25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 25:68–69

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور وہ جو خدا کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس جاندار کو مار ڈالنا خدا نے حرام کیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے مگر جائز طریق (یعنی حکم شریعت کے مطابق) اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے گا سخت گناہ میں مبتلا ہوگا

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

قیامت کے دن اس کو دونا عذاب ہوگا اور ذلت و خواری سے اس میں ہمیشہ رہے گا

( والذین لا یدعون۔۔۔۔۔۔ ) والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخر مومن بندوں کو ان کافروں کی صفات سے خارج کرنا مقصود ہے جو بتوں کی عبادت کرتے ہیں، بچیوں کو زندہ درگور کر کے نفوس کو قتل کرتے ہیں اس کے علاوہ وہ ظلم، دھوکا اور غارت گری مچاتے ہیں اور زنا ان کے نزدیک مباح امر ہے۔ علماء معانی میں سے جس نے اس آیت کو ظاہر معنی سے پھیرا اس نے کہا : رحمن نے جن کو اپنی طرف خصوصی طور پر منسوب کیا ہے اور معرفت اور تشریف والی صفات کے ساتھ انہیں موصوف کیا اور ان کا ذکر کیا، تو یہ مناسب نہیں کہ ان سے یہ قبیح امور واقع ہوں یہاں تک کہ ان کی ان سے نفی کے ساتھ مدح کی جائے کیونکہ وہ اس سے اعلیٰ و اشرف ہیں۔ فرمایا : وہ خواہش نفس کو الٰہ نہیں بناتے، معاصی کے ساتھ اپنے نفوس کو ذلیل و رسوا نہیں کرتے تو یہی ان کا قتل ہے۔ الا بالحق مگر صبر کی چھری اور مجاہدہ کی تلوار کے ساتھ۔ وہ ایسی عورتوں کی شہوت سے نہیں دیکھتے جو ان کی محرم نہیں ہوتیں تو یہ بدکاری ہوگا، بلکہ ضرورت کی بناء پر دیکھتے ہیں تو وہ نکاح کی طرح ہوجائے گا۔ ہمارے شیخ ابو العباس نے کہا : یہ عمدہ کلام ہے مگر جانچ کرنے کے وقت یہ احمقانہ کلام ہے، یہ باطن رجحان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اضافت کے اختصاص کے ساتھ شرف عطاء کرنا صحیح ہے جب کہ انہوں نے صفات حمیدہ سے اپنے آپ کو آراستہ کیا اور اوصاف ذمیمہ کے نقائص سے خالی ہوئے۔ ان آیات کے شرع میں آراستہ کی جانے والی صفات کا ذکر کیا تاکہ انہیں شرف عطاء کیا جائے پھر اس کے بعد ان صفات کا ذکر کیا جس سے انہوں نے اپنے آپ کو خالی کیا تاکہ ان سے ان کے بعد کا ذکر کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ میں کہتا ہوں : اس قائل نے جو یہ دعویٰ کیا کہ یہ امور ظاہر معنی پر نہیں اس کے بطلان پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جو امام مسلم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ کے ہاں کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک ٹھہرائے جب کہ اس نے تجھے پیدا کیا “۔ عرض کی : پھر کون سا گناہ ؟ فرمایا :” تو اپنی اولاد کو اس وجہ سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھانا کھائے گا “۔ عرض کی : پھر کون سا گناہ ؟ فرمایا :” تو اپنے پڑوسی کو بیوی سے بدکاری کرتے “۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی :” وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللہ اِلٰـھًا اٰخَرَ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللہ اِلاَّ بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَج وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا۔ “ کلام عرب میں آثاما سے مراد عقاب ہے۔ ابن زید اور قتادہ نے اس آیت میں یہی قرأت کی ہے : سی معنی میں شاعر کا قول ہے : جزی اللہ ابن عروہ حیث امی عقوقا والعقوق لہ آثام اللہ تعالیٰ ابن عروہ کو جزا دے جب اس نے نا فرمنی کرتے ہوئے شام کی جب کہ نافرمانی پر اس کے لیے جزا اور سزا ہے۔ یہاں آثام کا معنی جزا اور عقوبت ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو، عکرمہ اور مجاہد نے کہا : آثام جہنم میں ایک وادی ہے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے اسے سزا بنایا ہے، شاعر نے کہا : لقیت المھالک فی حربنا بعد المھالک تلقی اثاما ہماری جنگ میں تو نے ہلاکتوں کو پایا ہلاکتوں کے بعد تو سزا پائے گا۔ سدی نے کہا : آثام جہنم میں ایک پہاڑ ہے۔ شاعر نے کہا : وکان مقامنا ندعو علیھم بابطح ذی المجازلہ اثام اس شعر میں آثام کا معنی پہاڑ ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : مشرکوں میں سے کچھ لوگوں نے قتل کیے تو بہت زیادہ قتل کیے انہوں نے بدکاری کی تو بہت زیادہ بدکاری کی وہ حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : جو بات آپ کرتے ہیں اور جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں وہ بہت اچھی ہے، وہ امر ہمیں یہ خبر دیتا ہے کہ ہم نے جو عمل کیا اس پر کفارہ ہے تو یہ آیت نازل ہوئی اور یہ آیت نازل ہوئی :” یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ “ (زمر : 53) ایک قول یہ کیا گیا :” یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا “ یہ وحشی کے بارے میں نازل ہوئی جس نے حضرت حمزہ ؓ کو شہید کی تھا : یہ حضرت سعید بن جبیر اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : اسکی وضاحت سورة زمر میں آئے گی۔ الا بالحق مگر اس حق کی وجہ سے جسکے ساتھ نفوس کو قتل کرنا جائز ہوتا ہے جیسے ایمان کے بعد کفر، شادی کے بعد بدکاری، جس طرح اس کی وضاحت سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔ ولا یزنون وہ نکاح اور ملک یمین کے بغیر شرمگاہوں کو حلال نہیں سمجھتے۔ یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کفر کے بعد ناحق تل کرنے سے بڑا گناہ کوئی نہیں اس کے بعد بدکاری ہے اسی وجہ سے جو شادی شدہ ہو اس کے بارے میں زنا کی صورت میں قتل ثابت ہے اگر وہ شادی شدہ نہ ہو تو سب سے زیادہ کوڑے اور سخت کوڑے لازم ہیں۔ ” ومن یفعل ذلک یلق اثاما۔ یضعف لہ العذاب “ نافع، ابن عامر، حمزہ اور کسائی نے یصاعف اور یخلد مجزوم پڑھا ہے۔ ابن کثیر نے یضعف عین کو مشدد اور الف کو حذف کرنے کے ساتھ قرأت کی ہے اور دونوں فعلوں کو مجزوم پڑھا ہے۔ طلحہ بن سلیمان نے نضعف نون کے ضمہ اور عین مشددہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ العذاب کو نصب دی اور یخلد کو جزم دی ہے، یہ ابو جعفر اور شیبہ کی قرأت ہے۔ عاصم نے ابوبکر کی روایت میں بضاعف اور یخلد دونوں میں رفع پڑھا ہے یہ آپس میں معطوف، معطوف علیہ ہیں اور جملہ مستائفہ ہیں۔ طلحہ بن سلیمان نے تخلدتاء کے ساتھ پڑھا ہے، خطاب کا فر کو ہے۔ ابو عمرو سے ویخلد یاء کے ضمہ اور لام کے فتحہ کے ساتھ قرأت کی ہے۔ ابو علی نے کہا : روایت کے اعتبار سے یہ غلط ہے، یضاعف مجزوم ہے یہ یلق سے بدل ہے جو شرط کی جزا ہے۔ سیبویہ نے کہا : عذاب کے کئی گنا ہونے سے مراد عقاب کو پانا ہے۔ شاعر نے کہا : متی تاتنا تلم بنا فی دیارنا تجد حطباجزلا ونارا تاججا جب تو ہمارے پاس آئے گا تو ہمارے ہاں ہمارے گھروں میں اترے گا تو بہت بڑا ایندھن اور بھڑکتی آگ پائے گا۔ محل استدلال تجد ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا۔ ان علی اللہ ان تبایعا توخذ کر ما اور تجنی طالعا اللہ کی قسم ! مجھ پر لازم ہے کہ تم بیعت کرو تجھے مجبوری کے عالم میں پکڑ کر لایا جائے یا تو خوشی خوشی آئے۔ محل استدلال توخذ ہے۔ جہاں تک رفع کا تعلق ہے اس میں دو قول ہیں : (1) ما قبل سے اسے الگ کردیا جائے (2) اسے معنی پر محمول کیا جائے، گویا ایک کہنے والا کہتا ہے : آثام سے ملنے کا کیا مطلب ہے ؟ اسے کہا جائے گا : اس کے لیے عذاب کئی گنا کردیا جائے گا۔ مھانا اس کا معنی ہے ذلیل، ناکام، مقصد سے دور اور دھتکارا ہوا۔
Ayah 25:70

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کیے تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو خدا نیکیوں سے بدل دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

( الا من تاب وامن۔۔۔۔۔۔ ) الامن تاب وامن وعمل عملاً صالحا ً علماء میں سے کوئی اختلاف نہیں کرتا کہ استثناء کافر اور زانی میں عامل ہے مسلمانوں میں سے جو قاتل ہے اس کے بارے میں اختلاف ہے جس طرح اس کی وضاحت سورة النساء میں گزر چکی ہے، سورة مائدہ میں یہ قول گزر چکا ہے۔ عین میں جو استثناء ہو اس میں تراخی جائز ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ تعالیٰ کا قول ہے، وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں۔ فاولیک یبدل اللہ سیاتھم حسنت نحاس نے کہا : اس کے بارے میں جو اقوال ذکر کیے گئے ہیں ان میں سے سب سے بہترین یہ ہے کہ کافر کی جگہ مومن اور نافرمان کی جگہ مطیع لکھ دیا جاتا ہے۔ مجاہد اور ضحاک نے کہا : اللہ تعالیٰ شرک کو ایمان سے بدل دیتا ہے ؟ حضرت حسن بصری سے اسی کی مثل مروی ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : ایک قول یہ کہتی ہے یہ تبدیلی آخرت میں ہوگی، جب کہ معاملہ اس طرح نہیں یہ تبدیلی دنیا میں ہوگی اللہ تعالیٰ ان کے شرک کو ایمان سے بدل دیتا ہے، شک کو اخلاص سے بدل دیتا ہے اور فجورکو احصان سے بدل دیتا ہے۔ زجاج نے کہا : اس سے مراد یہ نہیں کہ سیئہ کی جگہ حسنہ رکھ دیتا ہے بلکہ سیئہ کی جگہ تو بہ رکھ دیتا ہے، اور حسنہ کو توبہ کے ساتھ رکھ دیتا ہے۔ حضرت ابو دائود ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے : ان السیئات تبدیل الحسنات، برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا جائے گا۔ اس کے ہم معنی روایت حضرت سلمان فارسی، سعید بن جبیر اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : یہ آخرت میں اس آدمی کے بارے میں ہوگا جس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر غالب ہوجائیں گی، تو اللہ تعالیٰ برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا۔ حدیث میں سے ” کچھ اقوام تمنا کریں گی کہ ان کی برائیں زیادہ ہوتیں “۔ عرض کی گئی : وہ کون ہیں ؟ فرمایا :” جن کی برائیاں اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے اسے نبی کریم ﷺ سے نقل کیا ہے، ثعلبی اور قشیری نے اسے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، تبدیل سے مراد بخش ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کو سیئات کو بخش دے گا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں نیکیوں میں بدل دے گا۔ میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کے کرم سے یہ کوئی بعید نہیں کہ جب بندے کی توبہ صحیح ہوجائے تو اللہ تعالیٰ سیئہ کی جگہ حسنہ رکھ دے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ سے فرمایا : ” برائی کے بعد نیکی کرو جو اس برائی کو مٹا دے اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئو “۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو ذر ؓ سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” میں اس آدمی کو جانتا ہوں جو جنت میں سب سے آخر میں داخل ہوگا اور اس آدمی کو بھی جانتا ہوں جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا۔ ایک آدمی کو قیامت کے روز لایا جائے گا، یہ کہا جائے گا : اس پر اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور بڑے گناہوں کو اس سے اٹھا لواس پر اس کے چھوٹے گناہ پیش کیے جائیں گے، اسے کہا جائے گا : تو نے یہ عمل کیا اور تو نے فلاں فلاں دن یہ عمل کیا۔ وہ کہے گا : ہاں۔ وہ انکار کی طاقت نہیں رکھے گا۔ جب کہ وہ بڑے گناہوں کے پیش کرنے سے ڈر رہا ہوگا۔ اسے کہا جائے گا : تیرے لیے ہر برائی کی جگہ نیکی ہے۔ وہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! میں نے کچھ ایسے عمل کیے ہیں جو میں نے یہاں نہیں دیکھے “۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔ ابو طویل نے کہا :” یا رسول اللہ ﷺ ! ایسے آدمی کے بارے میں بتایئے جس نے ہر گناہ کیا ان میں سے کوئی چیز نہ چھوڑی اس نے چھوٹی بڑی کوئی خواہش نہ چھوڑی مگر اس کو پورا کیا اس کے لیے توبہ ہے ؟ فرمایا :” کیا تم نے اسلام قبول کیا “ اس نے عرض کی : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ واحدہ ٗ لا شریک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ فرمایا :” ہاں۔ تو نیکیاں کرے گا اور برائیوں کو ترک کرے گا اللہ تعالیٰ سب کو نیکیاں بنا دے گا “۔ عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے دھوکے اور میرے گناہ ؟ فرمایا : ہاں “۔ اس نے زبان سے نعرہ لگایا : اللہ اکبر ! وہ لگاتار یہ کلمات کہتا رہا یہاں تک کہ آنکھوں سے اوجھل ہوگیا، ثعلبی نے اسے ذکر کیا ہے۔ بشر بن عبید نے کہا : جو علم نحو اور لغت عربی سے آگاہ تھا ( وہ جانتا ہے) حاجہ سے مراد وہ امر ہے جو حاجی پر لازم ہوتا ہے جب وہ حج کے لیے جا رہے ہیں ہوں اور داجہ سے مراد وہ امر ہوتا ہے جو اس پر اس وقت لازم کیا جاتا ہے جب وہ واپس پلٹیں۔
Ayah 25:71

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بیشک وہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے

( ومن تاب وعمل صالحا۔۔۔۔۔ ) یہ جملہ نہیں کہا جاتا : من قام فانہ یقوم، تو یہ کس طرح فرمایا :’ ’ ومن تاب فانہ یتوب ؟ “ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے اہل مکہ میں سے جو ایمان لایا اور ہجرت کی اس نے نہ قتل کیا تھا اور نہ ہی زنا کیا تھا بلکہ اس نے عمل صالحہ کیا اور فرائض کو ادا کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرنے والا ہے، یعنی میں نے انہیں ان لوگوں پر مقدم رکھا اور ان پر فضلیت دی جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے جنگ کی اور محارم کو حلال جانا۔ قفال نے کہا : یہ احتمال موجود ہے کہ پہلی آیت ان لوگوں کے بارے میں ہو جنہوں نے مشرک ہونے کے بعد توبہ کی، اسی وجہ سے فرمایا : ’ ’ الا من تاب وامن “ پھر مسلمانوں میں سے جنہوں نے توبہ کی اس پر اس کا عطف کیا اور اپنی توبہ کے بعد عمل صالح کیا اس کے لیے بھی تابین کے حکم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس نے زبان سے توبہ کی اور اپنے فعل کے ساتھ اسے ثابت نہ کیا ایسی توبہ نفع دینے والی نہیں بلکہ جس نے توبہ کی اور صالح عمل کیا اور اعمال صالحہ کے ساتھ توبہ کو ثابت کیا اسی نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کی، یہی توبۃ النصوح ہے، اسی وجہ سے مصدر کے ساتھ اسے موکد کیا۔ متابامصدر ہے اسی کا معنی تاکید ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وکلم اللہ موسیٰ تکلیما۔ “ ( النسائ : وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حق سچ کی توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ یقین طور پر قبول فرماتا ہے۔
Ayah 25:72

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور وہ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب ان کو بےہودہ چیزوں کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو بزرگانہ انداز سے گزرتے ہیں

(والذین لایشھدون۔۔۔۔۔۔ مسئلہ نمبر 1 :۔ والدین لا شھدون الزور جو کذب اور باطل کے پاس حاضر نہیں ہوتے اور نہ ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ زد و اس باطل کو کہتے ہیں جسے آراستہ کر کے پیش کیا جائے۔ ان میں سے سب سے عظیم شرک اور شریکوں کی تعظیم بجا لانا ہے، ضحاک، ابن زیاد اور حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تفسیر بیان کی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے : مراد مشرکوں کی عیدیں ہیں۔ عکرمہ نے کہا : مراد لعب ( کھیل کود) ہے دور جاہلیت میں اسے زور کہتے۔ مجاہد نے کہا مراد گانا گانا ہے، یہ حضرت محمد بن حنیفہ کا بھی قول ہے۔ ابن جریج نے کہا : مراد جھوٹ ہے، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے۔ علی بن طلحہ اور محمد بن علی نے کہا : معنی ہے وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے، یہ شہادت سے مشتق ہے مشاہدہ سے مشتق نہیں۔ ابن عربی نے کہا : جہاں تک اس قول کا تعلق ہے کہ یہ کذب ہے تو یہ صحیح ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک جھوٹ کی طرف راجع ہے۔ جس نے یہ کہا : یہ دور جاہلیت میں کھیل کود تھا اگر اس میں جو ہوا یا جہالت ہو یا ایسا امر ہو جو کفر کی طرف لے جانے والا ہو تو یہ حرام ہوگا، جہاں کا نا گانے کا تعلق ہے تو وہ اس حد تک نہیں پہنچتا۔ میں کہتا ہوں : گانے میں ایسی صورت بھی ہے جس کا سننا حرمت تک جا پہنچتا ہے وہ ان اشعار کی طرح ہیں جن میں حسین صورتوں اور شراب وغیرہ کی صفت بیان کی جاتی ہے جو طبیعتوں میں حرکت پیدا کرتے ہیں اور اسے اعتدال سے نکال دیتے ہیں یا ہو کے بارے میں چھپی محبت کو ابھارتے ہیں، خصوصاً جب ان اشعار کے ساتھ آلات لہو و لعب بھی شامل ہوجائیں۔ جس طرح آج کے دور میں کیا جاتا ہے، جس کی وضاحت ہم نے کئی مواقع پر کردی ہے۔ حسن نے کہا : اس سے مراد جھوٹی گواہی ہے : تو یہی دوسرا مسئلہ ہے۔ مسئلہ نمبر 2 :۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ جھوٹے گواہ کو چالیس کوڑے مارتے، اس کے چہرے پر کالک ملتے، اس کے سر کا حلق کراتے اور بازام میں پھراتے۔ اکثر اہل علم نے کہا : اس کی گواہی کبھی بھی قبول نہ کی جائے گی اگرچہ وہ توبہ کرے اور اس کا حال اچھا ہوجائے۔ اس کا امر اللہ کے سپرد ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر وہ اعلانیہ جھوٹی شہادت دینے والا نہ ہو اور اس کا حال اچھا ہو تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی، جس طرح اس کی وضاحت سورة حج میں گزر چکی ہے وہاں اس میں غور و فکر کرلے۔ واذا امرو باللغو مروا کراما لغو کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے اس سے مراد ہر وہ قول اور فعل ہے جو پایہ ثقاہت سے گرا ہوا ہو اس میں غنا، لہو اور اس کے قریب قریب کی چیزیں مراد ہیں۔ اس میں مشرکین کے بےوقوفانہ عمل، ان کا مومنوں کو اذیت دینا، عورتوں کا ذکر اور ان جیسے ناپسندیدہ عمل ہیں۔ مجاہد نے کہا : جب انہیں اذیت دی جائے تو وہ در گزر سے کام لیتے ہیں، ان سے مروی ہے : جب وہ نکاح کا ذکر کرتے ہیں تو کنایہ سے کام لیتے ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : لغو سے مراد تمام قسم کی نافرمانیاں ہیں (1) یہ جامع قول ہے۔ کراما اس کا معنی ہے وہ اعراض کرتے ہیں ناپسند کرتے ہیں، اس پر راضی نہیں ہوتے، وہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور ایسے لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھتے، یعنی وہ کریم لوگوں کی طرح گزر جاتے ہیں وہ باطل میں داخل نہیں ہوتے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : تکرم فلان عما یشینہ، فلاں نے عیب دار چیز سے اپنے آپ کو پاکیزہ رکھا اور اس سے اپنے نفس کو معزز رکھا۔ یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے نغمہ کو سنا تو جلدی چلے اور وہاں سے چلے گئے، یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو فرمایا : لقد اصبح ابن ام عبد کریما، ابن ام عبد کریم ہوگیا ہے، اس قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ہے کہ وہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔
Ayah 25:73

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ کہ جب انکو پروردگار کی باتیں سمجھائی جاتی ہیں تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے (بلکہ غورو فکر سے سنتے ہیں )

( والذین اذاذکر۔۔۔۔۔۔ ) مسئلہ نمبر : 1۔ والذین اذا ذکر و بایت ربھم جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ اپنی آخرت کو یاد کرتے ہیں اور وہ غافل نہیں ہوتے یہاں تک کہ وہ اس کے قائم مقام ہوجاتے جو سنتا ہی نہیں۔ لم یخروا وہاں کوئی خرور نہیں ہوتا، جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے : قعدیبلی وہ روتا رہا، اگرچہ وہاں بیٹھنا نہیں ہوتا، یہ طبریٰ نے کہا اور اسے پسند کیا۔ ابن عطیہ نے کہا : وہ بہرے اور اندھے گر پڑتے ہیں، یہ کفار کی صفت ہے اس سے مراد ان کا اعراض کرنا ہے یہ تیرے اس قول کے موافق ہے : قعد فلان یشتنی، قام فلان یبی، تو نے اس کے ساتھ قعود ( بیٹھنے) اور قیام (کھڑے ہونا) کی خبر دینے کا قصد نہیں کیا۔ یہ کلام اور عبارت میں تمہید کے طور پر ذکر کیے جاتے ہیں۔ ابن عطیہ نے کہا : ذکر کو سننے والا سیدھے نیزے والا اور سیدھے امر والا ہوتا ہے جب وہ اعراض کرے اور گمراہ ہوجائے تو یہ خرور ہوتا ہے اس سے مراد نظام اور ترتیب کے بغیر گرنا ہے، اسے تشبیہ دی جاتی ہے اس کے ساتھ جو سجدہ کرتے ہوئے گرتا ہے، لیکن اس کی اصل، ترتیب کے برعکس ہوتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں تو وہ سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے گر پڑتے ہیں وہ بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے۔ فراء نے کہا : وہ پہلی حالت پر نہیں بیٹھے رہتے گویا انہوں نے سنا ہی نہ ہو۔ مسئلہ نمبر 2 :۔ بعض علماء نے کہا : جس نے کسی آدمی کو آیت سجدہ تلاوت کرتے ہوئے سنا وہ اس کے ساتھ سجدہ کرے کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو سنا جو اس پر تلاوت کی جا رہی تھیں۔ ابن عربی نے کہا : یہ صرف قاری پر لازم ہے جہاں تک دوسرے افراد کا تعلق ہے ان پر یہ لازم نہیں مگر صرف ایک مسئلہ میں، وہ یہ ہے کہ ایک آدمی جب قرآن کی تلاوت کرے اور آیت سجدہ کی تلاوت کرے اگر اس کے پاس کوئی اس لیے بیٹھا ہوا تھا کہ وہ اس کی تلاوت کو سنے تو اس کے ساتھ سجدہ کرے اگر اس نے سماع کو لازم نہیں کیا تھا تو اس پر کوئی سجدہ نہیں۔ یہ بحث سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔
Ayahs 25:74–77

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور وہ جو (خدا سے) دعا مانگتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے (دل کا چین) اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

ان (صفات کے) لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے اور وہاں فرشتے ان سے دعاو سلام کے ساتھ ملاقات کریں گے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت ہی عمدہ جگہ ہے

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تم (خدا کو) نہیں پکارتے تو میرا پروردگار بھی تمہاری کچھ پروا نہیں کرتا تم نے تکذیب کی ہے تو اسکی سزا (تمہارے لئے) لازم ہوگی

( والذین یقولون۔۔۔۔۔۔ ) وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ ضحاک نے کہا : وہ تیری اطاعت کرتے ہوئے۔ اس آیت میں بچے کی دعا جواز ہے، بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ذریۃ واحد اور جمع ہے، واحد کے لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّـبَۃً ج ( آل عمران : 38) فَھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا۔ ( مریم : 5) جمع کے لیے یہ آیت ہے : ذریۃ صعفا (النسائ : 9) سورة بقرہ میں اس کا اشتقاق مفصل گزر چکا ہے۔ ابن کثیر، ابن عامر اور حضرت حسن بصری نے وذریاتنا قرأت کی ہے۔ ابو عمرو، حمزہ، کسائی، طلحہ اور عیسیٰ نے ذریتنا قرأت کی ہے۔ قرۃ عین مفعول کے طور پر منصوب ہے یعنی ہماری آنکھوں کے لیے ٹھنڈک۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح نبی کریم ﷺ نے حضرت انس ؓ سے فرمایا : اللھم اکثر مالہ ولدہ وبارک لہ فیہ اے اللہ اس کے مال اور اس کی اولاد کو زیادہ کر دے اور اس کے لیے اس میں برکت رکھ دے۔ اس کی وضاحت آل عمران اور سورة مریم میں گزر چکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان کے لیے اس کے مال اور اس کی اولاد میں برکت رکھتی جاتی ہے تو اس کے اہل اور عیال کی وجہ سے اس کی آنکھ ٹھنڈی ہوتی ہے، یہاں تک کہ جب اس کے پاس اس کی بیوی ہو اس بیوی میں اس کی آرزوئیں جمع ہوجاتی ہیں۔ وہ جمال ہو، عفت ہو اور پاک دامنی ہو یا اس کے پاس اولاد ہو جو طاعت پر دوام اختیار کریں، دین اور دنیا کے امور میں اس کے معاون ہوں۔ وہ کسی اور کی بیوی کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی کی اولاد کی طرف متوجہ ہوتا ہے اس کی آنکھ ملاحظہ سے سکون پاتی ہے اس کی آنکھ اس کی طرف ممتد نہیں ہوتی جس کی طرف وہ دیکھتی ہے۔ یہی آنکھ کی ٹھنڈک ہے اور نفس کا سکون ہے۔ قرہ کے لفظ کو واحد ذکر کیا کیونکہ یہ مصدر ہے تو کہتا ہے۔ قرت عینک قرۃ، قرۃ العین کے بارے میں یہ احتمال ہے کہ وہ قرار سے مشتق ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وہ قر سے مشتق ہو، یہ زیادہ مشہور ہے۔ قر کا معنی ٹھنڈک ہے کیونکہ عرب گرمی سے اذیت حاصل کرتے اور ٹھنڈک سے راحت حاصل کرتے نیز خوشی کا آنسو ٹھنڈ اور غم کا آنسو گرم ہوتا ہے، اسی وجہ سے کہا جاتا ہے : اقر اللہ عینک اللہ تعالیٰ تیری آنکھ کو ٹھنڈاکرے اسخن اللہ عین عدوک اللہ تعالیٰ تیرے دشمن کی آنکھ گرم کرے۔ شاعر نے کہا : فکم سخنت بالامس عین قریرہ و قرت عیون دمعھا الیوم ساکب گزشتہ کل میں کتنی ہی ٹھنڈی آنکھیں گرم ہوئیں اور کتنی ہی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں آج جن کے آنسو بہہ رہے ہیں۔ واجلعنا للمتقین اماماً ، امام کا معنی مقتدیٰ ہے جو بھلائی میں ہماری رہنمائی کرتا ہے یہ صرف اس وقت ہوتا ہے جب داعی متقی ہو یہی داعی کا مقصود ہوتا ہے، موطا امام مالک میں ہے : انکم الرھط ائمہ یقتدی بکم اے جماعت ! تم امام ہو تمہاری اقتدا کی جاتی ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ اپنی دعا میں عرض کیا کرتے تھے : اے اللہ ! ہمیں متقین کا امام بنا دے۔ اماما کہا ائمہ نہیں کہا یعنی جمع کا صیغہ ذکر نہیں کیا کیونکہ امام مصدر سے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ام القوم فلان اماما جس طرح صیام اور قیام مصدر ہے۔ بعض نے کہا : ائمہ کا ارادہ کیا جس طرح کوئی کہنے والا کہتا ہے : امیرنا ھولاء یہاں امیر سے مراد امراء ہے۔ شاعرنے کہا : یا عاذلاتی لا تزدن ملا متی ان العواذل لسن لی بامیر اے مجھے ملامت کرنے والیو ! مجھے ملامت کرنے میں اضافہ نہ کرو کیونکہ ملامت کرنے والیاں میری امیر نہیں۔ اس شعر میں امیر، امراء کے معنی میں ہے۔ قشیری ابو القاسم صوفیہ کے شیخ کہا کرتے تھے : امام دعا کے ساتھ ہوتی ہے دعویٰ کے ساتھ نہیں ہوتی یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی جانب سے آسان کرنے اور اس کے احسان کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ جو انسان اپنے لیے اس کا دعویٰ کرے۔ حضرت ابراہیم نخعی نے کہا : انہوں نے ریاست کو طلب نہیں کیا بلکہ وہ دین میں مقتدی تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ہمیں ہدایت کے ائمہ بنا دے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَ جَعَلْنٰـہُمْ اَئِمَّۃً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا “ ( الانبیائ : 37) محکول نے کہا : تقویٰ میں ہمیں امام بنا دے متقی ہماری اقتدار کریں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کلام قلب سے تعلق رکھتی ہے اس کا مجاز ہے : راجعل المتقین لنا اماما : یہ مجاہد کا قول ہے، پہلا قول زیادہ نمایاں ہے۔ حضرت ابن عباس اور مکحول کا قول بھی اسی طرف راجع ہے۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ دین میں سرداری طلب کرنا مستحب ہے اما ما لفظ کے اعتبار سے واحد ہے اور جمع یہ دلالت کرتا ہے کیونکہ یہ مصدر ہے جس طرح قیام ہے۔ اخفش نے کہا : امام، ام کی جمع ہے ام یوم سے مشتق ہے یہ فعال کی جمع ہے جس طرح صاحب کی صحاب اور قائم کی جمع قیام ہے۔ اولیک یجزون الغرفۃ بما صبروا اولیک، و عباد الرحمن کی خبر ہے : یہ زجا ج کا قول ہے جیسے پہلے گزر چکا ہے اس بارے میں جو بھی قول کیے گئے ہیں ان میں سے سب سے اچھا قول ہے، مبتداء اور خبر میں جو کچھ ہے وہ ایسے اوصاف ہیں جن سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا اور جن سے اپنے آپ کو پاک کرنا ہے وہ گیارہ اوصاف ہیں (1) تواضع (2) حلم (3) تہجد (4) خوف (5) اسراف اور اقتار کو ترک کرنا (6) شرک، زنا اور قتل سے بچنا (7) توبہ کرنا (8) جھوٹ سے اجتناب کرنا (9) زیادتی کرنے والے کو معاف کرنا (10) نصیحتوں کو قبول کرنا (11) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آہ زاری کرنا۔ الغرفۃ بلند درجہ۔ یہ جنت کی منازل میں سے سب سے بلند درجہ ہے اور سب سے افضل درجہ ہے جس طرح بالا خانہ دنیا کے مسکینوں میں سے سب سے اعلیٰ مسکن ہے : ابن شجرہ نے یہ بیان کیا ہے۔ ضحاک نے کہا : غرقۃ سے مراد جنت ہے بما صبروا اپنے رب کے حکم پر صبر کرنے کے باعث اور اپنے نبی کی طاعت کے باعث۔ محمد بن علی بن حسین نے کہا : انہوں نے دنیا میں فقر وفاقہ پر جو صبر کیا اسی کے باعث۔ ضحاک نے کہا : انہوں نے شہوات پر جو صبر کیا۔ ویلقون فیھا تحیۃ وسلم ا، ابو بکر، مفضل، اعمش، یحییٰ ، حمزہ، کسائی اور خلف نے ویلقون تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، فراء نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ عرب کہتے ہیں : فلان یتلقی بالسلام و بالتحیۃ وبالخیر وہ بہت کم فلان یلقی بالسلامۃ کہتے ہیں باق قراء نے ویلقون پڑھا ہے : اسے ابو عبید اور ابو حاتم نے پسند کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولقھم نضرۃ وسرورا۔ ( الانسان) ابو جعفر نحاس نے کہا : فراء جس طرف گئے ہیں اور جسے اختیار کیا وہ ہے غلط ہے کیونکہ وہ یہ گمان کرتے ہیں اگر یہ یلقون ہو تو لغت عرب میں یہ تحیۃ اور اسلام کے لیے ہوتا ہے انہوں نے کہا جس طرح قول کیا جاتا ہے : فلان یتلقی بالسلام و بالخیر اس باب میں جو کچھ انہوں نے کہا وہ عجیب و غریب ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں : یتلقی جب کہ آیت یلقون ہے دونوں میں فرق واضح ہے کیونکہ جملہ کہا جاتا ہے : فلان یتلقی بالخیر، باء کا حذف جائز نہیں تو یہ اس کے مشابہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ اس سے بڑھ کر تعجب کی بات یہ ہے کہ قرآن حکیم میں ولقھم نضرۃ وسرورا۔ ہے اسے کسی اور لفظ کے ساتھ پڑھنا جائز نہیں۔ یہ امر کی وضاحت کرتا ہے کہ اولیٰ اس کے برعکس ہے جو انہوں نے کہا تحیۃ، اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور سلام ملائکہ کی جانب سے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تحیۃ سے مراد دائمی بقاء اور ملک عظیم ہے۔ اظہر یہ ہے کہ دونوں ایک ہی معنی میں ہیں اور دونوں اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ” تَحِیَّتُہُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَہٗ سَلٰمٌ ج “ (الاحزاب : 44) خلدین حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے فیھا حسنت مستقرا ومقاما۔ قل ما یعبوا لکم ربی لولا دعائو کم یہ مشکل آیت ہے۔ ملحدہ نے اس سے استدلال کیا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ما عبات لفلان میں نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی، یعنی اس کا میرے ہاں کوئی وزن، کوئی قدر نہ تھی۔ یعما کی اصل عما ہے جس کا معنی بوجھ ہے۔ شاعر کا قول ہے : کان بصدرہ وبجانبیہ عبیرا باک یعبوہ عروس وہ بعض کو بعض پر رکھتا ہے، عبا کا معنی بھاری بوجھ ہے اس کی جمع اعباء ہے۔ عبا مصدر ہے ما استفہامیہ ہے زجاج کے کلام کے بیچ میں یہ ظاہر ہوا اور فراء نے اس کی تصریح بیان کی۔ یہ کوئی بعید نہیں کہ وہ نافید ہو کیونکہ جب تو نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ استفہام ہے تو یہ نفی ہے جو استفہام کی جگہ واقع ہوا ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” ھل جزاء الاحسان الا الاحسان۔ “ ( الرحمن) ابن شجری نے کہا : میرے نزدیک قول کی حقیقت یہ ہے کہ ما محل نصب میں ہے : تقدیر کلام یہ ہوگی : ای عب یعبابکم وہ کیسی پرواہ ہے جو میرا رب تمہارے بارے میں کرے اگر اس کی تمہیں دعوت نہ کہ تم اس کی عبادت کرو، اس قول کی بناء پر مصدر اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے : یہ فراء کا پسندیدہ قول ہے اس کا فاعل مخدوف ہے اور لولا کا جواب مخدوف ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مخدوف ہے :” وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰناً سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ “ (الرعد : 31) اس کی تقدیر ہوگی لم یعباکم۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔ “ ( الذاریات) خطاب تمام لوگوں کو ہے گویا ان میں سے قریش سے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہاری کیا پرواہ کرے گا اگر تم نے اس کی عبادت نہ کی ہوگی، یہی تو وہ امر ہے جس کی وجہ اللہ تعالیٰ انسان کی پرواہ کرتا۔ ابن زبیر اور دوسروں کی قرأت اس کی تائید کرتی ہے۔ فقد کذبتم تمام لوگوں کو اس چیز کے ساتھ خطاب ہے جس کی اللہ تعالیٰ پرواہ کرتا ہے پھر قریش سے فرماتا ہے : تم نے جھٹلایا اور تم نے اس کی عبادت نہ کی عنقریب یہی تکذیب دائمی عذاب کا سبب ہوگی۔ نقاش اور دوسرے علماء نے کہا : معنی ہے اگر مشکلات میں تم اس کی بارگاہ میں مدد طلب نہ کرتے، اس کی وضاحت ہے : ” فَاِذَا رَکِبُوْا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللہ مُخْلِصِینَ “ ( العنکبوت : 65 ) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے تمہارے گناہ بخشنے کا کیا مسئلہ تھا اور نہ ہی وہ امر جو اس کے نزدیک عظیم تھا : لولا دعاو کم اگر اس کے ساتھ معبودوں اور شرکاء کی عبادت نہ ہوتی۔ اس کی وضاحت اس آیت میں ہے :” مَا یَفْعَلُ اللہ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ط “ (النسا : 147) یہ ضحاک کا قول ہے۔ ولید بن ابی الولید نے کہا : مجھے اس آیت کے بارے میں یہ تعبیر پہنچتی ہے میں نے تمہیں پیدا کیا اور نہ ہی مجھے تم سے کوئی غرض تھی مگر یہ کہ تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمہیں بخش دوں اور تمہیں عطاء کر دوں۔ وہب بن منبہ نے روایت بیان کی ہے کہ تورات میں ہے : اے انسان ! میری عزت کی قسم میں نے تجھے پیدار نہیں کیا کہ میں تجھ سے نفع حاصل کروں میں نے تجھے اس لیے پیدا کیا ہے کہ تو مجھ سے نفع حاصل کرے ہر شے کا بدل مجھ سے لے میں ہر چیز سے تیرے لیے بہتر ہوں۔ ابن جنبی نے کہا : حضرت ابن زبیر اور حضرت ابن عباس ؓ نے یوں قرأت کی : فقد کذب الکافرون زاہروی اور نحاس نے کہا : یہ حضرت ابن مسعود کی قرأت ہے اور یہ تفسیر کے اسلوب میں ہے جو کذبتم میں تاء اور میم کی تفسیر ہے۔ قتبی اور فارسی اس طرف گئے ہیں کہ دعا عافل کی طرف مضاف ہے اور مفعول مخدوف ہے۔ اصل کلام یہ ہے لولا دعاء کم آلھۃ من دونہ، لولا کا جواب محذوف ہے اس صورت میں تقدیر ہوگئی : لم یعذبکم۔ لولا دعاء کم آلھۃ کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ “ (الاعراف : 194) فقد کذبتم جس امر کی تمہیں دعوت دی گئی اس کو تم نے جھٹلایا، یہ پہلے قول کی بناء پر ہے۔ اور دوسرے قول کی بناء پر یہ ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی واحدنیت کو جھٹلایا۔ فسوف یکون لزاماً یعنی تمہاری تکذیب تم کو لازم ہوگی۔ معنی ہے عنقریب تکذیب کی جزاء ہوگی۔ جس طرح فرمایا :” ووجدوا ما عملوا حاضرا “ (الکہف : 49) انہوں نے جو کچھ کیا اس کی جزاء کو حاضرپایا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون۔ “ (الانفال) یعنی تم نے جو کفر کیا اس کی جزا چکھو۔ تکذیب کو مضمر کرنا اچھا ہے کیونکہ اس کا فعل پہلے مذکور ہوچکا ہے کیونکہ جب تو فعل کا ذکر کرے گا تو وہ اپنے لفظ کے ساتھ مصدر پر دال ہوگا۔ جس طرح فرمایا :” وَلَوْ اٰمَنَ اَہْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَیْرًا لَّہُم ْط “ (آل عمران : 110) یہاں ایمان محذوف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَاِنْ تَشْکُرُوْا یَرْضَہُ لَکُمْ “ (الزمر : 7) یہاں یرضی کا فاعل الشکر ہے۔ اس کی بےشمارمثلہ ہیں۔ جمہورمفسرین کی رائے یہ ہے کہ یہاں لزامر سے مراد وہ ہے جو غزوہ بدر کے موقع پر ان پر مصیبت نازل ہوئی : یہ حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت ابی بن کعب، ابو مالک، مجاہد، مقاتل وغیرہ کا قول ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ سے روایت مروی ہے : بطشہ، دخان اور لزام گزر چکا۔ سورة خان میں اس کی مفصل وضاحت آئے گی ان شاء اللہ۔ ایک جماعت نے کہا : عذاب آخرت کی دھمکی ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے یہ بھی مروی ہے : لزام سے مراد جھٹلانا ہی ہے۔ یعنی اس سے توبہ کا انہیں موقع نہ دیا جائے گا۔ زہراوی نے اس کا ذکر کیا ہے (1) اس میں یوم بدر اور دوسرے عذاب داخل ہوجاتے ہیں جو ان کو لازم ہوں گے۔ ابو عبیدہ نے کہا : لزام سے مراد فیصلہ ہے یعنی عنقریب تمہارے مومنوں کے درمیان فیصلہ ہوگا۔ جمہور قراء لام کو کسرہ دیتے ہیں، ابو عبیدہ نے صخر کا یہ شعر پڑھا ہے : فاما ینجوا من خسف ارض فقد لقیا حتوفھما لزاما اگر وہ دونوں زمین کے دھنسنے سے نجات پا گئے ہیں تحقیق ان دونوں نے اپنی موتوں کو فیصلہ کن دیکھا ہے۔ لزاما اور ملازمہ دونوں ایک ہیں۔ طبری نے کہا : لزاما سے مراد ایسا عذاب ہے جو دائمی اور لازم ہے اور ایسی ہلاکت ہے جو فنا کرنے والی ہے جو تم ایک دوسرے کو لاحق کرتے ہو، جس طرح ابو ذئویب کا قول ہے : ففاجاہ بعادیۃ لزام کما یتفجر الحوض اللقیت اسے اچانک اس قول نے آ لیا جو اپنے قدموں پر دوڑتی ہے اور ایک دوسرے کو لا حق کرتی ہے جس طرح وہ حوض بہہ پڑتا ہے جس کے پتھر ٹوٹ جائیں۔ لزام سے مراد جس کا بعض بعض کی پیروی کرے۔ لقیف سے مراد جسکے پتھر ٹوٹ کر گر جائیں۔ نحاس نے کہا : ابو حاتم نے ابو زید سے کہا میں نے قغب ابو سمال کو پڑھتے ہوئے سنا : لزاما یعنی لام کو فتحہ دیا۔ ابو جعفر نے کہا : یہ لزمکا مصدر ہوگا اور کسرہ اولی ہے : یہ قتال اور مقاتلہ کی مثل ہے جس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں لام کے کسرہ پر اجماع کیا ہے : ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لگان لزاماوا اجل فسی۔ “ (طہٰ ) دوسرے علماء نے کہا : (1 ؎۔ المحرر الوجیز۔۔ ) لزام فتحہ کے ساتھ یہ لزم کا مصدر ہے جس طرح سلم سلاما ہے سلام سلامتی کے معنی میں ہے لزام فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی لزوم ہے اور لزام کا معنی ملازمت ہے، دونوں قرائتوں میں مصدر، اسم فاعل کی جگہ واقع ہے لزام، ملازم کی جگہ واقع ہے اور لزام لازم کی جگہ واقع ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُکُمْ غَوْرًا “ (ملک : 30) اس میں غورا، غائر کے معنی میں ہے۔ نحاس نے کہا : یکون کے اسم میں فراء کا قول ہے، کہا : وہ مجہول ہوگا۔ یہ قول غلط ہے، کیونکہ مجہول کی خبر جملہ ہی ہوتی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” انہ من یتق و یصبر “ ( یوسف : 90) جس طرح نحویوں نے کہا : کان زید منطلق کان میں اسم مجہول ہوگا مبتداء اور خبر مجہول کی خبر ہوگی، تقدیر کلام یہ ہوگی کان الحدیث فاما ان یقال کان منطلقا کان میں اسم مجہول ہوگا۔ کسی ایک کو بھی ہم نہیں جانتے جس کے نزدیک یہ جائز ہو۔ اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے، اسی سے مدد طلب کی جاتی ہے، تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو رب العالمین ہے۔