Ayah 23:77آیت نمبر 77 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حتیٰ اذا فتحنا علیھم بابا ذا عذاب شدید عکرمہ نے کہا : یہ جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اس پر چار لاکھ فرشتے مقرر ہیں ان کے چہرے کالے ہیں، ان کے دانت باہر نکلے ہوئے ہیں، انکے دلوں سے رحمت نکالی گئی ہے جب یہ کافر اس دروازے پر پہنچیں گے تو اللہ اسے ان پر کھول دے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ ان کا بدر کے دن تلوار سے قتل کرنا ہے۔ (زاد المسیر، جلد 3، صفحہ 353) ۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد قحط ہے جو انہیں پہنچتا تھا حتیٰ کہ انہوں نے بھوک کی وجہ سے اون کھائی تھی جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے۔ بعض نے کہا : عذاب شدید سے مراد فتحہ مکہ ہے۔
Ayah 23:78آیت نمبر 78 ۔
اللہ کا ارشاد ہے : و ھوا لذی انشالکم السمع والابصار اللہ نے اپنی نعمتوں کی کثرت اور کمال قدرت کی انہیں پہچان کرائی۔ قلیلا ما تشکرون۔ یعنی وہ بہت تھوڑا شکر کرتے ہیں۔ بعض نے کہا : اس کا مطلب ہے وہ بالکل شکر نہیں کرتے۔
Ayah 23:79آیت نمبر 79 ۔
اللہ کا ارشاد ہے وھو الذی ذراکم فی الارض یعنی وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا اور تمہیں پھیلایا اور تمہیں تخلیق کیا۔ والیہ تحشرون۔ جزاء کے لئے اس کی جناب میں جمع کیے جائو گے۔
Ayahs 23:80–89آیت نمبر 80-89 ۔
اللہ کا ارشاد ہے : وھوا لذی یحیٖ ویمیت ولہ اختلاف الیل والنھار دن اور رات کو اس نے مختلف بنایا جیسے تیرا قول ہے لک الاجر والصلۃ تجھے اجر دیا جائے گا اور صلہ دیا جائے گا۔ یہ فراء کا قول ہے۔ بعض نے کہا : دن رات کے اختلاف سے مراد نور وظلمت میں مختلف ہونا ہے۔ بعض نے کہا : اس سے مراد اس کا تکرار ہے دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن آتا ہے۔ پانچواں احتمال یہ ہے کہ ان میں جو سعادت وشقاوت اور گمراہی وہدایت گزرچکی ہیں اس کا اختلاف مراد ہے۔ افلا تعقلون۔ کیا تم اس کی قدرت، ربوبیت اور وحدانیت کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ اس کی مخلوق سے اس کا شریک ہونا جائز نہیں وہ دوبارہ اٹھانے پر قادر ہے پھر انہیں ان کے قول کے ساتھ بدلا اور ان کے متعلق خبردی کہ انہوں نے کہا اس کی مثل جو پہلے کفار نے کہا : انہوں نے کہا : کیا جب ہم مرجائیں گے اور ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا ہمیں اٹھایا جائے گا یہ تو متصور نہیں ہوسکتا۔ لقد وعدنا نحن وابائونا ھذا من قبل محمد ﷺ کی آمد سے پہلے بھی ہم سے اور ہمارے آباء سے یہ وعدہ کیا گیا تھ۔ ہم اس کی حقیقت نہیں دیکھتے ان ھذا، ان بمعنی ما ہے۔ الا اسا طیر الاولین۔ یہ ان کی من گھڑت باتیں ہیں۔ یہ پہلے گزرچکا ہے اللہ نے فرمایا : قل، اے پیارے حبیب انکے جواب میں فرمائیے لمن الارض ومن فیھا کس کی ملکیت ہے یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے۔ اسمیں اللہ اپنی ربوبیت، وحدانیت اور لازوال بادشاہی کی اور اپنی کامل قدرت کی خبر دے رہے ہیں۔ سیقولون للہ وہ ضرور کہیں گے اللہ۔۔ قل افلا تذکرون۔ تو آپ فرمائیے : کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے اور نہیں جانتے کہ جو ابتداء اس کی تخلیق پر قادر ہے وہ ان کے مرنے کے بعد ان کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ قل من رب السماوات السمع ورب العرش العظیم۔ سیقولون للہ قل افلا تتقون۔ یعنی کیا تم نہیں ڈرتے ہو کہ تم میرے لئے وہ بناتے ہو جو تم اپنے لئے ناپسند کرتے ہو تم کہتے ہو کہ ملائکہ میری بیٹیاں ہیں اور تم اپنے لیے بیٹیاں ناپسند کرتے ہو۔ قل من بیدہ ملکوت کل شیئ۔ اس سے مراد آسمان اور جو کچھ انکے اوپر ہے اور جو کچھ انکے درمیان ہے اور وہ چیزیں مراد ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ مجاہد نے کہا : ملکوت کل شیء ہر چیز کے خزائن۔ ضحاک نے کہا : ہر چیز کی ملک۔ ملکوت مبالغہ کی صفات سے ہے جیسے جبروت اور رہبوت۔ یہ سورة انعام میں گزرچکا ہے۔ وھو یجیر ولا یجار علیہ بعض نے کہا : اس کا مطلب ہے جسے چاہتا ہے امن دیتا ہے ولا یجار علیہ اور جسے وہ ڈراتا ہے اسے امن نہیں د یا جاتا۔ بعض نے کہا : یہ دنیا میں ہے یعنی اللہ جس کے ہلاک کرنے اور خوف کا ارادہ فرماتا ہے کوئی روکنے والا اس کو روک نہیں سکتا اور جس کی مدد کا اور امن دینے کا ارادہ فرماتا ہے اس کی مدد کوئی روک نہیں سکتا اور اس کے امن کو کوئی روک نہیں سکتا۔ بعض نے کہا : یہ آخرت میں ہوگا یعنی جو ثواب کا مستحق ہے اسے ثواب دینے سے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو عذاب کا مستحق ہے اسے عذاب دینے سے کوئی روکنے والا نہیں۔ فانی تسحرون۔ یعنی تم اس کی طاعت اور توحید سے کیسے پھیرے گئے ہو اور کیسے دھوکا دیے گئے ہو یا کیسے یہ تصور دیا گیا ہے کہ تم ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرائو جو نہ نفع دیتی ہیں اور نہ نقصان دیتی ہیں۔ السحر کا معنی خیال کرنا ہے۔ یہ تمام ان عربوں پر حجت ہے جو صانع کا اقرار کرنے والے ہیں۔ ابو عمرو نے آخری دونوں جگہ سیقولون اللہ ؛ پڑھا ہے یہی اہل عراق کی قرأت ہے اور باقی قرأء نے للہ پڑھا ہے اور پہلے کے للہ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ قل لمن الارض ومن فیھا کا جواب ہے جب لمن میں لام مقدم ہوئی تو جواب میں لوٹائی گئی۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ تمام مصاحف میں بغیر الف کے لکھا ہوا ہے اور جنہوں نے سیقولون اللہ پڑھا تو سوال بغیر لام کے ہے تو جواب بھی اسی طرح آیا اور پہلی صورت میں للہ لام کے ساتھ پڑھا ہے اور سوال میں بھی لازم ہے۔ کیونکہ قل من رب السموات السمع ورب العرش العظیم۔ کا مطلب ہے قل لمن السموات السبع الخ۔ پس جواب کے ساتھ دیا جب سوال میں لام مقدر کیا گیا اور تیسرے کی علت دوسرے کی علت کی طرح ہے ؛ شاعر نے کہا۔
اذا قیل من رب المزالف والقری ورب الجیاد الجرد قلت لخالد
اصل میں لمن المزالف ہے۔ مزالف ان شہروں کو کہتے ہیں جو صحراء اور آبادی کے درمیان ہوتے ہیں۔ یہ آیات کفار سے جھگڑنے اور انکے خلاف حجت قائم کرنے پر دلیل ہیں۔ یہ مسئلہ سورة البقرہ میں گزرچکا ہے۔ ان آیات نے آگاہی بخشی کہ جو خلق اختراع، ایجاد اور ابداع پر ابتداء قادر ہے وہ الوہیت اور عبادت کا مستحق ہے۔
Ayahs 23:90–92آیت نمبر 90-92 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بل اتینھم بالحق یعنی ہم نے انہیں سچا قول پہنچادیا نہ کہ وہ جو کفار کہتے ہیں یعنی شریک کا اثبات اور دوبارہ اٹھنے کی نفی۔ وانھم لکذبون۔ وہ جھوٹے ہیں کہ کہتے ہیں : ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اللہ نے فرمایا : ما اتخذاللہ من ولد۔ من صلہ ہے وما کان معہ من الہ۔ من زائدہ ہے تقدیر اس طرح ہے۔ ما اتخذاللہ ولدا۔ یعنی اللہ نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا جیسا کہ تم نے کہا اور جو اس نے پیدا کیا ہے اس میں اسکے ساتھ کوئی خدا نہیں ہے کلام میں حذف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اس کے ساتھ اور خدا ہوتے تو ہر خدا اپنی مخلوق کے ساتھ علیحدہ ہوتا۔ ولعلا بعضھم علی بعض۔ قوی، ضعیف پر غالب آتا ہے جیسے بادشاہوں کینفی پر دلالت کرتا ہے وہ بیٹے کی نفی پر بھی دلالت کرتا ہے کیونکہ بیٹا باپ سے ملک میں جھگڑتا ہے جس طرح شریک جھگڑتا ہے۔ سبحن اللہ عما یصفون۔ وہ شرک سے پاک ہے۔ نافع، ابوبکر، حمزہ اور کسائی نے عالم رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ھو عالم الغیب نئی کلام ہے۔ باقی قرأء نے للہ کی صفت کی بناء پر، مجرور پڑھا ہے۔ رویس نے کہا یعقوب سے روایت کیا ہے جب وصل کیا تو عالم کو جردی اور جب ابتداء کی تو رفع دیا۔
Ayahs 23:93–94آیت نمبر 93-94 ۔
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو دعا سکھائی یعنی تم کہو : اے میرے پروردگار اگر تو ضرور مجھے وہ عذاب دکھانا چاہتا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ فلا تجعلنی فی القوم الظلمین۔ تو ان پر عذاب نازل ہونے کے وقت مجھے ان ظالم قوم سے نہ کرنا بلکہ مجھے ان سے نکال لینا۔ بعض نے کہا : ندا معترض ہے اور اما میں ما زائدہ ہے۔ بعض نے کہا : اما کی اصل ان ما ہے۔ ان شرط ہے اور ما بھی شرط ہے دونوں شرطوں کو تاکید کے لئے جمع فرمایا۔ اور جواب۔ فلا تجعلنی فی القوم الظلمین ہے یعنی جب تو انہیں عذاب دینے کا ارادہ فرمائے تو مجھے ان سے نکال لینا نبی کریم ﷺ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ظالم قوم سے آپ کو نہیں کرے گا جب ان پر عذاب نازل ہوگا لیکن اللہ نے آپ کو اس دعا اور سوال کا حکم دیا تاکہ آپ کا اجر بڑھے اور آپ ہر وقت اپنے پروردگار کا ذکر کرتے رہیں۔
Ayah 23:95آیت نمبر 95 ۔
اللہ نے تنبیہ فرمائی ہے کہ معلوم کے خلاف بھی قدرت میں ہے۔ اللہ نے آپ کو ان بھوک اور تلوار کے ساتھ عذاب دکھایا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور جو آپ پر ایمان لائے انہیں اس سے بچا لیا۔
Ayah 23:96آیت نمبر 96 ۔
اللہ تعالیٰ نے ادفع بالتی ھی احسن السیئتہ درگزر اور مکارم اخلاق کا حکم دیا مکارم اخلاق میں سے جو انکے درمیان ہیں وہ اس امت میں ہمیشہ محکم اور باقی ہیں اور جو کفار سے صلح اور ترک تعرض اور انکے امور سے درگزر کا حکم ہے وہ قتال کے حکم کے ساتھ منسوخ ہے۔ نحن اعلم بما یصفون۔ یعنی جو وہ شرک اور تکذیب بیان کرتے ہیں ہم اسے جانتے ہیں یہ تقاضا ہے کہ یہ آیت موادعۃ (صلح) ہے۔
Ayahs 23:97–98آیت نمبر 97-98 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقل رب اعوذ بک من ھمزات الشیطن۔ اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من ھمزات الشیٰطین۔ الھمزات جمع ہے ھمزہ کی الھمزہ کا لغوی معنی ہے دفع کرنا، دور کرنا، کہا جاتا ہے : ھمزہ ولمزہ اس نے اسے دور کیا۔ لیث نے کہا الھمز کا معنی ہے پیچھے سے کلام کرنا اور اللمز کا معنی ہے سامنے باتیں کرنا۔ شیطان وسوسہ ڈالتا ہے، ابن آدم کے سینے میں آہستہ آہستہ وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اعوذ بک من ھمزات الشیاطین یعنی (کہیے) میں شیطان کی وسوسہ اندازی سے پناہ مانگتا ہوں جو اللہ کے ذکر سے دور کردیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے آپ شیطان کے وسوسہ اور دخل اندازی سے پناہ مانگتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دور کردیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے آپ شیطان کے وسوسہ اور دخل اندازی سے پناہ مانگتے تھے۔ (مسندا مام احمد، حدیث نمبر 3828) ۔ ا بوالہیثم نے کہا : جب آہستہ کلام کرے اور اسے پوشیدہ کرے تو اسے الھمس کہتے ہیں۔ شیر کو ہموس کہتے ہیں کیونکہ وہ اتنا آہستہ چلتا ہے کہ اس کے چلنے کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ یہ سورة طہ میں گزرچکا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ اور مومنین کو شیطان کی تحریک اور وسوسہ سے پناہ مانگنے کا حکم ہے۔ یہ غصہ کا ابھار ہے جس پر انسان ضبط نہیں کرسکتا گویا یہ وہ ہے جو مومنین کو کفار کیساتھ پہنچتی ہے تاکہ مقابلہ شروع ہوجائے اسی وجہ سے یہ اس آیت کے ساتھ متصل ہے، غصہ کی زیادتی اور شیطان کی شدت کی طرف سے ہوتی ہے۔ آیت میں اس سے پناہ مانگی گئی ہے۔ سورة ا عراف کے آخر میں اس کا بیان تفصیلا گزرچکا ہے۔ اور کتاب کے آغاز میں بھی گزرچکا ہے۔ علی بن حرب بن محمد طائی سے مروی ہے فرمایا ہمیں سفیان نے بتایا انہوں نے ایوب سے انہوں نے محمد بن حبان سے روایت کیا کہ حضرت خالد رات کو جاگتے رہتے تھے انہوں نے اپنی بےخوابی کی شکایت نبی کریم ﷺ سے کی تو آپ نے انہیں ان کلمات سے پناہ مانگنے کا حکم دیا۔ اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضب اللہ و عقابہ ومن شر عبادۃ ومن ھمزات الشیاطین وان یحضرون۔ (جامع ترمذی، حدثنا محمد بن خاتم، جلد 2، صفحہ 191) ۔ ا بو دائود کی کتاب میں ہے حضرت عمر ؓ نے کہا : ہمزہ سے مراد الموتتہ ہے ابن ماجہ نے کہا : ا لموتتہ سے مراد جنون ہے اور جنون سے پناہ مانگنا موکد ہے، حضرت ابی کی قرأت میں رب عائذابک من ھمزات الشیاطین وعائذا بک ان یحضرون ہے یعنی میں پناہ مانگتا ہوں کہ شیطان میرے امور میں میرے ساتھ ہو، کیونکہ شیطان جب انسان کے پاس حاضر ہوتے ہیں تو وہ طعنہ زنی کے لئے تجاوز کرتے تھے اور جب وہ حاضر نہیں ہوتے تو طعنہ زنی نہیں ہوتی۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر سے مروی ہے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ شیطان تم میں سے ہر شخص کے پاس ہر کام میں موجود ہوتا ہے حتیٰ کہ کھانے کے وقت بھی حاضر ہوتا ہے جب کسی کے ہاتھ سے لقمہ گرے تو وہ اس سے مٹی وغیرہ جھاڑے پھر اسے کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔ اور جب کھانے سے فارغ ہو تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ کس کھانے میں برکت ہو۔ (صحیح مسلم، استحباب لعق الاصابع والقصعۃ واکل اللقمۃ الساقطۃ، جلد 2، صفحہ 176)
Ayahs 23:99–100آیت نمبر 99-100 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حتیٰ اذا جاء احدھم الموت قال رب ارجعون۔ کلام کو پھر مشرکین کی طرف لوٹایا یعنی انہوں نے کہا۔ ء اذا کنا متنا وکنا ترابا وعظاما وانا لمبعوثون۔ لقد وعدنا نحن وابائونا ھذا من قبل ان ھذا الا اساطیر الاولین۔ پھر ان پر حجت قائم کی اور انہیں ہر چیز پر اپنی قدرت یا ددلائی پھر فرمایا : وہ اس پر مصر ہیں حتیٰ کہ جب ان میں سے کسی کو موت آئے گی تو اسے اپنی گمراہی کا یقین ہوگا اور وہ ان ملائکہ کو دیکھے گا جو اس کی روح قبض کریں گے جیسا کہ اللہ نے فرمایا : ولو تری اذ یتوفی الذین کفرو الملئکۃ (الانفال :50) قال رب ارجعون لوٹنے کی تمنا کرے گا تاکہ اعمال صالحہ کرے جسے وہ چھوڑ آیا ہے۔ کبھی قول دل میں ہوتا ہے اللہ نے فرمایا : ویقولون فی انفسھم لولا یعذبنا اللہ بما نقول ( المجادلہ :8) اور ارجعون کا قول، وہ اپنے رب سے مخاطب ہے اس نے ارجعنی نہیں کہا تعظیم کیلئے جمع کا صیغہ استعمال کیا۔ بعض نے فرمایا۔ انہوں نے ابتداء میں اللہ سے استغاثہ کیا ان کے کہنے والے نے کہا : رب۔ پھر فرشتوں سے مخاطب ہوا اور کہا ارجعون الی الدنیا مجھے دنیا کی طرف لوٹا دو ؛ یہ ابن جریح کا قول ہے۔ بعض نے کہا : ارجعون تکرار کی جہت سے ہے یعنی ارجعنی ارجعنی ارجعنی۔ مزنی نے القیا فی جھنم (ق :24) کی تفسیر میں کہا : اس کا معنی ہے الق الق۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد مشرک ہیں۔ میں کہتا ہوں : رجوع کا سوال کافر کے ساتھ مختص نہیں مومن بھی رجوع کا سوال کرے گا جیسا کہ سورة منافقین کے آخر میں آئے گا۔ یہ آیت دلیل ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک نہیں مرتا حتیٰ کہ وہ اضطراری طور پر جان لیتا ہے کہ کیا وہ اولیاء اللہ سے ہے یا اللہ کے دشمنوں سے ہے اگر یہ نہ ہوتا تو مومن لوٹنے کا سوال نہ کرتا پس وہ جان لیتے ہیں موت کے نزول اور اس کا ذائقہ چکھنے سے پہلے لعلی اعمل صالحا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا ہے۔ فیما ترکت جو میں نے طاعات میں سے ضائع کیا اور چھوڑ دیا۔ بعض نے فرمایا : فیما ترکت جو مال میں نے چھوڑایا تاکہ میں صدقہ کروں۔ لعل تردد کو متضمن ہے یہ وہ ہے جو لوٹنے کا سوال کرے گا جب کہ اسے عذاب کا یقین ہوچکا ہوگا وہ قطعی طور پر عمل صالح کا قول کرے گا اسے کوئی تردد نہ ہوگا تو اس کا جواب یہ ہے کہ تردد یا تو دنیا کی لوٹنے کی طرف راجع ہے یا توفیق کی طرف راجع ہے یعنی میں عمل صالح کروں گا اگر تو مجھے توفیق عطا فرمائے گا کیونکہ قدرت وتوفیق کا وجود قطعی نہیں ہے اگر وہ دنیا کی طرف لوٹایا بھی گیا۔ کلا یہ کلمہ رد ہے یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوگا جیسا کہ اس نے گمان کیا ہے کہ دنیا کی طرف لوٹنے کی استدعا قبول کی جائے گی بلکہ یہ کلام ہوا میں بکھر جائے گا۔ بعض نے کہا : اگر قبول کرلیا جائے جو وہ طلب کررہا ہے تو وہ اپنے کہنے کو پورا نہیں کرے گا جیسے اللہ نے فرمایا : ولو ردو لعادو لما نھو عنہ (الانعام :28) بعض علماء نے فرمایا : کلا انھا کلمۃ ھو قائلھا اللہ کی طرف راجع ہے یعنی اس کی خبر میں خلاف نہیں اس نے خبر دی ہے کہ ہرگز کسی نفس کو مہلت نہیں دے گا جب اس پر اس کی موت کا وقت آجائے گا اور اس نے خبردی کہ یہ کافر ایمان نہیں لائے گا، بعض نے کہا : انھا کلمۃ ھو قائلھا موت کے وقت وہ یہ کہے گا لیکن اسے نفع نہیں دے گا۔ ومن وائھم برزخ یعنی انکے آگے آڑ ہے۔ بعض نے کہا انکے پیچھے آڑ ہے یعنی موت اور بعث کے درمیان آڑ ہے ؛ یہ ضحاک، مجاہد اور ابن زید کا قول ہے۔ مجاہد سے مروی ہے دنیا اور آخرت کے درمیان آڑ ہے۔ (احکام القرآن للطبری، جز 18، صفحہ 66) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حجاب ہے۔ سدی نے کہا : مدت ہے۔ قتادہ نے کہا : دنیا کا بقیہ ہے۔ بعض نے کہا : قیامت تک مہلت دینا ہے ؛ یہ ابن عیسیٰ نے حکایت کیا ہے۔ کلبی نے کہا : دو صوروں کے درمیان کی مدت ہے۔ انکے درمیان چالیس سال کا عرصہ ہے۔ یہ تمام اقوال قریب قریب ہیں۔ دوچیزوں کے درمیان آڑ کو برزخ کہتے ہیں۔ جوہری نے کہا : البرزخ بین الشیئین دوچیزوں کے درمیان آڑ کو برزخ کہتے ہیں۔ دنیا اور آخرت کے درمیان موت کے وقت سے لے کر دوبارہ اٹھنے تک کا وقفہ برزخ ہے۔ جو فوت ہوگیا ہو برزخ میں داخل ہوگیا۔ ایک شخص نے امام شعبی کی موجودگی میں کہا : اللہ نے فلاں پر رحم فرمایا وہ اہل آخرت سے ہوگیا۔ شعبی نے کہا : وہ اہل آخرت سے نہیں ہوا بلکہ وہ اہل برزخ سے ہوا ہے۔ دنیا اور آخرت میں سے نہیں ہے یوم کو یبعثون کی طرف مضاف کیا گیا کیونکہ یہ ظرف زماں ہے اضافت سے مراد مصدر ہے۔
Ayahs 23:101–103اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذا نفخ فی الصور اس نسخہ ثانی ہے۔ فلا انساب بینمھم یو میذ و لا یتسآ لو ن۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ آخرت میں نہیں پوچھیں گے نسب کے بارے میں جیسے دنیا میں پوچھتے ہیں یعنی تو کس قبیلہ سے ہے ؟ نہ پوچھیں گے کہ کس نسب سے تعلق رکھتا ہے قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے تعارف نہیں طلب کریں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : نہ نفخہ اولی میں ہوگا جب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہے سب پر غشی طاری ہوجائے گی۔ مگر جسے اللہ چاہے گا (2) ۔ ان کے درمیان اس دن کوئی نسب و رشتہ داری نہ رہے گی اور نہ وہ ایک دوسرے کے متعلق پوچھیں گے پھر اس میں دوسرا صور پھونکا جائے گا۔ جب وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔ وہ ایک دوسرے طرف سوال کرتے ہوئے متوجہ ہوں گے۔ ایک شخص نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت اور فاقبل بعضھم علی بعض یتسآع لون۔ (الصافات) کے متعلق پوچھا تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : پہلے نفخہ میں وہ نہیں پوچھے گے کیونکہ زمین پر کوئی زندہ باقی نہیں رہے گا پس نہ نسب ہوگا نہ سوال ہوگا۔ ربا فاقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون۔ تو جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے کے متعلق پوچھیں گے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : اس آیت میں نفخہ ثانی مراد ہے۔ ابو عمر زاذان نے کہا : میں حضرت ابن مسعود کے پاس گیا تو میں نے دیکھا کہ اصحاب خیرو برکت مجھ سے ان کی بارگاہ میں سبقت لے گئے ہیں میں نے بلند آواز سے کہا : اے عبداللہ بن مسعود ! یہ اس وجہ سے ہے کہ میں عجمی ہوں آپ نے ان کو قریب کیا ہے اور مجھے دور کیا ہے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : قریب ہو، میں قریب ہو، میں قریب ہوا حتی کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی بیٹھنے والا نہ تھا میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا : بندے یا بندی کا ہاتھ قیامت کے دن پکڑا جائے گا اوّلین و آخرین کے سروں پر اسے کھڑا کیا جائے گا پھر ندادینے والا ندا دے گا : یہ فلاں بن فلاں ہے جس کے لیے حق ہو وہ اپنے حق کی طرف آئے عورت خوش ہوگی کہ اس کے لیے حق اس کے باپ پر یا اس کے خاوند پر یا اس کے بھائی پر یا اس کے بیٹے پر پھیرا جائے گا، پھر حضرت ابن مسعود نے یہ پڑھا : فلا انساب بینھم یو میذو لا یتساء لون۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ان کے حقوق لائو، وہ کہیں گے : یا رب ! دنیا فنا ہوگئی ہے۔ پس میں ان کے حقوق کہاں سے لائوں ؟ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا۔ اس کی نیکیوں سے لے لو اور ہر انسان کو اس کے مطالبہ کی مقدار دے دو ۔ اگر وہ اللہ کا ولی ہوگا ایک رائی کے دانہ کی مقدار نیکیاں ہوں گی تو اللہ تعالیٰ سے اسے کئی گنا بڑھا دے گا حتیٰ کہ اس کے ذریعے اسے جنت میں داخل کرے گا۔ پھر حضرت ابن مسعود نے یہ پڑھا۔ ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ ج ان تک حسنۃ یضعفھا و یوت من لدنہ اجرا عظیما۔ (النساء) اگر وہ شقی ہوگا تو فرشتے کہیں گے یا رب ! اس کی نیکیاں ختم ہوگئی ہیں اور مطالبہ کرنے والے باقی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : حق طلب کرنے والے کے برے اعمال میں سے لے کر اس کی برائیوں کے ساتھ ملا لو اور اس کے لیے جہنم کا پروانہ لکھ دو (1) ۔
Ayahs 23:104–105آیت نمبر 104 تا 105
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تلفح وجو ھہم النار۔ کہا جاتا ہے : تنفخ دونوں کا ایک معنی ہے اس سے ہے ولئن مستھم نفحہ من عذاب ربک (الانبیاء : 46) مگر تلفخ تکلیف کے اعتبار سے زیادہ ہے کہا جاتا ہے : الفحتہ النا والسموم بحرھا یعنی آگ نے اسے جلا دیا اور گرم ہوا نے اپنی گرمی سے جلا دیا۔ لفحتہ یا لسیف لفحۃ جب کوئی آہستہ سے کسی کو تلوار مارے و ھم فیھا کلحون۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا معنی ہے منہ بسورنے والے۔ اہل نعت نے کہا یبوست میں دانت نکالنے کو الکلوح کہتے ہیں۔ الکالح جس کے ہونٹ سکڑ گئے ہوں اور دانت باہر نکل آئے ہوں۔ اعشی نے کہا :
ولہ المقدم لا مثل لہ ساعۃ الشدق عن الناب کلح
کلح الرجل کلو حا و کلا حا، وما اقبح کلحتہ۔ اس سے مراد منہ اور اس کے ارد گرد کا حصہ سکوڑنا ہے۔ دھر کالح، سخت زمانہ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ وحم فیھا کلحون اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے ہونٹ سکڑگئے ہوں اور اس کی پیپ بہ گئی ہو۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : کیا آپ نے اس سر کی طرف نہیں دیکھا جسے آگ کے ساتھ کنگھی کی جائے گی اور ان کے دانت نکلے ہوئے ہوں گے اور ہونٹ خشک ہوچکے ہیوں گے۔ امام ترمذی میں حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : وھم فیھا کلحون آگ اسے بھون دے گی اس کا اوپر والا ہونٹ سکڑ جائے گا (1) حتیٰ کہ وہ سر کے درمیان تک پہنچ جائے گا اور نیچے ولا ہونٹ اس کی ناف تک پہنچ جائے گا۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
Ayahs 23:106–108آیت نمبر 106 تا 108 ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قالو ربنا غلبت علینا شقو تنا اہل مدینہ، ابو عمرو اور عاصم کی قرات شقوتنا ہے اور عاصم کے سوا کو فیوں نے شقاوتنا پڑھا ہے ؛ یہ قرآت حضرت ابن مسعود اورع حسن سے مروی ہے۔ کہا جاتا ہے۔ شقاء وشقا مد اور قصر کے ساتھ اور اس کے معنی میں بہتر قول یہ ہے کہ ہم پر ہماری لذات و خواہشات نفسانی غالب آگئیں۔ لذات اور خواہشات کو شقوۃ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ شقاوت تک پہنچاتی ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان الذین یا کلون اموال الیتمی ظلما انما یا کلون فی بطونھم نارا (النساء : 10) کیونکہ یہ عمل انہیں آگ کی طرف لے جاتا ہے اس لئے فرمایا وہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے جو ہماری شقاوت تیرے علم میں پہلے تھی اور ام الکتاب میں ہمارے اوپر شقاوت لکھی گئی تھی۔ بعض نے فرمایا : شقاوت سے مراد یہ ہے کہ ہم پر اپنی ذات کے بارے میں حسن ظن اور مخلوق پر سوء ظن کا خیال غالب آگیا۔ و کنا قوما ضآ لین ہم اپنے فعل میں ہدایت سے گمراہ تھے۔ یہ ان کی طرف سے عذر نہیں بلکہ یہ اقرار ہے۔ اس پر دلیل یہ قول ہے : ربنا آخرجنامنھا فان عدنافانا ظلمون۔ وہ دنیا کی طرف لوٹتا طلب کریں گے جیسے موت کے وقت انہوں نے دنیا کی طرف لوٹنا طلب کیا تھا۔ فان عدنا اگر ہم کفر کی طرف لوٹے فانا ظلمون تو کفر کی طرف لوٹنے کی وجہ سے ظلم کرنے والے ہوں گے تو انہیں ہزار سال کے بعد جواب دیا جائے گا : اخسنوا فیھا ولا تکلمون۔ جہنم میں دور چلے جائو جیسے کتے کو کہا جاتا ہے : اخسا دور چلا جا، خسات الکلب خساء کا مطلب ہے میں کتے کو دہتکارا۔ خسا الکلب بنفسہ خسوا۔ کبھی یہ متعدی ہوتا ہے اور کبھی متعدی نہیں ہوتا۔ انخسا الکلب بھی استعمال ہوتا ہے۔ ابن المبارک نے کہا : ہمیں سعید بن ابو عروبہ نے بتایا انہوں نے قتا دہ سے روایت کیا انہوں نے ابوایوب سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن خاص سے روایت کیا فرمایا : اہل جہنم، مالک جہنم کے فرشتہ کو پکاریں گے وہ انہیں چالیس سال جواب نہیں دے گا پھر ان پر یہ لوٹائے گا کہ تم یہاں ٹھر نے والے ہوَ فرمایا : پھر وہ اپنے رب کو پکاریں گے اور کہیں گے۔ ربنا غلبت علینا شقو تناو کنا قوما ضآلین۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر یہ لوٹائے گا۔ اخسنو فیھا۔ فرمایا : اللہ کی قسم ! اس کے بعد قوم ایک کلمہ بھی نہیں کہہ سکے گی اور جہنم کی آگ میں صرف شیخ و پکار ہی ہوگی۔ ان کی آواز کو گدھے کی آواز سے تشبیہ دی گئی ہے، جس کی ابتدائی آواز کو زفیر اور آخری آواز کو شہیق کہتے ہیں۔ اس روایت کو اما ترمذی نے مرفوع حضرت اب الدرداء کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ قتا دہ نے کہا : آگ میں کفار کی آواز گدھے کی آواز کی طرح ہوگی اس کا اول زفیر اور آخر شہیق کہلاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کفار کیلئے کتے کی طرح بھونکنا ہوگا۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا : مجھے خبر پہنچی ہے یا مجھے ذکر کیا گیا ہے کہ دوزخی، دوزخ کے فرشتوں سے مدد طلب کریں گے۔ یہ طویل خبر ہے۔ اس کو ابن المبارک نے ذکر کیا ہے۔ مکمل التذکرہ کتاب میں ذکر کی ہے اور اس کے آخر میں ہے پھر پہلے وہ انہیں کوئی جواب نہ دے گا جتنا عرصہ اللہ چاہے گا پھر انہیں ندادے گا : الم تکن ایتی تتلی علیکم فکنتم بھا تکذبون۔ فرمایا : جب وہ اللہ تعالیٰ کی آواز سنیں گے تو کہیں گے : اب ہمارا پر ودگار ہم پر رحم فرمائے گا۔ وہ اس وقت کہیں گے : ربنا غلبت علینا شقوتنا یعنی ہم پر ہماری کتاب غالب آگئی جو ہم پر لکھی گئی تھی۔ وکنا قوما ضالیں۔ ربنا اخرجنا منھا فان عدنا فانا ظالمون۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اخسنو فیھا ولا تکلمون اس وقت ان کی پکار اور دعا ختم ہوجائے گی وہ ایک دوسرے پر کتے کی طرح بونکیں گے اور پھر جہنم ان پر بند کردی جائیگی۔
Ayahs 23:109–111آیت نمبر 109 تا 111 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہ کان فریق من عبادی یقولون ربنا امنا فاغفرلنا مجاہد نے کہا : اس سے مراد حضرت بلا، حضرت کباب، حضرت صہیب اورع فلاں اور فلاں کمزور مسلمان ہیں۔ ابو جہل اور اس کے ساتھی، مسلمانوں سے مذاق کرتے تھے۔ فاتخذ تموھم سخر یا نافع، حمزہ اور کسائی نے یہاں اور سورة جن میں ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا : ابو عمرونے ان کے درمیان فرق کیا ہے۔ انہوں نے سین کے کسرہ کے ساتھ استہزء کی جہت سے بنایا ہے اور سین کے ضمہ کے ساتھ سخرۃ کی جہت سے بنایا ہے، خلیل، سیبویہ، کسائی اور فراء نے اس تفریق کو نہیں جانا کسائی نے کہا یہ ہم معنی ہیں جیسے کہا جاتا ہے عصی و عصی و لجی۔ ثعلبی نے کسائی اور فراء سے حکایت کیا ہے کہ وہ فریق جو ابو عمرو نے حکایت کیا ہے سین کے کسرہ کے ساتھ استہزا کے معنی میں ہے اور زبان سے مذاق کرنے کے معنی میں ہے اور ضمہ کے ساتھ تسخیر اور بالفعل استعباد کے معنی میں ہے۔ مبرو نے کہا : عربوں سے معافی کے درمیان تفریق لی جاتی ہے رہی تا ویل تو اس میں تفریق نہ ہوگی۔ اور سخری میں کسرہ دونوں کیلئے ہے کیونکہ اس جیسے لفظ میں ضمہ ثقیل ہوتا ہے۔ حتی انسو کم ذکری حتی کہ تم نے ان سے استہزا کی وجہ سے انہیں میرے ذکر سے مشغول کردیا۔ و کنتم منھم تضحکون۔ ان سے استہزا کرتے ہوئے ہنستے تھے۔ الانسائکو مومنین کی طرف مضاف کیا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کی مشغولیت کا سبب تھے مومنین سے کفار کے استہزا کی نحوست ان کے دلوں پر کفر کے غلبہ کی طرف متعدی ہوئی۔ انی جزیتھم الیوم بما صبروا تمہاری اذیت پر جو انہوں نے صبر کیا اس پر آج میں انہیں جزا دوں گا اور جو انہوں نے میری طاعت پر صبر کیا۔ انھم ھم الفائزون۔ حمزہ اور کسائی نے ابتدا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی مدح کے طور پر ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی لا نھہم ھم الفائزون۔ اور اس پر جزا کے وقوع کی وجہ سے نصب پڑھنا بھی جائز ہے، تقدیر عبارت اس طرح ہوگی انی جزیتھم الیوم الفوز بالجنۃ، میں کہتا ہوں : یہی مفہوم سورة المطففین کے آخر میں فالیوم الذین امنو من الکفار یضحکون۔ (مطففین) میں دیکھا جائے گا۔ اس سے مستبظ ہوتا ہے ضعیفوں مساکین کے ساتھ استہزاء نہیں کرنا چاہیے اور انہیں حقارت کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے اور ان کی وجہ سے لا یعنی قول و فعل میں مشغول نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ سے دوری کا باعث ہے۔
Ayahs 23:112–114آیت نمبر 112 تا 114 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل کم لبثتم فی الارض۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ قبور میں رہنے کے متعلق سوال ہوگا۔ بعض نے کہا : دنیا میں مدت حیات کے بارے میں سوال ہو گا یہ سوال مشرکین کیلئے قیامت کے عرصات میں یا دوزخ میں ہوگا۔ عدد سنین۔ نون کے فتحہ کے ساتھ کہ یہ جمع سالم ہے اور بعض عرب اسے جر دیتے ہیں اور تنوین دیتے ہیں۔ قالو لمثنا یو ما او یعض یوم عذاب کی شدت انہیں قبور میں ٹھرنے کی مدت بھلا دے گی۔ بعض نے کہا : چونکہ ان سے دونوں نفخوں کے درمیان عذاب اٹھا لیا جائے گا تو وہ قبور میں عذاب کو بھول جائیں گے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جس عذاب میں وہ تھے نفخہ اولی سے نفخہ ثانیہ تک وہ انہیں بھلا دے گا کیونکہ جس کو کسی نبی نے قتل کیا یا کسی نے قتل کیا یا کسی نے نبی کو قتل کیا یا نبی کی موجودگی میں قتل کیا گیا تو اس مرنے کے وقت سے لے کر نفخہ اولی یعنی پہلا صور پھونکنے تک عذاب دیا جائے گا پھر ان سے عذاب دور کیا جائیگا۔ پس وہ پانی کی طرح ہوگا حتی کہ دوسرا صور پھونکا جائے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : انہوں نے دنیا میں ٹھہرنے کی مدت اور قبور میں رہنے کے عرصہ کو کم جانا اور اسے تھوڑا سمجھا اس عذاب کی نسبت جس میں وہ مبتلا تھے۔ فسئل العادین۔ حساب لگانے والوں سے پوچھ جو حساب کو جانتے ہیں ہم تو اسے بھول چکے ہیں یا یہ مراد ہے کہ ان فرشتوں سے پوچھ جو دنیا میں ہمارے ساتھ تھے۔ پہلا قول قتادہ کا ہے اور دوسرا قول مجاہد کا ہے۔ ابن کثیر، حمزہ اور کسائی نے قل کم لبشتم فی الارض پڑھا ہے یعنی امر کا صیغہ پڑھا ہے۔ یہ تعین معافی کا احتمال رکھتا ہے (1) تو کلام ایککو حکم دینے کیلئے ذکر کی گئی جب کہ مراد جماعت ہے : کیونکہ یہی معنی مفہوم ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ یہ فرشتے کو حکمہو کہ ان سے قیامت کے روز دنیا میں ٹھہرنے کی مدت کے بارے میں پوچھو یا یہ مراد ہو کہ بتا اے کافر ! تم کتنا عرصہ ٹھہرے ؟ یہ تیسرا قول ہے۔ باقی قراء نے ماضی کا صیغہ قال پڑھا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا یا فرشتوں نے انہیں کہا : تم کتنا عرصہ ٹھہرے ؟ حمزہ اور کسائی نے بھی قل ان لبستم الا قلیلا پڑھا ہے باقی قراء نے قال خبر کی بنا پر پڑھا ہے جیسا کہ ابتدا میں تفسیر میں ذکر کیا گیا یعنی تم نہیں ٹھرے زمین میں مگر تھوڑا عرصہ۔ یہ اس لیے کہ ان کا قبور میں ٹھہرنا اگرچہ لمبا تھا لیکن متناہی تھا۔ بعض نے کہا : آگ میں ٹھہرنے کی نسبت یہ عرصہ کم تھا کیونکہ اس کی حد نہیں ہے۔ لَوْ انکم کنتم تعلمون۔ یعنی کاش ! تم حقیقت کو جانتے۔
Ayah 23:115آیت نمبر 115 ۔
” کیا تم نے یہ گمان رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بےمقصد پیدا کیا ہے اور تم ہمارے طرف نہیں لوٹائے جائو گے “۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افحسبتم انما خلقتکم عبثا کیا تم نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ ہمنے تمہیں مہمل پیدا کیا ہے جیسے جانور پیدا کیے گئے پس جنکے لیے نہ ثواب ہے اور نہ عقاب یہ اس قول کی مثل ہے۔ ایحسب الانسان ان یترک سدًی۔ (القامیہ) یعنی جانور کی طرح مہمل بغیر فائدہ کے چھوڑ دیا جائے گا۔ ترمذی حکیم ابو عبداللہ محمد بن علی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو غلام پیدا کیا تاکہ وہ اس کی عبادت کریں۔ پس وہ عبادت پر ثواب دے گا اور عبادت کے ترک پر عذاب دے گا اگر وہ اس کی عبادت کریں گے تو آج اس کے آزاد معزز اور دنیا کی غلامی سے آزاد بندے ہوں گے اور دارالسلام میں بادشاہ ہوں گے۔ اگر عبودیت کو ترک کریں گے تو آج بھاگے ہوئے غلام اور گرے ہوئے اور گھٹیا لوگ شمار ہوں گے اور کل آگ کے طبقوں میں قید دشمن ہوں گے۔ عبثا۔ سیبویہ کے نزدیک اور قطرب کے نزدیک حال کی بنا پر منصوب ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : مصدر کی بنا پر منصوب ہے یا مفعول لہ کی حیثیت سے منصوب ہے۔ وانکم الینا لا ترجعون۔ پس انہیں انکے اعمال کی جزا دی جائے گی۔ حمزہ اور کسائی نے ترجعون تا کے فتحہ اور جیم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 23:116آیت نمبر 116 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتعلی اللہ الملک الحق اللہ تعالیٰ جو مالک حقیقی ہے وہ پاک ہے اولاد، شرکاء اور مد مقابل سے اور کسی چیز کو بےمقصد اور بےحکمت پیدا کرنے سے کیونکہ وہ حکیم ہے۔ لا الہ الا ھو رب العرش الکریم۔ قرآن میں اس کے علاوہ کسی جگہ اس طرح نہیں ہے۔ ابن محیص اور ابن کثیر سے الکریم رفع کے ساتھ مروی ہے اور اسے اللہ کی صفت بنایا ہے