34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 34:23

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور خدا کے ہاں (کسی کے لئے) سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لئے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے اضطراب دور کردیا جائے گا تو کہیں گے تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے (فرشتے) کہیں گے کہ حق (فرمایا) ہے اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

آیت : ولا تنفع الشفا عۃ یعنی فرشتوں اور دوسرے افراد کی شفاعت نفع نہیں دیتی عندہ اللہ تعالیٰ کے ہاں۔ الا لمن اذن لہ عام قراءت اذن ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ ان کی شفاعت کوئی نفع نہ دے گی جن کا اللہ تعالیٰ نے پہلے ذکر کردیا ہے۔ ابو عمرو، حمزہ اور کسائی نے اذن ہمزہ کیساتھ قراءت کی ہے یہ فعل مجہول ہے۔ آذن اللہ تعالیٰ کی ذات ہے من کے متعلق تیرے لیے جائز ہے کہ تو اسے شفاعت کرنے والوں کی طرف لوٹا دے اور یہ بھی جائز ہے کہ تو اسے ان کی طرف لوٹا دے جن کی شفاعت کی جا رہی ہے۔ آیت : حتی اذا فذع عن قلو بھم حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : خوف ان کے دلوں سے نکل چکا ہو۔ قطرب نے کہا : ان میں جو خوف ہے اس کو نکال دیا گیا ہو (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 448 ) ۔ مجاہد نے کہا : قیامت کے روز ان کے دلوں سے پر دہ ہٹا دیا گیا ہو، یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کی جاتی ہے جیسے فرشتے، انبیاء، اور بت (2) (فرشتوں اور انبیاء کو بتوں کی صف میں کھڑا کرنا عجیب سا لگتا ہے حضرت مفسر نے کس مزاج میں آکر یہ جملہ لکھ دیا ہے) ان کی شفاعت نہیں ہوگی مگر اللہ تعالیٰ انبیاء اور فرشتوں کو شفاعت کا اذن دے گا اور وہ اللہ تعالیٰ سے حد درجہ خوف زدہ ہوں گے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : وھم من خشیتہ مشفقون (الانبیائ) اس کا معنی ہے جب انہیں شفاعت کا اذن دیا جائے گا اور ان پر اللہ تعالیٰ کا کلام وارد ہوگا تو وہ گھبرا جائیں گے اس کی وجہ اس حالت میں ہولناک امر اور خوف کا ملنا ہے کہ کہیں انہیں جو اجازت دی گئی ہے اس میں ان سے کوئی کوتاہی واقع نہ ہوجائے جب خوف ان سے دور ہوگا تو وہ ان فرشتوں کو کہیں گے جو ان سے اوپر ہوں گے وہ اوپر والے فرشتے وہ ہوں گے جن پر اجازت والی وحی وارد ہوگی : آیت : ماذا قال ربکم اللہ تعالیٰ نے کیا حکم دیا ؟ تو وہ کہیں گے : آیت : قالو الحق وہ امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مومنوں کی شفاعت کی اجازت دی ہے۔ آیت : وھو العلی الکبیر اسے حق حاصل ہے وہ اپنے بندوں میں جس کا ارادہ کرے اس کا حکم دے، پھر یہ جائز ہے کہ یہ دنیا میں کچھ لوگوں کے حق میں شفاعت کا اذن ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ اذن آخرت میں ہو۔ کلام میں اضمار ہے، یعنی اس کے ہاں کسی کو شفاعت کا حق نہیں مگر جسے وہ اجازت دے جب اس پر اذن وارد ہوگا اللہ تعالیٰ کے کلام کی ہیبت کی وجہ سے وہ گھبرا جائے گا یہاں تک کہ جب کوان کے دلوں سے دور ہوجائے گا تو وہ اطاعت کو بجا لائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا : آج یہ گھبراہٹ فرشتوں کیلیے ہر اس امر میں ہے جس کا رب العالمین حکم دیتا ہے، یعنی شفاعت فائدہ نہیں دے گی مگر فرشتوں کی جو آج گھبراتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں نہ کہ جمادات اور شیاطین کی شفاعت نفع نہ دے گی۔ صحیح ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ اور وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں :ــجب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی امر کا فیصلہ فرماتا تو فرشتے اس کے ارشاد پر عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پروں کو حرکت دیتے ہیں (1) (جامع ترمذی، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 154 ) ، گویا صاف چٹان پر زنجیر ماری جائے، جب ان کے دلوں سے خوف ختم ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں : تمہا رے رب نے کہا فرمایا ؟ فر شتے کہتے ہیں : حق فرمایا۔ وہ بلند ہے بڑا ہے۔ کیا شیاطین ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (2) (ایضا، باب و من سورة سباء، حدیث نمبر 3147، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) جو اس بن سمعان نے کہا : نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بیشک جب اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے کہ کسی امر کے بارے میں وحی کرے تو وحی سے تکلم فرما تا ہے تو اللہ تعالیٰ سے خوف کھاتے ہوئے آسمانوں کو اس وحی کی وجہ سے اضطراب اور شدید کپکپی طاری ہوجاتی ہے، جب آسمان والے اس کو سنتے ہیں تو ان پر بجلی سی گرتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر جاتے ہیں سب سے پہلے جبرائیل امین (علیہ السلام) اپنا سر اٹھاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے کلام فرماتا ہے۔ اور جس کا ارادہ ہوتا ہے اپنے وحی سے اسے فرماتا ہے پھر جبرائیل امین (علیہ السلام) فرشتوں کے پاس سے گزرتے ہیں جب بھی آپ کسی آسمان سے گزرتے ہیں فرشتے ان سے پو چھتے ہیں : اے جبرائیل (علیہ السلام) ! ہمارے رب نے کیا کہا ؟ جبرائیل امین وحی کے ساتھ وہاں تک جاتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوتا ہے (3) (تفسیر طبری، جز 22، صفحہ 109) ۔ بہیقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت : حتی اذا فذع عن قلوبھم کی تفسیر یہ نقل کی ہے۔ کہا : جنوں کی ہر جماعت کے لیے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ ہے جہاں سے وہ وحی کو سنتے ہیں جب وحی نازل ہوتی ہے تو اس کی آواز سنی جاتی ہے جس طرح چٹیل چٹان پر کوئی زنجیر گزاری جائے آسمانوں پر وہ نازل نہیں ہوتی مگر وہ بےہوش ہوجاتے ہیں جب ان کے دلوں سے خوف دور ہوجاتا ہے تو وہ کہتے ہیں : سال اس طرح ہوگا اور اس طرح ہوگا تو جن اسے سن لیتے ہیں اور وہ کاہنوں کو خبر دیتے ہیں کاہن لوگوں کو خبر دیتے ہیں : سال اس طرح، سال اس طرح ہوگا تو وہ اسے اسی طرح پاتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا تو انہیں شہابچوں کے ساتھ دھتکارہ گیا۔ جب جنوں نے عربوں کو کچھ نہ بتایا تو عر بوں نے کہا : آسمان میں جو ہے وہ ہلاک ہوگیا تو اونٹوں والا ہر روز ایک اونٹ ذبح کرتا اور بھیڑ بکریوں والا ہر روز ایک بکری ذبح کرتا یہاں تک کہ انہوں نے اپنے اموال میں جلدی کی۔ ثقیف نے کہا جو عر بوں میں سب سے زیادہ دانش مند تھے ؛ اے لوگو ! اپنے اموال کو روک لو، کیونکہ آسمان میں جو ہے وہ مرا نہیں۔ بیشک یہ نظام کا درہم برہم ہونا نہیں ہے، کیا تم ستاروں میں سے اپنی نشانیوں کو نہیں دیکھتے وہ اس طرح ہیں سورج، چاند، رات اور دن۔ ابلیس نے کہا : آج زمین میں کوئی واقعہ ہوا ہے، میرے پاس ہر علاقے سے مٹی لائو تاکہ میں اس کو سونگھوں۔ وہ اس کے پاس ہر علاقے کی مٹی لائے تو وہ ہر مٹی کو سونگھنے لگا۔ جب اس نے مکہ مکرمہ کی مٹی سونگھی۔ اس نے کہا : یہاں وہ واقع ہوا ہے، وہ خاموش ہوگئے تو کیا معلوم ہو کہ رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوچکے تھے۔ سورة حجر میں یہ معنی مر فوع حدیث سے مختصر انداز میں گزر چکا ہے۔ جنوں کو شہا بچوں سے مارنے اور انہیں جلانے کا واقع بھی گزر چکا ہے۔ سورة الجن میں اس کی وضاحت آے گی۔ انشاء اللہ ایک قول یہ کیا گیا ہے ـ: وہ قیامت کے برپا ہونے پر خوفزدہ ہوجائیں گے۔ کلبی اور کعب نے کہا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کے درمیان پانچ سو پچاس سال کا عرصہ فترت کا دور ہے اس میں رسل تشریف نہ لائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا تو اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ساتھ رسالت کے بارے میں کلام فرمایا۔ جب فر شتوں نے کلام کو سنا تو انہوں نے گمان کیا کہ قیامت بر پا ہوگئی ہے۔ وہ وحی سن کر بےہوش ہوگئے۔ جب حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نیچے آئے تو ہر آسمان کے پاس سے گزرتے تو ان سے پردہ کو ہٹاتے وہ اپنے سروں کو اٹھاتے اور ایک دوسرے سے کہتے : تمہارے رب نے کیا کہا ؟ وہ نہ جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا، لیکن انہوں نے کہا : حق فرمایا وہ بلند اور بڑا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ آسمان والوں کے ہاں قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں۔ ضحاک نے کہا : وہ فرشتے جو اہل زمین کی طرف آگے پیچھے آتے ہیں وہ لوگوں کے اعمال لکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بھیجتا ہے۔ جب وہ نیچے آتے ہیں تو ان کی شدید آواز سنی جاتی ہے وہ فرشتے جو نیچے ہوتے ہیں وہ پھر گمان کرتے ہیں کہ قیامت کا حکم ہوگیا ہے، وہ سجدہ میں گر جاتے ہیں اور بےہوش ہوجاتے ہیں۔ یہ ان کا حال ہوتا ہے تو بت کیسے شفاعت کریں گے اور تم کیسے شفاعت کی امید رکھتے ہو جب کہ تم قیامت کا اعتراف نہیں کرتے ؟ حضرت حسن بصری (رح)، مجاہد اور ابن زید نے کہا : جب مشرکوں کے دلوں سے خوف ختم ہوجائے گا یہ آخرت میں موت کے نازل ہونے کے وقت ہوگا یہ اتمام حجت کے لیے ہوگا (1) (تفسیر الحسن البصری، جلد 4، صفحہ 324 ) ۔ فرشتے انہیں کہیں گے : دنیا میں تمہارے رب نے کیا کہا ـ؟ تو وہ کہیں گے : حق فرمایا : وہ بلند اور بڑا ہے۔ انہوں اس وقت اقرار کیا جب اقرار انہیں کوئی نفع نہیں دے گا، یعنی وہ کہیں گے اس نے حق فرمایا۔ عام قراءت آیت : فذع عن قلو بھم ہے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : آیت : فذع عن قلوبھم معروف کا صیغہ پڑھا ہے۔ اس کا فاعل ضمیر ہے جو اللہ تعالیٰ کے اسم کی طرف لو ٹتی ہے۔ جس نے اسے مجہول کا صیغہ پڑھا ہے تو اس صورت میں جار اور مجرور محل رفع میں ہوں گے۔ فعل معنی میں اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگا۔ دونوں قرائتوں کی صورت میں میں ہے گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور کردی جائے گی۔ جس طرح وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ اسی کی مثل اشکاہ ہے جب اس نے اس چیز کو زائل کردیا جس کی وہ شکایت کرتا تھا۔ حضرت حسن بصری (رح) نے قراءت کی فذع یہ عام قراءت کی مثل ہے مگر زاء میں تخفیف کی گئی ہے۔ جار اور مجرور محل رفع میں ہے۔ یہ تیرے اس قول کی طرح ہے : انصرف عن کذا الی کذا، انصرف فعل کو معروف اور مجہول دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح فذع راء اور غین معجمہ تخفیف کے ساتھ مجہول کا صیغہ پڑھتے ہیں ؛ یہ حضرت حسن بصری (رح) اور قتادہ سے یوں مروی ہے اور ان دونوں سے فرغ راء اور غین معجمہ کے ساتھ معروف کا صیغہ بھی مروی ہے۔ معنی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں سے خوف کو دور کردیا۔ اسی طرف مجہول کی قراءت بھی لوٹتی ہے۔ حضرت حسن بصری (رح) سے فرغ تشدید کے ساتھ بھی قراءت مروی ہے۔
Ayah 34:24

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

پوچھو کہ تم کو آسمانوں اور زمین سے کون رزق دیتا ہے ؟ کہو کہ خدا اور ہم یا تم (یا تو) سیدھے راستے پر ہیں یا صریح گمراہی میں

آیت : قل من یرزقکم من السموت والارض جب اس امر کا ذکر کیا کہ ان کے معبود ذرہ برابر اس چیز کے مالک نہیں جس پر رب قادر ہے اس امر کو موکد بیان کیا فرمایا : اے محمد ﷺ مشرکوں سے کہو : آیت : من یرزقکم من السموت ولارض یعنی آسمان سے بارش، سورج چاند ستاروں اور ان سے جو رزق اور منافع حاصل ہوتے ہیں انہیں کون پیدا فرماتا ہے ولارض اور وہ رزق جو زمین سے یعنی پانی اور نباتات سے نکلتے ہیں ان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ یہ کہیں : یہ ہمارے معبودوں کا فعل ہے، تو وہ کہتے ہیں : ہم نہیں جانتے، تو فرما دیجئے : اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ کرتا ہے وہ تمہارے دلوں میں چھپی ہوئی باتوں کو جانتا ہے۔ اگر وہ کہیں : اللہ تعالیٰ ہمیں رزق بہم پہنچاتا ہے، تو دلیل ثابت ہوئی کہ اس ذات کی عبادت کی جانی چاہیے۔ آیت : و انا او ایاکم لعلی ھدی او فی ضلل مبین یہ دلیل میں انصاف کے طریقہ پر ہے، جس طرح کوئی کہنے والا کہتا ہے : احد نا کاذب ہم میں سے کوئی جھوٹا ہے جب کہ وہ جانتا ہے کہ وہ سچا ہے اور اس کا ساتھی جھوٹا ہے۔ معنی ہے ہم اور تم ایک امر پر نہیں بلکہ متضاد امور پر ہیں۔ ان میں سے ایک جماعت ہدایت کی پابند ہے اور دوسری گمراہی پر ہے اور وہ تم ہو، تو صراحتہ جھٹلا نے سے احسن انداز میں ان کو جھٹلا دیا۔ معنی ہے تم گمراہ ہو جب تم نے اس ذات کے ساتھ شرک کیا جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق بہم پہنچاتا ہے۔ او ایاکم یہ ان کے اسم پر معطوف ہے۔ اگر اس کا عطف اس کے محل پر ہوتا تو یہ او انتم ہوتا لعلی ھدی یہ اول کے لیے ہوگا غیر کے لیے نہیں ہوگا۔ جب تو کہے : او ایاکم تو دوسرے کے لیے یہ اولی ہے اور اول سے حذف ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ پہلے کے لیے ہو : یہ مبرد کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ اس کا معنی ایسے ہی ہوگا جس طرح صاحب بصیرت اپنے ساتھی کو وعید کی صحت اور واضح حجت کو ظاہر کرنے کے لیے کہتا ہے : احدنا کاذب جب کہ معنی معروف ہے جس طرح تو کہتا ہے : انا فعل کذا و تفعل انت کذا و احدنا مخطی میں ایسا کرتا ہوں اور تو ایسا کرتا ہے اور ہم میں سے ایک غلطی کرنے والا ہے جب کہ یہ معروف ہے کہ وہ خطا کار ہے۔ اسی طرح یہ کلام ہے : آیت : و انا او ایاکم لعلی ھدی اولی ضلل مبین، او بصریوں کے نزدیک اپنے اصلی معنی میں ہے۔ یہ شک کے لیے نہیں، لیکن یہ جس طرح عرب استعمال کرتے ہیں اس قسم کے کلام میں اس معنی میں ہوتا ہے جب مخبریہ ارادہ نہیں کرتا کہ وہ وضاحت کرے جب کہ وہ معنی کو جانتا ہے۔ ابو عبیدہ اور فراء نے کہا : یہ او وائو کے معنی میں ہے اس کی تقدیر یہ ہے انا علی ھدی و ایا کم فی ضلال مبین (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 449) جریر نے کہا : اثعلبۃ الفوارس اور یا حا عدلت بھم طھیبۃ والربا با اس شعر میں اور یاحا، ور یاحا کے معنی ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : فلما اشتد امر الحرب فینا تا ملنا ریا حا اور زاما جب جنگ کا معاملہ ہمارے درمیان سخت ہوا تو ہم نے ہوائوں اور جنگجو لوگوں کی امید کی۔
Ayah 34:25

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

کہہ دو کہ نہ ہمارے گناہوں کی تم سے پرسش ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کی ہم سے پرسش ہوگی

آیت : قل لا تسلون عما اجر منا یعنی جو ہم نے جرم کیے ہیں آیت : و لا تسل عما تعملوں اور جو تم کرتے رہے ان کے بارے میں ہم سے سوال نہیں کیا جائے گا۔ جس امر کی طرف میں تمہیں دعوت دوں گا اس میں تمہارے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرتا ہوں نہ کے مجھے تمہارے کفر کا ضرر پہنچے گا، یہ اسی طرح ہے جس طرح فرمایا : آیت : لکم دینکم ولی دین (الکافرون) اللہ تعالیٰ سب کو بدلہ دینے والا ہے۔ یہ آیت ایک دوسرے معاملہ کو ترک کرنے اور صلح پر دال ہے۔ یہ آیت آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے۔ ایک ول یہ کیا گیا : یہ آیت آیت سیف سے پہلے نازل ہوئی ہے۔
Ayah 34:26

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہمارا پروردگار ہم کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا اور وہ خوب فیصلہ کرنے والا اور صاحب علم ہے

آیت : قل یجمع بینا ربنا مراد یوم قیامت ہے۔ آیت : ثم یفتح بیننا با لحق وہ فیصلہ فرمائے گا ہدایت یا فتہ کو ثواب عطا فرمائے گا اور گمراہ کو سزا دے گا۔ و ھو الفتاح وہ حق کے ساتھ فیصلہ فرما نے والا ہے۔ العلیم وہ مخلوق کے احوال سے آگاہ ہے۔
Ayah 34:27

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

کہو کہ مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے شریک (خدا) بنا کر اسکے ساتھ ملا رکھا ہے کوئی نہیں بلکہ وہی (اکیلا) خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

آیت : قل ارونی الذین الحقتم بہ شرکاء یہاں ارونی رویت قلب سے تعلق رکھتا ہے۔ شرکاء مفعول ثالث ہوگا، یعنی مجھے اصنام اور او ثان کی پہچان تو کر او جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا ہے۔ کیا وہ کسی شئے کی تخلیق میں شریک ہیں پس بیان کرو وہ کیا ہیں ؟ ورنہ تم کیوں ان کی عبادت کرتے ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ روایت بصر سے ہو تو پھر شرکاء حال ہوگا۔ کلا معاملہ اسطرح نہیں جس طرح تم گمان کرتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا : کلا ان کے محذوف جواب کا رد ہے۔ گویا فرمایا : مجھے وہ دکھائو جن کو تم نے ان کا شریک بنایا ؟ انہوں نے کہا ـیہ اصنام ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ـ: ہر گز نہیں یعنی اس کے شریک نہیں۔ آیت : بل وھوا اللہ العزیزالحکیم بلکہ وہ اللہ عز یز و حکیم ہے۔
Ayahs 34:28–30

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ (قیامت کا) وعدہ کب وقوع میں آئے گا ؟

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے نہ ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے

آیت : وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیر او نذیرا ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لیے۔ کلام میں تقد یم و تاخیر ہے۔ زجاج نے کہا : مراد ہے ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر انذار اور ابلاغ کے ساتھ تمام لوگوں کو جمع کرنے والا۔ کافۃ یہ جامع کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : تمام لوگوں کو روکنے والا، یعنی آپ ﷺ ان کو کفر سے روکنے والے ہیں اور آپ ﷺ انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ باء مبالغہ کے لیے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : تقدیر کلام یہ ہے الا ذا کافۃ مضاف کو حذف کردیا گیا، معنی بنتا ہے لوگوں کو اس سے روکنے والے کہ وہ آپ ﷺ کی تبلیغ سے دور بھاگیں یا انہیں کفر سے روکنے والے۔ اسی سے ہے : کف الثوب کیونکہ اس نے اس کی دو نوں طرف ملایا۔ بشیرا جو اطاعت کرے اسے جنت کی بشارت دینے والے ہیں۔ و نذیرا جو کفر کرے اس کو آگ سے خبر دار کرنے والے۔ آیت : ولکن اکثر الناس لا یعلمون اللہ تعالیٰ کے ہاں جو ہے اس کو نہیں جانتے، جب کہ وہ مشرک ہیں۔ وہ اس وقت مومنوں کی تعداد سے زیادہ تھے۔ آیت : و یقولون متی ھذا الوعد یعنی قیامت برپا ہونے کا وعدہ کب پورا ہوگا ؟ آیت : ان کنتم صدقین اگر تم سچے ہو۔ الہ تعالیٰ نے فرمایا : قل اے محمد ﷺ آپ انہیں کہیں : آیت : لکم میعاد یوم لا تستاخرون عنہ سایۃ و لا تستقد مون اس کی تاخیر تمہیں دھوکہ میں نہ ڈالے۔ میعاد کا معنی میقات ہے۔ اس میعاد سے مراد بعث کا وقت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس سے مراد موت کے حاضر ہونے کا وقت ہے، یعنی یوم قیامت سے قبل تمہارے لیے وقت معین ہے جس میں تم مر جائو گے تو تم میرے قول کی حقیقت جان لو گے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس یوم سے مراد یوم بدر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر یہ دن ان کے عذاب کا دن تھا۔ نحو یوں نے اس اعراب کو بھی جائز قرار دیا ہے میعاد یوم اس تعبیر کی بناء پر کہ میعاد مبداء ہو، یوم اس سے بدل ہو اور خبر لکم ہو۔ انہوں نے اس اعراب کو بھی جائز قرار دیا ہے میعاد یو ما اس صورت میں یوما ظرف ہوگی عنہ کی باء ضمیر یوم کی طرف لوٹے گی۔ یہ صحیح نہیں میعاد یوم لا تستا خرون تنوین کے بغیر ہوگی۔ یوم کا لفظ ما بعد کی طرف مضاف ہوگا جب تو باء کو یوم کی طرف لو ٹنے والا مقدر کرے اس کی وجہ یہ ہے کہ شئے اپنی ذات کی طرف مضاف ہوگی اس کی وجہ وہ باء ہے جو جملہ میں موجود ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ باء میعاد کے لیے ہے یوم کے لیے نہیں۔
Ayah 34:31

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں) کو جو اس سے پہلے کی ہیں اور کاش (ان) ظالموں کو تم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے کو ردوکد کر رہے ہوں گے جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے

آیت : و قال الذین کفروا مراد کفار قریش ہیں۔ آیت : لن نوء من بھذا القرآن ولا با الذی بین یدیہ سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے : آیت : و لا با الذی بین یدیہ سے مراد کتب اور انبیاء ﷺ ہیں۔ ایک قول کیا گیا : مراد آخرت ہے۔ ابن جریح نے کہا : یہ قول کرنے والا ابو جہل بن ہشام ہے (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 451 ) ۔ ایک قول یہ کیا گیا : اہل کتاب نے مشر کوں سے کہا حضرت محمد ﷺ کی صفت ہماری کتابوں میں ہے پس تم آپ ﷺ سے پو چھو۔ جب انہوں نے سوال کیا تو اہل کتاب نے جو کہا تھا اسی کے موافق پایا۔ مشرکوں نے کہا : ہم اس قرآن پر اور اس پر جو اس سے قبل نازل ہوا یعنی تو رات اور انجیل پر ایمان نہیں رکھتے بلکہ ہم سب کا انکار کرتے ہیں۔ وہ اس سے قبل اہل کتاب سے رجوع کرتے تھے اور ان کے قول سے دلیل پکڑ تے تھے۔ اس سے ان کے کردار میں تضاد اور ان کے علم کی قلت ظاہر ہوگئی، یہ اللہ تعالیٰ نے ان کے حال کے بارے میں خبر دی فرمایا : اے محمد ﷺ ! آیت : و لو تری اذا الظلمون موقوفون عند ربھم وہ حساب کے میدان میں محبوس ہوں گے وہ ملامت اور عتاب کے ساتھ کلام کو ایک دوسرے کی طرف لو ٹائیں گے جب کہ وہ دنیا میں دوست اور باہم مددگار تھے۔ لو کا جواب محذوف ہے جو یہ ہے لرا یت امرا ھائلا فظیعا پھر یہ ذکر کیا جو ان کے درمیان گفتگو ہوئی، فرمایا : آیت : یقول الذین الستضعفو کافروں میں سے جو دنیا میں کمزور تھے للذین استکبروا جو قائدین اور روساء تھے، لولا انتم لکنا مومنین اگر تم ہمیں گمراہ نہ کرتے۔ فصیح لغت لو لا انتم ہے عر بوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو لو لا کم کہتے ہیں : اسے سیبویہ نے بیان کیا ہے لو لا مضمر کو جر دیتا ہے اور اس کے بعد اسم ظاہر مبدا ہونے کی حیثیت سے مر فوع ہوتا ہے اور اس کی خبر محذوف ہوتی ہے۔ محمد بن یزید نے کہا : لو لا کم پڑھنا جائز نہیں کیونکہ مضمر مظہر کے پیچھے ہوتا ہے جب اسم ظاہر با لاجماع مرفوع ہے تو ضروری ہوگا کہ مضمر بھی مر فوع ہو۔
Ayah 34:32

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

بڑے لوگ کمزوروں سے کہیں گے کہ بھلا ہم نے تم کو ہدایت سے جب وہ تمہارے پاس آچکی تھی روکا تھا ؟ (نہیں) بلکہ تم ہی گنہگار تھے

آیت : قال الزین استکبروا للذین استضعفوا انحن صددنکم عن الھدی یہ استفہام انکار کے معنی میں ہے یعنی ہم نے تمہیں ہدایت سے نہیں روکا اور نہ ہی تمہیں مجبور کیا۔ آیت : بعد اذ جاء کم بل کنتم مجر میں یعنی تم مشرک ہو اور کفر پر مصر تھے۔ آیت : و قال الذین استضعفو للذین استکبروا بل مکر الیل و النھار کلام عرب میں مکر کا اصل معنی حیلہ سازی کرنا اور دھوکہ دینا ہے یہ یوں باب چلتا ہے مکر بہ یمکر فھو ما کرو مکار۔ احفش نے کہا : کلام اس تقدیر کی بناء پر ہے ھذا مکر اللیل و النھار۔ نحاس نے کہا : اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے بلکہ تمہارا دن اور رات کو مکر یعنی تمہرا ہمارے ساتھ سر گوشی کرنا اور تمہارا ہمیں کفر کی طرف دعوت دینا اس نے ہمیں اس پر برا نگیختہ کیا ہے۔ سفیان ثوری نے کہا : بلکہ تمہارا دن اور رات کا عمل (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 451 ) ۔ قتادہ نے کہا : بلکہ تمہارے دن اور رات کے مکر نے ہمیں رو کا۔ مکر کونے ان دونوں کی طرف مضاف کیا گیا کیونکہ یہ دن اور رات میں واقع ہوتا ہے، یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ؛ آیت : ان اجل اللہ اذا جاء لایوء خر (نوح : 4) اجل کو اپنی ذات کی طرف مضاف کیا پھر فرمایا : فا ذا جاء اجلھم لا یستا خرون ساعۃ (الاعراف : 34) کیونکہ اجل ان کی ہوتی ہے۔ یہ تیرے اس قول کے قبیل سے ہے : لیلہ قائم و نھارہ صائم مبرد نے کہا : بلکہ تمہارا دن رات کا مکر جس طرح عرب کہتے ہیں : نھار۔۔۔ و لیلہ قائم اور تبریر کا یہ شعر پڑھا : لقد لمتنا یا ام غیلان فی السری و نمت وما لیل المطی بنائم (2) (زاد المسیر، جز، 6، صفحہ 247 ) اے ام غیلان ! تو ہمیں رات کے چلنے پر ملامت کی اور تو خود سو گئی جب کہ سواری کی رات سوتی نہیں۔ سیبویہ نے یہ شعر پڑھا : فنام لیل و تجلی ھمی میری رات سو گئی میرا غم عیاں ہوگیا۔ جریر کے شعر میں نمت فیہ کلام کی جائے گی۔ اس کی مثل آیت : والنھار موصرا (یوجس : 67) ہے۔ قتادہ نے کہا : مکر الیل و النھار مکر پر تنوین ہے اور لیل والنھار پر نصب ہے تقدیر کلام یہ ہے بل مکر کائن فی اللیل والنھار تو اس سے کائن کو حذف کردیا گیا۔ حضرت سعید بن جبیر بل مکر کاف کا فتحہ اور راء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے جو کرور کے معنی میں ہے۔ یہ مبداء ہونے کی حیثیت سے مر فوع ہے اور خبر محذوف ہے یہ بھی جائز ہے کہ فعل مضمر کے ساتھ مرفوع ہو جس پر آیت : ا نحن صددنکم دلالت کرتا ہے گویا جب انہوں نے ان کو کہا : کیا ہم نے تم کو ہدایت سے روکا تھا ؟ انہوں نے کہا : بلکہ ہمیں رات اور دن کے مکر نے روکا تھا۔ سعید بن جبیر سے مروی ہے بل مکر الیل و النھار کہا جب کہ رات اور دن گزر نے کی وجہ سے وہ غافل ہوگئے (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 451 ) ۔ ایک قول یہ کیا گیا : طویل عرصہ تک امن و سلامتی نے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : فطال علیھم الامد (الحدید : 16) راشد نے بل مکر اللیل و النھار نصب کے ساتھ قراءت کی جس طرح تو کہتا ہے : رایۃ مقدم العاج یہ اس صورت میں جائز ہے جو معرف بالام ہوا گر تو کہے رایۃ مقدم زید تو یہ جائز نہیں۔ نحاس نے اس کا ذکر کیا
Ayah 34:33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے (نہیں) بلکہ (تمہاری) رات دن کی چالوں نے (ہمیں روک رکھا تھا) جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم خدا سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں اور جب وہ عذاب دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے بس جو عمل وہ کرتے تھے انہی کا ان کو بدلہ ملے گا

آیت : اذ تا مرو ننا ان نکفر با اللہ و نجعل لہ انداد ا، انداد کا معنی مشابہ، مثل اور نظیر ہے۔ محمد بن یزید نے کہا۔ فلان ند فلان فلاں فلاں کی مثل ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے : ندید۔ یہ شعر پڑھا : اینما تجعلون الی ندا و ما انتملذی حسب ندید تم میرا مثل کیسے بناتے ہو جب کہ تم کسی شریف کے ہم پلہ نہیں۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ آیت : و اسروا الندامۃ انہوں نے ندامت کو اظہار کیا۔ یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔ یہ اخفا اور بداء کے معنی میں ہے۔ امراء لقیس نے کہا : تجا وزت احراساو اھوال معشر علی حراصا لو یشرون مقتر محل استدلال کلو یسرون ہے۔ اسے یشرون بھی روایت کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیت : و اسروا الندامۃ ندامت ان کے چہروں کے اسرار میں واضح ہوگئی۔ ایک قول یہ کیا گیا : ندامت ظاہر نہیں ہوئی، کیونکہ یہ دل میں ہوتی ہے۔ ندامت سے جو چیز متو لد ہوتی ہے وہ ظاہر ہوتی ہے جس طرح اس کی و ضاحت سورة یونس اور آل عمران میں گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کی ندامت کا اظہار ان کا یہ قول ہے ؛ آیت : فلو ان لنا کرۃ فتکون من المو نین (الشعرائ) ایک ققول یہ کیا گیا : انہوں نے باہم ندامت کا اظہر کیا اور اس بارے میں قول کا اظہار نہ کیا جس طرح فرمایا : آیت : و اسروا النوی (طہ) آیت : وجعلنا الا غلل فی اعناق الذین کفروا، اغلال، غل کی جمع ہے یہ جملہ بو لہ جاتا ہے : فی رقبۃ غل من حدید اس کی گردن میں لو ہے کا طوق ہے۔ اسی طرح برے اخلاق والی عورت کو کہتے ہیں : غل قمل اصل بات یہ تھی کہ طوق چمڑے کا بنا ہوتا جس بال ہوتے ہیں تو اس میں جوئیں پڑجا تیں۔ غللت یدہ الی عنقہ، و قد غل فھو مغلول میں اس کا ہاتھ اس کی گردن میں جکڑ دیا اور وہ مغلول ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : مالہ ال و غل نہ اس کی گدی پر ضرب لگانے والا ہے اور نہ ہی گلے میں طوق ہے۔ الغل اور الغلتہ کا معنی پیاس کی گری ہے اسی طرح غلیل ہے، اسی طرح یہ قول کیا جاتا ہے : غل رجل یغل غللا فھو مغلول یہ مجہول کا صیغہ ہے ؛ یہ جوہری سے مروی ہے یعنی پیروی کرنے والا اور جن کی پیروی کی جاتی تھی سب کی گرد نوں میں طوق ڈال دیے۔ ایک قول یہ کیا گیا : ان دونوں فریقوں کے علاوہ کے لیے بھی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : آیت : الذین کفروا ان کی طرف لوٹ رہا ہے ایک قول یہ کیا گیا کلام اس قول پر مکمل ہوجاتی ہے۔ آیت : لما راو العذاب پر کلام نئے سرے سے شروع کی اور فرمایا : آیت : اجعلنا الاغلال یعنی تمام کفار کی گردنوں میں ہم نے طوق ڈال دیے ہیں۔ آیت : ھل یجذون الا ما کانو ایعملون یعنی دنیا میں وہ جو عمل کرتے رہے اس کا بدلہ ہی دیا جائے گا۔
Ayahs 34:34–36

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ جو چیز دے کر تم بھیجے گئے ہو ہم اسکے قائل نہیں

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب نہیں ہوگا

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے تنگ) کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

آیت : وما ارسلنا فی قریتہ من نذیر الا قال متر فو ھا قتادہ نے کہا : مترفوھا سے مراد ان کے اغنیاء، ان کے روساء، ان کے جابر لوگ اور شریروں کے قائدین لوگ ہیں انہوں نے رسولوں سے کہا : آیت : انا بما ارسلتم بہ کافرون و قالوا نحن اکثراموالا و اولاد ہمیں تم ہر اموال اور اولاد میں فضیلت دی گئی ہے۔ اگر تمہارا رب اس دنیا اور فضل پر راضی نہ ہوتا جس پر ہم ہیں تو وہ ہمیں ہر چیز عطا نہ کرتا۔ آیت : و ما نحن بمعذبین کیونکہ اس کے نزدیک اچھی حالت میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے کے قول کو رد کیا اور غنا سے جو استدلال کی تھا اس کو رد کردیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا : آیت : قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء جس کے حق میں وہ چاہتا ہے رزق کو وسیع فرما دیتا ہے۔ و یقدر اور جس کے حق میں چاہتا ہے اس میں کمی کردیتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہی وہ ذات ہے جو اپنے بندوں میں رزق کے اعتبار سے فرق رکھتی ہے تاکہ ان کا امتحان لے ان میں سے کوئی بھی چیز انجام پر دلالت نہیں کرتی۔ دنیا میں رزق کی وسعت آخرت کی سعادت پر دال نہیں تم اپنے اموال اور اولاد کے بارے میں گمان نہ کرو کہ وہ کل تمہیں فائدہ دیں گے۔ آیت : ولکن اکثر الناس لا یعلمون لیکن اکثر اسے نہیں جانتے کیونکہ وہ غو رو فکر نہیں کرتے پھر تا کید کے طور پر فرمایا : آیت : و ما اموالکم و لا او لاد کم با لتی تقر بکم عند نا زلفی مجاہد نے کہا : زلفی سے قر بی ہے (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 453 ) ۔ زلفتہ سے مراد قربت ہے۔ اخفش نے کہا : یعنی قرب عطا کردیں، یہ اسم مصدر ہے، قربی محل نصب میں ہے، گویا فرمایا : جو تمہیں ہمارے قریب کر دے۔ فراء نے گمان کیا ہے کہ التی اموال اور اولاد سب کے لیے ہے۔ اس کا ایک اور قول بھی ہے۔ یہ ابو اسحاق زجاج کا مذہب ہے معنی ہوگا : تمہارے اموال تمہیں ہمارے قریب نہیں کریں گے اور نہی تمہاری اولا دیں تمہیں قریب کریں گی پھر پہلی خبر حذف کردیا گیا کیونکہ دوسری خبر اس پر دلالت کرتی ہے۔ فراء نے یہ شعر پڑھا : نحن بما عند نا و انت بما عندک راض والرای مختلف (2) (زاد المسیر، جز 6، صفحہ 248 ) جو کچھ ہمارے پاس ہے ہم اس پر اور جو کچھ تمہارے پاس ہے تم اس پر راضی ہو رائے مختلف ہے۔ قرآن کے علاوہ میں اللتین، اللائی، اللواتی، الذین، الذین اولاد کے لیے خاص ہو۔ اموال ہمارے ہاں تمہارے در جے کو زائد نہ کریں گے اور تمہیں قرب عطا نہ کریں گے۔ آیت : الا من امن و عمل صالحا سعید بن جبیر نے کہا : معنی ہے مگر جو ایمان لایا اور عمل صالح کیا تو اس کا مال اور اس کی اولاد دنیا میں اس کو کچھ نقصان نہ پہنچایں گے۔ لیث نے طائوس سے روایت نقل کی ہے وہ کہا کرتے تھے : اے اللہ ! مجھے ایمان اور عمل عطا فرمایا، مجھے مال اور اولاد سے دور رکھ، جو تم نے وحی کی ہے میں نے اسے سنا ہے : آیت : و ما اموالکم ولا اولاد کم با لتی تقربکم عند نا زلفی الا من امن و عمل صالحا۔ (3) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 453) میں کہتا ہوں : طائوس کے قول میں نظر ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ معنی ہے مجھے اس مال اور اولاد سے دور کر دے جو سر کشی کرنے والے ہیں یا جن میں کوئی بھلائی نہیں جہاں تک صالح مال اور صالح اولاد کا تعلق ہے صالح آدمی کے لیے تو وہ کتنا اچھا ہے۔ یہ بحث سورة آل عمران، سورة مریم اور سورة فر قان میں گزر چکی ہے۔ من محل نصب میں ہے مستثنیٰ منقطع ہے۔ مگر جو ایمان لایا اور اس نے عمل صالح کیا تو اس کا ایمان اور عمل صالحا اسے میرے قریب کر دے گا۔ زجاج نے گمان کیا ہے کہ یہ استثناء اسکے ساتھ محل نصب میں ہے اور تقر بکم میں کم ضمیر اس سے بدل ہے۔ نحاس نے کہا : یہ قول غلط ہے کیونکہ کم مخاطب کے لیے ہے اس لیے بدل جائز نہیں اگر جائز ہوتا تو یہ بھی جائز ہو رایتک زیدا۔ ابو اسحاق کا یہ قول فراء کا قول ہے مگر فراء بدل کا ذکر نہیں کرتا کیونکہ یہ کو فیوں کا لفظ نہیں لیکن اس کا قول اس کی طرف لوٹتا ہے اس نے یہ گمان کیا ہے کہ اس کی مثل آیت : الا من اتی اللہ بقلب سلیم (الشعرائ) یہ اس کے نزدیک ینفع کے ساتھ منصوب ہے۔ فراء نے اس کو جائز قرار دیا ہے کہ من محل رفع میں ہو، معنی ہو ما ھو الا من آمن اس نے اسی طرح کیا ہے میں اس کا معنی نہیں سمجھتا۔
Ayahs 34:37–38

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارا مال اور اولاد ایسی چیز نہیں کہ تم کو ہمارا مقرب بنادیں ہاں (ہمارا مقرب وہ ہے) جو ایمان لایا اور عمل نیک کرتا رہا ایسے ہی لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب دگنا بدلا ملے گا اور وہ خاطر جمع سے بالا خانوں میں بیٹھے ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہرا دیں وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے

آیت : فا و لئک لھم جذاء الضعف بما عملوا اس سے مراد یہی قول ہے ـ: آیت : من جاء با لحسنتہ فلہ عشر امثالھا (الانعام : 160) ضعف کا معنی زیادتی ہے، یعنی ان کے لیے کئی گنا بدلہ ہے یہ اس باب سے ہے کہ مصدر مفعول کی طرف مضاف ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا : ان کے لیے کئی گنا بدلہ ہے۔ ضعف جمع کے معنی میں ہے ضعف کی نسبت جزا کی طرف اسی طرح ہے جس طرح شی کی نسبت اس کی ذات کی طرف ہوتی ہے، جس طرح حق الیعقین، صلاۃ الاولی، یعنی ان کے لیے کئی گنا بدلہ ہے، ایک کے بدلہ میں دس اور اس سے زیادہ جتنا اللہ تعالیٰ ارادہ کرے۔ اس آیت سے استدلال کیا جاتا ہے اس نے جس نے غنا کو فقر پر فضیلت دی۔ محمد بن کعب نے کہا : مومن جب غنی اور متقی ہوا للہ تعالیٰ اسے اس آیت کی وجہ سے دوگنا اجر عطا فرمائے گا۔ آیت : و ھم فی الغر فت امنون عام قراءت جزاء الضعف ہے یعنی مضاف مضاف الیہ ہے۔ زہری، یعقوب اور نصر بن عاصم نے جزاء کو منصوب منون اور الضعف کی رفع کے ساتھ قراءت کی ہے یعنی ان کے لیے کئی گنا اجر ہے۔ کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ جزاء الضعف یعنی انہیں کئی گنا بدلہ دیا جائے گا۔ جزاء الضعف یہ دونوں مر فوع ہیں۔ الضعف یہ جزاء سے بدل ہے۔ جمہور نے فی الغرفات جمع پڑھا ہے ؛ یہ ابو عبیدہ کا پسندیدہ قول ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے آیت : لنبو ئنھم من الجنتہ غرفا (العنکبوت : 58) اسے فی الغرفات راء کے ضمہ، فتحہ اور سکون کے ساتھ پڑھا گیا ہے (1) (تفسیر الکشاف، جلد 3، صفحہ 586) ۔ اعمش، یحییٰ بن و ثاب، حمزہ اور خلف نے فی الغرفۃ واحد کا صیغہ پڑھا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : اولئک یجزون الغرفتہ (الفرقان : 75) الغرفتہ سے بعض اوقات اسم جمع اور اسم جنس مراد لیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ یا قو ت، زبر جد اور مو تیوں کے کمرے ہیں۔ اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ امنون وہ عذاب، موت، بیماریوں، اور غموں سے امن میں ہوں گے۔ آیت : و الذین یسعون فی ایتنا جو ہمارے اولہ، حجت اور ہماری کتاب کو باطل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معجذین عناد کرتے ہوئے وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہم میں سے اپنے آپ کو بچا لیں گے۔
Ayah 34:39

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے اور تم جو چیز خرچ کرو گے وہ اس کا (تمہیں) عوض دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

آیت 39 :۔ آیت : قل ان عبی یبسط رزق لمن یشاء من عبادہ و یقدر لہ اسے تا کید کے لیے مقرر ذکر کیا۔ آیت : و ما انفقتم من شیء فھو یخلفہ اے محمد ﷺ ! ان اموال اور اولاد سے دھا کہ کھا نے والوں کو کہیے : اللہ تعالیٰ جس کے حق میں چاہتا ہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کے حق میں چاہتا ہے اس میں تنگی کردیتا ہے تم اموال اور اولاد سے دھوکہ میں مبتلا نہ ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طاعت میں اسے خرچ کرو۔ اللہ تعالیٰ کی طاعت میں جو بھی تم خرچ کرتے ہوا للہ تعالیٰ اس کا بدل عطا فرما تا ہے۔ اس میں اضمار ہے، تقدیر کلام یہ ہے : فھو یخلفہ علیکم یہ جملہ بولا جاتا ہے : اخلف لہ، اخلف علیہ یعنی تمہیں اس کا بدلہ عطا فرمائے گا۔ یہ بدل دنیا میں ہوگا یا آخرت میں ہوگا۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے : ہر وہ دن جس میں لوگ صبح کرتے ہیں اس میں دو فرشتے نازل ہوتے ہیں ان میں سے ایک یہ دعا کرتا ہے : اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما اور بخل کرنے والے کو ہلاکت عطا فرما (1) (صحیح مسلم، کتاب الذکوۃ، بیان الصدقتہ علی کل نوع، جلد 1، صفحہ 325 ) ۔ اس میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے مجھے ارشاد فرمایا : خرچ کرو خرچ کرو (2) (صحیح مسلم، کتاب الذکوۃ، الحث علی النفقتہ، جلد 1، صفحہ 322 ) ۔ یہ اس بدلے کی طرف اشارہ ہے جو خرچ کیے ہوئے مال کے بد لہ میں دیا جاتا ہے جب خرچہ اللہ تعالیٰ کی طاعت میں ہو۔ بعض اوقات دنیا میں بدلہ نہیں دیا جاتا جس طرح دعا ہوتی ہے جس طرح پہلے گزر چکا ہے۔ خواہ دعا قبول ہوجائے، گنا ہوں کا کفارہ بن جائے یا ذخیرہ کرلیا جائے۔ یہاں ذخیرہ کیا جانا اجر کی مثل ہوتا ہے۔ مسئلہ : دار قطنی، ابو احمد بن عدی نے عبد الحمید ہلالی سے وہ محمد بن منکدر سے وہ حضرت جابر ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر نیکی صد قہ ہے جو آدمی اپنی ذات اور اپنے اہل پر خرچ کرتا ہے تو اس کے حق میں صد قہ لکھ لیا جاتا ہے جس کے ساتھ آدمی اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہے تو وہ بھی صد قہ ہے۔ اور جو بندہ خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر اس کا بدل ہے، مگر وہ مال جو عمارت بنانے یا معصیت میں خرچ کیا جائے۔ عبد الحمید نے کہا : میں نے ابن منکدر سے کہا : ما رتی الرجل عرضہ سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : وہ کسی شاعر اور زبان دراز کو مال دیتا ہے۔ عبد الحمید کو ابن معین نے ثقہ قرار دیا ہے۔ میں کہتا ہوں : جو اس نے معصیت میں مال خرچ کیا تو اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ نہ اسے بدلہ دیا جاتا ہے اور نہ ہی اس کا بدل دیا جاتا ہے۔ جہاں تک اس عمارت کا تعلق ہے جو ضروری تھی جس کے ساتھ انسان اپنا پر دہ کرتا ہے اور اپنی حفاظت کرتا ہے تو اسے اس کا بدل بھی دیا جاتا ہے اور اس کے بنانے پر اجر بھی دیا جاتا ہے، اسی طرح جو آدمی اپنے جسم کی حفاظت اور ستر عورت کے لیے مال خرچ کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان چیزوں کے علاوہ بندے کا کوئی حق نہیں گھر جس میں سکونت اختیار کرلے، کپڑا جس کے ساتھ وہ پردہ کا اہتمام کرے، روٹی کی کور یعنی ٹکڑا اور پانی (1) ( جامع ترمذی، کتاب الذھد، ما جاء فی الذھد فی الدنیا، جلد 2، صفحہ 57۔ حدیث نمبر 2263، ضیاء القرآن پبلی کیشنز ) ۔ یہ بحث سورة الا عراف میں گزر چکی ہے۔ آیت : و ھو خیر الر ازقین جب انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ اپنے عیال کو رزق دیتا ہے اور امیر اپنے لشکر کو کھلاتا ہے۔ کہا : آیت : وھو خیر الر ازقین مخلوق میں سے رزق دیتا ہے لیکن یہ ایسا مال ہوتا ہے جن کا وہ مالک ہوتا ہے پھر یہ مال ختم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے خزانوں سے رزق دیتا ہے جو فنا نہیں ہوتے اور ختم بھی نہیں ہوتے۔ جو کسی چیز کو عدم سے وجود کی طرف نکالے وہی حقیقت میں رازق ہوتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : ان اللہ ھو الرزاق ذولقوۃ المتین (الذاریات)
Ayah 34:40

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے ؟

آیت : و یوم یحشر ھم جمیعا یہ اللہ تعالیٰ اس فرمان کے ساتھ متصل ہے : آیت : و لو تری اذالظالمون موقوفون (سبا : 31) یعنی اگر آپ انہیں اس حالت میں دیکھتے تو خوفناک امر دیکھتے۔ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے مراد وہ اور اس کی امت ہے۔ پھر فرمایا : کاش آپ انہیں اس دن بھی دیکھتے جس روز ہم ان تمام عبادت گزاروں اور معبودوں کو جمع کریں گے، یعنی حساب کے لیے جمع کریں گے۔ آیت : ثم یقول الملئکتہ ا ھئو لاء ایا کم کا نو یعبدون سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے : یہ استفہام ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا : آیت : ءانت قلت للناس اتخذونی و امی الھین من دون اللہ (المائدہ : 116) نحاس نے کہا : معنی ہے جب فرشتوں نے ان کی تکذیب کی تو اس میں ان کو لا جواب کرنا تھا۔ یہ استفہام عبادت کرنے والوں کی تو بیخ کے لیے ہے۔
Ayah 34:41

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 34:41 in the Quran reader

وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے نہ یہ بلکہ یہ جنات کو پوجا کرتے تھے ؟ اور اکثر انہی کو مانتے تھے

آیت : قالوا سبحنک تیرے لیے پاکی ہے۔ آیت : انت ولینا من دونھم یہ تو ہمارا وہ رب ہے جس کو ہم اپنا ولی بناتے ہیں، ہم اس کی اطاعت کرتے ہیں، ہم اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے لیے عبادت کو خاص کرتے ہیں۔ آیت : بل کا نوا یعبدون الجن وہ ابلیس اور اس کے مدد گاروں کی اطاعت کرتے ہیں۔ تفاسیر میں ہے : ایک قبیلہ تھا جسے بنو ملیح کہتے ہیں یہ بنو خزاعہ کی شاخ تھی وہ جنوں کی پو جا کرتے تھے وہ گمان کرتے تھے کہ جن ان کو دیکھتے ہیں اور وہ ملا ئ کہ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت : و جعلوا بینہ و بین الجن نسبا (الصافات ـ: 158) کا یہی معنی ہے۔
Ayah 34:42

فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 34:42 in the Quran reader

تو آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ دوزخ کے عذاب کا جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے مزہ چکھو

تفعا سے مراد شفاعت اور نجات ہے ضرا سے مراد عذاب اور ہلاکت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : فعشتے اپنی عبادت کرنے والوں سے تکلیف دور نہیں کرسکتے مضاف کو حذف کردیا گیا، یعنی اصل میں دفع ضر تھا۔ یہ جائز ہے کہ قائل اللہ تعالیٰ کی ذات ہو فرشتے ہوں وہ کہیں : ذوقوا۔
Ayah 34:43

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 34:43 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے جو اپنی طرف سے بنا لیا گیا ہے اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

آیت : ایتنا بینات سے مراد قرآن حکیم ہے۔ رجل سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ آباء کم سے مراد تمہارے اسلاف ہیں یعنی تمہارے اسلاف جن بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ یہ من گھڑت بات ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ ان میں سے کچھ نے کہا : یہ جادو ہے اور کچھ نے کہا : یہ من گھڑت بات ہے۔
Ayah 34:44

وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ Open ayah 34:44 in the Quran reader

اور ہم نے نہ تو ان (مشرکوں) کو کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا بھیجا مگر انہوں نے تکذیب کی

آیت : و ما اتینھم من کتب ید رسونھا جو آپ پیغام حق لائے ہیں انہوں نے اس کے باطل ہونے کا اس کتاب میں نہیں پڑھا جو کتاب ان کو دی گئی اور جو رسول ان کی طرف مبعوث کیا گیا اس سے باطل ہونے کا نہیں سنا جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون (الزخرف) ان کے جھٹلا نے کوئی وجہ نہیں جس وہ استدلال کریں اور کوئی شبہ اس سے متعلق ہے جس طرح اہل کتاب کہتے ہیں اگرچہ وہ باطل پرست ہیں : ہم اہل کتاب اور اہل شریعت ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے ایک رسول کی طرف منسوب ہیں پھر اپنے حق کو ارشاد کے ساتھ ان کے جھٹلانے پر انہیں وعید سنائی : آیت : و کذب الذین من قبلھم ان سے قبل اقوام نے ان کو جھٹلایا جو پکڑ میں ان سے سخت تھے، اولاد اور اموال میں ان سے بڑھ کر تھے، خوشحال تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا جس طرح قوم ثمود اور قوم عاد کو ہلاک کردیا۔
Ayah 34:45

وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 34:45 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے تو انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا سو میرا عذاب کیسا ہوا ؟

آیت : و ما بلغوا معشار ما اتینھم اہل مکہ ان امتوں کے دسویں حصہ تک بھی نہیں پہنچے۔ معشارا اور عشر برابر ہیں۔ دونوں لغتیں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : معشار دسویں کا دسواں حصہ ہے۔ جو ہری نے کہا : معشار الشی سے مراد اس شئے کا دسواں حصہ ہے، وہ یہ نہیں کہتے کہ معشار، عشر کے علاوہ کوئی چیز ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : جو ان سے پہلے تھے شکر میں اس کے دسویں حصے تک بھی نہ پہنچے جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا، نقاش نے یہ حکایت بیان کی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اللہ تعالیٰ نے ان سے قبل لوگوں کو اس کا دسواں حصہ عطا کیا جو انہیں علم، بیان، حجت اور برہان عطا کی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کوئی امت حضور ﷺ کی امت سے بڑھ کر علم والی نہیں اور اس کتاب سے بڑھ کر کوئی کتاب بین نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : معشار یہ عشیر کا دسواں ہے۔ عشیر یہ عشر کا دسواں حصہ ہے پس یہ پزار کا ایک جز ہوگا۔ ماوردی نے کہا : یہ زیادہ نمایاں ہے کیونکہ قلت کا اظہار کرنے میں مبالغہ کا اظہار ہے (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 455 ) ۔ آیت : فکذ بوا رسلی فکیف کان نکیر امتوں میں عقاب کیسا تھا ؟ اس میں کلام محذوف ہے اس کی تقدیر کلام یہ ہے فا اھلکنا ھم فکیف کان نکیر۔
Ayah 34:46

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ Open ayah 34:46 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو تمہارے رفیق کو مطلق سودا نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں

آیت : قل انما اعظکم بواحد مشرکوں پر حجت کو مکمل کردیا، یعنی اے محمد ﷺ انہیں فرما دیجئے : انما اعظکم تم جس پر ہو اس کے برے انجام سے تمہیں نصیحت کرنے اور ڈرانے والا ہوں۔ بواحد ۃ، واحدۃ کا مصوف کلمتہ محذوف ہے تقدیر کلام یہ ہے بکلمتہ واحدۃ میں تمہیں ایسی بات کی نصیحت کرنے والا ہوں جو تمام کلام کو جا مع ہے، جو شرک کی نفی اور معبود بر حق کو ثابت کرتی ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد لا الہ الا اللہ ہے (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 456 ) ۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور سدی کا قول ہے۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے : اس سے مراد اللہ کی اطاعت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : مراد قرآن ہے کیونکہ یہ تمام مواعظ کو جا مع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس کی تقدیر کلام یہ ہے بخصلۃ واحدۃ پھر اس کے ساتھ اس کی وضاحت کی۔ آیت : ان تقو موا لللہ مثنی و فرادی، ان محل جر میں ہے اور یہ واحدہ سے بدل ہے یا محل رفع میں ہے اور مبتدا مضمر ہے، تقدیر کلام یہ ہے آیت۔ ھی ان تقومو، زجاج کا مذہب یہ ہے، کہ یہ محل نصب میں ہے اور یہ آیت۔ لان تقومو، کے معنی میں ہے اس قیام کا معنی حق کی طلب کمر بستہ ہوجانا ہے اس سے مراد قیام نہیں جو قعود (بیٹھنے) کی ضد ہے، یہ اسی طرح ہے جس طرح کہا جاتا ہے۔ آیت۔ قام فلان بامرکذا۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے تقریب کے لیے اٹھ کھڑا ہوا، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ــ: آیت۔ وان تقوموللیتمی بلقسط مثنی وفرادی یعنی اکیلے اور مجتمع ہو کر : یہ سعدی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا ٖگیاہیـ: اپنی راے میں منفرد اور غیر سے مشورے لیتے ہوے (2) (ایضا) یہ ایسا قول ہے۔ قتبی نے کہا :ٖغیر کے ساتھ بحث وتمہیص کرتے ہوے اور اپنے دل میں سوچ وبچار کرتے ہوے۔ سب کا معنی قریب قریب ہے۔ یہ بھی احتمال ہے۔ کہ مثنی سے مراد دن کا عمل اور فرادی سے مراد رات کا عمل ہے۔ کیونکہ دن وہ معاون ہوتا ہے، اور رات میں تنہا ہوتا ہے، ـ: یہ ماوری کا قول ہے۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے۔ فرمایاـ: آیت۔ مثنی وفرادی، کیونکہ دین بندوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت ہے۔ یہی عقل اللہ تعالیٰ نے انہیں وافر عقل عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں وافر حصہ عطا فرمایا جب وہ تنہا ہوتے ہیں، تو فکر ایک ہوتی ہے، اور دو دو ہوتے ہے، تو ذہن بالمقابل ہوتے ہیں، تو دونوں کے لیے ایسا علم ظاہر ہوتا ہے، جو منفرد سے کیُ گنا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہترجانتا ہے۔ آیت : ثم تتفکروما بصاحبکم من جنتہ ابو حاتم اور ابن الانباری کے نزدیک وقف ثم تتفکروا پر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ وقف کا محل نہیں، کیونکہ معنی ہے پھر تم غورو فکر کرو کیا تم نے اپنے صاحب کے بارے میں جھوٹ کو تجربہ کیا ہے یا تم نے اس میں جنوں کے آثار دیکھے ہیں یا اس کے احوال میں فساد دیکھا ہے یا اس کے پاس آتے جاتے دیکھا ہے جو جادو کیے جانے کا وعدہ کرتا ہو یا اس نے کسی قصے کہانیاں سیکھے ہوں یا کتابیں پڑھی ہوں ؟ تم نے انہیں اس حال میں پہچانا ہو کہ یہ تمہارے اموال میں طمع رکھتے ہوں یا ایک سورت میں ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہوں ؟ جب تم اس فکر کے ذریعے اس کی سچائی کو پہچان چکے ہو تو اس دشمنی کا کیا مقصد ؟۔ آیت : ان ھو الا نذیر لکم بین یدی عذاب شدید حضرت ابن عباس ؓ سے صحیح مسلم میں مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : آیت : و انذر عشیر تک الا قر بین (الشعراء) رسول اللہ ﷺ چلے یہاں تک کہ صنعا کی پہاڑی پر چڑھے تو بلند آواز سے ندا کی : یا صبا حاہ ؟ لوگوں نے کہا : یہ کون آواز دے رہا ہے ؟ دوسرے لوگوں نے بتایا : محمد ﷺ لوگ آپ کے پاس جمع ہوگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے بنی فلاں ! اے بنی عبد مناف ! اے بنی عبد المطلب ! سب لوگ آپ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے۔ فرمایا : مجھے بتا ئو اگر میں تمہیں خبر دوں کہ ایک گھڑسوار دستہ اس پہاڑ کے پیچھے سے نکلے گا، کیا تم میری تصدیق کرو گے ؟ سب نے کہا ہمارا آپ کے بارے میں جھوٹ کا تجربہ نہیں۔ فرمایا : میں تمہیں آنے والے شدید عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔ تو ابو لہب نے کہا۔ تیرے لیے ہلاکت ہو کیا تو نے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا ؟ تو یہ سورت آیت : تبت یدا ابی لھب و تب (1) (الہب) نازل ہوئی اعمش نے آخر تک سورت کی قراءت کی۔
Ayah 34:47

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں نے تم سے کچھ صلہ مانگا ہو تو وہ تمہارا میرا صلہ خدا ہی کے ذمے ہے اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے

آیت : من اجر سے رسالت کی تبلیغ پر انعام (1) (زاد المسیر، جز 6، صفحہ 251 ) ، یعنی اگر میں نے تم سے انعام کا مطالبہ کیا ہے تو وہ تمہارے لیے ہے۔ شھید سے مراد تاڑنے والا، عالم اور حاضر ہے یعنی میرے اعمال اور تمہارے اعمال سے آگاہ ہے اس پر کوئی امر مخفی نہیں وہ سب کو بدلہ دے گا۔
Ayah 34:48

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا پروردگار اوپر سے حق اتارتا ہے اور وہ غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے

آیت : قل ان ربی یقذف با الحق وہ حجت کو ظاہر کرتا ہے اور بیان کرتا ہے۔ قتادہ نے کہا : بالحق سے مراد وحی ہے ان سے یہ بھی مروی ہے : الحق سے مراد قرآن ہے۔ ابن عباس ؓ نے کہا : علام الغیوب باطل پر حق کے ساتھ ضرب لگاتا ہے۔ عیسیٰ ٰ بن عمر نے اسے پڑھا علام الغیوب پر رفع دو وجوہ سے ہے کیونکہ یہ رفع کا محل ہے یایقذف میں جو ضمیر ہے اس سے یہ بدل ہے۔ نحاس نے کہا : رفع میں دو اور وجوہ بھی ہیں۔ یہ خبر کے بعد خبر ہو۔ اس کی مثل یہ ہے : آیت : ان ذالک لحق تخا صم اھل النار (ص) اسے الغیوب غین کی تین حرکتوں کے ساتھ پڑھا ہے۔ الغیوب یہ البیوت کی طرح ہے۔ الغیوب یہ ا لصبور کی طرح ہے اس سے مراد ایسا امر ہے جو بہت ہی زیادہ غائب اور مخفی ہو۔
Ayah 34:49

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ حق آچکا اور (معبود) باطل نہ تو پہلی بار پیدا کرسکتا ہے اور نہ دوبارہ پیدا کرے گا

آیت : قل جاء الحق سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے کہ الحق سے مراد قرآن ہے (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 457 ) ۔ نحاس نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے جاء صاحب الحق یعنی ایسی کتاب جس میں براہین اور دلائل ہیں۔ آیت : و ما یبدی الباطل قتادہ نے کہا : اس سے مرا دشیطان ہے، یعنی شیطان کسی چیز کو پیدا نہیں کرتا۔ و ما یعید، ما نافیہ ہے یہ بھی جائز ہے کہ ما استفہامیہ ہو، یہ ای شیء کے معنی میں ہوگا۔ یعنی حق آگیا تو باطل کے لیے کیا چیز باقی رہ گئی ہے کہ وہ اسے لوٹائے اور اسے نئے سرے سے شروع کرے یعنی کوئی چیز باقی نہیں بچی، جس اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : قل ان ضللت فا نما اضل علی نفسی اس کی وجہ یہ کہ کفار نے کہا : تو نے اپنے آباء کے دین کو ترک کردیا ہے اور تو گمراہ ہوگیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ارشاد فرمایا : اے محمد ﷺ کہہ دو اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں جس طرح تم گمان کرتے ہو تو اس کا وبال میری ذات پر ہے۔ عام قراءت لا مے فتحہ کے ساتھ ہے۔ یحییٰ بن وثاب اور دوسرے علماء نے پڑھا : قل ان ضللت یعنی لام کے نیچے کسرہ ہے اور اضل کے ضاد پر فتحہ دیا، ضلال اور ضلا لت یہ ارشاد کی ضد ہے۔ قد ضللت اضل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : قل ان ضللت فا نما اضل علی نفسی یہ نجد کی لغت ہے۔ یہ فصیح لغت ہے۔ اہل عالیہ کہتے ہیں : ضللت، اضل یعنی میری گمراہی کا گناہ میری ذات پر ہے۔ آیت : و ان اھتدیت فبما یوحی الی ربی میرا رب میری طرف حکمت اور بیان کی جو وحی کرتا ہے اس وجہ سے میں ہدایت پر ہوں۔ آیت : انہ سمیع قریب جو مجھ کو بلائے میں اس کی بات سننے والا ہوں اور دعا قبول کرنے میں قریب ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نظم کلام یوں ہے کہہ دیجئے : میرا رب حق کے ساتھ باطل پر ضرب لگا تا ہے اور حجت کو واضح کرتا ہے جو آدمی گمراہ ہے اس کی گمراہی حجت کو باطل نہیں کرتی۔ اگر میں گمراہ ہوگا تو اپنے آپ کو نقصان پہنچائوں گا نہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حجت کو باطل کر دے، جب میں ہدایت یا فتہ ہوں تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کیونکہ اس نے مجھے حجت پر ثابت قدم رکھا، بیشک وہ سمیع ہے قریب ہے۔