرے۔ سدی نے کہا ہے ؛ المکاء بمعنی الصفیر سیٹی مارنا ہے۔ یہ جب حجاز کے طائر ابیض ( سفید پرندہ) کی آواز اور طرز پر ہو تو اس کے لیے المکاء کہا جاتا ہے۔ شاعر کا قول ہے :
اذا غرد المکاء فی غیر روضۃ فویل لاھل الشاء والحمرات
حضرت قتادہ نے کہا ہے : المکاء سے مراد ہاتھوں کے ساتھ تالی بجانا ہے اور تصدیہ سے مراد چیخ مارنا، سیٹی مارنا ہے۔ دونوں تفسیروں کی بنا پر اس میں ان جائل صوفیاء کا رد ہے جو رقص کرتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں اور گر پڑتے ہیں۔ یہ سب کا سب منکر ( اور ممنوع) عمل ہے اور عقلا ایسے عمل سے پرہیز کرتے ہیں اور محفوظ رہتے ہیں۔ ایسا کرنے والا مشرکین کے ساتھ اس عمل میں مشابہ ہوجاتا ہے جو وہ بیت اللہ شریف کے پاس کرتے تھے۔
ابن جریج اور ابن نجیح نے حضرت مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : ان سے مراد ان کا اپنے مونہوں میں اگلیاں داخل کرنا ہے۔ اور تصدیہ سے مراد سیٹی بجانا ہے۔ ان کا مقصود یہ ہوتا تھا کہ وہ اپنے اس عمل کے ساتھ حضور نبی مکرم ﷺ کو نماز سے غافل کر دے ( آپ کی نماز میں خلل پیدا کریں) ۔ نحاس نے کہا ہے : لغت میں معروف وہ معنی ہے جو حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے۔ ابو عبیدہ نے بیان کیا ہے کہ کہا جاتا ہے : مکا یمکو مکوا ومکاء جب کوئی سیٹی بجائے۔ اور صدی یصدی تصدیہ کہا جاتا ہے جب کوئی تالی بجائے، اس معنی میں عمرو بن اطنابہ کا قول بھی ہے :
وظلوا جمعیا لھم ضجۃ مکاء لدی البیت بالتصدیۃ
یعنی اس میں التصدیہ بمعنی التصفیق یعنی تالی بجانا ہے۔
حضرت سعید بن جبیر اور ابن زید نے کہا ہے : التصدیۃ کا معنی ہے ان کا بیت اللہ شریف سے روکنا، اس معنی کی بنا پر یہ اصل میں تصددۃ ہے، پھر دو والوں میں سے ایک کو یا سے بدل دیا گیا ہے۔ اور آیت : لیمیز اللہ الخبیث من الطیب کا معنی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ مومن کو کافر سے الگ کر دے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ (حکم) ہر شے میں عام ہے چاہے اسکا تعلق اعمال سے یا نفقات سے یا کسی سے ہو۔
Ayah 8:38آیت نمبر :38
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
قولہ تعالیٰ : آیت : قل للذین کفروا حضور نبی مکرم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ کفار کو یہ بات کہیں، چاہے تو آپ انہیں الفاظ کے ساتھ کہیں یا ان کے علاوہ دوسرے الفاظ مین۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : اگر ایسا ہے جیسے کسائی نے ذکر کیا ہے کہ یہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے مصحف میں اس طرح ہے : آیت : قل للذین کفروا ان ینتھوا یغفرلھم تو پھر نبی مکرم ﷺ نے اسے بعینہ ان الفاظ کے ساتھ ادا کیا ہے، یہ اس کے لیے کافی ہے جس کا تقاضا الفاظ کرتے ہیں۔
مسئلہ نمبر : 2
قولہ تعالیٰ : آیت : ان ینتھوا مراد یہ ہے کہ اگر کفر سے باز آجائیں۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : اور یہی ضروری ہے۔ اور اس پر ابھارنے والا یہ جواب شرط ہے آیت : یغفرلھم ما قد سلف اور جو ہوچکا اس کی مغفرت فقط کفر سے باز رہنے کے سبب ہی ہو سکتی ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 527 ) ۔ ابو سعید احمد بن محمد زبیری نے بہت خوب کہا ہے۔
یستوجب العفو الفتی اذا اعترف ثم انتھی عما اتاہ واقترف
نوجوان معافی کا مستحق ہوجاتا ہے جب وہ اعتراف کرلے پھر اس سے باز آجائے جو اس نے کیا۔
لقولہ سبحانہ فی المعترف ان ینتھوا یغفرلھم ما قد سلف
کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے معترف کے بارے فرمایا ہے : اگر وہ باز آجائیں تو بخش دیا جائے گا جو ہوچکا۔
امام مسلم نے ابو شماسہ مہری سے روایت بیان کی ہے انہوں نے کہا : ہم حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس حاضور ہوئے اس حال میں کہ وہ نزع کی کیفیت میں تھے طویل وقت تک روتے رہے (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 76) ۔ الحدیث۔ اور اس میں ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” کیا تو نہیں جانتا کہ اسلام اپنے سے پہلے والے گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور ہجرت اپنے سے پہلے والے گناہوں کو گرا دیتی ہے اور حج اپنے سے پہلے والے گناہوں کو منہدم کردیتا ہے “ (کنز العمال، جلد 1، صفحہ 75، حدیث نمبر 299) ۔ الحدیث
علامہ ابن عربی نے فرمایا : یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی جانب سے انتہائی لطف وکرم ہے جس کے ساتھ اس نے مخلوق پر احسان فرمایا ہے اور وہ یہ کہ کفار اپنے آپ کو کفر اور جرائم میں پھنسائے رکھتے ہیں اور معاصی اور گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ پس اگر ان کا یہ عمل ان کے لیے مواخذہ کو واجب کردے تو وہ کبھی بھی تو بہ کو نہ پاسکیں اور نہ مغفرت انہیں حاصل ہو سکے۔ پس اللہ تعالیٰ نے رجوع الی اللہ کے وقت توبہ قبول فرما کر ان پر معاملہ آسان کردیا اور اسلام کے بدلے انہیں مغفرت عطا فرما کر اور سابقہ سارے گناہوں کو گر کر ان پر معاملہ آسان فرما دیا، تاکہ یہ انہیں دین میں داخل ہونے کے زیادہ قریب کر دے اور مسلمانوں کے کلمہ کو قبول کرنے کی انہیں زیادہ عورت دے اور اگر انہیں یہ معلوم ہو کہ ان کا موخذہ کیا جائے گا تو نہ وہ توبہ کریں اور نہ اسلام قبول کریں (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 853۔ 852 ) ۔ اور صحیح مسلم میں ہے : جو لوگ تم سے پہلے تھے ان میں سے ایک آدمی نے ننانوں آدمیوں کو قتل کیا پھر اس کے ذہن میں خیال آیا کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے، چناچہ وہ ایک عبادت گزار کے پاس آیا اور اس سے پوچھا : کیا اس کے لیے کوئی توبہ کا ذریعہ ہے ؟ تو اس نے جواب دیا : تیرے لیے کوئی توبہ نہیں، پس اس نے اسے بھی قتل کردیا اور اس کے ساتھ سو مکمل ہوگئے (صحیح مسلم، کتاب التوبہ، جلد 2، صفحہ 359 ) ۔ الحدیث۔ پس تم عابد کے اس قول کی طرف دیکھو : تیرے لیے کوئی توبہ نہیں۔ تو جب اسے یہ معلوم ہوا تو وہ اس سے مایوس اور ناامید ہوگیا نتیجۃ اس نے اسے بھی قتل کردیا، تو یہ ہے رحمت سے مایوس ہونے والے کا فعل۔ پس بگانا اور نفرد دلانا مخلوق کو بگاڑ دیتا ہے اور آسانی و سہولت پیدا کرنا مخلوق کی اصلاح کرتا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب آپ کے پاس کوئی ایسا آدمی آتا جس نے قتل نہ کیا ہوتا اور وہ آپ سے پوچھتا : کیا قاتل کے لیے توبہ ہے ؟ تو آپ فرماتے : اس کے لیے کوئی توبہ نہیں، آپ اسے ڈرانے اور خوفزدہ کرنے کے لیے ایسا فرماتے۔ اور جب ایسا آدمی آتا جس نے قتل کیا ہوتا اور وہ سوال کرتا : کیا قاتل کے لیے توبہ ہے ؟ تو آپ اسے فرماتے : تیرے لیے توبہ ہے۔ آپ یہ اسے آسانی اور سہولت پہنچانے کے لیے اور تالیف قلب کیلیے فرماتے۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر : 3
ابن القاسم اور ابن وہب نے امام مالک (رح) سے ایسے آدمی کے بارے میں نقل کیا ہے جس نے حالت شرک میں طلاق دی اور پھر اسلام قبول کرلیا کہ اس کی طلاق نہیں ہے اور اسی طرح وہ آدمی جس نے قسم کھائی پھر اسلام قبول کرلیا تو اس پر حانث ہونتا نہیں۔ اور اسی طرح وہ آدمی جس پر یہ چیزیں واجب ہوئیں تو اس کے لیے (اسلام کے سبب) مغفرت اور بخشش ہے، لیکن وہ آدمی جس نے کسی مسلمان پر افتراء باندھا پھر اسلام قبول کرلیا یا سامان چوری کیا پھرا سلام قبول کرلیا تو اس پر افترا پردازی اور چوری کی حد قائم کی جائے گی۔ اور اگر کسی نے زنا کیا اور پھر اسلام لے آیا یا کسی مسلمان عورت کو غصب کیا پھر اسلام قبول کرلیا تو اس سے حد ساقط ہوجائے گی۔ اور اشہب نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ وہ سب مراد لے رہا ہے جو اسلام سے پہلے ہوچکا، چاہے اس کا تعلق مال سے ہو یا دم سے یا کسی اور شے سے۔
علامہ ابن عربی نے کہا ہے : یہی صحیح اور درست ہے، کیونکہ ہم پہلے قول باری تعالیٰ : آیت : قل للذین کفروا ان ینتھوا یغفرلھم ما قد سلف اور حدیث طیبہ : الاسلام یھدم ما قبلہ کی عمومیت بیان کرچکے ہیں اور اس کی دلیل وہ بھی ہے جو ہم نے آسانی باہم پہنچانے اور نفرت نہ دلانے کا معنی بیان کیا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : جہاں تک حربی کافر کا تعلق ہے تو اس نے حالت کفر میں دار الحرب میں جو کچھ بھی کیا ہے اس کے (اسلام کے سبب) ساقط ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور اگر وہ امان لے کر ہمارے پاس آیا اور کسی مسلمان پر تہمت لگا دی تو اسے حد لگائی جائے گی اور اگر اس نے چوری کی تو اسے قطع ید کی سزا دی جائے گی۔ اور اسی طرح ذی نے جب کسی پر قذف لگائی تو اسے اسی کوڑے حد لگائی جائے گی اور جب اس نے چوری کی تو اس کا ہاتھ کا تا جائے گا اور اگر اس نے کسی کو قتل کیا تو اسے قصاصا قتل کیا جائے گا۔ اور اسلام اس سے ان کو ساقط نہیں کرے گ۔ کیونکہ اس نے اپنا عہد حالت کفر میں ہی توڑ دیا ہے۔ یہ ابن قاسم وغیرہ کی روایت کے مطابق ہے۔ ابن منذر نے کہا ہے : ایسے نصرانی کے بارے میں اختلاف ہے جو زنا کرتا ہے پھر اسلام قبول کرلیتا ہے، حالانکہ اس پر مسلمانوں میں سے بینہ موجود ہے، پس حضرت امام شافعی (رح) سے بیان کیا گیا جب کہ وہ عراق میں تھے کہ اس پر نہ حد ہے اور نہ تغریب ( جلا وطنی) کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : آیت : قل للذین کفروا ان ینتھوا یغفرلھم ما قد سلف۔
ابن منذر نے کہا ہے : یہ اس کے موافق ہے جو امام مالک (رح) سے روایت کیا گیا ہے۔ اور ابو ثورنے کہا ہے : جب اس نے اقرار اس حال میں کیا کہ وہ مسلمان تھا کہ اس نے حالت کفر میں زنا کیا ہے تو اس پر حد قائم کی جائے گی۔ اور کوفی سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا ہے : اسے حد نہیں لگائی جائے گی۔
مسئلہ نمبر : 4
رہا مرتد جب وہ اسلام قبول کرلے درآنحالیکہ اس کی کئی نمازیں فوت ہوچکی ہوں، اس نے کئی جرائم کا ارتکاب کیا ہو اور مال ضائع کیے ہوں، تو اس کے بارے کہا گیا ہے : اس کا حکم کا فراصلی جیسا ہے جب وہ اسلام قبول کرے یا اس سے کسی شے کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا جو کچھ اس نے حالت ارتداد میں کیا۔ امام شافعی رنے اپنے ایک قول میں کہا ہے : اس کے ذمہ اللہ تعالیٰ اور آدمیوں کے تمام حقوق لازم ہوتے ہیں، دلیل یہ ہے کہ آدمیوں کے حقوق اس کے ذمہ لازم ہیں تو پھر واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی اس پر لازم ہوں۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے : جو اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں وہ ساقط ہوجائیں گے اور جو آدمی حقوق ہیں وہ ساقط نہ ہوں گے۔ علامہ ابن عربی نے کہا : یہی ہمارے علماء کا قول ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے حق سے مستغنی ہے اور آدمی اپنے حق کا محتاج ہے۔ کیا آپ جانتے نہیں ہیں کہ حقوق اللہ بچوں پر واجب نہیں ہوتے لیکن حقوق العباد ان پر لازم ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے : ارشاد باری تعالیٰ : آیت : قل للذین کفروا ان ینتھوا یغفرلھم ما قد سلف اللہ تعالیٰ کے حقوق عام ہے (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 854۔ 853 ) ۔
مسئلہ نمبر : 5
قولہ تعالیٰ : آیت : وان یعودوا مراد قتال کی طرف لوٹنا ہے، کیونکہ لفظ عاد جب مطلق آئے تو اس حالت کی طرف لوٹنے کو متضمن ہوتا ہے جس پر انسان پہلے ہو اور پھر اس حالت سے ( نئی حالت کی طرف) منقل ہو۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : ہم اس آیت میں ان کفار کے لیے ایسی کوئی حالت نہیں پاتے جو سوائے قتال کے ہماری ذکر کردہ کسی کیفیت سے مشابہت رکھتی ہو۔ اور کفر کی طرف لوٹنے کی تاویل کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ کفر سے جدا ہوئے ہی نہیں اور ہم نے عاد کے بارے میں جو کہا ہے کہ جب یہ مطلق ہو ( تو اس کی وجہ یہ ہے) کیونکہ یہ کلام عرب میں کبھی مبتدا اور خبر پر داخل ہوتا ہے، تو اس وقت یہ بمعنی صار ہوتا ہے، جیسا کہ آپ کہتے ہیں : عاد زید ملکا مراد ہے صار زید ملکا (زید بادشاہ ہوگیا) اور اسی پر امیہ بن ابی صلت کا قول ہے :
تلک المکارم لاقعبان من لبن شیبا بماء فعادا بعد ابوالا (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 527 )
اور یہ اس حالت کی طرف لوٹنے کو متضمن نہیں جس پر لوٹنے والا اس سے پہلے تھا۔ پس یہ اپنی خبر کے ساتھ مقید ہے اس کے بغیر اقتصار جائز نہیں، پس اس کا حکم صار کے حکم کی طرح ہے۔
قولہ تعالیٰ : آیت : فقد مضت سلت الاولین یہ عبارت وعید، تہدید اور تمثیل تمام کو جامع ہے ان کے ساتھ جو زمانہ ماضی کی امتیں اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ ہلاک ہوئیں۔
Ayahs 8:39–40آیت نمبر : 39۔ 40
قولہ تعالیٰ : آیت : وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ یعنی اور لڑتے رہو ان سے یہاں تک کہ کفر باقی نہ رہے ( یعنی اس میں فتنہ سے مراد کفر ہے) آیت کے آخر تک معنی و مفہوم اور اس کے الفاظ کی تفسیر سورة البقرہ اور دیگر مقامات پر گزر چکی ہے۔ والحمد للہ