Ayah 27:44قیللھا ادخلی الصرح سیبویہ کے نزدیک اس کی تقدیر کلام میں ہے ادخلی الی الصرح، الی حرف جار کو حذف کردیا گیا اور فعل کو براہ راست مفعول بہ میں عامل بنایا گیا۔ ابو العباس اس نقطہ نظر میں اس کو غلط قرار دیتا ہے کہا : کیونکہ دخل مدخول پر دلالت کرتا ہے اس محل کا صحن شیشے کا تھا جس کے نیچے پانی تھا جس میں کشتیاں تھیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہکام اس لئے کیا تاکہ ملکہ بلقیس کو یہ دکھائے کہ آپ کا ملک اس کے ملک سے بڑھ کر ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : وہ شیشے کا تھا اس کے پیچھے پانی تھا حسبتہ لجۃ لجۃ کا معنی پانی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : صرح کا معنی محل ہے۔ ابو عبیدہ سے مرویہ ہے جس طرح کہا : تحسب اعلامھن الصروح۔ اس مصرعہ میں الصروح سے مراد محلات ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انصرح سے مراد صحن ہے جس طرح کہا جاتا ہے : ھذہصرحۃ الدار وقاع تھا دونوں کا معنی ایک ہے۔ ابوعبیدہ نے الغریب المصنف میں حکایت بیان کی ہے کہ صرح سے مراد ایسی اونچی عمارت ہو جو زمین سے بلند ہو۔ ممرد کا معنی طویل ہے۔ نحاس نے کہا، اس کی اصل یہ ہے کہ ہر ایسی عمارت جسے ایک ہی دفعہ بنایا گیا ہو اسے صرح کہتے ہیں۔ ان کا قول ہے : لبن صریح ایسا دودھ جس میں پانی کی آمیزش نہ ہو۔ عربوں کے قول سے ہیصرحبالامر اسی سے ہی عربی صریح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ عمل اس لئے کی تاکہ جنوں نے ملکہ بلقیس کے بارے میں جو قول کیا تھا اس کی تحقیق کریں کہ ملکہ بلقیس کی ماں جنوں میں سے تھی اور اس کا پائوں گدھے کے پائوں جیسا ہے، یہ قول وہب بن منبہ نی کیا ہے۔ جب اس نے گہر سے پانی کو دیکھا تو گھبرائی اس نے گمان کیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے غرق کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ اور اس پر تعجب کا اظہار کیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی پانی پر ہے اس نے وہ چیز دیکھی جس نے اسے خوفزدہ کردیا۔ اس کے لئے حکم کی طاعت کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔
وکشف ساقیھا تو لوگوں میں سے سب سے خوبصورت پنڈلی والی تھی۔ جنوں نے جو کچھ کہا تھا اس سے وہ سالم تھی، مگر یہ تھا کہ اس کی پنڈلی پر بال زیادہ تھے۔ جب وہ اس حد تک پہنچی تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے کہا جب کہ آپ نے اس سے نظر کو پھیر دیا تھا، انہ صرح ممردمن قواریر ممرد سے مراد ہے جس کو رگڑ کر ملائم کردیا گیا ہو اس سے امرد کا لفظ ہے تمرد الرجلیہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب لڑکے کے بالغ ہونیکے بعد اس کی داڑھی دیر سے آئے، یہ فرئا کا قول ہے اسی سے شجرۃ مرداء ہے جس کے پتے نہ ہوں۔ رملۃ مرداء ایسی ریت جو کسی چیز کو نہ اگائے۔ ممرد کا معنی لمبا بھی ہے قلعہ کو بھی مارد کہتے ہیں۔ ابو صالح نے کہا : کھجور کے درخت کی طرح طویل۔ ابن شجرہ نے کہا : وہ طول وعرض میں وسیع۔ شاعر نے کہا :
غدوت صباحا باکراہ فوجدتھم قبیل الضحا فی السابری الممرد
میں صبح صبح چلا تو میں نے چاشت سے پہلے انہیں کھلی زر ہوں میں پایا۔
اس موقع پر ملکہ بلقیس نے سر تسلیم خم کردیا، اس نے اطاعت کی، وہ اسلام لے آئی اور اس نے اپنی جان پر ظلم کا اقرار کیا۔ جس کا ذکر بعد میں آئے گا۔ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کے قدم دیکھے تو آپ نے شیاطین میں سے ناصح سے پوچھا : میرے لئے یہ کیسے ممکن ہوگا کہ جسم کو تکلیف دیئے بغیر میں ان بالوں کو اکھیڑ دوں ؟ اس نے چونے کے استعمال کے بارے میں بتایا۔ اس دن سے بال صفا پائوڈر اور حمامات کا رواج ہے۔ یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے شادی کرلی اور اسے شام میں ٹھرایا، یہ ضحاک کا قول ہے۔
سعید بن عبدالعزیز نے کتاب النقاش میں فرمایا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے شادی کرلی اور اسے ملک یمن کی طرف واپس بھیج دیا۔ آپ ہر ماہ ہوا کیدوش پر سوار ہو کر اس کے پاس آتے، ملکہ بلقیس نے ایک بچہ جنا جس کا نام حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دائود رکھا جو آپ کے دور میں ہی فوت ہوگیا۔ بعض روایات میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” بلکہ بلقیس جہاں بھر کی عورتوں میں سے سب سے خوبصورت پنڈلی والی تھیں وہ جنت میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی زوجہ ہوں گی۔ “ حضرت عائشہ صدیقہ نے کا : وہ مجھ سے زیادہ حسین پنڈلیوں والی تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تو جنت میں اس سے زیادہ خوبصورت پنڈلی والی ہوگی۔ “ قشیری نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ثعلبی نے حضرت ابو موسیٰ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” حمامات سب سے پہلے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بنوائے جب ان کی پشت دیوار کے ساتھ لگی تو اس کی گری محسوس ہوئی تو کہا : اواہ من عذاب اللہ پھر ملکہ بلقیس سے شدید محبت کی اور ملک یمن پر اسے باقی رکھا جنوں کو حکم دیا تو انہوں نے ملکہ بلقیس کے لئے تین قلعے بنائے لوگوں نے ان جیسے بلند قلعے نہیں دیکھے تھے سلحون، بینون اور عمران۔ پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہر ماہ ایک دفعہ سے ملنے کے لئے آتے اور تین دن اس کے پاس قیام کرتے۔ شعبی نے بیان کیا ہے کہ حمیر کے لوگوں نے مقبرہ ملوک کو کھودا تو انہوں نے اس میں ایک قبر پائی جس میں ایک عورت مدفون تھی جس پر سونے سے بنے حلے (دو چاروں پر مشتمل لباس) تھے۔ اس کے سر کی جانب سنگ مرمر کی ایک تختی تھی جس میں یہ لکھا ہوا تھا :
یا تھا الاقوام عوجوا معا واربعوا فی مقبری العیسا
لتعلموا انی تلک التی قد کنت ادعی الدھر بلقیسا
شدت قصر الملک فی حمیر قومی وقدما کان مانوسا
وکنت فی ملکی و تدبیرہ ار غم فی اللہ المعاطیسا
بعغلی سلیمان النبی الذی قد کان للتوراۃ دریسا
وسخر الریح لہ مرکبا تھب احیانا روامیسا
مع ابن دائودالنبی الذی قدسہ الرحمٰن تقدیسا
اے اقوام ! اکٹھے رہنا اور میرے مقبرہ میں اونٹ باندھنا تاکہ تمہیں علم ہو کہ میں وہ ہوں جسے زمانہ بلقیس کہتا تھا۔ میں نے حمیر ملک کے محل کو مضبوط کیا جب کہ میری قوم قدیم سے مانوس تھی۔ میں اپنے ملک اور اس کی تدبیر کرنے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ناکوں کو خاک آلود کردیتی۔ میرے خاوند حضرت سلیمان (علیہ السلام) تھے جو تورات کو پڑھنے والے تھے۔ ہوا کو ان کے لئے سواری کے طور پر مسخر کردیا گیا جو بعض اوقات قبروں پر چلتی تھی۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے بیٹے کے ساتھ جس کی رحمٰن نے تقدیس بیان کی ہے۔
محمد بن اسحاق اور وہب بن منبہ نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے شادی نہیں کی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے فرمایا : اپنے خاوند کو منتخب کرلے تو ملکہ بلقیس نے کہا : مجھ جیسی عورت نکاح نہیں کرتی میرے لئے ملک ہے جو پہلے سے ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا : اسلام میں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تو اس نے ہمدان کے بادشاہ کو پسند کیا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ بلقیس کی شادی اس سے کردی اور اسے یمن کی طرف بھیج دیا اور زوبعہ جو یمن کے جنون کا امیر تھا اسے حکم دیا کہ وہ اس کی اطاعت کرے تو اس نے اس کے لئے کارخانے بنائے وہ امیر رہا یہاں تک کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا وصال ہوگیا۔ ایک قوم کا خیال ہے اس بارے میں کوئی صحیح خبر نہیں نہ اس بارے میں کہ خود شادی کی اور نہ اسبارے میں کہ آپ نے اس کی شادی کسی سے کی۔ ملکہ بلقیس کا شجرہ نسب یہ تھا بلقیس بنت سرح بن ہدا ہد بن شراخیل بن اردن بن حد ربن سرحبنحرسبن قیس بن صیفیب نسب ابن یشجب بن یعرب بنقحطان بن عابر بن شالخ بن ارفحشذبن سام بن نوح اس کا دادابد ابد عظیم بادشاہ تھا اس کے چالیس بیٹے ہوئے جو سب کے سب بادشاہ تھے یمن کا پورا علاقہ اس کی مملکت میں شامل تھا۔ اس کا والد سرح اطراف کے بادشاہوں کو کہتا : تم سب سے کوئی بھی میرے ہمپہلہ نہیں، اس نے ان میں شادی کرنے سے انکار کردیا، تو انہوں نے اس کی شادیجنوں کی ایک عورت سے کردی جسے ریحانہ بنت سکن کہتے تو اس کی ایک بچی بلقمہ پیدا ہوئی اسیبلقیس کہتے ہیں اس بچی کے علاوہ اس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ حضرت ابوہریرہ نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ملکہ بلقیس کہ والدین میں سے ایک جن تھا “ (1) اس کا باپ فوت ہوا تو اس پر قوم نے اختلاف کیا اور دو فرقوں میں بٹ گئی انہوں نے اپنے امور مملکت ایسے آدمی کے سپرد کئے جس کی سیرت بری تھی یہاں تک کہ اس نے اپنی رعیت کی عورتوں سے بدکاری کی، بلقیس کو غیرت نے آ لیا اس نے اپنے آپ کو اس بادشاہ پر پیش کیا تو اس حاکم نے بلقیس سے شادی کرلی۔ بلقیس نے اسے شراب پلائی یہاں تک کہ اس کا سر کاٹا اور اپنے گھر کے دروازے پر اسے لٹکا دیا تو لوگوں نے اسے بادشاہ بنالیا۔ ابوبکر نے کہا : ملکہ بلقیس کا ذکر نبی کریم ﷺ کے سامنے کیا گیا تو فرمایا : لایفلح قوم ولوا امرھم امراۃ (2) کوئی ایسی قوم فلاح نہیں پا سکتی جنہوں نیاپنا معاملہ عورت کے سپرد کردیا۔
ایک قول یہ کیا جاتا ہے : اس کے باپ کے جنی سے شادی کرنے کا سبب یہ تھا کہ وہ ایکسرکش بادشاہ کا وزیر تھا جو رعیت کی عورتوں کو غصب کرلیتا۔ وزیر غیور تھا اس نے شادی نہ کی ایک دفعہ راستہ میں وہ ایک آدمی سے ملا جسے وہ پہچانتا نہیں تھا اس نے پوچھا : کیا تیری بیوی ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں کبھی بھی شادی نہیں کروں گا کیونکہ ہمارے ملک کا بادشاہ مردوں سے ان کی بیویوں کو غصب کرلیتا ہے۔ اس نے کہا، اگر تو میری بیٹی سے شادی کرے تو وہ اسے کبھی بھی غصب نہیں کرے گا۔ وزیر نے کہا : نہیں بلکہ وہ غصب کرلے گا۔ اس نے کہا : ہم جنوں کی قوم سے تعلق رکھتے ہیں وہ ہم پر قادر نہیں ہو سکتا۔ ملکہ بلقیس کے باپ نے اس کی بیٹی سے شادی کرلی تو اس سے اس کی بیٹی بلقیس پیدا ہوئی پھر ماں مر گئی ملکہ بلقیس نے صحراء میں محل بنوایا غلطی سے بلقیس کے والد نے اس کا ذکر کیا۔ بادشاہ تک وہ خبر پہنچی بادشاہ نے اس سے کہا، اے فلاں ! تیرے پاس وہ خوبصورت بیٹی ہے جب کہ تو اسے میرے پاس نہیں لاتا اور تو عورتوں سے میری محبت کو خوب جانتا ہے پھر اس کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ بلقیس نے بادشاہ کی طرف پیغام بھیجا : میں تیرے سامنے ہوں۔ بادشاہ نے اس کے محل کی طرف جانے کی تیاری کی۔ جب اس نے ساتھیوں کے ساتھ اندر داخل ہونے کا قصد کیا تو جنوں کی بیٹیاں جو سورج کی طرح روشن تھیں اس کے سامنے آگئیں انہوں نے بادشاہ سے کہا : تجھے حیا نہیں آتی، ہماری مالکہ تجھے کہتی ہے : کیا تو ان لوگوں کے ساتھ اپنے اہل پر داخل ہوتا ہے تو بادشاہ نے لوگوں کو واپس جانے کی اجازت دے دی اور اکیلا داخل ہوگیا اس کے داخل ہونے کے بعد دروازہ بند کردیا اور جوتیاں مار مار کر اسے قتل کردیا اس کا سر کاٹا اور اس کے لشکر کی طرف اسے پھینک دیا تو لوگوں نے ملکہ بلقیس کو اپنا حکمران بنا لیا۔ وہ اس طرح حکمران رہی یہاں تک کہ ہد ہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس کی خبر پہنچا دی۔ اس کی وجہ یہ بنی جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے کسی پڑائو میں اترے ہد ہد نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) فروکش ہونے میں مشغول ہوچکے ہیں تو وہ ہد ہد آسمان کی طرف بلند ہوا تو اس نے دنیا کا طول و عرض دیکھ لیا اس نے زمین کو شمالاً جنوباً دیکھا اس نے بلقیس کا باغ دیکھا جس میں ہد ہد موجود تھا۔ اس ہد ہد کا نام عفیر تھا۔ یمن کے عفیر نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے یعفور سے کہا، تو کہاں سے آیا ؟ اور کہاں کا ارادہ رکھتا ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں شام سے اپنے مالک حضرت سلیمان بن دائود کے ساتھ آیا ہوں۔ عفیر یمن نے پوچھا : کون سلیمان ؟ اس نے جواب دیا : جنوں، انسانوں، شیاطین، پرندوں، وحشیوں، ہوائوں اور زمین و آسمان کے درمیان جو کچھ ہے ان کا بادشاہ۔ یعفور نے پوچھا : تو کہاں کا رہنے والا ہے ؟ اس نے جواب دیا : ان شہروں کا جن کی بادشاہ ایک عوتر ہے اسے بلقیس کہتے ہیں اس کے زیر حکومت بارہ ہزار چھوٹے حکمران ہیں ؟ ہر حاکم کے زیر تسلط ایک لاکھ جنگجو ہیں جو عورتوں اور بچوں کے علاوہ ہیں وہ اس کے ساتھ گیا اور ملکہ بلقیس اور اس کے ملک کو دیکھا اور عصر کے وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف لوٹ آیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے نماز کے وقت اسے پوچھا تھا اور اسے نہ پایا تھا وہ اس وقت پانی پر تھے۔
حضرت ابن عباس نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر سورج کی شعاع پڑی تو آپ نے پرندوں کے وزیر سے پوچھا : یہ کس کی جگہ ہے ؟ عرض کی : اے اللہ کے نبی ! یہ ہد ہد کی جگہ ہے۔ پوچھا : وہ کہاں چلا گیا ہے ؟ اس نے عرض کی : اللہ تعالیٰ تیرے ملک کو سلامت رکھے ! میں نہیں جانتا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) غصے ہوگئے۔ فرمایا : لا عذبنہ عذاباً شدیداً پھر آپ نے عقاب کو بلایا اور وہ پرندوں کا سردار اور ان سے قوی تھا۔ عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا ارادہ رکھتے ہو ؟ فرمایا : مجھے اسی وقت ہد ہد چاہئے۔ عقاب نے اپنے آپ کو آسمان کی طرف بلند کیا یہاں تک کہ ہوا کے ساتھ جا لگا اس نے دنیا کی طرف دیکھا جس طرح تمہارے سامنے ایک پایلہ ہو، کیا دیکھا کہ ہد ہد یمن کی جانب سے آ رہا ہے۔ وہ اس کی طرف نیچے آیا، اس میں اپنا پنجہ گاڑھا، ہد ہد نے اسے کہا، میں تجھ سے اس اللہ کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں جس نے تجھے قدرت دی اور مجھ پر قیمت عطا کی مگر تو مجھ پر رحم کرے۔ اس نے کہا : تیرے لئے ہلاکت ہو، تیری ماں تجھ پر روئے اللہ کے نبی نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ تجھے عذاب دے گا یا تجھے ذبح کر دے گا۔ پھر وہ اسے لے آیا اس کا گدھوں اور باقی لشکروں کے پرندوں نے استقبال کیا۔ سب نے یہی کہا : تیرے لئے ہلاکت ہو اللہ تعالیٰ کے نبی نے تجھے دھمکی دی ہے۔ ہد ہد نے کہا : میں کیا اور میری اوقات کیا ہے کیا آپ نے استثناء نہیں کی تھی ؟ پرندوں نے کہا : کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا : اولیاء تینی بسلطن مبین پھر وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے اپنا سر اٹھایا ہد ہد نے اپنی دنب اور پروں کو تواضح کی خاطر ڈھیلا چھوڑ دیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا : تو اپنی خدمت اور جگہ کو چھوڑ کر کہیں چلا گیا تھا میں تجھے عذاب دوں گا یا تجھے ذبح کروں گا۔ ہد ہد نی آپ سے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! جس وقت آپ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے اس کو یاد کرو جس طرح میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی جلد کا نپنے لگی، آپ کا نپ گئے اور معاف کردیا۔ عکرمہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ہد ہد کو ذبح کرنے سے پھیر دیا کیونکہ ہد ہد اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے والا تھا وہ کھانے کو ان کی طرف لیجاتا اور انہیں کھلاتا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے کہا، کس چیز نے تجھے دیری میں ڈال دیا ؟ تو ہد ہد نے وہی کہا جو اللہ تعالیٰ نے ملکہ بلقیس، اسکیرش اور اس کی قوم کے بارے میں بتایا ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔
مارودی نے کہا : یہ قول کہ بلقیس کی ماں جنی تھی یہ قعلو کے لئے عجیب و غریب ہے کیونکہ جنس ایک دوسرے سے مختلف ہیں، طبیعتیں الگ الگ ہیں اور جنسوں میں فرق ہے کیونکہ آدمی جسمانی ہے، جن روحانی ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے اور جنوں کو ایسے بھڑکنے والے شعلے سے پیدا کیا ہے جو آگ پیدا ہوتا ہے۔ اس تباین کی موجودگی میں امتزاج ممتنع ہوتا ہے اور اس اختلاف کے ہوتے ہوئے تناسل محال ہے۔
میں کہتا ہوں : اس بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ عقل اس کو محال قرار نہیں دیتی، ساتھ ہی ساتھ روایت بھی واقع ہوئی ہے جب خقلت کی اصل کی طرف دیھکا جائے تو اس کی اصل پانی ہے جس طرح وضاحت گزر چکی ہے۔ اس میں کوئی بعید نہیں۔ قرآن حکیم میں ہے : وشار کھم فی الاموال والا ولاد (الاسرائ : 64) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لم یطمثھن انس قبلھم ولاجآن۔ (الرحمٰن) اس کی وضاحت سورة الرحمٰن میں آئے گی۔
قالت رب انی ظلمت نفسی میں نے شرک پر قائم رہتے ہوئے اپنی جان پر ظلم کیا۔ ابن شجرہ نے کہا، سفیان نیک ہا : وہ گمان اختیار کر کے ظلم کیا جو اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں گمان کیا کیونکہ جب ملکہ بلقیس کو محل میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تو اس نے اسے پانی گمان کیا اور یہ گمان کیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اسے غرق کرنا چاہتے ہیں۔ جب اس پر یہ امر واضح ہوا کہ یہ تو شیشے کا ملائم محل ہے تو اس کو علم و گیا کہ اس نے یہ گمان کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ان کو کسرہ دیا کیونکہ قول کے بعد اس سے کلام کا آغاز ہوا۔ عربوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اسے فتحہ دیتے ہیں تو اس میں قول عمل کرتا ہے۔
واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین جب تو مع کو ساکن پڑھے تو یہ حرف ہے جو معنی کے لئے آیا ہے نحویوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ جب تو اس کو فتحہ دے گا تو اس میں دو قول ہیں (1) یہ ظرف کے معنی میں اسم ہے (2) حرف جر ہے مبنی برفتحہ ہے : یہ نحاس نے کہا ہے۔
Ayahs 27:45–47ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صلحاً ان اعبدوا للہ اس کا معنی گزر چکا ہے فاذا ھم فریقین یختصمون مجاہد نے کہا : یعنی مومن اور کافر۔ کیا خصوصیت وہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا اتعلمون ان صلحاً مرسل من ریۃ قالوا انا بمآء ارسل بہ مئومنون۔ قال الذین استکبروآ ان بالذی امنتم بہ کفرون۔ (الاعراف) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کا جھگڑا یہ تھا کہ ہر فرقہ نے کہا : ہم حق پر ہیں تم حق پر نہیں۔
قالیقوم لم تستعجلون بالسیئۃ قبل الحسنۃ مجاہد نے کہا : سیئۃ سے مراد عذاب اور حسنۃ سے مراد رحمت ہے۔ معنی ہے تم اس ایمان میں کیوں تاخیر کرتے ہو جو تمہاری طرف ثواب کھینچ کر لاتا ہی اور کفر کو پہلے لاتے ہو جو عذاب کو لازم کرتا ہے کفار ان کار کی زیادتی کی وجہ سے کہتے ہیں : ہمارے اوپر عذاب لے آئو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تم ایسے کام کیوں کرتے ہو جن کے باعث تم عتاب کے مستحق بنتے ہو اس کا مطلب یہ نہیں تم جلد عذاب کے آنے کی تلاش کرتے ہو۔
لولا تستغفرون اللہ تم شرک سے اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کیوں نہیں کرتے ؟ لعلکم ترحمون تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
قالوا اطیرنا بک وبمن معک ہم نے فال بد لیا۔ شوم کا معنی نحوست ہے۔ بدفالی سے بڑھ کر کوئی چیز رائے اور تدبیر کو نقصان پہنچانے والی نہیں۔ جو آدمی یہ گمان کرتا ہے کہ گائے کا ڈکارنا اور کوئے کا کائیں کائیں کرنا قضا کو لوٹا سکتا یا مقدور چیز کو دور کرسکتا ہے تو جاہل ہے۔ شاعر نے کہا :
طیرۃ الدھر لا تردد قضائ فاعذر الدھر لاتشبیہ بلوم
امی یوم یخصہ بسعود والمنایا ینزلنا فی کل یوم
لیس یوم الا وفیہ سعود ونحوش تجری لقوم فقوم
زمانہ کی بدفالی قضا کو لوٹا نہیں سکتی زمانہ سے معذرت کرلے تو اسے ملامت کے ساتھ تشبیہ نہ دے۔ کون سا دن ہے جو اسے سعادی مندی کے ساتھ خاص کرتا ہے جب کہ موتیں ہر دننازل ہوتی ہیں۔ کوئی دن نہیں ہے مگر اس میں سعادت مندی ہوتی ہے اور نحوست قوم کے لئے یکے بعد دیرگے واقع ہوتی ہے۔
عرب سب سے زیادہ فال پکڑنے والے تھے جب وہ سفر کا ارادہ کرتے تو پرندے کو اڑاتے جب وہ دائیں جابن اڑتا تو و وہ باعث برکت ہوتا اور اگر وہ بائیں جانب اڑتا تو یہ بدبختی کی علامت ہوتا۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے نہی کی ہے۔
فرمایا : پرندوں کو اپنے گھونسلوں میں رہنے دو ۔ “ (1) اس کی وضاحت سورة مائدہ میں گزر چکی ہے۔
قال طیرکم عند اللہ تمہارا شگون تم تک پہنچنے والا ہے۔ بل انتم قوم تفتون تمہارا امحتان لیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہیں تمہارے گناہوں کا عذاب دیا جائے گا۔
Ayahs 27:48–49وکان فی المدینۃ حضرت صالح (علیہ السلام) کے شہر میں جو مجرم ہے۔ تسعۃ رھط ان کے اشرف ا کی اولاد میں سے نو آدمی، ضحاک نے کہا، یہ نو افراد اہل مدینہ کے عظماء تھے۔ وہ زمین میں فساد برپا کرتے اور فساد کا حکم دیتے۔ وہ عظیم چٹان کے پاس بیٹھے تو اللہ تعالیٰ نے اس چٹان کو ان پر لاٹ دیا۔ عطا بن ابی رباح نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے وہ دنانیر اور دراہم قرض کے طور پر دیتے یہ زمین میں فساد کی ایک صورت ہے، سعید بن مسیب نے یہ کہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کا فساد یہ تھا وہ لوگوں کی شرمگاہوں کی تاڑ میں رہتے اور خود پر ستر عورت کا اہتمام نہ کرتے۔ اس کے علاوہ کا بھی قول کیا گیا ہے آیت سے جو لازم آتا ہے وہ وہ ضحاک وغیرہ نے کہا ہے کہ وہ قوم کے سرداروں اور غنی لوگوں میں سے تھے۔ وہ سب کے سب اہل کفر اور اہل معاصی تھے۔ اس ان کے امر کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح احوال کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ رھط جماعت کا نام ہے گویا وہ سردار تھے اور ان میں سے ہر ایک کی لوگ اتباع کیا کرتے تھے رھط کی جمع ارھط اور اراھط ہے۔ شاعر نے کہا :
یا بوس للحرب التی وضعت اراھط فاستراحوا
ہائے جنگ کی سختی جس نے کئی جماعتوں کو پست کردیا تو انہوں نے آرام پایا۔
یہ مذکورہ لوگ قدار کے ساتھ تھے جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں، ابن عطیہ نے یہ ذکر کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : ان کے اسماء میں اختلاف ہے۔ غزنوی نے کہا، ان کے نام یہ تھے قدار بن سالف، مصدع، اسلم، وسما، ذہیم، ذعمائ، ذعیم، قتال، صداق۔ ابن اسحاق نے کہا، ان کا سردار قدار بن سالف اور مصدع بن مہرع تھا سات افراد نے ان کی پیروی کی۔ وہ بلع بن میلع، دعیر بن غنم، ذئواب بن مہرج اور چار افراد ایس ہیں جن کے نام معروف نہیں۔ زمحشری نے وہب بن منبہ سیان کے نام نقل کئے ہیں، ہذیل بن عبدرب غنم بن غنم، رباب بن مہرح، مصدع بن مہرث، عمیر بن کردبہ، عاصم بن مخرمہ، سبط بن صدقہ، سمعان بن صفی، قدار بن سلاف، یہی و لوگ تھے جنہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹنے میں کوشش کی۔ یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کے سرکش لوگ تھے وہ ان کے معززین کے بیٹے تھے۔ سہیلی نے کہا : نقاش نے ان نو افراد کا ذکر کیا جو زمین میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح احوال نہیں کرتے تھے اور ان کے اسماء ذکر کئے۔ یہ کسی روایت پر منضبط نہیں ہوتے مگر میں اجتہاد اور گمان سے اس کا ذکر کروں لیکن ہم اس کا ذکر کریں گے جن کو ہم نے محمد بن حبیب کی کتاب میں پایا ہے وہ مصدح بن دہر سے اسے دہم کہا جاتا ہے، قدار بن سلاف، ہریم، صواب، ریاب، داب، دعما، ہر ما، دعین بن غمیر۔
میں نے کہا : ماوردی نے ان کے اسماء حضرت ابن عباس سے ذکر کئے ہیں وہ دعمائ، دعیم، ہر ماہ، ہریم، داب، صواب، ریاب، مسطح اور قدار ہیں وہ حجر کے علاقہ کے لوگ تھے یہ شام کی سر زمین ہے۔
قا اتقاسموا باللہ لنبیتنہ واھلہ یہ جائز ہے کہ تقاسموا فعل امر پر دلالت کرتا ہوں۔ یعنی انہوں نے ایک دوسرے سے کہا، تم قسم اٹھائو اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ فعل ماضی ہو اور حال کا معنی دے رہا ہو۔ گویا کہا : متقاسمین باللہ اس تاویل کی دلیل حضرت حبداللہ کی قرأت ہے۔ یسفسدون فی الارض ولا یصلحون تفاسیرا باللہ اس میں قالو انہیں ہے۔
لنبیتنہ واھلہ ثم لنقولن لولیہ عام قرأت دونوں میں نون کے ساتھ یہ۔ ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے۔ حمزہ اور کسائی نے دونوں میں تائی کے ساتھ پڑھا ہے اور تاء اور لام کو ضمہ دیا ہے۔ یہ خطاب کے طریقہ پر ہے یعنی انہوں نے اس طرح باہم خطبا کیا، ابوعبید نے اسے اختیار کیا ہے۔ مجاہد اور حمید نے دونوں جگہ یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ یاء اور لام کو صمہ دیا اس صورت میں یہ غائب کا صیغہ ہوگا بیات سے مرادرات کے وقت دشمن پر اچانک حملہ کرا لولیہ سے مراد ہے حضرت صالح علیہ ال سلام کا خاندان جسے قصاص لینے کا حق ہے۔ ماشھدنا مھلک اھلہ یعنی ہم تو یہاں موجود ہی نہ تھے ہم نہیں جانتے کہ کس نی اس کو قتل کیا ہے اور کس نے اس کے اہل کو قتل کیا ہے ؟ وانا لصدیقون اس کے قبل کا جو ہم انکار کر رہے ہیں اس میں ہم سچے ہیں۔ مھلک کا معنی ہلاک کرنا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ ظرف کا صیغہ ہو۔ عاصم اور سلمیٰ نے میم اور لام کو فتحہ دیا ہے مرادہلاکت ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، ضرب یضرب مضربا یہ ضربا کے معنی میں ہے۔ مفضل اور ابوبکر نے میم کے فتحہ اور لام کے جر کے ساتھ پڑھا ہے۔ تو یہ اسم مکان ہوگا جس طرح مجلس بیٹھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مصدر ہو جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے الیہ مرجعکم (الا انعام : 60) یہاں مرجع سے مراد رجوع ہے۔
Ayah 27:50ومکروا مکراً او مکرنا مکراوھم لایشعرون ان کا مکروہ تھا جو روایت بیان کی گئی ہے کہ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں بتا دیا تھا کہ تین دنوں میں تم پر عذاب آجائے گا۔ ان نو افراد نیاتفاق کیا اور قسم اٹھائی کہ وہرات کے وقت حضرت صالح (علیہ السلام) کے گھر جائیں اور آپ کو اور آپ کے اہل قتل کردیں گے۔ انہوں نے کہا، اگر وہ اپنی وعید میں جھوٹا ہے تو جس کا وہ مستحق ہے ہم نے اس پر واقع کردیا ہے اگر وہ سچا ہے تو ہم نے اسے اپنے سے پہلے عذاب دے دیا اور اپنے نفوس کو شفاء دے لی، یہ مجاہد اور دور سے علماء نے کہا۔
حضرت ابن عباس نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس رات فرشتے بھیجے انہوں نیحضرت صالح (علیہ السلام) کے گھر کو بھردیا۔ وہ نو افراد اپنی تلواریں سونتے ہوئے حضرت صالح کے گھر آئے فرشتوں نے انہیں مار کر ہلاک کردیا وہ پتھر دیکھتے تھے اور جو پتھر مار رہا ہے اسے نہیں دیکھتے تھے۔ قتادہ نے کہا، وہ تیزی سے حضرت صالح علیہالسلام کی طرف نکلے ان پر ایک فرشتہ مسلط کردیا گیا جس کے ہاتھ میں چٹان تھی تو اس نے ان سب کو قتل کردیا۔ سدی نے کہا : وہ ایسی جگہ اترے جو نیچے سے کھوکھلی تھی تو وہ قطع زمین ان پر آپڑا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کے نیچے ہلاک کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حضرت صالح (علیہ السلام) کے گھر کے قریب چھپ گئے تو ان پر چٹان آگری جس نے ان سب کو پیس دیا۔ یہ ان کا مکر تھا اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر یہ تھی کہ ان کو بدلہ دیا۔
Ayahs 27:51–53فانظر کیف کان عاقبۃ مکرھم انا درمرنھم وقومھھناجمعین چیخ کے ساتھ ان سب کو ہلاک کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : تمام کی ہلاکت حضرت جبریل امین کی چیخ سے ہوئی۔ ظاہر بات یہ ہے کہ سب کی ہلاکت ایک عذاب سے ہوئی پھر باقی چیخ یا دمدم سے ہلاک ہوئے۔ اعمشق، حضرت حسن بصری، ابن ابی اسحاق، عاصم، حمزہ اور کسائی اما پڑھا کرتا تھے۔ ابن انباری نے کہا، اس مذہب کی بنا پر عاقبہ مکرھم پر واقف اچھا نہیں کیونکہ انادمر نھم، انکی خبر ہی یہ بھی جائز ہے کہ تو اسے محل رفع میں رکھے یہ عاقبہ کی اتباع میں ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ تو اسے محل نصب میں رکھے، یہ فراء کا قول ہے کسائی کے قوال کے مطباق یہ محل جر میں ہوگا مرادو گا بانا دھرنا ھم ولا نا دھرنا ہم اسے نصب دنیا اس کے اعتبار سے بھی جائز ہے کے تو اس کیف کے محل کے اعتبار سے نصب دے اس استعبار سے مکرھم پر عطف کرنا صحیح نہ ہوگا ابن کثیر، نافع اور ابو عمرو نے ان سے انادھمرناھم ہجمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ اس مذہب کی بنا پر مکرھم پر واقفاچھا نہیں۔ نحاس نے کہا : یہ جائز ہے کہ تو عاقبہ کو نصب دے کہ کان کی خبر ہے اور انا یہ محل رفع میں ہوا اس اعتبار سے یہ کان کا اسم ہو یہ بھی جائز ہے۔
کہ یہ محل رفع میں ہو مبتداء مضمر ہو مقصد عاقبہ کی وضاحت ہو۔ تقدیر کلام ہی ہوگی ھی اناد مرناھم۔ ابوحاتم نے کہا : حضرت ابی کی قرأت میں انا دمرناھم ہے یہ فتحہ کی تصدیق ہے۔
فتلک بیوتھم خاویۃ بما ظلموا خاویۃ میں عام قرأت نصب کے ساتھ ہے یہ حال ہے فراء اور نحاس کا نقطہ نظر ہے۔ وہ اپنے اہل سے خالی ہے، برباد ہے وہاں کوئی رہائش رکھنے والا نہیں۔ کسائی اور ابو عبیدہ نے کہا : خاویۃ منصوب ہے ماقبل سے اسے قطع کیا گیا ہے معنی ہوگا فتلک بیوتم الخاویۃ جب اس سے الف لام کو الگ کیا گیا تو حال ہونے کی وجہ سیم نصوب ہوگیا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولہ ما فی السموت والارض (النحل : 52) عیسیٰ بن عمر، نصر بن عاصم اور حجدری نے اسے رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس بنا پر کہ یہ تلک کی خبر ہے۔ بیوتھم یہ تللکا بدل ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ بیوتھم عطف بیان ہو خاویۃ یہ تلک کی خبر ہو خاویۃ کا رفع اس بنا پر بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہو، یعنی ھی خاویۃ یا یہ بیوتھم سے بدل ہو کر کیونکر نکرہ کو معرفہ سے بدلا گیا ہے۔
ان فی ذلک لایۃ لقوم یعلمون۔ وانجینا الذین امنوا جو حضرت صالح علیہ اسلام پر ایمان لائے وکانوا یتقون وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور اس کے عذاب سے خوف کھاتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت صالح (علیہ السلام) پر چار ہزار افراد ایمان لائے۔ باقیک و مقاتل کے قول کے مطابق چنے کے دانے کے برابر پھنسین کلی وہ پہلے روز سرخ تھی پھر اگلے روز وہ زرد ہوگی پھر تیسرے روز وہ سیاہ ہوگئی اونٹنی کی کونچیں بدھ کو کاٹی گئیں اور ان کی ہلاکت اتوار کو ہوئی۔ مقاتل نے کہا : وہ پھوڑے خاص زرد رنگ کے ہوگئے۔ حضرت جبریل امین (علیہ السلام) نے ان کے درمیان چیخ ماری تو وہ سب ٹھنڈے ہوگئے۔ یہ چاشت کا وقت تھا۔ حضرت صالح علیہ اسلام اور جو لوگ ان پر ایمان لائے تھے وہ حضرموت کی طرف نکلے جو حضرموت پہنچے تو حضرت صالح (علیہ السلام) کا وصال ہوگیا تو اس کا نام حضرموت ہوگیا۔ ضحاک نے کہا، پھر چار ہزار افراد نے شہر بسایا جسے حاضورا کہا اجتا : جس کی وضاحت اصحاب رس میں گزر چکی ہے۔
Ayahs 27:54–56ولوطاً اذقال لقومہ ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا یا لوط (علیہ السلام) کو یاد کرو۔ اذ قال لقومۃ قوم سے مراد اہل سدوم ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے کہا اتاتون الفاحشۃ فاحشہ سے مراد ایسا فعل ہے جو قبیح او شنیع ہو۔ وانتم تبصرون جب کہ تم دیکھتے ہو کہ یے بےحیائی ہے۔ یہ تمہارا سب سے بڑا گناہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تم ایک دوسرے کے پاس جاتے ہو جب کہ تم اسے دیکھ رہے ہوتے۔ وہ سرکشی اور تمرد کی وجہ سے پردہ پوشی بھی نہ کرتے تھے۔ ائنکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون النسآء اس کی قباحت اور شناعت کی زیادتی کی وجہ سے اس کو دوبارہ ذکر کیا۔ بل انتم قوم تجھلون حرمت کے امریاعقوبت کے امر سے ناواقف ہو۔ خلیل اور سیبویہ نے ائنکم میں دوسرے ہمزہ کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے جہاں تک تحریر کا تعلق ہے تو اس میں قاعدہ یہ ہے کہ تمام صورتوں میں دو الف لکھے جائیں۔ کیونکہ یہ ہمزہ ہے جو کلام کے شروع میں ہے اور اس سے پہلے ہمزہ استفہام کا ہے۔
فما کان جواب قومہ الا ان قالوا اخرجوا ال لوط من قریتکم انھم اناس یتطھرون یہ مردوں کی دبر سے پاکیزہ بنتے ہیں۔ وہ یہ بات حضرت لوط (علیہ السلام) سے استہزاء کے طور پر کہا کرتے تھے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : اللہ کی قسم ! انہوں نے بغیر کسی عیب کے ان پر عیب لگایا کہ یہ برے اعمال سے پاکیزہ بنتے ہیں۔
Ayah 27:57قانجینہ و اھلہ الا امراتہ قدرنھا من الغبرین عاصم نے اسے پڑھا قدرنا یعنی تخفیف کے ساتھ پڑھا معنی ایک ہی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : قدرت الشق قدر اوقدرا او قدرتہ
Ayah 27:58وامطرنا علیھم مطراً فسآء مطر المنذرین یہ انذر سے مشتق ہے اس نے انذار کو قبول نہ کیا۔ اس کی وضاحت سورة اعراف اور سورة ہود میں گزر چکی ہے۔
Ayah 27:59قل الحمد للہ وسلم علی عبادہ الذین اصطفی فراء نے کہا : اہل معانی نے کہا : حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا گیا ان کی ہلاکت پر الحمد للہ کہو۔ اس بات میں علماء کی ایک جماعت نے فراء کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا، یہ ہمارے نبی ﷺ کو خطاب ہے، یعنی سابقہ کافرامتوں کی ہلاکت پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرو۔ نحاس نے کہا : یہ سب سے بہتر قول ہے۔ کیونکہ قرآن نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا اس میں جو کچھ ہے سب نبی کریم ﷺ سے خطاب کیا گیا ہے سوائے اس کے جسم میں معنی غیر کے لئے ہی صحیح ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عنی ہے اے محمد ! ﷺ کہو : الحمد للہ وسلم علی عبادہ الذین اصطفی یہاں عباد سے مراد آپ کی امت ہے۔ کلبی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی معرفت اور طاعت کے لئے چن لیا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سفیان نے کہا : اس سے مراد حضور ﷺ کے صحابہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان آیات کی تلاوت کریں جو اس کی وحدانیت، ہر شے پر اس کی قدرت اور اس کی حکمت پر براہین ہیں اور آپ آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد اور اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے جو انبیاء اور چنے ہوئے ہیں ان پر سلام سے کریں اس میں تعلیم حسن ہے اور ادب جمیل پر آگاہی حاصل کرنا ہے دونوں کے ذکر سے برکت حاصل کرنے پر برانیگختہ کرنا ہے اور دونوں کے مکان سے آگاہی حاصل کرنا ہے کہ جو سامعین کو القا کیا جا رہا ہے اسے قبول کیا جائے اور اس کی طرف توجہ کی جائے اور اسے ان کے دلوں کے ہاں ایسے مقام پر رکھا جائے جسے سننے والا پسند کرتا ہے۔
علمائ، خطباء اور واعظین کا نسل در نسل یہ معمول چلا آ رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ ؓ کی بارگاہ میں درود پڑھتے ہیں جب بھی کسی فائدہ بخش علم کا ذکر کرنا ہو، نصیحت کرنی ہو یا خطبہ دینا ہو ان کے شرع میں یہ عمل کیا جاتا ہے۔ بعد کے لوگوں نے ان کی پیروی کی اور اپنی کتب کے اوائل میں یہ چیزیں ذکر کرتے ہیں خواہ وہ فتوحات سے تعلق رکھتی ہوں یا ایسے حادثات کے متعلق ہوں جس کی شان ہو۔
الذین اصطفی جس کو اس نے چن لیا اپنی رسالت کے لئے، وہ انبیاء (علیہم السلام) ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وسلم علی المرسلین۔ (الصافات) اللہ خیر ابو حاتم نے اسے دو ہمزوں کے ساتھ جائزقرار دیا ہے۔ نحاس نے کہا : ہم کسی کو نہیں جانتے کہ کسی نے اس کی موافقت کی ہو ؟ یہ مدہ استفہام اور خبر کے درمیان فرق کرنے کے لئے آتی ہے یہ توقیف کا الف ہے۔ خیر یہاں افضل منک کے معنی میں نہیں ہے، یہ شاعر کے اس قول کی مثل ہے :
اتھجوہ ولست لہ بکف فشہ کما لخیر کما ال فداء
کیا تو اس کی ہجو کرتا ہے جب کہ تو اس کا ہم پلہ نہیں پس تم دونوں میں سے برا تم میں سے اچھے پر قربان ہے۔
اس کا معنی ہے تم میں سے جس میں شر ہے وہ اس پر قربان ہے جس میں خیر ہے۔ یہاں من کا معنی لینا جائز نہیں کیو کہ جب تو نے کہا : فلان شر من فلاں تو دونوں میں سے ایک میں شر ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے بھلائی اس میں ہے یا اس میں سے جس کو تم عبادت میں شریک کرتے ہو۔ سیبویہ نے حکایت بیان کی ہے السعادۃ احب الیک امر الشقاء، تجھے سعادت محبوب ہے یا بدبختی، جب کہ وہ جانتا ہے کہ سعادت اسے زیادہ محبوب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اسم تفصیلی کے باب سے ہے۔ معنی ہے اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر ہے یا وہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہو، یعنی اس کا ثواب بہتر ہے یا جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو ان کا عقاب بہتر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں یہ فرمایا وہ اعتقاد رکھتے تھے کہ بتوں کی عبادت میں بہتری ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے اعتقاد کے مطابق خطاب فرمایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لفظ استفہام کا ہے اور اس کا معنی خبر یہ ہے۔ ابو عمرو، عاصم اور یعقوب نے اسے پڑھایشہ کون، یاء کے ساتھ تو اس وقت یہ خبر ہوگی۔ باقی قراء نے خطاب کا اعتبار کرتے ہوئے تاء کے ساتھ پڑھا ہے، یہ ابو عبید اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ نبی کریم ﷺ جب یہ آیت پڑھتے تو کہتے : بل اللہ خیر وابقی واجل واکرم۔
Ayah 27:60امن خلق السموت والارض ابو حاتم نے کہا، تقدیر کلام یہ ہے آلھتکم خیرام من خلق السموات والارض یہ بحث پہلے گزر چکی ہے معنی ہے جو ان چیزوں کو پیدا کرنے پر قادر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو وہ عبادت بہتر ہے یا اس ذات کی عبادت بہتر ہے جس نے زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کیا ؟ تو یہ پہلیم عنی کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ اس میں ان کے لئے تو بیخ کا معنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور ان کے معبودوں کے عجز پر تنبیہ ہے۔
فانبتنا بہ حدآئق ذات بھجۃ حدیقہ اس باغ کو کہتے ہیں جس کے اردگرد دیوار ہو۔ بھجۃ سے مراد خوبصورت منظر ہے۔ فراء نے کہا : حدیقہ سے مراد وہ باغ ہے دیوار جس کی حفاظت کرے اگر دیوار نہ ہو تو اس کو بستان کہتے ہیں۔ وہ حدیقہ نہیں ہے۔ قتادہ اور عکرمہ نے کہا : حدائق سے مراد کھجور کے درخت ہیں جو خوبصورت منظر والے ہوں۔ بھجۃ سے مراد زینت اور حسن ہے جو بھی اسے دیکھتا ہے خوش ہوجاتا ہے۔
ما کان لکم ان تنبتوا شجرھا مانا فیہ ہے اس کا معنی فعل سے انہیں روکنا ہے یعنی بشر کو زیبا نہیں، یہ ان کے لئے تیار نہیں ہوتا، یہ ان کی قدرت کے تحت داخل نہیں کہ وہ اس کے درخت کو اگائیں کیونکہ وہ اس کی مثل سے عاجز ہیں کیونکہ اس سے مراد کسی شے سے وجود کی طرف نکالنا ہے۔
میں کہتا ہوں : اس سے یہ استدلال بھی کیا جاتا ہے کہ کسی شے کی تصویر بنانا منع ہے، خواہ اس کی روح ہو یا نہ ہو، یہ مجاہد کا قول ہے اس کی تائید نبی کریم ﷺ کا ارشاد بھی کرتا ہے : قال اللہ عزوجل و من اظلم ممن ذھب یخلق خلقا کخلقی فیغلقوا ذرۃ او لیخلقوا حبۃ او لیغلوا شعیرۃ (1) ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس آدمی سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو میری تخلیق جیسی تخلیق بناتا ہے پس چاہے وہ ایک چیونٹی کو بنائیں، دانہ بنائیں یا جو بنائیں۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :” اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ پھر اس حدیث کو ذکر کیا تو یہ ارشاد مذمت دھمکی اور تقبیح میں ہر اس فرد کو عام ہے جو کہ ایسی شے کی تصویر بناتا ہے جسے اللہ تعالیٰ بنائے اور اس شے کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مشابہت اختیار کرے اللہ تعالیٰ جس کی تخلیق میں منفرد ہے۔ یہ کلام واضح ہے جمہور بھی اس طرف گئے ہیں کہ اس چیز کی تصویر بنانا جائز ہے جس میں روح نہ ہو۔ یہ جائز ہے اور اس کے ساتھ روزی کمانا بھی جائز ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس شخص سے فرمایا تھا جس نے آپ سے تصویر بنانے کے بارے میں پوچھا تھا : اگر تیرے لئے ان تصویروں کے بنانے کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو درختوں اور ایسی چیز کی تصویریں بنائو جن میں روح نہیں۔ امام مسلم نے بھی اسے نقل کیا ہے۔ منع کرنا بہتر ہے اس روایت کی وجہ سے جو ہم نے ذکر کی ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ سورة سبا میں اس کی مزید وضاحت آئے گی۔ انشاء اللہ اللہ تعالیٰ پھر تو بیخ کے طریقہ پر کہا : ء الہ مع اللہ کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود ہے جو اس امر پر اس کی مدد کرتا ہے ؟ بل ھم قوم یعدلون بلکہ وہ ایسی قوم ہیں جو غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کا ہم پلہ قرار دیتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حق اور میانہ ردی سے اعراض کرتے ہیں یعنی وہ کفر کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : الہ، مع کے ساتھ مرفوع ہے تقدیر کلام یہ ہے امع اللہ ویلکم الہ۔ مغ اللہ پر وقف کرنا اچھا ہے۔
Ayah 27:61امن جعل الارض قراراً قرار، مستقر کے معنی میں ہے وجعل خلھآ انھرا، خلال کا معنی وسط ہے جس طرح ارشاد باری تعالیٰ : فجرنا خللہما نھراً ۔ (الہکف) وجعل لھار واسی اور اس سے مراد پہاڑ ہیں جو زمین کو روکے رکھتے ہیں اور حرمت سے منع کرتے ہیں۔ وجعل بین البحرین حاجزاً اس کی قدرت سے مانع تاکہ میٹھا، نمکین سے نہ مل جائے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حاجز کا عنی سلطان ہے، یعنی اپنی قدرت سے سلطان بنا دیا نہ یہ دوسرے کو تبدیل کرتا ہے نہ دوسرا پہلے کو تبدیل کرتا ہے۔ حجز کا معنی روکنا ہے الہ مع اللہ جب یہ ثابت ہے کہ اس پر کوئی غیر قادر نہیں تو وہ ان چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہیں جو نفع و نقصان نہیں دیتے ؟ بل اکثرھم لایعلمون یعنی گویا وہ اللہ تعالیٰ سے جاہل ہیں وہ اسے نہیں جانتے جس کے لئے وحدانیت ثابت ہے۔
Ayahs 27:62–63مسئلہ نمبر :۔ امن یحیب المضطر اذا دعاہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد سخت ضرورت والا ہے۔ سدی نے کہا : جس کے پاس کوئی حیلہ اور قوت نہیں۔ ذوالنون مصری نے کہا : جس نے اللہ تعالیٰ کے سوا سے تعلقات ختم کردیئے ہوں۔ ابو جعفر اور ابو عثمان نیشا پوری نے کہا : اس سے مرادمفلس ہے۔ سہیل بن عبداللہ نے کہا : اس سے مراد وہ شخص ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے تو اس کے پاس طاعت سے کوئی وسیلہ نہ ہو جن کو وہ پیش کرے ایک آدمی مالک بن دینار کے پاس آیا اس نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لئے دعا کرنے میں مضطر ہو فرمایا : تو پھر اس سے سوال کر کیونکہ مضطر جب دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتا ہے۔ شاعر نے کہا :
وانی لادعو اللہ والا مر ضیق علی فما ینفک ان یتفرجا
ورب اخ شدت علیہ وجوھہ اصاب لھال ما دعا اللہ مخرجا
میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں جب کہ معاملہ مجھ پر تنگ ہے وہ چھٹنے والا نہیں۔ کتنے ہی بھائی ہیں جن پر راستے بند کردیئے گئے جب اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اس نے مخرچ پا لیا۔
مسئلہ نمبر 2 : مسند ابی دائود طیالسی میں ابوبکرہ سے روایت ہے انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجبور کی دعا کے بارے میں فرمایا :” اے اللہ ! تیری رحمت کی میں امید کرت اہوں مجھے ایک لمحہ بھی میرے سپرد نہ فرما اور سیرے ت مام معاملات کی اصلاح فرما تیرے سوا کئی معبود نہیں۔ “ (1)
مسئلہ نمبر 3 :۔ مجبور آدمی جب اللہ تعالیٰ سے دعا کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کرنے کی ضمانت اٹھائی ہے اپنے بارے میں اس امر کی خبر دی ہے اس میں سبب یہ ہے کہ اس کی بارگاہ میں پناہ کی ضرورت اخلاص سے ہی پیدا ہوتی ہے اور غیر سے قلبی لگائو کے ختم ہونے میں جنم لیتی ہے۔ اخلاص کا اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا موقع اور شان ہوتی ہے۔ وہ مومن سے پایا جائے یا کافر سے، اطاعت شعار سے ہو یا فاجر سے ہو، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (2) حتی اذا کنتم فی الفلک و جرین بھم بریح طیبۃ و فرحوا بھا اجآء تھا ریح عاصف وجآء ھم الموج من کل مکان وظنوا انہم احیط بھم دعوا اللہ مخلصین لہ الدین، لئن اجیتنا من ھذہ لنکونن من الشکرین۔ (یونس) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فلما نجمنم الی البراذا ھم یشرکون۔ (العنکوت) ضرورت اور اخاص کے وقت انہیں جواب دیا جب کہ اسے علم تھا کہ وہ شرک و کفر کی طرف لوٹ چلیں گے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فا اذا رکبوا فی الفلک دعوا اللہ مخلصین لہ الدین (العنکبوت : 65) اللہ تعالیٰ مضطر کی دعا کو قبول کرتا ہے جب وہ اضطرار اور اخلاص کا مظاہرہ کر ربا ہوتا ہے۔ حدیث طیبہ میں ہے :” تین دعائیں قبول ہوتی ہیں ان میں کوئی شک نہیں مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور والد جب اپنے بیٹے کے خلاف دعا کرے۔ “ صاحب شہاب نے اس کا ذکر کیا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔
صحیح مسلم میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے جب آپ ﷺ نے حضرت معاذ کو یمن کے علاقہ کی طرف بھیجا : فرمایا ” مظلوم کی بد دعا سے بچو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب نہیں۔ “ شہاب کی کاتب میں ہے مظلوم کی بد دعا سے بچو کیونکہ اسے بادل پر سوار کیا جاتا ہے (1) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :” میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ عرصہ بعد۔ “ یہ روایت بھی صحیح ہے آجری حضرت ابوذرؓ کی حدیث سے روایت نقل کرتے ہیں :” میں اسے واپس نہیں کرتا اگرچہ وہ کافر کے منہ سے نکلے۔ “ (2) مظلوم کی دعا کو قبول کرتا ہے کیونکہ اس کو اپنی ضرورت کے ساتھ الخاص ہوتا ہے یہ سب کچھ اللہ کے کرم کے تقاضا کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے اخلاص کو قبول کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے اگرچہ کافر ہو اس طرح اگر وہ اپنے دین میں فاجر ہو فاجر کے فجور اور کافر کے کفر سے اس سے آقا (اللہ) کی مملکت میں کوئی نقص اور ضعفواقع نہیں ہوتا اور مضطر کے لئے جو وہ دعا قبول کرتا ہے اس میں کوئی مانع نہیں ہوتا مظلوم کی دعا اس کے ظالم کے خلاف کیسے قبول ہوتی ہے اس کی تفسیر یہ بیان کی گی ہے چاہے تو اسے مغلوب کردیتا ہے، اس سے بدلہ لیتا ہے یا اس پر کوئی اور ظالم مسلط کردیتا ہے جو اس پر ظلم کرتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وکذلک نولی بعض الظلمین بعضاً (الانعام :129) اس کی دعا کے جلد قبول کرنے کو یوں مئوکد کیا۔ تحمل علی المام اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو معین فرماتا ہے کہ وہ مظلوم کی دعا کو لیں، اسے بادل پر کھیں اور اس کے ساتھ آسمان کی طرف بلند ہوجائیں آسمان دعائوں کا قبہل ہے تاکہ تمام ملائکہ اسے دیکھ لیں۔ اس سے مظولم کی معاونت ظاہر ہوتی ہے اور اس کی دعا کی قبولیت فرشتوں کی جانب سے اس کی سفارش ہوتی ہے۔ مقصد اس پر رحم کرنا ہوتا ہے۔ اس میں ظلم سے ڈرانا مقصود ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی، اس کی معصیت اور اس کے امر کی مخالفت ہے جب اس نے اپنے نبی کی زبان سے فرمایا یہ حدیث صحیح مسلم اور دوسری کتب میں ہے۔ یا عبادی انی حرمت الظلم علی نفسی و جعلتہ بینکم محرما فلا تظالموا (3) اے میرے بندو ! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کرلیا ہے میں نے اسے تمہارے درمیان حرام کردیا ہے تم باہم ظلم نہ کیا کور۔ مظلوم مجبور ہے، مسافر اس کے قریب ہے کیونکہ وہ اپنے اہل اور وطن سے الگ تھلگ ہوتا ہے، دوست اور حمایتی سے الگ تھلگ ہوتا ہے اس کی اجنبیت کی وجہ سے اس کا دل کسی مددگار سے سکون نہیں پاتا۔ مولیٰ کی بارگاہ میں اس کی ضرورت سچی ہوتی ہے اور پناہ لینے میں وہ اخلاص کا مظاہرہ کرتا ہے مضطر آدمی جب دعا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔ اسی طرح والد جب اپنے بیٹے کے بارے میں بد دعا کرتا ہے وہ بد دعا اس سے صادر نہیں ہوتی جب کہ والد کی اپنی اولاد پر شفقت و مہربانی معلوم و معروف ہے مگر اس وقت وہ بد دعا کرتا ہے جب وہ کامل طور پر عاجز ہوجائے اور اس کی ضرورت میں صداقت ہو اور اپنے بیٹے کی طرف سے نیکی سے بالکل مایوس ہوجائے، جب کہ ساتھ ہی ساتھ اس کی طرف سے اذیت ہو پس اس صورت میں اس کی دعا کو جلد قبول کرنا ہی مناسب و موزوں ہے۔
ویکشف السوٓء سوء کا معنی تکلیف ہے۔ کلبی نے کہا : اس کا معنی ظلم ہے۔ ویجعلکم خلفآء الارض خلفاء سے مراد مکین ہیں وہ ایک قوم کو ہلاک فرما دے اور دوسری کو پیدا فرما دے۔ کتاب نقاش میں ہے یعنی وہ تمہاری اولادوں کو تمہارا نائب بناتا ہے۔ کلبی نے کہا، کفار کا نائب بناتا ہے۔ مومن ان کی زمینوں میں جا کر فروکش ہوتے ہیں اور ان کے کفر کے بعد اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں۔ ء الہ مع اللہ یہ تو بیخ کے طریقہ پر کہا گویا فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کوئی اور بھی الہٰ ہے تم ہلاک ہو۔ الہ یہ مع کے ساتھ مرفوع ہے یہ بھی جائز ہے کہ یہ اضمار کے ساتھ مرفوع ہو تقدیر کلام یہ ہوگی الامع اللہ یفعل ذلک فتعبدوہ مع اللہ پر وقف اچھا ہ۔
قلیلا ماتذکرون ابوعمرو، ہشام اور یعقوب نے یذکرون یاء کے ساتھ غائب کا صیغہ پڑھا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : بل اکثرھم لایعلمون۔ (النحل) و تعلی عما یشرکون۔ (یونس) ماقبل اور مابعد کے بارے میں خبر دی ابو حاکم نے اسے اختیار کیا ہے۔ باقی قراء نے تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ پڑھا ہے : ویجعلکم خلفاء الارض۔
امن یھدیکم تمہاری سیدھے راست ہیک طرف رہنمائی کے۔ فی ظلمت البر وا لبحر جب تم شہروں کی طرف سفر کرتے ہو تو تم رات اور دن میں ان کی طرف متوجہ ہوتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا : خشکی کے جنگلوں کو بنایا کہ ان کے راستوں کی کوئی علامت نہیں اور سمندر کی موجیں گویا وہ تاریکیاں ہیں کیونکہ ان میں کوئی علامت نہیں ہوتی جس کی مدد سے رہنمائی حاصل کی جاسکے۔
ومن یرسل الریح بشر بین یدی حمتہ بین یدی رحمتہ س یمراد بارش سے پہلے۔ اس پر اہل تاویل کا اتفاق ہےء الہ مع اللہ جو ایسا کرتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے تعلی اللہ عما یشرکون اللہ تعالیٰ ان بتوں سے بلند وبالا ہے جن کو وہ اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
Ayah 27:64امن یبدوا الخلق ثم یعیدہ وہ اقرار کرتے ہیں کہ وہی خالق و رازق ہے۔ پس ان پر اعادہ کو لازم کیا۔ جب وہ ابتدا پر قادر ہے تو بدیہی بات ہے کہ وہ دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے دوبارہ اٹھانا اس کے لئے زیادہ آسان ہے۔ ء الہ مع اللہ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور الہ بھی ہے جو پیدا کرت ا ہے، رزی دیتا ہے، پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور دوبارہ اٹھائے گا۔ قل ھاتوا یرھانکم کوئی دلیل لائو کہ واقعی میرا کوئی شریک ہے یا کوئی ایسی دلیل لائو جو اس کو ثابت کرے کہ ان اشیاء میں سے کسی شے کو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور نے بھی پیدا کیا ہے۔ ان کنتم صدقین اگر تم سچے ہو۔