25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 25:49

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تاکہ اس سے شہر مردہ (یعنی زمین افتادہ) کو زندہ کردیں اور پھر ہم اسے بہت سے چوپایوں اور آدمیوں کو جو ہم نے پیدا کیے ہیں پلاتے ہیں

( لنحی بہ بلدۃ۔۔۔۔۔۔ ) لنجی بہ، ہ ضمیر سے مراد بارش ہے۔ بلدۃ میتا وہ بستی خشک سالی اور نباتات کے نہ ہونے کی وجہ سے مردہ ہوچکی ہو۔ 1 ؎۔ سنن ابن دائود، باب الماء یا یجنب، حدیث نمبر 62، ابن ماجہ، باب الرخصۃ بفضل وضوء المراۃ، حدیث نمبر 363، ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔ 2 ؎۔ سنن ابن ماجہ، باب الوضو بسوزالھرۃ، حدیث نمبر 361، ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔ 3 ؎۔ سنن ابن ماجہ، باب النھی عن ذلک، حدیث نمبر 366، سنن ابی دائود، باب النھی عن ذلک، حدیث 75۔ سنن ترمذی، حدیث نمبر 59۔ 58، ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔ 4 ؎۔ سنن ترمذی، حدیث نمبر 58، ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔ کعب نے کہا : بارش زمین کی روح ہے اللہ تعالیٰ اسے بارش کے ساتھ زندہ کرتا ہے۔ میتا فرمایا، میتہ نہیں فرمایا، کیونکہ بلدۃ اور بلد کا معنی ایک ہی ہے، یہ زجاج کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بلد سے مراد مکان ہے۔ ونسقیہ، عام قرأت نون کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ ، اعمش اور عاصم جو مفضل نے ان دونوں سے قرأت نقل کی ہے وہ نسقیہ ہے اس میں نون مفتوح ہے۔ مما خلقنا انعاما وانا سی کثیرا بہت زیادہ انسان۔ اناسی کا واحد انسی ہے جس طرح قرقور کی جمع قراقیر اور قراقر ہے، یہ اخفش، مبرد اور فراء کا ایک قول ہے۔ اس کا ایک قول یہ بھی ہے کہ اس کی واحد انسان ہے پھر نون کو یاء سے بدل دیا تو کہے گا : اناسی، اصل میں یہ اناسین تھا جس طرح سرحان اور سراحین اور بستان کی جمع بساتین ہے انہوں نے یاء کو نون کا عوض قرار دیا ہے، اسی وجہ س سراحی اور بساتی بھی جائز ہے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ فراء نے کہا : اناسی یاء کی تخفیف کے ساتھ جو فعل کے لام اور عین کلمہ کے درمیان ہے جس طرح قراقیر اور قراقر ہے۔ کثیرا فرمایا کثیرین نہیں فرمایا، کیونکہ فعیل سے بعض اوقات کثرت مراد نہیں ہوتی ہے جس طرح اس ارشاد میں ہے :” وحسن اولیک رفیقا۔ “ ( النسائ)
Ayah 25:50

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور ہم نے اس (قرآن کی آیتوں) کو طرح طرح کے لوگوں میں بیان کیا تاکہ نصیحت پکڑیں مگر بہت سے لوگوں نے انکار کے سوا قبول نہ کیا

( ولقد صرفنہ۔۔۔۔۔ ) ولقد صرفنہ بینھم، ضمیر سے مراد قرآن ہے، سورت کے آغاز میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” تبرک الذی نزل الفرقان “ اللہ تعالیٰ کا فرما ہے ” لقد ضلنی عن الذکر بعد اذجاءنی “ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’ ’ اتخذ ھذا القرآن مجھورا۔ “ لیذکروا فابی اکثر الناس الا کفورا۔ کفورا یعنی اس کا انکار کرتے ہوئے اور اسے جھٹلاتے ہوئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ولقد صرفنہ بینھم میں ہ ضمیر سے مراد بارش ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے : کوئی ایسا سال نہیں جو کسی سال کی بنسبت زیادہ بارش والا ہو لیکن اللہ تعالیٰ اسے جہاں چاہتا ہے پھیر دیتا ہے کسی علاقہ کے لوگوں پر بارش زیادہ ہورہی ہوتی ہے کسی علاقہ میں وہ کم ہو رہی ہوتی ہے۔ تصریف کا یہی معنی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : صرفنہ بینھم اسے وابل، طش، طل اور رہام کی صورت میں پھیر دیا۔ جو یری نے کہا : رہام سے مراد ہلکی بارش ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تصریف سے مراد اس کے ذریعے مختلف منافع دینا ہے جیسے پانی پینا، سیراب کرنا، اس کے ذریعے کاشت کرنا، پاکیزگی حاصل کرنا، باغوں کو سیراب کرنا، غسل کرنا وغیرہ۔ عکرمہ نے کہا : فابی اکثر الناس الا کفورا سے مراد ان کا ستاروں کے بارے میں یہ کہنا ہے : فلاں ستارے کی وجہ سے ہمارے اوپر بارش ہوئی۔ نحاس نے کہا : ہم مفسرین میں کوئی اختلاف نہیں پاتے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہاں کفر سے مراد ان کا یہ کہنا ہے : ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی، اس کی مثل، ان کا یہ قول ہے : فعل النجم کذا ستارے نے ایسا کیا۔ جو آدمی بھی ستارے کی طرف کسی فعل کو منسوب کرے تو وہ کافر ہے۔ حضرت ربیع بن صبیح نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک رات لوگوں پر بارش ہوئی جب صبح ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” اس میں لوگ دو حصوں میں بٹ گئے ہیں شکر گزار اور نا شکرے جہاں تک شکر گزار کا تعلق ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہے کہ اس نے اسے سیراب کیا اور اس پر بارش کی۔ جہاں تک کافر کا تعلق ہے تو وہ کہتا ہے : ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش کی گئی “۔ اس کی صحت پر اتفاق ہے اور سورة واقعہ میں انشاء اللہ یہ روایت آئے گی۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے فرمایا : ما من سنۃ بامطر من اخری ولکن اذا عمل قوما بالمعاصی صرف اللہ ذلک الی الفیا فی والبحار کوئی سال دوسرے سال کی بنسبت زیادہ بارش والا نہیں ہوتا لیکن جب کوئی قوم نافرمانیاں کرتی ہے اللہ تعالیٰ اس بارش کو دوسروں کی طرف پھیر دیتا ہے جب سب لوگ نافرمانیاں کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بارش کو جنگلوں اور سمندروں کی طرف پھیر دیتا ہے “۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے تصریف یہ ہوا کی طرح راجع ہے سورة بقرہ میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ حمزہ اور کسائی نے لیذکروا تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے یہ ذکر سے مشتق ہے باقی قراء نے تذکر سے تثقیل کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کریں اور یہ جان لیں کہ جو اس پر انعام کرے اس کے ساتھ شرک کرنا جائز نہیں تذکر، ذکر کے قریب ہے مگر تذکر کا اطلاق اس چیز پر ہوتا ہے جو دل سے دور ہو تو اسے تذکر میں تکلیف کی ضرورت ہوتی ہے۔
Ayahs 25:51–52

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ڈرانے والا بھیج دیتے

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

تو تم کافروں کا کہا نہ مانو اور ان سے اس (قرآن) کے حکم کے مطابق بڑے شدو مد سے لڑو

(ولو شئنا۔۔۔۔۔۔ ) ولوشئنا لبعثنا فی کل قریۃ نذیرا۔ نذیر سے مراد رسول ہے یعنی اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک رسول بھیج دیتے جو انہیں ڈرائے جس طرح ہم نے بارش کو تقسیم کیا تاکہ آپ سے نبوت کے بوجھ کم ہوجائیں لیکن ہم نے ایسا نہ کیا بلکہ ہم نے آپ کو سب کے لیے نذیر بنایا تاکہ تیرا درجہ بلند ہوجائے پس اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر بجائو لائو۔ فلا تطع الکفرین کفار آپ کو اپنے بتوں کی اتباع کی جو دعوت دیتے ہیں اس میں کافروں کی اطاعت نہ کرو۔ وجاھد ھم بہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ہ ضمیر سے مراد قرآن ہے۔ ابن زید نے کہا : مراد اسلام ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد تلوار ہے، یہ قول حقیقت سے بعید ہے، کیونکہ سورت مکی ہے اور قتال کے حکم سے پہلے نازل ہوئی۔ جھاد کبیرا یعنی ایسا جہاد جس میں سستی اور کاہل کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔
Ayah 25:53

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا اور دوسرے کا کھاری چھاتی جلانے والا اور دونوں کے درمیان ایک آڑ اور مضبوط اوٹ بنادی

(وھو الذی مرج البحرین۔۔۔۔۔ وھو الذی مرج البحرین کلام نعم کے ذکر کی طرف راجع ہے مرج کا کا معنی تخلیہ، خلط ملط کرنا اور بھیجنا ہے۔ مجاہد نے کہا : دونوں کو بھیجا اور ایک دو سے میں بہایا ہے۔ ابن عرفہ نے کہا : مرج البحرین دونوں کو خلط ملط کردیا پس دونوں آپس میں مل جاتے ہیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : مرجتہ جب تو اسے خلط ملط کر دے۔ مرج الدین والا مردین اور امر خلط ملط ہوجائے اور مضطرب ہوجائے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فی امر مریج۔ ( ق) اسی معنی میں رسول اللہ ﷺ کا حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص کو فرمان ہے : اذا رایت الناس مرجت عھودھم وخفت اما ناتھم وکانوا ھکذا وھکذا (1) جب تو لوگوں کو دیکھے کہ ان کے عہد و پیمان خلط ملط ہوجائیں اور ان کی امانتیں ہلکی ہوجائیں اور وہ اس طرح گڈ مڈ ہوجائیں آپ نے انگلیوں کا جال بنایا، میں نے عرض کی : میں اس وقت کیا کروں۔ اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے۔ فرمایا : الزمر بیتک واملک علیک لسانک و خدبما تعرف ودع ماتنکرو و علیک بخاصۃ امر نفسک ودع عنک امر العامۃ اپنے گھر میں ہی رہو۔ اپنی زبان کو قابو میں رکھو جسے پہچانتے ہو وہ لے لو اور جس سے تو ناواقف ہے اس کو چھوڑ دو اپنے ذاتی امر کو اپنے اوپر لازم کر و اور عام لوگوں کے امور کو ترک کر دو ۔ امام نسائی، ابو دائود اور دو سے مدثین نے اسے نقل کیا ہے۔ ازہری نے کہا : مرج البحرین سے مراد ہے دونوں میں آڑ بنا دی۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : مرجت الدابۃ۔ جب تو جانور کو چرنے کے لیے چھوڑ دے۔ ثعلب نے کہا : مرج کا معنی کرنا ہے۔ مرج البحرین کا معنی ہے دونوں کو جاری کیا۔ اخفش نے کہا : ایک قوم کہتی ہے : امرج البحرین یہ مرج کی طرح ہے فعل اور افعل کا باب ایک ہی معنی میں ہے۔ ھذا عذاب قرات یہ بہت ہی میٹھا ہے وھذاملح اجاج اور بہت ہی نمکین اور کڑوا ہے۔ حضرت طلحہ سے یہ مروی ہے کہ اسے وھذا ملیح بھی پڑھا گیا ہے یعنی میم پر فتحہ اور لام کے نیچے کسرہ ہے۔ وجعل بینھما برز خا یعنی ان دونوں کے درمیان اپنی قدرت سے رکاوٹ بنا دی ان میں سے ایک دوسرے پر غالب نہیں آتا، جس طرح سورة رحمن میں فرمایا : مرج البحرین یلتقین۔ بینھما برزخ لا یبعین۔ ( الرحمن) وحجر محجورا مضبوط پر وہ ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ اختلاط سے روکتا ہے، برزخ سے مرد رکاوٹ اور حجر سے مراد روکنے والا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : مراد بحر فارس اور بحر روم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ابن جبیر نے کہا : مراد آسمان اور زمین کا سمندر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ ہر سال میں ملتے ہیں اور ان کے درمیان اس کی قضاء کا پردہ حائل ہے۔ ان پر قطعی حرام ہے کہ یہ اپنی مٹھاس کے ذریعہ اس نمکین کو میٹھا کر دے اور اس میٹھے کو نمکین کے ساتھ نمکین کر دے۔ 1 ؎۔ سنن ابی دائود، باب الامر والنھی، حدیث نمبر 3739، ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔
Ayah 25:54

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا پھر اس کو صاحب نسب اور صاحب قرابت دامادی بنایا اور تمہارا پروردگار (ہر طرح کی) قدرت رکھتا ہے

(وھو الذی خلق۔۔۔۔۔۔ ) مسئلہ نمبر 1 :۔ وھو الذی خلق من الماء بشر یعنی نطفہ سے انسان کو پیدا کیا۔ فجلہ نسبتا و صھرا، ہ ضمیر سے مراد انسان ہے یعنی انسان کو نسب اور سسرال والا بنا دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : من الماء سے خلقت کی اصل کی طرف اشارہ ہے کہ یہ زندہ پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ اس آیت میں ان نعمتوں کا شمار ہے جو اس کے عدم کے بعد اس کے ایجاد کی صورت میں کی گئیں اور اس میں عبرت پر تنبیہ ہے۔ مسئلہ نمبر 2 :۔ فجلہ نسبا و صھرتا نسب اور صہر دو ایسے معانی ہیں جو ہر رشتہ کو عام ہیں جو دو آدمیوں کے درمیان موجودہوتے ہیں۔ ابن عربی نے کہا : نسب سے مراد مذکر اور مؤنث کے پانی کا شرعی طریقہ سے خلط ملط ہونا ہے۔ اگر وہ ملاپ معصیت کی صورت میں ہو تو وہ مطلق خلق ہوگا وہ محقق نسب نہ ہوگا، اسی وجہ سے زنا سے جنم لینے والی بیٹی حرمت علیکم امھتکم وبنتکم ( النسائ : 23) کے تحت داخل نہ ہوگی، کیونکہ ہمارے علماء کے دو قولوں میں سے اصح قول کے نزدیک اور دین میں دو قولوں میں سے اصح قول کے نزدیک بیٹی نہیں۔ جب وہ شرعی طور پر نسب نہیں تو وہ شرعی طور پر صہر بھی نہیں تو فعل زنا بنت ام ( ماں کی بیٹی) اور ام بنت ( بیٹی کی ماں) کو حرام نہ کرے گی جو چیز حلال فعل سے حرام ہوتی ہے وہ حرام فعل سے حرام نہ ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر نسب اور صہر کے ساتھ احسان جتلایا ہے ان کی قدر و منزلت کو بلند کیا ہے حلت اور حرمت میں ان دونوں پر احکام کو متعلق کیا ہے تو باطل کو ان دونوں کے ساتھ لا حق نہ کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے ہم پلہ قرار دیا جائے گا۔ میں کہتا ہوں : کسی بھی مرد کے اپنے زنا سے پیدا ہونے والی بیٹی، اس کی بہن، اور زنا سے جنم لینے والی پوتی سے نکاح میں اختلاف کیا گیا ہے، ایک قوم نے اسے حرام کہا ہے، ان میں حضرت ابن قاسم ہیں، یہ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا قول ہے۔ فقہاء میں سے دوسروں نے اسے جائز قرار دیا ہے ان میں عبد الملک بن ماجشون ہیں، یہی امام شافعی کا قول ہے۔ سورة النساء میں یہ بحث مفصل گزر چکی ہے۔ فراء نے کہا : نسب سے مراد ہے جس کے ساتھ نکاح حلال نہ ہو اور صبر سے مراد ہے جس کے ساتھ نکاح حلال ہو، یہ زجاج کا قول ہے، یہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ کا قول ہے۔ صھر کا اشتقاق صھرت الثی سے ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے جب تو اسے خلط ملط کر دے دونوں صہروں میں سے ہر ایک اپنے صاحب سے خلط ملط ہوگیا۔ مناکح کو صبر کہتے ہیں کیونکہ اس کے ساتھ لوگ خلط ملط ہوجاتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : صبر سے مراد نکاح کی قرابت ہے زوجہ کی قرابت اختان ہیں اور خاوند کی قرابت سسرال ہیں۔ اصبہار کا لفظ ان سب پر واقع ہوتا ہے، یہ اصمی کا قول ہے۔ اختان سے مراد بیوی کا باپ، اس کا بھائی اور اس کا چچا ہے جس طرح اصمعی نے کہا : صہر سے مراد مرد کی بیٹی کا خاوند اس کا بھائی اس کا والد اور اس کا چچا ہے۔ محمد بن حسن نے ابو سلیمان جو زجانی کی روایت میں کہا : مرد کے اختان سے مراد اس کی بیٹیوں کے خاوند، اس کی بہنوں کے خاوند، اس کی پھوپھیوں کے خاوند اور اس کے خالائوں کے خاوند ہیں اسی طرح ہر ذی رحم محرم کے خاوند ہیں اور اصبہار سے مراد ان کی بیوی کے ذی رحم محرم رشتہ دار ہیں۔ نحاس نے کہا : بہتر یہ ہے کہ اصہار میں وہ قول کیا جائے جو اصمعی نے کیا ہے ان سب سے قبل جو قول کیا گیا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : صھرت الثی یعنی تو نے اسے خلط ملط کیا۔ میاں بیوی میں سے ہر ایک دوسرے سے خلط ملط ہوجاتا ہے۔ اختان میں وہ قول بہتر ہے جو محمد بن حسین نے کیا ہے یہ دو وجوہ سے بہتر ہے (1) حدیث مرفوع ہے محمد بن اسحاق، یزید بن عبد اللہ بن قسیط سے وہ محمد بن اسامہ بن زید سے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اما انت یاعلی فختنی و ابو ولدی وانت منی وانا منک یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بیٹی کا خاوند ختن ہے دوسری صورت میں یہ ختن کا اشتقاق ” ختنہ “ ہے جب وہ اسے کاٹے گویا خاوند اپنے اہل سے کٹ گیا اور اپنی بیوی کے اس کے اہل سے کاٹ دیا۔ ضحاک نے کہا : صہر سے مراد رضاعت ( دودھ پینا) کی قرابت ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : میرے نزدیک یہ وہم ہے اس وہم کو حضرت ابن عباس کے قول نے ثابت کیا ہے۔ فرمایا : نسب سے سات چیزیں حرام ہیں اور صہر سے پانچ رشتے حرام ہیں۔ ایک دوسری روایت میں ہے : صہر سے سات رشتے حرام ہیں اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّھٰتُکُمْ وَبَنٰـتُکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ وَعَمّٰتُکُمْ وَخٰلٰـتُکُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْت “ ( النسائ : 23) تم پر تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، تمہاری بھتیجیاں اور تمہاری بھانجیاں حرام کردی گئی ہیں، یہی نسب ہے، پھر صہر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا ارادہ کیا ہے :” وَاُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوٰ تُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَاُمَّھٰتُ نِسَآئِکُمْ وَرَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّز فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دخَلْتُمْ بِھِنَّ فَـلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْز وَحَـلَآئِلُ اَبْـنَـآئِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْلا وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْن ِ اِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَط اِنَّ اللہ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ “ (النسا : 23) پھر محصنات کا ذکر کیا اس کلام کا محل یہ ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے صہر سے ان حرمتوں کا ارادہ کیا جو اس کے ساتھ مذکور ہیں اور جو ذکر کیا گیا ان میں سے اکثر کی طرف اشارہ کیا وہ صہر ہے نہ کہ یہ ارادہ کیا کہ رضاع صہر ہے رضاع تو نسب کا ہم پلہ ہے اس کے ساتھ وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کے ساتھ حرام ہوجاتے ہیں کیونکہ اس بارے میں حدیث ماثور موجود ہے۔ جس نے یہ روایت کی کہ صہر سے پانچ رشتے حرام ہوتے ہیں اس نے دونوں آیتوں سے دو بہنوں اور محصنات یعنی خاوندوں والی عورتوں کو خارج کیا۔ میں کہتا ہوں : ابن عطیہ نے رصناع کو نسب قرار دیا ہے جس طرح پہلے گزرا ہے : یہ زجاج کا قول ہے۔ ابو اسحاق نے کہا : نسب صبر نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَاُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوٰ تُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَاُمَّھٰتُ نِسَآئِکُمْ وَرَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّز فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دخَلْتُمْ بِھِنَّ فَـلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْز وَحَـلَآئِلُ اَبْـنَـآئِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْلا وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ “ صبر تو وہ ہوتا ہے جس میں ازدواج کا رشتہ ہو۔ ابن عطیہ نے کہا : زہراوی نے ایک قول کی حکایت بیان کی ہے کہ نسب بیٹوں کی جانب سے ہوتا ہے اور صہر بیٹیوں کی جانب سے ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں : نحاس نے اس قول کو ذکر کیا ہے اور کہا : مصاہرت دونوں جہتوں سے ہوتی ہے۔ ابن سیرین نے کہا : یہ آیت نبی کریم ﷺ اور حضرت علی ؓ شیراخدا کے بارے میں نازل ہوئی، کیونکہ حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ کو نسب اور صہر میں جمع کیا۔ ابن عطیہ نے کہا : ان دونوں کا اجتماع قیامت تک حرمت کی تاکید ہے۔ وکان ربک قدیرا یعنی جس کا ارادہ کرتا ہے اسے پیدا فرما دیتا ہے۔
Ayah 25:55

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کی پرستش کرتے ہیں کہ جو نہ انکو فائدہ پہنچا سکے اور نہ ضرر اور کافر اپنے پروردگار کی مخالفت میں بڑا زور مارتا ہے

( ویعبدون۔۔۔۔۔ ) ویعبدون من دون اللہ مالا یفعھم ولا یضرھم جب اللہ تعالیٰ نے نعمتوں کو بیان کیا اور اپنی کمال قدرت کو بیان کیا تو مشرکین پر تعجب کا اظہار کیا کہ وہ اس ذات کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو نفع اور نقصان پر قادر نہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے ہی مذکورہ چیزوں کو پیدا کیا پھر یہ جہلاء اپنی جہالت کی وجہ سے ایسے جمادات کی عبادت کرتے ہیں جو نفع اور نقصان نہیں دیتے۔ وکان الکافر علی ربہ ظھیرا حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : یہاں کافر سے مراد ابو جہل ہے ( اللہ تعالیٰ کی اس پر لعنت ہو) اس کی وضاحت یہ ہے کہ وہ بتوں کی عبادت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے خلاف مدد طلب کرتا ہے۔ عکرمہ نے کہا : کافر سے مراد ابلیس ہے اس نے اپنے رب کی عداوت کو ظاہر کردیا ہے۔ مطرف نے کہا : یہاں کافر سے مراد شیطان ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : ظہیر سے مراد معاصی پر شیطان کا مددگار ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے کافر اپنے رب پر آسان اور ذلیل ہے اس کی کوئی قدرت نہیں اور نہ ہی اس کی بارگاہ میں اس کا کوئی وزن ہے۔ عربوں کا قول ہے : ظھرت بہ یعنی تو نے اسے اپنی پشت کے پیچھے کردیا اور تو اس کی طرف متوجہ نہ ہوا۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” وَاتَّخَذْتُمُوْہُ وَرَآئَ کُمْ ظِہْرِیًّا ط “ (ہود : 92) یہاں ظھریا سے مراد ھین ( ہلکا) ہے اس معنی میں فرذوق کا قول ہے : تمیم بن قیس لا تکونن حاجتی بظھر فلا یعیا علی جوابھا اے تمیم بن قیس ! میری حاجت کو آسان خیال نہ کرنا مجھ پر اس کا جواب مشکل نہیں۔ ابو عبیدہ کے قول کا یہی معنی ہے۔ ظھیر یہ مظھور کے معنی میں ہے یعنی کافروں کا کفر اللہ تعالیٰ پر آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ذلیل و رسوا کرنے والا ہے، کیونکہ اس کا کفر کوئی نقصان نہیں دے سکتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کافر اپنے اس رب جس کی وہ عبادت کرتا ہے جو بت ہے اس پر قوی اور غالب ہے اس کے ساتھ جو چاہتا ہے سلوک کرتا ہے کیونکہ جمادات کو نقصان کے دور کرنے اور نقصان پہنچانے پر کوئی قدرت نہیں ہوتی۔
Ayahs 25:56–57

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور (اے محمد) ہم نے آپ کو صرف خوشی اور عذاب کی خبر سنانے کو بھیجا ہے

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تم سے اس (کام) کی اجرت نہیں مانگتا ہاں جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف (جانے کا) راستہ اختیار کرے

( وما ارسلنک الا۔۔۔۔۔ ) یعنی جنت کا بشارت دینے والا اور آگ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ہم نے آپ کو وکیل اور زبردستی کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ میں تمہارے پاس قرآن اور وحی جو لے کر آیا ہوں اس پر تم سے اجر کا مطالبہ نہیں کرتا۔ یہاں من اجر میں من تاکید کے لیے ہے۔ الا من میں الا، لکن کے معنی میں ہے یہ مستثنیٰ منقطع ہے یعنی جو چاہے، یعنی جو چاہتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرے تو وہ مال خرچ کرے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مستثنیٰ متصل ہو اور مضاف مقدر ہو تقدیر کلام یہ ہوگی الا اجر من شاء، یعنی میرے دین کی اتباع کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ کو اپنائے یہاں تک کہ دنیا اور آخرت کی کرامت کو پائے۔
Ayah 25:58

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور اس (خدائے) زندہ پر بھروسہ رکھو جو (کبھی) نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح ہی کرتے رہو اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کو کافی ہے

( و توکل علی الحی الذی۔۔۔۔۔ ) توکل کا معنی سورة آل عمران اور اس سورت میں گزر چکا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ تمام امور میں دل کا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا اور اسباب تو صرف واسطے ہے جن کا حکم دیا گیا ہے ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ وسبح بحمدہ کفار اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان کرتے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرو۔ تسبیح کا معنی پاکی بیان کرتا ہے، یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وسبح کا معنی ہے اس کے لیے نماز پڑھو۔ نماز کو تسبیح کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں پر آگاہ ہے اس لیے انہیں بدلہ عطاء فرمائے گا۔
Ayah 25:59

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا وہ (جس کا نام) رحمن (یعنی بڑا مہربان) ہے تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کرلو

( الذی خلق السموات۔۔۔۔ ) ” الَّذِیْ خََلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ قف “ سورة اعراف میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ الذی محل جر میں ہے کیونکہ یہ الحی کی صفت ہے بینھما فرمایا بینھن نہیں فرمایا کیونکہ وہ صفت، دو نوح اور دو چیزیں مراد لی ہیں جس طرح قطاری کا قول ہے : الم یحزنک ان حبال قیس و تغلب قد تباینتا انقطاعا کیا تجھے غمگین نہیں کرتا کہ قیس اور تغلب کے تعلقات ختم ہوچکے ہیں۔ یہاں وحبال تغلب کا ارادہ کیا تو اسے تثنیہ بنایا جمال جمع کا صیغہ ہے کیونکہ دو چیزوں اور دو نوح کا ارادہ کیا۔ الرحمن مسئل بہ خبیراً زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے اس کے بارے میں سوال کرو۔ یعنی باء، عن کے معنی میں ہے۔ اہل لغت میں سے ایک جماعت نے اس کو بیان کیا ہے کہ باء عن کے معنی میں ہے : جس طرح فرمایا ’ ’ سال سائل بعذاب واقع۔ “ ( المعارج) شاعر نے کہا : ھلا سالت الخیل یابنۃ مالک ان کنت جاھلۃ بما لم تعلمی اسے بنت مالک تو نے گھڑ سواروں سے کیوں نہ پوچھا اگر تو ناواقف تھی جس کو تو نہیں جانتی۔ علمقہ بن عبدہ نے کہا : فان تسالونی بالنساء فانتی خبیر بادواء النساء طبیب اگر تم مجھ سے عورتوں کے بارے میں سوال کرتے ہو بیشک میں عورتوں کی بیماریوں کے بارے میں با خبر اور طبیب ہوں۔ یہ اصل میں عن النساء اور عمالم تعلمی تھا۔ علی بن سلیمان نے اس کا انکار کیا ہے اہل نظر انکار کرتے ہیں کہ باء عن کے معنی میں ہو، کیونکہ اس صورت میں عربوں کے اقوال کے معانی کا ابطال لازم آتا ہے۔ لو لقیت فلانا للقیک بہ الاسد یہ اس معنی میں ہے للقیک للقائک ایاہ الاسد اگر تو فلاں سے ملتا تو تیرے اس کے ساتھ ملاقات کرنے سے شیر تیرے ساتھ ملاقات کرتا یعنی ہے تو اس سے سوال کرنے کے ساتھ خبیر سے سوال کرے گا : ابن جبیر نے یہی کہا ہے۔ خبیر اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ خیراً ، سوال مصدر کا مفعول بہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ میں کہتا ہوں : زجا ج کا قول بہترین توجیہ پیش کرتا ہے وہ یہ ہے کہ خبیر سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے متعلق کسی باخبر سے سوال کر جو اس کی صفات اور اسماء سے آگاہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اس کے لیے خبیر سے سوال کر۔ خبیر مضمر ضمیر سے حال ہے۔ مہدوی نے کہا : حال بنانا اچھا نہیں کیونکہ یہ اس امر سے خالی نہ ہوگا کہ یہ مفعول سے حال نہیں ہوگا، کیونکہ مسئول عنہ رحمن ہے جو ہمیشہ با خبر ہے حال عموی طور پر متبدیل ہوتا رہتا ہے مگر اس صورت میں کہ اسے حال موکدہ پر محمول کیا جائے، جس طرح ” وھو الحق مصدقا “ ( البقرہ : 91) پس یہ جائز ہے جہاں تک الرحمن کا تعلق ہے اس کے مرفوع ہونے میں تین وجوہ ہیں، یہ استوی ہیں جو مضمر ضمیر ہے اس سے بدل ہے، یہ بھی جائز ہے کہ یہ ھو الرحمن کے معنی میں ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ مبتداء کی حیثیت میں مرفوع ہو۔ فسئل بہ خیرا اس کی خبر ہو اس کو مجرور پڑھنا بھی جائز ہے، معنی ہوگا توکل علی الحی الذی لایموت الرحمن اس صورت میں یہ الحی کی صفت ہوگی۔ مدح کے طور پر نصب بھی جائز ہے۔
Ayah 25:60

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ رحمن کیا ؟ کیا جس کے لئے تم ہم سے کہتے ہو ہم اسکے آگے سجدہ کریں اور اس سے بدکتے ہیں

( واذا قیل لھم۔۔۔۔۔ ) واذا قیل لھم اسجدو اللرحمن، رحمن سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ قالو وما الرحمن وہ بات انکار اور تعجب کے طریقہ پر کرتے ہیں، یعنی ہم تو یمامہ کے رحمن کو جانتے ہیں وہ اس سے مراد مسیلمہ کذاب لیتے۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے گمان کیا ہے : وہ صفت سے جاہل تھے موصوف سے جاہل نہیں تھے۔ اس پر استدلال وما الرحمن سے کیا گیا ہے انہوں نے من الرحمن نے کہا۔ ابن حصار نے کہا : گویا انہوں نے دوسری آیت نہیں پڑھی وہ ہے :” وھم یکفرون بالرحمن “ ( الرعد : 30) ” انسجد لما تامرنا “ یہ مدینہ طیبہ اور بصرہ کے قراء کی قرأت ہے، یعنی اے محمد ﷺ ! کیا ہم اس کو سجدہ کریں جس کے بارے میں تو ہمیں حکم دیتا ہے ؟ ابو عبیدہ اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے۔ اعمش، حمزہ اور کسائی نے یا مرنا یاء کے ساتھ قرأت کی ہے فاعل الرحمن مراد لیتے، ابو عبید نے یہی تاویل کی ہے، کہا : اگر وہ اقرار کرتے کہ رحمن نے انہیں حکم دیا ہے تو وہ کافر نہ ہوتے۔ نحاس نے کہا : یہ واجب نہیں آتا کہ کو فیوں کی قرأت میں یہ بعید تاویل کی جائے لیکن اولیٰ یہ ہے کہ ان کی یہ تاویل کی جائے انسجد لما یا مرنا، ھو ضمیر سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں اس طرح یہ قرأت صحیح ہوگی اگرچہ پہلی قرأت زیادہ واضح اور تناول کے اعتبار سے زیادہ قریبی ہے۔ وزادھم نفور قائل کے اس قول : اسجدو اللرحمن نے دین سے ان کی نفرت میں اضافہ کردیا۔ حضرت سفیان ثوری اس آیت کے بارے میں یہ عرض کرتے : اے میرے اللہ ! وہ چیز جس نے تیرے دشمنوں کے نفور میں اضافہ کیا ہے وہ میرے خضوع میں اضافہ کرے۔
Ayah 25:61

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

اور (خدا) بڑی برکت والا ہے جس نے آسمانوں میں برج بنائے اور ان میں (آفتاب کا نہایت روشن) چراغ اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا

( تبرک الذی جعل۔۔۔۔ ) تبرک الذی جعل فی السما بروجا بروج سے مراد منازل ہیں، اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ وجعل فیھا سرجا ً حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سراج سے مراد سورج ہے، اس کی نظیر یہ آیت کریمہ ہے :” وجعل الشمس سراجا۔ “ ( نوح) عام قرأت سراجاً ہے جو واحد کا صیغہ ہے۔ حمزہ اور کسائی نے سرجا قرأت کی وہ اس سے بڑے روشن ستارے مراد لیتے ہیں۔ پہلی قرأت ابو عبید کے نزدیک اولیٰ ہے، کیونکہ انہوں نے یہ تاویل کی ہے کہ بروج سے مراد بڑے ستارے ہیں۔ ثعلبی نے کہا : جس طرح زہرہ، مشتری، زحل اور سما کین وغیرہ۔ وقمر منیرا جب و طلوع ہو تو زمین کو روشن کرتا ہے۔ عصمہ نے اعمش سے روایت نقل کی ہے وقمر اقاف پر ضمہ اور میم ساکن ہے، یہ شاذ قرأت ہے۔ اگر یہ شاذ قرأت نہ ہوتی تب بھی امام احمد بن حنبل جو اپنے وقت میں امام المسلمین تھے نے کہا : وہ نہ لکھا کرو جو عصمہ قرأیتیں نقل کرتا ہے۔ ابو حاتم بحستانی ان قرائتوں کے بیان کرنے کا حریص تھا جسے عصمہ نے روایت کیا ہے۔
Ayah 25:62

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا (یہ باتیں) اس شخص کے لئے جو غور کرنا چاہے یا شکر گزاری کا ارادہ کرے (سوچنے اور سمجھنے کی ہیں )

(وھو الذی جعل۔۔۔۔۔ ) مسئلہ نمبر 1 :۔ خلفۃ ابو عبید نے کہا : خلفہ سے مراد ہر ایسی چیز ہے جو کسی چیز کے بعد ہو۔ رات اور دن میں سے ہر ایک دوسرے کے بعد آتا ہے۔ پیٹ کے مرض میں مبتلا لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے : اصابتہ خلفۃ یعنی وہ یکے بعددیگرے اٹھتا بیٹھتا ہے۔ اسی سے خلفۃ النبات ہے یہ ایسا پتہ ہے جو موسم سرما میں پہلے پتے کے بعد نکلتا ہے۔ اسی معنی میں زہیر بن ابی سلمیٰ کا قول ہے : بھا العین والارام یمثین خلفۃ وہاں نیل گائیں اور ہرن کے بچے یکے بعد دیگرے چلتے ہیں۔ رثم ہرن کے بچے کو کہتے ہیں اس کی جمع آرام ہے۔ وہ کہتا ہے : جب ایک جماعت چلی جاتی ہے تو دوسری آجاتی ہے۔ اسی معنی میں ایک اور شاعر کے اشعار ہیں وہ ایک عورت کی صفت بیان کرتا ہے جو موسم سرما کی منزل سے موسم گرما کی منزل کی طرف منتقل ہوگی ہے۔ مجاہد نے کہا : خلفۃ یہ خلاف سے مشتق ہے یہ سفید ہے اور یہ سیاہ ہے، پہلا قول زیادہ قوی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ روشنی تاریکی، زیادتی اور کمی میں ایک دوسرے کا پیچھا کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کلام ایسی ہے جس کا مضاف حذف ہے، تقدیر کلام یہ ہوگی : جعل اللیل والنھا ذوق خلقۃ اس صورت میں خلفۃ کا معنی اختلاف ہوگا۔ لمن اراد ان یذکر جو ارادہ کرے کہ وہ غور و فکر کرے تو اسے علم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے فضول نہیں بنایا تو وہ اللہ تعالیٰ کی مصنوعات میں غور و فکر کرے گا۔ وہ عقل، فکر اور فہم میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر بجا لائے گا۔ حضرت عمر بن خطاب، حضرت ابن عباس اور حضرت حسن بصری نے کہا : اس کا معنی ہے جس سے رات کے وقت کوئی بھلائی فوت ہوجائے تو وہ دن کے وقت اس کو پا لے اور جس سے دن کے وقت بھلائی فوت ہوجائے وہ رات کے وقت اسے پالے۔ صحیح یہ ہے ما من امری تکون لہ صلوۃ بالنیل فغلبہ علیھا نوم فیصلی ما بین طلوع الشمس الی صلاۃ الظھر الا کتب اللہ لہ اجر صلاتہ وکان نومہ علیہ صدقہ (1) جب آدمی کی رات کے وقت کی کوئی نماز ہو اس میں نیند غالب آجائے تو وہ سورج کے طلوع ہونے سے لے کر ظہر کی نماز تک نماز پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیتا ہے اور اس کی نیند اس کا صدقہ ہوتا ہے۔ امام مسلم نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’ ’ جو آدمی اپنا وظیفہ کرنے سے سو گیا تو اس نے اسے نماز فجر اور نماز ظہر کے درمیان پڑھ لیا تو اس کے حق میں اسے لکھ لیا جاتا ہے گویا اس نے اسے رات کے وقت پڑھ لیا ہو “۔ 1 ؎۔ سنن ابی دائود، باب من نومی القیام فنام، حدیث نمبر 1119، ضیاء القرآن پبلی کیشنز مسئلہ نمبر 2 :۔ ابن عبی نے کہا : میں نے شہید اکبر کو کہتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ نے بندے کو زندہ اور عالم پیدا کیا اس کے ساتھ اس کا کمال ہے، اس پر نیند کی آفت، حدث کی ضرورت اور خلقت کا نقصان مسلط کردیا کیونکہ کمال پہلے خالق کے لیے ہے بندے کے لیے جو ممکن ہے کہ وہ تھوڑا کھانے اور اللہ تعالیٰ کی طاعت میں جاگنے کے ساتھ نیند کو دور کرے تو وہ ایسا کرے۔ غبن عظیم میں سے یہ ہے کہ انسان ساٹھ سال تک زندہ رہے ساری رات سو یا رہے تو اس کی نصف عمر لغو چلی گئی۔ ہو دین کا 6/1 حصہ آرام کرنے کے لیے سوتا ہے تو اس کے دو تہائی چلے جاتے ہیں اور اس کے بیس سال باقی رہ جاتے ہیں یہ امر جہالت اور سفاہت سے تعلق رکھتا ہے کہ انسان اپنی عمر کا دو تہائی فانی لذت میں گزار دیتا ہے اور وہ اپنی عمر بیدار ہو کر ایسی لذت میں نہیں گزارتا جو باقی رہنے والی ہے اور وہ اس غنی کے پاس ہے جو پورا پورا حق دینے والا ہے جو نہ معدوم ہونے والا ہے اور نہ ہی ظلم کرنے والا ہے۔ مسئلہ نمبر 3 :۔ اشیاء اپنی ذات کے اعتبار سے کوئی فضلیت نہیں رکھتیں کیونکہ جواہر اور اعراض وجود کے اعتبار سے باہم مماثل ہیں۔ تفاضل صفات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اختلاف اس میں ہے کہ کون سا وقت افضل ہے رات یا دن ؟ جہاں تک روزے کا تعلق ہے اس کے بارے میں رہنمائی کی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے : یہ ابن عربی نے کہا ہے۔ میں کہتا ہوں : رات کی بڑی شان ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو قیام کا حکم دیا فرمایا : ” وَمِنَ الَّیْلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ق “ (الاسرائ : 79) ” قیم الیل (السجدہ : 16) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” الصدقۃ تطفی الخطیئۃ کما یطفی الماء النار وصلاۃ الرجل فی جوف اللیل و فیہ ساعۃ یستجاب فیھا الدعاء و فیہ ینزل تبارک و تعالیٰ (1) صدقہ خطاء کی آگ کو بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، رات کے وسط میں آدمی کا نماز پڑھنا یہ بھی خطائوں کو مٹا دیتا ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے اس میں رب تبارک و تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ جس کی وضاحت انشاء اللہ آئے گی۔ مسئلہ نمبر 4 :۔ صرف حمزہ نے یذکر ذال کے سکون اور کاف کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ ابن و ثاب، طلحہ اور نخعی کی قرأت ہے۔ حضرت ابی کے مصحف میں یتذکر تاء کی زیادتی کے ساتھ ہے۔ باقی قراء نے یذکر تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اس نے دونوں وقتوں میں سے جو بولا وہ دوسرے وقت میں اسے یاد کرے گا یا وہ اس میں اللہ تعالیٰ کی تنزیہ اور تسبیح کو یاد کرلے گا۔ اذا رادشکورا یہ جملہ بولا جاتا ہے شکر یشکر شکرا و شکور جس طرح کفر یکفر کفراوکفورا ہے یہ شکر اسی بناء پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ان کی زندگی کا سہارا بنا دیا گویا جب انہوں نے کہا : وما الرحمن، جواب دیا : رحمن وہ ہے جو ان اشیاء پر قادر ہے۔ 1 ؎۔ سنن ترمذی، باب ما جاء لی حرمۃ الصلاۃ، حدیث نمبر 2541۔ سنن ابن ماجہ، باب کف اللسان الفتۃ، حدیث نمبر 3982، ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔
Ayah 25:63

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) گفتگو کرتے ہیں تو سلام کہتے ہیں

(وعباد الرحمن۔۔۔۔۔ ) وعباد الرحمن الذین یمسون علی الارض ھونا “ جب مشرکوں کی جہالتوں، قرآن اور نبوت کے بارے ان کے طعن کو ذکر کیا تو اپنے مومن بندوں کا ذکر کیا اور ان کی صفات کا ذکر کیا اور انہیں شرف عطاء کرنے کے لیے اپنی عبودیت لی طرف منسوب کیا، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ “ (الاسرائ : 1) اس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اس کی عبادت کی، اپنے کان، آنکھ، زبان اور دل کو ان امور میں مصروف رکھا، جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تو وہ ہی عبودیت کے اسم کا مسحق ہوا، جو اس کے برعکس ہے اسے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان شامل ہوگا :” اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ ط (الاعراف : 179) یعنی وہ عبرت حاصل کرنے والا نہیں : جس طرح سورة اعراف میں پہلے گزر چکا ہے، گویا فرمایا : و عباد الرحمن ھم الذین یمشون علی الارض ھم ضمیر کو حذف کردیا گیا ہے جس طرح تیرا قول ہے : زید الامر یعنی زیاد ھو الامیر، الذین مبتدأء محذوف کی خبر ہے : یہ اخفش کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کی خبر سورت کا آخر ” اولیک یجزون العرفۃ بما صبروا “ ہے، مبتداء اور خبر کے درمیان ان کے اوصاف اور ان کے متعلقات ہیں، یہ زجاج کا قول ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ خبر الذین یمشون علی الارض ہو۔ یشون سے مراد ان کی زندگی، ان کی زندگی کی مدت اور ان کے تصرفات ہیں۔ ان میں سے بڑی چیز کا ذکر کیا خصوصاً اس میں زمین میں گھومنا پھرنا ہے وہ لوگوں کے ساتھ میل جول اور خلط ملط ہونا ہے۔ ھونا، ھون یہ عین کا مصد ہے جس کا معنی سکینہ اور وقار ہے، تفسیر میں ہے وہ زمین پر حلم کا پیکر اور تواضع اختیار کرتے ہوئے چلتے ہیں وہ میانہ روی اختیار کرتے ہوئے چلتے ہیں۔ میانہ روی، آہستگی اور اچھی چال چلن نبوت کے اخلاق میں سے ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ایھا الناس علیکم بالسکینۃ فان البرلیس فی الایضاع “ ، اے لوگو ! سکینہ و وقار کو لازم پکڑو ایضاع (چال کا ایک انداز جو خبب کی طرح ہوتا ہے) میں کوئی نیکی نہیں۔ نبی کریم ﷺ کے اوصاف میں یہ بیان کیا گیا ہے : انہ کان اذا ازال زال تقلعا ویخطوتکفا و یمش ھونا ذریع المشیۃ اذا مشی کا نما ینحط من صبب، تقلع سے مراد قوت کے ساتھ پائوں کو اٹھانا، تکفو چلنے میں درمیانی چال کی طرف مائل ہونا۔ ھون سے مراد نرمی اور وقار ہے۔ ذریع سے مراد کھلے قدم والے یعنی آپ کی چال اس طرح تھی آپ جلدی سے اپنے قدم کو اٹھاتے، اپنے قدم کو لمبا کرتے مگر متکبر کی چال کی طرح نہ ہوتا، اپنی سمت کو سیدھا رکھتے یہ ہر ایک نرمی سے ہوتا اور جلدی کے بغیر ثابت ہوتا جس طرح کہا : کانما ینحط من صبب گویا آپ بلندی سے پستی کی طرف آ رہے ہیں، یہ قاضی عیاض کا قول ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ تکلف کی بجائے فطرتی طور پر جلدی چلا کرتے تھے۔ زہری نے کہا : تیز چلنا چہرے کی رونق کو ختم کردیتا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : مراد تیز رفتاری ہے کیونکہ یہ وقار میں مخل ہوتا ہے اور بھلائی میانہ روی میں ہے۔ زید بن اسلم نے کہا : پس میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : الذین یمستون علی الارض ھونا کی تفسیر کے بارے پوچھتا تھا اور اس میں کوئی شافی جواب نہ پاتا۔ میں نے خواب دیکھا ایک آدمی میرے پاس آیا اس نے مجھے کہا : مراد وہ لوگ ہیں جو زمین میں فساد کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ قشیری نے کہا : وہ فساد اور نافرمانی کے لیے تگ و دو نہیں کرتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور مباع امور کے لیے بغیر سستی و کاہلی کے کدو کاوش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاط اِنَّ اللہ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ ۔ “ (لقمان : 18) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ طاعت میں معروف اور تواضع کو اپناتے ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : وہ حلیم ہیں اگر ان کے ساتھ جہالت کا رویہ اپنایا جائے تو وہ جہالت کا رویہ نہیں اپناتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ لوگوں پر تکبر نہیں کرتے۔ میں کہتا ہوں : یہ سب قریب قریب معانی ہیں۔ ان سب کو اللہ تعالیٰ کا عرفان، اس کا خوف، اس کے احکام کی معرفت اور اس کے عذاب اور عقاب کی خشیت جامع ہے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و احسان سے ہمیں ان لوگوں میں سے بنا دے۔ ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ ھونا کا لفظ یمسون علی الارض سے متعلق ہے اور مشی ہی ھون ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : اس کی یہ تاویل کرنا مناسب ہے کہ اس چلنے والے کے اخلاق نرم ہوں اور اس کی چال کے مناسب ہوں۔ قول اسی کی طرف لوٹ جاتا ہے جو ہم نے بیان کیا ہے، جہاں تک صرف چال کی صفت کا تعلق ہے تو یہ باطل ہے، کیونکہ بعض نرمی سے اور ٹھہر ٹھہر کر چلتے ہیں جب کہ وہ مٹیالے رنگ کا بھیڑیا ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرتے گویا آپ ڈھلان سے اتر رہے ہیں۔ اس آیت میں آپ ہی مقتدا ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : من مشی منکم فی طمع فلیمش رویدا تم میں سے جو آدمی کسی غرض کے لیے چلے تو وہ آہستہ آہستہ چلے۔ یہاں صرف چال کا ارادہ نہیں کیا۔ کیا تم دیکھتے نہیں باطل پرست اور اپنے آپ کو ظاہری طور پر دین سے آراستہ کرنے والے صرف چال کی صورت کو اپناتے ہیں یہاں تک کہ شاعر نے ان کی مذمت کرتے ہوئے کہا : کلھم یمشی رویدا کلھم یطلب صید ان میں سے ہر ایک ٹھہر ٹھہر کر چلتا ہے ان میں سے ہر ایک شکار کا طالب ہوتا ہے۔ ابن عربی نے اپنے بارے میں اس کے برعکس کہا : تواضعت فی العلیاء والاصل کا بر وحزت قصاب السبق بالھون فی الامر سکون فلا خبث السریرۃ اصلہ وجل سکون الناس من عظم الکبر واذا اخاطبھم الجھلون قالو اسلما نحاس نے کہا : سلام یہ تسلیم سے نہیں بلکہ یہ تسلم سے ہے، عرب کہتے ہیں : سلاما مراد تسلما منک کہتے ہیں یعنی تجھ سے بری۔ دو امور میں سے کسی ایک کی وجہ سے منصوب ہے یہ بھی جائز ہے کہ یہ قالو کی وجہ سے منصوب ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ مصدر ہو یہ سیبویہ کا قول ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : جو میں کہتا ہوں وہ یہ کہ قالو یہ سلما ً میں عامل ہے کیونکہ معنی ہے انہوں نے یہ لفظ کہا۔ مجاہد نے کہا : سلاما کا معنی سدادا ہے، یعنی وہ جاہل سے ایسی گفتگو کرتا ہے کہ اسے نرمی کے ساتھ اپنے آپ سے دور کردیتا ہے۔ اس تاویل کی بناء پر قالوا یہ سلما ً میں عامل ہوگا۔ یہ نحویوں کے طریقہ پر ہے کیونکہ یہ قولا کے معنی میں ہے۔ ایک جماعت کا کہنا ہے : مخاطب کو یہ چاہیے کہ وہ جاہل کو سلاما کہے، اس صورت میں تقدیر کلام یہ ہوگی، سلمنا سلاما او تسلیما اس صورت میں نحویوں کے طریقہ پر عامل اسی کا فعل ہوگا۔ مسئلہ :۔ یہ آیت، آیت سیف سے پہلے نازل ہوئی، جو کافروں کے ساتھ خاص ہے وہ اس میں سے منسوخ ہے اور مسلمانوں کے بارے میں ادب قیامت تک جاری وساری رہے گا۔ سیبویہ نے اپنی کتاب میں اس آیت کے نسخ کا ذکر کیا ہے اس کے غیر کے نسخ کے بارے میں جو کلام کی گئی ہے اس کے ساتھ یہ بات راجح ہوجاتی ہے کہ مراد سلامتی ہے، سلام کرنا نہیں کیونکہ مومنوں کو کبھی بھی حکم نہیں دیا گیا کہ وہ کافروں کو سلام کریں۔ یہ آیت مکی ہے اسے آیت سیف نے منسوخ کردیا ہے۔ نحاس نے کہا : ناسخ اور منسوخ کے بارے میں سیوبہ کا کلام اس آیت کے سوا ہم نہیں جانتے۔ سیبویہ نے کہا : اس روز مسلمانوں کو حکم نہیں دیا گیا کہ وہ مشرکوں کو سلام کریں مگر اس معنی میں کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی خیرو شر نہیں ہے۔ مبرد نے کہا : یہ کہنا چاہیے تھا اس وقت مسلمانوں کو حکم نہیں دیا گیا کہ ان کے ساتھ جنگ کریں پھر ان کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا گیا۔ محمد بن یزید نے کہا : سیبویہ نے اس میں غلط کی اور عبادت کو غلط معنی پہنچایا ہے۔ ابن عربی نے کہا : اس وقت مسلمانوں کو حکم نہیں دیا گیا کہ وہ مشرکوں کو سلام کریں اور نہ ہی انہیں اس سے منع کیا گیا بلکہ انہیں درگزر کرنے اور خوبصورت پیرائے میں پہلو تہی کرنے کا حکم دیا گیا۔ نبی کریم ﷺ ان کی مجالس کے پاس کھڑے ہوتے، انہیں سلام کہتے، ان کے قریب ہوتے اور ان کے ساتھ مداہنت کا رویہ اختیار نہ کرتے لوگوں کا اس پر اتفاق ہے کہ مومنوں میں سے کوئی بیوقوف تجھ پر زیادتی کرے تو تیرے لیے یہ کہنا جائز ہے : سلام علیک۔ میں کہتا ہوں : یہ سنت کے دلائل کے زیادہ مناسب ہے ہم نے سورة مریم میں کفار کو سلام کہنے کے بارے میں علماء کا اختلاف ذکر کردیا ہے، اس لیے نسخ کے دعویٰ کی کوئی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ نضر بن شمیل نے ذکر کیا مجھے خلیل نے بیان کیا میں ابو ربیعہ اعرابی کے پاس آیا میرے نزدیک وہ سب سے بڑے عالم تھے وہ چھت پر تھے جب ہم نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے ہمیں سلام کا جواب دیا اور ہمیں فرمایا : استود اہم حیران کھڑے ہوئے ہم نہیں جانتے تھے کہ انہوں نے کیا کہا۔ ان کے پہلو میں موجود ایک بدو نے کہا : تمہیں حکم دیا ہے اوپر آ جائو۔ خلیل نے کہا : یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے مآخوذ ہے :” ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ وَھِیَ دُخَانٌ“ ہم ان کی طرف اوپر گئے۔ فرمایا : کیا تمہیں روٹی جو خمیری نہیں، عمدہ دودھ اور تازہ پانی کی طلب ہے ؟ ہم نے جواب دیا : ابھی ابھی ہم اس سے فارغ ہوئے۔ فرمایا : سلاما ہم نے کچھ نہ سمجھا کہ انہوں نے کیا کہا۔ اس بدو نے کہا : آپ نے تمہیں کہا ہے تم چلے جائو اس میں کوئی بھلائی نہیں اور نہ ہی اس میں کوئی شر ہے۔ خلیل نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے مآخوذ ہے : واذا اخاطبھم الجھلون قالوا سلما ً ابن عطیہ نے کہا : میں نے ایک تاریخ میں دیکھا کہ ابراہیم بن مہدی جو ان لوگوں میں سے تھا جو حضرت علی ؓ شیر خدا کی طرف سے میلان رکھتے تھے مامون کے پاس گیا جب کہ ان کے پاس جماعت تھی میں خواب میں حضرت علی ابن ابی طالب ؓ کو دیکھتا ہوں میں انہیں کہتا ہوں آپ کون ہیں ؟ وہ خواب میں کہتے ہیں : علی بن ابی طالب۔ میں ان کے ساتھ ایک پل کی طرف آتا ہوں وہ جانتے ہیں وہ اس کے عبور کرنے میں مجھ سے پہل کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں : آپ اس امر کا ایک عورت کی وجہ سے دعویٰ کرتے ہیں جب کہ ہم اس کے آپ کی بنسبت زیادہ حق رکھتے ہیں۔ میں نے ان کے جواب میں ایسی بلاغت نہیں پائی جیسی بلاغت ان کے بارے میں ذکر کی جاتی ہے۔ مامون نے کہا : انہوں نے تجھے کیا جواب دیا ؟ کیا : وہ مجھے سلاما کہتے۔ راوی نے کہا : ابراہیم کو آیت یاد نہیں تھی یا اس وقت اس کے حافظہ سے نکل گئی۔ مامون نے حاضرین کو اس آیت پر متنبہ کیا۔ فرمایا : اے میرے چچا جان اللہ کی قسم ! وہ علی بن ابی طالب ہیں آپ نے تجھے بلیغ ترین جواب دیا ہے۔ ابراہیم شرمدنہ ہوا اور اسے حیاء آئی وہ خواب یقینا سچے تھے۔
Ayah 25:64

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کر کے اور (عجز و ادب) سے کھڑے رہ کر راتیں بسر کرتے ہیں

(والذین یبیتون۔۔۔۔ ) فبتنا قیاما عند راء جو ادنا یزوالنا عن نفسہ و نزاولہ ہم نے اپنے گھوڑے کے پاس رات قیام کرتے ہوئے گزاری وہ اپنے نفس کو چھڑانے کے لیے ہمارے ساتھ کوشش کرتا رہا اور ہم اسے قابو کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے اولیاء کی صفت میں یہ اشعار کہے : امنع جفوتک ان تذوق مناما واذر الدموع علی الخدود سجاما واعلم بانک میت و محاسب یامن علی سخط الجلیل اقاما للہ قوم اختلصوا فی حبہ فرضی بھم واختصھم خدا ما قم اذا جن الظلام علیھم یاتوا ھناک سجدا وقیاما خمص البطون من التعفف ضمرا لا یعر فون سوی الحلال طعام اپنی پلکوں کو روکو کہ وہ نیند کا ذائقہ چکھیں، رخساروں پر آنسوئوں کو موسلا دھاربرسائو یہ جان لو کہ تو مرنے والا ہے اور تیرا محاسبہ ہونے والا ہے۔ اے وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچنے کے لیے راتوں کو قیام کیا ! اللہ کی ایسی قوم ہے جو اس کی محبت میں مخلص ہیں وہ ان سے راضی ہے انہیں خادم کے طور پر خاص کرلیا ہے۔ وہ ایسی قوم ہیں جب ان پر تاریکی چھا جاتی ہے تو وہ سجدہ و قیام میں رات گزار دیتے ہیں ان کے پیٹے بڑھے ہوئے نہیں وہ حلال کھانے کے سوا کسی کھانے کو نہیں پہچانتے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جس نے عشاء کے بعد دو یا زیادہ رکعتیں پڑھیں تو اس نے سجدہ و قیام میں رات گزاری۔ کلبی نے کہا : جس نے مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد چار کعتیں پڑھیں اس نے سجدہ و قیام کرتے ہوئے رات گزاری۔
Ayahs 25:65–66

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور وہ جو دعا مانگتے رہتے ہیں کہ اے پروردگار دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھیو کہ اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

(اور) دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے

( والذین یقولون۔۔۔۔۔ ) والذین یقولون ربنا اصرف عنا عذاب جہنم وہ اطاعت کرنے کے لیے باوجود اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : وہ اپنے سجدوں اور اپنے قیام میں یہ دعا کرتے ہیں۔ ان عذابھا کان غراما جہنم کا عذاب لازمی، دائمی اور جدا نہ ہونے والا ہے، اس وجہ سے قرض خواہ کو غریم کہتے ہیں کیونکہ وہ مقروض کو لا حق رہتا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : فلان مغرم بکذا یعنی اسے لازم ہے، اس کے ساتھ سخت محبت کرنے والا ہے۔ کلام عرب میں یہی اس کا معنی ہے جو ابن عربی، ابن عرفہ اور دوسرے علماء نے کہا : اعشی نے کہا : ان یعاقب یکن غراما وان یعط جزیلا فانہ لا یبالی اگر وہ عقاب دے تو وہ عقاب لازم رہنے والا ہے اور بڑا اجر دے تو اسے کوئی پرواہ نہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : سب کو علم ہے کہ ہر غریم، غریم کو چھوڑنے والا ہے مگر جہنم کا غریم چھوڑنے والا نہیں۔ زجاج نے کہا : غرام سخت ترین عذاب ہے۔ ابن زید نے کہا : غرام سے مراد شر ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : اس سے مراد ہلاکت ہے۔ معنی ایک ہی ہے۔ محمد بن کعب نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان سے دنیا میں نعمتوں کے ثمن کا مطالبہ کیا تو انہوں نے وہ ادا نہ کیے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اس کے ثمن انہیں جہنم میں داخل کرنے کے ساتھ لازم کردیئے۔ انھا ساءت مستقرا ومقاما وہ کتنا برا ٹھکانہ ہے، وہ بات علم سے کہتے ہیں جب انہوں نے یہ بات علم سے کہی تو وہ اس شے کی عظیم قدر کو پہچاننے والے ہوگئے جس کا ان سے مطالبہ کیا جا رہا تھا، یہ چیز ان کی کامیابی کے قریب ترین ہے۔
Ayah 25:67

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بےجا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کے کام میں لاتے ہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ نہ ضرورت سے زیادہ نہ کم

( والذین۔۔۔۔۔۔۔ ) والذین اذا انفقوا لم یسرفوا مفسرین نے اس آیت کی تاویل میں اختلاف کیا ہے۔ نحاس نے کہا : اس کے متعلق جو یہ کہا گیا وہ کتنا اچھا کہا گیا : جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے بغیر مال خرچ کیا تو وہ اسراف ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے رک گیا وہ اقتار ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خرچ کیا تو وہ قوام ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے کہا : جس نے ایک لاکھ حق کے راستہ میں خرچ کیا وہ اسراف نہیں اور جس نے ناحق ایک درہم خرچ کیا وہ اسراف ہے جس نے اس میں سے روکاجو اس پر واجب تھا تو وہ اقتار ہے : یہ مجاہد، ابن زید اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ عون بن عبد اللہ نے کہا : اسراف یہ ہے کہ تو کسی اور کا مال خرچ کرے۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ اور اسی جیسی چیزیں آیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتیں۔ زیادہ مناسب یہ ہے کہ کہا جائے : معصیت میں خرچ کرنے سے شرع نے روک دیا ہے وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ہو۔ اسی طرح غیر کے مال پر تعدی کرنا ہے۔ جن لوگوں کی صفت بیان کی جا رہی ہے وہ اس سے منزہ تھے۔ اس آیت میں یہ ادب سکھایا جا رہا ہے کہ مباحات میں مال کیسے خرچ کرنا ہے ؟ اس میں شرع کا ادب یہ ہے کہ انسان افراط سے کام نہ لے یہاں تک کہ کسی اور حق کو ضائع کرے یا عیال کو ضائع کرے وہ اپنے مال کو اس طرح بھی نہ روکے یہاں تک کہ عیال کو بھوکا رکھے اور بخل میں افراط سے کام لے اس میں بہترین میانہ روی ہے عدل و قوام ہر ایک میں اس کے عیال اور حال کے مطابق ہوگا، اسی طرح اس کا صبر، اس کا خرچ پر قوی ہونا اس کی کمائی کے حساب سے ہوگا یا ان خصلتوں کی ضد مراد ہوگی اور امور میں سے بہترین ان کے وسط ہیں۔ اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے حضرت صدیق ؓ کو اپنا تمام مال صدقہ کرنے دیا (1) کیونکہ یہ ان کے دین میں قوت اور صبر کے اعتبار سے وسط تھا اور دوسرے افراد کو اس سے منع کردیا۔ ابراہیم نخعی نے کتنی ہی اچھی بات کہی ہے : اس سے مراد وہ شخص ہے نہ عیال کو بھوکا رکھتا ہے اور نہ ہی بےلباس رکھتا ہے اور نہ ہی ایسا نفقہ خرچ کرتا ہے کہ لوگ یہ کہنے لگیں کہ اس نے اسراف سے کام لیا۔ یزید بن ابی حبیب نے کہا : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو خوبصورتی کے لیے لباس زیب تن کرتے اور لذت کے لیے کھانا نہیں کھاتے، یزید نے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا ہے : وہ حضرت محمد ﷺ کے صحابہ ہیں وہ لذت کے لیے کھانا نہیں کھاتے تھے اور جمال کے لیے لباس زیب تن نہیں کرتے تھے لیکن وہ کھانے سے یہ ارادہ کرتے تھے کہ بھوک کا سدباب ہو، اور اپنے رب کی عبادت کی قوت حاصل ہو۔ اور لباس سے ان کا مقصود یہ تھا کہ جو ان کی شرمگاہ کا پردہ کرے اور سردی و گرمی سے انہیں بچائے۔ عبد الملک بن مروان نے حضرت عمربن عبد العزیز سے کہا جب اس نے آپ سے اپن بیٹی فاطمہ کی شادی کی : تیرا خرچہ کیا ہے ؟ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا : دو برائیوں کے درمیان نیکی، پھر اس آیت کی تلاوت کی۔ حضرت عمر بن خطاب نے کہا : کسی بندے کے اسراف کے لیے یہی اسراف کافی ہے کہ جس چیز کی وہ خواہش کرے وہ اس کو خرید لے اور اس کو کھالے۔ سنن ابن ماجہ میں حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اسراف یہ ہے کہ تو وہ چیز کھائے جس کی تو خواہش کرے “۔ ابو عبیدہ نے کہا : وہ معرف پر زیادتی نہیں کرتے اور وہ بخل سے کام نہیں لیتے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَلاَ تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَلَا تَبْسُطْھَا کُلَّ الْبَسْطِ “ (الاسرائ : 29) شاعر نے کہا : ولا تغل فی شیء من الامر واقتصد کلام طرفی قصد الامور ذمیم کسی بھی معاملہ میں غلو نہ کرو، میانہ روی اختیار کر امور کی دونوں طرفیں مذموم ہوتی ہیں۔ ایک اور شاعر نے کہا : 1 ؎۔ سنن ابی دائود، باب فی الرخصۃ لی ذلک، حدیث نمبر 1429 اذا المرء اعطی نفسہ کل ما شتھت ولم ینھھا تاقت الی کل باطل وساقت الیہ الاثم والعار بالذی دعتہ الیہ من حلاوۃ عاجل جب انسان اپنے نفس کو ہر وہ چیز عطاء کرنے جس کی وہ خواہش کرے اور وہ اپنے نفس کو نہ روکے تو وہ ہر باطل چیز کا شوقین ہوجاتا ہے نفس اس کی طرف گناہ اور عار کو لے آتا ہے، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ نفس نے اسے جلدی مٹھاس کی دعوت دی تھی۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے بیٹے عاصم سے کہا : اے بیٹے ! اپنے نفس پیٹ میں کھا تو کپڑے کو نہ پھینک یہاں تک کہ تو اسے بوسیدہ کر دے، تو ان لوگوں میں سے نہ جاجو اللہ تعالیٰ کے رزق کو اپنے پیٹوں اور پشتوں پر رکھ لیتے ہیں۔ حاتم طائی کا شعر ہے : اذا انت قد اعطیت بطلنک سولہ وفرجک نالا منتھی الذم اجمعا جب تو نے اپنے پیٹ اور شرمگاہ کا سوال پورا کردیا تو دونوں نے اکٹھے ذم کی انتہاء کو پا لیا۔ ولم یقتروْ ا حمزہ، کسائی، اعمش، عاصم اور یحییٰ بن و ثاب نے اختلاف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یقتروا یہ یاء کے فتحہ اور تاء کے ضمہ کے ساتھ ہے : یہ اچھی قرأت ہے، یہ قتر، یقتر سے مشتق ہے یہ لازم میں قیاس ہے جس طرح قعد، یقعد، ابو عمرو بن علاء اور ابن کثیر نے یاء کے فتحہ اور تاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ اچھی اور معروف لغت ہے۔ اہل مدینہ، ابن عامر اور ابوبکر نے عاصم سے یاء کے ضمہ اور تاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ثعلبی نے کہا : تمام لغتیں صحیح ہیں۔ نحاس نے کہا : ابو حاتم نے اہل مدینہ کی اس قرأت سے تعجب کیا ہے کیونکہ اہل مدینہ کی قرأت میں شاذ نہیں۔ یہ کہا جاتا ہے : اقتر یقتر جب وہ محتاج ہو جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وعلی المقتر قدرہ “ ( البقرہ : 236) ابو حاتم نے یہ تاویل کی ہے اسراف کرنے والا جلد محتاج ہوجاتا ہے یہ تاویل حقیقت سے بعید ہے، لیکن ان کی تاویل کی ابو عمر جرمی نے اصمعی سے حکایت بیان کی ہے جب وہ تنگ دست ہوجائے فتریقتر و یقتر اور اقتر یقتر، اس تاویل کی بناء پر قرأت صحیح ہے اگرچہ یاء کو فتحہ دینازیادہ صحیح ہے تناول کے اعتبار سے زیادہ قریب اور زیادہ مشہور معروف ہے۔ ابو عمر اور دوسرے لوگوں نے قواما پڑھا ہے یعنی قاف پر زیر ہے مراد عدل ہے۔ حسان بن عبد الرحمن نے کہا : قواما ً ہے یعنی قاف کے نیچے کسرہ ہے۔ قوام جب قاف کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اس سے مراد ایسی چیز ہوگی جس پر امر دوام اختیار کرے اور قرار پذیر ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ دونوں لغتیں ایک ہی معنی میں ہیں۔ قواماً یہ کان کی خبر ہے اس کا اسم مقدر ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی : کان الانفاق بین الاسراف والقتر قواما، یہ فراء کا قول ہے۔ اس کا ایک اور قول بھی ہے : بین کو کان کا اسم بنایا ہے اور اسے نصب دی ہے کیونکہ ان الفاظ کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے محل رفع میں اسے اسی حال پر رکھا۔ نحاس نے کہا : میں اس کی وجہ کو نہیں جانتا، کیونکہ بین کا لفظ جب محل رفع میں ہو تو اسے رفع دیا جاتا ہے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے : بین عینیہ احمر۔