Ayahs 27:65–66قل لایعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ بعض سے مروی ہے : اللہ تعالیٰ نے اپنے غیب کو مخلوق سے مخفی رکھا کوئی اس پر مطلع (1) نہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت کریمہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے نبی کریم ﷺ سے قیامت کے برپا ہونے کے بارے میں سوال کیا۔ من محل رفع میں ہے معنی ہے کہہ دیجیے : اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب کو نہیں جانتا۔ کیونکہ لفظ اللہ اسم جلالت من کا بدل ہے، یہ زجاج اور فراء کا قول ہے۔ الا کے مابعد کو رفع دیا کیونکہ اس سے ماقبل کلام منفی ہے جس طرح اس کا قول ہے ماذھب احد الابوک معنی ایک ہی ہے۔ زجاج نے کہا : جس نے اس کو نصب دی ہے اس نے استثناء کے طور پر نصب دی ہے۔ نحاس نے کہا : جو آدمی منجم کی تصدیق کرتا ہے میں نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے سنا کہا : مجھے خوف آتا ہے کہ وہ آیت کی وجہ سے کفر کا ارتکاب کر رہا ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ بحث سورة الانعام میں مفصل گزر چکی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : جس نے یہ گمان کیا کہ حضرت محد ﷺ جانتے ہیں کہ کل کیا ہوگا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرما ات ہے : قل لایعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ۔ امام مسلم نے اسے نقل کیا ہے۔ یہ روایت بیان کی گی ہے کہ حجاج کے پاس ایک منجم آیا حجاج نے اسے روک لیا پھر کنکریاں لیں اور انہیں گنا پھر پوچھا : میرے ہاتھ میں کتنی کنکریاں ہیں ؟ منجم نے حساب لگایا پھر کہا : اتنی۔ تو درست جواب دیا پھر اسے روک لیا کنکریاں لیں انہیں شمار نہ کیا پوچھا : میرے ہاتھ میں کتنی کنکریاں ہیں ؟ اس نے حساب لگایا تو غلطی کی پھر حساب لگایا تو غلطی کی پھر اس نے کہا : اے امیر ! میرا گمان ہے تو عدد کو نہیں جانتا۔ حجاج نے کہا : نہیں۔ نجومی نے کہا، تو پھر میں صحیح جواب نہیں دے سکتا۔ اس نے کہا، وجہ کیا ہے ؟ نجومی نے کہا، اگر تو انہیں شمار کرلیتا تو یہ غیب کی حد سے نکل جاتا انہیں تو نے شمار نہیں کیا تو یہ غیب ہے قل لا یعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ یہ بحث سورة آل عمران میں گزر چکی ہے۔
بل ادرک علمھم فی الاخرۃ اکثر قراء کی قرأت ہے، ان میں عاصم، شیبہ، نافع، یحییٰ بن وثاب، اعمش، حمزہ اور کسائی ہے۔ ابو جعفر، ابن کثیر، ابو عمرو اور حمید نے بل ادرک قرأت کی ہے یہ ادرک سے مشتق ہے۔ عطا بن یسار، اس کے بھائی سلیمان بن یسار اور اعمش نے اسے بل ادرک ہمزہ کے بغیر اور مشدد پڑھا ہے۔ ابن محیصن نے بل ادرک استفہا کے طریقہ پر قرأت کی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بلی قرأت کی یعنی یاء کو ثابت رکھا۔ ادارک ہمزہ قطعی ہے دال مشدد ہے اس کے بعد الف ہے۔ نحاس نے کہا : اس کی اسناد اسناد صحیح ہے یہ شعبہ کی حدیث سے ہے جسے وہ حضرت ابن عباس ؓ تک مرفوع نقل کرتے ہیں۔ ہارونقاری نے روایت نقل کی ہے : ابی کی قرأت بل تدارک علمھم ہے۔ ثعلبی نے حکایت کی ہے ابی کی قرأت میں ام تدارک ہے عرب ام کی جگہ بل اور بل کی جگہ ام رکھتے ہیں جب کلام کے شروع میں استفہام ہو۔ جس طرح شاعر کا قول ہے :
فو اللہ لا ادری اسلمی تغولت ام القول ام کل الی حبیب
یہاں ام کل، بل کل کے معنی میں ہے۔ ناس نے کہا، پہلی قرأت اور آخری قرأت کا معنی ایک ہی ہے۔ کیونکہ ادراک کا اصل تدارک ہے دال کو تاء میں ادغام کیا اور الف وصول کو لائے۔ اس کے منی میں دو قول ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے بلکہ ان کا علم آخرت میں مکمل ہوگیا کیونکہ انہوں نے جب ہر چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا جن کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو اس کے متعلق ان کا علم مکمل ہوگیا۔ دوسرا قول یہ ہے معنی ہے آخرت کے بارے میں ان کا علم آج پے در پے ہے۔ انہوں نے کہا : وہ ہوگی اور انہوں نے کہا : نہیں ہوگی۔ اس کی دوسری قرأت میں بھی دو معنی ہیں (1) اس کا معنی ہے آخرت میں کامل ہوگیا، یہ پہلے کی مثل ہے۔ مجاہد نے کہا : آخرت کے بارے میں ان کا علم احاطہ کرنے والا ہے، وہ اسے جانتے ہیں جب وہ اسے دیکھیں گے اس وقت اس کا علم انہیں کوئی نفع نہ دے گا، کیونکہ وہ دنیا میں جھٹلانے والے تھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ انکار کے طریقہ پر ہے، یہ ابو اسحاق کا مذہب ہے اس قول کی صحت پر یہ استدلال کیا گیا ہے کہ اس کے بعد بل ھم منھا عمون یعنی ان کا علم آخرت کے علم کا احاطہ کرنے والا نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بلک ہان کا آخرت کے بارے میں علم کم ہوگیا اور غائب ہوگیا ان کا اس میں کوئی علم نہیں۔ تیسرای قرأت بل ادرک یہ بل ادارک کے معنی میں ہے۔ بعض اوقات افتعل اور تفاعل ایک ہی معنی میں ہوتے ہیں اس وجہ سے اذدوجوا کا لفظ صحیح ہوتا ہے جب وہ تزاوجوا کے معنی میں ہو۔ چوتھی قرأت : اس میں ایک ہی قول ہے : اس میں انکار کا معنی پایا جاتا ہے جس طرح تو کہتا ہے : انا قاتلتک ؟ تو معنی ہوگا اس نے ادراک نہ کیا، اسی کی طرف حضرت ابن عباس ؓ کی قرات لوٹتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : بلی ادارک علمھم فی الٓخرۃ یہ لم یدرک کے معنی میں ہے۔ فراء نے کہا، یہ اچھا قول ہے گویا بعث کے انکار والوں کی طرف استہزاء کو متوجہ کیا۔ جس طرح تیرا ایسے آدمی کے بارے میں قول جس کو تو جھٹلاتا ہے : بلی لعمری قداد رکت السلف فانت تردی مالا اروی کیوں نہیں تو نے اسلاف کو پایا تو روایت کرتا ہے جو میں روایت نہیں کرتا جب کہ تو اس کو جھٹلا رہا ہوتا ہے۔ ساتویں قرأت : بل ادرک ہے لام پر فحتہ ہے فتحہ کی طرف اس لئے عدول کیا ہے کیونکہ یہ خفیف ترین حرکت ہے۔ قطرب سے اس کی مثل قم الیل (المزمل : 2) میں مروی ہے، کیونکہ اس میں فتحہ کی طرف عدول کیا گیا ہے۔ اسی طرح وبع الثوب وغیرہ میں ہے۔ زمحشری نے کتاب میں کہا : بل ادرک دو ہمزوں کے ساتھ اسے پڑھا گیا ہے اسی طرح بل آدرک درمیان میں الف ہے بلی ادرک، ام تدارک ام ادرک یہ بارہ قرآئتیں ہیں۔ پھر قرائتوں کی صورتوں کی علتیں بیان کیں۔ کہا، اگر تو کہے بل ادرک استفہام کے ساتھ قرأت کی وجہ ہے ؟ میں نے کہا، یہ استفہا انکار کے طریقہ پر ہے ان کے علم کے ادراک کی وجہ سے۔ اسی طرح جس نے پڑھا ام ادرک اور ام تدارک کیونکہ یہ ام ہے جو بل اور ہمزہ کے معنی میں ہے۔ جس نے پڑھا بلی ادرک استفہام کے طریقہ پر تو معنی ہوگا کیوں نہیں وہ شعور رکھتے ہیں کہ کب ان کو اٹھایا جائے گا ؟ اس کے وقع کے وقت ان کے علم کا انکار کیا۔ جب اس کے واقع ہونے کے وقت اس کے علم کا انکار کیا تو اس کے وقوع کے وقت کا شعور انہیں نہیں حاصل نہ ہوا کیونکہ کسی ہونے والی چیز کے وقت کا علم اس چیز کے ہونے کے علم کے تابع ہے۔ فی الاخرۃ یعنی آخرت کے متعلق۔
بل ھم فی شک منھا یعنی دنیا میں اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں : بل ھم منھا عمون بلکہ وہ اس کے بارے میں دل سے اندھے ہیں۔ اس کا واحد عمو ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عم ہے اصل میں عمیون تھا اجتماع ساکنین کی وجہ سے یاء کو حذف کیا گیا حرکت کے ثقیل ہونے کی وجہ سے حرکت دینا جائز نہیں۔
Ayah 27:67وقال الذین کفرواء یعنی مشرکین مکہ۔ اذا کنا ترباً وابآئونا ائنا المخرجون نافع یہاں اور سورة عنکبوت میں اسی طرح قرأت کیا کرتے تھے۔ ابو عمرو نے دونوں استفہاموں کے ساتھ پڑھا ہے مگر ہمزہ میں تخفیف کی ہے۔ عاصم اور حمزہ نے دو ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے مگر دونوں ہمزہ کو ثابت رکھتے ہوئے پڑھا ہے۔ دونوں صورتوں میں جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ سب ایک ہی ہے۔ کسائی، ابن عامر، رویس اور یعقوب نے ائذا دو ہمزوں کے ساتھ قرأت کی ہے۔ ائنا دونونون کے ساتھ اس صورت میں خبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ سورة عنکبوت میں دو استفہاموں کے ساتھ ہے۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : قرأت اذکنا تراباوآبائونا ائنا لمخرجون خط کی مواقف بہت اچھی ہے۔ ابو حاتم نے اس میں اس کے ساتھ معارضہ کیا ہے اور کہا یہ اس کے کلام کا معنی ہے۔ اذا استفہام نہیں آئنا استفہام ہے اس میں ان ہے تو یہ کیسے جائز ہے کہ وہ اس میں عمل رے جو اس سے قبل استفہام کی حیز میں ہے ؟ جب اس میں یہ استفہام ہو تو پھر یہ بہت ہی بعیدی صورتحال ہوگی جب اس کے بارے میں سوال ہو تو یہ اس وجہ سے سے مشکل ہوگا جو ہم نے ذکر کیا۔
ابو جعفر نے کہا : میں نے محمد بن ولید کو کہتے ہوئے سنا ہم نے ابو العباس سے قرآن کی آیت میں موجود ایک مشکل کے بارے میں سوال کیا وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : وقال الذین کفرواھل ندلم علی رجل یمیتکم اذا مزقتم کل ممزق انکم لفی خلق جدید۔ (سبا) کہا اذا میں ینبئکم کا عملمحال ہے، کیونکہ وہ اس وقت انہیں آگاہ کرے گا۔ اگر اس میں انکا مابعد اس میں عمل کرے تو معنی صحیح ہوگا اور لغت عرب میں غلط ہے کہ ان کا ماقبل اس کے مابعد میں عمل کرے یہ واضح سوال ہے۔ میری رائے تھی کہ اسے اس سورت میں ذکر کیا جائے جہاں یہ آیت ہے جہاں تک ابوعبید کا تعق ہے تو وہ نافع کی قرأت کی طرف مائل ہوا ہے اور جنہوں نے دونوں استفہاموں کو جمع کیا ہے ان کا رد کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے : افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم (آل عمرا ان : 144) اور اللہ تعالیٰ کے فرمان : افائن مت فھم الخلدون۔ (الانبیائ) سے استدلال کیا ہے، یہ ابو عمرو، عاصم، حمزہ طلحہ اور اعرج کا رد ہے۔ اس سے کوئی چیز لازم نہیں آتی اور آیت میں جو کچھ آیا ہے اس کے مشابہ بھی کوئی چیز نہیں دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ شرط اور اس کا جواب دونوں ایک شے کے قائم مقام ہیں۔ افائن مت فھم الخلدون کا معنی ہے افان مت خلدو اس کے مثل ازید منطلق ہے یہ نہیں کہا جاتا ازیدا منطلق کیونکہ یہ دونوں ایک چیز کے قائم مقام ہیں آیت اس طرح نہیں کیونکہ دوسرا جملہ مستقل جملہ ہے۔ اس میں استفہام درست ہے اور پہلا جملہ بھی مستقل کلام ہے اس میں بھی استفہام درست ہے۔ جس نے دور سے سے استفہار کو حذف کیا اور پہلے میں ثابت رکھا تو اس نے پڑھا ائذا کنا ترابا و ابائونا اننا دوسرے سے اسے حذف کردیا کیونکہ کلام میں اس پر دلیل ہے جو انکار کے معنی میں ہے۔
Ayahs 27:68–71لقد وعدنا ھذا نحن و ابآئونا من قبل ان ھذا الا اساطیر الاولین سورة مومنوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ انبیاء تحذیر میں مبالغہ کے لئے بعث کے معاملہ کو قریب کرتے پیش کر کے تھے ہر وہ چیز جو آنے والی ہو وہ قریب ہی ہوا کرتی ہے۔
Ayahs 27:72–73قل عسی ان یکون ردف لکم تمہارے قریب آگیا ہے بعض الذی تستعجلون مراد عذاب ہے۔ عذاب قریب آگیا، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ یہ ردفہ سے مشتق ہے جب وہ اس کی پیروی کرے اور اس کے پیچھے آئے۔ لام داخل ہوا ہے کیونکہ معنی ہے اقترب لھم و دنالکم یا یہ مصدر کے متعلق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے معکم تمہارے ساتھ۔ ابن شجرہ نے کہا : معنی ہے تبعکم اس سے ردف المرأۃ ہے عورت کا پٹھا کیونکہ یہ اس کا تابع ہوتا ہے۔ اس معنی میں ابو ذئویب کا قول ہے :
عاد السواد بیاضاً فی مقارقہ لا مرحبا ببیاض الشیب اذ ردفا
سیاہی اس کی مانگ میں سفیدی کی شکل میں لوٹ آئی بڑھاپے کی سفیدی کو کوئی خوش آمدید نہ ہو جب وہ اسے بعد میں لاحق ہو۔
جوہری نے کہا : وأردفہ امریہ ردفہ میں ایک لغت ہے جس طرح تبعہ واتبعہ دونوں کا معنی ایک ہے خزیمہ بن مالک نہدی نے کہا :
اذا الجوزاء اردفت التریا ظننت بآل فاطمۃ الظنونا
جب جوزاء ستارہ ثریا کو پیچھے سے آ کر ملا تو میں آل فاطمہ کے بارے میں گمانات کا شکار ہوگیا۔
یہاں فاطمہ بنت یذکر بن عنزہ مراد ہے جو قارظین میں سے ایک تھا۔ فراء نے کہا : ردف لکم تمہارے قریب ہوگیا۔ اسی وجہ سے کہا : لک۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ردفہ اور ردف لہ دونوں ایک معنی میں ہیں لام تاکید کے لئے زائد ہے، فراء سے بھی یہ قول منقول ہے جس طرح تو کہتا ہے : نقدتہ نقدت لہ، کلتہ، وزنتہ، کلت لہ، وزنت لہ اس کی مثل دوسرے افعال ہیں۔ بعض الذی تسعجلون مراد عذاب ہے جس کی تم جلدی مچاتے ہو یہ یوم بدر کو واقع ہوا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد عذاب قبر ہے۔ وان ربک لذو فضل علی الناس وہ سزا میں تاخیر کرتا ہے اور رزق میں فراخی پیدا کرتا ہے، اس پر فضل فرمانے والا ہے۔ ولکن اکثرھم لاشکرون وہ اس کے فضل اور نعمتوں کا شکر بجا نہیں لاتے۔
Ayah 27:74و ان ربک لیعلم ماتکن صدورھم و ما یعلنون ان کے سینے جس کو چھپائے ہوئے ہیں تیرا رب اسے جانتا ہے اور جن امور کو وہ ظاہر کرتے ہیں اسے بھی جانتا ہے۔ ان محیصن اور حمید نے ماتکن پڑھا ہے یہ کننت الشیء سے مشتق ہے جب تو اسے چھپائے۔ قصص میں ہے تقدیر کلام ہے تکن صدورھم علیہ گویا سینوں میں جو چیز پوشیدہ ہے وہ باقی ماندہ جس کی طرح ہے جس نے تکن پڑھا جب کہ یہی قرأت معروف ہے یہ جملہ بولا اجتا ہے : اکنت الشیئی جب تو اسے اپنے دل میں چھپائے۔
Ayah 27:75ومامن غآئبۃ فی السمآء والارض الا فیکتب مبین حضرت حسن بصری نے کہ، یہاں غائبہ سے مراد قیامت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آسمان اور زمین کے عذاب میں سے جو ان سے غائب ہے وہ مراد ہے، نقاش نے یہ بیان کیا ہے۔ ابن شجرہ نے کہا : غائبہ سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق سے پوشیدہ اور غائب رکھا ہے یہ عام ہے۔ غائبہ کے آخر میں ھاء داخل ہے یہ جمع کی طرف اشارہ ہے تو یہ لوگ جسے پوشیدہ رکھتے ہیں یا اس کا اظہار کرتے ہیں وہ کیسے اس پر مخفی ہوگا ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہر شے جسے ام الکتاب میں ثبت کیا ہے وہ اسے اجل مئوجل کے لئے نکالتا ہے۔ جس عذاب کی وہ جلدی مچاتے ہیں وہ بھی اجل مضروب ہے وہ وقت نہ پہلے ہو سکتا ہے نہ پیچھے ہو سکتا ہے۔ کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا اس کو اس میں ثبت فرمادیا تاکہ ملائکہ میں سے جس کے بارے میں چاہتا ہے اس آگاہ کرے۔
Ayahs 27:76–81ان ھذا القران یقص علی بنی اسرآئیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون اس لئے کیونکہ انہوں نے بہت سی اشیاء میں اختلفا کیا ہیاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے کو لعن طعن کیا معنی ہے یہ قرآن ان کے لئے ان چیزوں کو بیان فرماتا ہے جس میں انہوں نے اختلاف کیا اگر ان کا اس کے بدلہ میں مواخذہ کیا جائے۔ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں تو رات و انجیل میں سے جن میں انہوں نے تحریف کی اور ان کی کتابوں میں سے جو احکام ساقط ہوگئے وانہ لھدی و رحمۃ للمومنین قرآن ہدایت اور مومنوں کے لئے رحمت ہے مومنوں کو خاص کیا کیونکہ وہ اس سے انتفاع کرنے والے ہیں۔ ان ربک یقضی بینھم بحکمہ جن امور میں بنی اسرائیل اختلاف کرتے رہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان میں فیصلہ فرمائے گا۔ وہ حق پرست اور باطل پرست میں فیصل ہفرمائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ان کے درمیان دنیا میں ہی فیصلہ فرما دے گا انہوں نے جو جو تحریف کی اللہ تعالیٰ اسے ظاہر فرما دے گا۔ وھو العزیز العلیم وہ غالب ہے جس کا امر رد نہیں کیا جاسکتا اور اس پر کوئی شے مخفی نہیں۔
فتوکل علی اللہ اپنا امر اس کے سپرد کر دے اور اسی پر بھروسہ کر کیونکہ وہی تیرا مددگار ہے۔ انک علی الحق المبین تو ظاہر حق پر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو صحیح جاننا چاہتا ہے اس پر وہ ظاہر کرنے والا ہے انک لاتسمع الموتی موتیٰ سے مراد کفار ہیں کیونکہ انہوں نے تدبر کرنا چھوڑ دیا ہے وہ مردوں کی طرح ہے ان میں کوئی حس اور عقل نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ ان کفار کے بارے میں ہے جن کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ولاتسمع الصم الدعآء یعنی ایسے کفار کو دعوت نہیں سنا سکتے جو نصیحت قبول کرنے کے اعتبار سے بہروں کی طرح ہیں۔ جب انہیں بھلائی کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو اعراض کرتے ہیں اور منہ پھیر لیتے ہیں گویا وہ سنتے ہی نہیں۔ اس کی مثل صم بکم عمی ہے جس طرح بات پہلے گزر چکی ہے۔ ابن محیصن، حمید، ابن کثیر، ابن ابی اسحاق اور عباس نے ابو عمرو سے قرأت نقل کی ہے ولا یسمع یاء اور میم پر فتحہ ہے۔ الصم مرفوع ہونے کے اعتبار سے فاعل ہے۔ باقی قراءت سمع قرأت کرتے ہیں یہ اسمعتکا مضارع ہے اور الصم منصوب ہے۔
مسئلہ :۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے سماع موتی کا انکار کیا اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بدر کے مردوں کو اپنا کلام سنایا تھا آپ نے اس امر میں قیاس عقلی سے استدلال کیا ہے اور اس آیت پر وقوف کیا جب کہ نبی کریم ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : ماأانتم باسمع منھم (1) تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں۔ ابن عطیہ نے کہا، اس سے یہ شبہ لاحق ہوتا ہے کہ بدر کا واقعہ حضرت محمد ﷺ کے لئے معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان مردوں کی طرف ادراک کی صلاحیت کو لوٹایا ہو جن کی وجہ سے انہوں نے حضور ﷺ کا مقال سہنا ہو اگر حضور ﷺ ان کے سننے کی خبر نہ دیتے تو ہم اس ندا کو ان کافروں کے لئے تو بیخ کے معنی پر محمول کرتے جو دنیا میں باقی تھے اور مومنوں کے دلوں کی شفا پر محمول کرتے۔
میں کہتا ہوں : امام بخاری ؓ نے روایت نقل کی ہے کہ عبداللہ بن حمد نے روح بن عبادہ سے سنا کہا ہم نے سعید بن ابی عروبہ سے انہوں نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت انس بن مالک نے حضرت ابو طلحہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یوم بدر کو قریش کے چوبیس سرداروں کے بارے میں حکم دیا تو انہیں بدر کے بےآباد کنوئوں میں سے ایک کنوئیں میں پھینک دیا گیا (2) حضور ﷺ جب کسی قوم پر غلبہ حاصل کرتے تو وہاں تین دن قیام فرماتے جب بدر میں تیسرا دن تھا تو آپ نے سواری کو تیار کرنے کا حکم دیا تو اس پر کجاوا کس دیا گیا پھر آپ چلے اور آپ کے صحابہ آپ کے پیچھے تھے۔ انہوں نے کہا، ہمار ایہ خیال تھا کہ آپ کسی حاجت کے لئے چلے ہیں یہاں تک کہ آپ اس کنوئیں کے کنارے کھڑے ہوگئے آپ انہیں ان کے ناموں اور ان کے آباء کے ناموں کے ساتھ پکارنے لگے :” اے فلاں بن فلاں ! اے فلاں بن فلاں ! کیا تمہیں یہ بات خوش کرتی ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی ؟ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا ہم نے اسے حق پایا کیا تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو ودہ کیا ہے اس کو حق پایا ہے ؟ “ حضرت عمر ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ایسے جسموں سے گفتگو کر رہے ہیں جن میں روحیں نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! جو میں انہیں کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ سننیوالے نہیں۔ “ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حضور ﷺ کا قول سنایا مقصود انہیں شرمندہ کرنا، ان کی حقارت بیان کرنا، ان سے انتقام لینا، حسرت کا اظہار کرنا اور انہیں شرمندہ کرنا تھا۔ اسے امام مسلم نے نقل کیا ہے۔ امام بخاری نے کہا : عبدہ، ہشام سے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت ابن عمر ؓ عنما سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضور ﷺ بدر کے ایک کنوئیں پر کھڑے ہوئے فرمایا : ” تمہارے رب نے جو وعدہ کیا کیا تم نے اس کو حق پایا ہے ؟ “ پھر فرمایا :” آج وہ جان گئے ہوں گے کہ جو میں انہیں کہتا تھا وہ حق ہے “ (1) پھر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اس آیت کی قرأت کی : انک لاتسمع الموتی یہاں تک کہ مکمل آیت پڑھی یہ آیت واقعہ بدر اور قبروں کو سلام کرنے کے معارض (2) ہے۔ اور ان روایات کے بھی معارض ہے جن میں یہ تصریح موجود ہے کہ روحیں بعض اوقات قبروں کے کنارے پر ہوتی ہیں جو یہ ذکر کیا گیا ہے کہ میت جوتوں کی کھٹکھٹاہٹ کو سنتی ہے جب لوگ اس سے واپس جاتے ہیں اگر میت نہ سنے تو اس کو سلام نہ کیا جائے یہ امر واضح ہے ہم نے اس کا ذکر کتاب ” التذکرہ “ میں کیا ہے۔
وما انت بھدی العمی عن ضللتھم ضللتھم سے مراد ان کا کفر ہے، یعنی آپ کی قدرت میں نہیں کہ آپ ان کے دلوں میں ہدایت کو تخلیق کریں۔ حمزہ نے اسے وما انت تھدی العمی عن ضلالتھم پڑھا ہے جس طرح یہ آیت ہے فانت تھدی العمی (یونس : 43) باقی نے بھادی العمی پڑھا ہے۔ یہ ابو عبید اور ابوحاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ سورة روم میں اس کی مثل ہے سب نے اس سورت میں بھدی پر وقف کیا ہے اور روم میں یاء کے بغیر وقف کیا ہے اس میں مصحف کی اتباع کی ہے مگر یعقوب نے دونوں میں یاء پر وقف کیا ہے۔ فراء اور حاتم نے وما انت بھاد العمی پڑھنے کو بھی جائز قرار دیا ہے یہ اصل ہے۔ حضرت عبداللہ کی قرأت وما انت تھدی المعمی ہے۔ ان تسمع الا من یومن بایتنا آپ انہیں ہی سناتے ہیں جو ہمارے آیات پر ایمان رکھتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : آپ ﷺ صرف انہیں سناتے ہیں جسے میں نے سعادت کے لئے پیدا کیا وہ توحید میں مخلص ہیں۔
Ayahs 27:82–86واذا وقع القول علیھم اخرجنا لھم دآبۃ من الارض تکلمھم علماء نے وقع قول اور دابۃ میں اختلاف کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وقع القول علیھم کا معنی ہے ان پر غضب ثابت ہوجائے گا، یہ قتادہ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا، ان پر فیصلہ لازم ہوچکا ہے کہ وہ ایامان نہیں لائیں گے۔ حضرت ابن عمر اور حضرت ابو سعید خدری ؓ نے کہا : جب وہ نیکی کا حکم نہ دیں اور برائی سے نہ روکیں تو ان پر ناراضگی ثابت ہوجائے گی۔ حضرت عبداللہ بن معسود ؓ نے کا : وقع قول سے مراد علماء کی موت ہے، علم کا ناپید ہونا اور قرآن حکیم کا اٹھ جانا ہے۔ حضرت عبداللہ نے کہا : قرآن کے اٹھائے جانے سے پہلے قرآن کی تلاوت کثرت سے کرو۔ لوگوں نے عرض کی : یہ مصاحف اٹھا لئے جائیں گے تو لوگوں کے سینوں میں جو کچھ ہے وہ کیسے اٹھا لیا جائے گا ؟ ان پر رات گزاری جائے گی تو صبح کے وقت وہ اس سے خالی ہوجائیں گے وہ لا الہ الا اللہ کو بھول جائیں گے۔ وہ دور جاہلیت کی باتوں اور ان کے اعشار میں اقع ہوجائیں گی یہ وہ وقت ہے جب ان پر فیصلہ واقع ہوجائے گا۔
میں کہتا ہوں : ابوبکر بزار نے اسے بیان کیا ہے عبداللہ بن وسف ثقفی، عبدالمجید بن عبدالعزیز سے وہ موسیٰ بن عبیدہ سے وہ صفوان بن سلیمہ سے وہ حضرت عبداللہ بن معسود ؓ کے ایک بیٹے سے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں : اس گھر کی زیارت کثرت سے کرو قبل اس کے کہ اس کو اٹھا لیا جائے اور لوگ اس کی جگہ کو بھول جائیں اور قرآن کے اٹھائے جانے سے قبل اس کی تلاوت کثرت سے کیا کرو۔ ساتھیوں نے عرض کی : اے ابا عبدالرحمٰن ! یہ مصاحف تو اٹھا لئے جائیں مگر لوگوں کے قبل اس کی تلاوت کثرت سے کیا کرو۔ ساتھیوں نے عرض کی : اے ابا عبدالرحمٰن ! یہ مصاحف تو اٹھا لئے جائیں مگر لوگوں کے سینوں میں جو کچھ ہے وہ کیسے اٹھا لیا جائے گا ؟ جواب دیا : وہ صبح کریں گے وہ کہیں گے : ہم ایک کلام کیا کرتے تھے اور ای قول کیا کرتے تھے پھر دور جاہلیت کے شعر اور اس دور کی باتوں کی طرف لوٹ جائیں گے۔ یہ ہی وہ وقت ہے جب ان پر فیصلہ کردیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قول سے مراد اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولکن حق القول منی لا ملن جھنم (السجدہ : 13) وقوع قول سے مراد ان پر عقاب کو لازم کرتا ہے جب وہ لوگ اس حد تک جا پہنچیں گے کہ ان کی توبہ قبول نہ کی جائے اور ان کی کوئی مومن اولاد نہ ہو تو اس وقت قیامت برپا ہوجائے گی، قشیری نے اس کو ذکر کیا ہے۔
چھٹا قول یہ ہے : حضرت حفصہ بنت سیرین نے کہا : میں نے ابو العالیہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان واذا وقع القول علیھم اخرجنا لھم دآبۃ من الارض تکلمھم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو وحی کی انہ لن یومن من قومک الا من قدامن (ہود : 36) تو گویا میرے چہرے پر پردہ تھا تو وہ پردہ ہٹا دیا گیا۔ نحاس نے کہا، یہ بہت اچھا جواب ہے کیو کہ لوگوں کا امتحان لیا جاتا ہے اور انہیں مہلت دی جاتی ہے کیونکہ ان میں مومن اور صالح لوگ ہوتے ہیں۔ بعض آدمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ وہ عنقریب ایمان لائیں گے اور توبہ کریں گے اسی لئے انہیں مہلت دی گی اور ہم کو ان سے جزیہ وصول کرنے کا حکم دیا تھا۔ جب یہ امر زائل ہوگیا تو ان پر قول ثابت ہوگیا تو وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی طرح ہوگئے انہ لن یومن من قوک الا من قدامن (ہود : 36)
میں کہتا ہوں : تمام اقوال غور و فکر کی صورت میں ایک ہی معنی کی طرف لوٹتے ہیں اس پر دلیل آیت کا آخر ہے۔ ان الناس کانوا بایتنا لایوقنون اسے ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ ان بھی پڑھا گیا ہے یہ بحث عنقریب آئے گی۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تین چیزیں ایسی ہیں جب وہ ظاہر ہوجائیں گی تو کسی نفس کو اس کا ایمان کوئی نفع نہ دے گا جو اس سے قبل ایمان نہیں لایا تھا یا اس نے ایمان کی حالت میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی مغرب سے سورج کا طلوع ہونا، دجال کا اظہر ہونا اور دابۃ الارض کا ظاہر ہونا “ (1) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ اس دابہ کی تعیین، اس کی صفت اور یہ کہاں سے ظاہر ہوگا اس میں بہت زیادہ اختلاف ہے۔ ہم نے اس کا ذکر کتاب ” التذکرہ “ میں کیا ہے ہم یہاں بھی اسے مفصل ذکر کریں گے۔
پہلا قول یہ ہے : اس سے مراد حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کا بچہ ہے اور یہ صحیح ترین قول ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کیونکہ ابو دائود طیالسی نے اپنی مسند میں حضرت حذیفہ ؓ سے ذکر کیا ہے کہا رسول اللہ ﷺ نے دابہ کا ذکر کیا فرمایا :” وہ تین دفعہ زمانے سے نکلے گا وہ دور دراز کے دیہاتی علاقے سے نکلے گا اس کا ذکر قریہ یعنی مکہ مکرمہ تک نہیں پہنچے گا پھر وہ طویل زمانہ تک چھپ جائے گا پھر دوسری دفعہ مکہ مکرمہ سے پہلے سے قریب سے نکلے گا اس کا ذکر دیہاتی علاقوں میں عام ہوجائے گا اور اس کا ذکر مکہ مکرمہ میں داخل ہوجائے گا۔ “ (2) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” پھر اسی اثنا میں کہ لوگ سب سے بڑی مسجد میں ہوں گے اس کے خیر کی حرمت اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے معزز مسجد مسجد حرام ہے لوگوں کو کسی چیز نے نہ ڈرایا مگر اس چیز نے کہ وہ دابہ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بلبلا رہا ہوگا وہ اپنے سر سے مٹی جھاڑ رہا ہوگا۔ لوگ ایک ایک اور جمعتیوں کی صورت میں اس سے بھاگ جائیں گے مومنوں کی ایک جماعت اپنی جگہ میں ٹھہری رہے گی۔ وہ پہچان لیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکیں گے وہ ان سے شروع کرے گا وہ ان کے چہروں کو روشن کر دے گا یہاں تک کہ انہیں بنا دے گا گویا وہ روشن ستارہ ہو۔ وہ زمین میں گھومے پھرے گا کوئی طالب اسے نہیں پکڑ سکے گا اور کوئی بھاگنے والا اس سے نجات نہیں پائے گا یہاں تک کہ آدمی نماز پڑھ کر اس سے پناہ چاہے گا۔ وہ دابہ اس کے پاس اس کے پیچھے سے آئے گا وہ دابہ کہے گا : اب تو نماز پڑھتا ہے ؟ وہ دابہ اس کے سامنے آئے گا اور اس کے چہرے پر نشان لگائے گا پھر چلا جائے گا۔ لوگ اموال میں شر کی ہوجائیں گے اور شہروں میں صلح کریں گے مومن کافر سے پہچان لیا جائے گا یہاں تک کہ مومن کافر سے کہے گا : میرا حق ادا کرو۔ “ اس حدیث میں دلیل کا محل کہ وہ اونٹ کا بچہ ہے وہ یہ قول ہے وھی ترغو وہ بلبلائے گا۔ رغاء یہ اونٹ کا ہی ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کو قتل کیا گیا تو اس کا بچہ بھاگ گیا تھا اس کے لئے ایک پتھر میں سوراخ بن گیا تو وہ اس پتھر کے اندر داخل ہوگیا پھر وہ پتھر اس پر مل گیا وہ بچہ اس پتھر میں ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے وہ پتھر سے نکلے گا۔
روایت بیان کی گئی ہے : وہ ایسا جانور ہے جس کے جسم پر بہت زیادہ بال ہوں گے وہ پایوں والا ہوگا اس کی لمبائی ساٹھ ذراع ہوگی اس سے کہا جائے گا : جساسہ، یہ حضرت عبداللہ بن عمر کا قول ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے : وہ انسان کی شکل میں ہوگا وہ بادلوں میں ہوگا اور اس کے پائے زمین میں ہوں گے۔ ایک روایت یہ بیان کی گی : وہ ہر حیوان کی خصوصیات کو جامع ہوگا۔ ماوردی اور ثعلبی نے کہا، اس کا سر بیل کے سر جی اس ہوگا، اس کی آنکھیں خنزیر کی آنکھ جیسی ہوگی، اس کے کان ہاتھی کے کان جیسے ہوں گے، اس کی گردن شتر مرغ کی گردن جیسی ہوگی، اس کا سینہ شیر کے سینہ جیسا ہوگا، اس کا رنگ چیتے کے رنگ جیسا ہوگا، اس کی ڈھاک بلی کی ڈھاک جیسی ہوگی، اس کی دنب مینڈھے کی دنب جیسی ہوگی، اس کے پائے اونٹ کے پائیوں جیسے ہوں گے ہر دو جوڑوں کے درمیان بارہ ہاتھ ہوگی۔ زمحشری نے کہا : ذراع سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کا ذراع ہے۔ اس دابہ کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اور حضرت سلیمان کی مہر ہوگی وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا سے مسلمان کے چہرے پر سفید نشان لگائے گا تو اس کا چہرہ سفید ہوجائے گا اور کافر کے چہرے پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مہر سے نشان لگائے گی تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجائے گا، یہ حضرت ابن زہیر ؓ کا قول ہے۔
کتاب نقاش میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : دابہ سے مراد وہ ساپن ہے جو کعبہ کی دیوار سے جھانک رہا تھا جسے عقاب نے اچک لیا تھا جب قریش نے کعبہ کو بنانے کا ارادہ کیا تھا۔ ماوردمی نے محمحمد بن کعب سے وہ حضرت علی شیر خدا ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں آپ سے دابہ کے متعلق سوال کیا گیا انہوں نے جواب دیا : خبردار ! اللہ کی قسم ! اس کی دنب نہ ہوگی جب کہ سانپ کی دانب ہوتی ہے۔ ماوردی نے کہا، اس قول میں ارشاد ہے کہ وہ انسانوں میں سے ہوگا اگرچہ اس کی تصریح نہیں کی گی۔
میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے اس لئے بعض متاخر مفسرین نے کہا : زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ یہ وابہ انسان ہو کلام کرتا ہو اہل بدعت اور اہل کفر سے مناظرہ کرتا ہو اور ان سے جدل کرتا ہوتا کہ وہ ختم ہو کر رہ جائیں تاکہ جو ہلاک ہو تو وہ دلیل سے ہلاک ہو ج اور جو زندہ رہے تو دلیل سے زندہ رہے۔ ہمارے شیخ امام ابو العباس احمد بن عمر قرطبی اپنی کتاب المفھم میں کہتے ہیں : اس قائل کے نزدیک اقرب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے تکلمھم اس تعبیر کی بنا پر یہ کوئی خاص نشانی نہ ہوگی جو خلاف عادت ہو اور یہ ان دس علامتوں میں سے بھی نہ ہو جن کا ذکر حدیث طیبہ میں ہے کیونکہ بدعتیوں کے خلاف مناظرہ کرنے والوں اور استدلال کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے یہ کوئی خاص نشانی نہیں اس لئے اسے دس علامات کے ساتھ ذکر کرنا مناسب نہیں اس کے وجود کی خصوصیت ختم ہوگئی جب قول واقع ہوگیا۔ پھر اس انسان جو مناظر ہے فاضل ہے اور اہل زمین پر عالم ہے اسے انسان کا نام دینے، عالم کا نام دینے یا امام کا نام دینے سے جو عدول کیا گیا یہاں تک کہ اس کا نام دابہ رکھا تو یہ فصحاء کی عادت کے خلاف ہے اور علماء کی تعظیم سے باہر نکلنا ہے یہ عقلاء کا طریقہ نہیں اولیٰ بات وہی ہے جو اہل تفسیر کا قول ہے اللہ تعالیٰ امور کے حقائق کے بارے میں زیادہ آگاہ ہے۔
میں کہتا ہوں : اس دابہ کے بارے میں اشکال کو وہ حدیث ختم کردیتی ہے جو ہم نے حضرت حذیفہ ؓ سے نقل کی ہے اس لئے اس پر بھروسہ کیجیے۔ کس جگہ سے یہ دابہ نکلے گا اس میں اختلاف ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ عنما نے کہا : یہ مکہ مکرمہ میں جبل صفا سے نکلے گا صفا کا پہاڑ پھٹ جائے گا تو اس سے وہ دابہ نکلے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نے بھی یہی کہا ہے : اگر میں اس کے نکلنے کی جگہ اپنا قدم رکھنا چاہوں تو میں ایسا کرسکتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ سے بھی یہ اسی طرح مروی ہے۔ زمین وابہ سے پھٹ جائے گی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے ہوں گے جب کہ ان کے ساتھ مسلمان سعی کی جگہ کی ایک طرف ہوں گے وہ دابہ صفا سے نکلے گا وہ مومن کی آنکھوں کے درمیان نشان لگائے گا کہ یہ مومن ہے وہ نشان ایسا ہوگا گویا وہ چمکتا موتی ہے کافر کی آنکھوں کے درمیان نشان لگائے گا کہ یہ کافر ہے۔ حدیث میں یہ مذکور ہے کہ وہ بالوں اور پروں والا ہوگا، مہدوی نے اسے ذکر کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا، وہ گھاٹی سے نکلے گا اس کا سر بادلوں سے مس کر رہا ہوگا اور اس کے پائوں زمین میں ہوں گے وہ باہر نہیں نکلیں گے وہ دابہ نکلے گا جب کہ اس کے ساتھ عصا موسیٰ ہوگا اور حضرت سیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی ہوگی۔ حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے وہ تین دفعہ نکلے گا ایک دفعہ وہ جنگل سے نکلے گا پھر چھپ جائے گا پھر وہ دیہاتوں میں ظاہر ہوگا جن میں امراء اپٓس میں قتال کریں گے یہاں تک کہ خونریزی زیادہ ہوجائے گی ایک دفعہ وہ سب سے بڑی، سب سے معزز، سب سے شرف والی اور سب سے فضیلت والی مسجد سے نکلے گا، زمخشری نے کہا : وہ دار بنی مخزوم کے بالمقابل حجر اسود کے سامنے سے مسجد کی دائیں جانب سے نکلے گا کچھ لوگ بھاگ کھڑے ہوں گے اور کچھ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔ قتادہ سے مروی ہے : وہ تہامہ سے نکلے گا۔ ایک روایت کی گئی ہے : وہ کوفہ کی مسجد سے نکلے گا جہاں سے حضرت نوح (علیہ السلام) کا تنور پانی سے ابل پڑا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ طائف سے نکلے گا۔ ابو قبیل نے کہا، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ عنما نے طائف کی زمین پر پائوں مارا اور فرمایا : یہاں سے وہ دابہ نکلے گا جو لوگوں سے کلام کرے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ تہامہ کی ایک وادی سے نکلے گا، یہ حضرت ابن عباس ؓ عنما کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ شعب اجیاد کی ایک چٹان سے نکلے گا، یہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے کہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ بحر سدوم سے نکلے گا، یہ وہب بن منبہ کا قول ہے۔ ماوردی نے اپنی کتاب میں ان تین اقوال کا ذکر کیا ہے۔ امام بغوی ابو القاسم عبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز نے ذکرز کیا کہ علی بن جعد، فضل بن مرزوق، رقاشی اغر (یحییٰ بن معین سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : وہ ثقہ ہے) وہ عطیہ عوفی سے وہ حضرت ابن عمر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ دابہ کعبہ کے سوراخ سے تین دن نکلے گا اور نکلنے میں اتنا تیز ہوگا جتنا گھوڑا تیزی سے دوڑتا ہے اس کا تہائی بھی بار نہیں نکلے گا۔
میں کہتا ہوں : یہ صحابہ اور تابعین کے اقوال ہیں جو دابہ کے نکلنے اور اس کی صفت کے بارے میں ہیں یہ مفسرین کے اس قول کو رد کردیتے ہیں جس میں ہے کہ دابہ انسان ہے وہ کلام کرنے والے ہے وہ اہل بدعت اور اہل کفر سے مناظرہ کرے گا۔ ابو امامہ نے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” دابہ نکلے گا تو وہ لوگوں کی ناکوں پر نشان لگائے گا۔ “ ماوردی نے اسے ذکر کیا ہے : تکلمھم یہ تاء کے ضمہ اور لام مشدوہ مک سورة کے ساتھ ہے۔ یہ کلام سے مشتق ہے یہ عام قرأت ہے اور حضرت ابی کی قرأت اس پر دلالت کرتی ہے جو تبیھم ہے۔ سدی نے کہا : وہ اسلام کے سوا تمام ادبان کے باطل ہونے کی کلام کرے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان سے ایسی کلام کرے گا جو ان کو پریشان کر دے گی ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ان سے لکنت والی زبان سے کلام کرے گا وہ ایسی آواز سے کلام کرے گا جس کو قریبی اور بعیدی سب سنیں گے۔ ان الناس کانوا بایتنا لایقنون وہ دابہ کے نکلنے پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ دابہ کا نکلنا بھی آیات میں سے ہے وہ کہے گا : الالعنۃ اللہ علی الظالمین خبردار ! ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ حضرت ابو زرعہ، حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری اور ابو رجا نے تکلمھم تاء کے فتحہ کے ساتھ کلام کی ہے یہ کلم سے مشتق ہے جس کا معنی ہے۔ عکرمہ نے کہا : یعنی وہ ان کو زخم لگائے گی۔ ابو جوزاء نے کہا، میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا کہ یہ تکلمھم یا تکلمھم ہے انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! وہ ان سے کلام رے گا اور ان کو زخم لگائے گا وہ مومن سے کلام کرے گا اور کافر و فاجر کو زخم لگائے گا۔ ابو حاتم نے تکلمھم جس طرح تو کہتا ہے تجرحھم یہ تعبیر اس طرف جاتی ہے کہ یہ تکلمھم میں کثرت کو ظاہر کرنے کے لئے تفصیل کا وزن لاتے ہیں۔ ان الناس کانوا بایتنا لایوقنون کوفہ کے قراء ابن ابی اسحاق اور یحییٰ نے ان ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اہل حرمین، اہل شام اور اہل بصرہ نے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ان پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا : ہمزہ مفتوحہ میں دو قول ہیں اسی طرح ہمزہ مک سورة میں دو قول ہیں۔ اخفش نے کہا، مراد بان ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت بان ہی ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا، اس کا محل نصب ہے کیونکہ فعل اس پر واقع ہو رہا ہے تقدیر کلام یہ تخبرھم ان الناس۔ کسائی اور فراء نے پڑھا ان الناس یہ جملہ مستانفہ ہے۔ اخفش نے کہا، یہ اس معنی میں ہے تقول ان الناس، الناس سے مراد کفار ہیں۔ بایتنا لایقنون مراد قرآن اور حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ یہ اس وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ کافر سے ایمان قبول نہیں رے گا اس دابہ کے نکلنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم میں مومن اور کافر ہی رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
ویم نحشرمن کل امۃ فوجاً فوج سے مراد جماعت ہے ممن یکذب بایتنا آیات سے مراد قرآن ہے اور ہماری وہ علامات ہیں جو حق پر دال ہیں۔ فھم یوزعون انہیں حساب کی جگہ کی طرف دھکیل کر یا ہانک کرلے جایا جائے گا۔
شماخ نے کہا :
وکم وزعنا من خمیس جعفل
ہم نے کتنے ہی لشکروں کو دھکیلا۔
قتادہ نے کہا : یو زعون ان میں سے پہلے کو آخر کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ حتی اذا جآء و قال۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اکذبتم بایتی تم میری ان آیات کو جھٹلاتے ہو جن کو میں نے اپنے رسولوں پر نازل کیا اور ان آیات کو جھٹلاتے ہو جن کو میں نے اپنی توحید پر دلالت بنایا ہے۔ ولم تحیطوا بھا علماً تم نے ان آیات کے باطل ہونے کا ازروئے علم کے احاطہ نہیں کیا یہاں تک کہ تم ان سے اعراض کرو بلکہ تم نے اس سے جاہل بنتے ہوئے استدلال کے بغیر جھٹلایا ہے۔ اما ذا کنتم تعملون یہ تفریع و توبیخ ہے تم کس لئے عمل کرتے ہو جب تم اس میں بحث نہیں کرتے اور ان میں غور و فکر نہیں کرتے ؟ ووقع القول علیھم بما ظلموا ان کے ظلم یعنی شرک کی وجہ سے ان پر عذاب واجب ہوگیا۔ فھم لاینطقون ان کے لئے کوئی عذر اور حجت نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی اور وہ کلام نہ کرسکیں گے، یہ اکثر مفسرین کا قول ہے۔
الم یروانا جعلما اللہ لیسکنوا فیہ یعنی وہ قرار حاصل کریں اور سو جائیں۔ والنھار مبرصراً وہ رزق کے حصول کے لئے اس میں دیھتا ہے ان فی ذلک لایت لقوم یومنون جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اپنی الوہیت اور قدرت پر دلیل ذکر کی یعنی کیا وہ ہماری کمال قدرت کو نہیں جانتے کہ وہ ایمان لاتے۔
Ayah 27:87و یوم ینفخ فی الصور یوم سے پہلے اذکرھم یا ذکرھم فعل محذوف ہے۔ فراء کا مذہب ہے کہ معنی ہے ذلکم یوم ینفخ فی الصور اس میں حذف جائز ہے۔ صور میں صحیح یہ ہے کہ نور کا ایک قرن ہے جس میں حضرت اسرافیل پھونکیں گے۔ مجاہد نے کہا : یہ بوق کی شکل کا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یمن کی زبان میں صور کا معنی بوق ہے۔ سورة انعام میں اس کی وضاحت اور علماء کا نقطہ نظر گزر چکا ہے۔
ففزع من فی السموت و من فی الارض الا من شآء اللہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ جب آسمانوں کی تخلیق سے فارغ ہوا تو اس نے صور کو پیدا کیا اور حضرت اسرافیل کو دے دیا۔ وہ اسے اپنے منہ پر رکھے ہوئے ہیں اور اپنی نظر عرش کی طرف لگائے ہوئے ہیں وہ انتظار کر رہے ہیں کہ کب اسے پھونکنے کا حکم ملتا ہے۔ “ (1) میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صور کیا ہے ؟ فرمایا :” اللہ کی قسم ! وہ عظیم سینگ ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! اس کے دائرہ کا پھیلائو آسمان و زمین کی چوڑائی جتنا ہے اس میں تین دفعہ پھونکا جائے گا پہلا نفخہ فزع ہے (2) نفخہ صعق (3) اللہ تعالیٰ کے لئے اٹھ کھڑے ہونے کا نفخہ “ حدیث کا ذکر کیا، اسے علی بن معبد، طبری، ثعلبی وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔ ابن عربی نے اس کی تصحیح کی ہے۔ میں نے کتاب ” التذکرہ “ میں ذکر کیا ہے اور وہاں ہم نے اس کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ صور میں نفخہ میں اصل یہ ہے کہ نفخے دو ہیں تین نہیں ہیں۔ نفخہ فزع سے مراد نفخہ صعق ہی ہے کیونکہ وہ دونوں امر اس کو لازم ہیں وہ سخت گھبرائیں گے اور اس سے مر جائیں گے یا یہ نفخہ بعث کی طرف راجع ہے، یہ امام قشیری اور دوسرے علماء کا پسندیدہ نقطہ نظر ہیخ کیونکہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے یہ کہا ہے : مراد نفخہ ثانیہ ہے وہ گھبرائے ہوئے راندہ ہوں گے وہ ہیں گے من بعثنا من مرقدنا (ینسین : 52) وہ ایسے امر کو دیکھیں گے جو انہیں خوفزدہ کر دے گا۔ یہ نفخہ بوق کی آواز کی طرح ہوگا تاکہ تمام مخلوق جزا کے میدان میں جمع ہوجائے، یہ قتادہ کا قول ہے۔ ماوردی نے کہا : وم یوم ینفخ فی الصور یہ قبروں سے اٹھنے کا دن ہے۔ کہا : اس فزع میں دو قول ہیں (1) ندا کی طرف جلدی کرنا اور اس پر لبیک کہنا، یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے فزعت الیک فی کذا تیری مدد کے لئے میں نے تیری آواز کی طرف جلدی کی (2) یہاں فزع سے مراد خوف اور حزن کا معہود و معروف فزع ہے، کیونکہ انہیں ان کی قبروں میں پریشان کیا گیا وہ گھبرا گئے اور خوفزدہ ہوگئے، یہ دونوں قولوں میں سے زیادہ مناسب ہے۔
میں کہتا ہوں : حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرہ ؓ کی احادیث سے ثابت ہونیوالی سنت دلالت کرتی ہے کہ دو نفخے ہیں تین نفخے نہیں۔ امام مسلم نے ان دونوں احادیث کو نقل کیا ہے ہم نے اس کا ذکر کتاب ” التذکرہ “ میں کیا ہے۔ انشاء اللہ صحیح یہی ہے کہ نفخے دو ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ونفخ فی ال صور فصعق من فی السموت ومن فی الارض الا من شآء اللہ (الزمر : 68) یہاں استثناء کی ہے جس طرح نفخہ فزع میں استثناء کی ہے یہ اس امر پر حال ہے کہ یہ دونوں ایک ہی۔ ابن مبارک نے حضرت حسن بصری سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” دو نفخوں کے درمیان چالی سال کا عرصہ ہوگا۔ پہلے نفخہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو موت دے دے گا اور دوسرے نفخ کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہر مردہ کو زندہ کر دے گا۔ “ اگر یہ قول کیا جائے اللہ تعالیٰ کا فرمان، یوم ترجف الراجفۃ۔ تتبعھا الرادفۃ۔ (النازعات) سے لے کر زفجرۃ واحدۃ۔ (النازعات) اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ تین نفخے ہیں۔ اسے کہا جائے گا : اس طرح معاملہ نہیں۔ زجرہ سے مراد دوسرا نفخہ ہے جس کے واقع ہونے پر تمام مخلوق قبروں سے باہر آجائے گی۔ حضرت ابن عباس، مجاہد، عطا، ابن زید وغیرہ نے یہی کہا ہے۔ جاہد نے کہا : دو نفخے ہیں جہاں تک پہلے نفخہ کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے اذن سے وہ ہر چیز کو موت عطا کر دے گا جاں تک دوسرے کا تعق ہے تو اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہر چیز کو زندہ کر دے گا۔ عطا نے کہا، الرجفۃ سے مراد قیامت ہے اور الردافۃ سے مراد بعث ہے۔ ابن زید نے کہا، الراجفۃ سے مراد موت ہے اور الردافۃ سے مراد قیامت ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
الا من شآء اللہ اس مستثنٰی میں اتخلاف کیا گیا ہے وہ کون ہیں ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے :” مراد شہداء ہیں ان کے رب کے ہاں انہیں رزق دیا جاتا ہے فزع زندوں کو ہی لاحق ہوتا ہے۔ “ یہ سعید بن جبیر کا قول ہے مراد وہ شہداء ہیں جو عشر کے اردگرد گلے میں تلواریں لٹکائے ہوئے ہیں۔ قشیری نے کہا : مراد انبیاء ہیں جو ان کی جماعت میں شامل ہیں، کیونکہ ان کے لئے نبوت کے ساتھ شہادت بھی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد فرشتے ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : فرشتوں کی کچھ جماعتوں کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جو دو نفخوں کے درمیان مریں گے۔ مقاتل نے کہا، مراد حضرت جبریل امین، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل اور ملک الموت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مرادحورعین ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مومنین ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد فرمایا : من جآء بالحسنۃ فلہ خیر منھا وھم من فزع یومئذ امنون ہمارے بعض عملاء نے کہا : صحیح یہ ہے کہ ان کی تعیین میں خبر صحیح وارد نہیں سب محتمل ہے۔
میں کہتا ہوں : اس پر حضرت ابوہریرہ کی حدیث مخفی رہی جس کی تصحیح قاضی ابوبکر بن عربی نے کی یا چاہئے کہ اس پر بھروسہ کیا جائے، کیونکہ وہ تعیین میں نص ہے اور باقی سب اجتہاد ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس کے علاوہ کا ذکر سورة زمر میں آئے گا۔ ففزع من فی السموت یہ فعل ماضی ہے اور ینفخ مستقبل ہے۔ تو یہ سوال کیا جائے گا فعل ماضی کا عطف فعل مستقبل پر کیسے کیا گیا ہے ؟ فراء نے گمان کیا ہے : یہ معنی پر محمول ہے کیونکہ معنی بنتا ہے اذا نفخ فی الصور ففزع اور من شاء اللہ یہ استثناء کے طور پر منصوب ہے۔
وکل اتوہ دخرین ابو عمرہ، عاصم، کسائی، نافع، ابن عامر اور ابن کثیر نے اسے آتوہ پڑھا ہے انہوں نے اسے فعل مستقبل یعنی اسم فاعل کا صیغہ بنایا ہے۔ اعمش یحییٰ حمزہ اور حفص نے عاصم سے وکل اتوہ ہمزہ پر زبرمد کے بغیر فعل ماضی کا صیغہ پڑھا ہے۔ حضرت ابن معسود نے بھی اس طرح قرأت کی ہے۔ قتادہ سے مروی ہے، وکل اتاہ داخرین نحاس نے کہا : میری کتاب جو ابو اسحاق سے قرأت میں مروی ہے اس میں ہے جس نے پڑھا وکل اتوا واحد کا صیغہ لفظ کل کے اعتبار سے ہے اور جس نے اسے آتوہ جمع کا صیغہ پڑھا ہے انہوں نے معنی کا اعتبار کیا ہے۔ یہ قول غلط اور قبیح ہے، کیونکہ جب کہا : وکل اتوہ یہ واحد کا صیغہ نہیں یہ جمع کا صیغہ ہے اگر واحد کا صیغہ ہوتا تو فرمان ہوتا اتاہ لیکن جس نے کہا، اتوہ یہ جمع کا صیغہ ہے معنی کا اعتبار کیا ہے اور ماضی کا صیغہ آیا ہے کیونکہ اس نے اسے فزع کی طرف لوٹایا ہے اور جس نے پڑھا : وکل آتوہ اس نے بھی معنی پر محمول کیا اور کہا : آتوہ یہ ایسا جمالہ ہے جو یہاں سے منقطع ہے۔ ابن نصر نے کہا، ابو اسحاق سے وہ مروی ہے جو انہوں نے کہا یہی ابو اسحاق کی نص ہے وکل اتوہ داخرین اور وہ قرأت کرتے ہیں آتوہ جس نے واحد کا صیغہ پڑھا ہے۔ وہ کل کے لفظ کا اعتبار کرتے ہیں اور جس نے جمع کا صیغہ پڑھا ہے تو وہ معنی کا اعتبار کرتے ہیں وہ اس سے یہ ارادہ کرتے ہیں کہ قرآن حکیم اور دوسری چیزوں میں جو کل کی خبر واحد ذکر کی گئی ہے وہ کل کے لفظ کا اعتبار کرتے ہوئے ہے اور جمع کی صورت میں خبر معنی کے اعتبار سے ہے۔ ابو جعفر نے یہ معنی اخذ نہیں کیا۔ مہدوی نے کہا، جس نے وکل اتوہ داخرین قرأت کی ہے تو وہ اتیان سے فعل ہے اور کل کے معنی کا اعتبار کیا ہے لفظ کا اعتبار نہیں کیا۔ جس نے وکل آتوہ داخیرن تو وہ اتی سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : وکلھم اتیہ یوم القیمۃ فرداً ۔ (مریم) جس نے پڑھا : وکل اتاہ اس نے کل کے لفظ پر محمول کیا ہے معنی کا اعتبار نہیں کیا۔ دخرین یہ معنی پر محمول ہے اس کا معنی صاغرین ہے ذلیل و رسوا، یہ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ سے مروی ہے سورة نحل میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 27:88وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وھی تمرمر الحساب حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جامدۃ سے مراد ہے ٹھہرے ہوئے جب کہ وہ تیزی سے چل رہے ہیں۔ قتبی نے کہا : اس کی وجہ یہ ہے کہ پہاڑ بہت زیادہ ہیں اور انہیں چلایا جاتا ہے آنکھ کے دیکھنے میں وہ کھڑے ہیں جب کہ وہ چل رہے ہیں اسی طرح ہر عظیم شے اور جمع کثیر ہوتی ہے آنکھ جس سے قاصر ہوتی ہے کیونکہ وہ بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اس کی اطراف میں بہت دوری ہوتی ہے۔ وہ دیکھنے والے کے گمان میں واقف کی طرح ہوتے ہیں جب کہ وہ چل رہے ہوتے ہیں۔ نابغہ نے لشکر کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا :
بارعن مثل الطود تحسب انھم وقوف بحاج والرکاب تھملج
ارعن کے مقام پر بڑے ٹیلے کی ماند تو انہیں گمان کرے گا کہ یہ حج کا وقوف ہے اور اونٹ نرم اور تیز چال چل رہے ہیں۔
قشیری نے کہا : یہ یوم قیامت ہے یعنی وہ کثرت کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے۔ وہ جامد ہیں آنکھ کے دیکھنے میں کھڑے ہیں اگرچہ وہ بادل کے چلنے کی طرح تیزی سے چل رہے ہیں۔ تیرے بادلوں کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ و ٹھہرے ہوئے ہیں جب کہ وہ چل رہے ہیں وہ بادل کے گزرنے کی طرح گزر جاتے ہیں ان میں سے کوئی چیز بھی باقی نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و سیرت الجبال فکانت سراباً ۔ (النبائ)
یہ جملہ کہا جاتا ہے : اللہ تعالیٰ نے پہڑاوں کی مختلف صفات بیان کی ہیں پس اس امر کی طرف لوٹتی ہیں کہ انہیں زمین کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے اور جن چیزوں کو یہ پوشیدہ کئے ہوتے تھے ان کو یہ ظاہر کرتے ہیں، ان صفات میں سے پہلی صفات ان کا باسم ٹکرانا اور ریزہ ریزہ ہونا ہے یہ زلزلہ سے قبل ہوگا۔ پھر وہ دھنکی ہوئی روئی کی طرح ہوجائیں گے یہ اس وقت ہوگا جب آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو جمع کیا فرمایا : یوم تکون السمآء کالمھل۔ و تکون الجبال کالعھن۔ (المعارج) تیسری حالت یہ ہے کہ وہ باریک ذرات کی طرح ہوجائیں گے۔ پہلے وہ دھنکی ہوئی روئی کی طرح تھے پھر وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ چوتھی حالت یہ ہے کہ انہیں اڑا دیا جائے گا کیونکہ احوال متقدمہ کے باوجود وہ اپنی حد پر قائم ہوں گے زمین اس کے نیچے ظاہر نہ ہوگی زمین سے ان پہاڑوں کو اڑا دیا جائے گا تاکہ وہ ظاہر ہوجائے گا جب انہیں اڑایا جائے گا تو ہوائوں کو ان پر بھیجا جائے گا۔ پانچویں حالت یہ ہوئی کہ ہوائیں پہاڑوں کو روئے زمین سے اٹھا لیں گی اور ہوا میں شعاع کی حیثیت سے انہیں ظاہر کریں گی گویا وہ غبار ہیں۔ جو آدمی دور سے انہیں دیکھے گا تو اس غبار کے گھنا ہونے کی وجہ سے جامد جسم خیال کرے گا۔ وہ حقیقت میں چل رہے ہوں گے مگر ان کا چلنا ہوائوں کے اوپر سے ہوگا، گویا وہ ریزہ ریزہ ہوچکے ہیں اور ان کے اجزاء بکھر چکے ہوں گے۔ چھٹی حالت یہ ہے کہ وہ سراب ہوں جو دٓمی ان کی جگہوں کو دیکھے گا تو ان میں سے کوئی چیز نہیں دیکھے گا گویا وہ سراب ہو۔ مقاتل نے کہا، وہ پہاڑ زمین پر واقع ہوں گے تو ان کے ساتھ زمین کو برابر کردیا جائے گا۔ پھر ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ بھی ایک مثال ہے ماوردی نے کہا، ضرب الامثال کے بارے میں تین اقوال ہیں (1) یہ ضرب المثل ہے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مثال دی ہے اسے دیکھنے والا گمان کرتا ہے کہ وہ اپنی جگہ کھڑی ہے جس طرح پہاڑ۔ یہ زوال میں سے اپنا حصہ لے رہی ہوتی ہے جس طرح بادل ہیں، یہ سہیل بن عبداللہ کا قول ہے (2) یہ ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان کی بیان کی ہے تو اسے دل میں ثابت گمان کرتا ہے جب کہ اس کا عمل آسمان کی طرف بلند ہو رہا ہوتا ہے (3) یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے نفس کی بیان فرمائی ہے جب روح نکلتی ہے اور روح عرش کی طرف جا رہی ہوتی ہے صنع اللہ الذی التقن کل شیء یہ اللہ تعالیٰ کا عمل ہے اور جو اللہ تعالیٰ کا عمل ہوتا ہے وہ بڑا مضبوط ہوتا ہے۔ تری یہ آنکھ کی رئویت ہے۔ اگر یہ دل کی رئویت ہوتی تو فعل دو مفعولوں کی طرف متعدمی ہوتا یہ اصل میں ترای ہے ہمزہ کی حرکت راء کو دی رائہ محترک ہوگئی اور ہمزہ کو حذف کردیا یہ ہمزہ میں تخفیف کا قاعدہ ہے جب اس کا ماقبل ساکن ہو۔ ورنہ تری کو تخفیف لازم ہوتی ہے۔ اہل کوفہ تحسبھا پڑھتے ہیں یعنی سین پر فتحہ ہے یہی قیاس ہے کیونکہ حسب یحسب سے مشتق ہے مگر نبی کریم ﷺ سے اس کے برعکس مرومی ہے۔ مگر مضارع میں کسرہ کے ساتھ قرأت کی ہے اس وقت یہ فعل یفعل سے مشتق ہے جس طرح نعم ینعم بیس بیس اسی طرح بیس بیس ہے سالم سے نعم ینعم ہے۔ ان حروف کے علاوہ عرب میں یہ بات معروف نہیں۔
وھی تمر مرالسحاب تقدیر کلام یہ ہے مرمثل مرالحساب صفت کو موصوف کے قائم مقام رکھا اور مضاف کو مضاف الیہ کے قائم رکھا۔ پہاڑوں کو روئے زمین سے اپنی جگہ سے زائل کردیا جائے گا، انہیں جمع کیا جائے گا اور انہیں چلایا جائے گا جس طرح بادلوں کو چلایا جاتا ہے پھر انہیں توڑا جائے گا اور وہ زمین کی طرف لوٹ آئیں گے۔ جس طرح فرمایا : وبست الجبال بساً ۔ (الواقعہ)
صنع اللہ خلیل اور سیبویہ کے نزدیک مفعول مطلق کے طور پر منصبو ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان : وھی تمرمر السحاب اس پر دال ہے کہ اس نے یہ کام کیا۔ اغراء کے طریقہ پر نصب بھی جائز ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی صفت کو دیکھو۔ اس تعبیر کی بنا پر السحاب پر وقف کیا جائے گا اور پہلی تقدیر کی بنا پر اس پر وقف نہیں کیا جائے گا۔ اس تقدیر کی بنا پر صنع الذین اتقن کل شیء اس نے ہر شے کو محکم کردیا۔ اس معنی میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : رحم اللہ من عمل عملا فاتفنہ۔ اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم فرمائے جو عمل رے تو اسے پختہ کرے (1) قتادہ نے کہا، اس کا معنی ہے ہر چیز سے اچھا۔ اتفاق کا معنی پختہ کرنا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے رجل تقنایسا آدمی جو اشیاء کی سجھ بوجھ رکھتا ہو۔ زہرمی نے کہا، اصل میں یہ ابن تقن ہے، یہ قوم عاد کا ایک آدمی تھا اس کا کوئی تیر ضائع نہ گرتا تو مثال بیان کی گئی، یہ جملہ کہا جاتا ہے : ارمی من ابن تقن۔ وہ ابن تقن سے بھی زیادہ تیر انداز ہے۔ پھر ہر وہ آدمی جو اشیاء کا ماہر ہوتا ہے اس کے لئے تقن کا لفظ استعمال کیا جاتا انہ خبیر بما تفعلون تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ جمہور کی قرأت ہے۔ ابن کثیر، ابو عمرو اور ہشام نے یاء کے ساتھ قرأت کی ہے۔