23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 23:37

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

زندگی تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے کہ اسی میں ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم پھر نہیں اٹھائے جائیں گے

آیت نمبر 38 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان ھی الا حیاتنا الدنیا، ھی ضمیر الدنیا سے کنایہ ہے، یعنی زندگی نہیں ہے مگر جس میں ہم ہیں اور آخرت کی زندگی جس کا دوبارہ اٹھنے کا وعدہ کیا ہے یہ نہیں ہے نموت و نحیا کہا جاتا ہے : انہوں نے نموت و نحیا کیسے کہا وہ تود و بارہ زندہ ہونے کا یقین نہیں رکھتے تھے ؟ اس کے کئی جوابات ہیں ایک یہ کہ اس کا معنی ہے ہم نطفہ تھے پھر دنیا میں زندہ ہوئے۔ بعض نے کہا : اس میں تقدیم وتاخیر ہے یعنی یہ دنیوی زندگی ہے اس میں ہم جئیں گے اور مریں گے یہ جیسے فرمایا : واسجدی وارکعی (آل عمران 43 ) ۔ سجدہ کر اور رکوع کر اس میں بھی تقدیم وتاخیر ہے۔ بعض علماء نے کہا : نموت یعنی ہمارے آباء مرگئے ونحیا اور اولاد زندہ ہوئی۔ وما نحن بمبعوثین۔ موت کے بعد ہمیں نہیں اٹھایا جائے گا۔
Ayahs 23:38–41

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

یہ تو ایک ایسا آدمی ہے جس نے خدا پر جھوٹ افترا کیا ہے اور ہم اس کو ماننے والے نہیں

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا اے پروردگار انہوں نے مجھے جھوٹا سمجھا تو میری مدد کر

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

فرمایا کہ تھوڑے ہی عرصے میں پیشیمان ہو کر رہ جائیں گے

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

تو ان کو وعدہ برحق کے مطابق زور کی آواز نے آپکڑا تو ہم نے ان کو کوڑا کر ڈالا پس ظالم لوگوں پر لعنت ہے

آیت نمبر 38-41 اللہ کا ارشاد ہے : ان ھو الا رجل : اس سے مراد وہ رسول لیتے تھے۔ افتری اس کا معنی ہے اس نے گھڑا۔ علی اللہ کذبا وما نحن لہ بمومنین۔ قال رب انصرنی بما کذبون۔ یہ پہلے گزر چکا ہے قال عما قلیل ما زائدہ موکدہ ہے یعنی عن قلیل۔ لیصبحن ندمین۔ وہ اپنے کفر پر شرمندہ ہوں گے لام۔ لام قسم ہے یعنی واللہ لیصبحن، فاخذتھم الصیحتہ تفاسیر میں ہے حضرت جبرائیل نے اس ہوا کے ساتھ ان پر چیخ ماری جس کے ساتھ اللہ نے انہیں ہلاک کردیا اور وہ سب مرگئے۔ فجعلنھم غثائ۔ ہلاک ہونے والے سیلاب کے خش و خاشاک کی طرح تھے۔ غثاء سے مراد وہ پرانے درخت، گھاس اور سر کنڈے ہوتے ہیں جو پرانے ہوجاتے ہیں اور ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں۔ فبعداللقوم الظلمین۔ یعنی ان کے لیے ہلاکت ہے۔ بعض نے کہا : ان کے لئے رحمت سے دوری ہے۔ یہ مصدر کی بناء پر منصوب ہے اس کی مثل سقیالہ اور رعیا ہے۔
Ayahs 23:42–44

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے اور جماعتیں پیدا کی

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی جماعت اپنے وقت سے نہ آگے جاسکتی ہے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر ہم پے درپے پیغمبر بھیجتے رہے جب کسی امت کے پاس اس کا پیغمبر آتا تھا تو وہ اسے جھٹلاتے تھے تو ہم بھی بعض کو بعض کے پیچھے (ہلاک کرتے اور ان پر عذاب) لاتے رہے اور ان کے افسانے بناتے رہے پس جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان پر لعنت

آیت نمبر 42-44 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم انشانا من بعدھم یعنی ان کی ہلاکت کے بعد قرونا امتیں اخرین۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ اس کلام میں حذف ہے پس انہوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا۔ ماتسبق من امۃ اجلھا من صلہ ہے یعنی کوئی قوم اپنے مقررہ وقت سے آگے نہیں بڑھ سکتی اور پیچھے نہیں رہ سکتی جیسے اللہ کا ارشا ہے۔ فاذا جاء اجلھم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون۔ (الاعراف) تترا کا معنی ہے متواتر۔ بعض کو بعض کے پیچھے بھیجا ترغیب وترہیب کے لئے۔ اصمعی نے کہا : واترت کتبی علیہ۔ بعض کو بعض کے پیچھے رکھا مگر ان میں سے ہر دو کے درمیان وقفہ تھا۔ دوسرے علماء نے کہا : بغیر مہلت کے متواتر ہونا۔ ابن کثیر اور ابوعمرو نے تتری تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ (المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 144) کیونکہ یہ مصدر ہے راء کے فتحہ پر تنوین داخل کی گئی جیسے تیرا قول حمدا اور شکرا ہے۔ اس پر وقف اس الف پر ہے جو تنوین کے عوض ہے اور اس کا جعفر کے ساتھ ملحق ہونا بھی جائز ہے پس یہ ارطی اور علقی کی مثل ہوگا جیسا کہ شاعر نے کہا ہے۔ یستن فی علقی وفی مکور جب اس پر وقف ہوگا تو امالہ جائز ہوگا۔ الف ملحقہ پر وقف کی نیت ہوگی۔ ورش نے دونوں لفظوں کے درمیان پڑھا جیسے سکری اور غضبی یہ اسم جمع ہے جیسے شتی اور اسری ہے اسکی اصل وتری ہے یہ المتواتر اور التواتر سے ہے وائو کو تاء سے بدلا گیا ہے جیسے التقوی والتکلان وتجاہ اور اس جیسے الفاظ۔ بعض نے کہا : یہ الوتر سے مشتق ہے جس کا معنی فرد ہے معنی یہ ہوگا ہم نے انہیں فردا فردا بھیجا۔ نحاس نے کہا اس بناء پر تتری پہلے تا کے کسرہ کیساتھ جائز ہے یہ مصدر کی بناء پر منصوب ہے، کیونکہ ثم ارسلنا کا معنی ہے اترنا۔ اور یہ اس کا حال بنانا بھی جائز ہے یعنی متواترین کے معنی میں ہوگا۔ فاتبعنا بعضھم بعضا یعنی ہم بھی متواتر انہیں ہلاک کرتے رہے۔ وجعلنھم احادیث یہ احدوثتہ کی جمع ہے جو بات کی جاتی ہے جیسے اعاجیب جمع ہے اعجوبۃ کی وہ جس سے تعجب کیا جائے۔ اخفش نے کہا : شر میں کہا جاتا ہے جعلنا ھم احادیث اور خیر میں نہ نہیں کہا جاتا ہے : صار فلان حدیثنا یعنی فلاں عبرت کا نشان بن گیا جیسے دوسری آیت میں فرمایا : فجعلنھم احادیث ومزقنھم کل ممزق (سبا :19) ۔ میں کہتا ہوں کہا جاتا ہے : فلان حدیث حسن جب اس کے ذکر کے ساتھ مقید ہو : اسی سے ابن درید کا قول ہے۔ انما المرء حدیث بعد فکن حدیثا حسنا لمن وعی
Ayahs 23:45–48

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور دلیل ظاہر دے کر بھیجا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور اس کی جماعت کی طرف تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

کہنے لگے کہ کیا ہم ان اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم کے لوگ ہمارے خدمت گار ہیں ؟

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی سو (آخر) ہلاک کر دئیے گئے

آیت نمبر 45-48 اللہ کا ارشاد ہے : ثم ارسلنا موسیٰ واخاہ ھرون بایتنا وسلطن مبین۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ عالین کا معنی ہے تکبر کرنے والے اور دوسرے پر ظلم کرنے والے جیسے اللہ نے فرمایا : ان فرعون علا فی الارض (القصص :4) ۔ فقالو انئومن لبشرین مثلنا یہ آیت پہلے گزر چکی ہے۔ من المھلکین سمندر میں غرق ہونے کے ساتھ ہلاک ہونے والوں سے ہوگئے۔
Ayah 23:49

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں

آیت نمبر 49 اللہ کا ارشاد ہے : ولقد اتینا موسیٰ الکتب یعنی تورات، حضرت موسیٰ کا خاص ذکر کیا کیونکہ تورات طور میں ان پر نازل ہوئی تھی اور حضرت ہارون ان کی قوم میں خلیفہ تھے اگر ولقد اتینا ھما فرمایا جاتا تب بھی جائز ہوتا جیسے فرمایا : ولقد اتینا موسیٰ وھرون الفرقان (الانبیائ :48)
Ayah 23:50

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور مریم کے بیٹے (عیسی) اور ان کی ماں کو (اپنی) نشانی بنایا تھا اور ان کو ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور جہاں (نتھرا ہوا) پانی جاری تھا پناہ دی تھی

آیت نمبر 50 واجعلنا ابن مریم وامہ ایۃ اس پر گفتگو سورة الانبیاء میں گزر چکی ہے۔ واوینھما الی ربوۃ ذات قرار ومعین۔ الربوۃ زمین کی بلند جگہ کو کہتے ہیں۔ یہ سورة بقرہ میں گزرچکا ہے۔ یہاں اس سے مراد حضرت ابوہریرہ ؓ کے قول میں فلسطین ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ رملہ کا شہر ہے اور نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ابن مسیب اور ابن سلام نے فرمایا : اس سے مراد دمشق ہے۔ کعب اور قتادہ نے کہا : اس سے مراد بیت المقدس ہے۔ کعب نے کہا : یہ وہ زمین ہے جو آسمان کے قریب اٹھارہ میل کے فاصلہ پر ہے۔ فکنت ھمیدا تحت رمس بربوۃ تع اور نی ریح جنوب وشمال ابن زید نے کہا : اس سے مراد مصر ہے۔ سالم افطس نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ : واینھما الیٰ ربوۃ سے مراد زمین کی بلند جگہ ہے۔ ذات قرار برابر زمین جس پر قرار ہو۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد پھلوں والی زمین ہے پھلوں کی وجہ سے لوگ اس میں رہتے ہیں۔ ومعین جاری چشموں سے ظاہر ہو کہا جاتا ہے : معین ومعن جیسے کہا جاتا ہے : رغیف ورغف ؛ یہ علی بن سلیمان کا قول ہے۔ زجاج نے کہا : یہ چشموں میں جاری پانی ہے اس بناء پر میم زائدہ ہوگی جیسے مبیع میں میم زائدہ ہے اسی طرح اس کے قول پر بھی میم زائدہ ہوگی جو کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ پانی ہے جو آنکھ کے ذریعے دیکھا جاتا ہے۔ بعض نے کہا : یہ فعل بمعنی مفعول ہے۔ علی بن سلیمان نے کہا : کہا جاتا ہے معن الماء جب پانی جاری ہو فھو معین ومعیون۔ ابن اعرابی نے کہا : معن الماء یمعن معونا جب پانی جاری ہوا اور آسان ہو امغن اور امغنتہ ومیاہ معنان۔
Ayah 23:51

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے پیغمبرو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو جو عمل تم کرتے ہو میں ان سے واقف ہوں

آیت نمبر 51 اس میں دو مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ صحیح میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، فرمایا : رسول اللہ نے فرمایا : اے لوگو بیشک قبول نہیں فرماتا مگر پاک اور اللہ نے مومنین کو وہی حکم دیا جو اس نے مرسلین کو حکم دیا۔ (صحیح مسلم، کتاب الزکوۃ، قبول الصدقۃ من الکسب الطیب، جلد 1، صفحہ 326) فرمایا یایھا الرسل کلو من طیبت واعملو صالحا انی بما تعملون علیم۔ اور اللہ نے فرمایا : یا ایھا الذین امنو کلو من طیبت ما رزقنکم (البقرہ :172) پھر ذکر کیا ایک شخص لمبا سفر کرتا ہے اس کے بال پراگندہ ہیں، جسم غبار آلود ہے، اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرتا ہے کہتا ہے : یارب یارب جب کہ اس کا کھانا حرام ہے اور پینا حرام ہے اور اس کا لباس بھی حرام ہے اور اسے حرام سے غذادی گئی ہے پھر اس کی دعا کیسے قبول ہوگی ؟۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ بعض علماء نے فرمایا : اس آیت میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو تمام رسل کے قائم مقام رکھا جیسے فرمایا : الذین قال لھم الناس (آل عمران :173) ۔ اس آیت میں الناس سے مراد نعیم بن مسعود ہے۔ زجاج نے کہا : یہ نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے جمع کا صیغہ ہے اس بات پر دلیل ہے کہ تمام رسل کو اسی طرح حکم دیا گیا تھا، یعنی حلال سے کھائو۔ طبری نے کہا خطاب حضرت عیسیٰ کو ہے روایت ہے کہ وہ اپنی والدہ کے سوت کاتنے سے کھاتے تھے۔ ان سے یہ مشہور ہے کہ وہ جنگل کی سبزیوں سے کھاتے تھے اور حضرت عیسیٰ کو خطاب کی وجہ وہی ہے جو ہم نے حضرت محمد ﷺ کے متعلق ذکر کی ہے یعنی انہیں شرف دینے کے لئے۔ بعض نے کہا : اس بات سے ہر نبی کو خطاب کیا گیا ہے کیونکہ یہ ان کا طریقہ ہے جس پر ان کا ہونا مناسب ہے پس معنی یہ ہوگا ہم نے کہا : اے رسل : کھائو پاکیزہ چیزوں سے جیسے تو تاجر کو کہتا ہے : اے تاجرو : سود سے بچو تو اس کو معنی سے خطاب کرتا ہے اس کے ساتھ متصل ہے کہ یہ مقالہ تمام اصناف کی صلاحیت رکھتا ہے انبیاء کرام کو اکٹھا کبھی خطاب نہیں کیا گیا ہر ایک کو اس زمانہ میں خطاب کیا گیا۔ فراء نے کہا : یہ اس طرح ہے جیسے ایک شخص کو کہتا ہے، ہمیں اذیت دینے سے رک جائو۔ اللہ نے اکل حلال کے وجوب اور حرام سے اجتناب کے ساتھ خطاب میں انبیاء کرام اور مومنین میں برابری فرمائی اور پھر تمام اس وعید میں شامل ہیں جس کو انی بما تعملون علیم کا ارشاد اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے۔ اللہ درود بھیجے اپنے رسل اور انبیاء پر جب انبیاء کرام کے ساتھ یہ معاملہ ہے تو پھر باقی لوگوں کے ساتھ کیسا گمان ہے ؟ الطیبات اور الرزاق کے بارے میں گفتگو کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ۔ اور حدیث شریف یمد یمدیہ (صحیح مسلم، بیان ان اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع امن المعروف، جلد 1، صفحہ 326) ، وہ ہاتھوں کو بلند کرتا ہے۔ دعا کے وقت آسمان کی طرف ہاتھوں کو بلند کرنے کی مشروعیت پر دلیل ہے۔ اس میں کلام گزرچکی ہے۔ اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : فان یستجاب لذلک۔ (ایضا) اس کی دعا قبول کیسے ہوگی ؟ یہ استبعاد کی جہت ہے یعنی وہ دعا کی قبولیت کا اہل نہیں لیکن یہ جائز ہے کہ اللہ اپنے لطف وکرم سے اس کی دعا قبول فرمالے۔
Ayahs 23:52–54

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور یہ تمہاری جماعت (حقیقت میں) ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو مجھ سے ڈرو

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

تو پھر آپس میں اپنے کام کو متفرق کر کے جدا جدا کردیا جو چیز جس فرقے کے پاس ہے وہ اسی سے خوش ہو رہا ہے

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

تو ان کو ایک مدت تک ان کی غفلت ہی میں رہنے دو

آیت نمبر 52-54 مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : و ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ یہ تمہارا دین اور تمہاری ملت ہے پس اسے لازم پکڑو۔ امت سے مراد یہاں دین ہے اس کے محمل پہلے گزر چکے ہیں اسی سے اللہ کا ارشاد ہے : انا وجدنا اباء نا علیٰ امۃ (الزخرف :23) یعنی علی دین النابغہ نے کہا : حلفت فلم اترک لنفسک ریبۃ وھل یاثمن ذوامۃ وھو طائع مسئلہ نمبر 2: وان ھذہ ھمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور فتحہ کے ساتھ اور نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا گیا ہے : خلیل نے کہا : یہ محل نصب میں ہے کیونکہ حرف جر حذف ہے یعنی انا اعلم بان ھذاد ینکم الذی امرتکم ان تومنوا بہ۔ میں جانتا ہوں کہ تمہارا یہ دین ہے جس کا میں نے حکم دیا ہے کہ تم اس پر ایمان لائو۔ (المحرر الوجیز، جلد 4 صفحہ 146) ۔ یہ مضمر فعل کے متعلق ہے تقدیر عبارت اس طرح ہوگی۔ واعلمو ان ھذہ امتکم۔ یہ سیبویہ کے نزدیک فاتقون کے متعلق ہے۔ تقدیر اس طرح ہے فاتقون لان امتکم واحدۃ۔ یہ اس ارشاد کی طرح ہے : وان المسجد للہ فلا تدعو مع اللہ احدا۔ (الجن) ۔ یعنی لان المساجد للہ فلا تدعو امعہ غیرہ۔ اور جس طرح یہ ارشاد ہے : لایلف قریش (القریش :1) یعنی فلیعبدوا رب ھذا البیت لا یلاف قریش۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ یہ آیت اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ یا یھا الرسل میں خطاب سب کو ہے۔ یہ انکی حاضری کی تقدیر کے اعتبار سے ہے اور جب تو یایھا الرسل سے مراد صرف محمد ﷺ کو خطاب لے تو اس آیت اور فتقطعوا کا اتصال مشکل ہوتا ہے۔ رہا انا ربکم فاتقون کا ارشاد اگرچہ یہ انبیاء کرام کو کہا گیا ہے لیکن معنی کے اعتبار سے اس میں امتیں بھی شامل ہیں اس کے بعد فتقطعوا کا اتصال بہتر ہوگا۔ فتقطعوا سے مراد ہوگا کہ امتیں متفرق ہوگئیں انہوں نے ایک دین کو اجتماع کے حکم کے بعد بھی کئی ادیان بنا ڈالا۔ پھر اللہ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک اپنی رائے اور گمراہی پر خوش ہے یہ گمراہی کی انتہا ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ یہ آیت حضور ﷺ کے ارشاد کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ : خبردار تم سے پہلے کتاب بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے اور یہ امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی بہتر دوذخ میں ہوں گے اور ایک جنت میں ہوگا اور وہ جماعت ہے۔ اس حدیث کو ابو دائود نے نقل کیا ہے۔ (سنن ابی دائود، باب شرح السنۃ، جلد 2، صفحہ 275) ۔ اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور یہ زائد روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام نے پوچھا : یارسول اللہ : وہ کون سا گروہ ہے ؟ فرمایا : جس طریقہ پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔ (جامع ترمذی، جلد 2، صفحہ 89) انہوں نے اسے حضرت عبد اللہ بن عمرو کی حدیث سے بیان کیا ہے۔ یہ بیان ہے کہ آیت میں اور حدیث میں جس افتراق سے ڈرایا گیا ہے وہ اصول دین اور قواعد دین میں ہے کیونکہ اصول وقواعد پر ملل کا اطلاق کیا ہے اور بیان فرمایا کہ ان ملل میں سے کسی چیز کو پکڑنا۔ دخول نار کا موجب ہے اس قسم کا حکم فروغ میں نہیں بیان کیا جاتا، کیونکہ یہ ملل کے متعدد ہونے اور آگ کے عذاب کا موجب نہیں ہوتا۔ اللہ فرماتا ہے۔ لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جا (المائدہ :48) ۔ اللہ کا ارشاد ہے : زبرا یعنی وہ کتب جو انہوں نے خود وضع کیں اور گمراہیاں جو انہوں نے تالیف کیں ؛ یہ ابن زید کا قول ہے۔ بعض علماء نے کہا : انہوں نے کتب کو جدا جدا کیا اور ایک فرقہ نے صحف کی پیروی کی، ایک فرقہ نے تورات کی پیروی کی، ایک فرقہ نے زبور کی اور ایک فرقہ نے انجیل کی پیروی کی تمام نے ان کتب میں تحریف اور تبدیلی کی ؛ یہ قتادہ کا قول ہے۔ بعض نے کہا : ان میں سے ہر فریق نے ایک کتاب کو پکڑا اس پر ایمان لائے اور اس کے علاوہ کتب کا انکار کیا۔ زبر باء کے ضمہ کے ساتھ نافع کی قرأت ہے اس کی جمع زبور ہے اعمش اور ابو عمرو سے زبر باء کے فتحہ کے ساتھ مروی ہے یہ لوہے کے ٹکڑوں کی طرح ٹکڑے ہیں جیسے اللہ کا ارشاد ہے : اتونی زبر الحدید (الکہف :96 ) ۔ کل حزب یعنی ہر فریق اور ہر ملت۔ بما لدیھم یعنی جو دین میں سے ان کے پاس تھا۔ فرحون اس پر خوش تھے یہ آیت قریش کی مثال ہے حضرت محمد ﷺ کو ان کے بارے میں خطاب فرمایا اس قول کے ساتھ : فذرھم فی غمرتھم۔ یعنی ان لوگوں کو چھوڑیئے یہ گذشتہ لوگوں کی طرح ہیں ان سے عذاب کی تاخیر پر آپ کو سینہ تنگ نہ ہو۔ ہر چیز کا ایک وقت ہے۔ الغمرۃ لغت میں اس چیز کو کہتے ہیں جو تجھے ڈھانپ لے اور تجھ پر غالب آجائے۔ اس کی اصل ڈھانپنا ہے اس میں سے الغمر جس کا معنی کینہ ہے کیونکہ وہ دل کو ڈھانپ دیتا ہے۔ الغمرۃ زیادہ پانی کو بھی کہتے ہیں جو زمین کو ڈھانپ دیتا ہے۔ غمر الرداء ہو جو عطا کے ساتھ لوگوں کو ڈھانپ دیتا ہے۔ شاعر نے کہا : غمر الرداء اذا تبسم ضاحکا خلقت لضحکتہ رقاب المال
Ayahs 23:55–56

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں کی مدد دیتے ہیں

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

(تو اس سے) ان کی بھلائی میں جلدی کر رہے ہیں ؟ (نہیں) بلکہ یہ سمجھتے ہیں ہیں

آیت نمبر 55-56 اللہ کا ارشاد ہے : ا یحسبون انما نمدھم بہ مال وبنین۔ ما بمعنی الذی ہے یعنی اے پیارے محمد : کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ جو ہم انہیں دنیا میں مال اور اولاد دیتے ہیں وہ ان کے لیے ثواب ہے بلکہ وہ تو استدراج ہے اور ڈھیل ہے یہ بھلائیوں کے پہنچانے میں جلدی نہیں ہے۔ ان کی خبر میں تین اقوال ہیں۔ 1۔ خبر محذوف ہے۔ زجاج نے کہا اس کا معنی ہے نسارع لھم بہ فی الخیرات، بہ کو، حذف کیا گیا۔ (زاد المسیر، جلد 3 صفحہ 347) ۔ ہشام الضریر نے ایک باریک اور دقیق قول کیا ہے۔ انہوں نے کہا : انما ھی الخیرات۔ معنی یہ ہوگا سارع لھم فیہ۔ پھر ظاہر فرمایا اور فرمایا فی الخیرات۔ اس تقدیر پر اس میں حذف نہیں ہے۔ کسائی کا مذہب یہ ہے کہ انما ایک حرف ہے۔ یہ حذف کی تقدیر کا محتاج نہیں وبنین پر وقف جائز ہے اور جنہوں نے کہا کہ انما دو حرف ہیں ان کے نزدیک ایک ضمیر کا ہونا ضروری ہے جو خبر سے ان کے اسم کی طرف لوٹے وبنین پر وقف مکمل نہیں۔ سختیانی نے کہا وبنین پر وقف اچھا نہیں کیونکہ یحسبون دو مفعولوں کا محتاج ہے۔ دونوں مفعولوں کی تکمیل فی الخیرات میں ہے۔ ابن انباری نے کہا : یہ خطا ہے کیونکہ ان اپنے اسم اور خبر کی وجہ سے کافی ہے ان کے بعد دوسرا مفعول لانا جائز نہیں۔ ابو عبد الرحمن سلمی اور عبد الرحمن بن ابی بکرہ نے یسارع یاء کے ساتھ پڑھا ہے اس بناء پر کہ اس کا فاعل امدادنا ہے۔ یہ بغیر حذف کے ہونا جائز ہے یعنی یسارع لھم الامداد۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس میں حذف جائز ہونا معنی ہوگا یسارع للہ لھم فی الخیرات بھی پڑھا جاتا ہے اس میں تین وجوہ ہیں : ایک حذف کی بناء پر ہے اور یسارع الامداد ہونا بھی جائز ہے یہ بھی جائز ہے کہ لھم نائب الفاعل ہو ؛ یہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔ مہدوی نے کہا حر نحوی نے نسرع لھم فی الخیرات پڑھا ہے یہ جماعت کی قرأت کا معنی ہے۔ ثعلبی نے کہا : درست جمہور کی قرأت ہے کیونکہ پیچھے تمد آیا ہوا ہے۔ بل لا یشعرون۔ انہیں شعور نہیں کہ یہ ان کے لئے فتنہ اور استدراج ہے۔
Ayahs 23:57–60

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

جو لوگ اپنے پروردگار کے خوف سے ڈرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کے ساتھ شریک نہیں کرتے

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور جو دے سکتے ہیں وہ دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے

آیت نمبر 57-60 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان الذین ھم من خشیۃ ربھم مشفقون۔ کفار کے ذکر اور ان کو وعید سنانے کے بعد مومنین کا ذکر کیا جو نیکیوں میں جلدی کرنے والے ہیں اور اللہ نے جو ان کے ساتھ وعدہ کیا ہے اس کا ذکر کیا ہے اور ان کی ابلغ صفات کا ذکر کیا۔ مشفقون وہ ان چیزوں سے ڈرنے والے ہیں جن سے اللہ نے ڈرایا ہے۔ والذین ھم بایت ربھم یومنون۔ والذین ھم بربھم لا یشرکون۔ والذین یئوتون ما اتواو قلوبھم وجلۃ۔ حسن نے کہا : وہ اخلاص کا مظاہرہ کرتے ہیں اور وہ ڈرتے ہیں کہ ان کا عمل کہیں غیر مقبول ہوجائے۔ ترمذی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا میں نے نبی کریم ﷺ سے اس آیت کے متعلق پوچھا : والذین یئوتون ما اتواو قلوبھم وجلۃ حضرت عائشہ نے عرض کی : کیا وہ شراب پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں۔ (جامع ترمذی، کتاب التفسیر، سورة مومنون، جلد 2، صفحہ 147) ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں اے صدیق کی بیٹی۔ لیکن وہ روزے رکھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور صدقہ دیتے ہیں جبکہ وہ ڈرتے بھی رہتے ہیں کہ کہیں انکے یہ اعمال رد نہ کیے جائیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو نیکیوں میں جلدی کرنے والے ہیں۔ (ترمذی، باب ومن سورة المومن، حدیث نمبر 3099، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) حسن نے کہا : ہم نے ایسے لوگوں کو پایا کہ انہیں اپنی نیکیوں کے رد ہونے کا زیادہ خوف ہوتا تھا اس سے زیادہ جتنا کہ تمہیں اپنی برائیوں پر عذاب دیئے جانے کا خوف ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ، حضرت ابن عباس ؓ اور نخعی نے والذین یئوتون ما اتوا۔ الاتیان سے مشتق کرکے مقصور پڑھا ہے۔ فراء نے کہا : یہ قرأت حضرت عائشہ سے صحیح ہوتی تو جماعت کی قرأت کے خلاف نہ ہوتی کیونکہ عربوں میں سے جو تمام حالات میں ہمزہ میں الف کو لازم کرتے ہیں جب اسے لکھا جاتا ہے پس سئل الرجال سین کے بعد الف کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔ یستھزئون۔ زا اور وائو کے درمیان الف کے ساتھ ہے اور شئی یا کے بعد الف کے ساتھ ہے۔ پس ان علماء کے نزدیک یا کے بعد الف کے ساتھ لکھنا ناپسندیدہ نہیں یہ لفظ اس خط کی بناء پر دونوں پر دونوں قرائوتوں کا احتمال رکھتا ہے۔ یئوتون ما اتوا۔ ویاتون ما اتوا (زاد المسیر، جلد 3، صفحہ 348) ان دونوں تاویلوں کے احتمال کے ساتھ منفرد ہے۔ وہ نظریہ جو جماعت کا ہے، وہ جو زکاۃ، صدقہ دیتے ہیں تو ان کے دل رہے ہوتے ہیں اور وہ جو فرشتوں کے اعمال پیش کرتے ہیں تو ڈر رہے ہوتے ہیں۔ مفعول کو اس باب میں حذف کیا گیا ہے کیونکہ اس کا معنی واضح ہے جس طرح کے اس قول میں حذف کیا گیا ہے۔ فیہ یغاث الناس وفیہ یعصرون (یوسف) یعنی وہ تلوں اور انگور کو نچوڑتے ہیں۔ مفعول کو حذف کیا کیونکہ اس کی تاویل واضح ہے۔ اصل اس قرأت پر ہوگی اور قرآن کے اصل نسخہ میں موجود ہے یاتون، الف ہمزہ سے بدلا گیا ہے اور الف کو وائو کی صورت میں لکھا گیا ہے، کیونکہ خفاء میں حروف مدہ اور لین برابر ہیں، ابن الانباری نے یہ حکایت کیا ہے۔ نحاس نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ کی قرأت سے معروف والذین یاتون ما اتوا ہے یہ قرأت نبی کریم ﷺ سے مروی ہے اور حضرت عائشہ سے مروی ہے اور اس کا معنی ہے وہ عمل کرتے ہیں جو عمل کرتے ہیں جیسا کہ حدیث میں مروی ہے۔ الوجل کا معنی ڈرنا اور خوف کھانا ہے متقی اور تائب کو انجام کا خوف ہوتا ہے اور ان امور کا خوف ہوتا ہے جو موت کے بعد اس پر طاری ہوں گے۔ انھم الی ربھم راجعون۔ یہ خاتمہ پر تنبیہ ہے۔ صحیح بخاری میں ہے۔ انما الاعمال بالخواتیم۔ (صحیح بخاری، باب العمل بالخواتیم، جلد 2، صفحہ 978) ۔ اعمال کا دارومدار خاتمہ پر ہے۔ رہا وہ شخص جس سے نیکیاں اور گناہ دونوں سرزد ہوتے ہیں تو انہیں وعید کے نفاز کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اصحاب الخواطر نے کہا : عارف پر اطاعت کیوجہ سے کپکپی اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جتنا کہ مخالفت پر کپکپی ہوتی ہے کیونکہ مخالفت کو توبہ مٹادیتی ہے اور طاعت میں غرض کی تصحیح مطلوب ہوتی ہے۔ انھم یعنی لانھم یامن من اجل انھم۔۔۔۔۔۔ ا لی ربھم راجعون۔ (النکت والعیون، جلد 4، صفحہ 59)
Ayah 23:61

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی ان کے لئے آگے نکل جاتے ہیں

آیت نمبر 61 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : اولئک یسرعون فی الخیرات : خیرات سے مراد نیکیاں ہیں وہ نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں تاکہ اعلیٰ درجات اور بالا خانوں کو حاصل کرلیں یہ یسرعون بھی پڑھا گیا ہے یعنی وہ نیکیوں کی طرف جلدی کرنے والے ہوتے ہیں۔ یسرعون کا مطلب ہے وہ اس سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں جو ان سے نیکیوں میں سبقت لے جاتا ہے مفعول محذوف ہے۔ زجاج نے کہا : جو جلدی کرتے ہیں وہ اس سے زیادہ جلدی کرتے ہیں (زاد المسیر، جلد 3، صفحہ 348) ۔ وھم لھا سبقون۔ اس میں جو خوبصورت قول ہے وہ یہ ہے کہ وہ نیکیوں کو ان کے اوقات میں ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ دلیل ہے کہ نیکیوں کو ان کے اوقات میں ادا کرنا افضل ہے جیسا کہ سورة بقرہ میں گزرچکا ہے۔ جو کسی چیز میں بڑھ جائے اس کی طرح سبقت لے جانے والا ہے اور ہر وہ شخص جو اس سے مئوخر ہوتا ہے تو اس کا فوت ہونا اس سے سبقت لے جاتا ہے۔ لھا۔ میں لام اس قول کی بناء پر الی کے معنی میں ہے۔ جیسے فرمایا۔ بان ربک اوحیٰ لھا (الزلزلتہ) سیبویہ نے یہ شعر کہا ہے۔ تجانف عن جو الیمامۃ ناقتی وما قصدت من اھلھا لسوائکا حضرت ابن عباس ؓ سے وھم لھا سبقون۔ کا معنی مروی ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے لئے سعادت مل چکی ہے اس وجہ سے وہ نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نیکیوں کی وجہ سے سبقت لے جانے والے ہیں۔
Ayah 23:62

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس کتاب ہے جو سچ سچ کہہ دیتی ہے اور لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا

آیت نمبر 62 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا نکلف نفسا الا وسعھا یہ سورة بقرہ میں گزرچکا ہے۔ اور جو تکلیف مالا یطاق شریعت میں وارد ہے اس تمام کے لئے ناسخ ہے۔ ولدینا کتب ینطق بالحق سب کا ظاہر قول یہ ہے کہ یہاں کتاب سے مراد اعمال کو شمار کرنے والی کتاب ہے جسے ملائکہ اٹھاتے ہیں اس کو اپنی طرف منسوب کیا کیونکہ اس میں اللہ کے حکم سے بندوں کے اعمال لکھے جاتے ہیں وہ حق کے ساتھ بولتی ہے اس میں تہدید اور ظلم سے مایوس کرنا ہے۔ لفظ النطق کتاب کے لئے جائز ہے اور مراد یہ ہے کہ انبیاء کرام اس کے احکام کے ساتھ بولتے ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد لوح محفوظ ہے اس میں ہر چیز لکھی ہوئی ہے پس وہ اس سے تجاوز نہیں کرتے۔ بعض نے کہا : و لدینا کتب سے مراد قرآن ہے۔ یہ تمام معانی کا احتمال رکھتا ہے اور پہلا معنی اظہر ہے۔
Ayahs 23:63–65

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

مگر ان کے دل ان (باتوں) کی طرف سے غفلت میں (پڑے ہوئے) ہیں اور اسکے سوا اور اعمال بھی ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو پکڑ لیا تو وہ اس وقت چلائیں گے

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

آج مت چلاؤ ! تم کو ہم سے کچھ مدد نہیں ملے گی

آیت نمبر 63-65 اللہ کا ارشاد ہے۔ بل قلوبھم فی غمرۃ من ھذا مجاہد نے کہا : وہ پردے اور غفلت میں ہیں اور قرآن سے اندھے ہوچکے ہیں کہا جاتا ہے۔ غمرۃ الماء جب پانی ڈھانپ لے۔ نہر غمر ایسی نہر کہ جو اس میں داخل ہو اس کو ڈھانپ دیتی ہے۔ رجل غمر یغمرہ آراء الناس۔ ایسا شخص جس کو لوگوں کی آراء ڈھانپ لیں۔ بعض علماء نے کہا غمرۃ کیونکہ وہ چہرے کو ڈھانپ لیتی ہے اسی سے ہے دخل فی غمار الناس وخمارھم یعنی لوگوں کے مجمع نے اسے ڈھانپ لیا۔ بعض نے کہا : بل قلوبھم فی غمرۃ یعنی وہ حیرت اور اندھے پن میں ہیں یعنی اس سے وہ اندھے ہیں جو پہلی آیات میں اعمال خیر بیان کیے گئے ہیں ؛ یہ قتادہ کا قول ہے یا اس کتاب سے اندھے ہیں جو حق بولتی ہے (احکام القرآن للطبری، جز 18، صفحہ 46) ۔ ولھم اعمال من دون ذالک ھم لھا عملون۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا : ان کی ایسی خطائیں ہیں کہ ضرور وہ حق کے علاوہ کام کریں گے۔ حسن اور ابن زید نے کہا : اس کا معنی ہے ان کے ردی اعمال ہیں جس روش پر ہیں انہوں نے اس کے علاوہ اعمال نہیں کیے ضرور وہ مومنین کے اعمال کے علاوہ اعمال کریں گے جنکی وجہ سے وہ دوزخ میں داخل ہوں گے ان کے لئے شقاوت مقدر ہوچکی ہے۔ ایک تیسرا احتمال بھی ہے کہ اس نے خالق کا کفر کرنے کے ساتھ مخلوق پر ظلم کیا ؛ یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ یہ معانی قریب قریب ہیں۔ حتی اذا اخذنا مترفیھم بالعذاب۔ یعنی بدر کے دن جب ہم نے تلوار کے ساتھ ان کے خوشحال لوگوں کو پکڑ لیا ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ضحاک نے کہا : یعنی بھوک سے پکڑلیا۔ جب نبی کریم ﷺ نے انکے خلاف دعا کی : اے اللہ مضر قبیلہ پر سختی فرما۔ اے اللہ انہیں ایسے قحط میں مبتلا کردے جیسے یوسف کے زمانہ میں تھا۔ (صحیح بخاری، الدعاء علی المشرکین، جلد 2 صفحہ 942) پس اللہ نے انہیں قحط اور بھوک میں مبتلا کردیا حتیٰ کہ انہوں نے ہڈیاں، مردار، کتے اور دھرنگے کھائے، ان کے مال اور عیال ہلاک ہوئے۔ اذاھم یجئرون۔ وہ چیختے تھے اور مدد طلب کرتے تھے۔ الجوار کا اصل معنی تضرع کے ساتھ آواز بلند کرنا ہے۔ جیسے بیل آواز نکالتا ہے۔ اعشی نے گائے کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا : فظافت ثلاثا بین یوم ولیلۃ وکان النکیران تضیف وتجارا جوہری نے کہا : الجوار، الخوارمثل ہے۔ کہا جاتا ہے : جار الثور یجار یعنی بیل نے آواز نکالی۔ بعض نے عجلا جسدا لہ خوار پڑھا ہے۔ اخفش نے یہ حکایت کیا ہے۔ اور جار الرجل الی اللہ عزوجل یعنی دعا کے ساتھ تضرع کیا۔ قتادہ نے کہا : وہ توبہ کے ساتھ چیختے تھے پس ان سے توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ یراوح من صلوات الملیک فطورا سجودا وطورا جوارا ابن جریح نے کہا : حتیٰ اذا اخذنا مترفیھم بالعذاب۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بدر میں قتل کیے گئے تھے۔ اذا ھم یجئرون۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مکہ میں تھے۔ پس دونوں قولوں کو جمع کیا گیا۔ یہ عمدہ ہے۔ لا تجئروالیوم انکم منا۔ منا سے مراد من عذابنا ہمارے عذاب سے لاتنصرون تمہاری حفاظت نہیں کی جائے گی اور تمہاری جزع و فزع تمہیں نفع نہیں دے گی حسن نے کہا : توبہ کی قبولیت کے ساتھ انکی مدد نہیں کی جائے گی۔ بعض علماء نے کہا : اس نہی کا معنی اخبار ہے یعنی تم اگر تضرع وزاری کرو تو تمہیں نفع نہ دے گی۔
Ayahs 23:66–67

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور تم الٹے پاؤں پھر پھرجاتے تھے

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

ان سے سرکشی کرتے، کہانیوں میں مشغول ہوتے اور بےہودہ بکواس کرتے تھے

آیت نمبر 66-67 اللہ کا ارشاد ہے : تتلیٰ علیکم تم پر پڑھی جاتی ہیں۔ ضحاک نے کہا قتل کے ساتھ عذاب دینے سے پہلے۔ تنکصون۔ تم پیچھے کی طرف لوٹتے ہو (احکام القرآن للطبری، جز 17-18، صفحہ 48) مجاہد نے کہا : اس کا معنی پیچھے ہٹتے ہو۔ اس کی اصل الٹے پائوں پیچھے ہٹنا ہے، شاعر نے کہا : زعمو بانھم علی سبل النجا وانما نکص علی الاعقاب یہاں حق سے اعراض سے استعارہ ہے۔ حضرت علی نے علی ادبارکم پڑھا ہے۔ تنکصون کاف کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ مستکبرین بہ کی ضمیر سے حال ہے۔ جمہور نے کہا : یہ ضمیر حرم یا مسجد یا البلد کی طرف لوٹ رہی ہے، البلد سے مراد مکہ ہے اگرچہ اس کا پہلے ذکر نہیں لیکن معاملہ میں اس کی شہرت کی وجہ سے ضمیر لوٹاناجائز ہے۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہم اہل حرم ہیں پس ہم نہیں ڈرتے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے وہ اپنے دلوں میں یہ اعتقاد رکھتے ہیں ان کے لئے مسجد اور حرم کی وجہ سے لوگوں پر زیادہ حقوق ہیں پس وہ اس وجہ سے تکبر کرتے تھے حق سے تکبر کرنا مراد نہیں۔ ایک جماعت نے کہا : ضمیر کا مرجع قرآن ہے اس حیثیت سے کہ آیات ذکر کی گئی ہیں معنی یہ ہے کہ تمہارے لئے میری آیات سننا تکبر اور سر کشی کو پیدا کرتا ہے، پس تم اس پر ایمان نہ لائو۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ عمدہ قول ہے۔ نحاس نے کہا : پہلا قول اولی ہے اس کا معنی ہے وہ حرم کی وجہ سے فخر کرتے ہیں اور کہتے ہیں۔ ہم اہل حرم ہیں۔ اللہ کا ارشاد ہے : سمرا تھجرون۔ اس میں چار مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ سمرا تھجرون، سامرا پر نصب حال کی بنا پر ہے اس کا معنی ہے سمارا۔ وہ جماعت جو رات کو باتیں کرتی ہے۔ یہ السمر سے مشتق ہے جس کا معنی ہے چاند کا سایہ اسی سے سمرۃ اللون ہے۔ وہ کعبہ کے ارد گرد چاند کے سایہ سے باتیں کرتے تھے۔ اس کو التحدث کہا گیا ہے۔ ثوری نے کہا : چاند کے سایہ کو السمرکہتے ہیں اسی سے السمرۃ فی اللون ہے رنگ میں گندمی رنگ کہا جاتا ہے۔ اس کو الفخت کہا جاتا ہے اور اسی سے فاختہ ہے۔ ابورجاء نے سمارا پڑھا ہے یہ جمع ہے سامر کی جیسا کہ شاعر نے کہا : الست تری السمار والناس احوالی قیلہ کی حدیث میں ہے : ا ذا جاء زوجھا من السامر، جب اس کا خاوند داستان سرائی کرنے والی قوم سے واپس آیا، یہ اسم مفرد بمعنی جمع ہے جیسے الحاصر ہے اس سے مراد وہ قوم ہوتی ہے جو پانی پر اترتی ہے۔ الباقر جمع ہے البقر کی اور الجامل جمع ہے الابل کی کی مذکر اور مذکر اور مونث دونوں کی جمع یہی ہے اسی سے اللہ کا ارشاد ہے۔ ثم یخرجکم طفلا (غافر :67) یعنی اطفالا کہا جاتا ہے قوم سمرو سمرو سامر اس کا معنی ہے رات کو جاگنا، یہ السمر سے مشتق ہے اس سے مراد چاند کی وہ روشنی ہے جو درختوں پر پڑتی ہے۔ جوہری نے کہا : السامر اور اسی طرح السمار وہ لوگ جو داستان سراء کرتے ہیں جیسے الحاج کو حجاج کہا جاتا ہے۔ شاعر کا قول ہے۔ وسامر طال فیہ اللھو والسمر گویا اس مکان کو سامر کہا جاتا ہے جس میں قصہ خوانی کے لئے جمع ہوا جاتا ہے۔ بعض علماء نے کہا : سامر واحد ہے اور بمعنی السمار ہے کیونکہ یہ وقت کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ جیسے شاعر کا قول ہے۔ من دونھم ان جئتھم سمرا عزف القیان ومجلس غمر اور فرمایا : سمرا کیونکہ اس کا معنی ہے اگر تورات کے وقت ان کے پاس آئے گا جبکہ وہ قصہ خوانی میں مصروف ہوں گے بنا سمیر رات اور دن کو کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں داستان سرائی ہوتی ہے کہا جاتا ہے : لا افعلہ ماسمرا سمیرا بدا میں کبھی بھی ایسا نہیں کروں گا، السمیر زمانہ کو بھی کو کہا جاتا ہے۔ اور ابناہ سے مراد رات اور دن میں۔ لا افعلہ السمر والقمر یعنی جب تک لوگ چاندنی رات میں قصہ خوانی کرتے رہیں گے میں ایسا نہیں کروں گا۔ ولاا فعلہ سمیرا للیالی، شنفری نے کہا : ھنالک لا ارجو حیاۃ تسرنی سمیر اللیالی مبسلا بالجرائر السمار سین کے فتحہ کے ساتھ پتلا دودھ۔ عرب قصہ خوانی کے لئے بیٹھتے تھے۔ یہ نجوم کے ذریعے اس کی معرفت کو ثابت کیا ہے کیونکہ وہ صحرا میں بیٹھتے تھے اور طلوع اور غروب ہونے والے ستارے دیکھے جاتے تھے۔ قریش کعبہ کے اردگرد مجالس قائم کرتے تھے اور جھوٹی اور کفریہ کہانیاں بیان کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی وجہ سے انہیں عیب لگایا۔ تھجرون۔ تاء کے ضمہ کیساتھ، میم کے کسرہ کے ساتھ اھجر سے مشتق ہے جب کوئی فحش کلام کرے اور تاء کے نصب کے ساتھ اور جیم کے ضمہ کے ساتھ ھجر المریض سے مشتق ہے جس کا معنی ہے مریض نے ہذیان بکا۔ اس کا معنی ہے وہ نبی کریم ﷺ اور قرآن کے بارے میں بری بات کرتے ہیں۔ یہ حضرت عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی مستکبرین بہ سمرا تھجرون۔ تو قصہ خوانی مکروہ ہوگئی یعنی اللہ نے اس قوم کی مذمت فرمائی ہے جو طاعت الٰہی کے علاوہ باتیں کرتے ہیں خواہ وہ ہذیان میں ہو یا کوئی اور مشورہ میں ہو۔ اعمش فرماتے تھے۔ جب میں شیخ کو دیکھتا ہوں جبکہ اس نے حدیث نہیں لکھی ہوتی تو میں اسے تھپڑ مارتا ہوں کیونکہ وہ شیوخ القمر سے ہے یعنی جو چاندنی راتوں میں جمع ہوتے ہیں خلفاء اور امراء کے زمانہ کو بیان کرتے ہیں ان میں سے کوئی نماز کے لئے اچھی طرح وضو نہیں کرتا ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ امام مسلم نے حضرت ابو برزہ سے روایت کیا ہے فرمایا : نبی کریم ﷺ عشاء کی نماز کو رات کے تہائی حصہ تک موخر فرماتے تھے اور عشاء کی نماز سے پہلے سونا اور بعد میں باتیں کرنا ناپسند فرماتے تھے۔ (صحیح مسلم، استحباب التکبیر بالصبح فی اول وقتھا وھو التغلیس، جلد 1، صفحہ 230) ۔ علماء نے فرمایا : نماز سے پہلے سونے کی کراہت اس لیے ہے تاکہ پوراوقت کہیں فوت نہ ہوجائے یا افضل وقت ضائع نہ ہوجائے، اسی وجہ سے حضرت عمر ؓ نے کہا : جو عشاء سے پہلے سوجائے اس کی آنکھ کبھی نہ سوئے۔ یہ تین مرتبہ فرمایا : جن علماء نے عشاء سے پہلے سونے کو مکروہ قراردیا ہے ان میں حضرت عمر، حضرت عبدا للہ بن عمر اور حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ ہیں۔ یہی امام مالک کا مذہب ہے۔ بعض نے رخصت دی ان میں سے حضرت علی، حضرت ابو موسیٰ وغیرہ ہیں۔ یہ کو فیوں کا مذہب ہے۔ بعض نے شرط لگائی ہے کہ وہ اپنے ساتھ ایک شخص رکھ لے جو اسے نماز کے لئے جگائے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔ یہی امام طحاوی کا مذہب ہے۔ رہا نماز کے بعد باتیں کرنا مکروہ ہونا تو یہ اس لئے ہے کیونکہ نماز گناہوں کا کفارہ ہے پس وہ سلامتی پر سوئے گا جب کہ فرشتوں نے اس کے صحیفہ کو عبادت کے ساتھ ختم کیا تھا۔ وہ قصہ کہانی کرتا ہے وہ اپنی طرف سے باتیں کرتا ہے اور اپنا اختتام لغو اور باطل چیز پر کرتا ہے اور یہ مومنین کے فعل سے نہیں ہے۔ دیر تک باتیں کرتے رہنا رات کے آخری حصہ میں نیند کو غالب کرتا ہے۔ اور رات کے آخر میں قیام بھی نہیں کرسکتا۔ بعض اوقات صبح کی نماز سے بھی رہ جاتا ہے۔ بعض علماء نے کہا : عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرنا مکروہ ہے کیونکہ حضرت جابر بن عبدا للہ نے روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب لوگوں کے چلنے کی آواز تھم جائے تو قصہ خوانی سے پرہیز کرو کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اللہ اپنی مخلوق میں سے کیا پھیلائے گا، تم اپنے دروازے بند کردو اور مشکیزوں کے منہ باندھ دو اور برتن ڈھانپ دو اور چراغ بجھادو۔ (ابودائود، کتاب، ابواب النوم، باب ماجاء فی الدیک والبھائم، حدیث، حدیث نمبر 4440، روایت بالمعنی) ۔ حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ وہ لوگوں کو عشاء کے بعد باتیں کرنے پر سزادیتے تھے اور فرماتے تھے : رات کے ابتدائی حصہ میں قصہ خوانی کرنا اور رات کے آخری حصہ میں سونا اپنے اعمال لکھنے والے فرشتوں کو راحت دو حتیٰ کہ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے جس نے عشاء کے بعد شعر کا ایک مصرعہ پڑھا اس کی صبح تک نماز قبول نہ ہوگی اس کی حضرت شداد بن اوس نے نبی کریم ﷺ تک سند چلائی ہے۔ بعض علماء نے کہا : عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرنے کی کراہت میں حکمت یہ ہے کہ اللہ نے رات کو سکون کے لئے بنایا ہے جب آدمی اس میں باتیں کرئے گا اور دن کے وقت سوئے گا جب کہ اللہ نے دن کو معاش کی تلاش کیلئے بنایا ہے تو گویا اس نے اللہ کی اس حکمت کی مخالفت کی جو اس نے اس کے باوجود پر جاری فرمائی ہے۔ فرمایا : وھو الذی جعل لکم الیل لباسا والنوم سباتا وجعل النھار نشورا۔ (الفرقان) مسئلہ نمبر 4 ۔ یہ کراہت ایسی باتوں کے ساتھ مختص ہے جو عبادت، اذکار اور علم کی تعلیم کے زمرہ سے نہ ہوں اور اہل علم کی گفتگو اور مصالح کی تعلیم وغیرہ کے بارے میں نبی کریم ﷺ اور سلف صالحین سے ایسی روایات وارد ہیں جو اس کے جواز پر دلالت کرتی ہیں بلکہ اس کی ندبیت، استحباب پر دلالت کرتی ہیں۔ امام بخاری نے ایک باب باندھا ہے۔ باب السمر فی الفقہ والخیر بعدا لعشاء ذکر کیا جاتا ہے کہ قرۃ بن خالد نے کہا : ہم نے حسن کا انتظار کیا انہوں نے ہمارے پاس آنے سے دیر لگا دی حتیٰ کہ وہ اس وقت آئے جب وہ وہاں سے چلے جاتے تھے پس وہ آئے اور کہا : ہمارے پڑوسیوں نے ہمیں بلایا تھا۔ پھر حضرت انس نے فرمایا : ہم نے ایک رات رسول ﷺ کا انتظار کیا حتیٰ کہ جب آدھی رات کا وقت ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : لوگوں نے نماز پڑھ لی اور تم نماز میں رہے جب تک تم نماز کے منتظر رہے (صحیح بخاری، السمر فی الفقہ والخیر بعد العشائ، جلد 1، صفحہ 84) ۔ حسن نے کہا : قوم خیر میں ہوتی ہے جب تک خیر کے انتطار میں ہوتی ہے۔ فرمایا : باب السمر مع الضیف والاھل۔ اس کے تحت امام بخاری نے ابوبکر بن عبدا لرحمن کی حدیث لکھی ہے کہ اصحاب صفہ فقراء تھے۔ الحدیث۔ اس کو امام مسلم نے نقل کیا ہے، نیز سرحدوں کی حفاظت اور رات کے وقت لشکروں کی حفاظت پر ثواب اور اجر عظیم ذکر کیا ہے جو اخبار میں مشہور ہے۔ یہ سب آل عمران کے آخر میں گزرچکا ہے۔
Ayah 23:68

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کلام میں غور نہیں کیا ؟ یا ان کے پاس کچھ ایسی چیز آئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی

آیت نمبر 68 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : افلم یدبرو القول۔ القول سے مراد قرآن ہے جیسے اللہ کا ارشاد ہے۔ افلا یتدبرون القرآن (النسائ :82) قرآن کو قول کہا گیا ہے کیونکہ اس کے ساتھ انہیں خطاب کیا گیا، ام جائھم مالم یات اباء ھم الاولین۔ انہوں نے اس سے اعراض کیا اور اس کا انکار کیا۔ بعض علماء نے فرمایا : ام بمعنی بل ہے یعنی بلکہ ان کے پاس آئی ہے ایسی چیز جس کا انکے آباء کے لئے عہد نہ تھا اس وجہ سے انہوں نے اس کا انکار کیا اور اس میں غوروفکر کر ترک کردیا ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ بعض علماء نے کہا : اس کا معنی ہے یا ان کے پاس عذاب سے امان کا پروانہ آیا ہے یہ وہ چیز ہے جو انکے پہلے آباء کے پاس نہیں آئی تھی پس انہوں نے عزت والے قرآن کو ترک کردیا۔
Ayah 23:69

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا یہ اپنے پیغمبر کو جانتے پہچانتے نہیں اس وجہ سے ان کو نہیں مانتے

آیت نمبر 69 عرب یہ ترکیب توقیف اور تقبیح کے معنی پر استعمال کرتے ہیں عرب کہتے ہیں : الخیر احب الیک ام الشر یعنی میں نے تجھے شر کے بارے میں بتادیا اس لئے تو اس سے اجتناب کر۔ وہ رسول مکرم ﷺ کو پہچان چکے تھے اور وہ پہچان چکے تھے کہ اہل صدق، امانت سے ہے اور اس کی اتباع میں نجات اور خیر ہے اگر ہٹ دھرمی نہ ہوتی۔ سفیان نے کہا : کیوں نہیں وہ آپ ﷺ کو پہچان چکے تھے لیکن انہوں نے آپ سے حسد کیا۔
Ayah 23:70

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے سودا ہے (نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق کو لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں

آیت نمبر 70 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : ام یقولون بہ جنۃ یعنی کیا وہ ایمان کے ترک پر اس سے حجت پکڑتے ہیں کہ اسے سودا کا مرض ہے۔ حقیقت ایسی نہیں کیوں کہ اس سے جنون کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ بل جائھم بالحق الحق سے مراد قرآن، توحید حق اور دین حق ہے۔ واکثرھم یعنی تمام کے تمام۔ للحق کرھون۔ حسد، تقلید، اور نافرمانی کے وجہ سے حق کو ناپسند کرتے ہیں۔
Ayah 23:71

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر (خدائے) برحق ان کی خواہشوں پر چلے تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب درہم برہم ہوجائیں بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت (کی کتاب) پہنچا دی ہے اور اپنی (کتاب) نصیحت سے منہ پھیر رہے ہیں

آیت نمبر 71 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : ولواتبع الحق یہاں الحق سے مراد اللہ کی ذات ہے، یہ اکثر علماء کا قول ہے ان میں سے مجاہد، ابن جریح اور ابو صالح وغیرہ ہیں۔ (المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 151) عربی میں اسکی تقدیر اس طرح ہے لواتبع صاحب الحق۔ یہ نحاس کا قول ہے۔ بعض نے کہا : یہ مجاز ہے یعنی اگر حق انکی خواہشات کے موافق ہوتا۔ موافقت کی مجازا اتباع بنایا یعنی اگر وہ رسولوں کا انکار کرتے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے پھر انہیں سزانہ دی جاتی اورا نہیں اس پر جزا نہ دی جاتی خواہ عجز کی وجہ سے یاجہالت کی وجہ سے تو آسمان و زمین کا نظام خراب ہوجاتا۔ بعض علماء نے کہا : اس کا معنی ہے اگر حق وہ ہوتا جو وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ اور معبود بنالیے جائیں تو ان میں اختلاف پیدا ہوتا۔ بعض ایسی چیز کا ارادہ کرتے جس کا دوسرے ارادہ نہ کرتے تو نظام درہم برہم ہوجاتا اور آسمان اور زمین کا معاملہ خراب ہوجاتا اور جو کچھ ان میں ہے اس میں بھی بگاڑ پیدا ہوجاتا۔ بعض علماء نے کہا : لواتبع الحق اھوائھم یعنی الحق اگر لوگوں کی خواہشات کی اتباع کرتا اور اس کی اتباع کرتا جو لوگ چاہتے ہیں تو عالم کا نظام باطل ہوجاتا کیونکہ لوگوں کی شہوات مختلف اور متضاد ہیں حق کا راستہ ہی متبوع ہے اور لوگوں کا راستہ حق کی پیروی ہے۔ بعض علماء نے کہا : الحق سے مراد قرآن ہے، یعنی قرآن انکی خواہشات کے مطابق نازل ہوتا تو آسمان اور زمین کا نظام گڑبڑ ہوجاتا۔ ومن فیھن یہ آسمان کے ملائکہ، زمین کے جن وانس کی طرف اشارہ ہے ؛ یہ ماوردی کا قول ہے۔ کلبی نے کہا : جوان کے درمیان مخلوق ہے۔ یہ حضرت ابن مسعود کی قرأت ہے لفسدت السماوات والارض وما بینھما، کلبی اور حضرت ابن مسعود کی قرأت کی تاویل پر معقول اور غیر معقول سب کے فساد کو شام ہے۔ قرآن کا ظاہر جمہور کی قرأت میں عقل والوں کے فساد پر محمول ہے کیونکہ جو غیر ذوی العقول ہیں وہ صلاح اور فساد میں ذوی العقول کے تابع ہیں۔ اس بناء پر جو فساد ہوگا وہ آسمان کے فرشتوں کی طرف لوٹے گا کہ انہیں ارباب بنایا گیا حالانکہ مربوب ہیں انکی عبادت کی گئی حالانکہ وہ عبادت گزار ہیں اور انسانوں کا افساد دو وجوہ پر ہوگا۔ ایک خواہشات نفسانی کی وجہ سے اور یہ مہلک ہے۔ دوسرا غیرا للہ کی عبادت کی وجہ سے اور یہ کفر ہے۔ رہا اس کے علاوہ کا فساد تو وہ بالتبع ہے، کیونکہ انکی تدبیر ذوی العقول کے ذریعے کیجاتی ہے پس تدبیر کرنے والوں کا فساد ان پر ہی لوٹے گا۔ اللہ کا ارشاد ہے : بل اتینھم بذکرھم ہم انکے پاس انکی نصیحت لیکر آئے جس میں انکے لئے شرف اور عزت ہے ؛ یہ سدی اور سفیان کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : جس میں ان کے ثواب اور عقاب کا ذکر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جس میں حق کا بیان ہے اور اس کا ذکر ہے امر دین میں سے جس کی انہیں ضرورت ہے۔
Ayah 23:72

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

کیا تم ان سے (تبلیغ کے صلے میں) کچھ مال مانگتے ہو ؟ تو تمہارے پروردگار کا مال بہت اچھا ہے اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

آیت نمبر 72 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ام تسئلھم خرجا جو آپ ان کے پاس لائے ہیں کیا آپ ان سے اس پر اجرطلب کرتے ہیں ؛ یہ حسن وغیرہ کا قول ہے۔ فخراج ربک خیر، حمزہ، کسائی، اعمش اور یحییٰ بن وثاب نے خراجا الف کے ساتھ پڑھا ہے سوائے ابن عامر اور ابو حیوہ کے انہوں نے بغیر الف کے پڑھا ہے۔ معنی یہ ہے کیا آپ ان سے رزق طلب کرتے ہیں آپ کے رب کا رزق بہتر ہے۔ وھو خیر الرازقین کوئی شخص قادر نہیں کہ وہ اس کے رزق کی مثل دے۔ اور اسکی مثل انعام نہیں دیتا۔ بعض نے کہا : جوا للہ آپ کوا جر میں سے ادا کرے گا اور اس کی بارگاہ میں دعا، دنیا کے سامان سے بہتر ہے۔ انہوں نے آپ کو اموال پیش کیے تاکہ قریش کے ایک شخص کی طرح ہوجائیں تو آپ نے اسے قبول نہ کیا ؛ یہ حسن نے معنی بیان کیا ہے۔ الخرج اور الخراج کا ایک معنی ہے مگر کلام کا اختلاف احسن ہے یہ الاخفش کا قول ہے اور ابو حاتم نے کہا : میں نے ابو عمرو بن العلاء سے الخراج اور الخرج کا فرق پوچھا توا نہوں نے کہا : خراج وہ ہے جو تم پر لازم ہو اور خرج وہ ہے جو تو اپنی طرف سے خود دے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ الخرج وہ ہوتا ہے جو غلاموں سے وصول کیا جاتا ہے۔ پہلا قول ثعلبی نے اور دوسرا قول ماوردی نے ذکر کیا ہے۔
Ayahs 23:73–74

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور تم تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہو

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ راستے سے الگ ہو رہے ہیں

آیت نمبر 73-74 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و انک لتدعوھم الیٰ صراط مستقیم۔ یعنی آپ انہیں دین قیم کی طرف بلاتے ہیں۔ الصراط کا لغوی معنی راستہ ہے۔ دین کو راستہ اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ جنت تک پہنچاتا ہے پس یہ اس کا راستہ ہے۔ وان الذین لا یومنون بالاخرۃ یعنی وہ دوبارہ اٹھنے پر ایمان نہیں رکھتے۔ عن الصراط لناکبون۔ بعض نے کہا یہ پہلے کی مثل ہے۔ بعض نے کہا : وہ جنت کے راستہ سے ہٹ جانا دوسری طرف مائل ہوجانا اس سے ہے : نکبت الریح جب وہ گزرگاہ پر سیدھی نہ چلے۔ شرالریح النکباء سب سے بری ہوا وہ ہے جو الٹی چلنے والی ہو۔
Ayah 23:75

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو تکلیفیں ان کو پہنچ رہی ہیں وہ دور کردیں تو اپنی سرکشی پر اڑے رہیں (اور) بھٹکتے (پھریں )

آیت نمبر 75 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و لو رحمنھم وکشفنا ما بھم من ضر یعنی اگر ہم انہیں د نیا کی طرف لوٹادیں اورا نہیں دوزخ میں داخل نہ کریں اور ہم پھر انہیں آزمائیں۔ للجو فی طغیانھم سدی نے کہا : وہ اپنی معصیتوں میں بڑھتے جائیں گے۔ یعمھون یعنی وہ سرگرداں رہیں گے۔ ابن جریح نے کہا : ولو رحمنھم یعنی دنیا میں اگر ان پر مہربانی کریں وکشفامابھم من ضر اور قحط اور بھوک ان سے دور کردیں۔ للجو فی طغیانھم تو یہ اپنی گمراہی اور حد سے تجاوز کرنے میں سرکش ہوتے جائیں گے۔ یعمھون بدحواس اور متذبذب ہوں گے۔
Ayah 23:76

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو عذاب میں بھی پکڑا تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی اور وہ عاجزی کرتے نہیں ہیں

آیت نمبر 76 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد اخذنھم بالعذاب، ضحاک نے کہا : عذاب سے مراد بھوک ہے۔ بعض نے کہا اس سے مرادا مراض، حاجت اور بھوک ہے۔ بعض نے کہا : قتل اور بھوک ہے۔ فما استکانو لربھم وہ نہ جھکے۔ وما یتضرعون جو انہیں تکلیف پہنچتی ہیں ان میں بھی اللہ کے لیے نہیں جھکتے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : یہ ثمامہ بن آثال کے واقعہ میں نازل ہوئی جب اسے ایک لشکر نے پکڑ لیا اور اس نے اسلام قبول کرلیا۔ اور نبی کریم ﷺ نے اسے آزاد کردیا تو وہ مکہ والوں اور سامان رسد کے درمیان حائل ہوگیا اس نے کہا : اللہ کی قسم نبی پاک ﷺ کی اجازت کے بغیر گندم کا ایک دانہ بھی یمامہ سے مکہ والو تمہارے پاس نہیں آئے گا۔ اللہ نے قریش کو قحط اور بھوک میں مبتلا کردیا حتیٰ کہ انہوں نے مردار، کتے اورا لعلہز کھائے۔ پوچھا گیا : ا لعلہز کیا ہے ؟ فرمایا وہ اون اور اونٹوں کے بال لیتے تھے اسے خون کے ساتھ تر کرتے تھے پھر اسے بھونتے تھے اور اسے کھاتے تھے۔ ابو سفیان نے آپ ﷺ سے عرض کی : میں تمہیں اللہ تعالیٰ اور رشتہ داری کا واسطہ دیتا ہوں کیا آپ کہتے نہیں ہیں کہ اللہ نے آپ کو رحمتہ للعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کیوں نہیں۔ ابوسفیان نے کہا : آپ نے آباء کو تلوار سے قتل کردیا اور اولاد کو بھوک کے ساتھ قتل کردیا تو یہ آیت نازل ہوئی، ولور حمنھم۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔