Ayah 34:14آیت : فلما قضینا علیہ الموتجب ہم نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر موت کا فیصلہ کردیا یہاں تک کہ موت ایسا امر ہوگیا جس سے فراغت ہوچکی ہوتی ہے اور اسی سے موت واقع ہوجاتی ہے۔
آیت : ما دلھم علی مو تہ الا دا بۃ الارض تا کل منسا تہ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ عصا پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ منساۃ حبشہ کی زبان میں عصا کو کہتے ہیں ؛ یہ سدی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ یمن کی لغت میں ہے ؛ قشیری نے اسے ذکر کیا۔ آپ اس طرح فوت ہوگئے اور آپ اسی طرح رہے کہ آپ کا حال مخفی رہا یہاں تک کہ مردہ کی حیثیت زمین پر گر گئے کیوں کہ عصا ٹوٹ گیا تھا کیونکہ دیمک اسے کھا گئی تھی۔ اس طرح آپ کی موت کا علم ہوا۔ دیمک آپ کی موت پر دلالت کرنے والی تھی یعنی آپ کی موت کو ظاہر کرنے کا سبب تھی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تھا کہ جن آپ کی موت سے آگاہ نہ ہوں یہاں تک کہ ان پر ایک سال گزر جائے۔ آپ نے یہ سوال کیونکہ کیا اس کے سبب میں دو قول ہیں : (1) جو قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا ہے۔ کہا : جن علم غیب کا دعوی ٰکرتے جب حضرت سلیمانعلیہ السلام کا وصال ہوگیا اور آپ کی موت ان پر مخفی ہوگئی۔
آیت : تبینت الجن ان لو کا نو یعلمون الغیب ما لبثو فی العذاب المھین حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : آپ ایک سال تک کھڑے رہے اور جن آپ کے سامنے کام کرتے رہے یہاں تک کہ دیمک آپ کا عصا کھا گئی اور آپ گر گئے۔ یہ روایت بیان کی جاتی کہ جب آپ گر پڑے تو یہ معلوم نہ ہوا کہ آپ کب فوت ہوئے تو دیمک کو عصا پر چھو ڑا گیا دیمک نے عصا کو دن رات کھایا۔ پھر انہوں نے حساب لگایا تو انہوں نے پایا کہ یہ ایک سال سے فوت ہوچکے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : جنوں کے سردار سات تھے۔ وہ حضرت سلیمانعلیہ السلام کے اطاعت گزار تھے۔ حضرت داود (علیہ السلام) نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی تھی۔ جب حضرت داودعلیہ السلام فوت ہوئے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو وصیت کی کہ وہ بیت المقدس کی مسجد کو مکمل کریں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جنوں کو اس بارے میں حکم دیا۔ جب ان کی وفات کا وقت قریب آگیا تو آپ نے اپنے اہل سے فرمایا : جنوں کو میری موت کی خبر نہ دینا یہاں تک کہ وہ مسجد کو مکمل کرلیں اس کے مکمل ہونے میں ایک سال لگنا تھا۔
حدیث میں یہ بھی ہے کہ ملک الموت آپ کے دوست تھے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان سے اپنی موت کے بارے میں پوچھا۔ ملک الموت نے کہا : تیرے سجدہ کی جگہ سے ایک درخت نکلے گا جسے خر نو بہ کہتے ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بیت المقدس میں صبح نہ کرتے مگر بیت المقدس میں ایک درخت اگتا حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس سے پوچھتے : تیرا نام کیا ہے ؟ درخت کہتا : میرا نام یہ ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس سے پوچھتے : تو کس کام کے لیے اگا یا گیا ہے ؟ وہ کہتا : فلاں فلاں کام کے لیے۔ آپ اس کے بارے میں حکم دیتے اسے وہاں سے اکھیڑ لیا جاتا اور اپنے باغ میں لگا دیتے اور آپ اس درخت کے منافع، نقصانات اس کا نا م اور طب میں جس مقصد کے لیے وہ ہو تالکھ لینے کا حکم دیتے۔ اس اثناء میں ایک دن آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ نے ایک درخت کو دیکھا جو آپ کے سامنے اگا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے کہا : تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے عرض کی خر نو بہ۔ پوچھا : تو کس شئے کے لیے اگایا گیا ہے ؟ اس نے کہا : اس مسجد کو بر باد کرنے کے لیے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا : اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ اسے بر باد کرے جب کہ میں زندہ ہوں تو ہی وہ درخت ہے تیرے سامنے میری ہلاکت ہوگی اور بیت المقدس کی ہلاکت ہوگی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے وہاں سے اکھاڑا اور اسے اپنے باغ میں لگا دیا۔ پھر فرمایا : اے اللہ ! جنوں سے میری موت کو چھپائے رکھنا یہاں تک کہ لوگ جان لیں کہ جن غیب نہیں جانتے۔ جن انسانوں کو بتایا کرتے کہ وہ غیب میں سے کچھ چیزوں کو جانتے ہیں اور وہ بھی جانتے ہیں کہ کل کیا ہوگا۔ پھر اپنا کفن پہنا خوشبو لگائی اور نماز پڑھنے لگے اور اپنے تخت پر عصا پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے۔ آپ فوت ہوگئے اور جنوں کو علم نہ ہوا یہاں تک سال گزر گیا اور مسجد کی تعمیر مکمل ہوگئی۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : اس آیت کے بارے میں جو قول کیا گیا ہے وہ سب سے بہترین ہے۔ اس کی صحت پر حدیث مرفوع دلالت کرتی ہے۔ ابراہیم بن طہمان، عطا بن سائب سے وہ سعید بن جبیر سے وہ ابن عباس ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے نبی سلیمان بن داودعلیہ السلام جب نماز پڑھا کرتے تو اپ نے سامنے ایک درخت اگتا ہوا دیکھتے آپ اس درخت سے پو چھتے : تیرا نام کیا ہے ؟ اگر وہ کاشت کرنے کے لیے ہوتا تو آپ اسے کاشت کرتے اگر وہ کسی دوائی کے لیے ہوتا تو اسے لکھ لیا جاتا۔ اس اثناء میں کہ آپ ایک روز نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک درخت آپ کے سامنے اگتا ہے پو چھا تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : خر نو بہ۔ پوچھا کس مقصد کے لیے اگایا گیا ہے ؟ اس نے کہا : اس بیت کو بر باد کرنے کے لیے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دعا کی : اے میرے اللہ ! جنوں سے میری موت کو پو شیدہ رکھنا تاکہ لوگ جان لیں کہ جن علم غیب نہیں جانتے انہوں نے اس کی مقدار میں غوروفکر کیا تو اسے ایک سال پایا (1) (المستدرک للحاکم، جلد 4، صفحہ 446، حدیث 8222 ) ۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ کی قراءت میں ہے۔ آیت : تبینت الانس ان لو کان الجن یعلمون الغیب یعقوب نے عیسیٰ کی قراءت میں آیت : تبینت الجن ہے یہ فعل مجہول ہے۔ نافع اور ابن عمر نے کہا : تا کل منسا تہ سین اور تا کے درمیان الف ہے ہمزہ نہیں ہے باقی قراء نے کہا : الف کی جگہ ہمزہ مفتو حہ ہے یہ دونوں لغتیں ہیں۔ مگر ابن ذکوان نے تخفیف کے طریقہ پر ہمزہ کو ساکن کیا ہے۔ شاعر نے ہمزہ کو ترک کرتے ہوئے کہا :
اذا دبیت علی المنساۃ من کبر فقد تما عد عنک النھود الغزل (2) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 441 )
جب تو بڑھا پے کی وجہ سے عصا پر رینگتا ہے تحقیق لہو اور عورتوں سے با توں کا وقت تجھ سے دور چلا گیا۔
ایک اور شاعر نے اسے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے :
ضربنا بمنساۃ وجھہ فصار یذاک مھینا ذلیلا
ہم نے ڈنڈے کے ساتھ اس کے چہرے کو پیٹا تو اس کے ساتھوہ ذلیل و رسوا ہوگیا۔
نحاس نے کہا : اس کا استقاق اس امر پر دلا لت کرتا ہے کہ یہ مہموز ہے کیونکہ یہ نساتہ سے مشتق ہے میں اسے مئوخر کیا اور اسے دھکیلا۔ اسے منساۃ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس کے ساتھ کسی چیز کے ساتھ دھکیلا جاتا اور اسے مئو خر کیا جاتا ہے۔ مجاہد اور عکرمہ نے کہا : اس سے مراد عصا ہے۔ پھر قراءت کی منساۃ ہمزہ کو الف سے بدل دیا۔ اگر یہ قول کیا جائے : الف سے بدلنا بہت ہی قبیح ہے یہ شعر بھی جائز ہے لیکن بعید اور شاذ ہے۔ ابو عمرو بن علاء نے کہا : اس جیسے آدمی سے اس قسم کی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔ خصوصا اہل مدینہ کی قراءت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عرب اس کلمہ میں بدل کو استعمال کرتے ہیں اور اسی طرح بولتے ہیں، جس طرح بدل اس کے علاوہ میں واقع ہوتا ہے۔ اس پر قیاس نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ ابو عمر و نے کہا : میں نہیں جانتا کہ یہ کس سے منقول ہے مگر یہ غیر مہموز ہے، کیونکہ جو مہموز ہوتا ہے بعض اوقات اس کا ہمزہ ترک کردیا جاتا ہے مگر مہموز نہ ہو تو اس کی کسی صوت میں بھی ہمزہ کے ساتھ پڑھنا جائز نہیں ہوتا۔
مہدوی نے کہا : جس نے ہمزہ ساکنہ کے ساتھ اسے پڑھا ہے تو وہ شاذ اور بعید ہے، کیونکہ کے تانیث کی ھا نہیں ہوگی مگر اس سے قبل حرف متحرک ہوتا ہے یا اس سے پہلے الف آتا ہے، لیکن یہ جائز ہے کہ استخفاف کے طریقہ پر مفتوح کو ساکن کیا گیا ہو۔ یہ جائز ہے کہ جس ہمزہ کو الف سے خلاف قیاس بدلا گیا ہو تو الف کو ہمزہ سے بدل دیا جائے جس طرح انہوں نے عالم اور خاتم میں بدلا ہے۔
سعید بن جبیر سے من الگ اور ساتہ کے نیچے کسرہ کے ساتھ مروی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ سئۃ القوس سے مشتق ہے یہ اس کی لغت میں ہے جس نے اسے ہمزہ دیا۔ رئوبہ سے سیۃ القوس کو ہمزہ کے ساتھ روایت کیا گیا ہے جو ہری نے کہا : سیۃ القوس سے مراد وہ ہے جس کو اس کی دو نوں طرفوں کی جانب سے موڑا گیا ہو۔ اس کی جمع سیات آتی ہے، ہاء وائو کا عوض ہے۔ اس سے اسم منسوب سیوی ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : رئوبہ سیۃ القوس کو ہمزہ دیا کرتے تھے، بقی عرب اس کو ہمزہ نہیں دیا کرتے تھے۔ آیت : دابۃ الا رض میں دو قول ہیں : (1) اس سے مراد دیمک ہے : یہ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ اسے دابۃ الارض راء کے فتحہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یہ ارضہ کی جمع ہے : مادردی نے اسے ذکر کیا ہے (2) یہ ایسا کپڑا ہے جو لکڑی کو کھا جاتا، جوہری نے کہا : الارضہ یہ چھوٹاسا کیڑا ہے جو لکڑی کو کھا جاتا ہے یہ کہا جاتا ہے : حدیث : ارضت الخشبۃ تورض ارضا فھی ما روضۃ جب اسے کھا جائے۔
آیت : فلما خر تبینت الجن، جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) گر گئے تو جنوں کو ان کی موت کا علم ہوا۔ دوسرے علماء نے کہا : جنوں کا امر ظاہر ہوا یعنی مضاف محذوف ہے جس طرح آیت : وسئل القر یۃ (یوسف ـ: 82) اصل میں واسال اھل القریۃ ہے۔ صحیح سندوں سے حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ ھضرت سلیمان (علیہ السلام) ایک سال تک کھڑے رہے ان کی موت کا علم نہیں تھا۔ آپ اپنے عصا پر ٹیک لگائے ہوئے تھے جن ان امور میں مصروف تھے جس کا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے انہیں حکم دیا تھا۔ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) گرے تو لوگوں کو پتہ چلا اگر جن غیب جانتے تو وہ اس ذلیل کرنے والے عذاب میں نہ پڑے رہتے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ قراءت تفسیر کے طریقہ پر ہے۔
حدیث میں ہے : جنوں نے اس پر دیمک کا شکریہ ادا کیا وہ جہاں بھی ہوتی ہے وہ اس کے پاس پانی لے آتے ہیں۔ سدی نے کہا : وہ مٹی بھی لاتے ہیں کیا تو اس مٹی کو نہیں دیکھتا جو لکڑی کے درمیان ہوتی ہے اسے شیا طین ہی لاتے ہیں وہ دیمک کے شکریہ کے طور پر لا تے ہیں۔ جنوں نے کہا : اگر طعام اور مشروب کھائے گی تو وہ دو نوں چیزیں تیرے پاس لائیں گے۔ ان محل رفع میں ہے یہ الجن سے بدل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے : جنوں کا امر ظاہر ہوگیا، مضاف کو حذف کیا یعنی انسانوں کے لیے معاملہ واضح اور ظاہر ہوگیا۔ اور ان پر جنوں کا منکشف ہوگیا کہ وہ غیب نہیں جا نتے۔ یہ بدل اشتمال ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل نصب میں ہو، لام محذوف ہے۔
آیت : لبثوا وہ قائم رہے۔ آیت : العذاب المھین سے مراد مسخر ہونا، بوجھ اٹھانا، عمارات تعمیر کرنا اور دوسرے معاملات۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ترپن سال زندہ رہے ان کی حکو مت کا دورانیہ چالیس سال تھا۔ آپ اس وقت حاکم بنے جب آپ کی عمر تیرہ سال تھی۔ بیت المقدس کی تعمیر اس وقت شروع کی جب کہ ان کی عمر سترہ سال تھی۔ سدی اور دوسرے علماء نے کہا : حضرت سلیمان کی عمر 67 سال تھی۔ آپ بادشاہ بنے جب کہ ان کی عمر سترہ سال تھی۔ آپ نے بیت المقدس کی تعمیر شروع کی جب کہ ان کی عمر بیس سال تھی ان کی بادشاہت پچاس سال رہی۔ یہ حکایت کی گئی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بیت المقدس کی تعمیر شروع کی جب کہ ان کی حکو مت کا چوتھا سال تھا۔ اس کی تعمیر سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے بارہ ہزار بیل اور بیس ہزار بکریاں ذبح کیں۔ جس روز اس کی تعمیر سے فارغ ہوئے اس کو عید کے طور پر منایا اور صخرہ پر آپ کھڑے ہوئے جب کہ دعا کے لیے اپنے ہاتھ اپنے رب کے حضور اٹھائے ہوئے تھے اور دعا کی : حدیث : اللھم انت وھبت لی حذا السلطان و قریتنی علی بناء ھذا المسجد فاوزعنی شکرک علی ما انعمت علی و تو فنی علی ملتک ولا تزغ قلبی بعد اذ ھدیتنی اللھم انی اسئلک لمن دخل ھذا المسجد خمس خصال۔
اے اللہ ! تو نے مجھے یہ حکو مت عطا کی، تو نے اس مسجد کی تعمیر پر مجھے قوت عطا کی، اے اللہ ! تو نے مجھ پر جو انعام کیا ہے اس پر شکر ادا کرنے کی مجھے تو فیق عطا فرما، مجھے اپنے دین پر موت عطا کر، جب تو نے مجھے ہدایت کردی ہے تو میرے دل کو نہ پھسلا، اے اللہ ! میں تیری بار گاہ سے سوال کرتا ہوں کہ تو اسے پانچ چیزیں عطا فرما جو بھی اس میں داخل ہو۔
کوئی گنا ہگار اس میں داخل نہ ہو جو تو بہ کے لیے اس میں داخل ہوا مگر تا اسے بخش دے اور اس پر نظر کرم فرما، کوئی خوف زدہ داخل نہ ہو مگر اسے امان دے، کوئی مریض داخل نہ ہو مگر اسے شفا عطا کرے، کوئی فقیر داخل نہ ہو مگر تو اس کو غنی کر دے، جو آدمی اس میں داخل ہو تو اس سے اپنی نظر کو نہ پھیرے یہاں تک کہ وہ اس سے نکلے ہاں جو آدمی اس میں الحاد یا ظلم کا ارادہ کرے۔ اے رب العالمین : ماوردی نے اسے ذکر کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ روایت اس روایت سے زیادہ صحیح ہے جو پہلے گزر چکی ہے کہ بیت المقدس کی تعمیر سے فراغت نہ ہوئی مگر آپ کی موت کے ایک سال بعد۔ اس کی صحت پر دلیل وہ روایت ہے جسے امام نسائی اور دوسرے علماء نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے جو حدیث حضرت عبدا للہ بن عمر و سے وہ اسے نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں : جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بیت المقدس کی تعمیر کی تو اللہ تعالیٰ سے تین سوال کیے۔ اپنا فیصلہ جو اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے ساتھ موافقت رکھتا ہو تو یہ آپ کو عطا کردیا گیا (1) (سنن نسائی، کتاب المساجد، فضل المسجد الا قصی الصلوۃ فیہ، جلد 1، صفحہ 112) ۔ اللہ تعالیٰ سے ایسی بادشاہت کا سوال کیا جو ان کے بعد کسی کے لیے روا نہ ہو تو یہ بھی ان کو عطا کردیا گیا جب مسجد کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ سے التجا کی کہ اس میں کوئی آدمی نہ آئے وہ اس میں نماز پڑھنے کے لیے ہی سفر کر رہا ہو تو وہ اپنے گناہوں سے یوں نکل جائے جس طرح وہ گنا ہوں سے اس وقت پاک تھا جب اس کی ماں نے اسے جانا تھا۔ ہم نے اس حدیث کا ذکر آل عمران میں کیا اور سورة اسراء میں اس کی تعمیر کا ذکر کیا ہے۔
Ayah 34:15آیت : لقد کان لسبا فی مسکنھم ایۃ نا فع اور دوسرے علماء نے سباء کو منصرف اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ یہ ایک قبیلہ کا نام ہے۔ اصل میں یہ ایک آدمی کا نام تھا۔ نبی کریم ﷺ سے یہ اسی طرح واقع ہوا ہے۔ امام ترمذی نے روایت کی ابو کریب اور عبد بن حمید، ابو اسامہ سے وہ حسن بن حکم نخعی سے وہ ابو سبرہ نخعی سے وہ حضرت فر وہ بن مسیک مرادی ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے ساتھ جنگ نہ کروں جو پیچھے بیٹھے رہے، اپنی قوم کے ان لوگوں کو ساتھ لے کر جو ان میں سے آتے ہیں (2) ؟ (جامع تر مذی، کتاب التفسیر، سورة سباء جلد 2، صفحہ 154) حضور ﷺ نے مجھے اجازت عطا فرمائی اور مجھے امیر بنا دیا۔ جب میں آپ کے پاس چلا آیا تو آپ نے میرے بارے میں پوچھا : غطیفی نے کیا کیا ؟ تو آپ ﷺ کو بتا یا گیا میں روانہ ہوچکا ہوں۔ آپ ﷺ نے میرے پیچھے آدمی بھیجا اور مجھے واپس لو ٹایا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ صحابہ کی ایک جماعت میں تھے۔ فرمایا : اپنی قوم کو دعوت دو اس میں سے جو مسلمان جائے تو اس کا اسلام قبول کر و اور جو اسلام نہ لائے اس کے بارے میں جلدی نہ کرنا یہاں تک کہ میں تجھے نیا حکم نہ دوں۔ کہا : تو سبا کے بارے میں آیات نازل ہوئیں جو نازل ہوئیں۔ ایک آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ سبا کیا ہے یہ کوئی علاقہ ہے یا کوئی عورت ہے ؟ فرمایا : نہ یہ علاقہ اور نہ ہی کوئی عورت ہے لیکن عر بوں میں سے یہ ایسا آدمی تھا جس کے دس بچے ہوئے ان میں سے چھے یمن کی طرف چلے گئے اور چار شام کی طرف چلے گئے۔ جو شام کی طرف گئے وہ فلخم، جذام، عسان اور عاملہ تھے اور جو یمن کی طرف گئے توازد، اشعری، حمید، کندہ، مد حج، اور انمار ہیں۔ ایک آدمی نے کہا : انمار کون ہیں ؟ فرمایا : جن میں سے
خشعم اور بجیلہ ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے یہی روایت نقل کی ہے۔ ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث حسن غریب ہے (1) ( جا مع تر مذی، باب و من سورة سباء، حدیث نمبر 3146، ضیا القرآن پبلی کیشنز ) ۔ ابن کثیر اور ابو عمر و نے لسبا غیر منصوف پڑھا ہے۔ انہوں نے اسے قبیلہ کا نام بنایا ہے ؛ یہ ابو عبیدہ کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ انہوں نے اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ اسکے بعد فی مسکنھم ہے۔ نحاس نے کہا : اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح انہوں نے کہا ہے تو کلام یوں ہوتی فی مسکنھا۔ سورة النمل میں اس معنی سے زیادہ وضاحت گزر چکی ہے۔ ایک شاعر نے اس کو منصرف قرار دیتے ہو یوں کہا ہے :
الرار دون و تیم فی ذری سبا قد عض اعناقھمجلد الجوامیس
ایک اور شاعر نے سبا کے لفظ کو غیر منصرف پڑھا ہے :
من سبا الحا ضرین مآرب اذ یبنون من دون سیلھا ال۔۔۔
سبا قبیلہ سے مآرب حاضر ہونے والے ہیں کیونکہ وہ سیلاب سے بچنے کیلیے بند بناتے ہیں۔
قنبل، ابو حیوہ اوتر جحدری نے سبا ہمزہ کے اسکان کے ساتھ قراءت کی ہے۔ فی مسکنھم عام قراءت جمع کے ساتھ ہے، یہ ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کیونکہ ان کے مسکن بہت زیادہ تھے کوئی ایک مسکن نہ تھا۔ ابراہیم، حمزہ اور حفص نے مسکنھم واحد کا صیغہ پڑھا ہے مگر انہوں نے کاف کو فتحہ دیا ہے۔ یحییٰ ، اعمش اور کسائی نے اسی طرح اسے واحد پڑھا ہے مگر انہوں نے کاف کو کسرہ دیا ہے۔ نحاس نے کہا : اس میں ساکن واضح ہے کیونکہ یہ لفظ اور معنی دو نوں کو جا مع ہے۔ جب تو مسکنھم کہے گا تو اس میں دو تقدیریں ہیں : (1) یہ واحد ہو معنی جمع کا دے رہا ہو (2) مصدر ہو جس کا نہ تثنیہ بنایا جاتا ہے اور جس کی نہ جمع بنائی جاتی ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : ختم اللہ علی قلوبھم و علی سمعھم و علی ابصارھم (البقرہ : 7) سمع واحد آیا ہے اسی طرح آیت : مقعد صدق (القمر : 55) ہے مسکن مسجد کی طرح ہے یہ قیاس سے خارج ہے۔ اس قسم کا لفظ سماع سے ثابت ہے۔ آیۃ کان کا اسم ہے یہ ایسی علامت ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرتی ہے کہ ان کا ایک خالق ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور اگر تمام مخلوق جمع ہوجائے کہ لکڑی سے پھل نکالیں تو ان کے لیے ممکن نہ ہو اور وہ پھلوں کی اجناس، ان کے انواع، ان کے ذائقوں، ان کی خوشبوئوں اور ان کی کلیوں کے اختلاف پر آگاہ نہ ہو سکیں۔ اس میں ایسی چیز ہے جو اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ یہ سب کچھ ایسی ذات سے ہو سکتا ہے عالم و قادر ہو۔ آیت : جنتن یہ جائز ہے کہ یہ آیۃ سے بدل ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مبدا محذوف کی خبر ہو۔ اس صورت میں آیۃ پر وقف ہو گا یہ وقف تام نہ ہوگا۔ زجاج نے کہا : کلام یوں ہے الآیۃ جنتان، جنتان کو رفع اس لیے دیا گیا کیونکہ یہ مبدامحذوف کی خبر ہے۔ قراء نے کہا : یہ آیۃ کی تفسیر کی بناء پر مر فوع ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ آیۃ کو نصب دی جائے کیونکہ یہ کان کی خبر ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ تو جنتین کو خبر کی بناء پر نصب دے جب کہ وہ قرآن کے علا وہ میں ہو۔
عبدالرحمن بن زید نے کہا : وہ آیت جو اہل سبا کی ان کے مسکن میں تھی وہ یہ تھی کہ وہ اپنے مساکن میں کبھی بھی مچھر، مکھی پسو، جوں، بچھو، سانپ اور اس کے علاوہ کیڑے مکوڑے نہیں دیکھتے تھے (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 443 ) ۔ جب کوئی قافلہ آتا ان کے کپڑے میں جوئیں وغیرہ ہوتیں جب قافلہ والے ان کے گھروں کو دیکھتے تو وہ کیڑے مکوڑے مر جاتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیت یہی دو باغ تھے۔ ایک عورت ان کے درمیان چلتی جب کہ اس کے سر پر ٹوکری ہوتی، اس کے ہاتھ لگائے بغیر وہ ٹوکری بھر جاتی ؛ یہ قتادہ کا قول ہے (2) (ایضا، جلد 4، صفحہ 444 ) ۔
ایک روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ دونوں باغ یمن کے دو پہاڑوں کے درمیان تھے۔ سفیان نے کہا : ان دونوں باغوں میں دو محل تھے ان میں سے ایک پر لکھا ہوا تھا : ہم نے لگاتار ستر سالوں میں سلحین بنایا۔ دوسرے پر لکھا ہوا تھا : ہم نے اسے صرواح بنایا تھا یہ قیلو لہ اور آرام کی جگہ ہے۔ ایک باغ وادی کے دائیں جانب اور دوسرا اس کے بائیں جانب تھا۔ قشیری نے کہا : جنتین سے دو باغوں کا ارادہ نہیں کیا بلکہ جنتین سے مراد دایاں اور بایاں مراد لیا ہے، یعنی ان کے شہر، باغوں، درختوں اور پھلوں والے تھے۔ لوگ ان کے سایوں سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے آیت : کلو من رزق ربکم انہیں کہا گیا ـ: کھائو۔ وہاں کوئی امر نہیں تھا بلکہ وہ ان نعمتوں سے لطف اندوز ہوئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رسولوں نے ان کو کہا : اللہ تعالیٰ نے اسے تمہا رے لیے مباح کیا، یعنی ان نعمتوں کو تمہارے لیے مباح کیا طاعت اختیار کرکے اس کا شکر بجا لائو۔ آیت : من رزق ربکم دونوں باغوں کے پھلوں سے۔ آیت : واشکروالہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو۔ آیت : بلدۃ طیبۃ یہ نئی کلام ہے یعنی ھذھ بلدۃ طیبۃ یہ پاکیزہ شہر ہے جو بہت زیادہ پھلوں والا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ شور زدہ نہیں
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ پاکیزہ ہے اس میں کیڑے مکوڑے نہیں کیونکہ آب و ہوا عمدہ ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد صنعاء کا شہر ہے۔ آیت : و رب غفور جو تم پر یہ انعام فرمانے والا ہے وہ رب غفور ہے وہ تمہارے گنا ہوں پر پردہ ڈالنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے گناہوں کی بخشش اور عمدہ شہر کے ساتھ نعمتوں کو جمع کیا تمام مخلوق کے لیے اس کا ارادہ نہیں کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مغفرت کا ذکر کیا یہ اس امر کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ہے کہ رزق میں بعض اوقات کوئی چیز حرام بھی ہوتی ہے۔ سورة بقرہ کے آغاز میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان جتلایا کہ اس نے ان کو معاف کردیا ایسا عذاب نہ دیا جو ان کی اصل کو ختم کر دے کیونکہ انہوں نے اس طرح تکذیب کی جس طرح سابقہ انبیاء کی لوگوں نے تکذیب کی یہاں تک کہ انہوں نے اصرار پر دوام اختیار کیا اور ان کی نسل کو ہی ختم کردیا گیا۔
Ayah 34:16انہوں نے مسلمان ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے امر اور اس کے رسولوں کی اتباع سے اعراض کیا۔ سدی اور وہب نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اہل سبا کی طرف تیرہ رسول بھیجے تو اہل سبا نے ان کو جھٹلایا۔ قشیری نے کہا : ان کا ایک رئیس تھا جسے حمار کا لقب دیا جاتا۔ یہ لوگ حضرت عیسیعلیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ کے درمیان فترت کے دور میں تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا ایک بیٹا تھا وہ مرگیا اس نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا اور تھو کا اور کفر کیا۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے اکفر من حمار حمار سے زیادہ کافر۔ جوہری نے کہا : ان کا قول اکفر من حمار وہ قوم عاد کا ایک آدمی تھا اس کے بچے مر گئے تو اس نے عظیم کفر کیا۔ اس کے علاقے سے کوئی آدمی نہ گزرتا مگر وہ اسے کفر کی طرف دعوت دیتا۔ اگر وہ اس کی دعوت کو قبول کرتا تو ٹھیک ورنہ وہ اسے قتل کردیتا۔ پھر سیلاب ان کے باغوں کو بہا کرلے گیا تو وہ مختلف علاقوں میں بکھر گئے جس کی وضاحت بعد میں آئے گی۔ اس وجہ سے ضرب المثل ذکر کی جاتی ہے : تفرقوا ایادی سبا۔٭ (وہ ایسے بکھرے کہ اس کے بعد جمع نہ ہو سکے ) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اوس اور خزرج بھی ان میں سے ہیں۔
آیت : فارسلنا علیھم سیل العرم حضرت ابن عباس ؓ سے جو مروی ہے اس میں عرم سے مراد بند ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے سیل السدالعرم عطا نے کہا عرم وادی کا نام ہے۔ قتادہ نے کہا : عرم سبا کی وادی ہے (1) (زاد المسیر، جز 6، صفحہ 238) ۔ کئی وادیاں اس میں جمع ہوتیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سمندر سے اور یمن کی وادیوں سے۔ انہوں نے دو پہاڑوں کے درمیان تین بند باندھے۔ اور اس بند سے تین دروازے بنائے جو ایک دوسرے کے اوپر تھے۔ وہ پہلے سب سے اونچے دروازے سے سیراب کرتے، پھر درمیانے سے پھر تیسرے سے جس قدر ان کی ضرورت ہوتی۔ ان کا علاقہ سر سبز و شاداب ہوگیا اور ان کے اموال بہت زیادہ ہوگئے، جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اللہ تعالیٰ نے ان پر چو ہے کو مسلط کردیا جس نے بند کو توڑ دیا۔
وہب نے کہا : وہ گمان رکھتے تھے وہ اپنے علم اور کہانت سے جانتے ہیں کہ ان کے بند کو ایک چوہا برباد کرے گا وہ دو پتھروں کے درمیان کوئی سوراخ نہیں دیکھتے تھے مگر وہاں ایک بلی باندھ دیتے تھے۔ جب وہ وقت آگیا جس وقت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ارادہ کیا تھا تو سرخ رنگ کا ایک چوہا ان بلیوں میں سے ایک بلی کے پاس آیا اس کے ساتھ سرگوشی کی تو وہ بلی اس پتھر سے پیچھے ہٹ گئی۔ پھر وہ چوہا اچھلا اور اس کے ساتھ جو تھا اس کے ساتھ اس سوراخ میں داخل ہوگیا اور اس بند میں نقب لگائی یہاں تک کہ سیلاب کے لیے اسے کمزور کردیا جب کہ وہ نہیں جانتے تھے۔ جب وہ سیلاب آیا تو اس سوراخ میں داخل ہوگیا یہاں تک کہ اس بند تک پہنچ گیا۔ اور پانی ان کے اموال پر بہہ پڑھا اور انہیں غرق کردیا اور ان کے گھروں کو دفن کردیا۔
زجاج نے کہا : العرم اس چوہے کا نام ہے جس نے ان پر بند میں سوراخ کیا تھا، اس ہی خلد کہتے ہیں : یہ قتادہ کا بھی قول ہے سیلاب کو اس کی طرف منسوب کیا کیونکہ سیلاب اس کے سبب سے آیا تھا۔ ابن عزبی نے بھی یہ کہا : یہ العرم چوہے کا نام ہے۔ مجاہد اور ابن ابی نجیح نے کہا : العرم سرخ پانی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے اس بند میں بھیجا جس نے اسے پھاڑ دیا اور اسے گرا دیا۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : العرم سے مراد شدید بارش ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : العرم راء کے سکون کے ساتھ ہے۔ ضحاک سے مروی ہے : یہ فترت کے دور میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کے دوران ہوا۔ عمرو بن شرجیل نے کہا : عرم سے مراد سیلاب کو روکنے والا بند ہے ؛ یہ جوہری کا قول ہے۔ کہا : اس کا لفظوں میں کوئی واحد نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس کا واحد عرمۃ ہے۔ محمد بن یزید نے کہا : العرم ہر اس شئے کو کہتے ہیں جو دو چیزوں کے درمیان آڑ ہے۔ اسی کو سکر کہتے ہیں۔ یہ عرمۃ کی جمع ہے۔ نحاس نے کہا : عرم اسے کہتے ہیں دو پہاڑوں کے درمیان جہاں بارش کا پانی جمع ہوتا ہے اس کے سامنے مسناۃ ہوتا ہے اس کو ہی عرم کہتے ہیں۔ مسناۃ وہ چیز ہے جسے اہل مصر جسر کہتے ہیں۔ جب وہ چاہتے اس کو کھول لیتے جب ان کے باغ سیراب ہوجاتے تو وہ اسے بند کردیتے۔
ہروی نے کہا : مسناۃ یعنی ضفیرہ جسے سیلاب کے لیے بنایا جاتا ہے تاکہ اسے روک دے۔ اسے مسناۃ کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ اسمیں پانی کے دروازے ہوتے ہیں۔ یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ عرم ایک بند تھا جسے ملکہ بلقیس نے بنایا تھا جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی زوجہ تھیں۔
حمیر کی لغت میں مسناۃ ہے ملکہ بلقیس نے اسے پتھروں اور تار کول سے بنایا تھا اس نے اس کے تین دروازے بنوائے جو اوپر نیچے تھے، یہ عرامہ سے مشتق ہے جس کا معنی مضبو طی ہے۔ اسی سے رجل عارم ہے، یعنی مضبوط آدمی۔ عرمت العظم۔۔۔ و اعرمہ عرما میں نے ہڈی سے گوشت اتارا۔ اسی سے عرمت الابل الشجر یعنی اونٹ نے درخت سے کھایا۔ صبی عارم بین العرام جو بچہ بد خلق ہو۔ قد عرم یعرم و یعرم عرامۃ والعرم العارم یہ جوہری سے مروی ہے۔
آیت : و بدلنھم بجنتیھم جنتین ذواتی اکل خمط ابو عمر و نے اکل خمط تنوین کے بغیر مضاف کی صورت میں پڑھا ہے۔ علماء تفسیر اور خلیل نے کہا : خمط سے مراد پیلو کا درخت ہے (1) (تفسیر ابن عباس، جلد 2، صفحہ 740 ) ۔ جوہری نے کہا : خمط سے مراد پیلوں کی ایک قسم ہے جس کا پھل کھایا جاتا ہے، ابو عبیدہ نے کہا : یہ ایسا درخت ہے جو کانٹوں والا ہو اس میں کڑواہٹ ہو۔ زجاج نے کہا : ہر ایسی بوٹی جس میں کڑواہٹ ہو جس کا کھانا ممکن نہ ہو۔ مبرد نے کہا : خمط ہر ایسی چیز کو کہتے ہیں جو اس قدر بدل جائے جس کی خواہش نہ رہے۔ دودھ کو خمط کہتے ہیں جب وہ کھٹا ہوجائے۔ ان کے نزدیک قراءت میں اولی ذواتی اکل خمط تنوین کے ساتھ ہوگی اسی بناء پر کہ یہ اکل کی صفت ہے یا اس سے بدل ہے کیونکہ اکل ان کے نزدیک خمط ہی ہے۔ جہاں تک اضافت کا تعلق ہے تو یہ بھی جائز ہے اس کی تقدیر کلام یہ ہوگی : ذواتی اکل حموضۃ او اکل مرارۃ۔
اخفش نے کہا : کلام عرب میں اضافت احسن ہے، جس طرح عربوں کا قول ہے : ثوب خذ، خمط سے مراد کھٹا دودھ ہے۔ ابو عبید نے ذکر کیا کہ دودھ جب اس سے مٹھاس جاتی رہے اوع اس کا ذائقہ نہ بدلے تو اسے سامط کہتے ہیں۔ جب اس میں کچھ بو سی پیدا ہوجائے تو وہ خامط اور خمیط ہوتا۔ جب اس کا ذائقہ بھی بدل جائے تو اسے ممحل کہتے ہیں۔ جب اس میں مٹھاس کا ذائقہ ہو تو اسے فرھۃ کہتے ہیں ٭(فوھتہ، ایسا دودھ جو تھوڑا سا متغیر ہوجائے جب کہ اس میں دودھ کی حلاوت باقی ہو شاید فوھتہ تصحیف ہے ) ۔ تخمط الفحل جب نر نیچے آگرے۔ تخمط فلان جب وہ غصے ہو اور تکبر کرے۔ تخمط البعرجب وہ موجزن ہو۔ خمطت الشاۃ ا خمطھا خمطا جب تو بکری کی جلد اتارے اور اس کو بھو نے، تو یہ خمیط ہے۔ اگر تو اس کے بال اتارے اور اس کو بھو نے تو یہ سمیط ہے۔
ثمط اس شراب کو کہتے ہیں جب اس میں پکنے کی بوہو جیسی سیب کی ہوتی ہے ابھی پکا نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : حامضہ کہتے ہیں، یہ جو ہری کا قول ہے۔ قتبی نے ادب کا الکاتب میں کہا : حامضۃ کو خمط کہتے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے : خمط اسے کہتے ہیں جب اس نے کچھ بو سی پکڑ لی ہو ؛ اور اس شعر کو پڑھا :
عقار کماء النبیء لیست بخمطۃ ولاخلۃ یکویاشروبشھا بھا
اس شعر میں خمط کا لفظ اس معنی میں ہے۔
واثل، فراء نے کہا : یہ طرفہء (درخت) سے مشابہ ہوتا ہے مگر لمبائی میں اس سے بڑا ہوتا ہے اس سے نبی کریم ﷺ کا منبر بنایا گیا۔ اثل کا تنا مضبوط ہوتا ہے جس سے دروازے بنائے جاتے ہیں۔ اس کے پتے طرفا، درخت کے پتوں جیسے ہوتے ہیں۔ اس کی واحد اثلہ ہے جمع اثلات ہے۔ حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : الاثل ایک مکڑی ہے : قتادہ نے کہا : یہ لکڑی کی ایک قسم ہے جو طرفاء کے مشابہ ہوتی، میں نے فید میں دیکھا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کیکر کا درخت ہے۔ ابو عبید نے کہا : یہ نضار کا درخت ہے نضار کا معنی سونا ہے اور نضار ایسی لکڑی ہے جس سے پیالے بنائے جاتے ہیں اسی سے قدح نضار ہے۔
آیت : و شیء من سدر قلیل فراء نے کہا : اس سے مراد ببول کا درخت ہے : نحاس نے کیا ہے۔ ازہری نے کہا : سدر ایک درخت ہے اس کی دو قسمیں ہیں : خشکی والا۔ اس سے نفع حاصل نہیں کیا جاتا اس کے پتے کسی چیز کو دھونے کے لیے استعمال نہیں ہوتے۔ اس کا کسیلاپھل ہوتا ہے جسے کھا یا نہیں جاتا۔ اسی کو ہی ضال کہا جاتا ہے (2) سدر جو پانی پر اگتا ہے اس کا پھل نبق ہے اس کے پتے کسی چیز کو دھو نے کے کام آتے ہیں یہ عناب کے درخت کے مشابہ ہوتا ہے۔ قتادہ نے کہا : اس اثناء میں کہ قوم کا درخت بہترین درخت تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے ان کے اعمال کے باعثبد ترین درخت بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پھل دار درختوں کو ہلاک کردیا اور اس کے بد لے میں اراک، طرفا، اور سدر کو اگا دیا۔ قشیری نے کہا : جنگلوں کے درختوں کو جنت اور بستان نہیں کہتے، لیکن جب دوسرا پہلے کے مقابلہ میں آئے تو اس کے لیے بھی لفظ جنت استعمال کرتے ہیں۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : وجذا وا سیئۃ سیئۃ مثلھا (الشوریٰ : 40) یہ بھی احتمال ہے کہ قلیل کا لفظ ان کی طرف لوٹ رہا ہو جس کا پہلے ذکر ہوا جیسے خمط، اثل اور سدر۔
Ayah 34:17یہ تبدیلی ان کے کفر کا بدلہ تھا۔ ذالک محل نصب میں ہے یعنی جذینا ھم ذالک بکفر ھم عام قراءت یجازی یاء مضموم اور زا مفتوحہ کے ساتھ ہے۔ الکفور نائب فاعل ہونے کی حیثیت سے مر فوع ہے۔ یعقوب، حفص، حمزہ اور کسائی نے نون مضموم اور راء مکسور کے ساتھ اور الکور کو نصب کے ساتھ قراءت کی ہے۔ ابو عبیدہ اور حاتم نے کہا : کیونکہ اس سے پہلے جزینا ھم ہے جو زوا نہیں کہا گیا۔ نحاس نے کہا : اس سے امر بڑا وسیع ہے اس میں معنی واضح ہے۔ اگر کوئی کہنے والا کہے : خلق اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) من طین اور دوسرا کہے : خلق آدم من طین دونوں کا معنی تو ایک ہی ہے۔
مسئلہ نمبر 1 :۔ اس آیت میں ایک سوال ہے اس سورت میں اس سے سخت سوال نہیں وہ یہ ہے کہ کہا جائے : اللہ تعالیٰ نے جزا کے لیے کفورکو ہی کیوں خاص کیا ہے اور اصحاب معاصی (گنا ہگاروں) کا ذکر نہیں کیا۔ علماء نے اس بارے میں گفتگو کی ہے۔
ایک قول کا خیال ہے : یہ جزا جس مراد جڑ سے اکھیڑ دینا اور ہلاک کردینا ہے یہ صرف کافروں کے لیے ہے۔ مجاہد نے کہا یہاں بخاری، یعاقب کے معنی میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن کی خطائیں اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے اور کا فر ہر برے عمل کا بدلہ دیا جاتا ہے۔
مومن کے لیے یجزی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اس کے لیے یجازی کا لفظ استعمال نہیں کیا جاتا، کیونکہ اسے بدلہ دیا جاتا ہے۔ طائوس نے کہا : اس سے مراد حساب میں مناقشہ ہے۔ جہاں تک مومن کا تعلق ہے اس کے حساب میں مناقشہ نہیں ہوتا۔ قطر ب نے اس کے بر عکس کہا ہے۔ اور اسے کفار کے علاوہ اہل معاصی کے لیے خاص کیا ہے۔ کہا : معنی ہے جس نے نعمتوں کا انکار کیا اور گناہ کبیرہ کیے۔ نحاس نے کہا : اس آیت کی تفسیر میں جو سب سے عمدہ اور عظیم الشان بات کی جاتی ہے وہ وہ ہے جو اس کے بارے میں روایت کی جاتی ہے کہ حضرت حسن بصری نے کہا : مثلا بمثل، برابر۔ حضرت عائشہ ؓ سے سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :ـجس کا محاسبہ کیا گیا وہ ہلاک ہوگیا (1) (صحیح بخاری، کتاب العلم، من سمع شیاء لھم یفقھہ فراجع، جلد 1، صفحہ 21 ) ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ﷺ ! اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت : فسوف یحاسب حسابا یسیرا (الا نشقاق : 7) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : یہ تو پیشی ہے جس کے حساب کا مناقشہ ہوا وہ ہلاک ہوگیا ـ۔ یہ اسناد صحیح ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ کافر کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، اس کا محاسبہ ہوگا، اس نے جو بھلائی کا عمل کیا ہوگا اس کو ختم کردیا جائے گا۔ پہلے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان واضح کرتا ہے : آیت : ذالک جزینھم بما کفروا۔ دوسرے کے بارے میں یہ قول دلالت کرتا ہے : و ھل نجزی الا الکفور، یجازی کا معنی ہے ہر عمل پر بدلہ دیا جائے گا۔ جزینا ھم کا معنی ہے ہم اسے پورا بدلہ دیں گے۔ یہ لغت میں حقیقی معنی ہے اگرچہ مجازی طور پر جازی، جزی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 34:18وجعلنا بینھم و بین القری التی برکنا فیھا قری ظاھرۃ حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : یعنی یمن اور شام کے درمیان بستیاں جنکے درمیان برکت رکھ دی گئی جیسے شام، اردن اور فلسطین (1) (تفسیر الحسن البصری، جلد 4 صفحہ 322 ) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : برکت جن بستیوں میں رکھی گئی تھی وہ چار ہزار سات سو دیہات تھے۔ ان کے درختوں، پھلوں اور پانی میں برکت رکھ دی گئی تھی۔ یہ بھی احتمال موجود ہے کہ کثرت تعداد کے ساتھ ہم نے ان میں برکت رکھی ہو۔ قری ظاھرۃ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد مدینہ اور شام کا درمیانی علاقہ ہے۔ قتادہ نے کہا : ظاہرۃ کا معنی ہے وہ راستہ پر متصل تھیں۔ وہ صبح چلتے اور ایک بستی میں قیلو لہ کرتے پچھلے پہر چلتے تو رات ایک اور بستی میں گزارتے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : میل پر بستی تھی جس میں منڈی تھی۔ یہی راستہ کے پر امن ہونے کا سبب تھا۔ حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : عورت اپنی سلائی کے ساتھ نکلتی اور اس کے سر پر اس کی ٹو کری ہوتی اور وہ اپنی سلائی سے بنائی کرتی رہتی وہ گھر نہ آتی مگر اس کی ٹوکری ہر قسم کے پھل سے بھر جاتی (2) (ایضا) ۔ شام اور یمن کے درمیان بھی اس طرح کی صورت حال تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ظاہرۃ سے مراد بلند ہے ؛ یہ مبرد کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں ظاہرۃ کہا گیا ہے کیونکہ وہ ظاہر تھے، یعنی جب تاؤو اس سے نکلے گا تو تیرے لیے دوسرا دیہات ظاہر ہوجائے گا۔ وہ بستیاں معروف تھیں یہ جملہ بولا جاتا ہے : ھذا امر ظاہر یعنی یہ امر معروف ہے۔
آیت : و قد رنا فیھا السیر ہم نے ان کی بستیوں اور ان بستیوں جن کو ہم نے با برکت بنا دیا تھا کے درمیان منازل مقدر کردیں یعنی ایک منزل سے دوسری منزل اور ایک بستی سے دوسری بستی کے درمیان مسافت مقدر کردی تھی یعنی دو بستیوں کے درمیان ہم نے نصف یوم کی مسافت مقدر کردی یہاں تک کہ ان کا قیلو لہ ایک بستی میں اور ان کی رات دوسری بستی میں ہوتی تھی۔ انسان رفتار میں تیزی دکھاتا ہے کیونکہ اس کے پاس زادہ راہ نہیں ہوتا اور نہ ہی پانی ہوتا ہے اور راستہ میں خوف بھی ہوتا۔ جب زادہ راہ اور امن پایا جائے تو وہ اپنی ذات پر مشقت نہیں اٹھاتا اور جہاں ارادہ ہوتا وہ فروکش ہوجاتا ہے۔
آیت : سیروا فیھاہم نے انہیں کہا : اس مسافت میں گھومو پھرو۔ یہ امر قدرت دینے کے بارے میں ہے۔ وہ جب بھی ارادہ کرتے تو بڑے امن سے اپنے مقاصد کی طرف چلے جاتے۔ یہ امر خبر کے معنی ہے۔ اس میں قول مضمر ہے۔
آیت : لیالی و ایا ما دونوں طرفیں ہیں۔ امنین حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ لیالی و ایا ما نکرہ کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے کہ ان کا سفر انتہائی مختصر تھا یعنی انہیں طویل سفر کی ضرورت نہ ہوتی کیونکہ جس چیز کی انہیں ضرورت ہوتی وہ وہاں ہی مل جاتی تھی۔ قتادہ نے کہا : وہ خوف بھوک اور پیاس کے بغیر سفر کیا کرتے تھے (3) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 445 ) ۔ وہ ان کے ساتھ چار چار ماہ کا سفر کرتے وہ ایک دوسرے سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرتے اگر کوئی آدمی اپنے باپ کے قاتل کو بھی ملتا تو اسے کچھ نہ کہتا
Ayah 34:19فقالوا ربنا بعد بین اسفا رنا جب انہوں نے تکبر کیا، سر کشی کی، راحت پر اکتا گئے اور امن و عافیت پر صبر نہ کیا تو انہوں نے لمبے سفر اور معیشت میں مشقت کی آرزو کی جس طرح بنی اسرائیل کا قول ہے : آیت : فادع لنا ربک یخرج لنا مما تنبت الا رض من بقلھا (البقرہ : 61) جس طرح نظر بن حارث نے کہا : آیت : اللھمان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء (الانفال : 32) اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کرلی۔ اسے انتقام کے طور پر غزوہ بدر کے موقع پر تلوار سے قتل کردیا گیا۔ اسی طرح یہ لوگ دنیا میں بکھر گئے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان اور شام کے درمیان کے کئی جگلات وسیع بنا دیئے جن میں وہ سواریوں سوار ہوا کرتے تھے اور زادہ راہ ساتھ رکھتے۔ عام قراءت ربنا نصب کے ساتھ ہے کہ یہ منادی مضاف ہے یہ منصوب کیوں کہ یہ مفعول بہ ہے کیونکہ اس کا معنی ہے نادیت، دعوت۔ باعد، انہوں نے اپنے سفروں میں دوری کا سوال کیا۔
ابن کثیر، ابو عمر و، ابن محصین اور ہشام نے ابن عامر سے ربنا قراءت نقل کی ہے اسی طرح دعا کے طریقہ پر بقد قراءت کی یہ تبعید سے مشتق ہے۔ نحاس نے کہا : باعد، بقد دونوں معنی میں ایک ہی ہیں جس طرح تو کہتا ہے قارب، قرب۔ ابو صالح، محمد بن حنفیہ، ابو العالیہ، نصر بن عاصم اور یعقوب اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی قراءت مروی ہے ربنا مر فوع ہے باعد عین اور دال کے فتحہ کے ساتھ یہ ماضی غائب کا صیغہ ہے تقدیر کلام اس طرح ہے لقدباعد ربنا بین اسفار نا گویا اللہ تعالیٰ ارشاد فرما تا ہے : ہم نے ان کے لیے ان کے سفروں کو قریب کردیا تو انہوں نے تکبر کے طور پر کہا : ہم پر ہمارے سفر دور کردیے گئے۔ اس قراءت کو ابو حاتم نے پسند کیا ہے۔ انہوں نے پسند کیا۔ انہوں سفروں کی دوری کو طلب نہیں کیا تھا انہوں نے تکبر اور اپنے کفر پر عجب کا اظہار کرتے ہوئے اس سے بھی قرب کا مطالبہ کیا ہے۔ یحییٰ بن یعمر، عیسیٰ بن عمر اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے قراءت یہ ہے ربنا بقد بین اسفار نا عین مشدد ہے الف نہیں ہے حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہا : انہوں نے شکایت کی کہ ان کے رب نے ان کے سفروں کو دور کردیا ہے۔ سعید بن ابی الحسن جو حضرت حسن بصری (رح) کے بھائی ہیں کی قراءت ہے ربنا بعد بین اسفار نا۔ ربنا یہ منادی مضاف ہے۔ اس کے بعد انہوں نے خبر دی اور کہا : بعد بین اسفارنا، بین کو فعل کے ساتھ رفع دیا تقدیر کلام یہ ہوئی بعد ما یتصل با سفارنا۔ فراء اور ابو اسحاق نے چھٹی قراءت روایت کی ہے جو اس کی مثل ہے جو اس سے قبل ہے۔ جس میں عین مضموم ہے۔ مگر تو بین کی ظرف کی وجہ سے نصب دے گا۔ عربی زبان میں اس کی تقدیر یہ ہوگی بعد سیرنا بین اسفارنا۔
نحاس نے کہا : ان قراءتوں کے معنی جب مختلف ہیں تو یہ کہنا جائز نہیں کہ ان میں سے ایک دوسری سے عمدہ ہے جس طرح اخبار احاد میں یہ نہیں کہا جاتا جب ان کے معنی مختلف ہیں، لیکن ان کے بارے میں انہیں خبر دی کہ انہوں نے اہنے رب سے دعا کی کہ وہ ان کے سفروں میں دوری پیدا کر دے ان کی یہ دعا سر کشی اور تکبر کے طور پر تھی۔ ان کے بارے میں یہ خبر دی جب اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا تا اس کے بارے میں انہیں خبر دی گئی اور انہوں نے شکایت کی، جس طرح ابن عباس ؓ نے کہا۔
آیت : و ظلموا انفسھم انہوں نے کفر اختیار کرتے ہوئے اپنے اوپر ظلم کیا۔ آیت : فجعلنھم احادیث ہم نے ان کو اس طرح بنا دیا کہ ان کی باتیں کی جاتی ہیں۔ عربی زبان میں اس کی تقدیر ہے ذوی احادیث۔
آیت : و مذقنھم کل ممذق جب انہیں لاحق ہوا جو انہیں لاحق ہوا وہ بکھر گئے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ شعبی نے کہا : انصار یثر ب آگئے، غسان شام چلے گئے، اسد عمان چلے گئے، خزاعہ تہا مہ چلے گئے عرب ان کے بارے میں مثال ذکر کرتے تھے اور کہتے : تفرقوا ایدی سبا و ایادی سبا کے مذہب اور ان کے راستوں پر بکھر گئے۔ ان فی ذالک لا یت لکل صبارشکور۔ صبار اسے کہتے ہیں جو معاصی سے رکتا ہے۔ یہ صابر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اس اسم کے ساتھ اس کی مدح بیان کی جاتی ہے۔ اگر تو یہ ارادہ کرے کہ اس نے معصیت سے صبر کیا ہے تو اس میں استعمال نہیں کیا جاتا مگر صبار عن کذا، شکور وہ نعمتوں پر شکر بجا لانے والا ہے۔ سورة بقرہ میں یہ معنی گزر چکا ہے۔
Ayah 34:20آیت : ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ اس میں چار قرائتیں ہیں۔ ابو جعفر، شیبہ، نافع، ابو عمر و، ابن کثیر اور ابن عامر، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے انہوں نے یہ قراءت کی ہے آیت : ولقد صدق علیھم تخفیف کے ساتھ قراءت کی۔ ابلیس رفع کے ساتھ ظنا ظنہ اذ صدق فی ظنہ اسے مصدر یا ظرف کے طریقہ پر نصب دی۔ ابو علی نے کہا : ظنہ یہ منصوب ہے کیوں کہ یہ مفعول بہ ہے، یعنی شیطان جو گمان کیا اس کو سچ کر دکھایاجب اس نے کہا : آیت : لاقعدن لھم صراطک المستقیم (الا عراف) جب اس نے کہا : آیت : لا غو ینھم اجمعین (الحجر) یہ صدق فی الحدیث ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ ، یحییٰ بن وثاب، اعمش، عاصم، حمزہ اور کسائی نے صدق تشدید کے ساتھ اور ظنہ نصب کے ساتھ قراءت کی ہے کیونکہ اس پر فعل واقع ہوا ہے۔ مجاہد نے کہا : اس نے گمان کیا تو معاملہ اس طرح ہوا جس طرح اس نے گمان کیا تو اس نے اپنے گمان کو سچ کر دکھا یا۔ جعفر بن محمد اور ابو الجباج نے صدق علیھم تخفیف کے ساتھ، ابلیس کو نصب اور ظنہ رفع کے ساتھ قراءت کی ہے۔
ابو حاتم نے کہا : میرے نزدیک اس قراءت کی کوئی تو جیہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ فراء نے اس قراءت کو جائز قرار دیا ہے۔ زجاج نے اس کا ذکر کیا اور ظن کو صدق کا فاعل بنایا ہے اور ابلیس کو مفعول بہ بنایا ہے معنی ہے ابلیس، اس کے لیے اس کے گمان نے کسی شئے کو آراستہ کر کے پیش کیا تو اس کا گمان سچا ہوگیا۔ گویا کہا : ان پر ابلیس کا گمان سچ ہوگیا۔ علی صدق کے متعلق ہے، جس طرح تو کہتا ہے : صدقت علیک فیما ظننتہ بک میں نے تیرے بارے میں جو گمان کیا تو نے اسے اپنے آپ پر سچ کر دکھایا۔ تو ظن کے متعلق نہ کر کیونکہ کے صلہ میں سے کسی چیز کو موصول پر مقدم کرنا محال ہے۔ چوتھی قراءت یہ ہے آیت : ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ ابلیس اور ظن دونوں مرفوع ہیں، صدق میں تخفیف کے ساتھ قراءت کی ہے۔ اس صورت میں ظنہ یہ ابلیس بدل ہے اور بدل اشتمال ہے پھر کہا گیا : یہ اہل سبا کے بارے میں ہے یعنی انہوں نے کفر کیا، تبدیلی کی اور بدل دیا بعد اس کے وہ مومن تھے مگر ان میں سے ایک مومن جماعت تھی جو اپنے رسولوں پرا یمان لائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عام ہے یعنی ابلیس نے اپنا گمان تمام لوگوں پر سچ کر دکھا یا مگر جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت سے اتارا ان کے ساتھ حضرت حوا تھیں اور ابلیس بھی نیچے اترا، تو اس نے کہا : جب میں نے والدین تک رسائی حاصل کرلی ہے تو اولاد تو بہت ہی کمزور ہے۔ یہ ابلیس کی جانب سے ظن تھا (1) (تفسیر الحسن البصری، جلد 4، صفحہ 323 ) ۔ اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کو نازل فرمایا : آیت : ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ابلیس نے کہا : میں آگ سے پیدا کیا گیا ہوں اور حضرت آدم مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں آگ ہر شئے کو جلا دیتی ہے (2) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 447 ) ۔ آیت : لا حتنکن ذریتہالا قلیلا (الاسرائ) شیطان نے اس پر اپنے گمان کو سچ کر دکھایا۔ زید بن اسلم نے کہا : ابلیس نے کہا : اے میرے رب ! یہ وہ لوگ ہیں جن کو تو نے عزت بخشی انہیں شرف سے نوازا اور مجھ پر فضیلت دی تو ان میں سے اکثر شکر گزار نہیں پائے گا (3) (ایضا) ۔ یہ اس کی طرف سے ظن تھا ابلیس نے ان پر اپنا ظن سچ کر دکھایا۔
قلبی نے کہا : اس نے یہ گمان کیا تھا اگر اس نے ان کو اغوا کیا تو وہ اسے جواب دیں گے۔ اگر اس نے ان کو گمراہ کیا تو وہ اس کی اطاعت کریں گے تو اس نے اپنا گمان سچ کر دکھایا۔ آیت : فاتبعوہ حضرت حسن بصری (رح) نے انہیں کہا : شیطان نے انہیں ڈنڈے اور عصا سے نہیں مارا اس نے جو گمان بھی دلایا اپنے وسوسہ ڈالنے کے ساتھ گمان دلایا (4) (تفسیر الحسن البصری، جلد 4، صفحہ 323 ) ۔ آیت : الا فریقا من المومنین یہ استثنا کے طور پر منصوب ہے۔ اس میں دو قول ہیں : اس سے بعض مومن مراد ہیں، کیونکہ کثیر مومن گناہ کرتے ہیں اور بعض معاصی میں ابلیس کی اقتدا کرتے ہیں یعنی مومنوں میں سے ایک جماعت کے سوا کوئی محفوظ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت : ان عبادی لیس لک علیھم سلطان (الحجر : 42) سے یہی مراد ہے جہاں تک حضرت ابن عباس ؓ کا تعلق ہے۔ ان سے یہ مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : وہ سب مومن ہیں، پس من بیانیہ ہے بعضیہ نہیں ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے : ابلیس کو اپنے گمان کے سچا ہونے کا کیسے پتہ چلا جب کہ وہ غیب نہیں جانتا ؟ اسے کہا جائے گا : جب حضرت آدم (علیہ السلام) میں اس کا امر نا فذ ہوگیا جو نافذ ہوگیا تو اس نے گمان کیا کہ اس کی اولاد میں بھی اس کی مثل نافذ ہوجائے گا۔ اس نے جو گمان کیا تھا وہ نافذ ہوگیا۔ ایک اور جواب بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں دیا گیا : آیت : واستفذزمن استطعت منھم بصوتک و اجلب علیھم بخیلک و رجلک (الاسرائ : 64) اللہ تعالیٰ نے اسے قوت اور اسے استطاعت عطا فرمائی اس نے گمان کیا کہ وہ اس کے ذریعیان سب کا مالک ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) پر نظر رحمت کی اور عنقریب اس کی نسل ہوگی جو جنت تک اس کی پیروی کرے گی اور کہا : آیت : ان عبادی لیس لک علیھم سلطن الا من اتبعک من الغوین (الحجر) اسے علم ہوگیا کہ اس کے بھی پیرو کار ہیں اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے بھی پیر و کار ہیں، تو اس نے گمان کیا کہ اس کے پیرو کار حضرت آدم (علیہ السلام) کے پیروکاروں سے زیادہ ہیں۔ کیونکہ اس کے ہاتھوں میں شہوات کی قوت رکھ دی گئی اور شہوات لوگوں کے پیٹوں میں رکھ دی گئیں۔ جب اس نے ان میں پھونکا اور ان کی نظروں میں ان شہوات کو مزین کیا اور انہیں ان خواہشات کی طرف جھوٹی آرزئوں اور دھو کوں سے آمادہ کیا تو اس نے جو گمان کیا تھا وہی نکلا تو اس نے جو گمان کیا تھا اس گمان کو اس پر سچ کر دکھایا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Ayah 34:21آیت : وما کان لہ علیھم من سلطن ابلیس نے انہیں کفر پر مجبور نہیں کیا، اس کی طرف سے صرف دعوت اور تزیین تھی۔ سلطان کا قوت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس سے مراد حجت ہے، یعنی اس کے پاس کوئی ایسی حجت نہیں تھی جو ان سے مطالبہ کرے کہ وہ اس کی اتباع کریں انہوں اس کی پیروی شہوت، تقلید اور خواہش نفس کی بناء پر کی، صحبت اور دلیل کی بناء پر نہ کی۔
آیت : الا لنعلم من یو من بالا خرۃ اس سے مراد علم شہادت جس کے ساتھ ثواب اور عقاب واقع ہوتا ہے، جہاں تک علم غیب کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ فراء کا مذہب ہے کہ معنی ہو کہ ہم اسے تمہارے پاس جانیں، جس طرح فرمایا : آیت : این شرکاءی (النحل : 27) تمہارے قول اور تمہارے ہاں جو شریک ہیں وہ کہاں ہیں ؟ الا لنعلم یہ ظاہر میں آیت : و ما کان لہ علیھم من سلطن کا جواب نہیں۔ یہ معنی پر محمول ہے، یعنی ہم نے اس کے لیے سلطان نہیں بنائی مگر اس لیے کہ ہم جان لیں، استثناء منقطع ہے یعنی اسے ان پر کوئی تسلط اور قابو نہیں تھا لیکن ہم نے انہیں اپنے وسوسہ کے ساتھ آزمایا تاکہ ہم جان لیں۔
الا یہ لکن کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ استثناء متصل ہے، معنی ہوگا اسے ان پر کوئی قابو نہ تھا سوائے اس کے ہم نے اسے ان پر مسلط کیا تاکہ آزمائش مکمل ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کان زائدہ ہے تقدیر کلام یہ ہوگی مالہ علیھم من سلطن جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : کنتم خیر امۃ (آل : 110) یعنی تم بہترین امت ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا : جب اس کی طرف سبا کے قصہ کے ساتھ متصل ہے تو کہا : ابلیس کو ان کفار پر کوئی سلطان نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : ہمارے سابقہ فیصلہ کے مطابق اسے ان پر کوئی تسلط حاصل نہیں تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ـ: الا لنعلم یہ الا لنظھر کے معنی میں ہے۔
یہ اس طرح ہے جس طرح تو کہتا ہے : النار تحرق الحطب ایک اور کہتا ہے : نہیں بلکہ الحطب یحرق النار تو پہلے کہتا ہے : آو تاکہ ہم آگ اور حطب کا تجر بہ کریں تاکہ ہم جان لیں کون کس کو جلاتا ہے یعنی ہم سے ظاہر کریں اگرچہ انہیں یہ معلوم ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا : تاکہ تم جان لو۔ ایک قول یہ کیا گیا : تاکہ تمہارے اولیاء اور ملائکہ اس کو جان لیں، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : انما جذوا الذین یحاربون اللہ و رسولہ (المائدہ : 33) یہاں بھی یہ یحاربون اولیاء اللہ و رسولہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : لیعلم کا معنی لیمیذ ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : لیمیذا للہ ا لخبیث من الطیب (الانفال : 37) یہ معنی سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں گزر چکا ہے۔ زہری نے اسے لیعلم مجہول کا صیغہ پڑھا ہے۔ آیت : و ربک علی کل شیء حفیظ وہ ہر شئے کو جانتا ہے۔ وہ بندہ کے عمل کو محفوظ رکھتا ہے تاکہ اسے بدلہ عطا کرے۔
Ayah 34:22آیت : قل الد عو الذین زعمتم من دون اللہ یہ ہی وہ چیز ہے جس کا ذکر گزر چکا ہے یعنی حضرت داود (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور سبا کے قصہ میں میری قدعت کے آثار گزر چکے ہیں۔ اے محمد ﷺ ! آپ ان مشرکوں سے کہیں : کیا تم جن کو شریک بناتے ہوا نہیں بھی ان چیزوں پر قدرت حاصل ہے۔ یہ خطاب تو بیخ کے لیے ہے۔ اس میں کلام مضمر ہے۔ آیت : قل ادعوا الذین زعمتم انھم آلھۃ لکم من دون اللہ یعنی انہیں بلائو جنہیں تم معبود گمان کرتے ہوا للہ کے سوا تاکہ تمہیں نفع دیں اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں جو فیصلہ کیا ہوا ہے اس سے تم کو بچا سکیں وہ تو اس کے مالک نہیں۔
آیت : لا یملکون مثقال ذرتہ فی السموت ولا فی الارض ومالھم فیھا من شرک و ما لہ منھم من ظھیر یعنی ان میں سے کوئی بھی کسی شئے کو پیدا کرنے میں مددگار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا ایجاد کرنے والا ہے وہ ایسی ذات ہے جس کی عبادت کی جاتی ہے اور غیر کی عبادت محال ہے۔