25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 25:21–26

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہ نازل کیے گئے یا ہم اپنی آنکھ سے اپنے پروردگار کو دیکھ لیں ؟ یہ اپنے خیال میں بڑائی رکھتے ہیں اور (اسی بنا پر) بڑے سرکش ہو رہے ہیں

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی اور کہیں گے (خدا کرے تم) روک لیے (اور) بند کردیے جاؤ

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور جو انہوں نے عمل کئے ہوں گے ہم ان کی طرف متوجہ ہوں گے تو انکو اڑتی خاک کردیں گے

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

اس دن اہل جنت کا ٹھکانا بھی بہتر ہوگا اور مقام استراحت بھی عمدہ ہوگا

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن آسمان ابر کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل کئے جائیں گے

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن سچی بادشاہی خدا ہی کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر (سخت) مشکل ہوگا

(وقال الذین لا یرجون۔۔۔۔۔۔۔ ) وقال الذین لا یرجون لقاء ناوہ ارادہ کرتا ہے وہ دوبارہ اٹھائے جانے اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے نہیں ڈرتے یعنی وہ اس چیز پر ایمان نہیں رکھتے، شاعر نے کہا : اذا لسغتہ النحل لم یرج السعھا جب شہد کی مکھیاں اس کو ڈنگ ماریں تو اس کے ڈنگ کا خوف نہیں کرتا۔ اس قول یہ کیا گیا ہے : لا یرجعون کا معنی ہے وہ پرواہ نہیں کرتے شاعر نے کہا : لعمرک ما ارجو اذا کنت مسلما علی ای جنب کان فی اللہ مصرعی تیری زندگی کی قسم ! جب میں مسلمان ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر میری موت کس پہلو پر واقع ہوتی ہے۔ ابن شجرہ نے کہا : وہ امید نہیں رکھتے، شاعر نے کہا : اترجو امۃ قتلت حسینا شفاعۃ جدہ یوم الحساب کیا وہ لوگ جنہوں نے امام عالی مقام کو شہید کیا تھا وہ قیامت کے روز آپ کے نانا کی شفاعت کی امید رکھتے ہیں ؟ لولا انزل کیوں نہ نازل کیے گئے علینا الملیکۃ ہم پر فرشتے جو خبر دیتے کہ حضرت محمد ﷺ سچے ہیں۔ اونری ربنا یا اپنے رب کو عیاں دیکھتے جو ہمیں آپ ﷺ کی رسالت کی خبر دیتا۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْبُوْعًا۔ اَوْ تَکُوْنَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْہٰرَ خِلٰـلَہَا تَفْجِیْرًا۔ اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآئَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِ اللہ ِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیْلًا۔ “ (الاسرائ : 90۔ 92) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” لَقَدِ اسْتَکْبَرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّا کَبِیْرًا۔ “ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی بات کا سوال کیا جو حقیقت سے بہت بعید تھی، کیونکہ فرشتوں کو نہیں دیکھا جا سکتا مگر موت کے وقت اور نزول عذاب کے وقت۔ اللہ تعالیٰ کا احاطہ آنکھیں نہیں کرسکتیں اللہ تعالیٰ کی ذات آنکھوں کا احاطہ کرسکتی ہے کوئی ایسی آنکھ نہیں جو اسے دیکھے۔ مقاتل نے کہا : عتوا سے مراد ہے زمین میں غلبہ۔ عتو شدید ترین کفر اور سخت ظلم ہے۔ جب معجزات انہیں کفایتس نہیں کرتے تو فرشتے انہیں کیسے کفایت کریں گے جب کہ وہ فرشتوں اور شیاطین کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کرتے۔ ان کے لیے ایک ایسے معجزہ کا ہونا ضروری ہے جو معجزہ وہ آدمی قائم کرے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ فرشتے ہے۔ اس قوم کو معجزہ کے مطالبہ کا کوئی حق نہیں جنہوں نے معجزہ دیکھ لیا تھا۔ ” یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِکَۃَ لَابُشْرٰی یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ “ اس سے یہ ارادہ کیا کہ فرشتوں کو کوئی نہیں دیکھتا مگر موت کے وقت ہی انہیں دیکھتا ہے وہ مومنوں کی جنت کی بشارت دیتے ہیں، مشرکوں اور کفار کو لوہے کے ہنٹر مارتے ہیں یہاں تک کہ انکی روحیں نکل آتی ہیں۔ ویقولون حجرا محجوراً یہ ارادہ کیا ہے کہ فرشتے کہتے ہیں : حرام کردیا گیا ہے کہ جنت میں کوئی داخل ہو مگر یہ کہ جولا الہ اللہ اللہ ہے، شرعی احکام کو بجا لائے، یہ قول حصرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء نے کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ قیامت کا دن ہے : وہ مجاہد اور عطیہ عوفی کا قول ہے۔ عطیہ نے کہا : جب قیامت کا دن ہوگا تو مومن کو خوشخبری دیتے ہوئے ملاقات کی جائے گی۔ جب کافر یہ دیکھے گا تو اس کی تمنا کرے گا تو وہ فرشتے کو نہیں دیکھے گا۔ یوم یرون کو نصب تقدیر کلام کی وجہ سے دی گئی ہے وہ یہ ہے الا بشری یوم یرون الملائکۃ۔ یومئذ یہ یوم یرون کی تاکید ہے۔ نحاس نے کہا : یہ جائز نہیں ہے کہ یوم یرون، بشری کی وجہ سے منصوب ہو کیونکہ جو نفی کے حکم میں ہو وہ ما قبل میں عمل نہیں کرتا لیکن اس میں تقدیر یہ ہے کہ معنی ہو جس روز وہ فرشتوں کو دیکھیں گے تو انہیں بشارت سے روک دیا جائے گا۔ یومیذ تاکید ہے، اس کا یہ معنی کرنا بھی جائز ہے کہ اس دن کو یاد کرو جس روز وہ فرشتوں کو دیکھیں گے۔ پھر ابتداء کی اور ارشاد فرمایا :” لَابُشْرٰی یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَیَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا۔ “ فرشتے کہیں گے : قطعی حرام ہے یعنی بشارت صرف مومنوں کے لیے ہے، شاعر نے کہا : الا اصحبت اسماء حجرا محرما یہاں یہ ارادہ کیا ہے، خبر دار اسماء قطعی حرام ہوگئی۔ ایک اور شاعر نے کہا : حنت الی النخلۃ القصوی فقلت لھا حجر حرام الا تلک الا ھاریس اس میں یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔ حضرت حسن بصری سے مروی ہے فرمایا : ویقولون حجرا یہ مجرموں کے قول سے ہے اور اس پر وقف ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : محجورا یعنی انہیں پناہ دیئے جانے سے روک دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اسے ان پر روک دیا، پہلا قول حضرت ابن عباس ؓ کا ہے، فراء نے بھی یہی کہا ہے، یہ ابن انباری نے کہا۔ حضرت حسن بصری اور رجاء نے حجرا پڑھا ہے جس کہ دوسرے علماء نے اسے کسرہ کے ساتھ حجرا پڑھا ہے۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے : یہ کفار کے قول میں سے ہے انہوں نے یہ قول اپنی ذاتوں سے کیا، یہ قتادہ نے کہا، جو ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کفار کا قول ہے جو انہوں نے ملائکہ سے کیا۔ یہ پناہ مانگنے کے لیے لفظ استعمال ہوتا ہے یہ دور جاہلیت میں معروف تھا، جب کوئی آدمی کسی ایسے آدمی سے ملتا جس سے وہ خوف محسوس کرتا تو کہتا ” حجراً محجورا “ یعنی مجھ سے تعرض کرنا تیرے لیے حرام ہے۔ اس کو نصب اس جملہ کے معنی کا اعتبار کرتے ہوئے دی گئی ہے ” حجرت علیک، حجر اللہ علیک “ جس طرح تو کہتا ہے : یعنی مجرم جب فرشتوں کو دیکھیں گے کہ وہ مجرموں کو جہنم میں پھینکتے ہیں تو وہ کہیں گے : نعوذ باللہ منکم ہم تم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں ! قشیری نے اس کا ذکر کیا، مہدوی نے مجاہد سے یہی معنی نقل کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حجراً مجرموں کا قول ہے محجورا یہ علامہ کا قول ہے یعنی وہ فرشتوں سے کہیں گے : ہم تم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں تم ہم سے چھیڑ چھاڑ کرو۔ فرشتے کہیں گے : محجوراً تم کو اس امر سے روک دیا گیا ہے کہ تم اس دن کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہو، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ وقدمنا الی ما عملوا من عمد یہ تو قیامت کے عظیم الشان ہونے پر تنبیہ ہے یعنی ہم نے اس دن قصد کیا ان اعمال کی طرف جنہیں مجرم اپنے طور پر اچھے عمل کے طور پر کرتے رہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے قدم فلان لی مرکذا یعنی اس کا قصد کیا۔ مجاہد نے کہا : قدمنا یعنی ہم نے قصد کیا، راجز نے کہا : وقد الخوارح الضلال الی عباد ربھم فقالوا ان دماء کم لنا حلال گمراہ خارجیوں نے اپنے رب کے بندوں کا قصد کیا اور کہا : تمہارے خون ہمارے لیے حلال ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد فرشتوں کا آنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فعل کی نسبت اپنی ذات کی طرف کی ہے کیونکہ فرشتوں کا آنا بھی اس کا حکم سے ہوتا ہے۔ فجعلنہ صبا منثوراً اس سے نفع حاصل نہیں کیا جاسکتا یعنی ہم نے کفر کے ساتھ اسے باطل کردیا۔ ھبا ہمزہ والے حروف میں سے نہیں، اجتماع ساکنین کی وجہ سے ہمزہ آیا ہے، اس کی تصغیر ھبی ہے، یہ رفع کے محل میں ہے نحویوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں ھبی یہ رفع کے محل میں ہے : نحاس نے اسے بیان کیا ہے۔ اس کی واحد ھباۃ ہے جمع اھباء آتی ہے۔ حارث بن حلزہ اونٹنی کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے : فتری خلفھا من الرجع والو قع منینا کا نہ اھباء تو اس اونٹنی کے ٹانگوں کے واپس آنے اور پائوں کے پڑنے پر باریک غبار دیکھے گا گویا وہ ہباء ہے۔ حارث نے حضرت علی ؓ شیر خدا سے روایت نقل کی ہے کہ ھبا منثورا سے مراد سورج کی وہ شعاع ہے جو کسی سوراخ سے داخل ہوتی ہے۔ ازہری نے کہا : ھبا سے مراد وہ چیز ہے جو سورج کی روشنی میں اس سوراخ سے نکلتی ہے جو غبار کے مشابہ ہے، اس کی تاویل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو برباد کردیا یہاں تک کہ وہ ھباء منثورا کے قائم مقام ہوگئے جہاں تک ھباء المنبث کا تعلق ہے اس سے مراد وہ غبار ہے جسے گھوڑے اپنے سموں کے ساتھ اڑاتے ہیں، منبث کا معنی بکھرا ہوا ہے۔ ابن عرفہ نے کہا : ھبرۃ اور ھباء سے مراد باریک مٹی ہے۔ جوہری نے کہا : جب وہ بلند ہو تو کہا جاتا ہے : ھبا، یھبوھبوا واھبیتہ انا، ھبوۃ کا معنی غبار ہے۔ موضوع ھابی التراب ایسی جگہ گویا اس کی مٹی باریکی میں ھباء کی طرح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ہے خشک پتوں میں سے جسے ہوائیں بکھیر دیتی ہیں : یہ قتادہ اور حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی کہا : اس سے مراد بہایا گیا پانی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد راکھ ہے : یہ عبید بن یعلی کا قول ہے۔ ” اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِیْلًا۔ “ اس کے بارے میں گفتگو ” قل اذلک خیرامر جنۃ الخلد التی وعد المتقون “ کے ضمن میں گزر چکی ہے۔ نحاس نے کہا : کوفہ کے علماء اس قول کو جائز سمجھتے ہیں۔ العسل احلی من الخل یہ قول مردود ہے کیونکہ فلاں خیر من فلان کا معنی ہے فلاں فلاں سے خیر میں زیادہ ہے جب کہ سرکہ میں تو کوئی مٹھاس نہیں ہوتی۔ یہ کہنا جائز نہیں النصرانی خیر من الیھودی کیونکہ دونوں میں کوئی خیر نہیں کہ ان دونوں میں سے ایک خیر میں دوسرے سے بڑھ کر ہو، لیکن یہ کہنا درست ہوگا الیھودی شر من النصرانی، اس کو معنی میں عربوں کا کلام ہے۔ مستقرا اس کو ظرف کی حیثیت سے نصب دی گئی ہے جب اسے افعل منک سے مقدر نہ مانا جائے۔ معنی ہوگا اس کے لیے مستقر میں خیر ہے جب یہ افعل منک کے باب سے ہو تو مستقرا بیان کے طریقہ پر منصوب ہوگا، یہ نحاس اور مہدوی کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : ” واحسن مقیلا “ بہترین منزل اور بہترین ٹھکانہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ہی مقیل ہے، عرب جسے جانتے پہچانتے ہیں وہ نصف النہار کا قیلولہ ہے۔ اسی معنی میں مرفوع حدیث ہے : ” ان اللہ تبارک و تعالیٰ یفرغ من حساب الخلق فی مقدار نصف یوم فیقیل اھل الجنۃ فی الجنۃ واھل النار فی النار “ (1 ؎ تفسیر طبری) اللہ تعالیٰ نصف دن کی مقدار میں مخلوقات کے حساب سے فارغ ہوجائے گا تو اہل جنت جنت میں اور اہل جہنم جہنم میں قیلولہ کریں گے، مہدوی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : قیامت کے روز دنیا کا نصف النہار نہیں ہوگا یہاں تک کہ یہ جنت میں اور یہ جہنم میں قیلولہ کریں گے۔ پھر یہ پڑھا : ثم ان مقیلھم لا لی الجیم۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت میں یہ اسی طرح ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس معنی میں وہ روایت ہے قیلوا فان الشیاطین لا تقیل، تم قیلولہ کیا کرو کیونکہ شیطان قیلولہ نہیں کرتا۔ قاسم بن اصبغ نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ “ میں نے عرض کی : یہ دن کتنا ہی طویل ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! یہ مومن پر خفیف ہوگا یہاں تک دنیا میں وہ جتنے وقت میں فرض نماز پڑھتا تھا اس سے بھی خفیف ہوگا “۔ ” ویوم تشقق السماء بالغمام “ اس دن کو یاد کرو جب آسمان بادلوں کی صورت میں پھٹ جائے گا۔ عاصم، اعمش، یحییٰ ، حمزہ، کسائی اور ابو عمرو نے تشقق شین کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، اصل میں تششقق تھا پہلی تاء کو تخفیف کے طریقہ پر حذف کردیا : ابو عبیدہ نے اسے پسند کیا ہے۔ باقی قراء نے تشقق شین کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے۔ سورة ق میں بھی اسی طرح ہے۔ بالغمام سے مراد عن الغمام ہے۔ باء اور عن ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں جس طرح تو کہتا ہے : رمیت بالقوس، رمیت عن القوس۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ آسمان سفید پتلے بادلوں کی صورت میں پھٹ جائے گا جس طرح کہر ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل کے لیے تیہ کے ریگستان میں ایسا ہی ہوا، آسمان اس بادل کی صورت میں پھٹ جائے گا اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :” ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلآَّ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللہ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ “ ( البقرہ : 210) ونزل الملئکۃ آسمان سے فرشتے نازل کیے جائیں گے، اللہ تعالیٰ فیصلہ کے لیے آٹھ فرشتوں کے جلو میں جلوہ گر ہوگا جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اس طریقہ پر جس پر اس کے آنے کے محمول کیا جاسکتا ہے، نہ اس طریقہ پر جس پر مخلوقات کے آنے کا محمول کیا جاتا ہے جس میں حرکت اور انتقال کی صورت ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : آسمان دنیا پھٹے گا تو اسکے مکیں اتریں گے زمین میں جتن جن و انس ہیں وہ فرشتے ان سے زیادہ ہوں گے پھر دوسرا آسمان پھٹے گا تو اس کے مکین اتریں گے وہ اس سے زیادہ ہوں گے جتنے آسمان دنیا میں تھے۔ پھر اس طرح ساتواں آسمان پھٹے گا، پھر مقرب فرشتے اتریں گے اور عرش کو اٹھانے والے فرشتے اتریں گے، اللہ تعالیٰ کے فرمان : ونزل الملئکۃ تنزیلا کا یہی معنی ہے یعنی جن و انس کے حساب کے لیے آسمان سے زمین کی طرف فرشتے اتریں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آسمان پھٹ جائے گا اس بادل کی صورت میں جو لوگوں اور آسمان کے درمیان میں ہے تو بادل پھٹ جائے سے آسمان کے پھٹ جائے گا۔ جب آسمان پھٹ جائے گا تو اس کا اتصال ختم ہوجائے گا، اسے لپیٹ دیا جائے گا اور فرشتے اس کے علاوہ مکان کی طرف اتریں گے۔ ابن کثیر نے وتنزل الملائکۃ نصب کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے نزل الملائکۃ رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس کی دلیل تنزیلا ہے اگر پہلے قول کے مطابق ہونا تو انزال کہتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے نزل اور انزل کا معنی ایک ہی ہے۔ تنزیلا، نزل کی بناء پر آیا ہے۔ عبد الوہاب نے ابو عمرو سے قرأت نقل کی ہے و نزل الملئکۃ تنزیلا حضرت ابن مسعود نے وانزل الملائکۃ حضرت ابی بن کعب نے ونزلت الملائکۃ قرأت کی ہے ان سے وتنزلت الملائکہ بھی مروی ہے۔ الملک یومئذ الحق للرحمن، الملک مبتداء ہے الحق اس کی صفت ہے للرحمن اس کی خبر ہے کیونکہ ایسی ملکیت جو زائل ہوجائے اور ختم ہوجائے وہ ملک نہیں، اس روز مالکوں کی ملکیتیں ختم ہوجائیں گی ان کے دعوے منقطع ہوجائیں گے۔ ہر بادشاہ کو بادشاہت اور حکومت زائل ہوجائے گی صرف حقیقی بادشاہت اللہ تعالیٰ رہ جائے گی۔ وکان یوما علی الکفرین عسیرا کافروں پر وہ دن بڑا سخت ہوگا، کیونکہ وہ ہولناکیوں پائیں گے اور انہیں حزن اور ذلت لاحق ہوگی۔ وہ دن مومنوں پر فرض نماز سے بھی خفیف ہوگا جس طرح حدیث میں پہلے گزر چکا ہے۔ یہ آت اس پر دال ہے کیونکہ کافروں پر جب مشکل ہے تو وہ مومنوں پر آسان ہوگا۔ اس کا باپ یوں ذکر کیا جاتا ہے۔ عسر یعسر عسر، یعسر۔
Ayahs 25:27–29

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن (ناعاقبت اندیش) ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا (اور کہے گا) کہ اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رشتہ اختیار کیا ہوتا

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے شامت کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس نے مجھ کو (کتاب) نصیحت کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے

(ویوم یعض۔۔۔۔۔ ) ویوم یعض الظالم علی یدیہ ماضی عضضت ہے کسائی نے عضضت پہلی ضاد کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے : اہل تفسیر سے یہ وضاحت آئی ہے، مفسرین سے مراد حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت سعید بن مسیب ہیں کہ یہاں ظالم سے مراد عقبہ بن ابی معیط اور اس کا دوست امیہ بن خلف ہے۔ عقبہ کو حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے قتل کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ غزوہ بدر کے قیدیوں میں تھا نبی کریم ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم ارشاد فرمایا : اس نے عرض کیا : کیا میں دوسرے کے بغیر قتل کیا جائوں گا ؟ فرمایا تیرے کفر اور تیری سرکشی کے باعث تجھے قتل کیا جائے گا۔ اس نے عرض کی، بچوں کے لیے کوئی ہے ؟ فرمایا : آگ۔ حضرت علی ؓ شیر خدا اٹھے اور اسے قتل کردیا۔ امیہ کو نبی کریم ﷺ نے قتل کیا۔ یہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کے دلائل میں سے ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے دونوں کے بارے میں خبر دی تھی تو دونوں کو کفر کی حالت میں قتل کردیا گیا۔ آیت میں ان دونوں کا نام نہیں لیا گیا کیونکہ فائدہ میں یہ زیادہ بلیغ ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ ظالم کا راستہ ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی معصیت کرتے ہوئے کسی اور کی بات کو قبول کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا : عقبہ نے اسلام لانے کا ارادہ کیا : ابی بن خلف نے اسے اس سے منع کیا وہ دونوں گہرے دوست تھے نبی کریم ﷺ نے دونوں کو قتل کیا۔ عقبہ غزوہ بدر کے موقع پر انتقام لینے کے لیے قتل کیا گیا اور ابی بن خلف غزوہ احد کے موقع پر دعوت مبارزت میں قتل ہوا۔ قشیری اور ثعلبی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ پہلا قول نحاس نے ذکر کیا ہے۔ سبیلی نے کہا :” ویوم یعض الظالم علی یدیہ “ سے مراد عقبہ بن ابی معیط ہے وہ امیہ بن خلف جمحی کا دوست تھا یہ بھی روایت کی جاتی ہے کہ وہ ابی بن خلف جحمی کا دوست تھا جو امیہ کا بھائی تھا۔ عقبہ نے ولیمہ کی دعوت کی اس نے قریش کو دعوت دی اور رسول اللہ ﷺ کو بھی دعوت دی، رسول اللہ ﷺ نے اس کے کھانے میں اس وقت تک شریک ہونے سے انکار کردیا یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرے۔ عقبہ نے اس بات کو ناپسند کیا کہ اس کی دعوت میں قریش کے سرداروں میں سے کوئی نہ آئے۔ اس نے اسلام قبول کرلیا اور زبان سے شہادتیں کو ادا کیا، رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لے آئے اور اس کا کھانا کھایا۔ اس کے دوست امیہ بن خلف نے عقبہ کو ملامت کی یا ابی بن خلف نے ملامت کی جو اس وقت موجود نہ تھا۔ عقبہ نے کہا : میں نے اس امر کو عظیم خیال کیا کہ میرے کھانے میں قریش کے اشراف میں سے کوئی غیر حاضرہو۔ اس کے دوست نے اسے کہا : میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گا یہاں تک کہ ٹوٹے، ان کے چہرے پر تھوکے اور ان کی گردن کو روندے اور تو یہ کہے : اللہ کے دشمن نے وہ سب کچھ کیا جو اس کے دوست نے اسے کہا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : ” ویوم یعض الظالم علی یدید “ ضحاک نے کہا : جب عقبہ نے نبی کریم ﷺ کے چہرے پر تھوکنا چاہا تو تھوک اس کے اپنے چہرے کی طرف لوٹ آئی اور اس کے چہرے اور اس کے ہونٹوں کو جلا دیا، یہاں تک کہ اس کے چہرے پر نشان چھوڑا اور اس کے رخساروں کو جلا دیا۔ اسکے چہرے پر وہ نشان باقی رہا۔ یہاں تک کہ وہ قتل ہوا۔ عصہ یدیہ یہ غمگین اور شرمندہ کا فعل ہے کیونکہ اس نے اپنے دوست کی اطاعت کی۔ ” یقول یلیتنی اتخذف مع الرسول سبیلا “ وہ کہے گا : ہائے کاش ! میں نے دنیا میں رسول اللہ ﷺ کی اتباع اپنا کر جنت کی طرف جانے والا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ یویلتی ہلاکت اور ویل کی بد دعا ہے جو اس نے کافر کی دوستی اختیار کی تھی اور اس کی متابعت کی تھی۔ ” لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلاً “ فلاں سے مراد امیہ ہے، کنایۃً اس کا ذکر کیا ہے صراحۃً ذکر نہیں کیا تاکہ وہ وعدہ اسی کے ساتھ مخصوص نہ ہو بلکہ جو بھی ان جیسا عمل کرے ان کو شامل ہو۔ مجاہد اور ابورجاء نے کہا : ظالم، ہر ظالم میں عام ہے :” فلان “ سے مراد شیطان ہے : اس قول کے کرنے والے نے ما بعد ارشاد سے استدلال کیا ہے :” وکان الشیطن للانسان خذولا۔ “ حضرت حسن بصری نے اسے یاویلتی پڑھا ہے، سورة ہود میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ الخلیل سے مراد صاحب اور صدیق ہے، اس کی وضاحت سورة النساء میں گزر چکی ہے۔ ” لقد اضلنی عن الذکر “ نادم یہ کہے گا : جس کو میں نے دنیا میں دوست بنایا ہے اس نے مجھے قرآن اور اس پر ایمان لانے سے گمراہ کردیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ’ ’ عن الذکر “ سے مراد عن الرسول ہے۔ ” وکان الشیطن للانسان خدولا “ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے، یہ ظالم کے قول کی حکایت نہیں اور کلام ” بعد اذجاءنی “ پر مکمل ہوجائے گی۔ خذل کا معنی اعانت کو ترک کرنا ہے، اسی سے ہے ابلیس نے مشرکوں کو بےیادرو مددگار چھوڑ دیا جب وہ مشرکوں کے سامنے سراقہ بن مالک کی صورت میں ظاہر ہوا جب اس نے فرشتوں کو دیکھا تو ان سے برأت کردی۔ ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے روکے اور اللہ تعالیٰ کی معصیت میں اس کی اطاعت کی جائے تو وہ انسان کا شیطان ہے جب عذاب اور آزمائش نازل ہوتی ہے تو اس وقت وہ بےیارومددگار ہوتا ہے، جس نے کہا کتنا اچھا کہا : اصحب خیار الناس حیث لقیتھم خیر الصابۃ من یکون غفیفا والناس مثل دراھم میز تھا فوجدت منھا فضۃ وزیوفا میں بہترین لوگوں کی سنگت اختیار کرتا ہوں جہاں بھی میں انہیں ملتا ہوں، بہترین دوست وہ ہوتا ہے جو پاک دامن ہو۔ لوگ دراہم کی طرح ہیں جن کی میں نے پرکھ کی تو میں نے ان میں سے کچھ چاندی اور کچھ کھوٹے پائے۔ صحیح میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” انما مثل الجلیس الصالح والجلیس السؤ کحامل المسک و نافخ الکیر فحامل المسک اما ان یحذیک واما ان تبتاع منہ واما ان تجد ریحا طیبۃ و نافخ الکیر اما ان یحرق ثمیابک واما ان تجد ریحا خبیثۃ (1) صالح دوست اور برے دوست کی مثال خوشبو بیچنے والے اور بھٹی والے کی سی ہے خوشبو بیچنے والا یا تو عطا کر دے گا یا تو اس سے خریدلے گا یا تو عمدہ خوشبو پائے گا اور بھٹی والا یا تو تیرے کپڑے جلا دے گا یا تو بد بو پائے گا : الفاظ مسلم کے ہیں۔ ابو دائود نے حضرت انس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ابوبکر بزار نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ﷺ ! ہمارے ساتھیوں میں سے کون سب سے بہتر ہے ؟ فرمایا : جس کا دیدار تمہیں اللہ تعالیٰ یاد دلائے، اس کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کر دے اور اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے “۔ مالک بن دینار نے کہا : اگر تو نیک لوگوں کے ساتھ پتھر اٹھائے تو یہ تیرے لیے اس سے بہتر ہے کہ تو فجار کے ساتھ حلوہ کھائے اور یہ شعر پڑھا : وصاحب خیار الناس تنج مسلما وصاحب شرار الناس یوما فتندما اچھے لوگوں کے ساتھ سنگت اختیار کر تو سلامتی کے ساتھ نجات پا جائے گا اور برے لوگوں کے ساتھ سنگت اختیار کر تو کسی روز ضرور شرمندہ ہوگا۔
Ayahs 25:30–31

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے گنہگاروں میں سے ہر پیغمبر کا دشمن بنادیا اور تمہارا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کو کافی ہے

( وقال الرسول۔۔۔۔۔ ) (1 ؎۔ سنن ابی دائود کتاب الادب باب من یزمر یجالس، حدیث 4191، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) وقال الرسول یرب رسول سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ رسول اللہ ﷺ ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہیں :” ان قوی اتخذوا ھذا القرآن مجھورا “ کفار نے قرآن حکیم کے بارے میں ناحق بات کی تھی کہ یہ جادو ہے، یہ شعر ہے، یہ مجاہد اور نخعی سے مروی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مجھورا کا معنی متروک ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد : ” وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا من المجرمین “ کے ساتھ تسلی دی، جس طرح اے محمد ! ہم نے مشرکوں میں سے آپ کے دشمن بنائے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کے قول میں وہ ابو جہل تھا۔ اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے ان کی قول کے مشرکوں کو ان کا دشمن بنا دیا، پس میرے حکم پر صبر کیجئے جس طرح انہوں نے صبر کیا، بیشک میں تجھے ہدایت دینے والا ہوں اور جو بھی تیرے ساتھ دشمنی رکھتا ہے اس کے خلاف تیری مدد کرنے والا ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رسول اللہ ﷺ کا قول : یرب یہ قیامت کے روز ہوگا، یعنی انہوں نے قرآن کو چھوڑا، مجھے چھوڑا اور مجھے جھٹلایا۔ حضرت انس ؓ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس نے قرآن کی تعلیم حاصل کی اور اپنے مصحف کو لٹکا دیا اس کی دیکھ بھال نہ کی اور اس کو نہ دیکھا وہ مصحف قیامت کے روز اس کے ساتھ چمٹے ہوئے آئے گا، وہ عرض کرے گا : اے رب العالمین ! تیرے اس بندے نے مجھے نظر انداز کردیا میرے اور اس کے درمیان فیصلہ فرما “۔ ثعلبی نے اس (1) کو ذکر کیا ہے۔ ” وکفی بریک ھادیا و نصیرا، مادیا و نصیرا “ حال یا تمیز ہونے کی حیثیت میں منصوب ہے یعنی تجھے ہدایت سے نوازے گا اور تیرے مدد فرمائے گا، تو جو تجھ سے دشمنی کرتا ہے ان کی پرواہ نہ کر۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : نبی کریم ﷺ کا دشمن ابو جہل ہے، اللہ تعالیٰ کی اس پر لعت ہو۔
Ayahs 25:32–33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ اس طرح آہستہ آہستہ اس لئے اتارا گیا کہ اس سے تمہارے دل کو قائم رکھیں اور اسی واسطے ہم اسکو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے ہیں

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور یہ لوگ تمہارے پاس جو (اعتراض کی) بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اسکا معقول اور خوب مشرح جواب بھیج دیتے ہیں

(وقال الذین کفرو۔۔۔۔۔۔ ) ” وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القرآن جملۃ واحدۃ “ اس کے تامل میں اختلاف کیا گیا ہے اس بارے میں دو قول ہیں : (1) قریش کے کفار ہیں : یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے (2) یہودی ہیں جب انہوں نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا نازل ہوتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا : یہ سارے کا سارا کیوں نہیں نازل کیا گیا جس طرح تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اور انجیل حضرت (علیہ السلام) اور زبور حضرت دائود (علیہ السلام) پر نازل کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” کذلک لنثت بہ فوادک “ ہم نے یہ اس طرح کیا تاکہ اس کے ذریعے آپ کے دل کو قول کریں، آپ اسے یاد کریں اور اس کو برداشت کر (1 ؎۔ اس روایت کی صحت پر سوال اٹھایا گیا ہے اس کی سند میں ابو بدیہ راوی ہے جو کذب ہے۔ ) لیں، کیونکہ سابقہ کتب ایسے انبیاء پر نازل کی گئیں جو لکھا پڑھنا جانتے تھے جب کہ قرآن نبی امی پر نازل کیا گیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن میں ناسخ و منسوخ ہے، اس میں سوالات کے جوابات ہیں جو سوالات پوچھے گئے تھے۔ ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا نازل کیا تاکہ نبی کریم ﷺ کو یاد ہوجائے، اس پر عمل کرنے والے کے لیے آسان ہو جب بھی نئی وحی آتی تو آپ ﷺ کے دل کی قوت میں اضافہ ہوجاتا۔ میں کہتا ہوں : اگر یہ کہا جائے قرآن حکیم کو ایک ہی دفعہ کیوں نازل نہ کیا گیا اور کیوں اسے یاد نہیں کروایا اگر یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں تھا ؟ اس کا جواب دیا جائے گا : اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ تھا کہ وہ ایک لحظہ میں کتاب اور قرآن کی تعلیم دے دیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اس کے حکم پر کوئی اعتراض نہیں کرسکتا، اس کی حکمت ہم بیان کرچکے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : کذلک یہ مشرکوں کے قول میں سے ہے ان کے قول کی حکایت ہے، یعنی آپ ﷺ پر قرآن تورات، انجیل کی طرح کیوں نہیں یکبارگی نازل کی یا گیا تو کذلک پر وقف مکمل ہوجاتا ہے پھر لنثتت بہ فوادک نئی کلام شروع ہوتی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ وقف جملۃ واحدۃ پر ہو پھر نئے سرے سے کلام شروع ہو کذلک لنثتت بہ فوادک اس کا معنی یہ ہوگا ہم نے آپ ﷺ پر اس طرح اس لیے نازل کیا ہے تاکہ آپ ﷺ کے دل کو اس کے ساتھ مضبوط کریں۔ ابن انباری نے کہا : پہلی توجیہ زیادہ عمدہ اور زیادہ اچھی ہے۔ دوسرے قول کی تفسیر آئی ہے۔ محمد بن عثمان شیبی، منجاب سے وہ مبشر بن عمارہ سے وہ ابو روق سے وہ ضحاک سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے ” انا انزلنہ فی لیلۃ القدر۔ “ کی تفسیر روایت نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قرآن حکیم لوح محفوظ سے آسمان میں سفرہ کراما کاتبین پر ایک ہی بار نازل ہوا۔ سفرہ کراما کاتبین نے اسے حضرت جبریل امین پر بیس راتوں میں نازل کیا اور حضرت جبریل امین بیس (1) سال تک حضرت محمد ﷺ پر تھوڑا تھوڑا کر کے لاتے رہے۔ کہا : ما بعد آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے ” فلا اقسم بمو قع النجوم۔ “ (الواقعہ) یہاں نجوم سے مراد قرآن کی آیات ہیں ” وانہ لقسم لو تعلمون عظیم۔ انہ لقران کریم۔ “ (الواقعہ) جب قرآن حکیم ایک ہی بار نبی کریم ﷺ پر نازل نہیں کیا گیا تو کافروں نے کہا : آپ ﷺ پر قرآن حکیم ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” کذلک لنثت بہ فوادک “ خطاب حضرت محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کو ہے ” ورتلنہ ترتیلا “ یعنی ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا۔ ” ولا یاتونک بمثل الا جئنک بالحق واحسن تفیر “ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اگر ہم قرآن حکیم کو آپ پر ایک ہی دفعہ نازل کرتے ہوئے پھر وہ آپ ﷺ سے سوال کرتے تو آپ ﷺ وہی جواب دیتے جو آپ ﷺ کے پاس ہوتا لیکن ہم اسے آپ پر روکے رکھتے ہیں جب وہ سوال کرتے ہیں تو آپ جواب دے دیتے ہیں۔ نحاس نے کہا : یہ نبوت کی علامات میں سے ہے، کیونکہ وہ کوئی سوال نہیں کرتے مگر انہیں جواب دیا جاتا ہے، یہ ایک نبی سے ہی ہوسکتا ہے۔ یہ ان کے دلوں کو ثابت اور پختہ کرنا ہے، اس پر یہ آیت دلالت کرتی ہے : ” ولا یاتونک بسئل الا جئنک بالحق واحسن تفسیر۔ “ اگر وہ تمام (1 ؎۔ وحی کا دورانیہ بائیس سال سے اوپر بنتا ہے۔ مترجم) ۔ فرائض جو اس میں ہیں وہ یکبارگی نازل ہوجاتے تو یہ امر ان پر ثقیل ہوجاتا، اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ بہترین انہیں الگ الگ نازل کرنے میں ہے کیونکہ انہیں یکے بعد دیگر آگاہ کیا جاتا تھا۔ اگر وہ یہ ایک ہی بار نازل ہوجاتا تو تنبیہ کا معنی زائل ہوجاتا جب کہ اس میں ناسخ و منسوخ بھی ہے۔ لوگ ایک وقت تک ایک فرض کی پیروی کرتے اللہ تعالیٰ جس میں ان کی بھلائی دیکھتا پھر اس کے بعد نسخ کا حکم نازل ہوجاتا ہے تو یہ امر محال تھا کہ یہ سب ایک ہی دفعہ نازل ہوتا : اس طرح کرو اور اس طرح نہ کرو۔ نحاس نے کہا : بہتر یہ ہے کہ ” جملۃ واحدۃ “ پر مکمل ہوجائے کیونکہ جب کذبک پر عطف ہو تو معنی ہوجائے گا تورات انجیل اور زبور کی طرح جب کہ ان کا پہلے ذکر نہیں ہوا۔ ضحاک نے کہا :’ ’ واحسن تفسیر “ یعنی اچھی تفصیل معنی ہے انہوں نے جن کی مثال دی ہے تفصیل کے اعتبار سے ان سے احسن ہے، سامع کے جاننے کی وجہ سے یہ حذف کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مشرک اہل کتاب سے مدد لیتے ہیں جب کہ اہل کتاب پر تحریف غالب آچکی تھی تو نبی کریم ﷺ جو بھی لاتے وہ اچھی تفسیر ہوتی اس کی بنسبت، جو چیز ان کے پاس تھی، کیونکہ وہ حق کو باطل کے ساتھ خلط مسلط کردیتے تھے خالص حق اس حق سے اچھا ہوتا ہے جس میں باطل کی آمیزش ہو، اسی وجہ سے فرمایا :” ولا تلبسوا الحق بالباطل “ (البقرہ : 42) ایک قول یہ کیا گیا ہے :” ولا یاتونک بمثل “ ان کے اس قول کی طرح ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کہتے تھے کہ انہیں بغیر باپ کے پیدا کیا گیا ہے ” الا جئنک بالحق “ ہم ایسا حق لاتے ہیں جس میں ان کی دلیل کا توڑ ہے جس طرح حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں کیونکہ آپ کو باپ اور ماں کے بغیر پیدا کیا گیا ہے۔
Ayah 25:34

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مونہوں کے بل دوزخ کی طرف جمع کیے جائیں گے ان کا ٹھکانا بھی برا ہے اور وہ راستے بھی بہکے ہوئے ہیں

(اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ) ” اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ اِلٰی جَہَنَّمَ “ سورة اسراء میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ ” اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا “ کیونکہ وہ جہنم میں ہیں۔ مقاتل نے کہا : کفار نے حضور ﷺ کے صحابہ کے مارے میں کہا : یہ مخلوق میں سے سب سے برے ہیں، تو یہ آیت نازل ہوئی :” اضل سبیلا “ دین اور طریقہ کے اعتبار سے گمراہ ہیں۔ معنی یہ بنتا ہے : وہ آپ پر کوئی مثال نہیں لائیں گے مگر ہم منبی بر حق اس کا جواب لائیں گے۔ ان کے خلاف واضح دلائل سے آپ کی مدد کی گئی ہے جب کہ انہیں منہ کے بل ہانکا جائے گا۔
Ayahs 25:35–36

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے بھائی ہارون کو مددگار بنا کر ان کے ساتھ کیا

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

اور کہا کہ دونوں ان لوگوں کے پاس جاؤ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی (جب تکذیب پر اڑے رہے) تو ہم نے انکو ہلاک کر ڈالا

( ولقد اتینا موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ ) وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ ، کتاب سے مراد ہے وَجَعَلْنَا مَعَہٗٓ اَخَاہُ ہٰـرُوْنَ وَزِیْرًا۔ سورة طہٰ میں بحث گزر چکی ہے۔ فقلنا اذھبا خطاب ان دونوں کو ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اکیلے جانے کا حکم دیا گیا تھا یہ کلام اس طرح ہے جس طرح ارشاد ہے :” نسیا حوتھما “ ( الکہف : 61) ” یخرج منھما اللولو والمرجان۔ “ ( الرحمن) حالانکہ یہ ایک سمندر سے نکلتے ہیں یعنی صیغہ تثنیہ کا ذکر کیا گیا ہے اور مراد ایک ہے۔ نحاس نے کہا : یہ ایسی بات جو مناسب نہیں کی تھی کہ کتاب اللہ پر اس سے جرأت کی جاتی، جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” فَقُوْلَا لَـہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی۔ قَالَا رَبَّنَآ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَآ اَوْ اَنْ یَّطْغٰی۔ قَالَ لَا تَخَافَآ اِنَّنِیْ مَعَکُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰی۔ فَاْتِیٰـہُ فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّکَ (طہٰ :) اس کی مثال یہ ارشاد ہے ” ومن دونھما جنتین۔ “ ( الرحمن) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :” ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی وََاَخَاہُ ہٰـرُوْنَ بِاٰیٰـتِنَا “ (المومنون : 45) تمام آیات میں دونوں کو خطاب اور حکم ہے۔ قشیری نے کہا : ایک اور جگہ پر اس کا قول ہے :’ ’ اِذْہَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی۔ “ (طہ : 24) یہ اس کے منافی نہیں کیونکہ جب دونوں مامور ہیں تو ہر ایک بھی مامور ہے، یہ کہنا جائز ہے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا پھر جب انہوں نے عرض کی : میرے خاندان میں سے میرا ایک وزیر بنادے، تو ارشاد ہوا : ” اذھبا الی فرعون “ ( طہ : 43 ) ” الی القوم الذین کذبوا باتینا “ اس سے مراد فرعون، ہامان اور قبطی ہیں۔ فدمرنھم تدمیر اس کلام میں اضمار ہے کلام یوں ہے فکذبوھما فدمرنا تد میرا یعنی ہم نے انہیں ہلاک کردیا۔
Ayah 25:37

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور نوح کی قوم نے بھی جب پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے انھیں غرق کر ڈالا اور لوگوں کے لئے نشانی بنادیا اور ظالموں کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

( وقوم نوح لما۔۔۔۔۔ ) وقوم نوح لفظ قوم کے منصوب ہونے میں چار قول ہیں : فد مرتھم، ھم کی ضمیر پر اس کا عطف ہے (2) اذکر فی کی وجہ سے نصب ہے (3) ایسا فعل مضمر ہے جس کی تفسیر ما بعد فعل کر رہا ہے تقدیرکلام یہ ہے ” اغرقنا قوم نوح اغرقناھم “ (4) اغرقتھم کی وجہ سے منصوب ہے : یہ فراء کا قول ہے۔ نحاس نے اسے رد کیا ہے، کہا اغرقنا ایسا فعل نہیں جو دو مفعولوں کی طرف متعدی ہو کہ وہ ضمیر اور قول نوح میں عامل ہیں۔ لما کذبو الرسل جنس کا ذکر کیا مراد صرف حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں، کیونکہ اس وقت سوائے حضرت نوح کے کوئی ان کی طرف رسول نہیں تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس لیے مبعوث کیا گیا تھا کہ وہ لوگوں کو لا الہ الا اللہ کی طرف دعوت دینے اور اللہ تعالیٰ نے جو نازل کیا ہے اس پر ایمان لانے کی دعوت کے لیے مبعوث کیے گئے تھے جب انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو اس جھٹلانے میں ان تمام کا جھٹلانا آگیا جو اس کلمہ کے ساتھ مبعوث کیے گئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس نے ایک رسول کو جھٹلایا اس نے تمام رسولوں کو جھٹلایا، کیونکہ ایمان لانے کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا، کیونکہ ہر نبی تمام انبیاء کی تصدیق کرتا ہے جس نے ان میں سے کسی ایک نبی کو جھٹلایا تو اس نے گویا ان تمام کو جھٹلایا جنہوں نے اس کی تصدیق کی تھی۔ اغرقتھم طوفان کے ساتھ ہم نے انہیں غرق کردیا، سورة ہود میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ وجعلنھم للناس ایۃً اپنی قدرت پر اسے اہر علامت بنایا۔ واعتدنا للظلمین عذابا الیما قوم نوح میں سے مشرکوں کے لیے آخرت میں ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہر ظالم کے بارے میں یہی میرا طریقہ ہے۔
Ayah 25:38

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں اور ان کے درمیان اور بہت سی جماعتوں کو بھی (ہلاک کر ڈالا)

(وعاد اوثمود ” وعاد او ثمودا او اصحب الرس و قرونا بین ذلک کثیرا “ یہ سب قوم نوح پر معطوف ہیں جب قوم نوح معطوف یا اذکر فعل کی وجہ سے منصوبہ ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ قد مرنھم کیھم ضمیر پر عطف کی وجہ سے منصوب ہو یا جعلنھم کی ھم ضمیر پر عطف کی وجہ سے منصوب ہو، یہ نحاس کا پ سندیدہ نقطہ نظر ہے، کیونکہ یہی اسکے قریب تر ہے، یہ بھی جائز ہے کہ یہ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہو یعنی اس قوم عاد کو یاد کرو جنہوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے بانجھ ہوا کے ساتھ انہیں ہلاک کردیا اور قوم ثمود کو یاد کرو جنہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو انہیں زلزلہ کے ساتھ ہلاک کردیا۔ واصحب الرس لغت عرب میں رس سے مراد ایسا کنواں ہے جس کی چنائی نہ کی گئی ہو اس کی جمع رس اس ہے کہا : تنا بلۃ یحفرون الرساسا یعنی معدنیات کے کنویں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : میں نے حضرت کعب سے اصحاب رس کے بارے میں پوچھا، انہوں نے جواب دیا : صاحب یس جس نے کہا تھا : اے میری قوم ! رسولوں کی اتباع کرو، اس کی قوم نے اسے قتل کردیا اور اپنے کنویں میں ڈال دیا جسے رس کہتے انہوں نے اسے رس میں پھینک دیا تھا، مقاتل نے یہی کہا۔ سدی نے کہا : قصہ یس والے اہل انطاکیہ ہیں، رس انطاکیہ میں ایک کنواں تھا جس میں لوگوں نے حبیب نجار کو قتل کیا تھا جو آل یس کا مومن تھا تو وہ لوگ اس کنویں کی طرف منسوب ہوگئے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : یہ وہ قوم تھی جو صنوبر کے درخت کی پوجا کرتی تھی ان کے نبی نے ان کے خلاف بد دعا کی جو یہود کی اولاد میں سے تھے وہ درخت خشک ہوگیا لوگوں نے اس نبی کو قتل کردیا اور اس کنویں میں بند کردیا سیاہ بادل ان لوگوں پر سیاہ فگن ہوگیا اور انہیں جلا دیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آذر بائیجان میں ایک قوم تھی جنہوں نے انبیاء کو قتل کیا ان کے درخت اور کھیتیاں خشک ہوگئیں وہ بھوک اور پیاس سے مر گئے ابن وہب بن منبہ نے کہا وہ کنویں والے تھے وہ اس کے اردھ گرد بیٹھا کرتے تھے اور وہ مویشوں کے مالک تھے وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ان کی طرف بھیجا انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور آپ کو اذیتیں دیں اور اپنے کفر و سرکشی میں حد سے بڑھ گئے۔ اسی اثناء میں کہ وہ اپنے گھروں میں اس کے گرد بیٹھے ہوئے تھے تو وہ انہیں اور ان کے گھروں کو بہا کرلے گئے اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین میں دھنسا دیا اور وہ سب ہلاک ہوگئے۔ قتادہ نے کہا : اصحاب رس اور اصحاب ایکہ دو امتیں تھیں دونوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے آپ کو جھٹلایا اللہ تعالیٰ نے دومختلف عذابوں میں انہیں مبتلا کیا۔ قتادہ نے کہا : رس ایک دیہات تھا جو یمامہ کے علاقہ میں تھا۔ عکرمہ نے کہا : یہ ایسی قوم تھے جنہوں نے اپنے نبی کو زندہ ایک کنویں میں دفن کردیا تھا، اس کی دلیل وہ روایت ہے جو محمد بن کعب قرظی سے نقل کی گئی ہے جو انہوں نے اس راوی سے نقل کی جس نے یہ بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے روز جنت میں سب سے پہلے ایک حبشی غلام داخل ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک نبی اس کی اپنی قوم کی طرف بھیجا اس نبی پر اس سیاہ غلام کے سوا کوئی ایمان نہ لایا بستی والوں نے ایک گڑھا کھودا اور اپنے نبی کو زندہ اس میں پھینک دیا۔ اور اس پر ایک بڑا پتھر رکھ دیا۔ وہ سیاہ غلام اپنی پشت پر لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بیچتا، اس سے کھانا اور مشروب خریدتا اس پتھر کو ہٹانے میں اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا یہاں تک کہ وہ کھانا اس نبی تک لٹکا دیتا اس اثناء میں کہ وہ لکڑیاں کاٹ رہا تھا کہ وہ سو گیا تو اللہ تعالیٰ نے سات سال تک اسے سلائے رکھا پھر وہ نیند سے بیدار ہوا پھر وہ دراز ہوگیا اور بائیں پہلو پر ٹیک لگائی تو اللہ تعالیٰ نے سات سال تک اسے سلائے رکھا پھر وہ اٹھا کر لکڑیوں کا گٹھا اٹھایا اسے بیچا اور کھانا پانی کنویں کے پاس لایا تو اس نبی کو نہ پایا۔ اس نبی کو قوم کو اللہ نے ایک نشانی دکھائی تو انہوں نے اسے نکالا، اس پر ایمان لائے، اس کی تصدیق کی اور وہ نبی وصال کر گئے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” وہ سیاہ غلام سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگا “۔ اس واقعہ کو مہدوی اور ثعلبی نے ذکر کیا ہے الفاظ ثعلبی کے ہیں۔ کہا : یہ لوگ اپنے نبی پر ایمان لے آئے تھے تو یہ جائز نہیں کہ یہ لوگ اصحاب الرس ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب رس کے بارے میں خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں برباد کردیا مگر یہ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے نبی کے بعد کوئی ایسے افعال کیے ہوں جن کی وجہ سے انہیں برباد کیا گیا ہو۔ کلبی نے کہا : اصحاب رس سے مراد ایسی قول ہے اللہ تعالیٰ نے جن کی طرف نبی بنا کر بھیجاتو وہ اپنے نبی کو کھا گئے یہ وہ پہلے لوگ ہیں جن کی عورتوں نے ہم جنسی کا عمل کیا، ماوردی نے اسی کا ذکر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد اصحاب اخدود ہیں جنہوں نے خندقیں کھودیں اور مومنوں کو ان میں جلایا، اس کا ذکر بعد میں آئے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا یہ قوم ثمود کے بقایا لوگ تھے رس وہی کنواں ہے جس کا ذکر سورة حج میں ویئر معطلۃ میں ہوا جس طرح پہلے گزر چکا ہے۔ صحاح میں رس کنویں کا نام ہے جو قوم ثمود کے باقی ماندہ افراد کا تھا۔ امام جعفر بن محمد نے اپنے باپ سے روایت نقل کی ہے : اصحاب رس ایسی قوم ہے جو اپنی عورتوں کے لیے سحق ( ہم جنسی) کو پسند کرتے تھے ان کی تمام عورتیں ہم جنس پرست تھیں۔ حضرت انس ؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ مرد مردوں اور عورتیں اور عورتوں پر اکتفا کریں گی “۔ یہی سحق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رس بنی اسد کا چشمہ اور شجوریں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ رس سے مراد پہاڑوں میں تہہ در تہہ برف ہے : قشیری نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ہم نے جو پہلے ذکر کیا ہے وہ معروف ہے اس سے مراد ہر وہ گڑھا ہے جسے کھودا جائے جس طرح قبر، کان اور کنواں۔ ابو عبید نے کہا : رس سے مراد ایسا کنواں ہے جس کی چنائی نہ کی گئی ہو۔ اس کی جمع رس اس ہے۔ شاعر نے کہا : وھم سائرون الی ارضھم فیالیتھم یحضرون الرساس وہ اپنے علاقہ کی طرف جا رہے ہیں، کاش ! وہ کنویں کھود لیتے۔ زہیر کے قول میں رس وادی کا نام ہے۔ فھن لوادی الرس کالیدللفم وہ وادی رس کے لیے ایسی ہیں جس طرح منہ کے لیے ہاتھ۔ رسست رسا میں نے کنواں کھودا۔ رس المیت میت کو قبر میں دفن کیا گیا۔ رس کا معنی لوگوں کے درمیان اصلاح ہے اس کا معنی فاسد کرنا بھی ہے۔ قدر سست بینھم میں نے ان کے درمیان صلح کرا دی، میں نے ان کے درمیان فساد برپا کردیا، یہ اضداد میں سے ہے۔ اصحاب رس کے بارے میں اس کے علاوہ بھی بات کی گئی ہے جو کچھ ہم نے کہا : ثعلبی اور دوسرے علماء نے یہ ذکر کیا ہے۔ وقرونا بین ذلک کثیرا قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود ور اصحاب رس کے درمیان ایسی امتیں ہو گزری ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ربیع بن خیثم کے بارے میں مروی ہے کہ وہ بیمار ہوئے تو ان سے عرض کی گئی : کیا آپ دوائی نہیں کریں گے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں حکم دیا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے اس کا قصد کیا پھر میرے اور میرے نفس کے درمیان جو معاملات تھے ان کے بارے میں غور و فکر کیا تو کیا پاتا ہوں کہ قوم عاد، قوم ثمود، اصحاب رس اور درمیان میں بیشمار قومیں ہیں جو مال جمع کرنے کی زیادہ حریص تھیں ان میں طیب بھی تھے نہ ان میں کوئی تعریف کرنے والا بچا اور نہ وہ بچا جس کی تعریف کی گئی۔ انہوں نے دوائی کرنے سے انکار کردیا صرف پانچ دن تک وہ زندہ رہے یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئے اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔
Ayah 25:39

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور سب کے (سمجھانے کے لئے) ہم نے مثالیں بیان کیں اور (نہ ماننے پر) سب کا تہس نہس کردیا

(وکلا ضربنا لہ۔۔۔۔ ) زجاج نے کہا : معنی ہے ہم نے سب کو ڈرایا، ان کے لیے امثال بیان کیں اور ان کے لیے حجت کو واضح کیا۔ ہم نے ان کی باطل امثال ذکر نہیں کیں جس طرح یہ کافر کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلا کو نصب، ذکرنا فعل کی وجہ سے ہے کیونکہ امثال کا ذکر کرنا یہ بھی وعظ و نصیحت ہے : مہدوی نے اس کا ذکر کیا۔ معنی ایک ہی ہے۔ ہم نے سب کو عذاب کے ساتھ ہلاک کردیا۔ تبرت الشئی میں نے اسے توڑ دیا۔ مورج اور اخفش نے کہا : ہم نے انہیں برباد کردیا، یعنی ” تبرنا تتبیرا “ کا معنی ” فد مرنھم تد میرا “ ہے تاء اور باء، دال اور میم سے بدلی ہوئی ہے۔
Ayah 25:40

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ کافر اس بستی پر بھی گزر چکے ہیں جس پر بری طرح مینہ برسایا گیا تھا کیا وہ اس کو دیکھتے نہ ہونگے ؟ بلکہ ان کو (مرنے کے بعد) جی اٹھنے کی امید ہی نہیں تھی

(ولقد اتوا۔۔۔۔۔ ) ولقد اتوا علی القریۃ وائو ضمیر سے مراد مشرکین مکہ ہیں قریۃ سے مراد قوم لوط کی بستی ہے۔ مطر السوء وہ پتھر جو ان پر برسائے گئے۔ افلم یکونو یرونھا کیا انہوں نے اپنے سفروں میں نہیں دیکھا تاکہ وہ عبرت حاصل کریں ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قریش شام کی طرف تجارتی سفر میں قوم لوط کے شہروں کے پاس سے گزرتے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَاِنَّـکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْہِمْ مُّصْبِحِیْنَ ۔ “ (الصافات) فرمایا :” وانھما لبامام مبین “ ( الحجر) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے ” بل گانو لا یرجون نشورا۔ “ وہ بعث کی تصدیق نہیں کرتے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یرجون کا معنی ہے وہ خوف کرتے ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ وہ اپنے اصل معنی پر ہو اس کا معنی ہوگا : وہ آخرت کے ثواب کی امید نہیں رکھتے۔
Ayah 25:41

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب تم کو دیکھتے ہیں تو تمہاری ہنسی اڑاتے ہیں کیا یہی شخص ہے جس کو خدا نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ؟

( واذا راوک ان۔۔۔۔۔۔ ) واذا راوک ان یتخذو نک الا ھزوا، اذا کا جواب ان یتخذونک ہے کیونکہ اس کا معنی یتخذونک ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جواب مخذوف ہے وہ قالوایا یقولون اھذا الذی ہے۔ ان یتخذبونک الا ھزوا جملہ معترضہ ہے، یہ آیت ابوجہل کے متعلق میں نازل ہوئی۔ وہ استہزا کے طور پر نبی کریم ﷺ کے بارے میں کہتے تھے : اھذا الذی بعث اللہ رسولا ضمیر عائد منصوب ہے تقدیر کلام ہوگی۔ بعثہ اللہ۔ رسولا حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے تقدیر کلام یہ ہے اھذا الذی بعثہ اللہ مرسلا۔ اھذا مبتداء ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے۔ الذی اس کی خبر ہے رسولاحال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ بعث، الذی صلہ ہے لفظ اللہ اسم جلالت بعث کی وجہ سے مرفوع ہے، یہ بھی جائز ہے کہ رسولا مفعول مطلق ہو کیونکہ بعث کا معنی ارسل ہے تو رسولا کا معنی رسالۃ ہوگا، ہمزہ استفہام تقریر کے لیے یا احتقار ( حقیر جاننا) کے لیے ہوگا۔ ان گا ولیضلنا انہوں نے کہا : قریب تھا کہ وہ ہمیں پھیر دے۔ عن الھتنا لولا ان صبرنا علیھا ہم نے اس کی عبادت پر اپنے آپ کو محبوس رکھا۔ وسوف یعلمون حین یرون العذاب من اضل سبلا یعنی کون ازروئے دین کے گمراہ ہے وہ یا حضرت محمد ﷺ ۔ عزوہ بدر کے موقع پر وہ یہ سب کچھ دیکھ چکے تھے۔
Ayahs 25:42–43

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

اگر ہم اپنے معبودوں کے بارے میں ثابت قدم نہ رہتے تو یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا (اور ان سے پھیر دیتا) اور یہ عنقریب معلوم کرلیں گے جب عذاب دیکھیں گے کہ سیدھے راستے سے کون بھٹکا ہوا ہے

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا رکھا ہے ؟ تو کیا تم اس پر نگہبان ہوسکتے ہو ؟

( اریت من۔۔۔۔۔۔ ) ارء یت من اتخذ الھہٗ ھوہٗ اپنے نبی کو تعجب کرنے کا حکم دیا کہ وہ اپنے دل سے شرک کو چھپائے ہوئے ہیں، یہ اقرار کرنے کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق اور رازق ہے وہ شرک پر اصرار کرتے ہیں پھر ایسے پتھر کا قصد کرتے ہیں جس کی دلیل کے بغیر عبادت کرتے ہیں۔ کلبی اور دوسرے علماء نے کہا : عربوں میں سے کوئی جب کسی شی سے محبت کرتا تو اللہ تعالیٰ کی ذات کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتا، جب اس سے زیادہ خوبصورت چیز کو دیکھتا تو پہلی چیز کو چھوڑ دیتا اور زیادہ خوبصورت چیز کی عبادت کرنے لگتا۔ اس آیت کا یہ معنی بنتا ہے ارء یت من اتخذ الھہٗ بھواہ حرف جار کو حذف کردیا گیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ھو مبعود ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کو چھوڑ کر اس کی عبادت کی جاتی ہے پھر اس آیت کی تلاوت کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اتخذ الھہٗ ھواہٗ اس نے اپنی خواہش کی اطاعت کی۔ حضرت حسن بصری سے مروی ہے : وہ کسی شے سے محبت نہیں کرتا مگر اس کی پیروی کرتا ہے، معنی ایک ہی ہے۔ افانت تکون علیہ وکیلا کیا تو اس پر نگہبان اور ضامن ہے یہاں تک کہ تو اسے ایمان کی طرف لوٹاتا ہے اور اس فساد سے نکالتا ہے، یعنی ہدایت اور گمراہی تیری مشیت کے سپرد نہیں، آپ ﷺ کے ذمہ تبلیغ حق کرنا ہے۔ یہ قدریہ کا رد ہے۔ پھر ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت قتال کے ساتھ منسوخ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت منسوخ نہیں، کیونکہ آیت نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے نازل ہوئی۔
Ayah 25:44

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

یا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ (ن ہیں) یہ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں

( ام تحسب ان اکثرھم۔۔۔۔۔ ) ام تحسب ان اکثر ھم یسمعون او یعقلون، انھم نہیں فرمایا کیونکہ ان میں سے ایسے افراد بھی تھے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ وہ ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ان کی مذمت کی ہے۔ یہاں سننے سے ایسا سننا ہے جو قبولیت کا سننا ہے یا جو آپ کہتے ہیں اس میں غور و فکر کرتے ہیں تو وہ اسے سمجھ جاتے ہیں یعنی وہ اس آدمی کی جگہ ہیں جو عقل نہیں رکھتے اور نہ ہی اسے سنتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے جب وہ اس چیز سے نفع حاصل نہیں کرتے جس کو سنتے ہیں تو گویا انہوں نے سنا ہی نہیں، مراد اہل مکہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ام اس قسم کے موقع میں بل کے معنی میں ہوتا ہے۔ ان ھم الا کالا نعام وہ کھانے پینے میں چوپائوں کی طرح ہیں۔ چوپائوں پر نہ کوئی حساب ہے اور نہ ہی سزا۔ مقاتل نے کہا : چو پائے اپنے رب کو پہچانتے ہیں اپنی چراگاہوں کی طرف چلے جاتے ہیں اور وہ مالک جو انہیں چارہ کھلاتے ہیں ان کی وہ اطاعت کرتے ہیں یہ نہ اطاعت کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے اس رب کو پہچانتے ہیں جس نے انہیں پیدا کیا اور انہیں رزق دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : چوپائے ان سے افضل اس لیے ہیں کیونکہ چوپائے اگرچہ توحید و نبوت کی صحت کو نہیں سمجھتے تو وہ ان کے بطلان کو بھی نہیں سمجھتے۔
Ayahs 25:45–46

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

بھلا تم نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کو نہیں دیکھا کہ وہ سائے کو کس طرح دراز کر کے پھیلا دیتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اس کو بےحرکت ٹھہرا رکھتا پھر سورج کو اس کا رہنما بنادیا ہے

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں

( الم ترالی ربک۔۔۔۔۔۔۔ ) الم ترالی ربک کیف مدا الظل یہ جائز ہے کہ روایت سے مراد آنکھ سے دیکھنا ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس سے مراد علم ہو۔ حضرت حسن بصری، قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا : فجر کے طلوع سے لے کر سورج کے طلوع تک سایہ کو لمبا کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد سورج کے غائب ہونے سے اس کے طلوع تک کا وقت ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے، اس پر یہ دلیل یہ ہے کہ اس ساعت پر بڑھ کر کوئی ساعت اچھی نہیں کیونکہ اس میں مسافر ہو اور ہر بیمار راحت پاتا ہے، ان میں مرد و زن کی روحیں اور نفوس جسموں کی طرف لوٹائے جاتے ہیں، اس میں زندوں کے نفوس خوش ہوتے ہیں مغرب کے بعد یہ صفت مفقود ہوتی ہے۔ ابو العالیہ نے کہا : جنت کا دن اس طرح ہوگا۔ صبح کی نماز پڑھنے والوں کی ساعت کی طرف اشارہ کیا۔ ابو عبیدہ نے کہا : ظل پہلے پہر اور فئی پچھلے پہر ہوتا ہے کیونکہ سورج کے ڈھلنے کے بعد وہ لوٹتا ہے۔ اسے فئی کا نام دیا گیا ہے کیونکہ وہ مشرق سے مغرب کی جانب پلٹتا ہے۔ شاعر جو حمید بن ثور ہے وہ سرحہ درخت کی صفت بیان کرتا ہے اور اس کے ساتھ اپنی بیوی کا کنایہ کے طور پر ذکر کرتا ہے : فلا الظل من برد الضحی تستطیعہ ولا الفئی من برد العشی تذوق تو چاشت کے ٹھنڈے سایہ کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ پچھلے پہر کے سایہ کو چکھتا ہے۔ ابن سکیت نے کہا : ظل اسے کہتے ہیں جسے سورج ختم کردیتا ہے اور فئی اسے کہتے ہیں جو سورج کو ختم کردیتا ہے۔ ابو عبید نے رئوبہ سے یہ حکایت بیان کی ہے جس پر سورج ہو اور سورج اس سے زائل ہوجائے تو وہ لئی اور ظل ہے جب تک اس پر سورج نہ چمک رہا ہو تو وہ ظل ہوتا ہے۔ ولو شاء لعجلہ ساکنا اگر اللہ تعالٰ چاہتا تو اسے دائمی اور ساکن بنا دیتا سورج اس کو ختم نہ کرتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد یوم قیامت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سورج کو طلوع ہونے سے روک دیتا۔ ثم جعلنا الشمس علیہ ولیلاً ہم نے سورج کو ( اس لیے کہ اس کے آنے کے وقت وہ سایہ کو ختم کردیتا ہے) اس امر پر دلیل بنا دیا ہے کہ ظل شے اور معنی ہے کیونکہ اشیاء کو اضداد سے پہچانا جاتا ہے اگر سورج نہ ہو تو سایہ کی پہچان نہ ہوتی اگر نور نہ ہوتا تو تاریکی کی پہچان نہ ہوتی۔ دلیل کا لفظ فعیل کے وزن پر ہے اور ہم فاعل کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مفعول کے معنی میں ہے جس طرح قتیل، دھین اور خصیب مفعول کے معنی میں ہیں۔ ہم نے سورج کو سایہ پر دلیل بنایا یہاں تک کہ سورج اسے لے گیا یعنی ہم نے اسے اس پر دلیل بنایا، یعنی سورج دلیل یعنی حجت اور برہان ہے وہی ذات ہے جو مشکل کو دور کرتی ہے اور اسے واضح کرتی ہے۔ دلیل کو مونث نہیں بنایا جب کہ یہ الشمس کی صفت ہے کیونکہ یہ اسم کے معنی میں ہے جس طرح کہا جاتا ہے : الشمس برہان والشمس حق۔ ثم فضنہ ہ ضمیر سے مراد پھیلا ہوا سایہ ہے۔ الینا قبضا یسیرا اس کا قبض کرنا ہم پر آسان ہے ہر امر اللہ تعالیٰ پر آسان ہے سایہ اس قضا میں اتنی دیر ہی رہتا ہے جتنا وقت فجر کے طلوع ہونے سے سورج کے طلوع ہونے تک رہتا ہے جب سورج طلوع ہوجاتا ہے تو سایہ مقبوض ہوجاتا ہے۔ فضاء میں اس کے پیچھے سورج کی شعاع ہوتی ہے جو سورج کے غروب ہونے تک زمین اور اشیاء پر چمکتی ہے۔ جب وہ غروب ہوجاتا ہے تو وہاں کوئی سایہ نہیں ہوتا، بیشک وہ دن کے نور کا باقی ماندہ حصہ ہوتا ہے۔ ایک قوم نے کہا : سایہ کا قبض غروب شمس کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ جب تک سورج غروب نہیں ہوتا تو اس میں سایہ باقی رہتا ہے اس کا زوال رات کے آنے اور ظلمت کے داخل ہونے کے ساتھ ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ قبض سورج کے ساتھ واقع ہوتا ہے کیونکہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ چلا جاتا ہے یہ ابو مالک اور ابراہیم تیمی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ثم قبضنہ اس سے مراد ہے ہم نے سورج کی روشنی کو سایہ کے ساتھ آسانی سے قبضہ میں لے لیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یشیرا کا معنی تیز ہے : یہ ضحاک کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : مخفی یعنی جب سورج غائب ہوتا ہے تو سایہ کو مخفی طریقہ سے قبض کرلیا جاتا ہے جب بھی اس میں سے کسی جز کو قبضہ میں لیا جاتا ہے تو اس کی جگہ تاریکی میں سے حصہ رکھ دیا جاتا ہے وہ ایک ہی دفعہ زائل نہیں ہوتا : یہ قتادہ کا قول کا معنی ہے : یہی مجاہد کا قول ہے۔