Ayah 43:45سے مراد مسجد بیت المقدس ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور آپ کی اولاد میں سے مرسلین کو بھیجا جبکہ جبریل امین نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے حضرت جبریل امین نے آذان کہی پھر نماز کے لئے اقامت کہی پھر کہا، اے محمد ! ﷺ آگے بڑھو اور انہیں نماز پڑھائو، جب رسول اللہ ﷺ فارغ ہوئے جبریل امین نے کہا، اے محمد ! آپ سے قبل جن رسولوں کو بھیجا گیا ہے ان سے پوچھئے : کیا اللہ تعالیٰ نے رحمٰن کے علاوہ اور الہ بنائے ہیں جن کی عبادت کی جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” میں نہیں پوچھوں گا تو ہی کافی ہے “ حضر ابن عباس نے کہا، وہ ستر نبی تھے جن میں حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے آپ نے ان سے سوال نہ کیا کیونکہ ان کی بنسبت اللہ تعالیٰ کے بارے میں زیادہ علم رکھتے تھے۔
حضرت ابن عباس ؓ کے علاوہ دوسری روایت میں ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سات صفیں بنا کر نماز پڑھی مرسلین کی تین صفیں تھیں اور انبیاء کی چار صفیں تھیں رسول اللہ ﷺ کے متصل پیچھے حضرت ابراہیم خلیل اللہ تھے ان کی دائیں جانب حضرت اسماعیل اور ان کے بائیں جانب حضرت اسحاق پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تھے پھر باقی ماندہ مرسلین تھے رسول اللہ ﷺ نے انہیں دو رکعتیں پڑھائیں جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے اور کہا، ” میرے رب نے میری طرف وحی کی کہ میں تم سے سوال کروں کیا تم میں سے کوئی ایسا رسول بھی بھیجا گیا ہے جو غیر اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہو ؟ “ انہوں نے کہا : اے محمد ! ﷺ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم سب ایک ہی دعوت کے ساتھ بھیجے گئے ہیں وہ لا الہ الا اللہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کو چھوڑ کر جن کی وہ عبادت کیا کرتے ہیں وہ سب باطل ہے آپ خاتم النبین اور سید المرسلین ہیں آپ نے ہمیں جو امات کرائی ہے اس سے یہ امر ہمارے لئے ظاہر ہوچکا ہے تیرے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں مگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ آپ کے نقش قدم کی پیروی کریں۔ (1)
سعید بن جبیر نے اللہ تعالیٰ کے فرمان وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا کے بارے میں فرمایا کہ نبی کریم ﷺ لیلتہ المعراج کو رسولوں سے ملے۔ ولید بن مسلم نے اس ارشاد کی وضاحت میں کہا، میں نے اس بارے میں خلید بن وعلج سے پوچھا تو انہوں نے کہا مجھے قتادہ نے بیان کیا کہا، معراج کی رات ان سے سوال کیا آپ انبیاء سے ملے حضرت آدم سے ملے اور جہنم کے خازن سے ملاقات کی۔
میں کہتا ہوں : اس آیت کی تفسیر میں یہی صحیح ہے۔ اس تعبیر کی بنا پر رسلنآ سے پہلے من زائد نہیں۔ مبرد اور علماء کی ایک جماعت نے کہا، اس کا معنی ہے تم سے قبل جو رسول بھیجے گئے ان کی امتوں سے پوچھو۔ یہ بھی روایت کی گی ہے کہ حضرت ابن مسعود کی قرأت میں ہے واسال الذی ارسلنا الیھم قبلک رسلنا یہ قرأت تفسیر کی بنا پر ہے اس تعبیر کی بنا پر من زائد ہے، یہ مجاہد، سدی، ضحاک، قتادہ، حسن بصری اور حضرت ابن عباس کا قول ہے (2) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھیے جو دو کتابوں یعنی تو رات و انجیل والے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اے محمد چ ﷺ ہم سے ان انبیاء کے بارے میں پوچھیں جو آپ سے قبل مبعوث کئے گئے عن کو حذف کردیا گیا اور رسلنآ پر وقف تام ہے پھر انکا رکے طریقہ پر استفہام سے ابتدا کی گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، آپ ان رسولوں کے پیروکاروں سے پوچھیں جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تو یہاں سے مضاف محذوف ہے۔ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد ساری امت ہے۔
اجعلنا من دون الرحمٰن الھۃ یعبدون۔ آلھۃ کی خبر اس صیغہ کے ساتھ لگائی گی جس صیغہ کے ساتھ ذوالعقول کی خبر لگائی جاتی ہے فرمایا یعبدون۔ تعبد اور یعبدن نہیں فرمایا کیونکہ ان کے نزدیک آلھتہ ذوالعقول کے قائم مقام ہیں تو ان کی خبر اسی طریقہ پر لگائی گئی جیسے ذوالعقول کی خبر لگائی جاتی ہے۔
سوال کے امر کا سبب یہ تھا کہ یہودیوں اور مشرکین نے نبی کریم ﷺ سے کہا تھا : جو آپ لاتے ہیں وہ اس کے مخالف ہے جو آپ سیق بل انبیاء لائے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ انبیاء سے سوال کریں (1) نبی کریم ﷺ نے ان سے سوال کیا تو رسولوں نے جواب دیا ہمیں توحید کا اعلان کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا : یہ واقدی کا قول ہے۔
(2) نبی کریم ﷺ نے ان سے سوال نہیں کیا تھا کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں یقین تھا یہاں تک کہ یہ حکایت بیان کی گئی کہ حضت میکائیل نے حضرت جبریل امین سے پوچھا : کیا حضرت محمد ﷺ نے اس کے بارے میں سوال کیا ہے ؟ حضرت جبریل امین نے ہا، حضرت محمد ﷺ کا ایمان اور یقین اس سے ظعیم ہے کہ وہ اس کے بارے میں سوال کریں (1) یہ بحث دونوں روایات میں گذر چکی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔
Ayahs 43:46–47ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنآ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خبر دی کہ وہ آپ کے دشمن سے انتقام لینے والا ہے اور انبیاء کی شہادت اور تمام کے اتفاق سے توحید پر دلیل قائم کردی تو اس امر کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے قصہ سے مئوکد کیا، فرعون نے جو تکیذب کی اور اس پر اور اس کی قوم پر غرق کی صورت میں جو عذاب آیا یعنی ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزات کے ساتھ بھیجا وہ نو معجزات تھے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا گیا اور اچھا انجام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں مقرر کیا گیا یہی صورتحال آپ ﷺ کی ہے۔
یصحکون۔ کا معنی ہے وہ استہزاء کرتے ہیں وہ اپنے پیروکاروں کو وہم دلاتے ہیں کہ وہ معجزات جادو اور وہم ہیں اور وہ بھی ان پر قادر ہیں۔
Ayah 43:48ومانریھم من ایۃ الا ھی اکبر من اختھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات بڑے معجزات میں سے تھے ان میں سے ہر ایک پہلے سے بڑا معجزہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : پہلا معجزہ علم کا تقاضا کرتا تھا اور دوسرا بھی علم کا تقاضا کرتا تھا تو دوسرے کو پہلے کے ساتھ ملایا جاتا تو وضاحت میں اضافہ ہوجاتا۔ اخوت کا معنی مشاکلت اور مناسبت ہے جس طرح یہ کہا جاتا ہے : ھذہ صاحبۃ ھذہ۔ یعنی دونوں معنی میں قریب ہیں۔
واخذنھم بالعذاب انہوں نے معجزات کو جو جھٹلایا وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہیں ولقد اخذنا ال فرعن بالسنین و نقص من الثمرت (اعراف : 130) عذاب سے مراد طوفان، مکڑیاں، جوئیں اور مینڈک ہیں۔ یہ آخری آیات ان کے لئے عذاب اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات ہیں۔ لعلھم یرجعون۔ شائید وہ کفر سے لوٹ آئیں۔
Ayahs 43:49–50وقالوا ایا یہ السحر جب انہوں نے عذاب کو دیکھا تو انہوں نے کہا، اے جادوگر ! انہوں نے اس طرح ندا کی جس طرح وہ پہلے عادت کے مطابق ندا کیا کرتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ علماء کو سحرہ کا نام دیتے انہوں نے بطور تعظیم آپ کو اسی نام سے پکارا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یا یہ السحر، اے عالم ! ساحر ان کے نزدیک عظیم وہا کرتا وہ اس کی تعظیم بجا لایا کرتے تھے سحر صفت ذم نہیں تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کا معنی ہے اے وہ شخص جو اپنے سحر کی وجہ سے ہم پر غالب آگیا ہے، یہ جملہ کہا اجتا ہے، ساحرتہ فسعرتہ یعنی میں سحر کی وجہ سے اس پر غالب آگیا جس طرح عربوں کا قول ہے : خاصمتہ نخمستہ یعنی میں خصوصیت کے ساتھ اس پر غالب آگیا اسی طرح فاضلتہ فضلتہ ہے۔ یہ بھی احتمال موجود ہے کہ انہوں نے ساحر کا حقیقی معنی مراد لیا ہو اور گفتگو استفہام کے انداز میں کی ہو۔ آپ نے انہیں ملامت نہ کی ہو کیونکہ آپ ان کے ایمان لانے کی امید رکھتے تھے۔ ابن عامر، ابو حیوہ اور یحییٰ بن وثاب نے الف کو بغیر ھاء مضموم کے ساتھ اسے پڑھا ہے، اس کی علت یہ ہے کہ ھاکو ماقبل کے ساتھ ملا دیا گیا اور یاء کو وہ ضمہ لازم ہوگیا جو نداء مفرد کی وجہ سے واجب تھا فراء نے یہ شعر پڑھا :
یا ایہ القلب اللجوج النفس افق عن البیض الحسان اللغس
محل استدلال یا ایہ ہے۔
ھا کا ضمہ یاء کے ضمہ پر محمول کرنے کی وجہ سے ہے۔ سورة نور میں اس کی وضاحت گذر چکی ہے۔ ابو عمرو، ابن ابی اسحاق، یحییٰ اور کسائی نے ایھا الف کے ساتھ اصل پر پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے الف کے بغیر پڑھا ہے کیونکہ مصحف میں اسی طرح واقع ہوا ہے۔
ادع لنا ربک بما عھدک عندک یعنی جس عہد کی تم نے ہمیں خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ سے وعدہ کیا کہا گر ہم ایمان لائیں تو اللہ تعالیٰ ہم سے اسے دور کر دے گا تو اللہ تعالیٰ سے سوال کیجیے تو وہ ہم سے اس تکلیف کو دور کر دے اننا لمھتدون۔ کہ ہم آنے والے وقت میں ہدایت پا جائیں گے فلما کشفنا عنھم العذاب یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ہم سے تکلیف کو رفع کردیا اذا ھم ینکمون۔ یعنی وہ عہد جو انہوں نے اس بارے میں کیا تھا اس کو انہوں نے توڑ دیا۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : ان کا قول اننا لمھتدون۔ انہوں نے اپنے بارے میں ایمان کی خبر دی جب ان سے عذاب دور ہوگیا تو وہ مرتد ہوگئے۔
Ayahs 43:51–52ونادی فرعون فی قومہ ایک قول یہ کیا گیا ہے، جب فرعون نے ان معجزات کو دیکھا تو اسے خوف ہوا کہ قوم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف مائل ہو جائیگی تو اس نے کہا، نادی، قاتلک کے معنی میں ہے (1) یہ ابو مالک کا نقطہ نظر ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس کے پاس قبطیوں کے سردار لوگ ہوں تو ان کے درمیان آواز کو بلن کیا پھر وہ تمام قبطیوں میں اس بات کو عام کردیں گویا اس طریقہ سے ان میں ندا کی گئی۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے کہ اس نے کسی کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوم میں ندا کرے، یہ ابن جریح کا قنطہ نظر ہے۔
قال یقوم الیس لی ملک مصر یعنی اسب ارے میں مجھ سے کوئی جھگڑا نہ کرے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے کہ وہ مصر کے چالیس فرسخ کا ملک تھا، یہ نقاش نے بیان کیا ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا، یہاں ملک سے مراد اسکندریہ ہے وھذہ الانھر تجری من تحتی یعنی نیل کی نہریں۔ ان کی چار بڑی نہریں تھیں نہر ملک، نہر طولان، نہر و میاط اور نہر تنیس۔ قتادہ نے کہا، وہاں باغات اور نہریں تھیں جو اس کے محل کے نیچے سے بہتی تھیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے تخت کے نیچے سے بہتی تھیں۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : من تحتی سے مراد ہے میرا تصرف ان میں نافذ ہے ان میں کسی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، جب وہ اس کی لگام کھینچتا تو نیل چلنے سے رک جاتا۔ قشیری نے کہا، یہ بھی جائز ہے کہ ربوبیت کے مدعی کے ہاتھ پر خارق للعبادۃ امور کا ظہورمراد ہے کیونکہ الہ کو غیر سے تمیز کے لئے خارق اللعادۃ امر کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
ایک قول یہ کیا یا ہے : وھذہ الانھر تجری من تحتی سے مراد قائدین، رئوساء اور جبابرہ ہیں جو اس کے جھنڈے کے نیچے چلا کرتے تھے، یہ ضحاک کا قول ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہار سے مراد اموال ہیں ان کی کثرت اور ظہور کی بنا پر انہیں انہار سے تعبیر کیا ہے تجری من تحتی میں انہیں ان افراد پر تقسیم کردیتا ہوں جو میری اتباع کرتے ہیں کیونکہ ترغیب اور قدرت اموال میں ہوتی ہے انہار میں نہیں ہوتی۔
افلاتبصرون۔ کیا تم میری عظمت، قوت اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کمزوری کو نہیں دیکھتے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : تم اپنے وسائل رزق پر میری قدرت اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عجز کو نہیں دیکھتے وھذہ میں وائو اس میں جائز ہو کہ عاطفہ ہو اور الانھر کا عطف ملک مصر پر ہو اور تجری حال ہونے کی حیثیت سے محل نصب میں ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ وائو حلایہ ہو اور اسم اشارہ ہو اور الانھر اسم اشارہ کی صفت ہو اور تجری مبتدا کی خبر ہو تحتی کی یاء کو اہل مدینہ، بزی اور ابو عمرو نے فتحہ دیا ہے باقی قراء نے اسے ساکن قرار دیا ہے۔ رشید سے مروی ہے جب اس نے اس آیت کی تلاوت کی تو کہا، میں یہ اپنے غلاموں میں سے سب سے خوبصورت کو دوں گا تو اس نے وہ خصیب کو دے دیا وہ اسے وضو کرایا کرتا تھا، عبداللہ بن طاہر سے مروی ہے کہ وہ اس کا والی بنا اور اس کی طرف نکلا جب اس نے اس شہر کو دیکھا اور اس پر اس کی نظر پڑی کہا : کیا یہ وہ بستی ہے جس پر فعون نے فخر کیا تھا یہاں تک کہ اس نے ہا تھا الیس لی ملک مصر اللہ کی قسم ! یہ تو اس سے کم درجہ کا ہے کہ میں اس میں داخل ہوں تو اس نے اپنی لگام موڑ لی۔
پھر اس کی حالت کی وضاحت کی اور کہا، ام انا خیر ابوعبیدہ اور سدی نے کہا : ام یہاں بل کے معنی میں ہے (2) ۔ یہ حرف عظف نہیں، اکثر مفسرین کا یہی قول ہے معنی ہے فرعن نے اپنی قوم سے کہا، بلکہ میں اس سے بہتر ہوں من ھذا الذی ھو مھین یعنی اس کے لئے کوئی عزت نہیں وہ اپنی حقارت اور ضعف کے باعث اپنی حاجات کے لئے اپنے آپ کو آزمائش میں ڈالتا رہتا ہے۔
ولا یکادیبین۔ یہ بات اس نے اس لئے کی کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں لکنت تھی جس طرح سورة طہ میں گذر چکا ہے۔ فراء نے ہا : ام میں دو وجوہ ہیں : اگر چاہے تو اسے استفہامیہ بنا دے کیونکہ یہ ماقبل کلام کے ساتھ متصل ہے اگر چاہے تو اسے عاطف بنا دے معطوف علیہ یہ کلام ہے الیس لی ملک مصر ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ زائدہ ہے ابو زید نے عربوں سے روایت نقل کی ہے کہ وہ ام کو زائدہ قرار دیتے ہیں معین ہوگا میں اس سے بہتر ہوں جو حقیر ذلیل ہے۔ اخفش نے کہا : کلام میں حذف ہے معنی ہوگا افلاتبصرون ام تبصرون
جس طرح شاعر نے کہا :
ایا ظبیۃ الوعساء بین جلاجل وبین النقا انت ام ام سالم
مراد ہے کی تو اچھا ہے یا ام سالم اچھی ہے۔
پھر نئے سرے سے کلام کو شروع کیا فرمایا : ان خیر خلیل اور سیبویہ نے کہا : افلاتبصرون۔ کا معنی ہے کیا تم دیکھنے والے ہو تو ام کے ساتھ تبصرون پر عطف کیا کیونکہ ام اناخیر کا معنی ہے یا تم دیکھتے ہو کہ میں اس سے بہتر ہوں، اس کی وجہ یہ ہے جب انہوں نے اسے کہا، انت خیر منہ فرعون کے نزدیک وہ دیکھنے والے اور بصیرت والے تھے۔
عیسیٰ ثقفی اور یعقوب حضرمی سے مروی ہے کہ وہ ام پر وقف کرتے تو اس بنا پر تقدیر کلام یہ ہوگی افلاتبصرون ام تبصرون تو دوسرا تبصرون حذف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس نے ام پر وقف کیا اس نے اسے زائدہ بنا گویا اس نے افلاتبصرون پر وقف کیا۔ خلیل اور سیبویہ کے نزدیک تبصرون پر کلام مکمل نہیں ہوتی کیونکہ ام ماقبل سے اتصال کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک قوم کا نقطہ نظر ہے افلا تبصرن پر وقف ہے پھر ام اناخیر سے نیا کلام ہے اس کا معنی ہے بل انا بلکہ میں اس سے بہتر ہوں۔ فراء نے یہ شعرپ ڑھا :
بدت مثل قرن الشمس فی رونق الضحی صورتھا ام انت فی العین املح (1)
اس میں بھی معنی ہے بل انت املح فراء نے ذکر کیا : ایک قاری نے پڑھا اما انا خیر اس کا معنی ہوگا کیا میں بہتر نہیں۔
مجاہد کے بارے میں مروی ہے وہ ام پر وقف کرتے پھر نئے سرے سے پڑھتے انا خیر اس کا ذکر ہوچکا ہے۔
Ayah 43:53فلولا یہ ھلا کے معنی میں ہے القی علیہ اسورۃ من ذھب اس نے یہ بات اس لئے کی تھی کیونکہ اس وقت یہی معمول تھا اور معزین کا لباس تھا۔ حفص نے اسے اسورۃ پڑھا ہے جو سوار کی جمع ہے طرح خمار کی جمع اخمرہ آتی ہے باقی قراء نے اس اورۃ پڑھا ہے جو ا سورة کی جمع ہے حضرت ابن مسعود نے اسے اسویر پڑھا ہے باقی قراء نے اس اورۃ پڑھا ہے جو ا سورة کی جمع ہے یہ جمع کی جمع ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس اورۃ، اسوار کی جمع ہو جمع میں ھاء، یاء کے عوض میں لاحق کی گئی ہے، جس طرح زنادیق، زنا دقہ، بطاریق بطارقہ کی جمع ہے۔ ابو عمرو نے کہا : اس اورہ، اساور اور اساویر کی واحد اسوار ہے یہ سوار میں ایک لغت ہے۔ مجاہد نے کہا، جب وہ کسی کو سردار بناتے تو اسے دو کنگن پہناتے اور گلے میں سونے کا ایک طوق ڈالتے۔ یہ اس کے سردار ہونے کی علامت ہوتی فرعون نے کہا، اگر یہ سچا ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے رب نے اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں پھینکے ؟
اوجآء معہ الملٰٓکئۃ مقترنین۔ یعنی پے در پے، یہ قتادہ کا قول ہے (2) مجاہد نے کہا : وہ اکٹھے چلتے ہیں (3) حضرت ابن عباس نے کہا، جو ان کی مخالفت کرتا اس کی خلاف ان کی مدد کرتے معنی ہے اس کے ساتھ ملائکہ کیوں نہ ملائے گئے جن کے بارے میں وہ گمان کرتا ہے کہ وہ اس کے رب کے پاس ہوتے ہیں تاکہ ان کے ساتھ ملکر وہ تعداد میں زیادہ ہوجاتا اور اپنے امرو نہی میں انہیں کام میں لاتا یہ امردلوں میں زیادہ ہیبت کا باعث ہوتا اس نے اپنی قوم کو وہم دلایا کہ اللہ کے رسل کے بارے میں مناسب یہی ہے کہ وہ جنگوں میں بادشاہوں کے رسول کی طرح ہوں اسے علم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی آسمانی لشکروں سے مدد کی جاتی ہے ہر دانشمندآدمی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حفاظت کی جب کہ وہ یکہ و تنہا تھے اور فرعون کے پاس لشکروں کی تعداد بیشمار تھی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو مدد عصا اور ید بیضاء کے ساتھ کی ہے وہ اس سے زیادہ مئوثر تھی اس کی بنسبت کہ ان کے کنگن ہوتے یا ان کے مددگار فرشتے ہوتے، یہ مقاتل کا قول ہے۔ یہ ان کی سچائی پر دلیل ہوگی، یہ کلبی کا قول ہے یہ لازم نہیں آتا کیونکہ معجزہ کافی ہوتا ہے یہ جائز تھا کہ فرشتوں کے آنے کے ساتھ بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی جاتی جس طرح معجزات کے ظہور کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی جاتی فرعون نے ملائکہ کا ذکر اس لئے کیا تھا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کا ذکر کرتے تھے کیونکہ جو آدمی فرشتوں کے خالق کو نہیں پہچانتا وہ ملائکہ پر بھی ایمان نہیں رکھتا۔
Ayah 43:54فاستخف قومہ ابن اعربای نے کہا، معنی ہے اس نے اپنی قوم کو اجہل جانا فاطعوہ تو انہوں نے اپنی کم عقل کی وجہ سے اس کی اطاعت کی یہ جملہ کی یہ جملہ کہا اجتا ہے : استخفہ یعنی اسے جہالت پر برانگیختہ کیا اسی معنی میں ہے ولا یستخفنک الذین لایوقنون ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس نے انہیں گفتگو کے ساتھ دھمکایا تو قوم نے جھٹلانے میں اس کی اطاعت کی (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے، استخف قومہ۔ یعنی اس نے انہیں کم عقل پایا۔ یہ امر اس چیز پر دلالت نہیں کرتا کہ ان پر اطاعت کرنا واجب تھا تو اس صورت میں اضمار کی ضرورت ہوگی اس کی تقدیر کلام یہ ہے وجدھ خفاف العقول فدعا ھم الی الغوایہ فاطاعوۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس نے اپنی قوم کو دھمکایا اور ان پر جبر کیا یہاں تک کہ انہوں نے اس کی اتباع کی یہ کہا جاتا ہے : استخفہ یہ استثقلہ کے برعکس ہے۔ استخف بہ اس کو ذلیل کیا۔
Ayah 43:55فلما اسفونا انتقمنا منھم ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے : وہ ہم پر غصے ہوا اور ہم پر غضبناک ہوا (2) علی بن ابی طلحہ نے ان سے روایت نقل کی ہے کہ وہ ہم سے ناراض ہوگیا۔ ماوردی نے کہا، دونوں کا معنی مختلف ہے دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ نحط سے مراد ناپسندیدگی کا اظہار ہے اور غضب سے مراد انتقام کا ارادہ ہے قشیری نے کہا : یہاں اسف سے مراد غضب ہے جب اللہ تعالیٰ کی طرف غضب کی نسبت کی جاتی ہے یا تو اس سے مراد سزا دینا ہوتا ہے تو اس صورت میں یہ صفات ذات میں سے ایک صفت ہوگی یا عین سزا ہوگی تو اس صورت میں یہ صفات فعل میں سے ہوگی۔
ماوردی کے قول کا یہی معنی ہے۔ عمر بن ذر نے کہا، اے اللہ کی نافرمانی کرنے والو ! اللہ تعالیٰ جو تم سے طویل وقت تک حلم کئے ہوئے ہے اس سے دھوکہ میں مبتلا نہ ہو اس کی پکڑے سے ڈرو، کیونکہ اس نے ارشاد فرمایا : فلما استفونا انتقمنا منھم ایکق ول یہ کیا گیا ہے اسفونا وہ ہمارے رسولوں اور ہمارے مومن اولیاء پر غضبناک ہوئے جس طرح علماء اور بنی اسرائیل یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، یوذون اللہ (احزاب : 57) یحاربون اللہ مراد اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے رسول ہیں۔
Ayah 43:56فجعلنھم سلفا ہم نے قوم فرعون کو پیش رو بنایا۔ ابوعجلز نے کہا، یعنی جوان جیسا عمل کرے ان کا پیش رو بنا دیا اور جوان جیسا عمل کرے اس کے لئے نمونہ بنا دیا (1) مجاہد نے کہا سلفا یعنی حضرت محمد ﷺ کی امت کو خبر دینے والا اور مثلاً یعنی امت محمد ﷺ کے لئے عبرت بنا دیا (2) ان سے یہ بھی قول مروی ہے آپ کی قوم کے کفار کے لئے قیادت کرنے والا بنا دیا وہ جہنم کی طرف ان کے آگے آگے چل رہے ہوں گے۔ قتادہ نے کہا، جہنم کی طرف آگے جانے والا اور بعد میں آنے والوں کے لئے نصیحت۔ سلف کا معنی آگے جانے والا ہے یہ جملہ کہا اجتا ہے : سلف یسلف سلفا، جس طرح طلب یطلب طلباء ہے جس کا معنی آگے جانا اور گذرنا۔ سلف لہ عمل صالح یعنی آگے چلا گیا القوم السلاف۔ آگے جانے والے لوگ۔ سلف الرجل۔ آگے جانے والے آباء اس کی جمع اسلاف اور سلاف ہے عام قرأت سلفا ہے یہ سالف کی جمع ہے جس طرح خادم کی جمع خدم ہے، راصد کی رصد ہے، حارس کی جمع حرس ہے۔
حمزہ اور کسائی کی قرأت سلفا فراء نے کہا یہ سلیف کی جمع ہے جس طرح سرایر کی جمع سرر آتی ہے۔ ابو حاتم نے کہا، یہ سلف کی جمع ہے جس طرح خشب کی جمع خشیب۔ ثمر کی جمع ثمر آتی ہے دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ حضرت علی شیر خدا، حضرت ابن مسعود، حضرت علقمہ، حضرت ابو وائل، نخعی اور حمیر بن قیس نے اسے سلفا پڑھا ہے اسفلہ کی جمع ہے یعنی گذر جانے والی جماعت۔ مورج اور نضر بن شمیل نے کہا : سلفا یہ سلفہ کی جمع ہے جس طرح غرفتہ کی جمع غرف اور طرفہ کی جمع طرف ظلمتہ کی جمع ظلم آتی ہے۔
Ayah 43:57جب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وسل من ارسلنا من قبلک من رسلنآ اجعلنا من دون الرحمن الھۃ یعبدون تو مشرکوں نے اسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے امر کے ساتھ جوڑا اور کہا، (حضرت) محمد ﷺ کسی چیز کا ارادہ نہیں کرتے مگر یہ کہ ہم اسے اپنا الہ بنا لیں جس طرح نصاری نے حضرت عیسیٰ بن مریم کو الہ بنا لیا۔ یہ قتادہ کا قول ہے اسی کی مثل مجاہد کا قول ہے قریش نے کہا، حضرت محمد ﷺ تو یہ ارادہ کرتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت کریں جس طرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت کی تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، اس سے مراد وہ مناظرہ ہے جو عبداللہ بن زبعری نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق کیا تھا یہ مثال دینے والا عبداللہ بن زبعری تلھا جو اس نے حالت کفر میں مثال دی تھی جب قریش نے اس سے کہا، بیشک حضرت محمد ﷺ یہ تلاوت کرتے ہیں انکم و ماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم (الانبیائ : 98) اس نے کہا، اگر میں ان کے پاس حاضر ہوتا تو میں جواب دیتا۔ انہوں نے اس سے پوچھا : تو انہیں کیا کہتا ؟ اس نے کہا : میں انہیں کہتا : یہ حضرت مسیح (علیہ السلام) ہیں جن کی نصاری عبادت کرتے ہیں اور یہ یہودی ہیں جو حضرت عزیز علیہ ال سلام کی عبادت کرتے ہیں کیا وہ دونوں جہنم کا ایندھن ہیں ؟ قریش اس کی گفتگو سے بہت خوش ہوئے اور انہوں نے خیال کیا کہ حضرت محمد ﷺ اس کے سامنے لاجواب ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ کے فرمان : یصدون کا بھی یہی معنی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمائی : ان الذین سبقت لھم منا الحسنیٰ اولئک عنھا مبعدون۔ (انبیائ) اگر ابن زبعری آیت پر غور کرتا تو اس پر اعتراض نہ کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، وماتعبدون یہ ارشاد نہیں فرمایا ومن تعبدون اللہ تعالیٰ نے اس سے مراد بت اور غیر ذوی العقول چیزیں لی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے حضرت مسیح اور فرشتے مراد نہیں لئے اگرچہ ان کی عبادت کی جاتی ہے۔
سورة انبیاء کے آخر میں یہ بحث گذر چکی ہے۔
حضرت ابن عباس نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش سے فرمایا : ” اے قریش کی جماعت ! اس میں کوئی بھلائی نہیں جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہو ؟ “ انہوں نے سوال کیا : کیا تو یہ گمان نہیں کرتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام بندے اور نبی تھے اور عبد صالح تھے اگر بات اس طرح ہے جس طرح تم گمان کرتے ہو تو ان کی بھی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : ولما ضرب ابن مریم مثلاً اذا قومک منہ یصدون۔ وہ یوں آواز نکالتے ہیں جس طرح وہ اونٹ آواز نکالتا ہے جس پر بوجھ لادا جائے۔
نافع، ابن عامر اور کسائی نے یصدون صاد کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے جس کا معنی اعرض کرنا ہے، یہ نخفی کا قول ہے باقی قراء نے اسے کسرہ دیا ہے۔ کسائی نے کہا، یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح یعرشون اور یعرشون۔ یتمون، دریتمون اس کا منی شور و غل ہے۔ جوہری نے کہا، صد اور یصد صویدا، شور و غل کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ ضمہ کے ساتھ صدود سے مشتق ہے جس کا معنی اعراض کرنا ہے اور کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی شور و غل کرتا ہے، یہ قطرب کا قول ہے۔ ابو عبید نے کہا : اگر یہ حق سے اعراض کرنے کے معنی میں ہو تو مطلب ہوگا آپ کی قوم حق سے اعراض کرتی ہے۔ فراء نے کہا، دونوں برابر ہیں صلہ من ہو یا عن ہو۔ ابن مسیب نے کہا، یصدون کا معنی شور و غل کرتا ہے۔ ضحاک نے کہا، وہ آوازیں بلند کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا، وہ ہنستے ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا، جس نے صاد کو ضمہ دیا ہے تو اس کا معنی ہوگا وہ اعراض کرتے ہیں تو معنی ہوگا وہ میلان کی وجہ سے اعراض کرتے ہیں یصدن کو من کے ساتھ متعدی نہیں کرتے جس نے صادر کو کسرہ دیا تو اس کا معنی ہے وہ شور و غل کرتے ہیں من یصدون کے ساتھ متصل ہے معنی ہے وہ اسے سن کر شور و غل کرتے ہیں۔
Ayah 43:58وقالوا الھتنا خیر ام ھو یعنی کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا حضرت عیسیٰ ؟ یہ سدی کا قول ہے کہا، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے جھگڑا کیا اور ہا : اگر اللہ تعالیٰ کے علاوہ جس کی بھی عبادت کی جاتی ہے وہ جہنم میں ہوگا تو ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، فرشتوں اور حضرت عزیز (علیہ السلام) کے ساتھ ہوں (1) تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل کیا ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون۔ (انبیائ) قتادہ نے کہا، وہ ام ھو سے حضرت محمد ﷺ مراد لیا کرتے تھے (2) حضرت ابن مسعود کی قرأت میں ہے آلھتنا خیرام ھذا یہ قتادہ کے قول کی تائید کرتا ہے یہ استفہام تقریری ہے کہ ان کے معبود بہتر ہیں۔ کو فیوں اور یعقوب نے جد لاپڑھا ہے یہ حال ہے جدلین کا معنی دے رہا ہے یعنی انہوں نے آپ کے لئے یہ مثال بیان نہیں کی مگر جھگڑا مقصود تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حصب جھنم (الانبیائ : 98) سے مراد وہ چیزیں ہیں جن بےجان چیزوں کو انہوں نے معبود بنا لیا تھا۔
بل ھم قوم خصمون۔ بلکہ وہ باطل کے ساتھ جھگڑا کرنے والے ہیں۔ صحیح ترمذی میں حضرت ابوامامہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” کوئی قوم ہدایت کے بعد گمراہ نہیں ہوئی مگر انہوں نے جھگڑا کیا (3) “ پھر رسول اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی ماضر بوہ لک۔۔۔ الخ۔
Ayah 43:59ان ھو الا عبد انعمنا علیہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) صرف ایک بندہ ہیں اللہ تعالیٰ نے جس پر نبوت کا انعام کیا ہے اور بنی اسرائیل کے لئے مثال بنا دیا ہے یعنی ایک آیت اور عبرت بنا دیا ہے جس کی مدد سے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر استدلال کیا جاتا ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کوئی باپ نہ تھا پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ معجزات عطا کئے وہ مردوں کو زندہ کرتے، مادرز اداندھوں، برص کے مریضوں اور تمامق سم کے امراض سے تندرست کردیتے جبکہ ان کے زمانہ میں اس قسم کی شان کسی اور کو نہ دی گئی جبکہ اس زمانہ میں بنی اسرائیل بہترین مخلوق اور اللہ تعالیٰ کے سب سے محبوب بندے تھے جبکہ لوگ ان سے درجہ میں کم تھے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں کوئی بھی ان کا ہلہ پلہ نہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، منعم علیہ سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے جبکہ پہلا قول زیادہ نمایاں ہے۔
Ayah 43:60ولو نشآء لجعلنا منکم اگر ہم چاہتے تو تمہارے بدلے بناتے ملئکۃ جو تمہارے خلیفہ ہوتے، یہ سدی کا قول ہے اسی کی مثل مجاہد سے مروی ہے کہا، فرشتے جو تمہاری بجائے زمین کو آباد کرتے (1) ازہری نے کہا : من بعض اوقات بدل کے لئے آتا ہے اس کی دلیل یہ آیت ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ معنی سورة برأت اور دسوری سورتوں میں بھی گذر چکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اگر ہم چاہتے تو انسانوں میں سے فرشتے بنا دیتے اگرچہ یہ عادت نہیں ہے، جواہر سب ایک ہی جنس ہیں، اختلاف اوصاف کی بنا پر ہے معنی ہے اگر ہم چاہتے تو ہم زمین میں فرشتے بنا دیتے انہیں آسمانوں میں ٹھہرانا یہ ان کا شرف نہیں کہ ان کی عبادت کی جانے لگے اور انہیں کہا جانے لگے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں یخلفون کا معنی ہے وہ ایک دوسرے کی نیابت کرتے (2) یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔
Ayah 43:61وانہ لعلم للساعۃ فلاتمترن بھا حضرت حسن بصری، قتادہ اور سعید بن جبیر نے کہا، اس سے مراد قرآن ہے کیونکہ یہ قیامت کے قریب ہونے پر دلالت ہے یا اس کے ذریعے قیامت، اس کی ہولناکیوں اور احوال کا علم حاصل کیا جاسکتا ہے (3) حضرت ابن عباس، مجاہد، ضحاک، سدی اور قتادہ نے یہی کہا ہے اس سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ظاہر ہونا ہے یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے وقوع سے تھوڑا پہلے انہیں آسمان سے نازل فرمائے گا جس طرح دجال کا ظاہر ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ حضرت ابن عباس، حضرت ابوہریرہ، قتادہ، مالک بن دینار اور ضحاک نے اسے وانہ لعلم الساعۃ عین اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے جس کا معنی نشانی ہے۔ عکرمہ سے دو لاموں کے ساتھ للعلم مروی ہے۔ یہ مصاحف کے خلاف ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے : جس رات رسول اللہ ﷺ کو معراج کرائی گئی تو آپ حضرت ابراہیم اور حضرت عیسیٰ السلام سے ملے تو سب نے قیامت کا ذکر کیا انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے گفتگو کو شروع کیا اور انہوں نے حضرت ابراہیم سے پوچھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اس بارے میں کوئی علم نہ تھا پھر انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا تو ان کے پاس بھی کوئی علم نہ تھا تو گفتگو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لوٹائی گئی تو انہوں نے کہا : مجھ سے وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ وجبہ کے بعد ہے جہاں تک وجبہ کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا اور دجال کے ظاہر ہونے کا ذکر کیا کہا، میں اتروں گا اور اسے قتل کردوں گا اور حدیث کا ذکر کیا (1) اسے ابن ماجہ نے اپنی میں نقل کیا ہے۔
صحیح مسلم میں ہے : اسی اثناء میں اللہ تعالیٰ حضرت مسیح بن مریم کو مبعوث کرے گا دمشق کے مشرق میں سفید مینارہ کے پسا اتریں گے وہ حلہ زیب تن کئے ہونگے اپنے ہاتھ دو فرشتوں کے سروں پر رکھے ہونگے جب اپنا سر نیچے جھکائیں گے تو اس سے پانی کیق طرے گریں گے اور جب سر اوپر اٹھائیں گے تو اس سے موتی گریں گے جو لو لو کی طرح ہونگے کافر کے لئے حلال نہیں ہوگا کہ وہ آپ کے سانس کی ہوا پائے مگر جو پائے ہوگا وہ مر جائے گا اس کی سانس وہاں تک پہنچے گی جہاں تک نظر پہنچے گی آپ دجال کو تلاش کریں گے یہاں تک کہ آپ اسے لد کے دروازے پر پائیں گے اور اسے قتل کردیں گے۔ (2) ثعلبی، زمحشری اور دوسرے مفسرین نے حضرت ابوہریرہ کی حدیث ذکر کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ارض مقدس کے ایک ٹلہ پر آسمان سے اتریں گے جس ٹیلہ کو افیق کہتے ہیں دو پکڑے زیب تن کئے ہونگے جو ہلکے سے زرد ہونگے ان کے سر کے بالوں کو تیل لگا ہوگا، ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹا نیزہ ہوگا امام ان کی امامت کروا رہا ہوگا امام پیھچے ہٹے گا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اسے آگے کریں گے اور اسی امام کے پیچھے حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے مطاق نماز پڑھیں گے پھر آپ خنزیروں کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ دیں گے، کنیسوں اور گرجوں کو برباد کردیں گے، نصاری کو قتل کریں گے مگر جو ایمان لے آیا۔ “ (3)
خلاد نے حضرت حسن بصری سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” انبیاء علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں (شریعتیں) مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا سب سے قریبی ہوں اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں وہ سب سے پہلے آسمان سے اتریں گے، وہ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور اسلام کے حق میں لوگوں سے جنگ کریں گے۔ “ (4)
ماوردی نے کہا، ابن عیسیٰ نے ایک قوم سے یہ بیان کیا انہوں نے کہا، جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اتریں گے تو لوگوں کو مکلف بنانے کا معاملہ اٹھا لیا جائے گا تاکہ وہ اس زمانہ کی طرف رسول نہ ہوں جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے حکم دیں اور انہیں روکیں۔ یہ قول تین وجوہ سے مردود ہے، ان میں سے ایک حدیث بھی ہے، دوسری وجہ یہ ہے دنیا کی بقا امور کا مکلف ہونے کا تقاضا کرتی ہے، تیسری وجہ یہ ہے کہ معروف کا حکم دینے والے اور منکر سے روکنے والے کی حیثیت میں اتریں گے یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ان کے لئے امر صرف اسلام کی تائید اسلام کا حکم دینے اور اس کی طرف دعوت دینے تک محدود ہو۔
میں کہتا ہوں : صحیح مسلم اور ابن ماجہ میں حضرت ابوہریرہ سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم عادل حاکم کی حیثیت سے اتریں گے وہ صلیب کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے اونٹنیوں کو چھوڑ دیا جائیگا اس پر تیز رفتاری سے سفر نہیں کیا جائیگا دشمنی، باہمی بغض اور حسد ختم ہوجائے گا ایک آدمی مال لینے کو دعوت دے گا۔
تو اسے کوئی قبول نہیں کرے گا (1) “ ان سے یہ روایت بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تمہارا کیا حال ہوگا جب حضرت ابن مریم اتریں گے اور تمہارا امام تم سے ہوگا “ ایک روایت میں ہے ” تمہاری امامت تم میں سے ایک آدمی کرے گا (2) “ ابن ابی ذئب نے کہا : تو جانتا ہے امکم منکم سے کیا مراد ہے ؟ میں نے کہا : تو مجھے بتائے گا۔ کہا :” وہ تمہاری امامت تمہارے رب کی کتاب اور تمہارے نبی کی سنت کے مطابق کرائے گا “ ہمارے علماء نے کہا : یہ روایت اس امر میں نص ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے دین کے مجدد کے طور پر اتریں گے جو دین انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سیکھا ہوگا وہ کسی نئی شرع کے ساتھ نہیں اتریں گے جبکہ احکام کے مکلف ہونے کا سلسلہ باقی ہوگا جس طرح ہم نے یہاں اور کتاب ” التذکرہ “ میں ذکر کردیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مردوں کو زندہ کرنا قیامت اور مردوں کو دوبارہ اٹھانے پر دلیل ہے : یہ ابن اسحاق نے کہا :۔
میں کہتا ہوں : یہ احتمال موجود ہے کہ معنی ہو کہ حضرت محمد ﷺ قیامت کی نشانی ہوں اس کی دلیل حضور ﷺ کا ارشاد ہے :” میں اور قیامت یوں معبوث کئے گئے ہیں (3) “ اور آپ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملایا اور اسے امام بخاری اور امام مسلم نے نقل کیا ہے حضرت حسن بصری نے کہا : قیامت کی نشانیوں میں سے پہلی نشانی حضرت محمد ﷺ ہیں (4)
قیامت میں شک نہ کرو، یہ یحییٰ بن سلام کا قول ہے۔ سدی نے کہا : تم اس کو نہ جھٹلائو اور تم اس میں جھگڑا نہ کرو کیونہ یہ لازماً ہو کر رہنے والی ہے (5) تم توحید کے عقیدہ میں میری اتباع کرو اور جو میں تمہیں تبلیغ کرتا ہوں اس میں میری اتباع کرو۔
یہ اللہ تعالیٰ کی جانب جانے والا سیدھا راستہ ہے یعنی اس کی جنت کی طرف جانے والا سیدھا راستہ ہے۔ یعقوب نے واتبعون میں دونوں حالتوں میں یاء کو قائم کر رکھا ہے اسی طرح اطیعون میں قائم رکھا ہے۔ ابو عمرو اور اسماعیل نے نافع سے یہ قول نقل کیا ہے کہ وصل میں قائم رکھا اور وقف میں حذف کردیا باقی قراء نے دونوں حالتوں میں حذف کیا ہے۔
Ayah 43:62وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ : اس کے وساوس سے دھوکہ نہ کھائو۔ جھگڑا کرنے والے کفار کو شیطان سے تشبیہ دی گئی کیونکہ انبیاء کی شریعتیں توحید میں مختلف نہیں اور قیامت کے بارے میں انہوں نے جو خبریں دی ہیں اسی طرح جنت یا دوزخ کے بارے میں انہوں نے جو خبریں دی ہیں اس میں وہ مختلف نہیں۔
اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ : سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
Ayahs 43:63–64حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : بینات سے مراد مردوں کو زندہ کرنا، مریضوں کو صحت مند کرنا، پرندوں کو بنانا، دستر خوانوں کا نزول وغیرہ اور بہت سی غیب کی خبریں دینا۔ قتادہ نے کہا : یہاں بینات سے مراد انجیل ہے۔
حکمت سے مراد نبوت ہے، یہ سدی کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد ایسا علم ہے جو نیکی کی طرف لے جائے اور برائی سے روک دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد انجیل ہے : یہ قشیری اور ماوردی نے ذکر کیا ہے۔
مجاہد نے کہا : مراد ہے جو تورات میں تبدیلی کی گئی (1) زجاج نے کہا : میں انجیل میں بعض ایسی چیزیں تمہارے لئے بیان کر دوں گا تورات میں تبدیلی کے متعلق تم جن میں باہم اختلاف کرتے ہو۔ مجاہد نے کہا : جن چیزوں کے وہ محتاج ہیں انجیل کے علاوہ ان کے لئے واضح کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تورات کے احکام کے بارے میں انہوں نے جو اختلاف کیا جس قدر انہوں نے سوال کیا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے واضح کیا ہے یہ بھی جائز ہے انہوں نے اس کے علاوہ میں اختلاف کیا جس کے بارے میں انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال نہ کیا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے وصال کے بعد بنی اسرائیل نے دین کے ا مور میں کچھ چیزوں میں اختلاف کیا اور دنیاوی امور میں سے چند چیزوں کے بارے میں اختلاف کیا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے دینی امر کے بارے میں واضح کردیا۔
ابو عبیدہ کا مذہب یہ ہے کہ یہاں بعض، کل کے معنی میں ہے اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (غافر 28) اخفش نے لبید کا شعر پڑھا۔
موت بعض نفوس کے متعلق نہیں ہوتی موت کو علوق اور علاقہ کہتے ہیں : مفضل بکرمی نے کہا :۔
ثعلبہ بن سیر کو کتنے پوچھنے والے ہیں جبکہ موت ثعلبہ کے ساتھ متعلق ہے۔
مقاتل نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کی طرح ہے : (آل عمران 50) یعنی انجیل میں وہ چیزیں حلال کرنے والا ہوں جن کو تورات میں حرام کردیا گیا تھا جس طرح اونٹ کا گوشت، ہر حیوان کی چربی، ہفتہ کے روز مچھلی کا شکار کرنا۔
شرک سے بچوں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، جب یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے تو یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ الہ ہو یا ابن الہ ہو۔
یعنی توحید اور دوسرے امور کی طرف دعوت دیتا ہوں
اللہ تعالیٰ کی عبادت صراط مستقیم ہے اس کے سوا ٹیڑھا راستہ ہے اس پر چلنے والا حق تک پہنچنے والا ہے۔
Ayah 43:65قتادہ نے کہا : یہاں من، ما کے معنی میں ہے ان کے بارے میں دو قول ہیں (1) اس سے مراد یہود و نصاری میں سے اہل کتاب ہیں انہوں نے ایک دوسرے کی مخالفت کی (1) یہ مجاہد اور سدی کا قول ہے (2) نصاری کی مختلف جماعتیں ہیں نسطوریہ، ملکیہ، یعاقبہ، انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کیا نسطوریہ نے کہا : وہ ابن اللہ ہیں : یعاقبہ نے کہا : وہ اللہ ہے : ملکیہ نے کہا : وہ تین میں سے تیسرا ہے ان میں سے ایک اللہ ہے، یہ کلبی اور مقاتل کا قول ہے : سورة مریم میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
انہوں نے کفر اور شرک کیا جس طرح سورة مریم میں ہے یعنی جس کا عذاب درد ناک ہے اسی کی مثل لیل نائم ہے اس رات میں سویا جاتا ہے۔
Ayah 43:66وائو ضمیر سے مراد حزاب ہیں یعنی وہ انتظار نہیں کرتے سے مراد قیامت ہے یعنی اچانک وہ کچھ نہیں سمجھتے کئی اور مواقع پر یہ بحث گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے عرب کے مشرک صرف قیامت کا انتظار کر رہے ہیں اس تعبیر کی بناء پر اضراب سے مراد وہ قبائل ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے خلا اکٹھ کیا تھا اور مشرکین میں سے جنہوں نے آپ کو جھٹلایا یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : کے ساتھ متصل ہے۔
Ayah 43:67یوم سے مراد یوم قیامت ہے۔ یعنی وہ دشمن ہیں جو ایک دوسرے سے دشمنی کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر لعنت کرتے ہیں : کیونکہ وہی دنیا و آخرت میں دوست ہیں : یہ معنی حضرت ابن عباس، مجاہد اور دوسرے علماء نے بیان کیا ہے نقاش نے حکایت بیان کی ہے کہ یہ آیت امیہ بن خلف حجمی، عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی وہ دونوں دوست تھے (1) عقبہ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھا تھا قریش نے کہا : عقبہ بن ابی معیط صابی ہوگیا۔ امیہ نے اس سے کہا : اگر تو محمد سے ملا اور تو نے اس کے منہ پر نہ تھوکا تو میرا تجھ سے ملنا حرام ہوگا۔ عقبہ نے ایسا ہی کیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے قتل کی نذر مانی اور اسے غزوہ بدر کے موقع پر قتل کردیا۔ امیہ معرکہ میں قتل ہوگیا انہیں کہ متعلقہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ ثعلبی نے اس آیت کے بارے میں ذکر کیا ہے دو مومن دوست تھے او دو کافر دوست تھے دو مومنوں میں سے ایک مرگیا اس نے عرض کی : اے میرے رب : فلاں آدمی مجھے تیری اور تیرے رسول کی اطاعت کا حکم دیتا تھا۔ وہ مجھے بھلائی کا حکم دیتا اور برائی سے روکا کرتا تھا اور مجھے خبر دیتا تھا کہ میں تجھ سے ملاقات کرنے والا ہوں، اے میرے رب ! اسے میرے بعد گمراہ نہ کرنا اسے اس طرح ہدایت دینا جس طرح اس نے مجھے ہدایت دی، اسے عزت بخشنا جس طرح اس نے مجھے عزت بخشی، جب اس کا مومن دوست فوت ہوگا تو اللہ تعالیٰ دونوں کو جمع کرے گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم میں سے ہر ایک دوست اپنے ساتھی کی تعریف کرے گا ایک عرض کرے گا : اے میرے رب ! یہ مجھے تیری اطاعت اور تیرے رسول کی اطاعت کا حکم دیتا تھا اور وہ مجھے بھلائی کو حکم دیتا اور مجھے برائی سے روکا کرتا تھا اور مجھے بتاتا تھا کہ میں تجھ سے ملاقات کرنے والا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : وہ کتنا اچھا دوست ہے کتنا اچھا بھائی اور کتنا اچھا ساتھی ہے، کہا : کافروں میں سے ایک مرے گا اور کہے گا : اے میرے رب ! فلاں آدمی مجھے تیری اطاعت سے اور تیرے رسول کی اطاعت سے روکتا تھا وہ مجھے برائی کا حکم دیتا تھا اور مجھے نیکی سے روکتا تھا اور مجھے بتاتا تھا کہ میں تجھ سے ملاقات کرنے والا نہیں ہوں، اے میرے رب : میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو اسے میرے بعد ہدایت نہ دینا۔ اور اسے اسی طرح گمراہ کرنا، جس طرح تو نے مجھے گمراہ کیا ہے اور اسے ذلیل و رسوا کرنا جس طرح تو نے مجھے ذلیل و رسوا کیا ہے جب اس کا کافر دوست مرتا ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں سے فرماتا ہے : تم دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کی تعریف کرے وہ عرض کرے گا اے میرے رب ! مجھے تیری نافرمانی اور تیرے رسول کی نافرمانی کا حکم دیتا اور وہ مجھے برائی کا حکم دیتا تھا خیر سے منع کرتا تھا اور مجھے اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : تو کتنا برا ساتھی، بھائی اور دوست ہوگا۔ ان دونوں میں سے ہر ایک ساتھی پر لعنت کرے گا۔
میں کہتا ہوں : یہ آیت ہر مومن، متقی، کافر اور گمراہ کے بارے میں عام ہے۔
Ayah 43:68مقاتل نے کہا اور اسے معتمر بن سلیمان نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے : منادی کرنے والا کھلی جگہ اعلان کرے گا اے میرے بندو ! تم پر آج کوئی خوف نہیں۔ کھلے میدان والے اپنے سروں کو اوپر اٹھائیں گے تو منادی کرنے والا کہے گا : تو مسلمانوں کے علاوہ تمام ادیان والے اپنے سروں کو جھکا لیں گے۔ محاسبی نے رعایہ میں ذکر کیا ہے، اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن منادی کرنے والا مذاکرے گا۔ مخلوقات اپنے سروں کو اوپر اٹھائے گی وہ کہیں گے ہم اللہ کے بندے ہیں (1) پھر دوبارہ وہ ندا کرے گی۔ کفار اپنے سروں کو جھکا لیں گے اور موحد اپنے سروں کو اٹھائے رکھیں گے پھر وہ تیسری دفعہ اعلان کرے گا (یونس) تو گناہ کبیرہ کرنے والے اپنا سر جھکائیں گے اور تقوی اختیار کرنے والے اپنے سر اٹھائے رکھیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے خوف اور حزن کو زائل کردیا ہوگا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا ہوگا کیونکہ وہ معزین میں سب سے معزز اور وہ اپنے ولی کو بےیارومددگار نہیں چھوڑتا اور ہلاکت کے وقت اسے کسی کے سپرد نہیں کرتا۔ اسے یعباد پڑھا گیا ہے۔
Ayah 43:69زجاج نے کہا : عبادی کی صفت کے طور پر محل نصب میں ہے کیونکہ عبادی منادی مضاف ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : مبتدا مخدوف کی خبر ہے یا یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر مخدوف ہے تقدیر کلام یہ ہے
ابو بکر اور زربن حبیش نے یا عبادی پڑھا ہے یاء مفتوح ہے اور دونوں حالتوں میں ثابت ہے اسی وجہ سے نافع، ابن عامر، ابو عمرو اور رویس نے دونوں حالتوں میں یاء کو ساکنہ کو ثابت کر رکھا ہے باقی قراء نے دونوں حالتوں میں یاء کو حذف کیا ہے کیونکہ اہل شام اور اہل مدینہ کے مصاحف میں یاء ثابت ہے کسی اور مصحف میں یاء نہیں ہے۔
Ayah 43:70یعنی انہیں کہا جائے گا : تم جنت میں داخل ہو جائو یا کہا جائے گا : اے میرے بندو، جو ایمان لائے ہو جنت میں داخل ہو جائو یعنی جو دنیا میں مسلمان تھیں (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے، مومنوں میں سے جو تمہارے ساتھی ہوں گے
ایک قول یہ کیا گیا ہے : حورعین میں سے جو تمہاری ازواج ہیں۔
تمہاری عزت کی جائے گی، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے یعنی مقام و منزل کے اعتبار سے تم معزز ہو گے حضرت حسن بصری نے کہا : تمہیں خوش کیا جائے گا اس سے مراد دل میں وہ خوشی ہے قتادہ نے کہا : تم پر انعام کیا جائے گا اس سے مراد بدن میں نعمت ہے : مجاہد نے کہا : تمہیں خوش کیا جائے گا اس سے مراد آنکھ میں خوشی ہے۔ ابن ابی نجییح نے کہا : تمہیں خوش کیا جائے گا یہاں عجب سے مراد اس چیز کا پانا ہے جو پسند ہو۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا : اس سے مراد سماع کے ذریعے لذت حاصل کرنا ہے۔ سورة روم میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 43:71اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1:۔ یعنی ان کے لئے جنت میں کھانے اور مشروبات ہوں گے جنہیں سونے اور چاندی کے تھالوں میں ان پر گھمایا جائے گا یہاں کھانوں اور مشروبات کا ذکر نہیں کیا کیونکہ یہ بات معلوم ہے کہ تھالوں او پیالوں کے گھمانے کا کوئی مطلب نہیں جب ان میں کھانے اور مشروبات نہ ہوں۔ صحاف میں سونے کا ذکر کیا جبکہ اکواب میں اس کے ذکر سے استغنا برتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (احزاب 35)
صحیحین میں حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : (1) ۔ ریشم اور دیباج کا لباس نہ پہنو اور سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو ان کے پیایوں میں نہ کھائو کیونکہ یہ چیزیں ان کے لئے دنیا میں ہیں اور تمہارے لئے آخرت میں ہیں سورة الحج میں یہ گزر چکا ہے جس نے ان دونوں میں دنیا میں کھایا یا دنیا میں ریشم کا لباس پہنا اور توبہ نہ کی آخرت میں ہمیشہ کے لئے اس پر یہ چیزیں حرام کردی جائیں گی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مفسرین نے کہا : جنت میں سب سے کم مرتبہ جنتی پر ستر ہزار غلام سونے کے پیاوں کے ساتھ گھومیں گے دن کا کھانا اسے پیش کیا جائے گا ہر ایک برتن میں ایسی قسم کا کھانا ہوگا جو دوسرے میں نہ ہوگا وہ اس کے آخر سے اسی طرح کھائے گا جس طرح پہلے سے کھاتا ہے آخری کو اسی طرح لذیذ پائے گا جس طرح پہلے کو لذیذ پاتا ہے اس کا بعض بعض کے مشابنہ ہوگا۔ یعنی اس پر پیالے گھمائے جائیں گے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الدہر :15)
ابن مبارک نے ذکر کیا ہے یہیں معمر نے بیان کیا وہ ایک آدمی سے وہ ابو قلابہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہا : اس کے پاس کھانا اور مشروب لایا جائے گا جب وہ ان کے آخر تک پہنچیں گے تو ان کے پاس شراب طہور لایا جائے گا اس کے لئے ان کے پیٹ ضامر ہوجائیں گے ان کے جسموں سے مشک سے پاکیزہ خوشبو نکلے گی پھر یہ پڑھا۔ (دہر)
صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت مری ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جنتی اس میں کھائیں گے، اس میں پیئیں گے وہ تھوکیں گے نہیں وہ پیشاپ نہیں کریں گے وہ براز نہیں کریں گے، وہ ریشہ نہیں پھینکیں گے “ (1) پوچھا : کھانے کا کیا بنے گا ؟ کہا : ” ڈکار اور مہک جس طرح کستوری کی مہک ہوتی ہے انہیں تسبیح تحمید اور تکبیر کا الہام کیا جائے گا “ ایک روایت میں النفس کے الفاظ ہیں۔
مسئلہ نمبر 2: آئمہ نے حضرت ام سلمہ کی حدیث نبی کریم ﷺ سے نقل کی ہے فرمایا :” وہ آدمی جو سونے اور چاندی کے برتن سے پانی پیتا ہے اور وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ پیتا ہے (2) اور کہا :” سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور نہ اس کے پیالوں (برتنوں) میں نہ کھائو (3) “ یہ روایات حرمت کا تقاضا کرتی ہیں اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
علماء اور مقاصد کے لئے ان کے استعمال کرنے میں اختلاف ہے ابن عربی نے کہا : صحیح بات یہ ہے کہ مردوں کے لئے کسی مقصد کے لئے انہیں استعمال کرنا جائز نہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ کا سونے اور ریشم کے بارے میں ارشاد ہے : ” یہ دونوں چیزیں میری امت کے مذکر افراد کے لئے حرام ہیں اور مونث افراد کے لئے حلال ہیں۔ “ (4) ان میں کھانے پینے سے نہیں ان کے استعمال کی حرمت پر دال ہے کیونکہ یہ بھی سامان کی ایک صورت ہے جو جائز نہیں اس کا اصل کھانا اور پینا ہے اس کی علت آخرت کے امر کو جلدی چاہنا ہے اس اعتبار سے اس میں کھانا اور پینا اور باقی ماندہ انتقاع کی جو صورتیں ہیں سب مراد ہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہ ان کے لئے دنیا میں ہیں اور ہمارے لئے آخرت میں ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس میں ہمارے لئے دنیا میں حصہ نہیں بنایا۔ “
مسئلہ نمبر 3: برتن پر ان سے کلی کی گئی ہو یا برتن میں ان دونوں میں سے حلقہ ہو۔ امام مالک نے کہا : مجھے اچھا نہیں لگتا کہ اس برتن میں پیا جائے، اسی طرح آئینہ ہو جس میں چاندی کا حلقہ ہو مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ وہ اس میں اپنا چہرہ دیکھے۔ حضرت انس ؓ کے پاس ایسا برتن تھا جس پر چاندی کی کلی کی گئی تھی اور کہا : میں نے نبی کریم ﷺ کو اس برتن میں مشروف پلایا تھا۔ ابن سیرین نے کہا : اس میں لوہے کا حلقہ تھا تو حضرت انس نے ارادہ کیا کہ اس میں چاندی کا حلقہ لگوائیں تو حضرت ابو طلحہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے جو عمل کیا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کروں گا تو حضرت انس نے اسے ترک کردیا۔
مسئلہ نمبر 4:۔ جب ان چیزوں کا استعمال جائز نہیں تو ان کو جمع کرنا بھی جائز نہیں کیونکہ جس چیز کا استعمال جائز نہیں اس کو ذخیرہ کرنا بھی جائز نہیں جس طرح بت اور طنبور (آلہ لہو) ہمارے علماء کی کتابوں میں ہے : جو آدمی کسی کا ایسا برتن توڑے گا اس پر بازاری قیمت چٹی لازم ہوگی۔ یہ فاسد معنی ہے کیونکہ اس کا توڑنا واجب ہے تو اس وجہ سے اس قیمت کی کوئی ثمن (جو باہم بائع اور مشتری لگاتے ہیں) نہ ہوگی زکوۃ میں کسی حسی حال میں اس کی قیمت جائز نہ ہوگی اس کے علاوہ میں اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی جائے گی۔
بصحاف جوہری نے کہا : صفحہ، قعہ کی طرح ہے اس کی جمع صحاف آتی ہے۔ کسائی نے کہا : پیالوں میں سے سب سے بڑا جفعہ ہے پھر قصعہ ہے جو دس افراد کو سیر کرتا ہے پھر صحفہ ہے جو پانچ آدمیوں کو سیر کردیتا ہے پھر مسئکلہ ہے جو دو یا تین افراد کو سیر کردیتا ہے پھر صحیفہ ہے جو ایک آدمی کو سیر کردیتا ہے صحیفہ کا معنی کتاب بھی ہے اس کی جمع صحف اور صحائف ہے۔
جوہری نے کہا : کو ب ایسے لوٹے کو کہتے ہیں جس کا دستہ نہ ہو اس کی جمع اکواب ہے : شاعر نے کہا :
وہ ٹیک لگائے ہوئے ہے اس کے دروازے کھلے ہیں اس پر غلام پیالے کے ساتھ دوڑ رہا ہے۔
قتادہ نے کہا : کو ب ایسے پیالے کو کہتے ہیں جس کا سرا چھوٹا اور دستہ بھی چھوٹا ہو اور ابریق اس پیالے کو کہتے ہیں جس کا سرا لمبا اور دستہ بھی لمبا ہو (1) اخفش نے کہا : کو اب سے مراد ایسے لوٹے ہیں جس کی سنت نہیں ہوتی۔ قطرب نے کہا : اس سے مراد لوٹے ہیں جن کی سنت نہیں ہوتی (2) مجاہد نے کہا : اس سے مراد ایسے برتن ہیں جن کے منہ گول ہیں۔ سدی نے کہا : اس سے مراد ایسے برتن ہیں جن کی سنت نہیں ہوتی۔ ابن عزیز نے کہا : اکواب سے مراد ایسے لوٹے ہیں جن کا دستہ اور سنت نہیں ہوتی اس کا واحد کو ب ہے۔
میں کہتا ہوں : مجاہد اور سدی کے قول کا یہی معنی ہے یہی اہل لغت کا مذہب ہے کہ جس کی سنت اور دستہ نہ ہو۔
ترمذی نے سلیمان بن برید سے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا : عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ کیا جنت میں گھوڑے ہیں (3) ؟ فرمایا :” اگر اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں داخل کرے تو کیا نہیں چاہے گا کہ تو اس میں سرخ یاقوت کے گھوڑے پر سوار ہو وہ جنت میں تجھے لے کر اڑتا رہے جہاں تو چاہے۔ “ کہا : ایک آدمی نے پوچھا عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ کیا جنت میں اونٹ ہیں (4) ؟ فرمایا : نبی کریم ﷺ نے اسے اس کی مثل جواب نہ دیا جو آپ نے پہلے فرد کو جواب دیا تھا فرمایا :” اگر اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں داخل کرے گا وہاں تیرے لئے وہ کچھ ہوگا جو تیرا نفس چاہے گا اور تیری آنکھ پسند کرے گی۔ “
اہل مدینہ، ابن عامر اور اہل شام نے اسے پڑھا ہے باقی قراء نے اصل میں یہ تشتھیہ الانفس ہے تو کہتا ہے : اصل میں تو کہتا ہے : یعنی ماضی میں عین کلمہ مکسور ہے اور مضارع میں مقتوح ہے یعنی میں نے اسے لذیذ پایا۔ دونوں کا معنی ایک ہے یعنی جنت میں وہ کچھ ہوگا جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی تو وہ خوبصورت منظر ہوگا۔ سعید بن جبیر نے کہا : آنکھیں اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے کی لذت حاصل کریں گی جس طرح حدیث طیبہ میں ہے :
باقی رہیں گے، ہمیشہ رہیں گے کیونکہ یہ سلسلہ منقطع ہوجائے تو یہ رنج دیتا ہے۔