8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 8:42

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا اور اگر تم (جنگ کے لئے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم و تاخیر ہوجاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے ہی کر ڈالے۔ تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے۔

قولہ تعالیٰ : اذا انتم بالعدوۃ الدنیا وھم بالعدوۃ القصوٰی، ای انزلنا ازانتم الخ یعنی ہم نے نازل کیے جب تم اس اور کسرہ دونون کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ ضمہ کی صورت میں جمع عدی ہوگی اور کسرہ کی صورت میں جمع عدی ہوگی جیسا کہ اور قصا یقمو سے ہے اور کہا جاتا ہے : القصیا اس میں اصل دائو ہے اور اہل حجاز کی لغت کے مطابق قصویٰ ہے پس الدنیا سے مراد وادی کا وہ کنارہ ہے جو مدینہ طیبہ کی جانب ہے اور قصویٰ وہ ہے جو مکہ مکرمہ کی طرف ہے، یعنی جب تم مدینہ طیبہ کی طرف جانب قریب وادی کے کنارے اترے وہئے تھے اور تمہارا دشمن دور کی جانب تھا۔ والرکب اسفل منکم یعنی ابو سفیان وغیرہ کا تجارتی قافلہ تم سے نیچے کی طرف تھا۔ وہ ایسی جگہ میں تھے جو ان سے ساحل سمندر کی جانب بہت نیچے تھی اور اس میں سازو سامان تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ وہ اونٹ ہیں جو ان کا سازو سامان اٹھائے ہوئے تھے۔ اور وہ ایسی جگہ میں تھے جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی تائید وتوفیق سے محفوظ و مامون تھے ( یعنی انہیں سامان کے ضیاع کا کوئی اندیشہ اور خطرہ نہ تھا) پس اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی وہ نعمت یاد دلائی جو ان پر فرمائی۔ الرکب مبتدا ہے اور اسفل منکم ظرف محل خبر میں ہے۔ یعنی مکانا افل منکم اور خفش اور کسائی اور فراء نے والرکب افل منکم کو بھی جائز قرار دیا ہے ای اشد تسفلا منکم ( یعنی قافلہ تم سے بہت زیادہ نیچے کی طرف تھا) اور الرکب کی جمع ہے۔ اور عرب صرف اونٹ سو اروں کی جماعت کے لیے الرکب کا لفظ بولتے ہیں۔ ابن سکیت اور اکثر اہل لغت نے بیان کیا ہے کہ راکب اور الرکب والا رکب الرکبان اور کبون صرف وہ ہوتے ہیں جو اونٹوں پر سوار ہوں۔ یہ ابن فارس سے منقول ہے۔ ولو تواعدتم لاختلفتم فی المیعد یعنی ان کی کثرت اور تمہاری قلت کے سبب اتفاق نہ ہو سکتا، کیونکہ تم اگر ان کثرت اور زیادتی کو پہچان لیتے تو تم پیچھے ہٹ جاتے پس اللہ تعالیٰ نے تمہیں تو فیق عطا فرما دی۔ ولکن لمقضی اللہ امرا کان مفعولا تاکہ اللہ تعالیٰ مومنین کی مدد اور دین کو غالب کرنے کا وہ کام کر دکھائے جو ہو کر رہنا تھا۔ لیقضی میں لا حل ذکر کیا اور فرمایا لیھلک، ای جمعھم ھتالک لیقضی امرا ( انہیں وہاں جمع کیا تاکہ وہ کام پورا کر دے) لیھلک من ھلک اس میں من محل رفیع میں ہے۔ ویحی یہ لھلک پر معطوف ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ اور بینۃ کا معنی ہے حجت اور دلیل ئم کرنا، یعنی تاکہ وہ مر جائے جسے مرنا ہے ایسی حجت اور دلیل کے ساتھ جسے اس نے دیکھ لیا ہے اور ایسی عبرت کے ساتھ جس کا اس نے معائنہ کرلیا ہے، پس اس پر حجت قائم ہوجائے۔ اور اسی طرح زندہ رہے (دلیل کے ساتھ) جس نے زندہ رہنا ہے۔ ابن اسحاق نے کہا ہے : تاکہ کفر کرے جس نے کفر کرنا ہے ایسی حجت اور دلیل کے بعد جو اس پر قائم ہوچکی ہے اور اس نے اس عذر ختم کردیا ہے اور اسی طرح وہ ایمان لائے جس نے ایمان لانا ہے (1) من حی دویا کے ساتھ اصل پر رکھتے ہوئے بھی پڑھا گیا ہے۔ اور ایک یا مشددہ کے ساتھ بھی، پہلی اہل مدینہ، بزی اور ابوبکر کی قراءت ہے۔ اور دوسری باقیوں کی قراءت ہے اور یہی ابو عبید کی پسند ہے، کیونکہ یہ اسی طرح مـصحف (عثمانی) میں واقع ہے۔ ( آیت نمبر 42) حضرت مجاہد ؓ نے بیان کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے اپنے خواب میں انہیں قلیل دیکھا اور پھر اسے اپنے اصحاب کے سامنے بیان فرمایا تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں پختہ اور ثابت قدم کردیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : منام سے مراد سونے کی جگہ ہے اور معین ہے، یعنی آپ نے اپنے سونے کی جگہ میں انہیں قلیل دیکھا، پھر اس سے مضاف ( لفظ موضع) حذف کردیا گیا ہے۔ یہ حسن سے منقول ہے۔ زجاج نے کہا ہے : یہ مذہب حسن اور اچھا ہے، لیکن پہلا عربی میں زیادہ جائز ہے، کیونکہ یہ ارساد بھی ہے : واذیریکموھم ازالتقیتم فی اعیدنکم قلیلا وقللکم فی اعینھم ( الانفال :44) تو اس سے اس پر دلیل ہے کہ یہ مقابلہ کے وقت کی رویت کا ذکر ہے اور وہ نیند کی رئویت کا ذکر ہے۔ اور لفشلتم کا معنی ہے تم جنگ سے بزدلی کا اظہار کرتے ( ہمت ہار دیتے) ولتنا زعتم فی الامر اور اس معاملے میں تمہارا اختلاف ہوجاتا۔ ولکن اللہ سلم یعنی اللہ نے تمہیں مخالفت سے بچا لیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : اس نے تمہیں بزدلی سے بچالیا۔ یہاں دونوں کا اجتمال ہو سکتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے سلم یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا معاملہ کامیابی و فتح کے ساتھ مکمل کردیا۔ ( آیت نمبر 44)
Ayahs 8:43–45

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے۔ لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچالیا۔ بیشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے۔

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام کرنا منظور تھا اسے کر ڈالے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

مومنو ! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ مراد حاصل کرو۔

قولہ تعالیٰ : واذیریکموھم اذا التقیتم فی اعینکم قلیلا یہ رویت حالت بیداری میں تھی۔ اور پہلی آیت میں بھی رئویت کو بیداری کی حالت پر محمول کرنا جائز ہے جب آپ یہ کہیں کہ منام سے مراد سونے کی جگہ ہے اور وہ معین ہے، پس اس بنا پر پہلی رئویت حضور نبی مکرم ﷺ کے ساتھ خاص ہے اور یہ تمام کے لیے ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان کیا ہے : میں نے بدر کے دن ایک آدمی کو کہا جو میرے پہلو میں تھا : کیا تو انہیں ستر دیکھ رہا ہے ؟ تو اس نے کہا : وہ تقریبا سو ہیں۔ پھر ہم نے ایک آدمی کو قید کیا تو ہم نے اس سے پو چھا : تم کتنے تھے ؟ تو اس نے بتایا : ہم ہزار تھے (1) ۔ ویقللکم فی اعیھم یہ صورت حال جنگ کی ابتداء میں تھی یہاں تک کہ ابوجہل نے اس دن کہا : یہ تو اونٹ کے گوشت کا ایک نوالا ہیں۔ تم انہیں مضبوطی سے پکڑ لو اور تم انہیں رسیوں کے ساتھ باندھ دو ۔ پس جب جنگ شروع ہوئی تو مسلمان ان کی نظروں بڑھ گئے اور بہت زیادہ ہوگئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : یرونھم مثلیمھم رائی العین ( آل عمران : 13) ” دیکھ رہے تھے ( مسلمان انہیں) اپنے سے دو چند ( اپنی) آنکھوں سے “ ، جیسا کہ اس کا بیان سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ لیقضی اللہ امر کان مفعولا اس کا تکرار ہے، کیونکہ پہلے میں معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ مقابلے سے وہ کام کر دکھائے اور اس دوسرے میں ہے کہ مشرکین کے قل اور دین کو غالب کر کے اللہ تعالیٰ وہ کام کر دکھائے۔ اور یہ مسلمانوں پر اتمام نعمت ہے۔ والی اللہ ترجع الامور یعنی امور کا انجام اور ان کا لوٹنا اسی کی طرف ہے۔ ( آیت نمبر قولہ تعالیٰ : واذکرو اللہ کثیر العلکم تفلحون اس ذکر کے بارے میں علماء کے تین اقوال ہیں : (1) تم اپنے دلوں کی گھبراہٹ کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو، کیونکہ اس کا ذکر شدائد اور سختیوں میں ثبات اختیار کرنے پر معاون ہوتا ہے۔ (2) تم اپنے دلوں کو مضبوط اور پختہ رکھو اور اپنی زبانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو، کیونکہ دل مقابلہ کے وقت پرسکون نہیں رہتے اور زبان مضطرف ہوجاتی ہے۔ پس ذکر کا حکم ارشاد فرمایا یہاں تک دل یقین پر ثابت اور پختہ ہوجائے اور زبان ذکر پر ثابت ہوجائے اور وہ کچھ کہے جو اصحاب طالوت نے کہا : ربنا افرغ علینا صبر وثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکفرین۔ ( البقرہ) ” اے ہمارے رب ! اتار ہم پر صبر اور جمائے رکھ ہمارے قدموں کو اور فتح دے ہمیں قوم کفار پر “۔ اور یہ حالت صرف قوت معرفت اور نور بصیرت کے ساتھ ہی حاصل ہو سکتی ہے اور یہی وہ شجاعت اور بہادری ہے جو لوگوں میں قابل تعریف ہے۔ (3) یاد کرو اسے جو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اس بارے میں کہ اس نے تمہارے نفسوں کو خریدا ہے اور اسے تمہارے لیے عوص بنایا ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اظہر قول یہ ہے کہ مراد زبان کا ذکر ہے جو دل کے موافق ہو۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا ہے : اگر ذکر چھوڑنے کے بارے میں کسی کو رخصت دی جاتی تو حضرت زکریا (علیہ السلام) کو رخصت دی جاتی۔ اللہ عزو جل ارشاد فرماتا ہے : الاتکلم الناس ثلثۃ ایام الارمزا وذکر ربک کثیرا ( آل عمران :41) ” کہ نہ بات کرسکو گے لوگوں سے تین دن مگر اشارہ سے اور یاد کرو اپنے پروردگار کر بہت) اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر اپنے بندوں پر فرض کیا ہے اور اس نے انہیں تلواروں کے ساتھ جنگ لڑتے وقت بھی اس میں مشغول رکھا ہے۔ اور اس ذکر کا حکم یہ ہے کہ وہ خفی ہو، کیونکہ جنگ کے مقامات میں آواز کو بلند کرنا ردی اور مکروہ ہے جب کہ ذکر کرنے والا ایک ہو، لیکن حملہ کے وقت جب ذکر کرنے والی جماعت ہو تو ( آواز بلند کرنا) اچھا ہے، کیونکہ یہ دشمن کی قوت کو توڑ دیتا ہے۔ اور ابودائود نے قیس بند عباد سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اصحاب جنگ کے وقت آواز بلند کرنا ناپسند کرتے تھے۔ ابو بردہ نے اپنے باپ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے اس کی مثل روایت بیان کی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : جنگ کے وقت ناک اور منہ پر کپڑا لپیٹنا مکروہ ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : اسی وجہ سے سرحد پر پڑائو ڈالنے والوں نے جنگ کے وقت ناک اور منہ پر کپڑا نہ لپیٹنے کا طریقہ اختیار کیا ہے تاکہ وہ اس قول پر عمل پیرا ہو سکیں۔ واللہ اعلم ( آیت نمبر
Ayah 8:46

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور خدا اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر چلو (اور آپس میں جھگڑا نہ کرو کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کی مددگار ہے۔

قولہ تعالیٰ : واطعیو اللہ ورسولہ ولا تنازعوا یہ ان کے لیے وصیت پر اسمرا ہے اور بدر کے معاملہ میں ان کے اختلاف اور ان کے تنازع کی صورت میں ان کے ہاتھوں کو پکڑنا ہے۔ فتفشلوا یہ فا کے سبب منصوب ہے اور جواب نہی ہے۔ سیبویہ فا کے کے حذف اور جزم دینے کی اجزت نہیں دیتے لیکن کسائی نے اس کی اجازت دی ہے۔ شین کے کسرہ کے ساتھ فشلوا بھی پڑھا گیا ہے لیکن یہ غیر معروف ہے۔ وتذھب ریحکم یعنی تمہاری قوت اور تمہاری مدد و نصرت ختم ہوجائے گی۔ پھر یہ ایسے ہی ہے) جیسے تو کہتا ہے۔ الریح الفلان ( ہوا تو فلاں کے لیے ہے)ٌ جب وہ المر میں غالب ہو۔ شاعر نے کہا ہے۔ اذ ھبت ریاحک فاغتنمھا فان لکل حافقۃ سکون تو اس میں ریح اور ریاح سے مراد قوت اور مددو نصرت ہی ہے۔ حضرت قتادہ اور ابن زید نے کہا ہے : بیشک کبھی بھی مدد و نصرت حاصل نہیں ہوتی مگر ہوا کے ساتھ جو چلتی ہے اور کفار کے مونہوں پر جالگتی ہے۔ اس معنی میں حضور علیہ الصلوٰۃ السلام کا ارشاد بھی ہے : نصرت بالصبا واھلکت عاد بالدبور (1) ” میری باد صبا ( مشرق سے چلنے والی ہوا) کے ساتھ مدد کی گئی اور عاد کو دبور ( مغرب سے آنے والی ہوا) کے ساتھ ہلاک کیا گیا “ حکم نے کہا ہے : وتذھب ریحکم یعنی تمہاری باد صبا چلی جائے گی، جب کہ اس کے ساتھ حضور نبی مکرم ﷺ اور آپ کی امت کی مدد کی گئی ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : حضور نبی مکرم ﷺ کے صحابہ کرام کی ہوا کھڑ گئی جب احد کے دن وہ آپ میں جھگڑ پڑے۔ قولہ تعالیٰ : واصبرو ان اللہ مع الصبرین یہ صبر کے بارے میں حکم ہے اور یہ تمام مقامات میں قابل تعریب ہے بالخصوص میدان جنگ میں، جیسا کہ ارشاد فرمایا : اذ القیتم فیۃ فاثبتوا ( جب جنگ آزما ہو کسی لشکر سے تو ثابت قدم رہو)
Ayah 8:47

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لئے) اور لوگوں کو دکھانے کے لئے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔

( آیت 47) اس میں مراد ابو جہل اور اس کے وہ ساتھی ہیں جو بدر کے دن قافلے کی مدد نصرت کے لیے نکلے تھے۔ وہ دو شیزائوں گانا گانے والیوں اور آلات موسیقی کو ساتھ لے کر نکلے تھے۔ جب وہ حجفہ کے مقام پر پہنچے تو خفاف کنانی جو کہ ابو جہل کا دوست تھا اس نے اپنے بیٹے کے ہمراہ تحائف اور ہدایا اس کی طرف بھیجے اور کہا بھیجا : اگر و چاہے تو میں مردوں کے ساتھ تیری امداد کروں اور اگر چاہے تو میں بذات خود ہی اپنی قوم کے اونٹوں سمیت تیری امداد کو آجائوں۔ تو ابو جہل نے کہا : اگر ہماری جنگ اللہ تعالیٰ سے ہئی جیسا کہ محمد ﷺ گمان کرتے ہیں، تو قسم بخدا ! ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ لڑنے کی کوئی طاقت نہیں۔ اور اگر ہماری جنگ لوگوں سے ہوئی تو قسم بخدا ! ہمارے پاس لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لیے قوت اور طاقت ہے، قسم بخدا ! ہم محمد ﷺ سے جنگ کیے بغیر واپس نہیں لوٹیں گے بلکہ ہم بدر میں اتریں گے اور وہاں شراب پئیں گے، دوشیزائیں آلات موسیقی بجا کر ہمارے اوپر گیت پیش کریں گی، کیونکہ عرب کے میلوں میں سے بدر ایک میلہ ہے اور ان کی منڈیوں میں سے ایک منڈی ہے، یہاں تک کہ عرب ہمارے نکلنے کے بارے سن لیں گے اور پھر ہمیشہ تک ہم سے ڈرتے رہیں گے۔ پس وہ بدر میں جا اترے لیکن ان کی ہلاکت و بربادی میں سے جو ہوا سو ہوا۔ لغت میں البطر سے مراد اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ساتھ اور جو اللہ تعالیٰ نے اسے عافیت عطا فرمائی ہے اس سے معاصی اور گناہ پر قوت حاصل کرنا ہے یہ مصدر ہے اور حال کے محل میں ہے۔ ای خرجوابطرین مرائین صادین ( یعنی وہ نکلے اس حال میں کہ اترانے والے تھے، ریاکاری کرنے والے تھے، روکنے والے تھے) اور ان کے روکنے سے مراد لوگوں کو گمراہ کرنا ہے۔
Ayah 8:48

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کو دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل (صف آرا) ہوگئیں تو پسپا ہو کر چل دیا۔ اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے اور خدا سخت عذاب کرنیوالا ہے۔

روایت ہے کہ اس دن شیطان سراقہ بن مالک بن جعشم کی شکل میں ان کے پاس آیا اور سراقہ بن بکر بنی کنانہ میں سے تھا، اور قریش بنی بکر کے بارے خوف رکھتے تھے کہ کہیں وہ ان کے پیچھے آجائیں، کیونکہ انہوں نے ان کا ایک آدمی قتل کیا ہوا تھا۔ پس جب وہ اس شکل میں ان کے پاس آیا تو کہا : اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے اسے کوئی خبر نہیں دی۔ حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے : غزوہ بدر کے دن ابلیس اپنے چھنڈے اور اپنے لشکر کے ساتھ ان کے پاس آیا اور ان کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ وہ ہر گز شکست نہیں دیئے جاسکیں گے اور وہ اپنے آباء کے دین پر لڑ رہے ہیں۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور مومنین کی ہزار ملائکہ کے ساتھ امداد فرمائی۔ پس حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) پانچ سو مائ کہ کے ساتھ ایک طر ( میمنہ) میں تھے اور پانچ سو مالائ کہ کے ساتھ حضرت میکائیل (علیہ السلام) ایک طرف ( میسرہ) میں تھے اور ابلیس شیاطین کے لشکر میں آیا اور ان کے ساتھ بنی مدلج کے لوگوں کی صورت میں دستہ تھا اور شیطان سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں تھا۔ اور شیطان نے مشرکین کو کہا : آ ج کے دن لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور میں تمہارا نگہبان ہوں۔ پس جب قوم نے صفین بنالین تو ابو جہل نے کہا : اے اللہ ہم میں سے جو حق کے زیادہ قریب ہے اس کی مدد فرما۔ اور رسول اللہ ﷺ نے اپنا دست مبارک بلند کیا اور عرض کی یا رب انک انتھلک ھذا العصابتہ فلن تعبد فی الارض ابدا (1) ( اے میرے پروردگار ! اگر یہ جماعت ہلاک کردی گئی، تو پھر ہمیشہ کے لیے زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی) تو حضرت جبریل (علیہ السلام) نے کہا : ” مٹی کی ایک مشت اٹھائیے “۔ پس آپ ﷺ نے ایک مشت مٹی لی اور اسے ان کے چہروں پر پھینک دیا۔ اور مشرکین میں سے کوئی بھی نہ تھا مگر اس کی آنکھوں، نتھنوں اور اس کے منہ میں وہ مٹی پہنچی۔ تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گیا اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ابلیس کی طرف اور پھر وہ اور اس کا گروہ پیٹھ پھیر کر بھاگ پڑے۔ تو اس آدمی نے اسے کہا : اے سراقہ ! کیا تو نے یہ نہیں کہا تھا کہ تو ہمارا نگہبان اور محافظ ہے ؟ اس نے جواب دیا : بیشک میں تم سے بری الذمہ ہوں بیشک میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے۔ اسے بیہقی وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔ اور موطا میں امام مالک نے ابراہیم بن ابی عبلہ سے انہوں نے طلحہ بن عبید اللہ بن کریز سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” شیطان نے اپنے آپ کو یوم عرفہ سے بڑھ کر کسی دن بھی زیادہ اور بڑے بڑے گناہوں سے اللہ تعالیٰ کے درگزر کرنے کو دیکھا۔ مگر جتنا اس نے بدر کے دن ( اپنے آپ کو ذلیل و رسوا دیکھا) عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ﷺ بدر کے دن اس نے کیا دیکھا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ؛ ” بیشک اس نے حضرت جبریل امین کو دیکھا کہ وہ ملائکہ کو منظم و مرتب فرما رہے ہیں “ (2) نکص کا معنی لغت سلیم کے مطابق رجع ( لوٹنا ہے) ۔ یہ مورج وغیرہ سے منقول ہے اور شاعر نے بھی کہا ہے : یس النکوص علی الادبار مکرمۃ ان المکارم اقدائمر علی الاسل اور دوسرے شاعر نے کہا ہے : وما ینفع المستاخبریں نکومھم ولا ضر اھل السابقات التقدم یہاں الـٹے پائوں لوٹنا مراد نہیں بلکہ فرار ہونا مراد ہے، جیسا کہ ارشاد ہے : ” جب وہ اذان کی آواز سنتا ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے (1) اور اس کی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے “۔ انی اخاف اللہ کہا گیا ہے : ابلیس نے اپنے اس قول میں جھوٹ بولا ہے : انی اخاف اللہ (کہ میں اللہ تعالیٰ دے ڈرتا ہوں) لیکن اسے یہ علم تھا کہ اس کے پاس کوئی قوت و طاقت نہیں۔ اور جار کی جمع اجوار اور جیران لائی جاتی ہے۔ اور قلیل طور پر جیرۃ بھی آئی ہے۔
Ayahs 8:49–50

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں۔ ان کے من ہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (اب) عذاب آتش (کامزہ) چکھو۔

( آیت نمبر 49) کہا گیا ہے : منافق وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپائے رکھا۔ اور والذین فی قلوبھم مرض سے مراد شک کرنے والے ہیں اور وہ منافقین کے سوا تھے، کیونکہ ابھی وہ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور ان میں بعض ایسے بھی تھے جن کی نیتیں کمزور اور ضعیف تھیں۔ انہوں نے قتال کی طرف نکلتے وقت اور مقابلے کے لیے صفیں باندھتے وقت کہا : غرھولاء دینھم ” انہیں دن کے دین نے مغرور کردیا “۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : دونوں سے مراد ایک ہی قسم ہے۔ اور یہی اولیٰ ہے، کیا آپ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرف دیکھتے نہیں : الذین یومنون بالغیب ( البقرہ : 3) پھر فرمایا : والذین یومنون بما انزل الیک ( البقررہ :4) اور ان دونوں سے مراد ایک ہی قسم کے لوگ ہیں۔
Ayah 8:51

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

یہ ان (اعمال) کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں۔ اور یہ (جان رکھو) کہ خدا (بندوں پر) ظلم نہیں کرتا

( آیت نمبر 51) کہا گیا ہے : مراد وہ لوگ لیے ہیں جو باقی بچے اور بدر کے دن مارے نہ گئے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ان کے بارے میں ہے جو بدر میں قتل کردیئے گئے۔ اور لوکا جواب محذوف ہے، اس کی تقدیر عبادت یہ ہے : لرایت امراعظیما ” اگر تو دیکھے جب جان نکالتے ہیں کافروں کی فرشتے ......... تو تو امر عظیم کو دیکھتا “۔ یضربون یہ حال کے محل میں ہے۔ وجوھم وادبارھم ” اس حال میں کہ وہ مارتے ہیں ان کے چہروں اور پشتوں پر ”۔ یعنی ان کی سرینوں پر، کنایۃ اسے اوبار کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ یہ حضرت مجاہد اور حضرت سعید بن جبیر نے کہا ہے۔ حسن نے کہا ہے : ادبارھم سے مراد ان کی پشتیں ہیں اور کہا : بیشک کسی آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی بار گاہ میں عرض کی : یارسول ﷺ ، بیشک میں نے ابو جہل کی پیٹھ پر ( جوتے کے) تسمے کی مثل دیکھا ؟ تو آپ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” وہ ملائکہ کی ضرب تھی “ (1) ۔ اور کہا گیا ہے : یہ ضرب موت کے وقت لگتی ہے۔ اور کبھی یہ قیامت کے دن لگے گی جس وقت وہ انہیں جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ وذو قوا عذاب الحریق۔ فراء کے کہا ہے : اس کا معنی ہے ویقولون زوقوا اور کہتے ہیں۔ چکھو، پھر اسے حذف کردیا گیا ہے اور حسن نے کہا ہے : یہ قیامت کے دن ہوگا، انہیں جہنم پر مقرر فرشتے کہیں گے : تم آگ کا عذاب چکھو۔ اور یہ روایت ہے کہ بعض تفاسیر میں ہے کہ ملائکہ کے پاس ہو ہے کے بھاری گرز ہیں جب بھی وہ ان کے ساتھ مارتے ہیں تو زخموں میں آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ پس اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : وذوقوا عذاب الحریق ” اور چکھو آگ کا عذاب “ اور ذوق محسوسا بھی ہوتا ہے اور منعی بھی۔ اور کبھی اسے ابتلا اور امتحان کی جگہ رکھا جاتا ہے، جسیے تو کہتا ہے : ارکب حذا الفرس قذاقہ ( تو اس گھوڑے پر سوار ہو اور اسے چکھ ( یعنی اسے آزما) اور انظر فلانا فذق ما عندہ ( تو فلاں کی طرف دیکھ اور جو اس کے پاس اسے چکھ یعنی اس کا امتحان لے) شماخ نے گھوڑے کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا ہے : فذاق فاعطتہ من الدین جانبا کفی دلھا ان یگرق السھم حاجز اس اس کا اصل منہ کے ساتھ کسی شے کو چکھنا ہے۔ ذلک یہ محل رفع میں ہے، یعنی الامر ذالک یا دالک جزاء کم ( یہ تمہاری جزا اور بدلہ ہے) بما قدمت ایدیکم ان کا جو گناہ تم نے کیے ہیں۔ وان اللہ لیس ولظلام لعبید جب اس نے راستہ واضح کردیا۔ اور رسل علیم الصلوات والتسلیمات کو معبوث فرمایا ہے، تو پھر تم نے اس کا خلاف کیوں کیا ؟ اس میں ان محل جر میں ہے اس کا عطف ما پر ہے اور اگر چاہے تو اسے نصب دے لے، یعنی یہ بمعنی بان اور پھر با کو حذف کردیا گیا یا بمعنی وذالک ان اللہ ھو اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ ذالک پر عطف نسق کرتے ہوئے محل رفع میں ہو۔
Ayahs 8:52–55

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی انکا ہوا کہ) انہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا تو خدا نے ان کے گناہوں کی سزا میں ان کو پکڑ لیا۔ بیشک خدا زبردست (اور) سخت عذاب دینے والا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو نعمت خدا کسی قوم کو دیا کرتا ہے جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدل ڈالیں خدا اسے نہیں بدلا کرتا۔ اور اس لئے کہ خدا سنتا جانتا ہے۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا) انہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کی جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ اور وہ سب ظالم تھے۔

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

جانداروں میں سب سے بدتر خدا کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو کافر ہیں سو وہ ایمان نہیں لاتے۔

( آیت نمبر 52) ( آیت نمبر 53) یہ علت بیان ہو رہی ہے یعنی یہ سزا اس لیے ہے کہ انہوں نے تبدیل کردیا اور بدل ڈالا اور قریش پر اللہ تعالیٰ کا انعام شادابی، خوشحالی اور امن و عافیت کی صورت میں تھا، ( جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے) اولم یروا انا جعلنا حرما امنا ویبحطف الناس من حولھم الایہ ( العنکبوت :67) ” کیا انہوں نے ( غور سے) نہیں دیکھا کہ ہم نے بنا دیا ہے حرم کو امن والا حالانکہ اچک لیا جاتا ہے لوگوں کو ان کے آس پاس سے “ سدی (رح) نے کہا ہے : ان پر اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام حضور نبی مکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرای تھی تو انہوں نے آپ کا انکار کیا اور کفر کا ارتکاب کیا، پس آپ ﷺ مدینہ طیبہ منتقل ہوگئے اور مشرکین پر سزا و عذاب نازل ہو (1)
Ayahs 8:56–58

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

جن لوگوں سے تم نے (صلح کا) عہد کیا ہے پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں اور (خدا سے) نہیں ڈرتے۔

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

اگر تم انکو لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہوں وہ انکو دیکھ کر بھاگ جائیں۔ عجب نہیں کہ انکو (اس سے) عبرت ہو۔

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور اگر تم کو کسی قوم سے دغا بازی کا خوف ہو تو (ان کا عہد) انہیں کی طرف پھینک دو (اور) برابر (کا جواب دو ) کچھ شک نہیں کہ خدا دغابازوں کو دوست نہیں رکھتا۔

مسئلہ نمبر 2 ۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : اگر یہ کہا جائے کہ خیانت کے خوب کے ساتھ معاہدہ توڑنا کیسے جائز ہو سکتا ہے، حالانکہ خوف ظن ہے جس کے ساتھ یقین نہیں ہے، تو عہد کا یقین خیانت کے ظن کے ساتھ کیسے ساقط ہو سکتا ہے ؟ تو اس کا جواب دو اعتبار سے ہے : ان میں سے ایک یہ ہے کہ خوف کبھی یقین کے معنی میں آتا ہے، جیسا کہ رجائ) امید) علم (یقین) کے معنی میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشار فرمایا : مالکم لاترجون اللہ وقار۔ ( نوح) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم پرواہ نہیں کرتے اللہ کی عظمت و جلال کی) اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جب خیانت کے آثار ظاہر ہوجائیں اور اس کے دلائل ثابت ہوجائیں، تو معاہدہ کو توڑنا واجب ہوجاتا ہے تاکہ اس پر سرکشی کرنے والا ہلاکت میں نہ واقع کر دے اور اس حالت میں ضرورۃ یقین کو ساقط کرنا جائز ہے (1) اور رہی یہ صورت کہ جب یقینی علم حاصل ہوجائے تو پھر وہ ان کے پاس معاہدہ توڑنے کی اطلاع سے مستغنی ہوجاتا ہے، تحقیق حضور نبی مکرم ﷺ فتح مکہ کے سال اہل مکہ کی طرف چل پڑے، جب ان کی طرف سے معاہدہ توڑنے کی خبر مشہور ہوگئی، بغیر اس کے کہ آپ انہیں معاہدہ توڑنے کی اطلاع کرتے۔ النبذ کا معنی پھیکنا ( الرمی) اور چھوڑنا ( الرفض) ہے۔ اوازہری نے کہا ہے : اس کا معنی ہے جب تو کسی قوم کے ساتھ معاہدہ کرے تو تجھے ان کے بارے میں معاہدہ توڑنے کا علم ہوجائے تو معاہد تورنے سے پہلے ان پر حملہ نہ کر، یہاں تک کہ تو ان سے ملے اس حال میں کہ تع معاہدہ اور باہمی وعدہ توڑ چکا ہو، تاکہ وہ معاہدہ توڑنے کے علم میں برابر ہوجائیں، پھر ان پر حملہ کر دے، نحاس نے کہا ہے : یہ قرآن کریم کی ان آیات میں سے ہے جس کی مثل الفاظ کے اعتبار سے مختصر اور معافی کے اعتبار سے کثیر کلام میں نہیں پائی جاتی۔ اور اس کا معنی ہے : اگر تمہیں اس قوم کے بارے میں خیانت کا اندیشہ ہو کہ جس قوم اور تمہارے درمیان معاہدہ ہو تو ان کا معاہدہ توڑ دو ، یعنی انہیں کہ دو تحقیق میں نے تمہارا عہد توڑ دیا ہے اور میں تمہارے ساتھ جنگ کروں گا، تاکہ انہیں اس کا علم ہوجائے پس وہ تمہارے ساتھ علم میں برابر ہوجائیں گے اور تم ان سے قتال نہ کرو اس حال میں کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو اور وہ تمہارے ساتھ یقین رکھتے ہوں، کیونکہ یہ خیانت اور غدر ( دھوکہ) ہوجائے گا۔ پیر اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے قول کے ساتھ بیان کیا : ان اللہ لا یحب الخابین میں ( مفسر) کہتا ہوں : معاہدہ توڑنے کے بارے میں جو ازہری اور نحاس نے ذکر کیا ہے کہ اس کے ٹوٹنے کا علم ہونا چاہے فتح مکہ کے بارے میں حضور بنی مکرم ﷺ کا فعل اسے رد کرتا ہے، کیونکہ انہوں نے جب معاہدہ توڑا تو پھر آپ ﷺ ان کی طرف متوجہ نہیں ہوئے بلکہ فرمایا : الھم اقطاع خبر نا عنھم (2) اے اللہ ! ان کی جانب سے خبر کو یقین بنا دے) اور ان پر حملہ کردیا۔ اور یہ بھی آیت کا معنی ہے، کیونکہ ان کی طرف سے عہد توڑنے کے بارے میں ( اطلاع ہونا) اور اس کا علم رکھتے ہوئے عہد کو توڑدینا ان کی طرف سے عہد توڑنا ہی ہے اور ان کے ساتھ یہ مساوات اور عدل ہے، البتہ ان کی جانب سے علم نہ ہونے کے باوجود عہد کو توڑنا ہی ہے اور ان کے ساتھ یہ مساوات اور عدل ہے، البتہ ان کی جانب سے علم نہ ہونے کے باوجود عہد کو توڑنا نہ یہ حلال ہے اور نہ ہی جائز۔ ترمذی اور ابودائود نے سلیم بن عامر سے روایت نقل کی ہے انہوں نے کہا : حضرت امیر معاویہ ؓ اور رومیوں کے درمیان معاہدہ تھا اور آپ ان کے شہروں کی طرف چلتے رہے تاکہ قریب ہوجائیں یہاں تک کہ جب معاہدہ ( کی مدت) ختم ہوگئی تو ان پر حملہ کردیا، تو اتنے میں گھوڑے یا ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر ایک آدمی آیا وہ کہنے لگا : اللہ اکبر، اللہ اکبر (وعدہ وفا کرو، خیانت نہ کرو) پس انہوں نے اسے دیکھا تو ہو حضرت عمر و بن عنبسہ ؓ تھے۔ پس حضرت امیر معاویہ ؓ نے انہیں اپنی طرف بلا بھیجا اور ان سے استفسار کیا تو انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” وہ آدمی جس کے اور اس کی قوم کے درمیان معاہدہ ہو تو وہ گرہ کو نہ مضبوط کرے اور نہ اسے کھولے یہاں تک کہ اس کی مدت گزر جائے یا برابری کی بنیاد پر ان سے وعدہ توڑنے “ (1) ۔ پس حضرت معاویہ ؓ لوگوں کے ساتھ واپس لوٹ گئے، ترمذی نے کہا ہے : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اس میں السواء کا معنی اور اعتدال ہے۔ اور راجر کا قول ہے : فاضرب وجوہ الغدر الاعدائ حتی یجیبوک الی السواء اس میں سواء کا لفظ مساوات کے معنی میں ہے۔ اور کسائی نے کہا ہے : سوا کا معنی عدل ہے اور کبھی یہ بمعنی وسط ( درمیان) بھی ہوتا ہے اور اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : فی سواء لجحیم۔ ( الصافات) ( جہنم کے وسط میں) اور اسی معنی میں حسان کا قول ہے : یا ویح اصحاب البنی ورھطہ بعد المغیب فی سوائ الملحد فراء نے کہا ہے : اور کہا جاتا ہے فاتبذ الیھم علی سوائٍ پس اعلانیہ ان سے وعدہ توڑ دو نہ کہ سرا۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ امام مسلم نے حضرت بو سعید خدری ؓ سے روایت نقل کی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ہر خیانت کرنے والے کے لیے جھنڈا ہوگا وہ اس کے لیے اس کی خیانت اور وعدہ خلافی کی مقدار سے بلند کیا جائے گا اور امیر عام ( سلطان وقت) سے بڑھ کر خیانت کرنے والا کوئی نہ ہوگا “ (2) ہمارے علماء رحمتہ اللہ علیہم نے کہا ہے : امام وقت کے حق میں غدر اور خیانت کسی دوسرے کے مقابلے میں زیادہ اور فحش ترین ہے کیونکہ اس میں فساد اور بگاڑ زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ جب یہ خیانت کریں اور ان کی طرف سے یہ معلوم ہوجائے اور وہ معاہدہ نہ توڑیں تو پھر دشمن کو ان کے کسی عہد اور صلح پر اعتماد اور امن نہیں ہوگا، نتیجہ اس کی قوت و طاقت سخت اور مضبوط ہوجائے گی اور اکا ضررو نقصان بڑھ جائے گا اور یہ دین میں داخل ہونے سے متنفر کر دے گا اور ائمہ مسلمین کی مذمت کا موجب ہوگا۔ لیکن جب دشمن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہو تو پھر چاہے کہ اس کے خلاف ہر حیلہ استعمال کرے اور ہر چال اس پر آزمائے اور اس پر حضور نبی مکرم ﷺ کا یہ ارشاد ابھارتا ہے : الحرب خدعۃ (1) ( تو جنگ توحیلہ اور چال ہے) اور علماء نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے کہ معاہدہ توڑنے والے امام کی معیت میں جہاد کیا جائے گا ؟ تو اس بارے دو قول ہیں : اکثر نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس کی معیت میں قتال نہیں کیا جائیگا، بخلاف خائن ( خیانت کرنے والا) اور فاسق کے۔ اور بعض نے کہا کہ اس کے ساتھ مل کر جہاد کیا جائے گا۔ یہ دونوں قول ہمارے مذہب میں ہیں۔
Ayahs 8:59–60

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور کافر یہ نہ خیال کریں کہ وہ بھاگ نکلے ہیں۔ وہ (اپنی چالوں سے ہم کو) ہرگز عاجز نہیں کرسکتے۔

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور جہاں تک ہو سکے (فوج کی جمعیت کے) زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے (مقابلے کے) لئے مستعد رہو کہ اس سے خدا کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی اور تم جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائیگا۔ اور تمہارا ذرا نقصان نہ کیا جائیگا۔

( آیت نمبر 59) قولہ تعالیٰ : والا یحسبن الذین کفرو اسبقوا یعنی وہ واقعہ بدر سے بچ گئے اور حیات کی طرف نکل گئے۔ پھر نیا کلام فرمایا اور ارشاد فرمایا : انھم لایعجزون بیشک وہ دنیا میں عاجز نہیں کرسکتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان پر فتح کامرائی عطا فرما دے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا : مراد آخرت میں عاجز نہیں کر سکنا ہے۔ اور یہ حسن کا قول ہے۔ ابن عامر، حفص اور حمزہ نے یحسبن یا کے ساتھ اور باقیوں نے تا کے ساتھ قراءت کی ہے، اس بنا پر فعل میں ضمیر فاعل ہو۔ اور الذین کفرو مفعول اول ہو۔ اور سبقوا مفعول ثانی ہو۔ اور رہی یا کی قرات تو اس کے بارے نحویوں کی ایک جماعت جن میں سے ابوحاتم بھی ہیں، کا خیال ہے کہ یہ غلطی (لحن) ہے اس کے ساتھ قراءت جائز نہیں ہے اور نہ اس کے لیے وسعت ہے جو اعراب کو جانتا ہے یا سے پہچان کرا دی جائے۔ ابو حاتم نے کہا ہے : کیونکہ یحسبن مفعول کے ساتھ مذکور نہیں حالانکہ وہ دو مفعولوں کا محتاج ہے۔ نحاس نے کہا ہے : یہ انتہائی تکلیف وہ بات ہے، قراءت جائز ہے اور معنی یہ ہوگا : ولا یحسبن من خلفھم الذین کفرواسبقوا ” یعنی پیچھے رہ جانے کافر گمان نہ کریں وہ بچ کر نکل گئے “۔ پس ضمیر اس کی طرف لوٹ رہی ہے جو پہلے گزر چکا، مگر تا کے ساتھ قراءت جائز نہیں ہے اور نہ اس کے لیے وسعت ہے جو اعراب کو جانتا ہے یا سے پہچان کر ادی جائے۔ ابو حاتم نے کہا ہے : کیونکہ یحسبن مفعول کے ساتھ مذکورہ نہیں حالانکہ وہ دو مفعولوں کا محتاج ہے۔ نحاس نے کہا ہے : یہ انتہائی تکلیف دہ بات ہے، قراءت جائز ہے اور معنی یہ ہوگا : لایحسبن من خلفھم الذین کفرواسبقوا ” یعنی پیچھے رہ جانے والے کافر گمان نہ کریں وہ بچ کر نکل گئے “۔ پس ضمیر اس کی طرف لوٹ رہی ہے جو پہلے گزر چکا، مگر تا کے ساتھ قراءت کرنا زیادہ بین اور واضح ہے۔ مہدوی نے کہا ہے : جنہوں نے یا کے ساتھ پڑھا ہے اس میں یہ احتمال ہے کہ فعل میں ضمیر حضور نبی مکرم ﷺ کے لیے ہو اور الذین کفروسبقوا دو مفعول ہوں۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ الذین کفرو فائل ہو اور مفعول اوّل مخدوف ہو۔ اس کا معنی ہوگا : وال ٰحسبن الذین کفروا انفسھم سبقوا ” کافر اپنے بارے میں یہ گمان نہ کریں وہ بچ کر نکل گئے “۔ مکی نے کہا ہے : یہ جائز ہے کہ سبقوا کے ساتھ ان مضمر ہو اور یہ دو مفعولوں کے قائم مقام ہوجائے اور تقدیر عبارت اس طرح ہو : لایحسبن الذین کفروا ان سبقوا پس یہ اس ارشاد کی مثل ہوا : احسب الناس ام یتر کوا ( العنکبوت :2) اس میں کہ ان قائم مقام دو مفعلوں کے ہے۔ ابن عامر نے انھم لا یعجزوں میں ہمزہ کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور ابو حاتم اور ابو عبید نے اس قراءت کو مستبعد قرار دیا ہے۔ ابو عبید نے کہا ہے : یہ اس بنا پر جائز ہے کہ معنی اس طرح ہو : ولا تعسبن الذین کفرو انھم لا یعجزون۔ نحاس نے کہا ہے : جو کچھ ابو عبید نے ذکر کیا ہے بصری نحویوں کے نزدیک وہ جائز نہیں، (کیونکہ) جست زیدا انہ خارج کہنا جائز نہیں مگر مزہ کے کسرہ کے ساتھ ( جائز ہے) اور بلا شبہ یہ جائز نہیں کیونکہ یہ مبتدا کے محل میں ہے، جیسے تو کہتا ہے : حسبت زیدًا، ابرہ خارج، اور اگر آپ فتحہ دیں تو معنی ہاگا جست زیدا خروجہ اور یہ محال ہے او اس میں یہ بعد بھی ہے کہ جو کچھ انہوں نے کہا ہے اس کے ساتھ معنی کے صحیح ہونے کی کوئی صورت نہیں، مگر یہ کہ لاکوزائد بنایا جائے اور کتاب اللہ میں کسی حرف کو قابل تسلیم حجت کے بغیر تطول اوزیارت کی طرف پھیرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ اور قرات جید یہ ہے کہ معنی اس طرح ہو : لانھم لایعجزون ( کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ ) مکی نے کہا ہے : پس معنی یہ ہے : لا یحسبن الکفار انفسھم فاتوا الانھم لایعجزون ای لایفوتون ( کفار اپنے بارے میں یہ گمان نہ کریں کہ وہ بچ گئے کیونکہ وہ بچ نہیں سکتے) پس ان لام کے حذف کے ساتھ نصب کے محل میں ہے یا لام کے عمل کرنے کی صورت میں محل جر میں ہے، کیونکہ انکے ساتھ ان کا حذف کثرت سے پایا جاتا ہے اور یہی خلیل اور کسائی سے روایت کیا گیا ہے۔ اور باقیوں نے ان کو کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، کیونکہ یہ جملہ مستانفہ ہے اور فاقبل سے منقطع ہے اور یہی پسندیدہ ہے، کیونکہ اس میں تاکید کا معنی ہے اور اس لیے بھی کہ جمہور کا موقف یہی ہے۔ اور ابن محیصن سے روایت ہے کہ انہوں نے لایعجزون تشدید اور نون کے کسرہ کے ساتھ قراءت کی ہے۔ نحاس نے کہا ہے : یہ دو وجہوں سے غلط ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ عجزہ کا معنی ہے ضعفہ و ضعف امرہ کسی کو کمزور کردینا اور کسی کے کام کو کمزور کردینا) اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کا دو نونوں کے ساتھ ہونا واجب ہے۔ اور اعجزہ کا معنی ہے سبقہ و فاتہ حتی لم یقد رعلیہ ( کسی سے بچ نکلنا اور مفقود ہوجانا یہاں تک کہ وہ اس پر قادر نہ ہو سکے) ( آیت نمبر 60) مسئلہ نمبر 1 : قولہ تعالیٰ : واعدوالھم اللہ سجا نہ و تعالیٰ نے مومنوں کی دشمنوں کے لیے قوت و طاقت تیار رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے بعد اس کے کہ پہلے تقویٰ کی تاکید فرمائی، کیونکہ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو وہ انہیں محض کلام کے ساتھ، ان کے چہروں پر تھوکنے کے ساتھ اور مٹی کی ایک مشت ان پر ڈالنے کے ساتھ شکست اور ہزیمت سے دو چار کر دے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا لیکن اس نے چاہا کہ وہ بعض لوگوں کو ایسی بعض چیزوں کے ساتھ آزمائے جو پہلے سے اس کے علم میں ہیں اور اس کی قضا و قدران میں نافذ ہے۔ جب بھی خیر اور نیکی میں سے کوئی شے تو اپنے دوست کے لیے یاشر اور تکلیف میں سے کوئی اپنے دشمن کے لیے تیار کرے گا توہ وہ تیری اس تیاری میں داخل ہوگی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہاں قو سے مراد ہتھیار اور قوسیں ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت عقبہ بن عامر ؓ دے روایت ہے انہوں نے بیان کیا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اس حال میں کہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے : ” اور تم ان کے لیے تیار رکھوقوت و طاقت میں سے جتنی استطاعت رکھتے ہو خبر دار سنو ! بیشک قوت تیر پھینکنا ہے، خبر دار سنو ! بیشک قوت تیر مارنا ہے، خبر دار سنو ! بیشک قوت تیر پھینکنا ہے “ (1) ۔ یہ نص ہے جسے حضرت عقبہ سے ابو علی ثمامتہ بن ہمدانی نے روایت کیا ہے اور ان کی صحیح میں اس کے سوا ( کو ائی روایت) نہیں ہے۔ اور ری کے بارے میں حضرت عقبہ سے ایک دوسری حدیث بھی مروی ہے انہوں نے بیان کیا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب تم پر زمین فتح کردی جائے گی اور اللہ تعالیٰ تمہیں کافی ہوگا پس چاہے کہ تم میں سے کوئی اپنے تیروں کے ساتھ کھیلنے ( یعنی انہیں چلانے) سے عاجز نہ ہو “ (2) ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ہر شے جس کے ساتھ آدمی کھیلتا ہے وہ باطل ہے سوائے اپنی قس کے ساتھ تیر اندازی کرنے کے، اپنے گھوڑے کو ادب سکھانے ( یعنی اسے سدھارنے کے) اور اسکے اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنے ( اظہار محبت کرنے) کے، کیونکہ یہ حق ہے “ (3) ۔ اس کا معنی تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہر وہ شے جس کے ساتھ آدمی کھیلتا ہے اور وہ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں کوئی فائدہ نہ دے تو وہ باطل ہے اور اس سے اعراض کرنا، بچنا اولیٰ ہے۔ اور یہ تینوں امور ہیں کہ اگر آدمی انہیں اس ارادہ پر کرتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ کھیلے اور چست اور ہشاش بش اس ہو، تو یہ حق اور درست ہیں کیونکہ ان کا اتصال نفع بخش اور مفید چیز کے سا تھے ہے، کیونکہ قوس کے ساتھ تیر اندازی کرنا اور گھوڑے کی تادیب سبھی امور جنگ میں معاون و مددگار ہیں۔ اور اہلیہ کے ساتھ کھیلنا اور محبت کا اظہار کرنا اس امر تک پہنچاتا ہے کہ اس سے ایسا بچہ پیدا ہو جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرے اور اس کی عبادت کرے گا۔ پس اس حیثیت سے یہ تینوں امور حق اور صحیح ہیں۔ سنن ابی دائود، ترمذی اور نسائی میں حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی مرکم ﷺ نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ساتھ تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا ایک اسے بنانے والا جو اسے بناتے وقت خیر اور نیکی کی نیت کرنا تا ہے اور دوسرا اسے پھینکنے والا اور تیسرا وہ جس کو تیر ما را جائے یا دجائے “ (4) ۔ تیر اندازی کی فضیلت عظیم ہے اور مسلمانوں کے لیے اس کی منفعت اور فوائد بہت زیادہ ہیں۔ اور کافروں پر اسکی مضرت اور تکلیف انتہائی شید اور سخت ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اے نبی اسمایل ! تیر اندازی کیا کرو کیونکہ تہمارے آباء تیراندازی کرتے تھے “۔ اور گھوڑوں کو سکھانا اور اسلحہ استعمال جاننا فرض کفایہ ہے۔ اور کبھی فرض عین ہوجاتا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : ومن رباط الخیل جنس، عمر و بن دینار اور بوحیوٰہ نے ومن ربط الخیل را اور ہا کے ضمہ کے ساتھ قراءت کی ہے۔ اور یہ رباط کی جمع ہے، جیسے کتاب کی جمع کتب ہے۔ ابو حاتم نے ابن زید سے نقل کیا ہے کہ رباط سے مراد پانچ یا سے کچھ زائد گھوڑوں کو باندھنا ہے اور اس کی جمع ربط ہے۔ اور مراد وہی ہیں جو بندھے ہوئے ہوں۔ اسی سے کہا جاتا ہے : ربط یریط ربطا اور تبط یرتبط ارتبا طا۔ اور مریط الخیل اور مرابط الخیل سے مراد گھوڑوں کو دشمن کے مقابلے میں باندھنا ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : امرالالہ بریطھا لعدئوہ فی الحرب ان اللہ خیر موفق اللہ تعالیٰ نے جنگ میں اپنے دشمن کے مقابلے میں گھوڑے باندھنے کا حکم دیا ہے بیشک اللہ تعالیٰ بہتر توفیق عطا فرمانے والا ہے۔ اور مکحول بن عبد اللہ نے کہا : تلوم علی ربط الحیاد و حبسھا واوصی بھا اللہ النبی محمد ﷺ تو گھوڑوں کے باندھنے اور انہیں روکھنے پر ملامت کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اپنے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو نصیحت فرمائی ہے۔ اور گھوڑوں کو باندھنا فضل عظیم اور باعث عزت و شرف رتبہ ہے۔ عروہ البارقی کے ستر گھوڑے تھے جو جہاد کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ اور ان میں سے مستحب اور پسندیدہ موئث ( گھوڑیاں) ہیں۔ یہ مکرمہ اور ایک جماعت نے کہا ہے اور یہی صحیح ہے، کیونکہ موئث کا ( باطن) خزانہ ہے اور اس کا ظاہر عزت و فخر ہے۔ اور حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کا گھوڑا بھی مونث تھا۔ اور ائمہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” گھوڑا تین درجے کا ہے ایک آدمی کے لیے باعث اجر ہے اور ایک کے لیے باعث ستر ہے اور ایک آدمی کے لیے یہ بوجھ ہے “۔ (1) الحدیث۔ اور آپ ﷺ نے مذکر کو موئث سے خاص نہیں فرمایا۔ اور ان میں سے عمدہ اور اعلیٰ اجر کے اعتبار سے عظیم ہے اور بہت زیادہ نفع دینے والا ہے۔ تحقیق رسول اللہ ﷺ سے عرض کی گئی : کون سا غلام افضل ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” وہ جو ثمن کے اعتبار سے مہنگا ہو اور اپنے گھر والوں کے نزدیک نفیس اور عمدہ ہو “ (2) ۔ نسائی (رح) نے ابو وہب جشمی سے روایت نقل کی ہے۔ اور انہںٰ بھی شرف صحابیت حاصل تھا۔ انہوں نے بیان کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم انبیاء علیم الصلوٰات والتسلیمات کے اسماء پر نام رکھا کرو اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پسندیدہ اسما ( عبد اللہ اور عبد الرحمن ہیں) اور گھوڑے باندھ کر رکھو اور ان کی پیشانیوں اور ان کی پشتون کو رگڑو ( پونجھو) اور انہیں قلادہ پہنائو اور انہیں تانت کا قالدہ نہ پہنائو اور تم پر لازم ہے کہ سرخ سیاہی مائل گھوڑا اور رکھو جع پنج کلیاں ( یعنی چاروں پائوں اور اس کی پیشانی سفید ہو) یا سرخ زردی مائل پنج کلیان یا خالص سیاہ رنگ کا پنج کلیان گھوڑا رکھو “ (1) ۔ ترمذی نے حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” بہترین گھوڑا سیاہ رنگ کا ہے جس نے دانت نکالا ہوا ہو اور اس کی ناک کے سرے پر سفید داغ ہو۔ ( پھر وہ گھوڑا جس نے دانت نکلا ہو اور اس کے پائوں سفید ہوں) پھر مطلق سیاہ رنگ کا گھوڑا اور اگر سیاہ رنگ کا گھوڑا نہ ہو تو پھر سرخ رنگ کا گھوڑا جو سیاہی مائل ہو اور مذکورہ اوصاف پر ہو “ (2) اور اسے وارمی نے بھی حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ میں گھوڑا خریدنے کا ارادہ رکھتا ہوں، تو میں کون سا گھوڑا خریدوں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ــ” تو سیاہ رنگ کا گھوڑا خرید جس کی ناک پر سفید داغ ہو دائیں ہاتھ کے سوا بایاں ہاتھ اور دونوں پائوں سفید ہوں یا پھر اسی طرح سرخ سیاہی مائل گھوڑا خریدنلے تو نفع اٹھانے گا اور محفوظ رہے گا “ (3) اور آپ ﷺ گھوڑوں میں الشکال ناپسند کرتے تھے۔ اور الشکال وہ گھوڑا ہوتا ہے جس کے دائیں پائوں میں اور بائیں ہاتھ میں سفید ہو یا دائیں ہاتھ میں اور بائیں پائوں میں سفیدی ہو۔ اسے امام مسلم (رح) نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے۔ اور ذکر کیا جاتا کہ وہ گھوڑا جس پر حضرت امام حسین بن علی ؓ کو شہید کیا گیا وہ اشکل تھا۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ پس اگر کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : واعدوالھم ما استطعتم من قوۃ کافی تھا۔ پھر خاص طور پر تیروں اور گھوڑوں کا ذکر کیوں کیا گیا ؟ تو یہ کہا جائے گا : بلاشبہ گھوڑا جنگوں کی اصل اور ان کا وہ اسلحہ ہے جس کی پیشانی میں خیر اور بھلائی رکھ دی گئی ہے اور یہ قوت کے اعتبار سے انتہائی طاقتور، دوڑ کے اعتبار سے انتہائی مضبوط اور شہسوار کو محفوظ رکھنے والا ہے اور اس کے ساتھ میدان میں چکر لگایا جاسکتا ہے، لہٰذا ازروئے عظمت و شرف کے اس کا ذکر خاص طور پر کیا اور عزت و تکریم کی خاطر اس کے غبار کی قسم کھائی۔ پش ارشاد فرمایا : والعدیث ضبحا۔ الآیہ ( العادیات) اور جب تیر جنگوں میں استعمال کیے جانے والے ہتھیاروں میں سے اور دشمن کو قتل کرنے کے اعتبار سے اور انہیں اور ارواح کے زیادہ قریب کرنے کے اعتبار سے زیادہ کامیابی دلانے والا ہتھیار ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اسی لیے اور اس پر تنبیہ کرنے کے لیے اس کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا۔ اور قرآن کریم میں اس کی نظیر و جبریل و میکال ہے ( یعنی ان فرشتوں کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا اس کی کثیر مثالیں ہیں۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ ہمارے بعض علماء نے اس آیت سے گھوڑا اور ہتھیار رکھنے اور دشمن کے مقابلے کی تیار کے لیے خزانے اور ان کے محافظ رکھنے کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ اور علماء نے حیوان رکھنے کے جواز میں اختلاف کیا ہے جسے گھوڑا اور اونٹ وغیرہ۔ اس بارے میں دو قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ منع ہے، یہی قول ابوحنیفہ (رح) نے کیا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ صحیح ہے۔ یہ امام شافعی (رح) کا قول ہے۔ اور یہی اصح ہے اور دلیل یہ آیت ہے۔ اور اس گھوڑے کے بارے میں حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث جس پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رہا میں حملہ کیا اور حضرت خالد ؓ کے حق میں حضور علیہ الصلوۃ السلام کا یہ ارشاد گرامی : اور رہے خالد تو تم خالد پر زیادتی کرتے ہو کیونکہ اس نے اپنا گھوڑا باندھ کر رکھا اور اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں استعمال کیا “ (1) الحدیث اور یہ بھی روایت ہے کہ ایک عورت نے اونٹ فی سبیل اللہ رکھا ہوا تھا اس کے خاوند نے جج کا ارادہ کیا، تو اس نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تو وہ اونٹ اسے دے دے تاکہ وہ اس پر حج کرے کیونکہ حج بھی اللہ تعالیٰ کے راستوں میں سے ہے “ اور اس لیے بھی کہ یہ مال ہے جس سے بوجہ قربت نفع حاصل کیا جاسکتا ہے، پس جائز ہے کہ انہیں اونٹ کے بچوں کی طرح باندھ کر رکھا جائے۔ اور علامہ سہیلی نے اس آیت کے ضمن میں حضور نبی مکرم ﷺ کے گھوڑوں اور آلات حرب کے نام ذکر کیے ہیں جو انہیں جاننا چاہے وہ انہیں کتاب ” الاعدم “ میں پاسکتا ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ قولہ تعالیٰ ترھمون بہ عدواللہ وعدوکم یعنی تم اس کے ساتھ خوفزدہ کردو۔ واخرین من دویھم ( اور ان کے سوا دوسرے لوگوں کو) مراد اہل فارس اور روم ہیں۔ یہ سدی نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد جن ہیں۔ اسے علامہ طبری نے اختیار کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہرو ہے جس کی عداوت و دشمنی معروف نہ ہو۔ سہیلی نے کہا ہے : کہا گیا ہے کہ ان سے مراد بنی قریظہ ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ جن ہیں اور علاوہ ازیں بھی قول کیے گئے ہیں۔ اور مناسب نہیں ہے کہ ان کے بارے میں کوئی خاص سے کہی جائے، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے کہا ہے : واخرین من دویھم لا تعلمو نھم اللہ تعلمھم تو پھر کیسے کوئی ان کے بارے حقیقی علم کا دعویٰ کرسکتا ہے، مگر یہ کہ حدیث صحیح ہے جو اس بارے میں رسول اللہ ﷺ نے مروی ہے اور وہ اس آیت کے بارے میں آپ ﷺ کا یہ قول ہے : ھم الجن ( کہ مراد جن ہیں) پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک شیطان ایسے گھر میں کسی کو نہیں بگاڑ سکتا جس میں خوش منظر گھوڑا ہو “ اس روایت میں فرس عتیق کہا گیا ہے یعنی گھوڑے کا نام عتیق رکھا گیا ہے۔ اس لیے کہ وہ حقارت اور نسل کی خرابی سے الگ اور محفوظ ہوتا ہے۔ اس حدیث کو حارچ بن ابی اسامہ نے ابی ملی کی (رح) سے انہوں نے اپنے باپ اور پھر دادا کے واسطہ سے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے۔ اور یہ بھی روایت ہے کہ جن اس گھر کے قریب نہیں آتے جس میں گھوڑا ہو اور وہ گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز سے بھاگ جاتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ قولہ تعالیٰ : وما تنفقوا من شیء تاکہ تم صدقہ کرو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تم جو خرچ کرو گے اپنے آپ یا اپنے گھوڑے پر فی سبیل اللہ یوفی الیکم آخرت میں تمہیں پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ ( یعنی) ایک نیکی کا اجر اس کی مثل دس سے لے سات سو گنا تک اور پھر کثیر گنا تک۔ وانتم لاتظلمون ( اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا)