Ayah 34:50آیت : و لو تری اذ فذعوا فلا فوت کفار کے احوال ایسے وقت میں ذکر کیے جس میں وہ حق کی معرفت کے محتاج ہوں گے معنی ہے اگر آپ دنیا میں دیکھتیجب موت ان پر نازل ہوئی یا اللہ تعالیٰ کی ان پر پکڑ نازل ہوئی : یہ معنی حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : اس سے مراد صیحہ کی وجہ سے ان کا قبروں میں خوف ذدہ ہونا ہے (1) (تفسیر الحسن البصری، جلد 4، صفحہ 328 ) ۔
ان سے یہ قول بھی مروی ہے : یہ گھبراہٹ اس وقت ہوئی جب وہ قبروں سے نکلیں گے ؛ یہ قتادہ کا قول ہے۔ ابن مغفل نے کہا : جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے عقاب کو دیکھیں گے۔ سدی نے کہا : اس سے مراد غزوہ بدر کے روز ان کا ڈرنا ہے جب فرشتوں کی تلواروں سے ان کی گردنیں اڑائی گئیں تو نہ وہ بھاگ سکے اور نہ ہی تو بہ کی طرف رجوع کرسکے (2) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 458 ) ۔
سعید بن جبیر نے کہا : اس سے مراد وہ لشکر ہے جو بیداء کے مقام پر دھنسایا جایء گا ان میں سے ایک آدمی باقی رہ جائے گا تو وہ لوگوں کو اس کے بارے میں بتائے گا جو اس کے ساتھیوں کو مصیبت لاحق ہوئی تو وہ سب گھبراجائیں گے (3) (ایضا) ۔ یہی ان کی فزع ہے۔ فلا فوت ان کے لیے کوئی نجات نہیں ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : ان کے بھاگ کی کوئی جگہ نہ ہوگی۔ آیت : و اخذو من مکان قریب، مکان قریب سے مراد قبریں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ جہاں کہیں ہوں گے وہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوں گے وہ اس سے دور نہیں جاسکیں گے اور نہ ہی اس کو غائب پائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ ان اسی ہزار افراد کے بارے میں نازل ہوئی جو کعبہ پر حملہ کریں گے تاکہ اس کو گرا دیں۔ جونہی وہ بیداء میں داخل ہوں گے انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ یہی قریب جگہ سے پکڑنا ہے۔
میں کہتا ہوں : اس بارے میں حضرت حذیفہ ؓ سے ایک مرفوع حدیث مروی ہے ہم نے اس کا ذکر کتاب التذکرہ میں کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اور ایک ایسے فتنے کا ذکر کیا جو اہل مشرق اور اہل مغرب کے درمیان ہوگا۔ وہ اس طرح ہوں گے کہ جلدہی خشک وادی سے ان پر سفیانی نکلے گا، یہاں تک کہ وہ دمشق میں اترے گا وہ دو لشکر روانہ کرے گا ایک لشکر مشرق کی طرف اور ایک لشکر مدینہ طیبہ کی طرف۔ لشکر مشرق کی طرف چلے گا یہاں تک کہ لشکری بابل کے علاقہ میں اتریں گے جو ملعون شہر ہے اور خبیث علاقہ ہے۔ مراد بغداد کا علاقہ ہے۔ وہ تین ہزار سے زائد افراد کو قتل کریں گے اور سو سے زائد عورتوں تک رسائی حاصل کریں گے اور حضرت ابن عباس ؓ کی اولاد میں سے تین سو سرداروں کو قتل کریں گے۔ پھر شام کی طرف نکلیں گے۔ کوفہ سے ہدایت کا علم بلند ہوگا اور دو دنوں میں اس لشکر تک جا پہنچے گا۔ وہ ان کو قتل کریں گے۔ ان میں سے کوئی خبر دینے والا بھی نہیں بچے گا۔ ان کے ہاتھوں میں جو قیدی اور مال غنیمت ہوگا وہ اس کو اچھا خیال نہ کریں گے۔ اس کا دوسرا لشکر مدینہ طیبہ فروکش ہوگا۔ وہ تین دن اور تین راتوں تک اہل مدینہ کو داتا رہے گا۔ پھر مکہ مکرمہ کے ارادہ سے وہ لشکری نکلیں گے یہاں تک کہ جب وہ بیداء کے مقام ہوں گے اللہ تعالیٰ جبریل امین (علیہ السلام) کو بھیجے گا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : اے جبریل ! جائو ان کو ہلاک کر دو ۔ حضرت جبریل اپنے پائوں سے ان کو ٹھوکر ماریں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا، اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت : و لو تری اذفذعوا فلا فوت و اخذو من مکان قریب سے یہی مقصود ہے ان میں سے صرف دو آدمی بچیں گے۔ ان میں سے ایک خوشخبری سنانے والا اور ایک ڈرانے والا ہوگا۔ یہ دونوں جہینہ سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ اسی وجہ یہ قول آیا ہے : و عند جہینتہ الخبر الیقین جہینہ کے ہاں یقینی خبر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے آیت : و اخذوا من مکان قریب۔ یعنی ان کی روحیں وہاں ہی قبضکر لی جائیں گی اور موت سے فرار ان کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ یہ تعبیر اس آدمی قول کے موافق ہے جو یہ کہتا ہے یہ گھبراہٹ نزع کے وقت ہوگی۔ یہ احتمال بھی مو جود ہے یہ اس فزع سے ہو جو اجابہ (قبول کرنا) کے معنی میں ہو، یہ جملہ بولا جاتا ہے : فزع الرجل یعنی اس نے چیخنے والے کو جواب دیا جو خوف نازل ہونے وقت مدد کے لیے چیخ رہا تھا۔ اسی معنی میں حدیث طیبہ ہے : جب آپ نے انصار فرمایا : طمع کے وقت تم کم ہوتے ہو اور جنگ کے وقت زیادہ ہوتے ہو
۔ جس نے کہا : دنیا خسف اور قتل سے مراد یوم بدر ہے۔ کہا : آخرت میں پکڑ سے قبل دنیا میں پکڑ لیے گئے۔ جس نے کہا : یہ قوم قیامت کی گھبراہٹ ہے اس نے کہا : انہیں زمین کے اندر سے اس کے ظاہر کی طرف پکڑا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیت : اخذوا من مکان قریب سے مراد ہے انہیں جہنم سے پکڑا گیا اور اس میں پھینک دیا گیا۔
Ayah 34:51آیت : و قالوا امنا بہ ہا ضمیر سے مراد قرآن ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : اس سے مراد بعث ہے (1) (تفسیر الحسن البصری، جلد 4، صفحہ 329 ) ۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد رسول اللہ کی ذات ہے۔ آیت : و انی لھم التناوش من مکان بعید حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک نے کہا : التناوش سے مراد لوٹنا ہے (2) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 459) یعنی وہ دنیا کی طرف لوٹنے مطالبہ کریں گے تاکہوہ ایمان لے آئیں۔ یہ مطالبہ کتنا ہی حقیقت سے دور ہے۔ اس معنی شاعر کا قول ہے :
تمنی ان تئوب الی می ولیس تناوشھاسبیل (3) (ایضا)
میں نے آرزو کی کہ میری طرف لوٹ آئے جب کہ اس کے لوٹنے کی کوئی راہ نہ تھی۔
سدی نے کہا : اس سے مراد تو بہ ہے، یعنی انہوں نے تو بہ طلب کی جب کہ وہ دور ہوچکی تھی کیونکہ تو بہ تو دنیا میں قبول ہوتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : التناوش سے مراد پانا اور حاصل کرنا ہے۔ ابن سکیت نے کہا : ایک آدمی جب کسی آدمی کی طرف بڑھے تاکہ اس کا سر اور داڑھی پکڑے تو اس کے لیے یہ فعل ذکر کیا جاتا ہے : ناشہ، ینوشہ، نوشا۔ اور یہ شعر پڑھا :
فھی تنوش الحض نوشا من علا نوشابہتقضع اجوازالفلا (4) (ایضا)
یعنی وہ اونٹ حوض کے پانی کو اوپر سے پیتے ہیں اور بہت زیادہ پیتے ہیں جس کے ساتھ جنگلوں کے وسط کو طے کرتے ہیں، انہیں کسی اور پانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
کہا : اسی معنی میں جنگ میں مناوشہ ہے یہ اس وقت ہوتا ہے جب دونوں فریق جنگ میں قریب ہوجاتے ہیں۔ رجل نووش سخت پکڑ والا آدمی۔ التناوش کا معنی پکڑا اور لینا ہے۔ انتیاش کا بھی یہی معنی ہوتا ہے۔ راجز نے کہا :
کا نت تنوش العنق انتیاشا
وہ گردنوں کو پکڑتے ہیں۔
آیت : و انی لھم التناوش من مکان بعید اللہ تعالیٰ ارشاد فرما تا ہے : آخرت میں ان کا ایمان کو پانا کیسے ممکن ہے جب کہ انہوں نے دنیا میں کفر کیا۔ ابو عمرو، کسائی، اعمش اور حمزہ نے کہا : انی لھم التناوش یہ ہمزہ کے ساتھ ہے۔ نحاس نے کہا : ابو عبیدہ اس قراءت کو بعید خیال کرتے تھے، کیونکہ التناوش جب ہمزہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی بعد ہوتا ہے، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے، بعید مکان سے ان کے لیے بعد کیسے تصور کیا جاسکتا ہے ؟ ابو جعفر نے کہا ـ: قراءت جائز اور حسن ہے۔ کلام عرب میں اس کی دو وجوہ ہیں : یہ بعید تاویل اس کے ساتھ نہیں کی جاسکتی۔ دونوں میں سے ایک یہ ہے کہ اصل مہموز نہ ہو پھر وائو کو ہمزہ بنا دیا گیا کیونکہ اس میں حرکت خفیف ہوتی ہے۔ یہ کلام عرب میں اکثر ہوتا ہے مصحف میں جسے جماعت نے جماعت سے نقل کیا ہے وہ ہے آیت : و اذا الرسل اقتت (المرسلات) اصل میں یہ وقت تھا، کیونکہ یہ وقت سے مشتق ہے۔ دار کی جمع ادئور کہی جاتی ہے۔ ایک اور وجہ جسے ابو اسحاق نے ذکر کیا ہے یہ تش سے مشتق ہے اس سے مراد آہستہ آہستہ حرکت ہے، یعنی ان کے لیے حرکت کہاں سے ہوگی اس چیز میں جو ان سے دور ہوچکی ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے : ناشتت الشی میں نے اسے دور سے پکڑا۔ النئیش سے مراد سست شئے ہے۔ جو ہری نے کہا : التناوش سے مراد پیچھے ہونا ہے اور دور ہونا ہے۔ قد ناشت الامر انا شہ نا شا فا تتاش میں نے اسے مئوخر کیا اور وہ مئوخر ہوگیا۔ یہ کہا جاتا ہے : فعلہ شیشا اس نے آخر میں کیا۔
شاعر نے کہا :
تمنی شیشا ان یکون اطاعنی و قد حدثت بعد الامور امور
اس نے آخر میں آرزو کی کہ وہ میری اطاعت کرے جب کہ نئے نئے امور یکے بعد دیگرے واقع ہوچکے تھے۔
ایک اور شاعر نے کہا :
قعدت زمانا عن طلابک لعلا و جئت شیشا بعد ما فا تک الخیر
میں ایک زمانہ تک بیٹھا رہا جب کہ تو بلندی کا طالب تھا میں اخیر میں آیا جب کہ تجھ سے خبر فوت ہوچکی تھی۔
فراء نے کہا : تناوش میں ہمزہ کو لانا اور ہمزہ کو ترک کرنا قریب قریب ہے جس طرح ذمت الرجل اور ذامتہ دونوں کا معنی ہے میں نے اس پر عیب لگایا۔ آیت : من مکان بعید یعنی آخرت سے۔ ابو اسحاق تمیمی سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں : و انی لھم یعنی لو ٹنا۔ انہوں نے لو ٹنے کا سوال کیا جب کہ وہ لوٹنے کا وقت نہیں۔
Ayahs 34:52–53و قد کفروا بہ ہا ضمیر سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ من قبل یعنی دنیا میں۔ آیت : و یقذ فون با لغیب عرب ہر ایسے شخص کے بارے میں کہتے ہیں جو ایسی گفتگو کرتا ہے جو مناسب نہیں ہوتی : ھو یقذف و یرجہ با لغیب۔ آیت : من مکان بعید جو آدمی پتھر پھینکتا ہے اور وہ صحیح جگہ نہیں پہنچتا، اس کے لیے تمثیل کے طریقہ پر یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے وہ ظن وتخمین کرتے ہیں اور کہتے ہیں : کوئی دوبارہ اٹھانا نہیں، کوئی نشور نہیں (1) (زاد المسیر، جز 6، صفحہ 253 ) ، کوئی جنت نہیں اور کوئی دوزخ نہیں۔ وہ یہ باتیں ظن وتخمین کے طور پر کرتے ہیں : یہ قتادہ کا قول ہے۔
ایک قول کیا گیا ہے : وہ قرآن پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں : یہ جادو ہے، یہ شعر ہے اور یہ پہلے لوگوں کی قصے کہانیاں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ وہ حضرت محمد علیہ التحیتہ ولثناء کے بارے میں ایسی بات کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں : یہ جا دو گر، شاعر، کاہن اور مجنون ہیں۔
آیت : من مکان بعید اللہ تعالیٰ نے انہیں بعید کردیا ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کی سچائی کو جانیں۔ ایک قول کیا گیا ہے : دل سے دور ہونے کا ارادہ کیا ہے یعنی ان کے دلوں سے دور جگہ۔ مجاہد نے قراءت کی : آیت : و یقذفون با لغیب فعل مجہول ہے۔ یعنی انہیں پھینکا جائے گا، ایک قول یہ کیا گیا : جو انہیں گمراہ کرتا تھا اور بہکا تا تھا اسے ان کی طرف پھینکا جائے گا۔
Ayah 34:54آیت : و حیل بینھم و بین ما یشتھون یعنی ان کے درمیان اور ان کی نجات کے درمیان عذاب حائل ہوجائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے درمیان اور دنیا میں جو وہ اموال اور اہل کے خواہش کرتے تھے ان کے درمیان عذاب حائل ہوجائے گا۔ قتادہ کا مذہب ہے جب انہوں نے عذاب دیکھا تو اس وقت وہ خواہش رکھتے تھے کہ ان کی جانب سے یہ قبول ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے اس کو بجا لائیں اور با قی چیزوں سے رک جائیں، تو ان کے درمیان اور ان کی خواہش کے درمیان رکاوٹ قائم کردی جائے گی، کیونکہ اس کا وقت دنیا تھا اور اس وقت یہ چیز زائل ہوچکی ہے۔ اصل حول ہے وائو کی حرکت حاء کو دی گئی تو وائو یاء ہوگئی۔
آیت : کما فعل با شیا عھم، اشیاع یہ شیع کی جمع ہے۔ شیع یہ شیعتہ کی جمع ہے۔ من قبل اس سے مراد گزری ہوئی کافر قومیں ہیں۔ آیت : انھم کانوا فی شک وہ رسولوں، بعثت، جنت اور دوزخ کے بارے میں شک میں مبتلا تھے۔ ایک قول کیا گیا : وہ دین اور توحید کے بارے میں شک میں مبتلا تھے۔ معنی ایک ہی ہے۔ مریب جس کے ساتھ شک میں پڑا جاتا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : اراب الرجل وہ شک والا ہوگیا۔ جس نے کہا : یہ اس ریب سے ہے جس کا معنی شک اور تہمت ہے اس نے کہا : یہ کہا جاتا ہے شک مریب جس طرح کہا جاتا ہے : عجیب عجیب، شعر شاعر، یہ تاکید کے لیے ہوتا ہے۔