Ayahs 27:20–25(وتفقد الطیر فقال ما لی۔۔۔۔۔ )
اس میں اٹھارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ وتفقد الطیر جس سفر میں چیونٹی کا ذکر ہوا اس میں اور چیز کا ذکر کیا جس طرح پہلے گزرا ہے۔ تفقد کا مطلب ہے جو چیز تجھ سے غائب ہوا اس کو تلاش کرنا۔ طیرا سم جمع ہے واحد طیر ہے۔ یہاں طیر سے مراد جنس طیر اور جماعت ہے۔ وہ سفر میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس رہتے اور اپنے پروں سے آپ کو سایہ کرتے لوگوں نے پرندوں کی تلاش کی وجہ میں اختلاف کیا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : یہ اس اعتبار سے تھا کہ امور مملکت کی بجا آو ری اس کا تقاضا کرتی تھی یہ آیت کا ظاہر معنی ہے۔ ایک جماعت نے کہا : آپ نے پرندوں کو تلاش کیا کیونکہ جب ہد ہد غائب ہوا تو سورج کی شعاعیں اس جگہ سے آپ پر پڑھیں۔ پرندے کا طلب کرنے کا سبب یہی چیز تھی تاکہ یہ واضح ہو کہ سورج کی شعاع کہاں سے داخل ہوئی۔ حضرت عبد اللہ بن سلام نے کہا : آپ نے ہد ہد کو طلب فرمایا کیونکہ آپ کو پانی کی معرفت کی ضرورت پڑی تھی کہ وہ روئے زمین سے کتنا دور ہے، کیونکہ آپ نے ایسے جنگل میں پڑائو کیا تھا جہاں پانی نہیں تھا۔ اور ہد ہد زمین کے ظاہر اور اس کے باظن کو دیکھ لیتا ہے۔ وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو پانی کی جگہ پر آگاہ کرتا تھا پھر جن تھوڑے سے وقت میں اسے نکال لیتے تھے وہ روئے زمین کو یوں الگ کرلیتے جس طرح بکری سے چمڑا اتارا جاتا ہے : یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے جو حضرت ابن سلام سے مروی ہے۔ ابو مجلز نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ نے حضرت عبد اللہ بن سلام سے فرمایا میں تجھ سے تین مسائل پوچھنا چاہتا ہوں۔ حضرت ابن سلام نے کہا : تو مجھ سے سوال کرے گا جب کہ تو قرآن پڑھتا ہے ؟ فرمایا : ہاں۔ یہ تین دفعہ کہا۔ پوچھا : دوسرے پرندوں کو چھوڑ کر حضرت سلیمان نے ہد ہد کا ہی کیوں پوچھا ؟ جواب دیا : پانی کی ضرورت تھی آپ اس کی گہرائی کو نہیں جانتے تھے ہد ہد دوسرے پرندوں کی بجائے اسے پہچانتا تھا اس لیے آپ نے اسے طلب فرمایا۔ نقاش کی کتاب میں کہا۔ ہد ہدمہندس تھا۔ روایت بیان کی گئی کہ نافع بن ازرق نے سنا کہ حضرت ابن عباس ؓ ہد ہد کا ذکر کر رہے ہیں تو عرض کی : اے علامہ ! رک جایئے ہد ہدہ زمین کے اندر کیسے دیکھ سکتا ہے جب کہ وہ پھندے کو نہیں دیکھ سکتا جب اس میں گرتا ہے ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب تقدیر آجاتی ہے تو آنکھ اندھی ہوجاتی ہے۔ مجاہد نے کہا : حضرت ابن عباس سے عرضی کی گئی : ہد ہد کو پرندوں میں سے کسی لیے تلاش کیا گیا ؟ فرمایا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) ایسی جگہ اترے جہاں وہ نہیں جانتے تھے کہ پانی کتنا دور ہے ہد ہد پانی کے بارے میں آپ کی رہنمائی کرتا تھا۔ تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے پوچھنے کا ارادہ کیا۔ مجاہد نے کہا : میں نے کہا : وہ پانی تک کیسے ہدایت پا سکتا ہے جب کہ اس کے لیے پھندہ لگتا ہے تو وہ اس میں پھنس جاتا ہے ؟ فرمایا : جب تقدیر آجاتی ہے تو آنکھ اندھی ہوجاتی ہے۔ ابن عربی نے کہا : اس جواب پر قرآن کا عالم ہی قادر ہو سکتا ہے۔
میں کہتا ہوں : نہیں یہ وہ جواب ہے جو ہد ہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو دیا جو پہلے گزر چکا ہے۔ یہ اشعار کہے گئے :
اذا ارادہ اللہ امرا بامری وکان ذا عقل ورای و نظر
وحیلۃ یعملھا فی دفع ما یاتی بہ مکروہ اسباب القدر
عظی علیہ سمعہ و عقلہ وسلہ من ذھنہ سل الشعر
حتی اذا انفذ فیہ حکمہ رد علیہ عقلہ لیعتبر
جب اللہ تعالیٰ کسی انسان کے ساتھ کسی امر کا ارادہ کرتا ہے جب کہ وہ بڑا عقل مند، اچھی نظر و فکر والا اور بڑے حیلے والا ہوتا ہے اسباب قدر جو مکروہات اس تک لاتے ہیں اس حیلہ کے دن وہ دفاع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی قوت سماعت اور عقل کو ڈھانپ لیتا ہے اور اس کے ذہن سے یوں نکال لیتا ہے جس طرح بال نکال لیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس میں اپنا قلم نافذ کر چکتا ہے تو اس پر اس کی عقل کو واپس کر دتا ہے تاکہ عبرت حاصل کرے۔
کلبی نے کہا : آپ کے سفر میں صرف ایک ہی ہد ہد تھا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 :۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ امام کہ اپنی رعیت کے احوال کی چھان بین اور اس پر نگاہ رکھنی چاہیے ہد ہد کو دیکھو وہ چھوٹا سا پرندہ تھا پھر بھی اس کا حال حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر مخفی نہ رہا، تو ملک کی بڑی بڑی چیزیں مخفی رہ سکتی تھیں ؟ اللہ تعالیٰ حضرت عمر ؓ پر رحم فرمائے وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سیرت پر ہی تھے۔ آپ نے فرمایا : اگر فرات کے کنارے ایک میمنہ کو بھیڑیا پکڑ لے تو اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا، تو تیرا ان والیوں کے بارے میں کیا گمان ہے جن کے ہاتھوں سے شہر دشمنوں کے قبضہ میں چلے جاتے ہیں رعیت ضائع ہوتی ہے اور نگہبان ضائع ہوتے ہیں۔
صحیح میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب شام کی طرف نکلے یہاں تک کہ جب وہ سرغ ( وادی تبوک کا ایک دیہات) کے مقام پر تھے تو اجناد کے امراء آپ سے ملے ان میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح امین الامۃ اور آپ کے اصحاب بھی تھے انہوں نے عرض کی : شام کے علاقہ میں وباء پھوٹ پڑی ہے ہمارے علماء نے کہا : حضرت عمر ؓ کا یہ دورہ بیت المقدس کی فتح کے بعد سن سترہ ہجری میں ہوا تھا جس طرح خلیفہ بن خیاط نے ذکر کیا ہے۔ حضرت عمر ؓ خود اپنی رعیت اور امراء کے احوال کی چھان بین کیا کرتے تھے۔ قرآن اور سنت اس پر دال ہے اور دونوں نے واضح کیا کہ امام پر اپنی رعیت کے احوال کے حوالہ سے یہ واجب ہے اور فریضہ اسے بنفس نفیس ادا کرنا چاہیے اور اس کے لیے سفر کرنا چاہیے اگرچہ وہ طویل ہو۔ اللہ تعالیٰ ابن مبارک پر رحم فرمائے جب انہوں نے کہا :
وھل افسد الدین الا الملوک واجبار سوء و رھبانھا
دین کو بادشاہ ہوں، برے علماء اور برے عبادت گزاروں نے فاسد کیا۔
مسئلہ نمبر 3 :۔ مالی لا اری الھدھد ہد ہد کو کیا ہوگیا ہے میں اسے نہیں دیکھتا ؟ یہ کلام اس قلب کے قاعدہ سے تعلق رکھتی ہے جس کا معنی معروف نہیں۔ یہ تیرے اس قول کی طرح ہے : مالی اراک کنیبا یعنی تجھے کیا ہوگیا ہے میں تجھے غمگین دیکھتا ہوں ؟ ہد ہد معروف پرندہ ہے ھدھدتہ صوتہ میں نے اس کی آواز نکالی۔ ابن عطیہ نے کہا : کلام کا مقصد یہ تھا کہ ہد ہد غائب ہے لیکن لازم کا ذکر کیا وہ یہ ہے کہ میں اسے نہیں دیکھتا۔ تو لازم پر آگاہی حاصل کرنے کے لیے سوال کیا۔ یہ ایجاز کی ایک قسم ہے۔ مالی میں جو استفہام ہے اس ہمزہ کے قائم مقام ہے ام جس کا محتاج ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فرمایا ما لی لا اری الھد ھد اپنے نفس کی حالت کا اعتبار کیا کیونکہ آپ کو علم تھا کہ آپ کو عظیم ملک دیا گیا ہے تمام مخلوق آپ کے لیے مسخر کردی گئی ہے۔ اور آپ پر حق شکر لازم ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ طاعت اختیار کریں اور عدل کو دوام بخشش۔ جب آپ نے ہد ہد کی نعمت کو مفقود پایا تو خوف ہوا کہ آپ نے حق شکر میں کمی کی ہے۔ اسی وجہ سے وہ نعمت طلب کی گئی تو آپ اسے تلاش کرنے لگے۔ فرمایا : ما لی۔ ابن عربی نے کہا : یہ وہ عمل ہے جو صوفیاء کے شیوخ کرتے ہیں جب وہ اپنی کسی چیز کو گم پاتے ہیں تو وہ اپنے اعمال کی چھان بین کرتے ہیں۔ یہ آداب میں تو ہمارا کیا حال ہوگا کہ ہم فرائض میں بھی کوتاہی کرتے ہیں۔
ابن کثیر، ابن محیصن، عاصم، کسائی، ہشام اور ایوب نے مالی یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا۔ اسی طرح سورة یٰسین میں ہے ” وَمَا لِیَ لَآ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ “ (یٰسین : 22) حمزہ اور یعقوب نے اسے ساکن پڑھا ہے۔ باقی مدینہ طبہ کے قراء اور ابو عمرو نے سورة یٰسین میں یاء کے فتحہ اور یہاں سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عمرو نے کہا : سورة ٔ نمل میں یہ استفہام ہے اور دوسری جگہ یہ نافیہ ہے۔ ابو حاتم اور ابو عبیدہ نے اسکان کو پسند کیا ہے فقال مالی۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : ایک قوم نے گمان کر انہیں نے ارادہ کیا کہ وہ ابتداء اور جو ما قبل پر معطوف ہے ان میں فرق کریں۔ یہ کوئی چیز نہیں۔ یہ یاء نفس ہے عربی میں سے کچھ اسے فتحہ دیتے ہیں اور ان میں سے کچھ اسے ساکن رکھتے ہیں۔ انہوں نے دونوں لغتوں کے ساتھ اسے پڑھا ہے۔ یاء نفس میں فصیح لغت یہ ہے کہ وہ مفتوح ہو کیونکہ وہ اسم ہے اور یہ حرف واحد پر ہے پسندیدہ یہ ہے کہ اس کو ساکن رکھا جائے کہ اسم میں احجاف ہو۔ امر کان من الغائبین امر، بل کے معنی میں ہے۔
مسئلہ نمبر 4 :۔ لا عذبنہ عذابا شدید اولا اذبحنہٗ اس میں یہ دلیل ہے کہ حد گناہ کے اعتبار سے ہوگی جسم کے اعتبار سے نہ ہوگی، مگر بعض اوقات جس پر حد جاری کی جا رہی ہوتی ہے زمانہ اور صفت کے اعتبار سے نرمی کی جاتی ہے۔ حضرت ابن عباس، مجاہد اور ابن جریج سے مروی ہے کہ پرندے کو عذاب دینے سے مراد یہ ہے کہ اس کے پر اکھاڑ دیئے جائیں۔ ابن جریج نے کہا : اس کے تمام پر۔ یزید بن رومان نے کہا : اس کے دونوں پر (1) ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ہد ہد کے ساتھ یہ معاملہ اس لیے کیا تاکہ نافرمانوں پر سختی کی جائے اور سزا دی جائے اس کی صورت یہ ہو کہ اس کی باری اور رتبہ میں کمی کردی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سب ان کے لیے مباح کیا تھا، جس طرح جانوروں اور پرندوں کو کھانے اور دوسرے منافع کے لیے ذبح کرنا مباح قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔
نوادر الاصول میں ہے کہا : سلیمان بن حمیدابو ربیع ابادی، عون بن عمارہ سے وہ حسین جعفی سے وہ زبیر خریت سے وہ عکرمہ سے روایت نقل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہد ہد سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو شر کو دور کردیا کیونکہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے والا تھا۔ اس کا ذکر بعد میں آئے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تعذب سے مراد اس کو اس کی اضداد کے ساتھ ملا دینا ہے۔ بعض سے یہ بھی مروی ہے : قید خانوں میں سے سب سخت اضداد کے ساتھ ملا دینا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : میں اس پر لازم کروں گا کہ وہ اپنے ساتھیوں کی خدمت کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : میں اسے پنجرے میں بند کر دوں گا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : پر اکھیڑنے کے بعد اسے دھوپ میں چھوڑ دوں گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : میں اس کو اپنی خدمت سے خارج کردوں گا۔ بادشاہ اپنی خدمت اور الفت سے محروم کر کے جدائی کے ساتھ لوگوں کو سزا دیتے یہ نون ثقلیہ کے ساتھ موکد ہے۔ یہ اسے ہی لازم ہوتا ہے یا خفیفہ کو بھی لاحق ہوتا ہے۔ ابو حاتم نے کہا : اگر اسے لا عدبنہ عزاباً شدید اولاً ذبحنہ پڑھنا جائز ہو تو جانز ہے اولیاتینی بسلطن مبین واضح حجت کے ساتھ۔ لیاتینی میں لام قسمیہ نہیں کیونکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہد ہد کے فعل پر قسم اٹھانے والے نہیں تھے، لیکن جب یہ اس قول کے بعد آیا لاعذبنہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جن میں قسم جائز ہوتی ہے تو اسے اس کے طریقہ پر جاری کیا۔ صرف ابن کثیر نے اسے لیاتیننی دو نونوں کے ساتھ پڑھا ہے (2) ۔
مسئلہ نمبر 5 :۔ فمکث غیر بعید فعل کا فاعل ہد ہد ہے جمہور قراء کاف کو ضمہ دیتے ہیں صرف عاصم نے اسے فتحہ دیا ہے۔ دونوں قرایتوں میں اس کا معنی اقام ہے۔ سیبویہ نے کہا : مکث یمکث مکوثا جس طرح انہوں نے قعد یقعد قعودا کہا : مکث یہ ظرف کی مثل ہے۔ دوسرے قراء نے کہا : فتحہ اچھا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ما کثین۔ یہ مکث سے مشتق ہے یوں باب ذکر کیا جاتا ہے۔ مکث یمکث فھو ماکث۔ مکث یمکث جس طرح عظم یغظم فھو مکیث جس طرح عظیم ہے مکث یمکث فھو ما کث جس طرح حمض یحض فھو حا مض۔ مکث میں جو ضمیر ہے اس میں احتمال ہے کہ یہ حضرت سلیمان کے لیے ہو معنی ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) طلب اور وعید کے بعد تھوڑی دیر رہے یہ بھی احتمال ہے کہ یہ ہد ہد کے لیے ہو، یہ اکثر کا قول ہے وہ آگیا فقال احطت بما لم تحط بہ، یہی چھٹا مسئلہ ہے۔
مسئلہ نمبر 6 :۔ میں نے وہ امر جانا ہے جس کا آپ کو علم نہیں۔ اس میں اس کا رد ہے جو یہ کہتا ہے کہ انبیاء غیب (3) کو جانتے ہیں۔ فراء نے کہا : احط تاء کو طاء میں ادغام کیا۔ احت حکایت بیان کی، طاء کی تاء سے بدلا اور اس میں ادغام کیا۔
مسئلہ نمبر 7 :۔ ومتک من سیابنبا تقین ہد ہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس کو بتایا جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نہیں جانتے تھے اور اس کو عذاب اور ذبح کی جو دھمکی دی گئی اس کو اپنی ذات سے دور کیا۔ جمہور نے سباتنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن کثیر اور ابو عمر نے سبا ہمزہ پر فتحہ اور تنوین کے ساتھ پڑھا ہے (1) پہلی تاویل کی صورت میں یہ ایک آدمی کا نام ہے جس کی طرف قوم کی نسبت کی گئی ہے۔ اسی تعبیر پر شاعر کا قول ہے :
الواردون وتیم فی ذری سبا قد عض اعنا قھم جلد الجوامیس (2)
1 ؎۔ المحرر الوجیز جلد 4، صفحہ 255 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ اس کی توضیح حضرت مفسر مسئلہ نمبرنو میں خود کر رہے ہیں۔
وارد ہونے والے اور تیم سبا کی نسل میں ہیں ان کی گردنوں کو بھینسوں کی جلد نے کاٹا ہے۔
زجاج نے اس کا انکار کیا ہے کہ یہ کسی آدمی کا نام ہو۔ کہا : سبا شہر کا نام ہے جو مآرب کے نام سے معروف تھا جو یمن میں واقع ہے اس کے درمیان اور صنعاء کے درمیان تین دن کی مسافت ہے۔
میں کہتا ہوں : غزنوی کے عیون المعانی میں واقع ہے کہ تین میل کی مسافت ہے۔ قتادہ اور سدی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس بستی کی طرف بارہ انبیاء مبعوث فرمائے اور نابغہ جعدی کا شعر پڑھا :
من سبا الحاضرین مارب اذ یبنون من دون سیلہ العرما
سبا سے جو مآرب میں رہتے تھے جب وہ سیل عرم کی وجہ سے عمارتیں بناتے تھے۔
کہا : جو اسے تنوین نہیں دیتا اس نے کہا : یہ شہر کا نام ہے۔ جس نے اسے تنوین دی۔ اور یہ قول اکثر کا قول ہے کیونکہ یہ بلد کا نام وہ مذکر ہوگا اس وجہ سے مذکر کا نام دیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : ایک عورت کا نام تھا جس کی وجہ سے شہر کا نام رکھا گیا۔ صحیح یہ ہے کہ یہ ایک آدمی کا نام تھا۔ کتاب الترمذی میں فروہ بن مسیک مرادی کی حدیث سے ثابت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں انشاء اللہ اس کا ذکر آئے گا۔ ابن عطیہ نے کہا : زجاج پر یہ حدیث محفی رہی اس وجہ سے اس نے ٹامک ٹوئیاں کھائیں۔ فراء نے گمان کیا کہ رواسی نے ابو عمرو بن علاء سے سبا کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا : میں نہیں جانتا وہ کیا ہے ؟ نحاس نے کہا : فراء نے ابو عمرو پر تاویل کی ہے انہوں نے اسے تنوین سے روک دیا ہے کیونکہ وہ مجہول ہے، کیونکہ جب شے معروف نہ ہو تو وہ منصرف نہیں ہوتی۔ نحاس نے کہا : ابو عمرو اس قسم کا قول کرنے سے جلیل شان والا ہے۔ رواسی نے اس سے جو بیان کیا ہے کہ یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ یہ غیر منصرف اس لیے ہے کیونکہ وہ اسے نہیں پہچانتے تھے۔ انہوں نے کہا : میں اسے نہیں پہچانتا، اگر کسی نحوی سے یہ پوچھا جائے تو وہ کہہ دے، میں اسے نہیں پہنچانتا تو اس میں اس کی دلیل نہیں کہ یہ غیر منصرف ہے بلکہ حق اس کے علاوہ ہے ضروری ہے کہ جب وہ اسے نہیں پہچانتا تو اسے تنوین دے کیونکہ اسماء میں اصل ان کا منصرف ہوتا ہے۔ شے کو تنوین سے روکا جاتا ہے کسی ایسی علت کی وجہ سے جو اس پر داخل ہوتی ہے۔ اصل یقینی طور پر ثابت ہے تو جو معروف نہ ہو وہ اس کے ساتھ زائل نہیں ہوتا اور نحویوں سے کثیر کلام ذکر کی ہے اس کے آخر میں کہا : سباء کے بارے جو بات معلوم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ اصل میں آدمی کا اسم ہے اگر تو اس کو تنوین دے تو یہ اس لیے کیونکہ یہ قبیلہ کا نام ہے اگر تو اس کو تنوین نہ دے تو تو اسے قبیلہ کا نام قرار دے گا، جس طرح ثمود ہے مگر سیبویہ کے نزدیک تنوین اور منصرف ہے اس میں اس کی دلیل قطعی ہے کیونکہ جب یہ ایسا اسم ہے جو مذکر اور مونث دونوں طرح آسکتا ہے تو مذکر اولی ہے کیونکہ یہی اصل اور زیادہ خفیف ہے۔
1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 255۔ 2 ؎۔ ایضاً
مسئلہ نمبر 8 :۔ آیت میں دلیل ہے کہ چھوٹا بڑے سے کہتا ہے متعلم، عالم سے کہتا ہے : عندی ما لیس عندک میرے پاس وہ ہے جو تیرے پاس نہیں ہے۔ جب یہ چیز اس پر واضح ہوگئی اور اس کو اس کا یقین ہوگیا۔ یہ حضرت عمر بن خطاب ؓ ہیں اپنی جلالت شان اور علم کے باوجود اجازت طلب کرنے والے حکم سے آگاہ نہیں تھے۔ تمیم کا علم حضرت عمارہ وغیرہ کے پاس تھا اور حضرت عمر ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ کے پاس نہیں تھا۔ دونوں صحابہ نے کہا : جنبی تمیم نہیں کرے گا۔ بالغہ عورت کے بارے میں اذن کا حکم حضرت ابن عباس ؓ کے پاس تھا اور حضرت مسور بن مخرمہ پر مخفی تھا۔ اس کی کثیر امثلہ ہیں اس وجہ سے اس کے ساتھ اس بحث کو طویل نہیں کیا جائے گا۔
مسئلہ نمبر 9 :۔ انی وجدث امراۃ تملکھم جب ہد ہد نے کہا : جئتک من سیا بنیا یقین حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا : اس کی کیا خبر ہے ؟ اس نے عرض کی : انی وجدت امراۃ تملکھم مراد بلقیس بنت شراحیل ہے جو اہل سبا کی ملکہ تھی۔ یہ سوال کیا جاتا ہے : حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر اس کا مکان کیسے مخفی رہا جب کہ آپ کے پڑائوں اور اس کے شہر کے درمیان فاصلہ بہت تھوڑا تھا ؟ یہ صنعاء اور مآرب کے درمیان تین دن یا تین میل کی مسافت تھی۔ اس کا جواب یہ ہے اللہ تعالیٰ نے کسی مصلحت کی وجہ سے اسے مخفی رکھا جس طرح حضرت یوسف کا مکان حضرت یعقوب پر مخفی رکھا۔ یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ اس کے آباء میں سے ایک جن تھا۔ ابن عربی نے کہا : یہ ایسا امر ہے جس کا ملحد انکار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں : جن نہ کھاتے ہیں اور نہ ان کے ہاں ولادت ہوتی ہے۔ انہوں نے جھوٹ بولا اللہ تعالیٰ ان سب پر لعنت فرمائے۔ یہ صحیح ہے ان کا نکاح عقلاً جائز ہے اگر نقلا ًصحیح ثابت ہوجائے تو یہ کتنی اچھی بات ہے۔
میں کہتا ہوں : ابو دائود نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث نقل کی ہے۔ جنوں کا وفد رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا، انہوں نے عرض کی : اے محمد ﷺ ! آپ اپنی امت کو منع کریں کہ وہ ہڈی، لید اور جحجم ( سر کی کھوپڑی، لکڑی کا پیالہ) سے استنجاء نہ کریں، اللہ تعالیٰ نے ان میں ہمارے لیے رزق بنایا ہے۔ صحیح مسلم میں ہے ” ہر وہ ہڈی جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو وہ تمہارے ہاتھ لگے گی تو اس پر وافر گوشت ہوگا اور ہر لید کا دانہ تمہاری سواریوں کے لیے چارہ ہوگا “۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ان دونوں کے ساتھ استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے جن بھائیوں کا کھانا ہے “۔ (1) بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے میں نے عرض کی : یہ ہڈی اور لید کا کیا معاملہ ہے ؟ فرمایا :” یہ جنوں کا کھانا ہے میرے پاس نصیحتیں کے جنوں کا وفد آیا وہ کتنے اچھے جن تھے انہوں نے مجھ سے زاد راہ کا سوال کیا، میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ کسی ہڈی اور لید پر نہ گزریں مگر اس پر کھانا پائیں “۔ (2) یہ سب روایات اس میں نص ہیں کہ وہ کھاتے ہیں۔ جہاں تک ان کے نکاح کا تعلق ہے۔ ” وَشَارِکْھُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ “ ( الاسرائ : 64) کے ضمن میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ وہب بن جریربن حازم، خلیل بن احمد سے وہ عثمان بن حاضر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ بلقیس کی ماں جنوں میں سے تھی جسے بلعم بنت شیعان کہا جاتا تھا اس کے بارے میں مزید گفتگو انشاء اللہ آگے آئے گی۔
1 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب الجھر بالقراۃ، جلد 1، صفحہ 184
2 ؎۔ صحیح بخاری، کتاب فی بنیان الکعبہ، باب ذکر الجن وقول اللہ تعالیٰ قل اوحی الی انہ، جلد 1، صفحہ 544
مسئلہ نمبر 10 :۔ امام بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی کہ اہل فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو بادشاہ بنایا ہے فرمایا : لن یفلح قوم ولو امرھم امراۃ وہ قوم فلاح نہیں پائے گی جس نے اپنے امور عورت کے سپرد کردیئے (1) قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : یہ اس امر میں نص ہے کہ عورت خلیفہ نہ ہو اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ محمد بن جریر طبری سے مروی ہے کہ یہ جائز ہے کہ عورت قاضی ہو ان سے یہ قول ثابت نہیں۔ شاید ان سے یہ قول اسی طرح منقول ہے جس طرح امام ابوحنیفہ سے منقول ہے کہ وہ ان امور میں فیصلہ کرسکتی ہے جن میں وہ گواہی دے سکتی ہے وہ علی الاطلاق قاضی نہیں بن سکتی اور نہ اس کے لیے یہ لکھا جائے کہ فلانہ حکم پر مقدم ہے اس کا سبیل تحکیم اور قضیہ واحدہ میں نائب بنانا ہے یہی وہ گمان ہے جو امام ابوحنیفہ اور ابن جریر کے بارے میں ہے۔ حضرت عمر سے مروی ہے کہ آپ نے ایک عورت کو بازار کی نگرانی پر مقرر کیا۔ یہ ثابت نہیں تم اس کی طرف متوجہ نہ ہو یہ احادیث میں بدعت جاری کرنے والوں کے وساوس ہیں۔
اس مسئلہ میں قاضی ابوبکر بن طب مالکی اشعری نے ابو الفرج بن طرار شیخ شافیعہ کے ساتھ مناظرہ کیا ابو الفرج نے کہا : اس امر پر دلیل کی عورت کیلئے جائز ہے کہ وہ فیصلہ کرے وہ یہ ہے احکام سے غرض یہ ہے کہ قاضی ان کو نافذ کرے، اس پر گواہوں کو سنے، جھگڑا کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرے یہ عورت کی طرف سے بھی اسی طرح ممکن ہے جس طرح مرد کی جانب سے ممکن ہے۔ قاضی ابوبکر نے اس پر اعتراض کیا اور امامت کبریٰ سے ان کے کلام میں نقض پیش کیا کیونکہ اس سے غرض سرحدوں کی حفاظت ہے امور کی تدبیر ہے، خراج کی وصولی ہے اور اسے مستحقین کی طرف لوٹانا ہے۔ یہ فرائض جس طرح مرد سے واقع ہوتے ہیں عورت سے واقع نہیں ہوتے۔ ابن عربی نے کہا : اس مسئلہ میں شیخین کا کلام کوئی چیز نہیں عورت کے لیے مجلس میں آنا ممکن نہیں ہوتا، وہ مردوں سے میل جول نہیں رکھ سکتی اور ہم پلہ کے ساتھ جو معاملہ کرتا ہے وہ ایسا نہیں کرسکتی کیونکہ اگر وہ نوجوان ہوگی تو مرد کا اس کی طرف دیکھنا اور کلام کرنا حرام ہوگا۔ اگر وہ پکی عمر کی ہو مرد اس کے ساتھ اکٹھے نہیں بیٹھ سکتا۔ مردوں کی مجلس ایک ہوتی ہے وہ ان کے ساتھ بھیڑ کرے گی وہ ان کی طرف دیکھے گی جو آدمی اس قسم کا تصور رکے وہ فلاح نہیں پا سکتا اور نہ وہ جو اس قسم کا اعتقاد رکھتا ہے۔
مسئلہ نمبر 11 :۔ واوتیت من کل شی یہ کلام مبالغہ کے طور پر ہے یعنی مملکت جس کی محتاج ہوتی ہے وہ سب مجھے حاصل ہے اوتیت من کلی شی فی زمانھا شیاء، تو مفعول کو حذف کردیا گیا، کیونکہ کلام اس پر دال ہے، والھا عرش عظیم عرش سے مرادسریر ( تخت) ہے اس کی عظیم سے جو صف لگائی گئی ہے وہ ہیئت اور سلطان کے رتبہ کے لحاظ سے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ سونے کا تخت تھا جس پر وہ بیٹھا کرتی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں عرش سے مراد ملک ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہیایکم یاتینی بعر شھا اگر تو کہے : ہد ہد نے کیسے بلقیس کے عرش اور اللہ تعالیٰ کے عرش میں عظیم کے ساتھ صفت لگا کر برابری کی ہے ؟ میں کہوں گا : دونوں وصفوں میں بہت ہی دوری ہے کیونکہ ملکہ بلقیس کے عرش کی عظمت اس مناسبت سے ہے جو اس جیسے بادشاہ بناتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عرش کی عظمت ان چیزوں کے اعتبار سے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیں جیسے آسمان اور زمین۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کے عرش کی لمبائی اسی ہاتھ تھی اور اس کی چوڑائی چالیس ہاتھ تھی اور اونچائی تیس ہاتھ تھی، جس پر موتیوں، سرخ یاقوت اور سبز زبر جد کا تاج تھا۔ قتادہ نے کہا : اس کے پائے موتیوں اور جواہرات کے تھے اس پر دیباج ( ریشم کی ایک قسم) اور حریر کے پردے تھے، اس کے ساتھ تالے تھے۔ مقاتل نے کہا : وہ اسی ہاتھ لمبا اور اسی ہاتھ چوڑا تھا اس کی اونچائی اسی ہاتھ تھی اس پر جواہرات جڑے تھے۔ ابن اسحاق نے کہا : عورتیں اس کی خدمت گار تھیں اس کی خدمت کے لیے چھ سو عورتیں تھیں۔ ابن عطیہ نے کہا : آیت سے یہ لازم آتا ہے کہ وہ ایک ایسی عورت تھی جو یمن کے شہروں کی ملکہ تھی اس کا عظیم ملک اور عظیم تخت تھا۔ وہ کافر قوم کی ایک کافر عورت تھی۔ (1)
1 ؎۔ صحیح بخاری، کتاب السفازی، باب کتاب النبی ﷺ الی کسری وقیصر، جلد 2، صفحہ 637
مسئلہ نمبر 12 ر 1 :۔ وجدثھا وقومھا یسجدون للشمس من دون اللہ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ امت ان لوگوں میں سے تھی جو سورج کی پوجا کرتے ہیں جس طرح روایت کی گئی ہے وہ زنادقہ تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مجوسی تھے وہ انوار کی عبادت کیا کرتے تھے۔ نافع سے مروی ہے کہ وقف عرش پر ہوگا۔ مہدوی نے کہا : اس تعبیر کی بناء پر عظیم مابعد کے متعلق ہوگا اس تعبیر کی بناء پر یہ مناسب ہوگا کہ تقدیر کلام یوں ہو عظیم ان وجدتھا یعنی عظیم وجودی ایاھا کافرہ۔ ابن انباری نے کہا : ولھا عرش عظیم اس پر وقف اچھا ہے عرش پر وقف جائز نہیں اور عظیم۔ وجدثھا سے ابتداء جائز نہیں مگر جو فتحہ دے کیونکہ عظیم عرش کی صفت ہے اگر یہ وجدت کے متعلق ہو تو تو کہتا : عظیمۃ وجدتھا یہ ہر اعتبار سے محال ہے۔ ابوبکر محمد بن حسین بن شہر یار، ابو عبد اللہ حسین بن اسود عجلی سے وہ بعض اہل علم سے روات نقل کرتے ہیں کہ عرش پر وقت اور عظیم سے ابتداء اس معنی کی بناء پر ہوگی ان کا سورج اور چاند کی عبادت کرنا عظیم ہے۔ کہا : میں نے اس کو کہتے ہوئے سنا جو اس مذہب کی تائید کرتا ہے اور اللہ اللہ کرتا ہے کہ اس کا عرش اس سے حقیر اور دقیق تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی صفت عظیم سے لگاتا۔ انباری نے کہا : میرے نزدیک پسندیدہ وہ ہے جس کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے کیونکہ سورج اور چاند کی عبادت کے مضمر ہونے پر کوئی دلیل نہیں اور یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی صفت عظیم سے لگائے کیونکہ اس نے اسے طول اور عرض میں متناہی حد کو دیکھا۔ عرش کے اعراب پر اس کا جاری ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ یہ اس کی نعت ہے۔
وزین لھم الشیطن اعما لھم یعنی ان میں جو کفر تھا اسے مزین کیا فصدھم عن السبیل توحید کے راستہ سے انہیں روکا اور اس امر کو واضح کیا کہ جو توحید کا راستہ نہیں وہ ایسا راستہ نہیں جس سے یقینی طور پر نفع حاصل کیا جائے۔ فھم لا یھتدون وہ اللہ تعالیٰ اور توحید کی طرف ہدایت پانے والے نہیں۔
مسئلہ نمبر 13 :۔ الا یسجدو اللہ ابو عمرو، نافع، عاصم اور حمزہ نے الا یسجدو اللہ، الا کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن انباری نے کہا : جس نے الا کو شددی ہے اس کے نزدیک فھم لا یھتدون مکمل کلام کیونکہ معنی ہے شیطان نے
1 ؎۔ المحرر لوجیز، جلد 4 صفحہ 256
ان کے لیے مزید کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہ کریں۔ نحاس نے کہا : یہ ان ہے جو لا پر داخل ہوا ہے ان محل نصب میں ہے۔ اخفش نے کہا : اسے زین نے نصب دی ہے تقدیر کلام یہ ہوگی زین لھم لئلا یسجدوا۔ کسائی نے کہا : صدھم نے اسے نصب دی ہے تقدیر کلام یہ ہوگی قصدھم الا یسجدوا دونوں صورتوں میں مفعول لہ ہے۔ یزیدی اور علی بن سلیمان نے کہا : ان، اعمالھم سے بدل ہے یہ محل نصب میں ہے۔ ابو عمرو نے کہا : ان محل جز میں جو السبیل سے بدل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں عامل لا یھتدون ہے تقدیر کلام یہ ہوگی فھم لا یھتدون ان یسجدواللہ یعنی وہ نہیں جانتے کہ یہ ان پر واجب تھا۔ اس قول کی بناء پر لا زائدہ ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ما منعک الا تسجد (الاعراف : 12) یعنی تجھے کس نے سجدہ کرنے سے منع کیا ؟ اس قرأت کی بناء پر یہ سجدہ کی جگہ نہیں کیونکہ اس سورت میں یہ ان کے سجدہ ترک کرنے کی خبر ہے، خواہ وہ تزہین روکنے اور ہدایت پانے سے رکنے کی صورت میں ہو۔ زہری، کسائی وغیرہما نے پڑھا الا یسجد واللہ معنی ہے خبردار اے لوگو ! تم سجدہ کرو کیونکہ بحرف ندا کے ساتھ اسماء کو ندا کی جاتی ہے افعال کو ندا نہیں کی جاتی۔ سیبویہ نے یہ شعر پڑھا :
یا لعنۃ اللہ والاقوام کلھم والضالحین علی سمعان من جار
سیبویہ نے کہا : یا حرف ندا لعنت کے لیے نہیں کیونکہ اگر اس کا منادی لعنۃ ہوتا تو حرف ندا اس کو نصب دیتا کیونکہ یہ منادی مضاف ہوتا، لیکن اس کی تقدیر کلام یہ ہے یا ھولا لعنۃ اللہ والا قوام علی سمعان۔ اے لوگو ! تمام اقوام کی سمعان پر لعنت ہو۔ بعض علماء نے عربوں سے اپنے سماع کو بیان کیا ہے الا یا ارحم الا اصدقو۔ وہ اس سے یہ مراد لتے ہیں خبردار اے قوم ! تم رحم کرو سچ بولو۔ اس قرأت کی بناء پر اسجدو امر کی وجہ سے مجزوم ہے اور وقف الایا پر ہوگا پھر تو نئے سرے سے کلام کرے گا اور تو کہے گا : اسجدوا، کسائی نے کہا : میں شیوخ کے امر کے ارادہ سے تخفیف کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنتا تھا عبد اللہ کی قرأت میں ہے الاھل تسجدون للہ یعنی تاء اور نون ہے۔ ابی کی قرأت میں الا تسجدون للہ یہ دونوں قرأیتیں اس کے لیے حجت ہیں جو تخفیف کرتا ہے۔ زجاج نے کہا : تخفیف کی قرأت سجدہ کے وجوب کا تقاضا کرتی ہے تشدید سجدہ کا تقاضا کرتی۔ کہا تخفیف بہت اچھی توجیہ ہے مگر اس میں خبر سبا کے امر سے منقطع ہوجاتی ہے پھر اس کے بعد ان کے ذکر کی طرف رجوع کیا۔ تشدید کے ساتھ قرأت ایسی خبر ہے جس کا بعض بعض کے تابع ہے اس کے وسط میں کوئی انقطاع نہیں اس کی مثل نحاس نے کہا : تخفیف کے ساتھ قرأت بعید ہے کیونکہ کلام جملہ معترضہ بن جائے گی اور تشدید کے ساتھ قرأت متسق ہوجائے گی، نیز جو مستورات ہیں وہ اس قرأت کے علاوہ ہیں کیونکہ اس سے وہ الف حذف ہیں۔ اس کی مثل کو ایک الف کے حذف کے ساتھ اختصار کیا جاتا ہے۔ جس طرح یا عیسیٰ بن مریم۔ ابن انباری نے کہا۔ اسجدوا کا الف ساقط ہوگیا جس طرح یہ ساقط ہوجاتا ہے ان کے ساتھ جب ظاہر ہو۔ جب یا کا الف ساقط ہوگیا تو اسجدوا کا الف متصل ہوگیا تو وہ گرگیا اس کا سقوط اختصار پر دلالت کرنے والا شمار ہوا اور اس پر ترجیح دینے کے لیے شمار ہوا جو تخفیف کا قائل ہے اور الفاظ کی کمی کا قائل ہے۔ جوہری نے اپنی کتاب کے آخر میں کہا : بعض نے کہا اس جگہ یا یہ تنبیہ کے لیے ہے گویا فرمایا : لا اسجدو اللہ جب اس پر یہ تنیبہ کے لیے داخل کی گئی تو اسجدو میں جو الف تھا وہ ساقط ہوگیا کیونکہ یہ الف وصل ہے اور یا میں جو الف تھا وہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف ہوگیا کیونکہ یہ اور سین دونوں ساکن ہیں۔ ذورمہ نے کہا :
الا یا اسلمی یا دارمی علی البلی ولا زال منھلا بجر عائک القطر (1)
محل استدلال اسلمی کا ہمزہ ہے۔
جرجانی نے کہا : یہ کلام معترضہ ہو۔ ہد ہد کی جانب سے ہو، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی جانب سے ہو یا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہو، یعنی الا یسجدوا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللہ “ ( الجاثیہ : 14) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ امر ہے یعنی بخشش طلب کرو۔ اسی پر مصحف کی کتابت منظم ہے یعنی یہاں ندا نہیں۔ ابن عطیہ نے کہا : العظیم تک ہد ہدکلام ہے یہ ابن زید اور ابن اسحاق کا قول ہے۔ اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ تو مخاطب ہی نہیں تو وہ شرع کے معنی میں کیسے گفتگو کرسکتا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قول ہے جب ہد ہد نے آپ کو اس قوم کی خبر دی۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہو یہ دو کلاموں کے درمیان جملہ معترضہ ہوگا یہ تامل کے ساتھ ثابت ہے۔ الا میں تشدید کے ساتھ قرأت یہ معنی دیتی ہے کہ کلام ہد ہد ہے اور تخفیف کی قرأت اس سے مانع ہے۔ تخفیف کی قرأت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ کا امر ہے یہ تقاضا اس امر کی وجہ سے ہے جس کو ہم نے بیان کیا ہے۔ زمحشری نے کہا : اگر تو سوال کرے کیا سجدہ تلاوت دونوں قرآیتوں میں واجب ہے یا ایک قرأت میں واجب ہے ؟ میں کہوں گا : دونوں قرأیتوں میں واجب ہے کیونکہ سجدہ کے جتنے بھی مواضع ہیں یا تو ان کا امر ہے یا ان لوگوں کی مدح ہے جو سجدہ کرتے ہیں یا جو اسے ترک کرے اس کی مذمت ہے دونوں قرآیتوں میں سے ایک سجدہ کا امر ہے اور دوسری تارک کے لیے مذمت ہے۔
میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں خبر دی کہ وہ سجد نہیں کرتے جس طرح سورة انشقاق میں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس میں سجدہ کیا، جس طرح بخاری اور دوسری کتب میں ثابت ہے۔ اسی طرح سورة نمل کا مسئلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ بہتر جانتا ہے۔ زمحشری نے کہا : زجاج نے جو یہ ذکر کیا ہے کہ تخفیف کی صورت میں سجدہ واجب ہے اور تشدید کی صورت میں واجب نہیں تو اس کی طرف رجوع نہیں کیا جائیگا۔
الذی یخرج الحب خبہ السماء سے مراد اسکے قطرات ہیں اور خب الارض سے مراد اس کے خزانے اور نباتات ہیں۔ قتادہ نے کہا : خب سے مراد اور راز ہے۔ نحاس نے کہا : یہ مروی ہے یعنی جو آسمانوں اور زمین میں غائب ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ما تخفون وما تعلنون دلالت کرتا ہے۔ عکرمہ اور مالک بن دینار نے کہا : الخب باء کے فتحہ کے ساتھ اور ہمزہ کے بغیر ہے۔ مہدوی نے کہا : یہ تخفیف قیاسی ہے اور جو وقف کی صورت میں ہمزہ کو ترک کردیتا ہے اس کا ذکر ہے۔ نحاس نے کا : ابو حاتم نے حکایت بیان کی ہے کہ عکرمہ نے الذی یخرج الخبا پڑھا یعنی ہمزہ کے بغیر الف کے ساتھ اور گمان کیا کہ یہ لغت عرب میں جائز نہیں علت یہ بیان کی کہ اگر ہمزہ میں تخفیف کی جائے تو اس کی حرکت باء کو دی جاتی ہے تو کہا : الخب لی السموات والارض اگر ہمزہ میں تحویل کی جائے تو الخبی باء ساکن اور اس کے بعد یاء ہوگی۔ نحاس نے کہا : پس علی بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا وہ محمد بن یزید سے بیان کرتے ہیں کہ ابو حاتم نحو میں اپنے ساتھیوں سے مرتبہ میں کم تھے وہ ان کے مرتبہ کو لاح نہیں ہوتے تھے، مگر جب وہ اپنے شہر سے نکلے تو ان سے بڑا نہ پایا گیا۔
1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 256
سیبویہ نے عربوں سے حکایت بیان کی کہ وہ ہمزہ کو الف سے بدل دیتے ہیں جب اس کا ما قبل ساکن ہو اور وہ خود مفتوح ہو، اسے وائو سے بدل دیا جاتا ہے۔ جب اس کا ما قبل ساکن ہو اور وہ خود مضموم ہو، اسے یاء سے بدل دیا جاتا ہے جب اس کا ما قبل ساکن ہو او وہ خود مکسور ہو۔ تو کہتا ہے : ھذا الوثر، عجبت من الولی رایت الوثا۔ یہ وثت یدہ سے مشتق ہے اس طرح یہ ہے ھذا الخبو، عجبت من الخبی رایت الخبا۔ یہ اس لیے کیا گیا کیونکہ ہمزہ خفیفہ ہے۔ ہمزہ کو ان حروف سے بدل دیا جاتا ہے۔ سیبویہ نے بنی تمیم اور بنی اسد سے یہ روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں، ھذا الغبو، جب ہمزہ مضموم ہو تو وہ ساکن کو ضمہ دیتے ہیں۔ وہ ہمزہ کو ثابت رکھتے ہیں اور ساکن کو کسرہ دیتے ہیں جب ہمزہ مکسور ہو، جب ہمزہ مفتوح ہو تو ساکن کو فتحہ دیتے ہیں۔ سیبویہ نے یہ حکایت بھی کی ہے وہ کسرہ دیتے ہیں اگرچہ ہمہ مضموم ہو مگر یہ بنی تمیم سے مروی ہے وہ کہتے ہیں : الردی اس نے گمان کیا ہے وہ دال کو ضمہ نہیں دیتے کیونکہ وہ اس ضمہ کو ناپسند کرتے ہیں جس سے قبل کسرہ ہو کیونکہ کلام میں کوئی فعل نہیں یہ سب قرأیتیں اس لغت پر داخل ہیں جنہیں جماعت نے پڑھا ہے۔ عبد اللہ کی قرأت میں الذی یخرہ الخبا من السموات ہے من اور فی ایک دوسرے کی جگہ آتے رہتے ہیں عرب کہتے ہیں : لا ستخر جن العلم فیکم اس سے وہ منکم مراد لیتے ہیں : وہ فراء کا قول ہے۔
ویعلم ما تخفون وما تعلنون دونوں میں عام قرأت یاء کے ساتھ ہے۔ یہ قرأت یہ معنی دیتی ہے کہ کلام ہد ہد کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے توحید کی معرفت، اس کی بارگاہ میں سجدہ کے وجوب، وہ سورج کو جو سجدہ کرتے اس کا انکار، اس کی شیطان کی طرف ضافت اور شیطان کا ان کے لیے اس امر کو مزین کرنا اس سب چیزوں کی معرفت کے لیی ہد ہد کو خاص کیا۔ جس طرح اس نے دوسرے پرندوں اور حیوانوں کو لطیف معارف کے لیے خاص کیا جہاں تک ترجیح پانے والے عقول رسائی حاصل نہیں کرسکتے۔ حجدری، عیسیٰ بن عمر، حفص اور کسائی نے تخفون اور تعلنون پڑھا ہے یہ ساء کے ساتھ خطاب کا صیغہ ہے یہ قرأت یہ معنی دیتی ہے کہ آیت اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضرت محمد ﷺ کی امت کو خطاب ہے۔
Ayahs 27:26–28اللہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم ابن محصین نے العظیم پڑھا ہے مرفوع ہے لفظ اللہ اسم جلالت کی صفت ہے۔ باقی قراء نے مجرور پڑھا ہے یہ العرش کی صفت ہے رب کا خصوصاً ذکر فرمایا کیونکہ مخلوقات میں سے عظیم ہے اس کے علاوہ اس کے ضمن میں اور اس کے قبضہ میں ہیں۔
مسئلہ نمبر 14 :۔ ستظر یہ اس نظر سے مشتق ہے جس کا معنی غور و فکر کرنا ہے۔ اصدقت امر کنت من الکذبین کیا تو اپنی بات میں سچا ہے یا جھوٹا ہے کنت یہ انت کے معنی میں ہے کہا : ستنظر اصدقت یہ نہیں کہا۔ سننضر فی امرت کیونکہ جب ہد ہد نے علم میں فخر کی تصریح کردی احطت بما لم تحط بہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے قول کے ساتھ تصرزیح کی ستظر اصدقت ام کنت اس نے جو کہا تھا یہ اس کے لیے کافی ہوگیا۔
مسئلہ نمبر 15 :۔ اصدقت ام کنت من الکذبین یہ اس امر پر دلیل ہے کہ امام پر واجب ہے کہ وہ اپن رعیت کا عذر قبول کرے اور ان کے باغی عذروں کی وجہ سے ان کے ظاہر احوال میں جو عقوبت واقع ہو رہی تھی اس کو ختم کرے، کیونکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ہد ہد کو کوئی سزا نہ دی جب اس نے معذرت پیش کی کیونکہ ہد ہد کا صدق عذر بن گیا کیونکہ اس نے اس امر کی خبر دی جو جہاد کا تقاضا کرتا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جہاد سے محبت کرتے تھے۔ صحیح میں اللہ کی ذات سے بڑھ کر کوئی بھی معذرت سے محبت کرنے والا نہیں اس وجہ سے اس نے کتاب کو نازل کیا اور رسولوں کو بھیجا “ (1) حضرت عمر ؓ نے نعمان بن عدی کا عذر قبول کیا اور اسے سزا نہ دی۔ لیکن امام کو حق حاصل ہے کہ وہ خوب چھان بیان کرے جب اس کے ساتھ کوئی حکم شرعی بھی متعلق ہو۔ جس طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا کیونکہ جب ہد ہد نے آپ کی خدمت میں عرض کی : انی وجدت امراۃ تملکھم و اوتیت من کل شی وولھا عرش عظیم۔ آپ کی طمع نہ بھڑکی اور نہ ملک میں زیادتی کی محلت آپ کو اس طرف لے گئی کہ آپ اس سے تعرض کریں، یہاں تک کہ ہد ہد نے کہا : وجدتھا و قومھا یسجدون للشمس من دون اللہ جب یہ سنا تو اس وقت غصے میں ہوئے اور جو اس نے خبری دی اس کی تہہ تک پہنچنے کا فیصلہ کیا اور جو امور ابھی تک غیب تھے ان کو حاصل کرنا چاہا۔ فرمایا : سنظر اصدقت ام کنت من الکذبین اس کی مثال وہ روایت ہے جس کو حضرت مسور بن مخرمہ نے روایت کیا ہے جب حضرت عمر ؓ نے لوگوں سے املاص المراۃ میں مشورہ کیا۔ املاص المراۃ سے مراد وہ عورت ہے جس کے پیٹ پر ضرب لگائی جاتی ہے تو وہ اپنا نا مکمل بچہ پھینک دیتی ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے کہا : میں نبی کریم ﷺ کے پاس موجود تھا تو حضور ﷺ نے اس سے غلام یا لونڈی کے غرہ ( چھوٹا غلام) کا فیصلہ کیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : وہ آدمی لائو جو تیرے حق میں گواہی دے۔ حضرت محمد بن مسلمہ نے ان کے حق میں گواہی دی۔ ایک روایت میں ہے : تو یہاں سے نہیں جاسکتا یہاں تک اس نے نکلنے کی کوئی راہ پائے۔ میں نکلا تو میں نے حضرت محمد مسلمہ کو پایا میں انہیں لے آیا تو انہوں نے گواہی دی۔ اس کی مثل اجازت طلب کرنے کے حوالے سے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کا واقعہ ہے۔
مسئلہ نمبر 16 :۔ اذھب یکبتی ھذا فالقہ الیم زجاج نے کہا : اس میں پانچ وجوہ ہیں : فالقہ الیھم لفظ میں یاء ثابت ہے یاء کو حدف کرنے اور کسرہ کو ثابت کرنے کے ساتھ جو یاء کے حذف پر دال ہے۔ فالقہ الیم باء کے ضمہ اور وائو کو ثابت کرنے کے ساتھ اپنے اصل پر۔ فالقہ الیم وائو کے حذف اور ضمہ کو ثابت کرنے کے ساتھ۔ فالقہ الیھم پانچویں لغت وہ ہے جسے حمزہ نے ہاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ فالقہ الیم۔ نحاس نے کہا : نحویوں کے نزدیک یہ جائز نہیں مگر بعیدی حلیہ کی صورت میں جائز ہو سکتا ہے وہ وقف کو مقدر کیا جائے۔
میں نے علی بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا : اس علت کی طرف متوجہ نہ ہو، اگر یہ جائز ہوتا، کہ تو وہ وصل کرے اور وقف کی نیت کرے تو اسماء سے اعراب کو حذف کرنا جائز ہوتا۔ الیھم کہا : ضمیر جمع کی ذکر کی الیھا نہیں کہا کیونکہ کہا : وجدلھا و قومھا یجسدون للشمس گویا فرمایا : اسے ان کی طرف پھینکو جن کا یہ دین ہے۔ مقصود دین کا امر کا اہتمام ہے اور غیر سے
1 ؎۔ صحیح مسلم، باب غیرۃ اللہ تعالیٰ و تحریم الفواحش، کتاب التوبۃ، جلد 2، صفحہ : 358
اس کے ساتھ اعراض کرنا ہے، اسی وجہ سے کتاب میں خطاب کی بنیاد جمع کے صیغہ پر رکھی گئی ہے۔ اس آیت کے قصوں میں یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ ہد ہد پہنچا اس نے اس ملکہ کے ارد گرد دیواروں سے بناحجاب پایا اس نے اس روشندان کا قصہ کیا، بلقیس نے یہ روشن دان اس لیے بنوایا تھا تاکہ سورج کے طلوع ہونے کے وقت روشنی اس سے داخل ہوتا کہ وہ سورج کی عبادت کرسکتے۔ وہ اس روشن دان سے داخل ہو اور خط ملکہ بلقیس پر پھینک دیا وہ اس وقت سوئی ہوئی تھی یہ اس طرح روایت کیا گیا ہے جب وہ بیدار ہوئی تو اس خط کو پایا تو اس خط نے اس کو خوفزدہ کردیا۔ اس نے گمان کیا کہ کوئی اس کے کمرہ میں داخل ہوا ہے پھر وہ اٹھی تو اس نے وہی حال پایا جس طرح پہلے کا معمول تھا اس نے روشن دان کی طرف دیکھا تاکہ سورج کے معاملہ کا جائزہ لے تو اس نے ہد ہد کو دیکھا تو اسے علم ہوگیا۔
وہب اور ابن زید نے کہا : سورج کے مطلع کے سامنے روشن دان تھا جب سورج طلوع ہوتا تو وہ سجدہ کرتی ہد ہد نے اپنے پروں کے ساتھ اسے بند کردیا۔ سورج بلند ہو اور بلقیس کو اس کا علم نہ ہوا جب سورج کے نظر آنے میں دیر ہوگئی تو وہ دیکھنے لگی ہد ہد نے صحیفہ اس کی طرف پھینکا جب اس نے مہر دیکھی تو وہ کا نپ اٹھی اور عاجزی کا اظہار کیا کیونکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت، ان کی مہر میں تھی، اس نے خط پڑھا اس نے اپنی قوم کے سرداروں کو جمع کیا اور جو کچھ ہونے والا تھا اسکے بارے میں ان سے بات چیت کی۔ مقاتل نے کہا : ہد ہد نے خط اپنی چونچ میں اٹھایا وہ اڑا یہاں تک کہ عورت کے سر پر رک گیا اس کے اردا گرد اس کے لشکر تھے۔ وہ تھوڑی دیر پھڑپھڑایا جب کہ لوگ اسے دیکھ رہے تھے عورت نے اپنا سر اوپر کو اٹھایاتو ہد ہد نے خط اس کو گود میں پھینک دیا۔
مسئلہ نمبر 17 :۔ اس آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ مشرکوں کو خط بھیجنا، انہیں دعوت پہچانا اور اسلام کی طرف انہیں دعوت دینا درست ہے۔ نبی کریم ﷺ نے کسریٰ ، قیصر اور ہر جابر کی طرف خطوط بھیجے جس طرح آل عمران میں ہے۔
مسئلہ نمبر 18 :۔ ثم تول عنھم پھر ایک طرف ہوجانے کا حکم دیا یہ امر حسن ادب کے طور پر تھا تاکہ وہ اس طرح الگ ہوجائے جس طرح بادشاہوں کے ساتھ معاملہ کیا جاتا ہے معنی ہے قریب ہی رہنا تاکہ تو ان کے جواب کو دیکھے، یہ وہب بن منبہ کا قول ہے۔ ابن زید نے کہا : اسے واپس آنے کا حکم دیا، یعنی خط اس پر پھنکنا اور واپس آجانا (1) فانظر ماذا یرجعون یہ حکم میں مقدم ہے ثم تول یہ حکم میں موخر ہے کلام میں اتساق نمایاں ہے، یعنی القہ ثم تول، اس کے درمیان دیکھنا یعنی انتظار کرنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جان لے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْئُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ ( النبائ : 40) جان لو وہ کیا جواب دیتے ہیں اور کیا مشورہ کرتے ہیں ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے، فانظر ماذا یرجعون وہ آپس میں کیا باتیں کرتے ہیں ؟
Ayahs 27:29–31( قالت یایھا۔۔۔۔۔۔ )
اس کے چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ قالت یا تھا الملواء کلام میں حذف سے مراد ہے فذھب فالقاہ الیھم فسمعھا وھی تقول یایھا الملاء وہ گیا اس نے خط ان پر پھینکا اس نے ملکہ بلقیس کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے قوم کے سردارو ! پھر کتاب کی صف کریم سے لگائی کیونکہ وہ خط ایسی ذات کی جانب سے تھا جو عظیم تھی یہ عظمت ملکہ بلقیس کے نفس میں تھی یا ان سرداروں کے نفوس میں تھی۔ ملکہ بلقیس نے خط کی عظیم سے صفت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تکریم کے لیے ذکر کی تھی، یہ ابن زید کا قول ہے یا اس نے یہ اشارہ کیا کہ اس پر مہر لگی ہوئی ہے تو خط کی کرامت اس کی مہر ہے، رسول اللہ ﷺ سے یہ بھی مروی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم تھا حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” ہر وہ کلام جس کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ ہو تو وہ دم بریدہ ہوتی ہے “ (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیونکہ اس کا آغاز اپنی ذات سے تھا یہ طریقہ جلیل القدر لوگ ہی کرتے ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے عبد الملک بن مروان کی طرف خط لکھا جس میں وہ مروان کی بیعت کررہے تھے۔ من عبد اللہ لعبد الملک بن مروان امیر المومنین، یہ خط عبد اللہ کی جانب سے عبد الملک بن مروان کے لیے ہے جو امیر المومنین ہے میں تیرے لیے سمع وطاعت کا اقرار کرتا ہوں جس طرح میں طاقت رکھوں گا، میرے بیٹوں نے بھی اس بارے میں تیرے لیے اقرار کیا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس نے وہم کیا کہ یہ خط آسمان سے آیا ہے کیونکہ خط پہنچانے والا پرندہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کریم کا معنی حسن ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ومقام کریم۔ ( الشعرائ) یعنی مجلس حسن۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس نے خط کی یہ صفت اس لیے ذکر کی کیونکہ اس میں نرم گفتگو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت کی نصیحت تھی اس میں شفقت اور لطف و مہربانی تھی اس میں سب ولعن وغیرہ نہیں تھا۔ نہ وہ کوئی ایسی چیز تھی جو نفس میں تغیر پیدا کرے نہ وہ درجہ سے گری ہوئی تھی اور نہ ہی اس میں پیچیدگی تھی۔ جس طرح رسولوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو نہیں دیکھتے جو اس نے اپنے نبی سے فرمایا : اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ (النحل : 125) اور اللہ تعالیٰ کے فرمان جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) سے فرمایا : فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر کر او یخشی۔ ( طہٰ ) تمام وجوہ اچھی ہیں اور یہ ان سب سے بہترین ہے یہ روایت بیان کی گئی کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے قبل کسی نے بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی۔ عبد اللہ کی قرأت میں ہے وان من سلیمان وائو زائد ہے۔
مسئلہ نمبر 2 :۔ کتب میں کریم کی صفت حد درجہ کا وصف ہے کیا تو اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں دیکھتا انہ القرآن کریم
1 ؎۔ سنن ابن ماجہ، باب خطبۃ النکاح، حدیث نمبر 1883، ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔
اہل زمان کتاب کی صفت، خطیر، اثیر اور مبرود لگاتے ہیں۔ اگر وہ بادشاہ کا خط ہو تو وہ عزیز کہتے ہیں اور غفلت کے طور پر الکریم کو ساقط کردیا۔ یہ خصلت کے اعتبار سے افضل ہے جہاں تک العزیز کے ساتھ صفت کا معاملہ ہے تو اس کے ساتھ قرآن کی صفت ذکر کی گئی ہے۔ لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ (فصلت : 42) یہ اس کی عزت ہے یہ کسی اور کے لیے نہیں اپنے مکتوبات میں اس سے اجتناب کرو اس کی جگہ العالی کا لفظ رکھو، مقصود، ولایت کا حق پورا کرنے کے لیے اور دیانت کا احاطہ کرنے کے لیے ہے، یہ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا۔
مسئلہ نمبر 3 :۔ متقدمین کا طریقہ تھا جب وہ خط لکھتے تو اپنی ذاتوں سے شروع کرتے۔ من فلان الی فلاں۔ اس کے متعلق آثار آئے ہیں۔ ربیع بن انس نے روایت کی ہے کہا : نبی کریم ﷺ سے بڑھ کر کوئی زیادہ حرمت والا نہیں۔ جب وہ مکتوب لکھتے تو اپنی ذات سے شروع کرتے۔ ابن سیرین نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اہل فارس جب خط لکھتے ہیں تو آغاز اپنے سرداروں سے کرتے ہیں آدمی اپنی ذات سے شروع کرے “۔ ابو اللیث نے اپنی کتاب ” البستان “ میں کہا : اگر اس سے خط کو شروع کیا جس کی طرف خط لکھا جا رہا ہے تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ امت کا اسی پر اتفاق ہے کیونکہ انہوں نے یہ طریقہ کسی مصلحت کی وجہ سے اپنا یا جو مصلحت انہوں نے اس طریقہ میں دیکھی یا اس سے جو طریقہ تھا وہ منسوخ ہوگیا۔ ہمارے اس زمانے میں اچھا یہ ہے کہ خط مکتوب الیہ سے شروع کیا جائے پھر اپنا ذکر کرے، کیونکہ اپنی ذات سے خط کو شروع کرنا یہ مکتوب الیہ کو حقیر جاننے اور اپنے آپ کو بڑا جاننے پر دال ہے مگر یہ لکھا جائے الی عبد من عبیدہ او غلام من غلمانہ۔ غلاموں میں سے ایک غلام کی طرف۔
مسئلہ نمبر 4 :۔ جب انسان پر کوئی خط وارد ہو جس میں سلام وغیرہ ہو تو اس کو جواب دینا چاہیے کیونکہ مکتوب غائب سے اس طرح ہے جس طرح حاضر سے سلام ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جس طرح سلام کا جواب دینا واجب ہوتا ہے اسی طرح مکتوب کا جواب دینا بھی واجب ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 5 :۔ مکتوبات اور رسائل کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے پر علماء کا اتفاق ہے اسی طرح ان کے اختتام پر بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے پر اتفاق ہے کیونکہ یہ شک سے بعید ہے یہی طریقہ ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے اسی طرح اثر واقع ہوا ہے۔ جس مکتوب پر مہر نہ ہو وہ اغلف ( جس کو نہ سمجھا جائے) ہے۔ حدیث میں ہے کرام الکتب ختمہ مکتوب کی کرامت اس پر مہر ہے۔ ایک ادیب نے کہا : جو ابن مقفع ہے : جس نے اپنے بھائی کو خط لکھا اور اس پر مہر نہ لگائی تو اس نے اس کی حقارت بیان کی، کیونکہ مہر لگانا ہی اس کا افتتاح ہے۔ حضرت انس ؓ نے کہا : جب نبی کریم ﷺ نے ارادہ کیا کہ عجمیوں کو خط لکھیں تو آپ ﷺ سے عرض کی گئی : یہ وہی خط قبول کرتے ہیں جس پر مہر ہو، آپ نے مہربنوائی اور اس کے نگینہ پر یہ نقش لکھوایا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ گویا میں اس کی چمک اور سفیدی آپ کی ہتھیلی میں دیکھتا ہوں (1)
1 ؎۔ صحیح بخاری، کتاب اللیاس، باب نقش الخاتم، جلد 2، صفحہ 872
مسئلہ نمبر 6 :۔ انہ من سلیمن وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم دونوں جگہ ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ہے اور دونوں سے کلام شروع ہو رہا ہے۔ فراء نے دونوں میں ان ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ محل رفع میں ہے یہ الکتاب سے بدل ہے القی الی انہ من سلیمان یہ بھی جائز ہے کہ حرف جار کے حذف کے ساتھ محل نصب میں ہو یعنی لانہ من سلیمان ولانہ گویا اس کی کرامت کی علت یہ بیان کی کہ یہ سلیمان کی جانب سے ہے اور اس کے شرع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے اشہب عقیلی اور محمد بن سمیقع نے پڑھا : الا تغلوا غین معجم کے ساتھ، وہب بن منبہ سے مروی ہے یہ غلا یغلر سے مشتق ہے جب وہ حد سے تجاوز کرے اور تکبر کرے۔ یہ جماعت کی قرأت کے معنی کی طرف راجع ہے۔