43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 43:72

وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 43:72 in the Quran reader

اور یہ جنت جس کے تم مالک کر دئیے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے

انہیں یہ بات کہی جائے گی یہ وہ جنت ہے جس کی صفت دنیا میں تمہاے لئے بیان کی جاتی تھی ابن خالویہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جنت کی طرف اشارہ تلک سے اور جہنم کی طرف ہذھ سے کیا ہے تاکہ جہنم سے ڈرائے اور اسم اشارہ قریب کے ساتھ اشارہ کر کے اس کو موکد ذکر کیا اسم اشارہ قریب کے ساتھ اسے یوں بیان کردیا گیا جس طرح وہ چیز حاضر ہو جس کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ہر نفس کے لئے جنت اور دوزخ پیدا کی ہے۔ کافر مسلمان کی جن ہم کا وارث بنے گا اور مسلم کافر کی جنت کا وارث ہے۔ (المومنون) میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث اور سورة الاعراف میں بھی یہ بحث گزر چکی ہے
Ayah 43:73

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 43:73 in the Quran reader

وہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں جن کو تم کھاؤ گے

کا لفظ معروف ہے اس کی جمع فواکہ ہے فاکھان اسے کہتے ہیں جو پھل بیچتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد تمام پھل ہیں تر بھی اور خشک بھی، یعنی جنت میں کھانے اور پینے کے علاوہ کثیر پھل جن کو جنتی کھائیں گے۔
Ayahs 43:74–76

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ Open ayah 43:74 in the Quran reader

(اور کفار) گنہگار ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہیں گے

لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ Open ayah 43:75 in the Quran reader

جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں ناامید ہو کر پڑے رہیں گے

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 43:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہی ّ (اپنے آپ) پر ظلم کرتے تھے

جب اہل جنت کے احوال کا ذکر کیا تو اہل جن ہم کے احوال کا ذکر کیا تاکہ اطاعت شعار کی نافران پر فضلیت کو بیان کرے۔ ان سے عذاب تخفیف نہیں کی جائے گی۔ وہ رحمت سے مایوس ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ خاموش ہوں گے سکوت کا معنی نا امیدی ہے۔ سورة انعام میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ ” ہم نے عذاب میں مبتلا کر کے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر شرک کا ارتکاب کر کے ظلم کرنے والے تھے۔ یہ بھی جائز ہے کہ الظالمون کو مرفوع پڑھا جائے یہ مبتدا اور خبر ہو اور جملہ کان کی خبر ہو۔
Ayah 43:77

وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ Open ayah 43:77 in the Quran reader

اور پکاریں گے کہ اے مالک تمہارا پروردگار ہمیں موت دے دے وہ کہے گا کہ تم ہمیشہ (اسی حالت میں) رہو گے

مالک جہنم کا خازن ہے اپنے غضب کے اظہار کے لئے اسے پیدا کیا جب وہ جہنم کو جھڑکے گا تو اس کا بعض بعض کو کھا جائے گا۔ حضرت علی شیر خدا اور حضرت ابن مسعود ﷺ ؓ نے یوں قرأت بیان کی ہے یہ مصحف کے خلاف ہے حضرت ابو درداء اور حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے مال قرأت کی یعنی خاص طور پر لام کے ساتھ یعنی اسم میں ترخیم کا قاعدہ جاری کیا او کاف کو حذف کردیا۔ ترخیم کا معنی حذف ہے اسی سے ندا میں اسم میں ترخیم ہوتی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے آخر سے ایک یا زیادہ حرف حذف کردیئے جائیں گے تو مالک میں کہے گا : یا مال : حارث میں کہے گا : یا حار فاطمہ میں کہے گا : یا فاطم، عائشہ میں کہے گا : یا عائش، مروان میں کہے گا : یا مروا اسی طرح باقی کے اندر بھی یہی صورتحال ہوگا کئی اشعار میں اسی طرح آیا ہے حدیث طیبہ میں ای فائل اور ھلم موجود ہے اسم مرخم کے آخر میں تیرے لئے دو صورتیں موجود ہیں (1) حذف سے پہلے آخری حرف کی جو حالت تھی اس پر اسے باقی رکھے (2) اسے مبنی برضمہ بنا دے جس طرح یازید گویا تو نے اسے کامل اسم کے قائم مقام رکھا ہے اور اس میں حذف کی رعایت نہیں کی۔ ابو بکرا نباری نے ذکر کیا کہا محمد بن مروزی، محمد سے جو ابن سعدان ہے وہ حجاج سے وہ شعبہ سے وہ حکم بن عینیہ سے وہ مجاہد سے روایت نقل کرتے ہیں : کہا ہم نہیں جانتے تھے کے زخروف کیا ہے یہاں تک کہ ہم نے حضرت عبداللہ کی قرأت میں بیت من ذھب کے الفاظ پائے اور ہم کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ اور یملک کے بارے میں بھی نہیں جانتے تھے یہاں تک کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرأت میں پایا مال یعنی ترخیم کے طریقہ پر پابا۔ ابوبکر نے کہا اس حدیث پر عمل نہیں ہوگا کیونکہ اس کی سند مقطوع ہے اس کی مثل رسول اللہ ﷺ سے روایت مقبول نہ ہوگی اللہ تعالیٰ کی کتاب اس امر کی زیادہ حقدار ہے کہ اس میں احتیاط کی جائے اور باطل کی اس سے نفی کی جائے۔ میں کہتا ہوں : صحیح بخاری میں صفوان بن یعلی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو منبر پر پڑھتے ہوئے : یعنی کاف کو ثابت رکھا (1) محمد بن کعب قرظی نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے یا میرے سامنے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جنہمیوں نے خزان سے مدد چاہی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (غافر) تو ان کی عرضداشت رد کردی گئی۔ (غافر) جب وہ خازنوں سے مایوس ہوچکے تو انہوں نے مالک کو ندا کی وہ ان پر سردار تھا اور اس کی مجلس خازنوں کے وسط میں ہے اور پل ہیں جن کے اوپر عذاب کے فرشتے گزرتے ہیں اور وہ جہنم کے بعید ترین حصہ کو یوں ہی دیکھتا ہے جس طرح اس کے قریب ترین حصہ کو دیکھتا ہے ان جنہمیوں نے عرض کی : انہوں نے موت کا سوال کیا کہا مالک ان سے خاموش رہے گا انہیں اسی سال تک کوئی جواب نہ دے گا کہا : سال تین سو ساٹھ دن کا ہوگا مہینہ تیس دن کا ہوگا اور دن ان ہزار سالوں کے برابر ہوگا جسے تم شمار کرتے ہو پھر اسی (80) سال کے بعد ان کی طرف متوجہ ہوگا اور کہے گا : اور حدیث کا ذکر کیا۔ ابن مبارک نے اس کا ذکر کیا ہے۔ حضرت ابو درداء نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے :” وہ کہیں گے مالک کو بلائو وہ عرض کریں گے : اے مالک : تمہارا رب ہمیں موت ہی عطا کر دے تو اس نے جواب دیا تم اسی طرح رہو گ۔ (1) ” اعمش نے کہا : مجھے یہ بتایا گیا ہے ان کے بلانے اور مالک کے جواب کے درمیان ایک ہزار سال کا عرصہ ہوگا اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے : حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ عرض کریں گے تو مالک ایک ہزار سال تک انہیں جواب نہیں دے گا پھر وہ کہتے گا : تم ہمیشہ اسی طرح رہو گی (2) مجاہد اور نوف بکالی نے کہا ان کی ندا اور اس کے جواب کے درمیان سو سال کا عرصہ ہوگا حضرت عبداللہ بن عمرو نے کہا : چالیس سال کا عرصہ ہوگا یہ ابن مبارک نے ذکر کیا۔
Ayah 43:78

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 43:78 in the Quran reader

ہم تمہارے پاس حق لے کر پہنچے لیکن تم اکثر حق سے ناخوش ہوتے رہے

یہ احتمال موجود ہے کہ یہ مالک کا قول ہے یعنی تم جہنم میں ہی رہو گے کیونکہ دنیا میں تمہارے پاس حق لائے تو تم نے اسے قبول نہ کیا۔ یہ بھی احتمال موجود ہے کہ یہ آج ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے کلام ہو یعنی ہم نے تمہارے لئے دلائل کو واضح کیا اور تمہاری جانب رسول بھیجے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہاں اکثر کل کے معنی میں ہے یہاں کثرت سے مراد روئوسا اور قائدین ہیں جہاں تک پیرو کاروں کے تعلق ہے تو ان کا کوئی اثر نہ ہوگا : اسلام کو اور اللہ تعالیٰ کے دین کو کرھون ناپسند کرتے تھے۔
Ayah 43:79

اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ Open ayah 43:79 in the Quran reader

کیا انہوں نے کوئی بات ٹھہرا رکھی ہے تو ہم بھی کچھ ٹھہرانے والے ہیں

مقاتل نے کہا : یہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی جب کفار نے دارالندوہ میں نبی کریم ﷺ کے بارے میں تدبیر کی جب ان کا مشورہ اس بات پر اختتام کو پہنچا جو ابو جہل نے رائے پیش کی کہ ہر قبیلہ سے ایک آدمی سامنے آئے تاکہ وہ آپ کے قتل میں شریک ہو تو اس طرح قصاص کا مطالبہ کمزور ہوجائے گا تو یہ آیت نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان سب سرداروں کو بدر کے واقعہ میں قتل کردیا ابمرموا کا معنی ہے انہوں نے پختہ فیصلہ کرلیا (1) ابرام کا معنی پختہ کرنا ہے ابرمت الشئی میں نے اسے پختہ کیا۔ ابرام الفتال جب اسے باٹنے والا اچھی طرح باٹے اس سے مراد دوسری دفعہ باٹنا ہوتا ہے پہلے کو سحیل کہتے ہیں جس طرح من سحیل و مبرم ہے آیت کا معنی ہے انہوں نے تدبیر کو پختہ کیا (2) ہم بھی ان کے لئے تدبیر کو پختہ کرنے والے ہیں، یہ ابن زید مجاہد اور قتادہ کا قول ہے یا انہوں نے تکذیب پر اتفاق کرلیا تو ہم دوبارہ اٹھانے کے لئے جزا پر پختہ عرز کئے ہوئے ہیں۔ کلبی نے کہا : یا انہوں نے معاملہ کا فیصلہ کرلیا ہے تو ہم بھی ان کے خلاف عذاب کا فیصلہ کرنے والے ہیں امربل کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کا عطف پر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : تحقیق ہم تمہارے پاس حق لائے تو تم نے نہ سنایا سنا تو سہی مگر اعراض کیا کیونکہ انہوں نے اپنے دل میں ایسے امر کا فیصلہ کرلیا تھا جس کے ذریعے وہ عقاب سے امن میں ہوجاتے۔
Ayah 43:80

اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 43:80 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو سنتے نہیں ہاں ہاں (سب سنتے ہیں) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس (ان کی) سب باتیں لکھ لیتے ہیں

یعنی جو وہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور باہم سرگوشیاں کر رہے ہیں بل کیوں نہیں ہم سنتے اور جانتے ہیں۔ ہمارے فرشتے ان کے پاس بیٹھے لکھ رہے ہوں گے۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ یہ آیت ان تین افرا کے بارے میں نازل ہوئی جو بیت اللہ شریف اور اس کے پردوں کے درمیان تھے (3) ان میں سے ایک نے کہا : بتائو کیا اللہ تعالیٰ ہماری گفتگو سن رہا ہے ؟ دوسرے نے کہا : جب تم بلند آواز سے باتیں کرو تو وہ سنتا ہے اور جب تم رازداری سے باتیں کرو تو نہیں سنتا۔ تیسرے نے کہا اگر وہ تمہاری اعلانیہ گفتگو سنتا ہے تو پھر جب تم رازداری سے بات کرو تب بھی سنتا ہے۔ یہ محمد بن کعب قرظی کا قول ہے : سورة فصلت میں یہی چیز حضرت ابن مسعود کی روایت میں گزر چکی ہے۔
Ayahs 43:81–82

قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ١ۖۗ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ Open ayah 43:81 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر خدا کے اولاد ہو تو میں (سب سے) پہلے (اس کی) عبادت کرنے والا ہوں

سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 43:82 in the Quran reader

یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کا مالک (اور) عرش کا مالک اس سے پاک ہے

اس کے معنی میں اختلاف کیا گیا ہے حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری اور سدی نے کہا : یہ معنی ہے، رحمن کا کوئی بیٹا نہیں۔ یہاں ان، ماء کے معنی میں ہے اس اعتبار سے کلام مکمل ہوگی پھر تو نئے سرے سے کلام شروع کرے گا میں اہل مکہ میں سے پہلا موحد ہوں کیونکہ اس کا کوئی بیٹا نہیں۔ العبدین پر وقف تام ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے : اے محمد ﷺ ! کہہ دو اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں ان میں سے سب سے پہلا ہوتا جو اس کی عبادت کرتا لیکن یہ امر محال ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو یہ اسی طرح ہے جس طرح تو اسے کہتے ہے جس سے تو مناظرہ کرتا ہے جو کچھ تو نے کہا ہے اگر یہ دلیل سے ثابت ہوگیا تو میں وہ پہلا شخص ہوں گا جو اس کا اعتقاد رکھے گا۔ یہ امر کو بعید جاننے میں مبالغہ کا اظہار ہے یعنی اس کے اعتقاد کی کوئی صورت نہیں یہ کلام میں نرمی کرنا ہے جس طرح یہ ارشاد ہے۔ (سبا) اس تعبیر میں یہ معنی ہوگا میں اس بچے کا سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوتا۔ کیونکہ بچے کی تعظیم اس کے والد کی تعظیم ہوتی ہے مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے اگر رحمن کا بچہ ہوتا تو میں پہلا شخص ہوتا جو صرف اسی واحدہ لا شریک کی عبادت کرتا کیونکہ اس کا کوئی بچہ نہیں سدی نے یہ بھی کہا ہے : اس کا معنی ہے اگر اس کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں پہلا وہ شخص ہوتا جو اس کی عبادت کرتا اس وجہ سے اس کا بیٹا ہے لیکن یہ مناسب نہیں مہدوی نے کہا : ان تمام اقوال کی بناء پر شرط کے لئے یہ سب سے مناسب ہے، یہ طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے، کیونکہ یہ جس کلام کے ساتھ متصل ہو اس بارے میں وہم ہوتا ہے کہ زمانہ گزشتہ میں تیہ محقق نہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ العبدین الانفین کے معنی میں ہے، میں ناپسند کرنے والوں میں سے ہوتا۔ بعض علماء نے کہا : اگر معنی یہ ہے تو قرأت یوں گی، العبدین ابو عبدالرحمن اور یمانی نے اسی طرح قرأت کی ہے، فا انا اول العبدین یوں باب ذکر کیا جاتا ہے عبد یعبد عبدا جب وہ ناپسند کرلے اور غضباناک ہو اس سے اسم عاعل عہد آئے گا۔ اسم عبدہ انفہ کی طرح ہے : یہ ابو زید سے مروی ہے ؎ فرزدق نے کہا : وہ میرے ساتھی ہیں میرے پاس ان کی مثل لے آئو اور میں یہ ناپسند کرتا ہوں کہ دارم کے مقابلہ میں کلیب کی ہجو کرو۔ وہ یہ شعر بھی کہتا ہے۔ وہ ایسے لوگ ہیں اگر وہ میری ہجو کریں تو میں ان کی ہجو کروں گا۔ اور میں یہ ناپسند کرتا ہوں کہ دارم کے بدلہ میں کلیب کی ہجو کی جائے۔ جوہری نے کہا : ابو عمر نے کہا اللہ تعالیٰ کا فرمان میں عابدین کا معنی ناپسند کرنا اور ناراض ہونا ہے (1) یہ نسائی اور قتبی کا قول ہے ماوردی نے اسے ان دونوں سے روایت کیا۔ مہدوی نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان : سے مشتق ہے یعنی ناپسند کرنے والوں میں سے میں پہلا ہوں گا۔ ابن عرفہ نے کہا : کا اسم فاعل عبد سے آتا ہے بہت ہی کم اسے عابد کہا جاتا ہے۔ قرآن حکیم لغت میں قلیل استعمال ہونے والے اور شاذ استعمال والے مادہ کو ذکر نہیں کرتا بلکہ معنی ہے میں وہ پہلا شخص ہوتا جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا کہ وہ واحد ہے اس کی کوئی اولاد نہیں۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک عورت اپنے خاوند کے حرم میں داخل ہوئی اس عورت نے چھ ماہ میں بچہ جن دیا اس کا ذکر حضرت عثمان غنی ؓ سے کیا گیا تو آپ نے اس عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے آپ سے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (احقاف 15) ایک اور رویت میں فرمایا : (لقمان 14) اللہ کی قسم : حضرت عثمان نے کوئی ناپسند نہ کیا کہ اس امر کی طرف لوٹیں (1) عبداللہ بن وہب نے کہا : معنی ہے انہوں نے اسے ناپسند کیا ہے ابن اعرابی نے کہا : کا معنی ہے میں سب سے پہلا غضبناک ہونے والوں اور ناپسند کرنے والوں میں سہوتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے میں تمہارے برعکس سب سے پہلا شخص ہوتا جو اس کی وحدانیت پر اس کی عبادت کرتا۔ ابو عبیدہ نے کہا : اس کا معنی ہے میں سب سے پہلا انکار کرنے والا ہوتا۔ اور یہ حکایت کی عبدنی حقی۔ اس نے میرے حق کا انکار کیا۔ اہل کوفہ نے عاصم کے علاوہ ولد پڑھا اور باقی قراء اور عاصم نے ولد پڑھا یہ گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر اس امر سے اپنی پاکی بیان کی ہے جو حادث ہونے کا تقاضا کرتا ہے یہ کلام بھی تقدیس و تنزیہ کو بیان کرنے کے لئے ہے نبی کریم ﷺ کو بھی پاکی بیان کرنے کا حکم دیا ان تمام چیزوں سے جو وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔
Ayah 43:83

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ Open ayah 43:83 in the Quran reader

تو ان کو بک بک کرنے اور کھیلنے دو یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کو دیکھ لیں

مراد کفار ہیں جب انہوں نے عذاب آخرت کو جھٹلایا یعنی وہ اپنے باطل میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں اور اپنی دنیا میں کھیلتے رہیں۔ یا تو اس سے مراد دنیا کا عذاب ہے یا آخرت کا عذاب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ حکم جہاد والی آیت سے منسوخ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت محکم ہے اسے دھمکی دینے کے اعتبار سے ذکر کیا گیا ہے ابن محیصن، مجاہد، حمید، ابن قعقاع اور ابن سمیقع نے اسے حتی یلقوا پڑھا ہے (2) یعنی الف نہیں، یہاں سورة طور اور سورة معارج میں قاف کو فتخہ دیا ہے جبکہ باقی قراء نے یلاقو پڑھا ہے۔
Ayah 43:84

وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 43:84 in the Quran reader

اور وہی (ایک) آسمانوں میں معبود ہے اور (وہی) زمین میں معبود ہے اور وہ دانا (اور) علم والا ہے

ان کو جھٹلانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک اور بچہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہی آسمان و زمین میں مستحق عبادت ہے۔ حضرت عمر ؓ اور دوسرے صحابہ نے کہا : معنی ہے وہی ذات آسمان اور زمین میں معبود ہے یعنی دونوں میں اسی کی عبادت کی جاتی ہے یہ روایت کی جاتی ہے کہ حضرت عمر، حضرت ابن مسعود اور دوسرے صحابہ نے یوں قرأت کی ہے۔ یہ مصحف کے خلاف ہے (1) الہ کو رفع دیا گیا ہے کیونکہ یہ متبدا مخدوف کی خبر ہے یعنی وہ ذات جو آسمان میں ہے وہ معبود ہے، یہ ابو علی کا قول ہے کلام کے طویل ہونے کی وجہ سے ضمیر کا حذف کرنا اچھا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فی علی کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (طہ 71) اس میں فی علی کے معنی میں ہے یعنی وہ آسمان اور زمین پر قادر ہے۔ اس کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔
Ayah 43:85

وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 43:85 in the Quran reader

اور وہ بہت بابرکت ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کی بادشاہت ہے اور اسی کو قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے

تبرک یہ برکت سے تفاعل کے وزن پر ہے یہ بحث پہلے گزر چکی ہے اس کے قیام کا وقت اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہے ابن کثیر، حمزہ اور نسائی نے اسے و الیہ یرجعون پڑھا ہے باقی قراء نے اسے تاء کے ساتھ پڑھا ہے ابن محیصن، حمید، یعقوب اور ابن ابی اسحاق اپنے اصول کے مطابق علامت مضارع کو فتحہ اور باقی ضمہ دیتے ہیں۔
Ayah 43:86

وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 43:86 in the Quran reader

اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ اختیار نہیں رکھتے ہاں جو علم و یقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں (وہ سفارش کرسکتے ہیں)

اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: محل جر میں ہے سے مراد حضرت عیسیٰ ، حضرت عزیز اور ملائیکہ (علیہ السلام) ہیں، یعنی یہ شفاعت کا حق نہیں رکھتے مگر اس کے حق میں جو حق کی گواہی دے اور علم و بصیرت پر ایمان لائے یہ سعید بن جبیر اور دوسرے علماء کا قول ہے کہا : حق کی شہادت لا الہ الا اللہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : من محل رفع میں ہے یعنی جن کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ شفاعت کا حق نہیں رکھتے۔ مراد معبود ان باطلہ ہیں۔ قتادہ کے قول میں ہے : معبود اپنے عبادت گزاروں کے حق میں شفاعت نہیں کرسکتے مگر وہ معبود جو حق کی گواہی دیں جیسے حضرت عزیر (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ملائیکہ کیونکہ وہ حق اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں (2) جو انہوں نے گواہی دی اس کی حقیقت کو جانتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت اس لئے نازل ہوئی کہ نضر بن حارث اور قریش کی ایک جماعت نے کہا : اگر (حضرت) محمد جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے تو ہم تو فرشتوں کے دوست ہوئے وہ فرشتے اس کی بجائے ہمارا حق میں شفاعت کے زیادہ حقدار ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا یعنی وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ملائیکہ، بت، جن، یا شیاطین ان کے حق میں شفاعت کریں گے قیامت کے روز کسی کے حق میں کوئی شفاعت نہیں۔ یعنی مومون کے حق میں شفاعت کریں گے جب انہیں اجازت دی جائے گی حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے کیا مراد ہے یعنی وہ یہ گواہی دے ایک قول یہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کو چھوڑ کر یہ عبادت کرنے والے اس کے حقدار دار نہیں کہ کوئی ان کی شفاعت کرے مگر جو حق کی گواہی دے کیونکہ جو حق کی گواہی دے گا اس کے حق میں شفاعت کی جائے گی اور مشرک کے حق میں شفاع نہیں کی جائے گی۔ الا یہ لیکن کے معنی میں ہے مشرک شفاعت نہیں پائیں گے مگر شفاعت وہ پائے گا جو حق کی گواہی دے گا پس یہ استنثاء منقطع ہے یہ بھی جائز ہے کہ مستثنیٰ متصل ہو، کیونکہ میں ملائیکہ بھی شامل ہیں یوں کہا جاتا ہے : سورة بقرہ میں شفاعت کا معنی اور اس کا اشقاق گزر چکا ہے تو اس کے اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے سے مراد ہے جس کے حق میں فرشتے گواہی دیں تاکہ وہ دنیا میں حق پر تھا جبکہ وہ اس بارے میں جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی ہے یا انہوں نے اسے ایمان کی حالت میں دیکھا تھا۔ مسئلہ نمبر 2:۔ یہ کلام دو معنوں پر دلالت کرتی ہے (1) حق کے بارے میں سفارش نفع نہیں دیتی مگر جب علم ہو اور تقلید بھی کوئی فائدہ نہیں دیتی جب تک مقالہ کے صحیح ہونے کا علم نہ ہو (2) حقوق اور دوسرے امور میں تمام شہادات کے لئے یہ شرط ہے کہ شاہد اس کے بارے میں آگا ہو، اس کی مثل نبی کریم ﷺ سے مروی ہے : (1) جب تو سورج کی طرح کسی امر کو دیکھے تو گواہی دے بصورت دیگر اسے چھوڑ دے۔
Ayah 43:87

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ Open ayah 43:87 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ خدا نے تو پھر یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں

وہ ضرور اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا ہے جبکہ پہلے وہ کچھ بھی نہ تھے کیسے اس کی عبادت سے پلٹتے ہیں اور اس سے پھرتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے اس کے ساتھ اوروں کو شریک کرلیا اور محض ان کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سفارش کی امید رکھتے ہیں اسے الٹ دیا اور اسے کسی چیز سے پھیر دیا، اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (احقاف 22) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر آپ فرشتوں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھیں کس نے انہیں پیدا کیا ہے تو وہ کہیں گے : اللہ تعالیٰ نے۔ تو یہ لوگ جو انہیں معبود قرار دیتے ہیں اس میں کہاں بھٹک رہے ہیں۔
Ayah 43:88

وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ Open ayah 43:88 in the Quran reader

اور (بسا اوقات پیغمبر) کہا کرتے ہیں کہ اے میرے پروردگار یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے

قیبیلہ میں تین قرأتیں ہیں، نصب، جر اور رفع (1) جہاں تک جر کا تعلق ہے یہ عاصم اور حمزہ کی قرأت ہے جس نے اسے جر دی ہے اس نے اسے معنی پر محمول کیا ہے تقدیر کلام یوں ہوئی جس نے اسے غضب دی ہے اس نے اسے معنی پر محمول کیا ہے تقدیر کلام یوں ہوگی یہ زجاج کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے فراء اور اخفش نے کہا یہ جائز ہے کہ پر ہو ابن انباری نے کہا : میں نے ابو العباس محمد بن یزید مبرو سے پوچھا قیل کو تو کس چیز کے ساتھ نصب دیتا ہے ؟ کہاں میں اسے ہوئی کے ساتھ نصب دیتا ہے اس توجیہہ کی صورت میں پر عطف اچھا نہیں اور عطف اچھا ہوگا فراء اور اخفش نے قیل کو اس معنی کی بناء پر نصب دی۔ جس طرح ہم نے انسے ذکر کیا ہے اس توجیہہ کی بناء پر یکتبون پر وقف کرنا اچھا نہیں فراء اور اخفش نے یہ بھی جائز قرار دیا ہے کہ مفعول مطلق ہونے کی حیثیت میں نصب دی جائے۔ گویا کلام کی : جس طرح کعب بن زہیر نے کہا : چغل خور اس کی دونوں جانب چلتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے : اے ابن ابی سلمی : تو مقتول ہے۔ شاعر نے یہ ارادہ کیا ہے جس نے قبلہ کو رفع دیا ہے تو تقدیر کلام یہ ہوگی زمحشری نے کہا : جو انہوں نے کہا یہ معنی کے اعتبار سے قوی نہیں ساتھ ہی ساتھ معطوف ہے اور معطوف علیہ میں فاصلہ ہے جبکہ یہ جملہ معترضہ بھی نہیں بن سکتا اور نظم میں تنا فرپایا جاتا ہے اسے سے زیادہ قوی اور مناسب یہ ہے کہ جر اور نصب حرف قسم کے اضمار اور حذف کی بناء پر ہو اور رفع ان کے اس قول کی بناء پر جواب قسم ہوگا گویا فرمایا : ابن انباری نے کہا : عربی زبان میں دقیلہ رفع کے ساتھ بھی جائز ہے اس شرط پر کہ تو اسے کے ساتھ رفع دے۔ مہدوی نے کہا : یا تقدیر کلام یہ ہے یا رب دوسرے قبلہ کو حذف کردیا گیا جو خبر ہے اور یا رب کا محل خبر مضمر کی وجہ سے نصب ہے یہ ممتنع نہیں جبکہ موصول کبے بعض کو حذف کرنا اور بعض کو باقی رکھنا ممتنع ہے کیونکہ قول کا حذف بہت زیادہ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ مذکور کے حکم میں ہوگیا ہے۔ قبلہ میں ما حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ حضرت محمد ﷺ کے لئے ہے جبکہ آپ کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ابو قلابہ نے پڑھا قول کی طرح مصدر ہے اسی معنی میں حدیث ہے قیل وقال سے منع کیا یوں بھی جملہ کہا جاتا ہے : سورة نساء میں موجود ہے۔
Ayah 43:89

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ١ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 43:89 in the Quran reader

تو ان سے منہ پھیر لو اور سلام کہہ دو ان کو عنقریب (انجام) معلوم ہوجائے گا

قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر کرنے کا حکم دیا پھر ان کو قتل کرنے کا حکم کیا پس صفح کا حکم تلوار والے حکم کے ساتھ منسوخ کیا گیا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے اسی کی مثل مروی ہے ان سے اعراض کیجئے یعنی انہیں اچھی بات کہیں یعنی مکہ کے مشرکوں کو کہو پھر اسے سورة براۃ میں منسوخ کردیا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ (آیت 5) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں عام قرأت ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے نبی کو دھمکی کی خبر ہے نافع اور ابن عامر نے تعلمون پڑھا ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ کی جانب سے مشرکین کو دھمکی کا خطاب ہے۔ علیکم کے مضمر ہونے کی بناء پر مرفوع ہے یہ فراء کا قول ہے اس کا معنی ہے انہیں لفظ اسلام کہہ کر الوداع کریں یہ ان کے لئے سلام نہیں یہ نقاش نے بیان کیا ہے شعیب بن حجاب نے روایت کی ہے کہ انہوں نے اس ذریعے یہ پہچانا کہ انہیں سلام کیسے کہا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔