43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 43:28

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ (خدا کی طرف) رجوع رہیں

وجعلھا کلمتہ باقیتہ فی عقبہ لعلھم یرجعون۔ ” اور آپ نے بنا دیا کلمہ توحید کو باقی رہنے والی بات اپنی اولاد میں تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں “۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ وجعلھا کلمتہ باقیتہ جعلھا میں ضمیر اللہ تعالیٰ کے فرمان : الا الذی فطرنی کی طرف لوٹ رہی ہے اور جعلھا میں ضمیر فاعل سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے مرادہو گا اللہ تعالیٰ نے اس کلمہ اور گفتگو کو آپ کے خاندان میں باقی رہنے والا بنا دیا تو وہ آپ کی اولاد اور اولاد کی اولاد ہے یعنی وہ ورثہ در ورثہ غیر اللہ کی عبادت سے براءت کا اظہار کرتے رہے اور انہوں نے اس معاملہ میں ایک دوسرے کو وصیت کی۔ عقب اسے کہتے ہیں جو بعد میں آتا ہے۔ سدی نے کہا : اس سے مراد حضرت محمد ﷺ کی اولاد ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : فی عقبہ سے مراد ہے فی خلفہ کے بعد آنے والوں میں کلام میں (1) ۔ تقدیم و تاخیر ہے تقدیر کلام یوں ہوگی فانہ سیھدین لعلھم یرجعون وجعلھا کلمتہ باقیۃ فی عقبہ یعنی انہیں بات کہی ممکن ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے پلٹ آتے۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا ؛ کلمہ سے مراد لا الہ الا اللہ ہے (2) ۔ قتادہ نے کہا : یہ ان کی اولاد میں ہمیشہ ایسے افراد ہونگے جو قیامت تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہیں گے (3) ۔ ضحاک نے کہا : کلمہ سے مراد ہے لا تعبدوا الا اللہ (ہود : 26) (4) عکرمہ نے کہا : اس سے مراد اسلام ہے (5) کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ھو سمکم المسلمین من قبل (الحج : 78) قرظی نے کہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو جو وصیت کی جو یہ تھی یبنی ان اللہ اصطفی لکم الدین (بقرہ : 132) اسے ان کی اولاد میں باقی رہنے والا کلمہ بنا دیا ہے۔ ابن زید نے کہا : کلمہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا فرمان : اسلمت لرب العلمین۔ (البقرہ) ہے اور یوں پڑھا ھو سمکم المسلمین من قبل (الحج : 78) ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلمہ سے مراد نبوت ہے۔ ابن عربی نے کہا : نبوت حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں باقی رہے گی۔ توحید ان میں اصل ہے اور غیر اس کی تبع میں ہیں۔ مسئلہ نمبر 2۔ ابن عربی نے کہا : نسلوں میں وہ کلمہ باقی رہا جو کئی زبانوں تک قائم رہا آپ کی دو دعائیں تھیں جو قبول ہوئیں : (1) انی جا علک للناس اماما قال و من ذریتی قال لا ینال عھدی الظلمین۔ (البقرۃ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کی : ٹھیک ہے مگر ان میں سے جو ظالم ہوا اس کے لیے کوئی عہد نہیں (2) واجنبنی وبنی ان نعبد الا صنام۔ (ابرہیم) ایک قول یہ کیا گیا ہے : پہلی دعا یہ تھی واجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ (الشعرائ) ہر امت نے آپ کی تعظیم کی وہ آپ کی اولاد میں سے تھے یا غیروں میں سے تھے جو ان لوگوں میں سے تھے جو حضرت سام یا حضرت نوح علیہ اسلام میں آپ کے ساتھ جمع ہوئے تھے۔ مسئلہ نمبر 3۔ ابن عربی نے کہا : یہاں عقب کا ذکر معنی میں ملا ہوا ہے یہ ان چیزوں میں سے ہیں جو احکام میں داخل ہیں اور ان پر عمریٰ (عمر بھر کے لیے کسی کو کوئی چیز نفع اٹھانے کے لیے دینا) محبوس کرنے کے احکام مرتب ہوتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایما رجل اعمرعمری لہ و لعقبہ یعنی وہ چیز عطا کی گئی جس نے وہ چیزدی ہے اس کی طرف وہ نہ لوٹے گی کیونکہ اس نے ایسے انداز میں چیز دی ہے جس میں میراث جاری ہوتی ہے یہ گیارہ الفاظ میں وارد ہوتا ہے۔ 1۔ دلد، جب اسے مطلق ذکر کیا جائے تو اس سے مراد وہ شخص ہے جو مرد اور اس کی بیوی سے پایا جائے وہ مرد ہوں یا عورتیں ہوں لغت اور شرع کے اعتبار سے صرف مذکر کی اولاد مراد ہوگی اسی وجہ سے میراث معین بچے پر واقع ہوتی ہے اور معین کی مذکر اولاد پر واقع ہوتی ہے عورتوں کی اولاد پر واقع نہیں ہوتی کیونکہ وہ دوسری قوم سے بھی ہو سکتے ہیں اسی وجہ سے وہ اس لفظ کے ساتھ قید میں داخل نہ ہو نگے امام مالک کے مجموعہ اور اس کے علاوہ کتابوں میں موجود ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ امام مالک کا مذہب ہے اور آپ کے تمام متقد میں ساتھیوں کا بھی یہی نقطہ نظر ہے اس اجماع پر ان کی دلیل یہ ہے کہ بچیوں کی اولاد کے لیے کوئی ورثہ نہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یوصیکم اللہ فی اولاد کم (النسا : 11) علماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ بچیوں کی اولاد بھی اولاد کے لفظ اور اعقاب میں داخل ہے وہ بھی احب اس میں داخل ہوگی مجس کہتا ہے : جست علی ولدی اوعلی عقبی ؛ یہ ابو عمر بن عبدالبر اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے حرمت علیکم امھتکم و بنتکم (النسائ : 23) انہوں نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے بیٹیوں کو حرام کیا تو اجماع سے بیٹی کی بیٹی بھی حرام کردی گئی تو اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ یہ بیٹی ہے اس لیے ضروری ہوگیا کہ یہ نواسی بھی اس کے باپ کے حبس میں داخل ہو جب وہ اپنی اولاد اور عقب پر کوئی چیز محبوس کرتا ہے۔ یہ بحث سورة الانعام میں مفصل گذر چکی ہے۔ 2۔ دوسرا لفظ بنون ہے اگر کوئی آدمی یہ کہتا ہے : یہ میرے بیٹے کے لیے وقف ہے، تو یہ حکم معین بچے سے تجاوز نہ کرے گا اور نہ ہی اس سے متعدد افراد مراد لیے جائیں گے اگر اس نے ولدی کا لفظ استعمال کیا تو وہ اس سے متجاوز ہوگا اور اولاد میں سے ہر فرد کے لیے حکم ثابت ہوگا اگر اس نے بنی کا لفظ ذکر کیا تو اس میں مذکر اور مونث سب شامل ہونگے، امام مالک نے فرمایا : جس نے اپنے بیٹوں اور اپنے بیٹوں کے بیٹوں پر صدقہ کیا تو اس کی اپنی بیٹیاں اور پوتیاں سب اس میں شامل ہوں گی۔ عیسیٰ بن قاسم سے روایت نقل کی ہے اس آدمی کے بارے کہ جس نے اپنی بیٹوں کے لیے کوئی چیز خاص کی تو اس کی نواسیاں بھی اس کی صلبی بیٹیوں کے ساتھ ہونگی جس پر امام مالک کے ساتھیوں کی ایک جماعت متفق ہے کہ بیٹیوں کی اولاد بنیں (بیٹوں) میں داخل نہ ہوگی۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت حسن ؓ کے بارے میں فرمایا جو آپ ﷺ کا نواسہ تھا : ” میرا یہ بیٹا سید ہے ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کے درمیان مصالحت کرائے “ ہم نے کہا : اس میں مجاز کا قاعدہ جاری ہوا ہے، سرور دو عالم ﷺ نے ان کی شرافت اور عظمت کی طرف اشارہ کیا ہے کیا تو نہیں دیکھتا کہ نواسے کے بیٹا ہونے سے نفی کرنا بھی جائز ہے۔ ایک آدمی نواسے کے بارے میں کہہ سکتا ہے لیس بابنی۔ میرا بیٹا نہیں۔ اگر یہاں حقیقی معنی مراد ہوتا تو اس کی نفی کرنا جائزنہ ہوتا، کیونکہ حقائق کی مسمیات سے نفی کرنا جائز نہیں ہوتی (1) ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ بچوں کو باپ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ماں کی طرف منسوب نہیں کیا جاتا، اسی وجہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے بارے میں فرمایا : وہ ہاشمی ہیں ہلالی نہیں، اگرچہ ان کی ماں ہلالی تھی۔ میں کہتا ہوں : یہ استدلال صحیح نہیں بلکہ لغت کے اعتبار سے وہ ولد (بچہ) ہے اور حقیقی معنی مراد ہے کیونکہ اس میں ولادت کا معنی پایا جاتا ہے کیونکہ اہل علم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ نواسی بھی حرام ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : حرمت علیکم امھتکم و بنتکم (النسائ : 23) اللہ تعالیٰ کا فرمان : ومن ذریتہ داود و سلیمن و ایوب و یوسف و موسیٰ و ھرون و و کذلک نجزی المحسنین۔ وزکریا ویحی و عیسیٰ و الیاس کل من الصلحین۔ (الانعام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی ذریت میں شامل کیا جبکہ وہ ان کی بیٹی کی اولاد میں سے تھے جس کی وضاحت پہلے ہوچکی ہے اگر یہ سوال کیا جائے کہ شاعر نے کہا : بنونا بنو ابنائنا وبناتنا بنوھن أبناء الرجال الاباعد ہمارے بیٹے ہمارے بیٹوں کے بیٹے ہیں اور ہماری بیٹیوں کے بیٹے بعیدی مردوں کے یٹے ہیں۔ انہیں کہا جائے گا : اس میں ان کے لئے کوئی دلیل نہیں کیونکہ اس کے قول کا معنی ہے اس کے بیٹوں کی مذکر اولاد وہ افراد ہیں جن کا حکم وراثت اور نسب میں اس کے اپنے بیٹوں جیسا ہے اس کے نواسوں کا حکم اس معاملہ میں بیٹیوں کے حکم جیسا نہیں کیونکہ وہ غیر منسوب ہوتے ہیں تو یہ بتایا کہ حکم میں مختلف ہیں جبکہ نام میں اکٹھے ہیں۔ بچیوں کی اولاد سے ولد کے اسم کی نفی نہیں جائیگی کیونکہ وہ ابن سے بعض اوقات ایک آدمی اولاد کے بارے میں کہتا ہے : لیس ھربابنی وہ میرا بیٹا نہیں کیونکہ وہ میری اطاعت نہیں کرتا اور نہ ہی میرے حق کا خیال کرتا ہے وہ اس کے لئے ولد کے اسم کی نفی نہیں کرتا وہ اس سے حکم کی نفی کا ارادہ کرتا ہے۔ جس نے اس شعر سے یہ استدلال کیا ہے کہ بیٹی کی اولاد کو ولد نہیں کہتے تو اس نے معنی کو فاسد کردیا اور اس کے فائدہ کو باطل کردیا اور قائل کے قول کی ایسی تاویل کی جو دسرت نہیں کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ عربی زبان میں بیٹے کی اولاد کو ابن کہا جائے اور بیٹی کی اولاد کو ابن نہ کہا جائے اس کی وجہ یہ ہے کہ ولادت کا معنی جس سے ولد کا اسم مشتق ہے اس میں واضح اور قوی ہے کیونکہ بیٹی کی اولاد ولادت کے حقیقی معنی کی وجہ سے اس کی اولاد ہے اور بیٹے کی اولاد اس کی اولاد ہے کیونکہ یہ ولادت کا سبب بنا ہے۔ امام مالک نے بیٹیوں کی اولاد کو اس حصہ سے خارج نہیں کیا جب وہ کوئی چیز اپنی اولاد کے لئے مختص کرتا ہے کہ ولد کا اسم لغت میں ان پر واقع نہیں ہوتا آپ نے ان کو وراثت کے احکام پر قیاس کرتے ہوئے خارج کیا ہے۔ یہ بحث سورة انعام میں گذر چکی ہے۔ الحمد اللہ۔ 3۔ ذریۃ۔ یہ لفظ ذراً اللہ الخلق سے ماخوذ ہے اس میں بیٹیوں کی اولاد داخل ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ومن ذریتہ دائود سلیمن و ایوب ویوسف و موسیٰ و ہھرون و کذلک نجزی المحسنین۔ وزکریا ویحیی و عیسیٰ (الانعام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ماں کی جانب سے ان کی اولاد میں سے تھے ذریۃ کے لفظ کی تحقیق سورة بقرہ اور سورة انعام میں گذر چکی ہے یہاں اس کے اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ 4۔ عقب۔ لغت میں اس کا معنی ہے کوئی شے جب کسی شے کے بعد ہو وہ اس کی جنس سے ہو یا اس کی جنس سے نہ ہو (1) یہ جملہ کہا جاتا ہے : اعقب اللہ بخیر یعنی اللہ تعالیٰ نے سختی کے بعد خوشحلای دی۔ اعقب الشیب لسواد۔ سیاہ بالوں کے بعد سفید بال آئے۔ عقب یعقب عقوبا و عقبا اسی وجہ سے انسان کی اولاد کو اس کی عقب کہتے ہیں معقاب من النساء وہ عورت جو مئونث کے بعد مذکر جنے اسی طرح ہمیشہ سلسلہ رہے۔ عقبل الرجل۔ اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد جو اس کے بعد رہے۔ عاقبۃ سے مراد اولاد ہوتی ہے۔ یعقوب نے کہا : قرآن حکیم میں ہے وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بلکہ تمام وارث عقب ہیں۔ عاقبہ سے مراد اولاد ہے اسی وجہ سے مجاہد نے یہاں تفسیر بیان کی ہے۔ ابن زید نے کہا، یہاں سے اس سے مراد ذریت ہے۔ ابن شہاب نے کہا : اس سے مراد بچے اور بچے کی اولاد ہے۔ دوسرے علماء نے وہ کہا جو سدی سے مروی ہے صحاح میں ہے : عقب ایزی کو کہتے ہیں یہ مئونث ہے عقب الرجل سے مراد اولاد اور اولاد کی اولاد ہے۔ اس میں دو لغتیں ہیں عقب اور عقب۔ یہ بھی مونث ہے۔ اخفش سے مروی ہے، عقب فلاں مکان ابیہ عاقبۃ یعنی فلاں اپنے باپ کا نئاب بنا یہ اسم ہے جو مصدر کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے لیس لوقعتھا کاذبۃ۔ (الواقعہ) علماء کے نزدیک عقب اور ولد کے لفظ میں کوئی فرق نہیں۔ ذریۃ اور نسل میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دونوں ولد اور عقب کے قائم مقام ہیں۔ امام مالک کے مذہب کے مطابق بیٹیوں کی اولاد اس میں داخل نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ سب ان دونوں میں داخل ہیں۔ ذریۃ کے بارے میں گفتگہ یہاں اور سورة الانعام میں گذر چکی ہے۔ -5 نسلی ہمارے علماء کے نزدیک یہ ولدی اور ولد ولدی کے قول کی طرح ہے (1) اس میں بیٹیوں کی اولاد داخل ہے ان کا داخل ہونا ضروری ہے کیونکہ نسل کا معنی نکلنا ہے بچیوں کی اولاد ایک اعتبار سے نلکی ہے ولم یقترن بہ مایخصہ کما اقترن بقولہ عقبی ماتنا سلوا۔ اس کے ساتھ وہ مقترن نہیں ہوگا جو اسے خاص کرے جس طرح نسلی عقبی کے ساتھ مقترن ہے۔ ہمارے بعض علماء نے کہا : نسل، ولد اور عقب کے معنی میں ہے اس میں بیٹیوں کی اولاد داخل نہیں مگر اس صورت میں کہ صدقہ وقف کرنے والا یہ کہے نسلی و نسسل نسلی جس طرح وہ یہ کہے : عقبی و عقب عقبی مگر جب وہ یہ کہے ولدی یا کہے عقبی تو اس میں بیٹیاں داخل نہ ہوں گی۔ -6 آل وہی اہل ہیں۔ یہ ساتواں لفظ ہے ابن قاسم نے کہا : یہ دونوں (آل اور اہل) برابر ہیں اس سے مراد عصبات، بھائی، بیٹیاں اور پھوپھیاں ہیں اس میں خالائیں داخلی نہیں اس کا اصل معنی اجتماع ہے یہ جملہ کہا اجتا ہے : مکان آھل جب اس میں جماعت ہو یہ عصبہ کے ساتھ ہوتا ہے اور جو عورتوں کی جانب سے قرابت میں داخل ہوتا ہے عصبہ اس سے مشتق ہوتا ہے یہ اہل سے خاص ہے حدیث افک میں ہے یا رسول اللہ اھلک ولائعلم الاخیرا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم آپ کے اہل کے بارے میں بھلائی کا ہی علم رکھتے ہیں مراد حضرت عائشہ ہیں لیکن زوجہ آل میں داخل نہیں اس پر اجماع ہے اگرچہ یہی تاھل کی اصل ہے کیونکہ اس کا ثبوت یقینی نہیں کیونکہ اس کا ربط بعض اوقات تبدیل ہوجاتا ہے اور طلاق کے ذریعے ختم ہوجاتا ہے۔ امام مالک نے کہا، آل محمد سے مراد ہر متقی ہے۔ یہ تعبیر اس باب سے متعقل ہے آپ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ ایمان قربات سے خاص ہے اس پر دعوت مشتمل ہوتی ہے اور آپ نے رحمت کا ارادہ کیا ہے۔ ابو اسحاق تو سی نے کہا، اہل میں ہر وہ فرد داخل ہوتا ہے جو والدین کی جانب سے ہو۔ اس نے اشتقاق کو پورا حق دیا اور عرف اور استعمال سے غفلت کا اظہار کیا۔ یہ معانی حقیقت پر مبین ہیں یا ایسے عرف پر جو اطلاق کے وقت مستعمل ہونے پر مبنی ہیں یہ دو لفظ ہیں۔ -8 قرابۃ اس میں چار اقولا ہیں : (1) امام مالک نے محمد عبن عبدوس کی کتاب میں کہا : اس سے مراد قریب ترین پھر قریب ترین ہیں، یہ اجتہاد کے قاعدہ کی بنا پر ہے اس میں بیٹیوں اور خالائوں کی اولاد شامل نہیں (2) باپ اور ماں کی جانب سے قریبی اس میں داخل ہیں، یہ علی بن زیاد نے کہا (3) اشہب نے کہا : مردوں اور عورتوں کی جانب سے ہر ذی رحم اس میں شامل ہے۔ (4) ابن کنانہ نے کہا : اس میں چچے، پھوپھیاں، خالو، خالائیں اور بھانجیاں داخل ہیں۔ حضرت ابن عباس نے قل لا اسئلکم علیہ اجراً الا المودۃ فی القربی (الشوری : 23) کی تفسیر میں کہا : مگر یہ کہ تم اس رشتہ کو جوڑ دو جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔ کہا : قریش کا کوئی خانوادہ نہیں تھا مگر اس کے اور نبی کریم ﷺ کے درمیان رشتہ داری تھی۔ یہ قول اسے جامع ہے۔ -9 العشیرہ۔ اسے حدیث صحیح جامع ہے اللہ تعالیٰ نے جب وانذر عشیرتک الاقربین۔ (الشعرائ) کو نازل کیا تو نبی کریم ﷺ نیق ریش کے خاندانوں کو دعوت دی جس طرح اس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے وہ قریبی خاندان تھے۔ باقی مطلق عشیرہ کا قول پہلے گذر چکا ہے۔ -10 قوم۔ اسے عصبات میں خصوصاً مردوں پر بولا جاتا ہے عوتریں اس میں شامل نہیں قوم مردوں اور عورتوں دونوں کو جامع ہے اگرچہ شاعر نے کہا : وما ادری وسوف اخال ادریا اقوم آل حصن ام نساء لیکن یہ ارادہ کیا کہ جب آدمی مدد کے لئے اپنی قوم کو بلاتا ہے تو مرد مراد لیتا ہے اور جب حرمت کے لئے انہیں بلاتا ہے تو اس میں مرد اور عورتیں سب شامل ہوتی ہیں صفت اسے عام کرتی ہے اور قرینہ اسے خاص کرتا ہے۔ -11 موالی۔ امام مالک نے کہا، اس میں اس کے اپنے موالی کے ساتھ اس کے باپ اور بیٹے کے مولای بھی داخل ہتے ہیں۔ ابن وہب نے کہا، اس میں موالی کی اولاد بھی شامل ہوتی ہے۔ ابن عربی نے کہا، خلاصہ کلام یہ ہے اس میں ہر وہ فرد داخل ہوگا جو ولاء کی وجہ سے وارث بنتا ہے۔ کہا : یہ کلام کی فصول اور اصول ہیں جو قرآن کے ظاہر اور اس سنت کے ساتھ مرتبط ہیں جو قرآن کی وضاحت کرنے والی ہے، اس کی جزئیات کتاب المسائل میں ہیں۔
Ayahs 43:29–31

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ میں ان کفار کو اور انکے باپ دادا کو متمتع کرتا رہا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آپہنچا

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس حق (یعنی قرآن) آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں (یعنی مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟

بل متعت اسے بل معتنا بھی پڑھا گیا ہے ھولاء وبآء ھم انہیں اور ان کے آباء کو دنیا میں حتی جآء ھم الحق یہاں تک کہ حضرت محمد ﷺ توحید اور سالام ان کے پاس لے آئے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اصل ہے یہی وہ کلمہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے خاندان میں باقی رکھا رسول مبین۔ وہ رسول ان کے لئے ایسی چیزوں کی وضاحت کترا ہے جن کی انہیں ضروتر ہوتی ہے۔ ولما جآئھم الحق حق سے مراد قرآن حکیم ہے قالوا ھذا سخر و انا بہ کفرون۔ یعنی انکار کرنے والے ہیں وقالوا لولا نزل یہاں لولا، ھلا کے معنی میں ہے ھذا القرآن علیر جل اسے علی رجل بھی پڑھا گیا ہے من القریتین عظیم۔ دونوں بستیوں میں سے ایک میں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یخرج منھما الونروا المرجان۔ (الرحمن) دو سمندروں میں سے ایک سے یہ دونوں نکلتے ہیں یا دونوں بستیوں میں سے ایک آدمی پر۔ قریتین سے مراد مکہ اور طائف ہے۔ رجلان سے مراد دولید بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمرو بن مخزوم یہ ابوجہل کا چچا تھا۔ طائف سے ابو مسعود عرو بن مسعود ثقفی (1) یہ قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عمیر بن عبدبالیل ثقفی جو طائف سے تعلق رکھتا تھا (2) عتبہ بن ربیعہ جو مکہ مکرمہ سے تعلقر کھتا تھا، یہ مجاہد کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے : طائف کے عظیم آدمی سے مراد حبیب بن عمرو ثقفی ہے۔ سدی نے کہا، اس سے مراد کنانہ بن عبدبن عمرو ہے (3) ایک روایت کی گی ہے : اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے اسے ریحانہ قریش کا نام دیا جاتا ہے وہ کہا کرتا : محمد ﷺ جو کچھ کہتے ہیں اگر حق ہے تو وہ مجھ پر یا ابو مسعود پر نازل ہوتا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اھم یقسمون رحمت ربک اس سے مراد نبوت ہے وہ اسے جہاں چاہتے رکھتے نحن فسمنابینھم معیشتھم فی الحیوۃ الدنیا یعنی ایک قوم کو فقیر کردیا اور ایک قوم کو غنی کردیا جب دنیا کا معاملہ ان کے سپرد نہیں تو نبوت کا امران کے سپرد کیا جاسکتا ہے ؟ قتادہ نے کہا، تو ایک انسان کو کمزور، کم حیلے والا، اپنا نقطہ نظر واضح نہ کرسکنے والا پاتا ہے جبکہ مال و متاع اس کے پاس بہت زیادہ ہے، تو ایک انسان کو پاتا ہے کہ وہ سخت محنت کرتا ہے، بڑا فرمان بردار ہے مگر مال و متاع اس کے پاس کچھ نہیں (4) حضرت ابن عباس مجاہد اور ابن محیصن نے ایک روایت معایشھم نقل کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے دو بستیوں کے عظیم افراد کو عطا کیا جو عطا کیا اس وجہ سے نہیں کہ وہ ہم پر معزز ہیں جبکہ میں ان سے نعمت کو چھیننے والا ہوں تو ان کے لئے فضیلت اور شان کہاں سے آگئی ؟ ورفعنابعضھم فوق بعض درجت یعنی ہم نے ان میں باہم فضیلت رکھی کچھ صاحب فضل ہیں اور کچھ پر فضیلت حاصل ہے کچھ رئیس ہیں اور کچھ محکوم ہیں (1) یہ مقاتل کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آادی اور غلامی میں باہم فضیلت دی بعض مالک ہیں اور بعض مملوک ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : غنا اور فقر میں باہم فضیلت دی ان میں سیب عض غنی اور بعض فقیر ہیں۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اعتبار سے فضیلت دی۔ لیتخذبعضھم بعضاً سخریا ً سدی اور ابن زید نے کہا، غلام اور خدام کے اعتبار سے باہم فضیلت دی (2) اغنیاء فقراء کا تمسخر اڑاتے ہیں ان میں سے بعض بعض کے معاش کا سبب ہیں۔ قتادہ اور ضحاک نے کہا : یعنی ان میں سے بعض کے مالک بن جائیں (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اس سخریہ سے ماخوذ ہے جو استہزاء کے معنی میں ہے اور ھزئت منہ ربہ۔ ہر ایک جملہ کہا اجتا ہے اسم سخریہ ہے اسی طرح سخری اور سخری ہے تمام علماء نے سخریا میں سین کو ضمہ دیا ہے مگر ابن محصین اور مجاہد نے ضمہ نہیں دیا دونوں نے سخریا پڑھا ہے و رحمت ربک خیر مما یجمعوکن۔ یعنی دنیا میں سے جو وہ جمع کرتے ہیں تیرے رب کی رحمت اس سے افضل ہے پھر یہ کہا گیا ہے۔ رحمت سے مراد نبوت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد جنت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، فرائض کو مکمل ادا کرنا نوافل کی زیادتی سے بہتر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس چیز کے ساتھ ان پر فضل و احسان کیا جاتا یہ اس سیب ہتر ہے جو ان کو ان کے اعمال پر جزا دی جاتی ہے۔
Ayahs 43:32–33

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا یہ لوگ تمہارے پروردگار کی رحمت کو بانٹتے ہیں ؟ ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں تو جو لوگ خدا سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ چڑھتے ہیں

مسئلہ نمبر 1۔ علماء نے کہا : دنیا کی حقارت اور کم مرتبہ کا ذکر کیا وہ اس کی بارگاہ میں اتنی ذلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے گھروں اور ان کی زینوں کو سونے اور چاندی کا بنا دیتا اگر دنیا کی محبت دونوں پر غالب نہ آجاتی اور یہ چیز کفر پر برانگیختہ نہ کتری۔ حضرت حسن بصری نے کہا، اس کا معنی ہے اگر سارے لوگ اس وجہ سے کافر نہ ہوجاتے کہ وہ دنیا سے محبتک رتے ہیں اور آخرت کو ترک کرتے ہیں تو ہم دنیا میں انہیں وہ عطا کرتے جو ہم نے بیان کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا ذلیل و رسوا ہے (4) ، اکثر مفسرین کا یہی نقطہ نظر ہے، یہ حضرت ابن عباس، سدی اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ ابن زید نے کہا، معنی ہے اگر سارے لوگ دنیا کی طلب اور اسے آخرت پر ترجیح دینے کے اعتبار سے بس ایک جیسے نہ ہوجاتے تو جو رحمٰن کا انکار کرتے ہیں تو ہم ان کے گھروں کی چھت چاندی کے بنا دیتے۔ (5) کسائی نے کہا، معنی ہے اگر کفار میں غنی اور فقیر نہ ہوتے اور مسلمانوں میں اسی کی مثل نہ ہوتے تو ہم کفار کو دنیا دے دیتے، یہ اس کی ذلت و حقارت کی وجہ سے ہوتا۔ مسئلہ نمبر 2۔ ابن کثیر اور ابو عمرو نے سقفا پڑھا ہے یعنی سین کو مفتوح اور قاف کو ساکن پڑھا ہے یہ واحد کا صیغہ ہے اور اس کا معنی جمع کا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر قیاس کرتے ہیں : فخر علیھم السقف من فوقھم (النحل : 26) باقی قراء نے سین اور قاف کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور صیغہ جمع کا ہے جس طرح رھن اور رھن ہے۔ ابو عبید نے کہ؁، ان میں یسرا وزن نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ سقوف کی جمع ہے پس یہ جمع کی جمع ہوئی سقف و سقوف، جس طرح فلس، فلوس۔ پھر انہوں نے فعولا بنایا گیا گویا اسم واحد ہے تو انہوں نے فعل کے وزن پر جمع بناد یا۔ مجاہد سے مروی ہے : یہ سقفا ہے یعنی قاف کو ساکن کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، لبیوتھم میں لام، علی کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ بدل ہے جس طرح تو کہتا ہے : فعلت ھذا الزید نکر امتہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولا بویہ لکل واحد منھما الدس (النسائ : 11) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا : لجعلنا لمن یکفر بالرحمٰن لبیوتھم۔ مسئلہ نمبر 3۔ معارج اس سے مراد زینے ہیں، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، یہ جمہور کا قول ہے اس کا واحد معراج ہے معراج کا معین سیڑھی ہے اسی سے لیلۃ المعراج ہے اس کی جمع معارج اور معاریج ہے جس طرح مفاتح اور مفاتیح دو لغتیں ہیں معاریج یہ ابو رجا عطاری اور طلحہ بن مصرف کی قرأت ہے اس سے مراد سیڑھیاں ہیں۔ اخفش نے کہا، اگر تو چاہے تو اس کا واحد معرج اور معرج ہے جس طرح مرقاۃ ہے۔ علیھا یظھرون۔ ماضمیر سے مراد معارج ہیں جن پر وہ چڑھتے ہیں یہ جملہ کہا اجتا ہے، ظھرت علی البیت یعنی میں اس کی چھت پر چڑھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو آدمی کسی چیز پر بلند ہوتا ہے تو وہ لوگوں کے لئے نمایاں ہوجاتا ہے۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے : ظھرت علی الشیء میں نے اسے جانا۔ ظھرت علی العدو۔ میں دشمن پر غالب آگیا۔ نابغہ بن جعدہ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہ شعر پڑھا : علونا السماء عزۃ وھابۃ وانا لنرجو فوق ذلک مظھر (1) ہم عزت اور ہیبت کے اعتبار سے آسمان پر چڑھ گئے بیشک ہم اس سے اوپر چڑھنے کی امید رکھتے ہیں۔ مظھر کا معنی مصعد ہے تو رسول اللہ ﷺ نارضا ہوگئے (2) فرمایا :” کہاں ؟ ؟ “ عرض کی : جنت کی طرف۔ فرمایا : ” ہاں انشاء اللہ۔ “ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ کی قسمچ دنیا نے اپنے مکینوں میں سے اکثر کو مئال کرلیا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا بھی نہیں اگر اللہ تعالیٰ اس طرح کردیتا تو کیا حال ہوتا (3) مسئلہ نمبر 4۔ بعض علماء نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہچھت پر بالائی منزل والے کا کوئی حق نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چھت کو کمرے کا حصہ قرار دیا ہے جس طرح دروازوں کو اس کا حصہ قرار دیا ہے، یہ امام کا نقطہ نظر ہے۔ ابن عربی نے کہا، اس کی وجہ یہ ہے کیونکہ بیت سے مراد صحن، دیوار، چھت اور دروازہ ہے جس کا وہ کمرہ ہوتا ہے اس کے لئے یہ اجزاء بھی ہونگے اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس کا علو آسمان تک ہے (1) سفل میں اتخلاف ہے کچھ علماء نے کہا، سفل اسی کا ہوگا جس کا وہ کمرہ ہے اور ان میں سے بعض نے کہا، زمین کے بطن میں سے کوئی چیز اس کے لئے نہ ہوگی۔ ہمارے مذہب میں دوق ول ہیں، اسرائیلی کی حدیث صحیح پہلیبیان کی جائیگی کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے ہاتھ گھر بیچا اس کی تعمیر کی اس میں سونے کا ایک گھڑا ا پایا وہ اس گھڑے کو بیچنے والے کے پاس لایا اس نے کہا، میں نے گھر خریدا تھا گھڑا نہیں خریدا تھا بیچنے والے نے کہا، گھر میں جو کچھ تھا اس کے ساتھ میں نے گھر بیچا تھا ان میں سے ہر ایک نے گھڑے کو لینے سے انکار کر دے اور یہ مال ان دونوں کو دے دیا جائے۔ صحیح بات یہ ہے کہ اوپر والا حصہ اور نچلے والا حصہ اسی کمرے والے کا ہے مگر اس صورت میں کہ وہ بیع کرتے وقت اسے خارج کردیں جب ان دونوں میں سے ایک نے دونوں جگہوں میں سے ایک کو بیچا تو اس سے جو نفع اٹھایا جاتا ہے وہ اس کے لئے ہوگا اور باقی خریدنے والے کے لئے ہوگا۔ مسئلہ نمبر 5۔ بالائی منزل اور زیریں حصہ کے احکام ،۔ جب بالائی حصہ اور نچلے والا حصہ دو افراد کی ملکیت میں ہوں نچلی منزل خراب ہوجائے یا اس کا مالک اس کے گرانے کا ارادہ کرے سحنون نے اشہب سے روایت نقل کی ہے انہوں نے کہا، جب زیریں منزل والا اسے گرانا چاہے یا بالائی منزل والا اس پر مسجد بنانا چاہے تو مجبوری کے بغیر زیریں منزل والا اسے نہ گرائے اس کا گرانا بالائی منزل والے کے مناسب ہونا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ زیریں منزل کے کرانے سے بالائی منزل گر جائے بالائی منزل کو حق حاصل نہیں کہ بالائی منزل والا اوپر منزل بنائے جو اس سے پہلے نہ ہو مگر معملوی سی چیز جو زیریں منزل والے کو نقصان دے۔ اگر باالئیم نزل کی چھت میں سے ایک ٹکڑی ٹوٹ جائے تو و اس کی جگہ دوسری لڑکی رکھ لے جبکہ وہ پہلی ٹکڑی سے بھاری نہ ہو اور زیریں منزل پر ضرر کا خوف نہ ہو۔ اشہب نے کہ؁، گھر کا دروازہ زیریں منزل والے کا ذمہ ہے اگر زیریں منزل گر جائے تو اس کے مالک و اس کے بنانے پر مجبور کیا جائے گا بالائی منزل والے پر لازم نہیں کہ وہ زیریں منزل تعمیر کرے اگر زیریں منزل والا تعمیر سے انکار کر دے تو اسے کہا جائے گا : اس کے ہاتھ بیچ دے جو اس کو بنائے۔ ابن قاسم نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے کہ زیریں منزل ایک آدمی کی ع ہے اور بالائی منزل دوسرے آدمی کی ع ہے زیریں منزل خراب و جای ہے تو اس کو درست کرنا زیریں منزل والے کے ذمہ ہے اس کے ذمہ یہ بھی ہے کہ بالائی منزل کو سہارا دے یہاں تک کہ وہ زیریں منزل کو درست کرلے۔ حضرت نعمان بن بشیر نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے فرمایا :” حدود اللہ پر قائم کرنے والا اور ان میں واقع ہونے والا ان لوگوں کی مثل ہے جو ایک کشتی میں قرعہ اندازی کرتے ہیں ان میں سے بعض کو بالائی حصہ ملتا ہے اور ان میں سے بعض اس کا زیریں حصہ پاتے ہیں جو نچلے حصہ میں ہیں جب پانی لیتے ہیں تو اوپر والے لوگوں کے پاس سے گذرتے ہیں انہوں نے کہا : اگر ہم اپنے حصہ میں سے ایک سوراخ کرلیں اور اوپر والوں کو اذیت نہ دیں اگر اوپر والے انہیں چھوڑے رہیں اور جو وہ ارادہ کریں تو سب کے سب ہلاک ہوجائیں اگر اوپر والوں نے ان کے ہاتھوں کو پکڑ لیا تو سب کے سب نجات پا جائیں گے (1) “ یہ اس باب میں اصل ہے یہ امام مالک اور اشہب کی دلیل ہے اس میں یہ دلیل بھی موجود ہے کہ نچلے حصہ والے کو حق حاصل نہیں کہ وہ کوئی ایسا نیا کام کرے جو اوپر والے کو نقصان پہنچاتا ہو اگر اس نے کو ئا یسا نیا کام کیا جس سے نقصان ہوا تو اس پر یہ لازم ہے کہ وہ اسے درست کرے بالائی منزل والے پر درست کرنے کی کوئی ذمہ داری نہ ہوگیا وپر والے کو حق حاصل ہوگا کہ وہ نقصان پہنچانے والی چیز سے اسے روک دے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : ” اگر انہوں نے ان کے ہاتھوں کو پکڑ لیا تو سب کے سب نجات پا جائیں گے۔ “ ظالم کے علاوہ کسی کا ہاتھ پکڑنا جائز نہیں یا وہ امر ممنوع ہو کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جو جائز ہی نہ ہو اس میں یہ دلیل بھی موجود ہے کہ جو آدمی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو ترک کرتا ہے وہ سزا کا مستحق ہے سورة الانفال میں یہ بات گذر چکی ہے اس میں یہ دلل بھی موجود ہے قرعہ جائز اور اس کا استعمال بھی جائز ہے سورة آل عمران میں یہ بحث گذر چکی ہے، اس کے تمام واقع پر غور کر تو اسے واضح انداز میں پائے گا۔ الحمد اللہ۔
Ayah 43:34

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیں

ولبیوتھم ابواباً یعنی ہم نے ان کے گھروں کے دروازے بنا دیئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لبیوتھم، لمن یکفر بالرحمن سے بدل اشتمال ہے یعنی چاندی کے دروازے۔ وسرر اسی طرح پلنگ بھی چاندی کے سردیہ سریر کی جمع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اسرہ کی جمع ہے اور اسرہ، سریر کی جمع ہے پس سرر جمع کی جمع ہے۔ علیھا یتکون۔ اتکاء اور تذکر سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کا سہارا لینا، اسی سے اتوکوا علیھا (طہ : 18) یعنی میں اس پر سہارا لیتا ہوں رجل تکاۃ جس طرح ھمزۃ ہے بہت زیادہ سہارا لینے والا ہے۔ اس سے اسم فاعل مت کی ہے اسم ظفر متکا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : طعنہی حتی اتکاہ اس نے اسے نیزہ مارا یہاں تک کہ اسے سہارا لینے پر مجبور کردیا یعنی اسے سہارا لینے والے کی طرح گرا دیا اسی طرح توکات علی العصا میں نے ڈنڈے کا سہارا لیا۔ تمام میں تاء کی اصل وائو ہے اس کے ساتھ وہی کچھ کیا گیا جو اتزن اور اتعد کے ساتھ کیا گیا۔
Ayah 43:35

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور (خوب) تجمل و آرائش (کر دیتے) اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے اور آخرت تمہارے پروردگار کے ہاں پرہیزگاروں کے لئے ہے

وزحرفاً یہاں زخرف سے مراد سونا ہے (1) حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے اویکون لک بیت من زخرف یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔ ابن زید نے کہا، اس سے مراد وہ سامان ہے جو لوگ اپنے گھروں میں رکھتے ہیں (2) حضرت حسن بصری نے کہا، اس سے مراد نقوش ہیں (3) اس کا اصل معنی زینت ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : زخرفت الدار۔ میں نے گھر کو مزید کیا تزحرف فلان۔ فلاں مزین ہوا۔ زخرفاً کو نصب اس لئے دی گئی کہ اس کی تعبیر یوں ہے وجعلنا لھم مع ذلک زخرفا اس کے ساتھ ساتھ ہم نے ان کے لئے زینت بنا دی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ حرف جار کے حذف کے ساتھ منصوب ہے معنی ہے ہم نے ان کے لئے چھت، دروازے، سونے اور چاندی کے پلنگ بنائے جب من کو حذف کیا تو کہا وزخرفاً تو اسے نصب دی گی۔ و ان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا عاصم، حمزہ اور ہشام نے ابن عامر سے ان شدید کے ساتھ پڑھا جبکہ باقی قراء نے اسے مخفف پڑھا یہ بحث بھی ذکر کی جا چکی ہے۔ ابو رجاء سے لما کے لام کو م کسور نقل کیا یا اس کے نزدیک ما، الذی کے معنی میں ہے اس کی ضمیر عائد محذوف ہے تقدیر کلام یوں ہے ان کل ذلک الذی ھو متاع الحیاۃ الدنیا یہاں سے ضمیر کو حذف کردیا گیا ہے جس طرح اسے حذف کیا گیا ہے اس کی قرأت کے مطباق جس نے قرأت کی مثلاً مابعوضۃ فما فوقھا (البقرہ : 26) تماما علی الذی احسن (الانعام : 154) ابوالفتح نے کہا کہ اس قرأت کی بنا پر لک مصنبو ہے کیونکہ ان مشقلہ سے مخففہ ہے جب اسے مخفف کردیا جائے اور اس کا عمل باطل ہوجائے تو کلام کے آخر میں لام لازم ہوتا ہے تاکہ اس کے اور ان نافیہ میں فرق ہوجائے جو ما کے معنی میں ہوتا ہے جس طرح ان زیدلقائم یہاں لام جارہ کے سوا کوئی لام نہیں۔ والاخرۃ عند ربک المتقین۔ یعنی جو متقی بنتا ہے اور خوف کھاتا ہے اس کے لئے جنت ہے۔ کعب نے کہا، میں اللہ تعالیٰ کی نزل کتب میں سے بعض میں پاتا ہوں لولا ان یحزن عبدالمومن لکلت راس عبدی الکافر بالا کفیل والا یتصدع ولاینبض منہ عرق بوجع اگر یہ نہ ہوتا کہ میرا مومن بندہ غمگین ہوگا تو میں اپنے کافر بندے کے سر پر تاج پہنا تا اس کو سر درد نہ ہوتا اور نہ ہی درد کی وجہ سے اس کا پسینہ پھوٹتا۔ صحیح ترمذی میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : الدین سجن المومن وجنۃ الکافر ” دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔ “ (4) سہل بن سعد سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لومنت الدنیا تعدل عند اللہ جناح بعوض ما سقی کافرامنھا شربۃ ماء ” اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کافر پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پیتا “ (5) اس باب میں حضرت ابوہریرہ سے مروی روایت ہے کہا : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ لوگوں نے یہ اشعار پڑھے : فلو کا نت الدنیا جزاء لمحسن اذالم یکن فیھا معاش لظالم لقد جاع فیھا الانبیاء کر امۃ وقد شبعت فیھا بطون البھائم اگر دنیا محسن کی جزا ہوتی تو اس میں ظلم کی زندگی کا وجود ہی نہ ہوتا اس میں انبیاء کرامت کے باوجود بھوکے رہے اور چوپائوں کے پیٹ سیر ہوئے۔ ایک اور شاعر نے کہا : تمتع من الآیام ان کنت حازما فانک فیھا بین ناہ و آمر تو اگر محتاج ہے تو ان ایام سے تھوڑا سا لطف اٹھا لے بیشک تو اس میں روکنے والے اور حکم دینے والے کے درمیان ہے۔ اذا ابقت الدنیا علی المرء دینہ فما فاتہ فیھا فلس بضائر جب دنیا انسان پر اس کا دین باقی رکھے تو جو چیز اس سے فوت ہوئی وہ اس کو نقصان دینے والی نہیں۔ فلاتزن الدنیا جناح بعوضۃ ولا وزن رق من جناح لطائر دنیا کا وزن مچھر کے پر سے نہ کر اور نہ ہی پرندے کے بازو کے ایک پر سے۔ فلم یرض بل دنیا ثوابا لمحسن ولا رضی الدنیا عقا بالکافر وہ محسن کو دنیا کے ساتھ بدلہ دینے پر راضی نہیں اور نہ ہی کافر کو سزا دینے پر دنیا سے راضی ہے۔
Ayahs 43:36–38

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرلے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے۔

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور یہ (شیطان) ان کو راستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے راستے پر ہیں

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا کہ اے کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا ! تو برا ساتھی ہے

ومن یعش عن ذکر الرحمٰن نقص لہ شیطناً فھولہ قرین۔ حضرت ابن عباس اور عکرمہ نے ومن یعش پڑھا ہے (1) اس کا معنی اندھا ہونا ہے اسی معنی میں ہے عشق یعشی عشا جب وہ اندھا ہو، رجل اعشق، امراۃ عشواء جب وہ دیکھتا نہ ہو اس معنی میں اعشی کا قول ہے : رات رجلاً غائب الوافدین مختلف الخلق اعشق ضریرا اس نے ایک ایسا آدی دیکھا جس کے ساتطھ جا چکے تھے شکل و صورت بڑی عیجب اور وہ اندھا تھا۔ باقی قرئا نے اسے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ عشایعشو سے مشتق ہے جب اسے ایصا عارضہ لاحق ہو جو اندھے کو لاحق ہوتا ہے خلیل نے کہا : عشو سے مراد کمزور نظر دیھکنا (1) : اور یہ شعر پڑھا : متی تاتہ تغشو الی ضو نارہ تجد خیر نار عندھا خیر موقد (2) ایک اور شاعر نے کہا : لنعم الفتی یعشو الی ضو نارہ اذا الریح ھبت والمکان جدیب وہ کتنا اچھا نوجوان ہے جو اپنی اگٓ کی روشنی کی طرف لڑکھڑاتے ہوئے جاتا ہے جب کہ ہوا چل رہی ہے اور مکان چنیل ہے۔ جوہری نے کہا : عشق الق مقصورہ کے ساتھ اعشی کا مصدر ہے یہ اس شخص کو کہتے ہیں جو رات کو نہیں دیکھ سکتا وہ صرف دن کو دیکھتا ہے اس کے یہ صیغے استعمال ہوتے ہیں امراۃ عشوائ، امراتان عشواوان، اعشاہ اللہ فعشی یعشی عشی۔ ھما یعشیان وہ یہ نہیں کہتے یشموان کیونکہ وائو جب واحد کے صیغہ میں ماقبل کے کسرہ کی وجہ سے یاء ہوجائے تو تنثنیہ کے صیغہ میں اپنی حالت پر رہتی ہے تعاشی جب وہ اپنے بارے میں یہ ظاہر کرے کہ وہ اندھا ہے اعشی کا اسم منسبو اعشری آتا ہے اور عشیہ کا اسم نسوب عشوی آتا ہے عشواء اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو سامنے نہ دیکھ سکے تو وہ بےہنگم اپنے پائوں ہر چیز پر مارتی ہے رکب فلان العشواء جب وہ اپنیی معاملہ میں سوچے سمجھے بغیر شروع ہوگیا۔ فلان خابط خبط عشواء فلاں آمی اندھی اونٹنی کی طرح ٹامک ٹوٹیاں مار رہا ہے۔ یہ آیت سورت کے آغاز افنضرب عنکم الذکر صفحاً کے ساتھ متصل ہے یعنی سہم تمہارے لئے پے در پے ذکر کرتے ہیں جو آدمی اس ذکر سے اندھا بنا رہتا ہے کہ اس سے اعرضا کرتا ہے اور گمراہوں اور باطل لوگوں کے اقوال کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کے کفر کی جزا کے طور پر ہم ایک شیطان اس پر سملط کردیتے ہیں فھولہ قرین وہی اس کا ساتھی ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ دنیا میں ایسا ہوتا ہے جو حلال چیز سے اسے روکتا ہے اور حرام چیز پر اسے برانگیختہ کترا ہے اسے اطاعت سے منع کرتا ہے اور اسے معصیت کا حکم دیتا ہے، حضرت ابن عباس کے قول کا یہی معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گا ہے : یہ آخرت میں سے ہوگا جب وہ اپنی قبر میں سے اٹھے گا، یہ حضرت سعید بن جبیر کا قول ہے حدیث طیبہ میں ہے ” کافر جب اپنی قبر سے نکلتا ہے تو ایک شیطان اس کے ساتھ ہو لیتا ہے وہ اس کے ساتھ ہی رہتا ہے یہاں تک کہ وہ دونوں جہنم میں داخل ہو اجتے ہیں اور مومن کا ساتھی فرشتہ بنا دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ ‘ یہ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ قشیری نے کہا، صحیح یہ کہ وہ شیطان دنیا اور آخرت میں اس کا ساتھی ہوتا ہے۔ ابو ہیثم اور ازہری نے کہا، عشوت الی کذا۔ میں نے اس کا قصد کیا۔ عشوت عن کذا میں نے اس سے اعراض کیا الی اور عن صلہ کی وجہ سے معنی میں فرق ہوگا جس طرح ملت الیہ اور ملت عنہ میں فرق ہے۔ قتادہ نے بھی اسی طرح کہا ہے یعش یعنی وہ اعراض کرتا ہے، یہ فرئا کا قول ہے نحاس نے کہا، یہ لغت میں معروف نہیں۔ قرظی نے کہا، وہ اپنی کمر کو دہرا کرتا ہے۔ معنی ایک ہی ہے۔ ابوعبیدہ اور اخفش نے کہا، اس کی آنکھ تاریک ہوجاتی ہے۔ عتبی نے اس کا انکار کیا ہے کہ عشوت، اعرضیت کے معنی میں ہے کہا درست تعاشیت ہے یہ قول، ابوہیثم اور ازہری کا ہے تمام اہل علم نے یہی کہا ہے، سلمی، ابن اسحاق، یعقوب اور عصمہ نے عاصم اور اعمش سے یقیض پڑھا ہے کیونکہ الرحمٰن کا ذکر ہے معنی ہوگا رحمٰن اس کے لئے شیطان مسلط کردیتا ہے باقی فراء نے اسے نون کے ساتھ پڑھا ہ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے : نقض لہ شیطنا فھولہ قرین۔ قرین کا معنی ساتھ رہنے والا اور ساتھی ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے کہ یہ شیطان سے کنایہ ہے جس طرح پہلے گذر چکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ اعراض عن القرآن سے کنایہ ہے یعنی وہ شیطان کا قرین ہے وانھم لیدونھم عن السبیل شایطین انہیں ہدایت کے راستہ سے روکتے ہیں یہاں جمع کا صیغہ ذکر کیا کیونکہ ومن یغش میں من جمع کے معنی میں ہے یوحسبون وائو ضمیر سے مراد کفار ہیں یعنی کفار گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ کفار یہ گمان کرتے ہیں کہ شیاطین ہدایت یافتہ ہیں پس کفار ان کی اطاعت کرتے ہیں حقی اذا جآء نا فعل کا صیغہ واحد ہے۔ ابو عمرو، حمزہ، کسائی اور حفص نے یہ پڑھا ہے یعنی جب کافر قیامت کے روز ہمارے پاس آئے گا، باقی قراء نے اسے جآء نا تثنیہ کا صیغہ پڑھا ہے یعنی کافر اور اس کا ساتھی جب ہمارے پاس آئے گا دونوں کا ایک سل سلہ میں رکھا گیا ہے تو کافر کہے گا : یلیت بینی وبینک بعد المشرقین یعنی موسم سرما اور موسم گرما کا مشرق، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : رب المشرقین و رب المغربین۔ (الرحمٰن) اسی کی مثل مقاتل کا قول ہے۔ واحد کے صیغہ کی قرأت اگرچہ اس کا ظاہر تو افراد کے منی پر ہے تاہم معنی دونوں کے لئے کیونکہ مابعد کلام سے اسے پہچان لیا گیا ہے جس طرح شاعر نے کہا : وعین لھا حدرۃ بدرۃ شقت مآتیھا من اخر محل استدلال عین ہے لفظ میں واحد ہے اور معنی میں تثنیہ، کیونکہ مآقیھا اس پر دلالت کر رہا ہے۔ مقاتل نے کہا، کافر تمنا کرے گا کہ کاش اس کے اور اس کے ساتھی کے درمیان اتنی دوری ہوتی جو سال کے طویل ترین اور مختصر ترین دن کے درمیان ہوتی ہے اسی وجہ سے فرمایا : بعد المشرقین۔ فراء نے کہا : مراد مشرق و مغرب ہے ان دونوں ہی سے ایک کے اسم کو غلبہ دیا جس طرح کہا جاتا ہے قمران، مراد سورج اور چاند ہوا کرتا ہے۔ عمران مراد حضرت ابوبکر صدیق، اور عمر فاورق ہیں بصرتان کوفہ اور بصرہ کے لئے۔ عصران، صبح اور عصر کے لئے ذکر کرتے ہیں۔ شاعر نے کہا : اخذنا بآفاق السماء علیکم لنا قمراھا و النجوم الطوالع (1) ہم نے تمہارے خلاف آسمان کے آفاق کو پانی گرفت میں لے لیا ہے ہمارے پاس اس کا سورج اور چاند روشن ستارے ہیں۔ ابو عبیدہ نے جریر کا شعر پڑھا : ما کان یرضی رسول اللہ فعلھم والعمران ابوبکر ولا عمر ان کے عمل سے رسول اللہ ﷺ ، عمران یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر راضی نہیں۔ سیبویہ نے یہ شعر پڑھا : قدنی من نصر الخبیبین قدی خبیبین سے مراد عبداللہ اور مصعب ہے جو حضرت زبیر کے بیٹے تھے وہ ابوخبیب عبداللہ تھے۔ فبئس القرین تو کتنا برا ساتھی ہے کیونکہ وہ اسے آگ پر لے جائے گا۔ حضرت ابو سعید خدری نے کہا، جب کافر کو اٹھایا جائے گا تو شیطان میں سے اس کیس اتھی کو ساتھ ملا دیا جائے گا وہ اس سے جدا نہیں ہوگا یہاں تک کہ اس کے ساتھ جہنم میں چلا جائے گا۔ (1) ۔
Ayah 43:39

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں یہ بات فائدہ نہیں دے سکتی کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو

ولن ینفعکم الیوم اذ ظلمتم اذ، یوم سے بدل ہے یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کافر سے فرمائے گا : جب تم نے دنیا میں شرک کیا تو اس وقت تمہاری یہ گفتگو تمہیں کوئی نفع نہ دے گی۔ وہ کافر کا قول ہے یلیت بینی وبینک بعد المشرقین یعنی آج تمہیں ندامت نفع نہ دے گی انکم میں ہمزہ مکسور ہے فی العذاب مشترکون۔ یہ ابن عامر کی قرأت ہے جبکہ باقی قراء نے ان کے ہمزہ کو مفتوح پڑھا ہے یہ محل رفع میں ہے تقدیر پر کلام یہ بنے گی لن ینفعکم الیوم اشتراککم فی العذبا کیونکہ ہر ایک کے لئے اس کا وافر حصہ ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا کہ جہنمیوں کو منع کردیا گیا ہے کہ وہ غم کا اظہار کریں جس طرح مصیبت زدہ لوگ دنیا میں غم کا اظہار کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ غم کے اظہار سے اہل دنیا راحت حاصل کرتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے لی فی البلاء و المصیبۃ اسوۃ آزمائش اور مصیبت میں میں ایک نمونہ ہوں۔ اس طرح وہ غم سے سکون حاصل کرتا ہے جس طرح خنساء نے کہا : فلولا کثرۃ الباکین حولی علی اخوانھم لقتلت نفسی وما یبکون مثل اخی ولکن اعزی النفس عنہ بالتاسی (2) اگر میرے اردگرد اپنے بھائیوں پر رونے والوں کی کثرت نہ ہوتی تو میں اپنے نفس کو قتل کردیتا وہ میرے بھائی جیسے بھائیوں پر نہیں روتے مگر اپنے نفس کو اس غم کے اظہار پر تسلی دیتی ہوں۔ جب آخرت میں غم کا اظہار انہیں کوئی نفع نہ دے گا تو اللہ تعالیٰ انہیں عذاب میں مشغول کر دے گا۔ مقاتل نے ہا، آج معذرت اور شرمندگی تمہیں کوئی نفع نہ دے گی (3) کیونکہ تمہارے ساتھی اور تم عذاب میں باہم شریک ہو جس طرح تم کفر میں ش ریک ہو۔
Ayah 43:40

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

کیا تم بہرے کو سنا سکتے ہو ؟ یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہو ؟ اور جو صریح گمراہی میں ہو اسے (راہ پر لاسکتے ہو) ؟

افانت تسمع الصم اوتھدی العمی خطاب سر وردوعالم ﷺ کو ہے ومن کان فی ضلل مبین۔ یعنی یہ آپ کے لئے نہیں اس لئے اگر وہ کفر کرتے ہیں تو آپ کا سینہ تنگ نہ پڑے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کے لئے تسلی ہے اس میں قدریہ اور دوسرے افراد کے لئے رد ہے دل میں ہدایت، رشد اور گمراہی یہ سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں جس کے حق میں چاہتا ہے گمراہی تخلیق فرما دیتا ہے اور جس کے حق میں چاہتا ہے ہدایت مقدر کردیتا ہے۔
Ayahs 43:41–42

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

اگر ہم تم کو (وفات دے کر) اٹھا لیں تو ان لوگوں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

یا (تمہاری زندگی ہی میں) تمہیں وہ (عذاب) دکھا دیں گے جن کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ہم ان پر قابو رکھتے ہیں

فاما نذھبن اس سے مراد یہ لی ہم آپ کو مکہ مکرمہ سے قریش کی اذیت سے نکال کرلے جائیں فانا منھم منتقمون۔ اونرینک الذی وعدنھم اس سے مراد تیری زندگی میں ان سے اتنقام لینا ہے فانا علیھم مقتدرون۔ حضرت ابن عباس نے کہا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ منظر بدر کے روز دکھایا، یہ اکثر مفسرین کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا، یہ مسلمانوں میں ہے اس سے مراد حضرت محمد کے بعد فتنے ہیں (1) نذھبن بک اسی پر ہم تجھے موت عطا کردیں گے نبی کریم ﷺ کے بعد شدید انتقام واقع ہو اللہ تعالیٰ نے اپنیی نبی کو عزت بخشی اللہ تعالیٰ آپ کو لے گیا اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی امت میں نہیں دکھایا مگر وہی کچھ جس سے آنکھ ٹھنڈی ہوئی اور انتقام کو اس کے بعد رکھا کوئی نبی نہیں گذرا مگر اس کی امت میں انتقام اسے دکھایا گیا۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ کی امت جب آزمائش کو پانے والی تھی وہ آپ کو دکھائی گئی تو آپ ہمیشہ منقبض ہی رہے آپ کھل کر نہ ہنسے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی (2) حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جب اللہ تعالیٰ کسی امت کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے پہلے اس کے نبی کو قبض کرلیتا ہے اور اس نبی کو اس امت کے لئے فرط اور سلف بنا لیتا ہے اور جب کسی امت کو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے عذاب دیتا ہے جبکہ اس کا نبی زندہ رہتا ہے تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو جب انہوں نے نبی کی تکذیب کی اور اس کے حکم کی نافرمانی کی۔ “
Ayahs 43:43–44

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اس کو مضبوط پکڑے رہو بیشک تم سیدھے راستے پر ہو

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

اور یہ (قرآن) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور (لوگو ! ) تم سے عنقریب پرسش ہوگی

فاستمسک بالذی اوحی الیک۔ بالذی اوحی الیک سے مراد قرآن حکیم ہے اگرچہ اس کو جھٹلایا جس نے جھٹلایا انک علی صراط مستقیم، یہ تمہیں اللہ تعالیٰ اس کی رضا اور ثواب تک پہنچا دے گا وانہ لذکر لک ولقومک یعنی قرآن تیرے لئے اور تیرے قوم قریش کے لئے شرف ہے کیونکہ یہ ان کی لغت اور انہیں میں سے ایک فرد پر نازل ہوا اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، لقد انزلنا الیکم کتبا فیہ ذکرکم (الانبیائ : 10) یعنی تمہارے لئے شرف ہے قرآن حکیم قریش کی زبان میں نازل ہوا اور انہیں کو خطاب کیا پس تمام لغتوں والے اس امر کے محتاج ہیں جو بھی ایمان لایا وہ ان کے خوشہ چین ہوئے کیونکہ تمام لغتوں والے اس امر کے محتاج ہیں کہ ان کی لغت کو اپنائیں یہاں تک کہ اس معنی پر آگاہ حاصل کریں جس کا امر، نہی اور خبر سے ارادہ کیا گیا ہے اس اعتبار سے قریش تمام اہل لغات پر شرف والے ہوگئے اسی وجہ سے انہیں عربی کہا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا، یہ تیرے لئے اور تیری امت کے لئیب یان ہے جس کے تم محتاج ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ تذکرہ ہے جس کی مدد سے تم دین کا معاملہ سمجھتے ہو اور اس پر عمل کرتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وانہ لذکر لک ولقومک اس سے مراد خلافت ہے یہ قریش میں ہے غیروں میں نہ ہوگی نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اس مسئلہ میں لوگ قریش کے تابع ہیں لوگوں کے مسلمان قریش کے مسلمانوں کے تابع ہوں گے اور ان کے کافروں کے کافروں کے تابع ہوں گے۔ “ (1) امام مالک نے کہا، اس سے مراد آدمی کا یہ قول ہے : مجھے میرے والد نے میرے باپ سے وہ ابن ابی مسلمہ سے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت مالک بن انس سے روایت نقل کرتے ہیں، یہ ماوردی، ثعلبی اور دوسرے علماء نے ذکر کیا (2) ابن عربی نے کہا، میں نے اسلام میں ایسا متربہ کسی کے لئے نہیں پایا مگر بغداد میں ایسا پایا (3) کیونکہ بنی تمیم وہاں یہ کہا کرتے تھے : مجھے میرے باپ نے بیان کیا کہا اور سند رسول اللہ ﷺ تک چلائی اس طرح ان کی اقدار شرف والی ہوگئیں لوگوں نے ان کی شان کو عظیم خیال کیا اور خلافت نے انہیں تلاش کیا۔ میں نے مدینہ السلام میں ابومحمد رزق اللہ بن عبدالوہاب ابو فرج بن عبدالعزیز بن حارث بن اسد بن لیث بن سلیمان بن اسود بن سفیان بن یزید بن اکینہ بن عبد اللہ تمیمی کے دو بیٹوں کو دیکھا دونوں کہہ رہے تھے : ہم نے اپنے باپ رزق اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہا، میں نے اپنے باپ کو کہتے ہوئے سنا یہ صیغہ ادا آخر تک چلتا رہا اور آخر میں کہا، میں نے حضرت علی بن ابی طالب کو کہتے ہوئے سنا جبکہ ان سے حنان و منان کے بارے میں سوال کیا گیا تھا فرمایا : حنان اسے کہتے ہیں جو اس کی طرف توجہ کرے جو اس سے اعراض کرے اور منان اسے کہتے ہیں جو سوال سے پہلے عطا کرے۔ جس نے یہ کہا تھا میں نے حضرت علی شیر خدا کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : وہ اکینہ بن عبداللہ ہے جو ان کا جدا علی تھا۔ زیادہ قوی یہ ہے وانہ لذکر لک ولقومک سے مراد قرآن حکیم ہو کلام کا انحصار اسی پر ہے اور اس کی طرف رجوع ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ماوردی نے کہا، ولقومک میں دوق ول ہیں (1) آپ کی امت میں سے جو آپ کی اتباع کرے، (1) یہ قتادہ کا قول ہے۔ ثعلبی نے حضرت حسن بصری سے اسے ذکر کیا ہے (2) مراد قریش ہیں (2) کہا جاتا ہے : وہ کن سے ہے تو جواب دیا جاتا ہے، عربوں میں سے۔ پوچھا جاتا ہے : کون سے عرب ؟ تو جواب دیا جاتا ہے : قریش سے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ میں کہتا ہوں : صحیح یہ ہے کہ یہ شرف عمل کرنے والے کے لئے ہے وہ قریش سے ہو یا غیر قریش سے۔ حضتر ابن عباس نے کہا، نبی کریم ﷺ سریہ یا غزوہ سے واپس تشریف لائے تو حضرت فاطمہ کو بلایا فرمایا :” اے فاطمہچ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ اپنے آپ کو ب یچ دے میں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تجھے کوئی نفع نہیں دے سکتا، اپنی ازواج سے بھی اسی کی مثل فرمایا، اپنی اولاد کو بھی اسی کی مثل فرمایا پھر بنی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، میری امت میں سے بنو ہاشم لوگوں میں سے اولیٰ نہیں میری امت میں سے بہترین نہیں میری امت میں سے بہترین متقین ہیں، موالی (جو غلام تھے یا جن کے ساتھ معاہدہ ہوا یا جو کسی قبیلہ کے سردار کے ہاتھ پر اسلام لائے) میری امت سے بہترین متقین ہیں تم ایک مراد اور ایک عورت کی اولاد ہو تم صاع کے کناروں سے بھرے پیمانے زائد ماپ کی طرح ہو کسی ایک کو دوسرے پر تقویٰ کے بغیر کوئی فضیلت نہیں۔ “ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادف رمایا :’ دلوگوں کو اس امر سے رک جانا چاہئے کہ وہ جہنم کے کئولہ میں سے ایک کئولہ پر فخر کرتے ہیں یا وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سیاہ بھونرے سے بھی زیادہ شریر ہوں جو اپنی ناک سے بدبو پھینکتا ہے تم سب حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہو اور حضرت آدم (علیہ السلام) ٹمی سے ہیں اللہ تعالیٰ نے تم سے دور جاہلیت کا عیب اور ابٓاء پر فخر کو ختم کردیا ہے، مومن متقی ہے اور فاجر شقی ہے “ دونوں روایات طبری نے ذکر کی ہیں۔ سورة حجرتا میں اس کی مزید وضاحت آئے گی۔ وسوف تسلئلون۔ تم سے اس نعمتوں پر شکر بجالانے کے بارے میں پوچھا جائے گا (3) یہ مقاتل اورف راء کا قول ہے۔ ابن جریج نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو عطا کیا ہے اس کے بارے میں آپ سے اور آپ کے ساتھیوں سے باز پرس ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، تم نے اس بارے میں جو عمل کیا اس کے متعلق تم سے پوچھا جائے گا : معنی قریب قریب ہے۔