Ayahs 27:32–34( قالت یایھا۔۔۔۔ )
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ قالت یایھا الملواء افتونی فی امری، ملا سے مراد قوم کے اشراف ہیں۔ سورة بقرہ میں اس کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کے ساتھ ہزار سردار تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بارہ ہزار سردار تھے، ہر سردار کے ساتھ لاکھ سپاہی تھے۔ قیل سے مراد بڑے بادشاہ کے نیچے چھوٹے بادشاہ تھے اس نے اپنی قوم کے ساتھ حسن ادب کو مخلوط خاطر رکھا ہے اور اس معاملہ میں جو اسے لا حق ہوتا ہے، اس کا ذکر اس قول میں ہے : ما کنت قاطعۃ امرا حتی تشھدون تو اس بڑی مصیبت میں کیسے تم سے مشورہ نہ کروں ؟ سرداروں نے اسے وہ جواب دیا جس سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوگئیں۔ انہوں نے اسے اپنی قوت اور طاقت کا بتایا پھر معاملہ کو اس کی رائے کے سپرد کردیا۔ یہ سب کی جانب سے اچھا مشورہ تھا۔ قتادہ نے کہا : ہمارے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ اس کے تین سو تیرہ آدمی تھے جو اہل مشورہ تھے ان میں سے ہر ایک دس ہزار افراد پر مشتمل لشکر کا سردار تھا۔
مسئلہ نمبر 2 :۔ اس آیت میں مشورہ کی صحت پر دلیل ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے ارشاد فرمایا : وشادرھم فی الامر (آل عمران : 159) یا تو آراء سے مدد لی یا اولیاء کی خاطر مدارت تھی، اللہ تعالیٰ نے فضلاء کو اس قول کے ساتھ مدح کی وامرھم شوری بینھم ( شوریٰ : 38) مشاورت یہ قدیمی امر ہے اور جنگی معاملات میں اس کا خاص مقام ہے یہ بلقیس دور جاہلیت کی عورت تھی سورج کی عبادت کیا کرتی تھی قالت یایھا الملوا افتونی فی امری یا کنت فاطمعۃ امر حتی تشھدون تاکہ دشمنوں کے ساتھ برسر پیکار ہونے کے لیے ان کے عزم سے آگاہی حاصل کرے اور جو ان کے معاملہ کو درست کرے اس میں احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھے اور اپنی اطاعت پر ان کے فیصلہ سے آگاہی حاصل کرے اور یہ جانے کہ اگر وہ اپنی جانیں، اپنے اموال اور اپنے خون اس کے دفاع کے لیے خرچ نہ کریں تو ان میں اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ ہوگی۔ اگر ان کا امر، احتیاط اور کدو کاوش کو مجتمع نہ ہو تو یہ ان کی اپنے دشمن کی مدد ہوگی اگر وہ خود امتحان نہ لے جو کچھ ان کے پاس ہے اور ان کے عزم کی قدرکو نہ پہچانے تو وہ بصیرت پر نہ ہوگی۔ بعض اوقات اس کا اپنی رائے سے استبداد اختیار کرنا اس کی طاعت میں کمزوری کو ثابت کرنا اور ان کا امور کی تقدیر میں دخل اندازی بنتی اس نے ان سے جو مشورہ لیا اور ان کی رائے لی تو یہ اس امر میں مددگار ثابت ہوا جس امر کا وہ ارادہ رکھتی تھی وہ ان کی شوکت کی قوت اور ان کی مدافعت کی شدت کا ملاحظہ کرنا تھا کیا آپ ان کے اس قول کو نہیں دیکھتے جو انہوں نے جواب دیا : نحن اولوا قوۃ اولوا باس شدید۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان میں سے ایک کی قوت یہ تھی کہ وہ اپنے گھوڑے کو دوڑاتا جب وہ خوب تیز دوڑنے لگتا تو وہ اپنی رانوں کو ملاتا تو وہ اپنی طاقت سے گھوڑے کو دوڑنے سے روک لیتا۔
مسئلہ نمبر 3 :۔ والا مرالیک فانظری ما ذاتا مرین انہوں نے اپنی قوت، طاقت اور شدت کا اظہار کیا، پھر معاملہ کو اس کی رائے کے سپرد کردیا۔ جب وہ یہ کرچکے تو اس موقع پر اس نے بتایا کہ بادشاہ جب غلبہ پاتے ہیں تو وہ بستیوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ اس کلام میں اسے اپنی قوم کے بارے میں خوف اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو عظیم جاننے کا تذکرہ ہے۔
وکذلک یفعلون ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ بلقیس کے قول میں ہے جس معنی کا اس نے ارادہ کیا اس کی تائید ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اس میں حضرت محمد ﷺ اور آپ کی امت کو آگاہ کرنا ہے (1) وہب نے کہا : جب اس نے ان پر خط پڑھا وہ اللہ تعالیٰ کے نام کو نہ پہچان سکی۔ اس نے کہا : یہ کیا ہے ؟ کسی نے فرد نے بتایا : ہمارا گمان نہیں مگر یہ جنوں میں بڑا جن ہے جس کے ذریعے یہ بادشاہ اس امر پر قادر ہوجاتا ہے جس کا وہ ارادہ کرتا ہے۔ سرداروں نے اسے خاموش کرا دیا، ایک اور نے کہا : میں انہیں تین عفریتوں میں سے دیکھتا ہوں۔ سرداروں نے اسے بھی خاموش کرا دیا۔ ایک نوجوان نے کہا جس کو علم تھا : اے بادشاہوں کی ملکہ ! حضرت سلیمان ایک بادشاہ ہے آسمان کے بادشاہ نے اسے عظیم ملک عطاء کیا ہے وہ کوئی کلام نہیں کرتا مگر اس کے شروع میں اپنے الٰہ کا نام لیتا ہے، اللہ یہ آسمان کے بادشاہ کا نام ہے رحمن اور رحیم اس کی صفات ہیں اس موقع پر اس نے کہا : افتونی فی امری انہوں نے جواب دیا : نحن اولوا قوۃ ہم قتال میں بڑے
1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 258 قوی ہیں، واولو باس شدید جنگ اور مقابلہ کے وقت بڑی قوت والے ہیں۔ والا مرالیک معاملہ تیرے سرپد ہے۔ انہوں نے اس معاملہ کو اس کی طرف سپرد کردیا کیونکہ انہیں تجربہ تھا کہ اس کی رائے میں برکت ہے۔ فانظری ماذاتا مرین تو اس موقع پر اس نے کہا : ان الملوک ذا دخلوا قریۃ افسدوھا وجعنوا اعزۃ اھلھا اذلۃ وہ شرفاء کو ذلیل کردیتے ہیں تاکہ ان کے لیے امور درست ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے قول کی تصدیق کی۔ وکذلک یفعلون ابن انباری نے کہا : وجعلوا اعزۃ اھلھا اذلۃ پر واقف تام ہے۔ اللہ تعالٰ نے ان کے قول کی تحقیق کے طور پر کہا : وکذلک یفعلون اس کی مثل سورة اعراف میں ہے : قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ۔ یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ (الاعراف : 109) فرعون نے کا : فما ذا تامرون۔ ( الاعراف) ابن شجرہ نے کہا : یہ بلقیس کے قول میں ہے، وقف و کذلک یفعلون پر ہے یعنی جب حضرت سلیمان ہمارے شہروں میں داخل ہوں گے تو اس طرح کریں گے۔
Ayah 27:35( وانی مرسلۃ۔۔۔۔ )
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ وانی مرسلۃ الیم بھدیۃ یہ اس کا حسن نظر اور حسن تدبیر تھا۔ میں تحفہ بھیج کر اس آدمی کا امتحان لیتی ہوں میں اسے عمدہ اموال عطاء کرتی ہوں اور امور مملکت میں نادرو نایاب چیزیں اس پر پیش کرتی ہوں اگر وہ دنیاوی بادشاہ ہوا تو مال اسے خوش کر دے گا اور ہم اس کے ساتھ اسی مناسبت سے معاملہ کرلیں گے اگر وہ نبی ہوا تو مال اسے خوش نہیں کرے گا اور وہ ہمارے اوپر دینی امور کو لازم کرے گا تو ہمارے لیے مناسب ہوگا کہ ہم اس پر ایمان لے آئیں اور اس کے دین پر اس کی اتباع کریں۔ اس نے حضرت سلیمان کی طرف عظیم تحفہ بھیجالوگوں نے اس کی تفصیل میں بہت زیادہ گفتگو کی ہے۔
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے اس نے سونے کی ایک اینٹ بھیجی تو قاصدوں نے سونے کی دیواریں دیکھیں تو جو تحفہ وہ لائے تھے اس کو انہوں نے حقیر جانا۔ مجاہد نے کہا : ملکہ بلقیس نے اس کی طرف دو سوم غلام اور دو سو لونڈیاں بھیجیں (1) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : اس نے باہ خادمائیں بھیجیں جن کو اس نے غلاموں کا لباس پہنایا اور بارہ غلام بھیجے ان کو اس نے عورتوں کا لباس پہنایا۔ خادموں کے ہاتھوں پر کستوری اور عنبر کے طبق تھے بارہ شریف خاندان کی دو شیزائیں تھیں جو سونے کی اینٹیں اٹھائے ہوئے تھیں دو گھونگے تھے ان میں سے ایک میں چھید تھا اور دوسرے میں چھید نہیں تھا اور چھید ٹیڑھا تھا۔ ایک پیالہ تھا جس میں کوئی چیز نہ تھی ایک عصا تھا حمیر کے بادشاہ جس کے وارث چلے آ رہے تھے۔ اس نے یہ ہد ہد اپنی قوم کی ایک جماعت کے ساتھ بھیجا اور ایک قول یہ کیا گیا ہے : قاصد ایک تھا اس کی صحبت میں پیروکار اور خدام تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس نے اپنی قوم کے اشراف میں سے ایک آدمی بھیجا جس کو منذر بن عمرو کہا جاتا۔ اس کے ساتھ اس نے صاحب الرائے اور دانشمند آدمی کردیئے۔ ہدیہ سو غلام اور سو لونڈیاں تھیں۔ لباس ان کے مختلف
1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 259، معنا
تھے اس نے غلمان سے کہا : جب سلیمان (علیہ السلام) تم سے گفتگو کریں تو ان کے ساتھ ایسی گفتگو کرو جس میں تانیث ہو اور وہ کلام عورتوں کے کلام کے مشابہ ہو۔ اس نے لونڈیوں سے کہا : ان سے کلام کروجس میں سختی ہو اور وہ کلام مردوں کے کلام کے مشابہ ہو۔ یہ کہا جاتا ہے : ہد ہدآیا اور اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو سب کچھ بتا دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو خبر دی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ آپ کی جگہ نو فراسخ تک سونے اور چاندی کی اینٹیں لگا دیں، پھر فرمایا : خشکی اور تری میں کون سا جانور تم سب سے خوبصورت دیکھتے ہو ؟ ساتھیوں نے بتایا : اے اللہ کے نبی ! ہم نے سمندر میں فلاں فلاں جانور دیھے جس پر نقطے ہیں اسکے رنگ مختلف ہیں، اس کے پر ہیں، اس کی گردن پر بال ہیں اور پیشانی پر بال ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا تو جانور آگئے انہیں میدان کے دائیں اور بائیں اور سونے چاندی کی اینٹوں پر باندھ دیا گیا اور ان کے لیے چارہ ڈال دیا پھر آپ نے جنوں کو حکم دیا کہ اپنی اولادوں کو لے آئو تو آپ نے انہیں میدان کی دائیں اور بائیں جانب کھڑا کردیا جو انتہائی خوبصورت جوان تھے پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنی مجلس میں اپنی کرسی پر بیٹھے آپ کے لیے سونے کی چار ہزار کرسیاں آپ کی دائیں جانب اور اتنی مقداریں بائیں جانب رکھ دیں۔ ان پر انبیاء اور اولیاء کو بٹھایا۔ شیاطین، جنوں اور انسانوں کو حکم دیا کہ کئی فرسخوں تک کھڑے ہوجائیں، درندوں، کیڑے مکوڑوں اور پرندوں کو حکم دیا تو انہوں نے کئی فراسخ تک آپ کے دائیں بائیں صفیں بنا لیں جب قوم میدان کے قریب ہوگئی اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ملک کو دیکھا اور جانور دیکھے جس سے حسین ان کی آنکھوں نے نہ دیکھے تھے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں پر پیشاب کر رہے تھے تو انہیں اپنے آپ چھوٹے لگے اور ان کے پاس جو ہدایا تھے انہیں پھینک دیا۔
بعض روایات میں ہے : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جب یہ حکم دیا کہ میدان کے فرش کو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنا دیا جائے تو آپ نے یہ حکم دیا کہ راستہ میں قالین کے برابر زمین کا حصہ چھوڑ دیا جائے اس پر فرش نہ لگایا جائے جب وہ اس کے پاس سے گزرے تو انہیں خوف ہوا کہ ان پر تہمت لگائی جائے گی تو ان کے پاس جو کچھ تھا وہ انہوں نے وہاں پھینک دیا جب انہوں نے شیاطین کو دیکھا تو انہوں نے خوفناک منظر دیکھا تو وہ اس سے گھبرا گئے اور خوفزدہ ہوگئے۔ شیاطین نے انہیں کہا : تم گزر جائو تم پر کوئی گرفت نہیں وہ جنوں، انسانوں، چوپائیوں، پرندوں، درندوں اور وحشیوں کی جماعتوں کے پاس سے گزرتے رہے یہاں تک کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے جا کر ٹھہر گئے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے خندہ پیشانی سے خوبصورت انداز میں دیکھا ملکہ بلقیس نے اپنے قاصد سے کہا تھا : اگر وہ تجھے غضب کی نظر سے دیکھے جو ہشاش بشاش اور شفقت کرنے ولا ہے تو جان لینا وہ نبی مرسل ہے اس کی بات کو خوب سمجھنا اور خوب دینا۔ ہد ہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو پہلے ہی سب کچھ بتا دیا تھا۔ ملکہ بلقیس نے سونے کے ایک چھوٹے برتن کا ارادہ کیا جس میں ایک اسا موتی تھا جس میں سوراخ نہیں کیا گیا تھا اور ایک ایسا گونگا تھا جس میں چھید ٹیڑھا کیا گیا تھا۔ اس نے قاصد کے ہاتھ ایک خط لکھ کر بھیجا تھا اس میں اس نے کہا تھا : اگر تو نبی ہے تو خدام اور خادمائوں میں فرق کرو اور چھوٹے برتن میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں خبر دو اور نچلی جانب سے عصا کا سرا مجھے بتائو۔ موتی میں سیدھا چھید کرو اور گونگے میں دھاگا داخل کرو اور پیالے کو ایسے پانی سے بھر دو جو نہ زمین سے تعلق رکھتاہو اور نہ ہی آسمان سے۔ جب قاصد پہنچا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے کھڑا ہوا تو آپ کو ملکہ کا خط پہنچایا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے دیکھا پوچھا : وہ برتن کہاں ہے ؟ اسے لایا گیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے حرکت دی تو اس میں جو کچھ تھا حضرت جبریل امین نے اس کے بارے میں خبر دے دی۔ پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے انہیں خبردے دی۔ قاصد نے عرض کی : آپ نے سچ فرمایا ہے۔ موتی میں سوراخ کیجئے اور گھونگے میں دھاگہ ڈالیے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جنوں اور انسانوں سے فرمایا کہ اس میں سوراخ کیجئے تو وہ عاجز آگئے آپ نے شیاطین سے فرمایا : تمہاری اس بارے میں کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عرض کی : آپ دیمک کو پیغام بھیجیں، دیمک آگئی اس نے اپنے منہ میں ایک بال لیا یہاں تک کہ دوسری جانب سے نکل گئی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا : تیری کوئی حاجت ؟ اس نے عرض کی : میرا رزق درخت میں رکھ دیجئے۔ فرمایا : تیرے لیے وہ ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا : کون اس گھونگے میں دھاگا ڈالے گا ؟ سفید کپڑے نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میں اس خدمت کے لیے حاضر ہوں۔ کیڑے نے دھاگہ اپنے منہ میں لیا سوراخ میں داخل ہوا یہاں تک کہ دوسری جانب سے نکل گیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا : تیری کوئی حاجت ؟ عرض کی : میرا رزق پھلوں میں رکھ دیجئے۔ فرمایا : وہ تیرے لیے ہے۔ پھر آپ نے خدام اور لونڈیوں میں فرق کیا۔ سدی نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے انہیں وضو کا حکم دیا مرد ہاتھ اور پائوں پر پانی بہانے لگے اور لونڈیاں بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر پانی بہانے لگیں اور دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی بہانے لگیں، تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس طرح ان کو الگ الگ کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لونڈی برتن سے ایک ہاتھ سے پانی لیتی پھر اسے دوسرے میں رکھتی پھر منہ پر ڈالتی جب کہ غلام برتن سے پانی لیتا اور اپنے چہرے پر ڈالتا لونڈی اپنی کلائی کے بطن پر پانی بہاتی اور غلام کلائی کی پشت پر پانی بہاتا۔ لونڈی پانی انڈیلتی اور غلام اپنے ہاتھوں پر پانی تیزی سے بہاتا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس طرح ان کے درمیان تمیز کی۔
یعلی بن مسلم نے سعید بن جبیر سے روایت نقل کی ہے کہ ملکہ بلقیس نے دو سو غلام اور لونڈیاں بھیجیں اس نے کہا : اگر نبی ہوئے تو مؤنث سے مذکر کو پہچان لیں گے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ وضو کرو تو انہوں نے وضو کیا ان میں سے جس نے وضو کیا اور اپنی ہتھیلی سے پہلے اپنی کہنی سے دھونے کا عمل شروع کیا۔ فرمایا : یہ مونث ہے اور جس نے کہنی سے پہلے ہتھیلی سے دھونے کا عمل شروع کیا تو وہ مذکر ہے۔ پھر آپ نے عصا کو ہوا کی طرف اچھالا فرمایا : جو سرا پہلے زمین کی طرف آئے گا وہ اس کی اصل ہوگا۔ آپ نے گھوڑے کے بارے میں حکم دیا کہ اسے دوڑایا جائے جہاں تک کہ اسے پسینہ آجائے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کے پسینہ سے اس پیالہ کو بھر دیا۔ پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تحفہ واپس کردیا۔ یہ روایت بیان کی گئی ہے : جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ہدیہ واپس کردیا اور اس کے قاصدوں نے ان چیزوں کے بارے میں بتایا جن کا مشاہدہ انہوں نے کیا تھا تو ملکہ بلقیس نے اپنی قوم سے کہا : یہ آسمان کا معاملہ ہے۔
مسئلہ نمبر 2 :۔ نبی کریم ﷺ ہدیہ قبول کیا کرتے تھے اس پر ثابت رہتے اور صدقہ قبول نہ فرماتے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور باقی انبیاء کا بھی یہی معمول تھا۔ ملکہ بلقیس نے ہدیہ کو قبول کرنے اور اس کے رد کرنے کو اپنے ہاں ایک علامت بنایا تھا جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بادشاہ ہیں یا نبی ہیں کیونکہ آپ نے اپنے خط میں لکھا تھا الا تعلوا علیواتونی مسلمین اس میں فدیہ قبول نہیں ہوتا اور نہ ہی ہدیہ لیا جاتا ہے یہ اس باب سے متعلق نہیں جس میں یہ ثابت ہو کہ اس میں ہدیہ کو کس طریقہ سے قبول کیا جاتا ہے ؟ یہ تو رشوت ہے اور حق کی باطل کے بدلہ میں بیع ہے، یہ ایسی رشوت ہے جو حلال نہیں جہاں تک مطلق ہدیہ کا تعلق ہے جو باہم محبت اور صلہ رحمی کے لیے دیا جاتا ہے یہ بہر کیف جائز ہے جب کہ مشرک کی جانب سے نہ ہو۔
مسئلہ نمبر 3۔ اگر مشرک کی جانب سے ہو تو حدیث طیبہ میں ہے ” مجھے مشرکوں کی ہدایا اور عطیات سے روک دیا گیا ہے “ (1) حضور ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا جس طرح مالک کی حدیث میں ہے جو ثور بن زید دیلی وغیرہ سے مروی ہے۔ علماء کی ایک جماعت نے دونوں میں نسخ کا قول کیا ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : اس میں کوئی ناسخ و منسوخ نہیں۔ اس میں معنی یہ ہے آپ اس کافر کا ہدیہ قبول نہ کرتے جس پر غلبہ کا ارادہ رکھتے ہوں، اس کے ملک کو لینا چاہتے ہوں اور اس کے اسلام میں داخل ہونے کی خواہش کرتے ہوں اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی یہی حالت تھی۔ اس جیسی صورتحال میں آپ کو نہی کی گئی کہ اس کا ہدیہ قبول کیا جائے تاکہ اسے محمول کیا جائے کہ آپ اس سے رک جائیں۔ اس بارے میں علماء کی تاویلات میں سے سب سے اچھی تاویل ہے کیونکہ اس تاویل میں احادیث کی تطبیق ہوجاتی ہے اس کے علاوہ بھی عملاء نے تاویل کی ہے۔
مسئلہ نمبر 4۔ ہدیہ مستحب ہے یہ محبت کو پیدا کرتا ہے اور دشمنی کو ختم کرتا ہے۔ امام مالک نے عطا خراسانی سے روایت نقل کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” باہم مصافحہ کیا کرو یہ کینے کو ختم کردیتا ہے، باہم ہدیہ دیا کرو تمہارے درمیان محبت پیدا ہوجائے گی اور یہ چیز بخل کو ختم کر دیگی (2) “۔ معاویہ بن حکم نے روایت نقل کی ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :” باہم ہدیہ دیا کرو کیونکہ یہ محبت میں اضافہ کرتا ہے اور سینے کے کینوں کو دور کرتا ہے۔ “ (3) دار قطنی نے کہا : ابن بجیر اپنے باپ سے وہ مالک سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کوئی پسندیدہ شخصیت نہیں تھے نہ یہ روایت امام مالک ثابت ہے اور نہ زہری سے ثابت ہے۔ ابن شہاب سے مروی ہے کہا : ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” باہم ہدیہ دیا کرو ہدیہ کینہ کو ختم کردیتا ہے۔ “ ابن وہب نے کہا : میں نے یونس سے نحیمہ کے بارے میں پوچھا : وہ کیا ہے ؟ فرمایا : کینہ۔ اس حدیث کو واقص عثمان، زہری سے متصل نقل کرتے ہیں جب کہ وہ ضعیف ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ ہدیہ کو قبول فرمایا کرتے تھے اس میں اسوہ حسنہ موجود ہے اتباع سنت کے ساتھ ساتھ ہدیہ نفس کی آلائشوں کو زائل کرتا ہے ہدیہ دینے والے اور جس کو ہدیہ دیا جائے ان میں باہمی ملاقات اور صحبت کی چاشنی پیدا کرتی ہے جس نے کہا کتنا اچھا کہا :
ھدایا الناس بعضھم لبعض تولد فی قلوبھم الوصالا
وتزرع فی الضمیر ھوی وودا وکسبھم اذا حضروا جمالا
لوگوں کے ایک دوسرے کو ہدایات ان کے دلوں میں باہمی محبت پیدا کرتے ہیں۔ وہ ضمیر میں محبت کا بیچ بوتے ہیں اور جب وہ حاضر ہوتے ہیں تو انہیں جمال عطا کرتے ہیں۔
ان الھدایا لھا حظ اذا وردت احظی من الابن عند الواحد الحدب
ہدایا جب بیٹے کی جانب سے واقع ہوں تو شفیق باپ کے نزدیک ان کا بڑا مقام ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر 5۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے :” تمہارے جلیس ہدیہ میں تمہارے ساتھ شریک ہیں “ (1) اس کے معنی میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ظاہر معنی پر محمول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کرم اور مروت کی بنا پر ان کے ساتھ شریک ہیں اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ امام ابو یوسف نے کہا : یہ پھلوں وغیرہ میں ہے۔ بعض نے کہا : وہ ہدیہ کی بجائے سرور میں شریک ہیں۔ خبر اصحاب صفہ، گلی والے اور فقراء کے لئے وقف کئے گئے مکانات پر محمول ہے۔ اگر وہ فقہاء میں سے فقیہ ہو تو اس میں اصحاب کی کوئی شرکت نہ ہوگی۔ اگر وہ ان لوگوں کو شریک کرے تو اس کی سخاوت ہوگی۔
مسئلہ نمبر 6۔ فنظرۃ بم یرجع المرسلون یہاں ناظرہ، منتظرہ کے معنی میں ہے۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے وہ اپنے اسلام اور اپنے شرک میں سمجھ دار تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ہدیہ لوگوں کے ہاں بڑی شان رکھتا ہے۔ بم میں الف ساقط ہوگیا ہے تاکہ ما استہفامیہ اور ماخبر یہ میں فرق کیا جائے۔ بعض اوقات کا ثابت کرنا بھی جائز ہے۔ شاعر نے کہا :
علی ما قام یشمنی لئیم کنخزیر تمرغ فی رماد
کمینہ آدمی مجھے ملامت کرنے لگا جس طرح خنزیر راکھ میں لیٹتا ہے۔
Ayahs 27:36–38فلما جآء سلیمن قال اتمدونن بمال قاصد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس ہدیہ لایا فرمایا : اتمدونن بمال حمزہ، یعقوب اور اعمش نے ایک نون مشددہ اور اس کے بعد یائہ ثابتہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے دونوں پڑھے ہیں، یہ ابوعبید کا پسندیدہ قول ہے، کیونکہ تمام مصاحف میں دونوں ہیں۔ اسحاق نے نافع سے یہ قرأت نقل کی ہے اتمدون یعنی ایک نون ہے مخفہ ہے بعد میں یاء ہے جو لفظوں میں ہے۔ ابن انباری نے کہا، اس قرأت میں واجب ہے کہ وقف کے وقت یاء کو ثابت رکھا جائے تاکہ مصحف کے ہجوں کے ساتھ موافقت ہوجائے۔ اصل نون مشددہ ہے اس جگہ تشدید میں تخیف کی گئی ہے جس طرح اشھدانت عالم میں تخفیف کی گئی ہے اصل انک عالم ہے۔ اس معنی پر اس نے بنا کی جس نے پڑھا : یشاقون فیھم اتحاجون فی اللہ عربوں نے کہا : الرجال یضربون ویقصدون اصل میں یضربونی ویقصدونی ہے کیونکہ یہ یضر بوننی اور یقصد نونی کا ادغام ہے۔ شاعر نے کہا :
ترھبین والجید منک للیلی والحشا والبغام والعینان
ال میں ترھبینی ہے اس میں تخفیف کی گئی۔ اتمذوننی کا معنی ہے کیا تم میرے مال میں اضافہ کرتے ہو جب کہ تم میرے اموال کا مشاہدہ کر رہے ہو۔
فما اتنن اللہ خیر مما اتکم اللہ تعالیٰ نے اسلام، ملک اور نبوت کی صورت میں جو کچھ عطا کیا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کیا ہے میں مال کے ساتھ خوش نہیں ہوتا۔ اتانی اللہ یاء مفتوحہ ہے۔ جب انہوں نے وقف کیا تو انہوں نے یاء کو حذف کیا۔ جہاں تک یعقوب کا تعلق ہے تو وہ وقف میں ثابت کرتے ہیں اور اجتماع ساکنین کی وجہ سے وصل میں گرا دیتے ہیں۔ باقی قراء دونوں حالوں میں یاء کے بغیر پڑھتے ہیں۔
بل انتم بھدیتکم تفرحون کیونکہ تم فخر کرنے والے اور دنیا میں کثرت مال کا تقاضا کرنے والے ہو۔
ارجمع الیھم حضرت سلیمان نے منذربن عمرو سے کہا جو وفد کا امیر تھا : ہدیہ کو ان کی طرف واپس لے جائو۔ فلنا تینھم بجنود لاقبل لھم بھا لام قسمیہ ہے اور نون ثقلیہ اس کو لازم ہے۔ نحاس نے کہا : میں نے ابو الحسن بن کیسان کو کہتے ہوئے سنا : یہ لام تاکید یہ ہے اسی طرح اس کے نزدیک لام تین طرح ہیں کوئی اور لام نہیں (1) لام تاکید (2) لام امر (3) لام جار۔ یہ ذہین نحویوں کا قول ہے کیونکہ وہ ہر چیز کو اس اصل کی طرف پھیرتے ہیں یہ کسی انسان کے لئے اس وقت ہی ہو سکتا ہے جب اسے عربی زبان میں تجربہ و مہارت ہو۔ لاقبل لھم بھا کا معنی ہے انہیں اس کی طاقت نہ ہوگی۔ ولنخرجنھم منھا ہاضمیر سے مرادان کی زمینیں ہیں۔ اذلۃ وھم صغرون ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہاضمیر سے مراد قریتہ سبا ہے اس کا ذکر اللہ تعالیٰ کے فرمان : ان الملوک اذا دخلوا قریۃ افسدوھا میں گزر چکا ہے اذلۃ کا معنی ہے ان کا ملک اور عزت سلب کرلی جاتی ہے۔ وھم صغرون جب کہ وہ ذلیل و رسوا ہوتے ہیں۔ یہ صغر سے مشتق ہے جس کا معنی ذلت ہے یعنی اگر وہ اسلام لائیں۔ قاصد واپس ملکہ بلقیس کے پاس گیا اور اسے خبر دی۔ اس نے کہا، میں پہچان گئی ہوں کہ وہ بادشاہ نہیں اللہ تعالیٰ کے انبیاء میں سے کسی نبی کے ساتھ جنگ کرنا ہمارے ببس میں نہیں۔ اس نے اپنے عرش کے بارے میں حکم دیا تو اسے ایسے سات کمروں میں مقفل کردیا گیا جو ایک دوسرے کے اندر تھے جس کے اردگرد سات محلات تھے۔ تمام دروازے بند کردیئے گئے ان پر پہرے لگا دیئیگئے اور خود بارہ ہزار چھوٹے بادشاہوں کے ساتھ جو یمن کے بادشاہ تھے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس جانے کے لئیسفر شروع کیا ہر بادشاہ کی قیادت میں ایک لاکھ سپاہی تھے۔
حضرت ابن عباس نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) بڑے ہیبت والے بادشاہ تھے آپ پہل نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ ان سے اس کا سوال کیا جاتا۔ ایک دن آپ نے اپنے قریب غبار دیکھا پوچھا : یہ کیا ہے ؟ ساتھیوں نے بتایا : یہ ملکہ بلقیس ہے اے اللہ کے نبی ! تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے لشکریوں سے فرمایا وہب اور دوسرے علماء نے کہا : آپ نے جنوں سے فرمایا۔
ایکم یاتینی بعرشھا قبل ان یاتونی مسلمین عبداللہ بن شداد نے کہا : ملکہ بلقیس حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے ایک فرسخ دور تھی جب آپ نے یہ حکم دیا تھا وہ اپنا عرش سبا چھوڑ آئی تھی اور اس پر نگہبان بیٹھائے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب ملکہ بلقیس نے تحفہ بھیجا تھا تو اس نے اپنے قاصد اپنے لشکروں کی صورت میں بھیجے تھے تاکہ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس کے ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تو تیاری سے پہلے دھوکہ سے انہیں قتل کردیا جائے۔ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس کا علم ہوا تو اس وقت آپ نے یہ حکم دیا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے عرش لانے کا حکم اس سے قبل دیا تھا جب آپ نے اسے خط لکھا تھا کہ وہ اس کی بارگاہ میں داخل ہوا بھی خط نہیں بھیجا تھا کہ وہ عرش آگیا۔ ابن عطیہ نے کہا : آیات کا ظاہر اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ گفتگو ہد ہد کے آنے اور اس کو لوٹانے اور ہد ہد کو خط دے کر بھیجنے کے بعد کی تھی، جمہور مفسرین کی یہی رائے ہے۔ عرش منگوانے کے فائدے کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔ قتادہ نے کہا : حضرت سلیمان علیہ ال سلام کے سامنے اس کی عظمت اور عمدگی کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ارادہ کیا کہ قبل اس کے کہ اسلام اس کے تخت اور قوم کی حفاظت کرے اور ان کے اموال کی حفاظت کرے وہ اس تخت کو لے لیں۔ اسلام کا یہی طریقہ ہے، یہ ابن جریج کا قول ہے۔ ابن زید نے کہا، آپ نے تخت اس لئے منگوایا تھا تاکہ ملکہ بلقیس کو اپنی وہ طاقت دکھائیں جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ کو دی گئی نیز اسے نبوت پر دلیل بنائیں کہ وہ لشکر اور جنگ کے بغیر بھی ان کے گھروں کو اپنی تحویل میں لے سکتے ہیں۔ اس تاویل کی بنا پر مسلمین، مستلمین کے معنی پر ہے، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ ابن زید نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی عقل کا امحتان لینا چاہا۔ اسی وجہ سے فرمایا : نکروالھا عرشھا ننظر اتھتدی جنوں کو خوف ہوا کہ کہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس سے شادی ہی نہ کرلیں تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اس کے بطن سے بچہ پیدا نہ ہوجائے تو وہ ہمیشہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نسل کے خادم اور تابع ہی رہیں گے۔ جنوں نیحضرت سلیمان (علیہ السلام) سے کہا : ملکہ بلقیس کی عقل میں خلل ہے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تحت کی وساطت سے اس کا امتحان لینا چاہا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت سلیمان علیہ اسلام نے ہد ہد کی صداقت کا امحتان لینا چاہا۔ جو اس نے کہا تھا : ولھا عرش عظیم۔ یہ طبری کا قول ہے۔ قتادہ سے مروی ہے : ہد ہد نے جو وصف بیان کیا اس کو دیکھنا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پسند کیا۔ پہلے قول کو اکثر علماء نے تسلیم کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : قبل ان باتونی مسلمین کیونکہ وہ اگر مسلمان ہوجاتی تو اس کا مال اس پر محفوظ ہوجاتا تو اس کی اجازت کے بغیر اس کو نہ لیا جاسکتا۔ روایت بیان کی گئی ہے : وہ سونے اور چاندی کا بنا ہوا تھا سرخ یاقوت اور جواہرات سے آراستہ تھا وہ سات کمروں کے اندر تھا اس پر سات تالے لگے ہوئے تھے۔
Ayahs 27:39–40قال عفریت من الجن جمہور کی قرأت یہی ہے۔ ابورجاء اور عیسیٰ ثقفی نے اسے عفریۃ پڑھا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق سے مروی ہے حدیث میں ہے ” اللہ تعالیٰ عفریہ نفریہ کو نپاسند کرتا ہے۔ “ (1) نفریہ کا لفظ عفریتہ کی اتباع میں آتا ہے۔ قتادہ نے کہا : بڑی مصیبت کو کہتے ہیں۔ نحاس نے کہا : شدید کو عفریہ کہتے ہیں جب اس کے ساتھ خبث ہو۔ دھاء عفرو عفریۃ و عفریت وعفاریۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عفریت کا معنی رئیس ہے۔ ایک فرقہ نے قرأت کی قال عفر عین کے نیچے کسرہ ہے، ابن عطیہ نے اس کی حکایت بیان کی ہے۔ نحاس نے کہا، جس نے عفریۃ کہا اس کی جمع عفار ہے جس نے کہا، عفریت، اس کی جمع میں تین صورتیں ہیں۔ اگر چاہے تو کہے : عفاریت اگر چاہے تو کہے : عفار کیونکہ تاء زائدہ ہے، جس طرح کہا جاتا ہے طواغ یہ طاغوت کی جمع ہے اگر چاہے تو تاء کی جگہ یاء لے آئے اور کہے : عفاری، شیطانوں میں سے عفریت اسے کہتے ہیں جوط اقتور اور سرکش ہو۔ تاء زائدہ ہے۔ عربوں نے کہا : تعفرت الرجل۔ جب اس نے اذیت پہچانے والا رویہ اپنایا۔ وہب بن منبہ نے کہ: اس عفریت کا نام کو دن تھا۔ نحاس نے اس کا ذکر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس کا نام ذکوان تھا، سہیلی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ شعیب صبائی نے کہا : اس کا نام دعوان تھا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے وہ صخر جنی تھا۔ اس نام کے بارے میں ذی رمہ کا قول ہے :
کانہ کو کب فی اثر عفریۃ مصوب فی سواد اللیل منقضب
گویا وہ عفریہ کے پیچھے ستارہ تھا۔
کسائی نے یہ شعر پڑھا :
اذل قال شیطانھم العفریت لیس لکم ملک و لاتثبیت
جب ان کی عفریت شیطا ننے کہا، تمہارے لئے کوئی ملک اور ثابت قدمی نہیں۔
حضرت ابوہریرہ سے صحیح میں حدیث ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” گزشتہ رات جنوں میں سے ایک سرکش جن مجھے دھوکہ دینے لگا تاکہ مجھ پر میری نماز کو قطع کر دے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دی تو میں نے اسے شدید دھکا دیا۔ “ (1) حدیث ذکر کی۔ بخاری شریف میں تفلت علی البارحۃ کے الفاظ ہیں جو جعل یفتک کی جگہ ہیں۔ موطا میں یحییٰ بن سعید سے مروی ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کو رات کے وقت میرا کرائی گئی۔ آپ ﷺ نے ایک سرکش جن کو دیکھا جو آگ کے ایک شعلہ کیساتھ آپ ﷺ کی طلب میں تھا جب بھی رسول اللہ ﷺ متوجہ ہوتے تو اسے دیکھ لیتے۔ جبریل امین نے کہا، کیا میں آپ کو ایسے کلمات نہ سکھائوں جو آپ ﷺ کہیں، جب آپ ﷺ وہ کلمات پڑھیں تو اس کا شعلہ بجھ جائے تو اس کی ہڈی سے گوشت الگ ہو کر گر جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیوں نہیں۔ حضرت جبریل امین نے یہ کلمات بتائے : اعوذ باللہ الکریم و کلمات اللہ التامات التی لایجاوزھن برولافاجر من شر ما ینزل من السماء و شر مایعرج و شر ما ذرانی الارض و شرما یخرج منھا ومن فتن اللیل والنھار ومن طوارق اللیل و النھار الا طارق یطرق بخیریا رحمٰن (2)
میں اللہ کریم اور اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ جن سے کوئی نیک اور فاجر تجاوز نہیں کرسکتا کی پناہ مانگتا ہوں اس شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور اس شر سے جو آسمان کی طرف بلند ہوتی ہے اور اس کے شر سے جو زمین میں بوئی جاتی ہے اور اس شر سے جو زمین سے نکلتی ہے رات اور دن کے فتنوں سے، رات اور دن کے وقت آنے والوں سے مگر جو بھلائی لائے اے رحمٰن۔
انا اتیک بہ قبل ان تقوم من مقامک یعنی اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے جن میں آپ فیصلہ کرتے ہیں۔ وانی علیہ لقوی امین اس کے اٹھانے پر قوی اور اس میں جو کچھ ہے اس پر امین ہوں۔ حضرت ابن عباس نے کہا : بیوی کی شرمگاہ پر امین ہوں، مہدوی نے یہ ذکر کیا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا : میں اس سے بھی تیزی کا ارادہ کرتا ہوں۔
قال الذی عندہ علم من الکتب انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طوفک اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ وہ فرد جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہآصف بن برخیا تھا۔ وہ بنی اسرائیل کا ایک فرد تھا۔ وہ صدیق تھا اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کا حافظ تھا جب اس اسم کے وسیلہ سے سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے جب اس اسم کے وسیلہ سے دعا کی جاتی ہے تو وہ قبول فرماتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا : نبی کریم ﷺ نیارشاد فرمایا :” وہ اسم اعظم جس کے وسیلہ سے آصف بن برخیا نے دعا کی تھی وہ یاحی یا قیوم تھا۔ “ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ان کی زبان میں اھیاشا اھیا ہے۔ زہری نے کہا : جس کے پاس اسم اعظم تھا اس کی دعا یہ تھی یا الھنا والہ کل شی الھا واحد الا الہ الا انت ایتنی بعرشھا اے ہمالہ الہٰ ! اے ہر شے کے الہ ! جو الہ واحد ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں میرے پاس کا عرش لے آئو۔ تو وہ عرش اس کے سامنے تھا۔ مجاہد نے کہا : اس نے دعا کی اور یہ الفاظ کہے : یا الھہ و الہ کل شی ئیا ذالجلال والا کرام سہیلی نے کہا، جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہآصف بن برخیا تھا وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خالہ زاد بھائی تھا۔ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے اسم اعظم تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) خود تھے۔ سیاق کلام میں اس قسم کی تاویل صحیح نہیں۔ ایک جماعت نے کہا : وہ حضرت حضرت سلیمان (علیہ السلام) تھے اس تاویل کی صورت میں خطاب عفریت کو ہوگا جب یہ کہا : انا اتیک بہ قبل ان تقوم من مقامک گویا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس میں دیری محسوس کی اور اسے تحقیر کے انداز میں کہا انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طوفک یہ قول کرنے والے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے اس قول سے استدلال کرتے ہیں۔ ھذا من فضل ربی۔
میں نے کہا : ابن عطیہ نیجو ذکر کیا ہے نحاس نے وہ معانی القرآن میں کہا : انشاء اللہ یہ اچھا قول ہے۔ بحر نے کہا : وہ فرشتہ تھا جس کے قبضہ قدرت میں کتاب المقادیر تھی۔ عفریت کے قول کے وقت اللہ تعالیٰ نے اس فرشت یکو بھیجا۔ سہیلی نے کہا : محمد بن حسن مقری نے ذکر کیا ہے وہ ضبہ بن او تھا۔ یہ کسی اعتبار سے بھی درست نہیں کیونکہ ضبہ وہ ابن ادبن طابحہ تھا۔ اس کا نام عمرو بن الیاس بن مضر بن بزار بن معد تھا۔ معدیہ بخت نصر کے دور میں تھا یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دور کے طویل عرصہ بعد تھا۔ جب معد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں نہہو تو ضبہ بن ادا کیسے ہو سکتا ہے جو اس کے پانچ نسلوں بعد تھا، جو آدمی غور کرے یہ اس کے لئے واضح ہے۔
ابن لہیعہ نے کہا : وہ حضرت خضر (علیہ السلام) تھے۔ ابن زید نے کہا : جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہ ایک صالح آدمی تھا جو سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرہ میں رہتا تھا وہ اس روز زمین میں سکوتن پذیر افراد کو دیکھنے کے لئے نکلا تھا، کیا اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے یا کہ نہیں۔ اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو پایا اس نی اللہ تعالیٰ کے نام کیوسیلہ سے دعا کی تو عرش لے آیا گیا۔ ساتواں قول ہے : یہ بنی اسرائیل کا ایک آدمی تھا اس کا نام یملیخا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جانتا تھا، قشیری نے اسے ذکر کیا ہے۔ ابن ابی بزہ نے کہا : وہ آدمی جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس کا نام اس طوم تھا وہ بنی اسرائیل میں بڑا عبادت گزار تھا، غزنوی نے اسے ذکر کیا ہے۔ محمد بن منکدر نے کہا : وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہی تھے۔ خبردار لوگ خیال کرتے ہیں ان کے پاس کوئی نام تھا یہ بات اس طرح نہیں۔ بنی اسرائیل کا ایک آدمی تھا جو عالم تھا اللہ تعالیٰ نے اسے علم اور سمجھ عطا کر رکھی تھی اس نے کہا : انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک فرمایا، لے آ۔ اس نے عضر کی : آپ اللہ کے نبی ہیں اللہ کے نبی کے بیٹے ہیں، اگر آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں تو اللہ تعالیٰ اسے لے آئے گا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ اس عرش کو لے آیا۔
آٹھواں قول بھی ہے : وہحضرت جبریل (علیہ السلام) تھے، یہ امام نخعی کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے اس تعبیر کی بنا پر علم الکتاب سے مراد کتب منزلہ کا علم ہے یا لوح محفوظ میں جو ہے اس کا علم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ملکہ بلقیس کی طرف مکتوب کا علم۔ ابن عطیہ نے کہا : جس پر جمہور کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ وہ بنی اسرائیل کا ایک شخ تھا جس کا نام آصف بن برخیا تھا۔ روایت بیان کی گی ہے : انہوں نے دو رکعت نماز ادا کی پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اپنی نظر اٹھائیے، تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے نظر یمن کی طرف اٹھائی تو تخت کو دیکھا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی نظر واپس نہ کی مگر وہ تخت آپ کے پاس موجود تھا۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد اتنی طویل نظر ہے جس سے آنکھ تھک ہار کر واپس ہوجاتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد اتنا وقت ہے جس میں انسان آنکھ کھولتا ہے پھر پلک جھپکتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح تو کہتا ہے، افعل کذافی لحظۃ عین میں یہ کام آنکھ جھپکتے کیوقت میں کر گزرت اہوں۔ یہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ اگر یہ فعل حضرت سلیمان کی جانب سے ہو تو وہ معجزہ ہوتا ہے۔ اگر یہ آصف یا کسی اور ولی کی جانب سے ہوتا ہے تو یہ کرامت ہوگی۔ اور ولی کی کرامت نبی کا معجزہ ہوا کرتا ہے۔ قشیری نے کہا : جس نے یہ کہا : الذی عندہ علم من الکتب سے مراد حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہیں تو اس نے اولیاء کی کرامت کا انکار کیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے عفریت سے کہا : انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک ان کے نزدیک یہ کام عفریت نے نہیں کیا اس لئے نہ یہ معجزات میں سے ہے اور نہ ہی کرامات میں سے ہے کیونکہ جن تو اس قسم کے افعال کرنے پر قادر ہوتے میں ایک حال میں دو جگہ ایک جوہر کے متحقق ہونے کے بارے میں واقع ہونے کا قطعی حکم نہیں لگایا جاتا، بلکہ یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرق کی انتہا میں ایک جوہر کو معدوم کر دے پھر دوسری حالت میں اسے لوٹا دے عدم کے بعد یہی حالت اقصی مغرب میں ہوتی ہے یا درمیانی اماکن کو وہ معدوم فرما دیتا ہے پھر اسے اٹھاتا ہے۔ قشیری نے کہا، وہب نے اسے امام مالک سے روایت کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے ہوا میں لایا گیا، یہ مجاہد کا قول ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور عرش کے درمیاناتنا فاصلہ تھا جتنا فاصلہ کوفہ اور حیرہ کے درمیان تھا۔ امام مالک نے کہا : وہ تخت یمن میں تھا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) شم میں تھے۔ تفاسیر میں ہے ملکہ بلقیس کے عرش کی جگہ کو پھاڑا گیا پھر اسے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے نکالا گیا۔ عبدلالہ بن شداد نے کہا : زمین کے نیچے سے ایک سوراخ سے عرش ظاہر ہوا۔ کیا ہوا اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
فلما راہ مستقراً عندہ آپ کے پاس ثابت تھا۔ قال ھذا من فضل ربی یہ مدد اورق درت میرے رب کے فضل سے ہے۔ لیبلونی اخفش نے کہا : معنی ہے وہ مجھے دیکھے۔ ء اشکر ام اکفر دوسرے علماء نے کہا : لیبلونی کا معنی ہے لیتعبدنی یہ مجا ہے، ابتلاء کا اصل معنی آزمانا ہے، یعنی وہ مجھے آزمائے کہ میں اس کی نعمت کا شکر بجا لاتا ہوں یا میں اس کی ناشکری کرتا ہوں۔ ومن شکر فانما یشکر لنفسہ اس کا نفع اس کی ذات کی طرف ہی لوٹتا ہے۔ شکر، تمام نعمت، اس کے دوام اور مزید نعمت کا تقاضا کرتا ہے شکر موجود نعمت کے لیے قید ہوتی ہے اور اس کے ساتھ مفقودنعمت کو حاصل کیا جاتا ہے۔ ومن کفر فان ربی غنی کریم میرا رب شکر سے غنی ہے اور فضل و احسان فرمانے والا ہے۔
Ayahs 27:41–43آیت
قال نکروالھا عرشھا اس کی ہئیت بدل دو ۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس کا اوپر والا حصہ نیچے کردو اور نیچے والا حصہ اوپر کر دو ۔ ایک قول یہ کیا گیا : کمی بیشی کے ساتھ اس کو تبدیل کر دو ۔ فراء اور دوسرے علماء نے کہا : آپ نے اس کی ہئیت بدلنے کا حکم دیا کیونکہ شیاطین نے آپ سے عرض کی تھی : اس کی عقل میں خربای ہے، تو آپ نے اسے آزمانے کا ارادہ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جنوں کو خوفہوا تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس سے شادی کریں گے تو اس کے بطن سے حضرت سلیمان کا بیٹا پیدا ہوگا۔ تو وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی آل کے لئے ہمیشہ مخسر رہیں گے۔ انہوں نیحضرت سلیمان (علیہ السلام) سے عرض کی : وہ عقل کی کمزوری ہے اس کا پائوں اس طرح ہے جس طرح گدھے کا پائوں ہوتا ہے۔ فرمایا نکروالھا عر شھا تاکہ ہم اس کی عقل کو پہچان لیں۔ جنوں میں سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے مخلص بھی تھے۔ آپ نے پوچھا : میرے لئے اس کے قدم دیکھنا کیسے ممکن ہوگا جب کہ میں اس کو اس کے ننگے کرنے کا سوال بھی نہیں کرسکتا ؟ عرض کی : میں اس محل میں پانی چھوڑ دیتا ہوں اور پانی کے اوپر شیشہ لگا دیتا ہوں وہ گمان کریگی کہ یہ پانی ہے تو وہ اپنے کپڑے کو اوپر اٹھائے گی تو آپ اس کے قدم دیکھ لیں گے۔ یہی وہ صرح ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ فلما جآءت مراد بلقیس ہے قیل اسے کہا گیا : اھکذا عرشک قالت کا نہ ہو اس نے اسے اپنے عرش کے ساتھ تشبیہ دی۔ کیونکہ وہ اسے تالوں میں پیچھے چھوڑ آئی تھی نہ اس نے انکار کیا اور نہ اس کا اقرار کیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس کی کمال عقل سے آگاہ ہوگئے۔ عکرمہ نے کہا : وہ حکیمہ تھی اس نے کہا : گانہ ھو مقاتل نے کہا، وہ پہچان گئی لیکن اس نے ان پر شبہ ڈالا جس طرح انہوں نے اس پر شبہ ڈالا تھا۔ اگر اسے کہا جاتا : کیا یہ تیرا عرش ہے تو وہ کہتی : ہاں وہی ہے، حسن بن مفضل نے یہی قول کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ ارادہ کیا تھا کہ اس کے سامنے یہ ظاہر کریں کہ جن آپ کے سامنے مسخر ہیں اسی طرح شاطین مسخ ہیں تاکہ وہ جان جائے کہ یہ نبوت ہے اور وہ ایمان لے آئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اس کے مقابل ہے جو اس نے لڑکوں اور لڑکیوں کے معاملہ کو چھپانے کی کوشش کی تھی۔
واوتینا العلم من قبلھا ایک قولیہ کیا گیا ہے : یہ بلقیس کا قول ہے، تخت کے بارے میں نشانی سے قبل ہی ہمیں یہ علم عطا کردیا گیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نبوت صحیح ہے۔ وکنا مسلمین ہم اس کے امر کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قول ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں ہمیں علم عطا کیا گیا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے یہ بات ہم کئی دفعہ کرچکے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : واوتینا العلم یعنی ہمیں بلقیس کے آنے سے قبل اس کے اسلام لانے اور مطیع بن کر آنے کا علم عطا کردیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی قوم کا کلام ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
وصدھا ما کا نت تعبدمن دون اللہ، من دون اللہ پر وقفاچھا ہے معنی ہے جو وہ سورج اور چاند کی عبادت کرتی تھی۔ اس نے اسے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے روک دیا۔ مامحل رفع میں ہے۔ نحاس نے کہا، معنی ہے اس کی غیر اللہ کی عبادت اور اس کی ان چیزوں کی عبادت نے اسے روک دیا کہ وہ جانے جس کو ہم جانتے ہیں اور اس سے کہ وہ اسلام لائے۔ یہ بھی جائزہی کہ مامحل نصب میں ہو۔ تقدیر کلام یہ ہوگی وصدھا سلیمان عما کا نت تعبد من دون اللہ یعنی بلقیس کے درمیان اور اسلام کے درمیان رکاوٹ بن گئی۔ یہ بھی جائز ہے کہ معنی ہو وصدھا اللہ، اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا کہ وہ غیر کی عبادت کرے۔ تو عن کو حذف کردیا گیا اور فعل رباہ راست متعدی ہوگیا۔ اس کی مثل واختار موسیٰ قومہ ہے اصل میں من قومہ تھا۔ سیبویہ نے یہ شعر پڑھا ہے۔ :
ونبئت عبداللہ بالجو اصبحت کراماً موالیھا لئیما صمیمھا
یہ گمان کیا کہ اس کے نزدیک معنی ہے نبئت عن عبداللہ۔
انھا کا نت من قوم قوم کفرین سعید بن جبیر نے پڑھا انھا یہ محل نصب میں ہے معنی ہے لان تھا۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ ماکا بدل ہو۔ یہ محل رفع ہوگا اگر ما، صد کا فاعل ہو اور ہمزہ کے نیچے کسرہ استناف کے طریقہ پر ہو۔