Ayah 21:95اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وحرم علی قریۃ اھلکنھا انھم لا یرجعون۔ حضرت زید بن ثابت اور اہل مدینہ کی قرأت و حرام ہے یہ ابو عبید اور ابو حاتم کا اختیار ہے۔ اہل کوفہ کی قرات وحرم ہے یہ حضرت علی، حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جیسے حل و حلال اور حضرت ابن عبب اس اور حضرت سعید بن جبیر ؓ سے وحرم حا اور میم کے فتحہ اور را کے کسرہ کے ساتھ مروی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ، عکرمہ اور ابوالعالیہ سے وحرم را کے ضمہ اور میم کے فتحہ کے ساتھ مروی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے و حرم، وحرم بھی مروی ہے۔ عکرمہ سے بھی و حرم مروی ہے۔ قتادہ اور مطر وراق سے و حرم مروی ہے یہ نو قرأتیں ہیں۔ سلمی نے علی قریۃ أھلک تھا پڑھا ہے۔ لا یرجعون میں جو (لا) ہے اس کے بارے میں اختالف ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ صلہ (زائدہ) ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے، یہی ابو عبید کا اختیار ہے یعنی اس بستی پر ہلاکت کے بعد لوٹنا ناممکن ہے جس کو ہم نے ہلاک کردیا۔ بعض نے فرمایا : یہ صلہ نہیں ہے یہ ثابتۃ ہے۔ اس صورت میں حرام بمعنی واجب ہوگا یعنی اس دیہات پر واجب ہے جیسے خنساء نے کہا تھا :
و ان حراما لا أری الدھر با کیا علی شجوہ الابکیت علی صخر
وہ اپنے بھائی کے بارے میں یہ کہہ رہی ہے اس قول پر لاثابتہ ہے۔ نحاس نے کہا : یہ آیت مشکل ہے اور سب سے بہتر جو کہا گیا ہے وہ وہ ہے جو ابن عینیہ، ابن علیہ، ھشیم، ابن ادریس، محمد بن فضیل، سلیمان بن حیان اور معلی نے داود بن ابی ہند سے اور انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے تحت روایت کیا ہے۔ وحرم علی قریۃ اھلکنھا فرمایا واجب ہے کہ وہ نہیں لوٹیں گے فرمایا : وہ توبہ نہیں کریں گے۔ ابو جعفر نے کہا : اس کا اشتقاق لغت میں بڑا واضح ہے اس کی شرح یہ ہے کہ حرم الشئی کا معنی ہے اس چیز سے منع کیا گیا ہے اور روکا گیا ہے جیسا کہ أحل کا معنی ہے مباح کیا گیا اور اس سے روکا نہیں گیا جب حراما اور حرم بمعنی واجب ہوگا تو اس کے معنی ہوگا اس سے نکلنا تنگ کیا گیا ہے اور منع کیا گیا ہے یہ ممنوع کے باب سے ہوگا۔ رہا ابو عبید کا قول کے لازائدہ ہے اس کو ایک جماعت نے رد کا ک ہے کیونکہ ایسے مقامات پر لازائدہ نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسی صورت میں جہاں اشکال ہو اگر یہ زائدہ ہوتا و تو یہ تاویل بعید بھی ہوتی کیونکہ اگر یہ مراد و حرام علی قریۃ اھلکنا ھا أن یرجعو الی الدین تو یہ ایسی چیز ہے جس میں کوئی فائدہ نہیں اگر تو بہ کا ارادہ کیا ہے تو توبہ تو حرام نہیں کی گئی۔ بعض علماء نے فرمایا : کلام میں اضمار ہے یعنی حرام علی قریۃ حکمنا باستصالھا او بالختم علی قلوبھا ان یتقبل منھم عمل لانھم لا یرجعون ای لا یتوبون یعنی اس بستی پر حرام ہے جس کے تباہ کرنے کا ہم نے فیصلہ کرلیا ہے یا ان کے دلوں پر مہر لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے ان سے کوئی عمل قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ توبہ نہیں کریں گے۔ زجاج اور بو علی کا قول ہے اور لا غیر زائدہ ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول معنی ہے۔
Ayah 21:96اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حتی اذا فتحت یاجوج وماجوج اس میں قول گزر چکا ہے۔ کلام میں حذف ہے یعنی جب یاجوج و ماجوج کا بند کھل جائے گا جیسے : وسئل القریۃ (یوسف :82) میں مضاف مخذوف ہے۔ و ھم من کل حدب ینسلون، حضرت ابن عباس ؓ کا فرمایا وہ ہر بلندی سے اتریں گے یعنی کثرت کی وجہ سے ہر طرف سے بھاگتے ہوئے اتریں گے۔ الحدب زمین کو بلند جگہ کو کہتے ہیں اس کی جمع الحداب ہے یہ حدبۃ الظھر (کبڑ) پیٹھ) سے ماخوذ ہے۔
عشرہ نے کہا :
فما رعشت یدای ولا أذدھانی تواترھم الی من الحداب
بعض نے فرمایا : ینسلون کا معنی ہے وہ نکلیں گے، اسی سے شاعر کا قول ہے :
فسبلی ثیابی من ثیابک تنسل
بعض نے کہا : اس کا معنی ہے تیز چلتے ہیں، اسی سے نابغہ کا قول ہے :
عسلان ذلذئب امسی قاربا برد اللیل علیہ فنسل
کہا جاتا ہے : عسل الذئب یغسل عسلا و عسلانا بھیڑئے کا تیز چلانا۔ حدیث میں ہے : کذب علیک العسل (1) یعنی تجھ پر تیز چلنا ہے۔ زجاج نے کہا : النسلان کا معنی ہے بھیڑ کا تیز چلنا۔ پھر کہا گیا ہے کہ جو ہر بلندی سے اتریں گے وہ یاجوج و ماجوج ہیں یہی اظہر قول ہے۔ یہ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ بعض نے کہا تمام لوگ مراد ہیں۔ وہ موقف کی زمین کی طرف چلیں گے اور ہر اونچی جگہ سے جلدی جلدی آ رہے ہویں گے۔ وھم من کل حدب ینسلون، شواذ قراتوں میں پڑھا گیا ہے۔ یہ اس قول سے لیا گیا ہے۔ فاذاھم من الاجداث الی ربھم ینسلون۔ (یسین) اسی قرأت کو مہدوی نے ابن مسعود سے اور ثعلبی نے مجاہد اور ابو الصہباء سے روایت کیا ہے۔
Ayah 21:97اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و اقترب الوعد الحق، الوعد الحق سے مراد قیامت ہے۔ فراء، کسائی وغیرہ نے کہا ہے کہ وائو زئدہ مقحمہ ہے۔ معنی یہ ہے کہ جب یاجوج و ماجوج کا بند کھل جائے گا قیامت قریب آجائے گی۔ اقترب، اذا کا جواب ہے۔ فراء نے یہ شعر اس پر کہا ہے :
فلماء اجرنا ساحۃ الحث و اتتحی
یعنی اس میں بھی وائو زائدہ ہے اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و تلہ للجبین۔ و نادینہ (الصافات) نادینہ سے پہلے وائو زائد ہے۔ کسئی نے اذا کا جواب فاذا ھی شاخصۃ ہونا بھی جائز قرار دیا ہے اس صورت میں اقترب الوعد الحق اس فعل پر معطوف ہوگا جو شرط ہے۔ بصریوں نے کہا : جواب محذوف ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے : قالوا یاویلنا، یہ زجاج کا قول ہے اور یہ عمدہ قول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : والذین اتخذوا من دونہ اولیآء ما نعبدھم الا لیقربونآ الی اللہ زلفیٰ (الزمر :3) اس کا معنی ہے قالوا ما نعبدھم قول کا حذف کثیر ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذا ھی شاخصۃ، ھی ضمیر ابصار کے لیے ہے اور ابصار بعد میں اس کی تفسیر کے طور پر مذکور ہے گویا یوں فرمایا : فاذا ابصار الذین کفروا شخصت عند مجی الوعد، شاعو نے کہا :
لعمر ابیھا لا تقول ظعینتی الا فرعنی مالک بن أبی کعب
شاعر نے پہلے ھاضمیر ذکر کی ہے پھر ظعینتی کو ظاہر ذکر کیا۔ فراء نے کہا : ھی عماد ہے جیسے فانھا لا تعمی الابصار (الحج :46) ہے۔ بعض نے فرمایا : ھی پر کلام مکمل ہوگی۔ تقدیر اس طرح ہے فاذاھی یعنی قیامت ظاہر ہوگی یعنی ان کے قریب سے گویا وہ آنے والی ہے حاضر ہے پھر نئی کلام کا آغاز کیا۔ شاخصۃ ابصار الذین کفروا یہ مبتدا پر خبر کو مقدم کیا گیا ہے یعنی کفار کی آنکھیں قیامت کے دن پھٹی پھٹی ہوں گی۔ قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے آنکھیں نہیں جھپکیں گی وہ کہیں گے : ہائے افسوس ! ہم اپنی معصیت کی وجہ سے ظالم تھے ہم نے عبادت کو اپنے مقام پر نہ رکھا۔
Ayah 21:98مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انکم وما تعبدون حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ایک ایسی آیت ہے کہ لوگ اس کے متعلق مجھ سے نہیں پوچھتے، معلوم نہیں وہ اس کا عرفان رکھتے ہیں اس لیے اس کے متعلق نہیں پوچھتے یا اس سے غافل ہیں اس لیے نہیں پوچھتے ؟ پوچھا گیا : وہ کونسی آیت ہے ؟ آپ نے فرمایا : انکم وما تعبدون۔۔۔ الخ، جب یہ آیت نازل ہوئی تع کفار قریش پر بڑی شاپ گزری کہنے لگے۔ اس نے ہمارے خدائوں کو برا بھلا کہا ہے۔ لوگ ابن الزبعری کے پاس آئے اور اس کے متعلق بتایا تو وہ کہنے لگا : اگر میں وہاں ہوتا تو میں اس کو جواب دیتا۔ لوگوں نے کہا : تو اسے کیا کہتا ؟ کہنے لگا : میں اسے کہتا حضرت مسیح (علیہ السلام) کی نصاریٰ عبادت کرتے ہیں، یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کی عبادت کرتے ہیں کیا وہ دونوں بھی جہنم کا ایندھن ہوں گے ؟ قریش اس کی بات سے بہت خوش ہوئے اور انہوں نے خیال کیا کہ حضرت محمد ﷺ سے نزاع کیا گیا ہے۔
تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی : ان الذین سبقت لھم منا الحسنیٰ ، اولئک عنھا معبدون۔ (بلا شبہ وہ لوگ جن کے لیے مقدر ہو چکلی ہے ہماری طرف سے بھلائی تو وہی اس جہنم سے دور رکھیں جائیں گے) اور لما ضرب ابن مریم مثلا (الزخرف :57) ابن العزیر کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ آیت آگے آرہی ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ یہ اصل قول میں عموم کی اصل ہے اور عموم کے لیے مخصوص صیغے ہیں جبکہ بعض اس کی مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں : عموم پر دلالت کرنے کے لیے کوئی صیغہ نہیں کیا گیا۔ یہ قول باطل ہے کیونکہ یہ آیت اور دوسری آیات اس کی دلیل ہیں۔ عبد اللہ بن الزبعری نے ما سے زمانہ جاہلیت کے تمام معبود سمجھے اور قریش جو فصحاء عرب اور بلغاء لسان تھے انہوں نے بھی اس کی موافقت کی اگر یہ ما عموم کے لیے نہ ہوتا تو اس سے استشنا کرنا صحیح نہ ہوتا حالانکہ یہ پایا گیا ہے۔ پس یہ عموم کے لیے ہے اور یہ واضح ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ عام قرأت حصب یعنی صاد کے ساتھ ہے مفہوم یہ ہے کہ اے کفار کے گروہ ! تم اور جن بتوں کی تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وہ جہنم کا ایندھن ہیں، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد، عکرمہ اور قتادہ نے کہا : خطبھا حضرت علی ابن طالب اور حضرت عائشہ ؓ نے خطب جھنم یعنی طاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے حضب ضاد کے ساتھ پڑھا ہے۔ فراء نے کہا : ا سے مراد الحصب ہے۔ فرمایا : ہمیں بتایا گیا ہے کہ الحضب اہل یمن کی لغت میں الحطب کے معنی میں ہے۔ ہر وہ چیز جس کے ساتھ آگ بھڑکائی جائے اور جس کے ساتھ تو آگ جلائے وہ حضب کہلاتی ہے، یہ جوہری نے ذکر کیا ہے۔ الموقد کا معنی محضب (چولھا) ابو عبیدہ نے حصب جھنم کے بارے میں فرمایا : ہر وہ چیز جو آگ میں ڈالے اس کے لیے حصب تھا بہ بولا جاتا ہے۔ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ کافر لوگ اور وہ بت جن کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ جہنم کا ایندھن ہیں۔ اس آیت کی مثال اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاتقوالنارالتی وقودھا الناس والحجارۃ (البقرہ :24) اس آگ سے بچو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : الحجارۃ سے مراد کبرت کا پتھر ہے جیسا کہ سروہ بقرہ میں گزر چکا ہے۔ آگ، بتوں پر عذاب اور عقاب نہ ہوگی کیونکہ انہوں نے تو کوئی جرم نہیں کیا بلکہ یہ ان کے عبادت گزاروں کے لیے عذاب ہوگی۔ یہ پہلا مقام حسرت ہوگا پھر انہیں آگ پر جعم کیا جائے گا اور ان کی آگ ہر آگ سے سخت ہوگی۔ پھر اس آگ کے ساتھ مشرکوں کو عذاب دیا جائے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : ان پتھروں (بتوں) کو جلایا جائے گا اور پھر مشرکوں کے عذاب میں زیادتی کے لیے انہیں ان بتوں کے ساتھ ملایاجائے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : انہیں آگ میں ڈالا جائے تاکہ ان کی عبادت پر سرزنش ہوجائے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انتم لھ اور دون تم اس میں داخل ہونے والے ہو۔ یہ خطاب مشرکوں کو ہے جو بتوں کے پجاری ہیں یعنی تم اپنے بتوں کے ساتھ آگ میں داخل ہو گے۔ یہ کہنا بھی جائز ہے کہ خطاب بتوں کے لیے اور ان کے عبادت گزاروں کے لیے ہو کیونکہ اگرچہ جمادات تھے لیکن آدمیوں کی ضمیروں کے ساتھ ان کے متعلق خبر دی جاتی ہے۔ علماء نے فرمایا : حضٗرت عیسیٰ ، حضرت عزیر اور ملائکہ (علیہم السلام) اس میں داخل نہیں ہیں کیونکہ ما کے غیر آدمیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اگر آدمیوں کا ارادہ ہوتا تو من کہا جاتا۔ زجاج نے کہا چونکہ اس آیت کا مخاطب مشرکین مکہ ہیں دوسرے نہیں۔
Ayahs 21:99–100اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لو کان ھوء لأء الھۃ ما ورودھا یعنی اگر یہ بت خدا ہوتے تو ان کے عبادت گزار آگ میں نہ جاتے۔ بعض علماء نے کہا عبادت گزار اور معبود جہنم میں داخل نہ ہوتے اسی لیے فرمایا : کل فیھا خلدون۔ کفارو شیاطین میں سے جو آگ میں داخل ہوں گے ان کے لیے چیخ و پکار ہوگی۔ رہے بت تو ان میں اختلاف ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ انہیں زندہ کرے گا اور انہیں عذاب دے گا تاکہ ان کے لیے چیخ و پکار ہو یا انہیں زندہ نہیں کرے گا ؟ اس کے متعلق دو قول ہیں۔ الزفیر مغموم نفس کی وہ آواز جو دل سے نکلتی ہے۔ یہ سورة ہود میں گزر چکا ہے۔ وھم فیھا لا یسمعون۔ بعض علماء نے فرمایا : کلام میں حذف ہے اس کا معنی ہے اس میں وہ کچھ نہیں سنیں گے کیونکہ وہ بہرے ہوں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : و نحشرھم یوم القیمۃ علی وجوھھم عمیا و بکما وصما (الاسرائ :97)
اشیاء کے سننے میں راحت و انس ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کفار کو آگ میں اس سے محروم کرے گا۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے وہ ایسی بات نہیں سنیں گے جو انہیں خوش کرے گی بلکہ وہ ان فرشتوں کی آواز سنیں گے جو انہیں عذاب دینے پر مسلط ہوں گے۔ بعض نے فرمایا : جب انہیں کہا جائے گا : اخسوا فیھا ولا تکلمون۔ (المومنون) تو وہ بہرے اور گنگے ہوجائیں گے جیسا کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : جب وہ لوگ جنہوں نے ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے وہ باقی رہ جائیں گے تو وہ آگ کے تابوتوں میں ڈالے جائیں گے پھر ان تابوتوں کو دوسرے تابوتوں میں رکھا جائے گا جس میں آگ کے کیل لگے ہوں گے اور وہ کچھ نہیں سن سکیں گے اور ان میں سے کوئی نہیں دیکھ سکے گا کہ آگ میں ان کے علاوہ بھی کسی کو عذاب دیا جا رہا ہے۔
Ayah 21:101اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان الذین سبقت لھم منا الحسنی الحسنی سے مراد جنت ہے۔ اولئک عنھا، ھاضمیر سے مراد آگ ہے۔ مبعدون۔ کلام کا معنی استشناء ہے اسی وجہ سے بعض اہل علم نے کہا : ان یہاں بمعنی الا ہے اور قرآن میں اس کے علاوہ ایسا کہیں نہیں۔ محمد بن حاطب نے کہا میں نے حضرت علی ؓ کو یہ آیت منبر پر پڑھتے سنا : ان الذین سبقت لھم منا الحسنی انہوں نے فرمایا میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عثمان ( رض) ان میں سے ہے
Ayah 21:102اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا یسمعون حسیسھا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کیا تو مجنون ہے پھر یہ ارشاد کہاں ہے : و ان منکم الا واردھا (مریم :71) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الی جھنم وردا۔ (مریم) اور یہ گزشتہ لوگوں کی دعا تھی : اے اللہ ! مجھے آگ سے سلامتی کے ساتھ نکال اور مجھے جنت میں کامیاب فرما۔ ابو عثمان نہدی نے کہا : قل صراط پر سانپ ہوں گے اور جو دوزخیوں کو کاٹیں گے اور وہ کہیں گے : حس حس۔ بعض نے فرمایا : جب جنتی لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو وہ دوزخیوں کی آہٹ نہیں سنیں گے اور اس سے پہلے سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ وھم فی ما اشتھت انفسھم خلدون وہ ہمیشہ رہیں گے جبکہ وہ ان نعمتوں میں ہوں گے جو ان کے نفس چاہیں گے اور آنکھوں کو لذت دیں گے۔ فرمایا : ولکم فیھا ما تشتھی انفسکم ولکم فیھا ما تدعون۔ (حم السجدہ)
Ayah 21:103اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا یحزنھم الفزع الاکبر ابو جعفر اور ابن محیصن نے یحزنھم یاء کے ضمہ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ پڑا ہے۔ باقی قراء نے یاء کے فتحہ اور زائے کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یزیدی نے کہا : حزنہ لغت قریش ہے اور احزنہ لغت تمیم ہے دونوں طرح پڑھا گیا ہے۔ الفزع الاکبر سے مراد قیامت کے دن کی ہولناکیاں ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ حسن نے کہا : یہ وہ وقت ہے جس میں بندوں کو آگ کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا۔ ابن جریج اور سعید بن جبیر اور ضحاک نے کہا : یہ وہ وقت ہے جب آگ کو ان کے اوپر بند کردیا جائے گا اور موت کو جنت اور دوزخ کے درمیان ذبح کردیا جائے گا۔ ذوالنون مصری نے کہا : یہ قطعیت اور فراق ہے۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے : ” تین افراد قیامت کے معنبر کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے انہیں بڑی گھبراہٹ پریشان نہیں کرے گی۔ ایک وہ شخص جس نے ثواب کی نیت سے قوم کی امامت کرائی جبکہ وہ اس سے راضی ہوں۔ دوسرا وہ شخص جس نے ثواب کی نیت سے قوم کے لیے اذان دی۔ تیسرا وہ شخص دنیا میں غلامی میں مبتلا کیا گیا اور اپنے رب کی طاعت سے بھی غافل نہ ہوا “۔ (1) ۔ ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے کہا : میں ایک شخص کے پاس سے گزرا جو اپنے غلام کو مار رہا تھا۔ غلام نے میری طرف چھڑانے کا اشارہ کیا میں نے اس کے مالک سے بات کی تو اس نے اسے معاف کردیا۔ میں حضرت ابو سعید خدری سے ملا، میں نے اسے یہ واقعہ سنایا تو انہوں نے کہا : میرے بھتیجے ! جس نے کسی پریشان حال کی مدد کی اللہ تعالیٰ بڑی پریشانی والے دن اسے آگ سے آزاد کرے گا۔ یہ میں نبی پاک ﷺ سے سنا ہے۔
وتتلقھھم الملئکۃ یعنی فرشتے جنت کے دروازوں پر ان کا استقبال کریں گے اور انہیں مبارک باد پیش کریں گے اور انہیں کہیں گے : ھذا یومکم الذی کنتم توعدون۔ بعض علماء نے فرمایا : قبور سے نکلنے کے وقت رحمت کے فرشتے ان کا استقبال کریں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے ھذا یومکم یعنی ویقولون لھم یہ وہ انہیں کہیں گے اس کو حذف کیا گیا ہے۔ الذی کنتم توعدون۔ جس میں عزت و کرامت ہے۔
Ayah 21:104اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یوم نطوی السمآء ابو جعفر بن قعقاع، شیبہ بن نصاح، اعرج اور زہری نے تطوی تا مضمومہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ السماء کو نائب الفاعل کی حیثیت سے مرفوع پڑھا ہے۔ مجاہد نے یطوی پڑھا ہے۔ اس معنی پر کہ یطوی اللہ السماء۔ اللہ آسمان کو لپیٹ دے گا باقی قراء نے نطوری نون کے ساتھ پڑھا ہے پر یہ عظمت کی دلیل ہے اور یوم پر نصب ہ ضمیر محذوف سے بدل ہونے کے اعتبار سے ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی۔ الذی کنتم توعدون۔ یوم نطوی السماء یا نعید کی وجہ سے منصوب ہوگا تو کما بدانآ اول خلق نعیدہ یا لا یحزنھم کی وجہ سے منصوب ہوگا یعنی لا یحزنھم الفرع الاکبر فی الیوم الذی نطوی فیہ السماء یا اذکر کے اضمار کے ساتھ منصوب ہے۔ السماء سے مراد جنس ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ والسموت مطویت بیمینہ (الزمر :67)
کطی السجل للکتب حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے کہا : صحیفہ کو اس پر لپیٹ دینا جو کچھ اس میں ہو۔ لام بمعنی علی ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ نبی پاک ﷺ کے کاتب کا نام ہے (1) ۔ یہ بھی قوی نہیں کیونکہ نبی پاک ﷺ کا کاتب معروف تھے ان میں سے یہ کسی کا نام نہیں اور نہ آپ کے اصحاب میں کسی کا نا السجل ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، ابن عمر اور سدی نے کہا : السجل اس فرشتے کا نام ہے جو بنی آدم کے رجسٹر لاتا ہے، جب وہ اس کی طرف بلند کیے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : وہ تیسرے آسمان ہے۔ اس کی طرف بندوں کے اعمال بلند کیے جاتے ہیں۔ کندھوں پر موجود الحفظۃ فرشتے ہر جمعرات اور سوموار کو اس کو پیش کرتے ہیں اس کے مدد گاروں میں سے ہاروت و ماروت ہیں۔ السجل، اشٹام کو بھی کہتے ہیں یہ السجالۃ سے مشتق ہے جس کا معنی کتابت ہے اس کی اصل السجل سے ہے یعنی ڈول۔ تو کہتا ہے : ساجلت الرجل جب تو نے ڈول نکال دیا پھر مکاتبت اور مراعت کو مساجلۃ کہا گیا۔ سجل الحاکم تسجیلا۔ فصل بن عباس بن عتبتہ بن ابی لہب نے کہا :
من یسا جلنی یساجل ماجداً یملاء الدلو الی عقد الکرب
پھر اس اسم کی بنا فعل بنئی گئی ہے جیسے حمرو طمرو بلی۔ ابوزرعہ بن عمرو بن جریر نے کصی السجل سین اور جیم کے ضمہ کے ساتھ اور لام کی تشدید کی ساتھ پڑھا ہے۔ اعمش اور طلحہ نے کطی السجل سین کے فتح اور جیم کے سکون اور لام کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا : معنی ایک ہی ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور للکتاب کے قول پر کلام مکمل ہے۔ اس آیت میں الطی دو معانی کا احتمال رکھتا ہے۔ الدرج جو النشر کی ضد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الطموات مطویت بیمینہ (الزمر :67) دوسرا معنی چھپانا اور مٹانا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے نشان مٹائے گا اور اس کے ستاروں کی روشنی کو ختم کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذ الشمس کورت۔ واذا النجوم انکدرت۔ (التکویر) واذا لسمآء کشطت۔ (التکویر) للکتاب پر کلام مکمل ہوئی۔ اعمش، حفص، حمزہ، کسائی، یحییٰ اور خلف نے للکتاب جمع پڑھا ہے۔ پھر کلام کا آغاز ہوا فرمایا : کام بدانا اول خلق نعیدہ یعنی ہم انہیں جمع کریں گے جبکہ وہ ننگے پائوں، برہن بدن اور غیر مختون ہوں گے جس طرح وہ ماوئوں کے پیٹوں سے پیدا کئے گئے تھے۔ نسائی نے حضرت ابن عباس ؓ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : ’ قیامت کے دن لوگ جمع ہوجائیں گے جبکہ وہ برہنہ بدن، غیر مختون ہوں گے قیامت کے روز سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایاجائے گا پھر یہ آیت پڑھی : کما بدانا اول خلق نعیدہ “ اس کو امام مسلم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ موعظت کے لیے کھڑے ہوئے فرمایا : ” اے لوگو ! تم اللہ کی بارگاہ میں جمع کیے جائو گے جبکہ ننگے پائوں، ننگے بدن اور غیر مختون ہو گے پھر یہ آیت پڑھی : کما بدانا اول خلق نعیدہ خبردارد ! سب سے پہلے قیامت کے روزابراہیم کو لباس پہنایا جائے “ (1) ۔ ہم نے اس باب کے تحت التذکرہ کتاب میں تفصیلی گفتگو کی ہے۔ سفیان ثوری نے سلمہ بن کہیل سے انہوں نے ابو الزعراء سے انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے فرمایا : اللہ تعالیٰ عرش کے نیچے سے پانی بھیجتا ہے جیسے مردوں کی منی ہوتی ہے پس اس سے لوگوں کے گوشت اور جسم پیدا ہوتے ہیں اسی طرح گیلی مٹی سے اور چیزیں پیدا ہوتی ہیں پھر یہ آیت پڑھی : کما بدانا اول خلق نعیدہ، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا معنی ہے ہم ہر چیز کو ہلاک کردیں گے اور ہم ہر چیز کو فنا کردیں گے جس طرح ابتدا میں تھا۔ اس بنا پر کلام یوم نطوی السماء کے قول سے متصل ہوگی، یعنی ہم آسمان کو لپیٹ دیں گے پھر اسے ہلاکت و فنا کی طرف لوٹا دیں گے پس کوئی چیز باقی نہ رہے گی۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے ہم آسمان کو فنا کریں گے پھر انہیں دوبارہ لپیٹنے اور زوال کے بعد لوٹائیں گے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات (ابراہیم :48)
پہلا قوم اصح ہے اور اس کی مثال یہ قول ہے : ولقد جئتمونا فرادیٰ کما خلقنکم اول مرۃ (الانعام :94)
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و عرضوا علی ربل صفاً ، لقد جئتمونا کما خلقنکم اول مرۃ ( الکہف :48) وعداً مصدر کی بنا پر منصوب ہے یعنی وعدنا وعڈا۔ علینا ہم پر اس کا پورا کرنا اور وفا کرنا ہے یعنی دوبارہ اٹھانا اور اعادہ کرنا ہے۔ کلام میں حذف ہے پھر : انا کنا فعلین کے ساتھ مؤکد کیا۔ زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے جو ہم چاہتے ہیں اس پر قادر ہیں۔ بعض علماء نے کہا : اس کا معنی ہے جو ہم نے تم سے وعدہ کیا اسے پورا کرنے والے ہیں، جس طرح فرمایا : کان وعدہ مفعولا۔ (المزمل) بعض نے کہا : کان جو فیصلہ ہوچکا ہے اس کی خبر دینے کے لیے ہے۔ بعض نے کہا : صلہ ہے۔
Ayahs 21:105–106اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولقد کتبنا فی الزبور، الزبور اور الکتاب ایک چیز ہے اسی وجہ سے تورات اور نجیل کو زبور کہنا جائز ہے۔ زبرت کا معنی ہے کتبت اس کی جمع زبر ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : الزبور سے مراد تورات، انجیل اور قرآن ہے۔ من بعد الذکر جو آسمان میں ہے۔ ان الارض سے مراد جنت کی زمین ہے۔ یرثھا عبادی الصلحون یہ سفیان نے اعمش سے انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے۔ ثعلبی نے کہا : الزببور سے مراد حضرت دائود (علیہ السلام) کی زبور ہے۔ الذکر سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تورات ہے۔ مجاہد اور ابن زید نے کہا : الزبور سے مراد انبیاء کرام کی کتب ہیں۔ الذکر سے مراد ام الکتاب ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس آسمان میں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : الزبور سے مراد وہ کتب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد انبیاء کرام پر اتارا۔ الذکر سے مراد وہ تورات ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اتاری گئی۔ حمزہ نے فی الزبور راء کے ضمہ کے ساتھ زبر کی جمع کے طور پر پڑھا ہے۔ ان اللارض یرثھا عبادی الصلحون بہتر بول جو اس کی تفسیر میں مروی ہے، وہ یہ ہے کہ اس سے مراد جنت کی زمین ہے جیسا کہ سعید بن جبیر نے کہا کہ دنیا میں زمین کے وارث نیک لوگ بھی ہوتے ہیں اور دوسرے ظالم و جابر بھی ہوتے ہیں ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد وغیرہ ہما کا قول ہے۔ مجاہد اور ابوالعالیہ نے کہا : اس تاویل کی دلیل یہ ارشاد ہے : وقالوا الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ واورثنا الارض (الزمر :74)
حضرت ابن عباس ؓ سے ممروی ہے کہ اس سے مراد ارض مقدسہ ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ کافر امتوں کی زمین ہے جس کی امت محمدیہ فتوحات کے ساتھ وارث بنی۔ بعض نے کہا : اس سے مراد بنو اسرائیل ہیں اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : واورثنا القوم الذین کانوا فستضعفون مشارق الارض ومغاربھا التی برکنلا فیھا (الاعراف : 137)
اکثر مفسرین کا قول ہے کہ عباد الصالحین سے مراد حضرت محمد ﷺ کی امت ہے۔ حمزہ نے عبادی الصالحون یاء کی تسکین کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان فی ھذا اس سورت میں جو وعظ و منبیہ گزری ہے۔ بعض علماء نے کہا : یعنی جو قرآن میں ہے : لبلقا لقوم عبدین وہ کفایت کرنے والا ہے عبادت گزار قوم کے لیے۔ حضرت ابوہریرہ اور سفیان ثوری نے کہا : اس سے مراد پانچ نمازیں ادا کرنے والے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : عابدین سے مراد اطاعت کرنے والے ہیں۔ العابد جو اطاعت و انکساری کرنے والا ہو۔ قشیری نے کہا : کوئی بعید نہیں کہ اس میں ہر عاقل داخل ہو کیونکہ فطرت کی حیثیت سے وہ خالق کا اطاعت گزار ہوتا ہے۔ وہ اگر قرآن میں غورو فکر کرے اور اس پر عمل کرے تو وہ اسے جنت تک پہنچائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ حضرت محمد ﷺ کے وہ وامیک ہیں جو پانچوں نمازیں پڑھتے ہیں اور رمضان کے مہینہ کے روزے رکھتے ہیں ؛ یہ بعینہٖ پہلا قول ہے۔
Ayah 21:107اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا کہ حضرت محمد ﷺ تمام انسانوں کے لیے رحمت ہیں پس جو آپ ﷺ پر ایمان لایا اور آپ ﷺ کی تصدیق کی وہ سعادت مند ہوا اور جو آپ ﷺ پر ایمان نہیں لایا اسے وہ عذاب لاحق نہیں ہوا جو پہلی امتوں کو (نافرمانی کی وجہ سے) خسف اور غرق لاحق ہوا۔ ابن زید نے کہا : العالمین سے خاص مومنین مراد ہیں۔
Ayah 21:108اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل انما یوحیٰ الا انما الھکم الہ واحد اللہ تعالیٰ کا شریک بنانا جائز نہیں۔ فھل انتم مسلمون۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کی توحید کی اطاعت کرنے والے ہو یعنی اسلام قبول کرلو، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔ فھل انتم منتھون۔ (المائدہ) یعنی تم باز آجائو۔
Ayahs 21:109–112اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فان تولوا یعنی اگر وہ اسلام سے اعراض کریں۔ فقل اذنتکم علی سوآء یعنی میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ میری اور تمہاری جنگ ہے ہماری کوئی صلح نہیں ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واما تخافن من قوم خیانۃ فانبذ الیہم علی سوآء (الانفال : 58) یعنی انہیں آگاہ کرو کہ تو نے عہد توڑ دیا ہے یعنی تم اور وہ برابر ہو کسی ایک فریق کا فانبذ الیہم علی سوآء (الانفال :58) یعنی انہیں آگاہ کرو کہ تو نے عہد توڑ دیا ہے یعنی تم اور وہ برابر ہو کسی ایک فریق کا دوسرے فریق کے لیے لازم عہد نہیں ہے۔ زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے میں نے تمہیں بتایا کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اس کے علم میں برابر ہیں میں نے ایسا نہیں کیا کہ کسی کے سامنے کوئی چیز ظاہر کی ہو اور دوسروں سے چھپائی ہو۔ وان ادری ان نافیہ ہے بمعنی ما یعنی ما ادری۔ اقریب ام بعید ما توعدون یعنی قیامت کی مدت کوئی نہیں جانتا نہ کوئی نبی مرسل جانتا ہے اور نہ کوئی مقرب فرشتہ ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : میں تمہیں جنگ کے متعلق آگاہ کرتا ہوں لیکن میں نہیں جانتا کہ مجھے کب تم سے جنگ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہ یعلم الجھر من القول ویعلم ما تکتمون۔ یعنی شرک میں سے جو تم بلند آواز سے کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو وہ سب جانتا ہے وہ اس پر جزا دے گا۔ وان ادری لعلہ شاید مہلت دینا، فتنت لکم تمہارے لیے امتحان ہوتا کہ وہ دیکھے تمہارا عمل کیسا ہے جبکہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ ومتاع الی حین بعض علماء نے فرمایا : مدت کے ختم ہونے تک۔ روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بنی امیہ کو خواب میں دیکھا کہ وہ لوگوں پر غالب ہیں۔ حکم آپ کے پاس نکلا تو بنی امیہ کو اس کی خبر دی۔ بنو امیہ نے حکم کو کہا کہ تو آپ سے پوچھ یہ کب ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : وان ادری اقریب ام بعید ما توعدون۔ وان ادری لعلہ فتنۃ لکم ومتاع الی حین، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ السلام) کو حکم فرما دیا کہ اپنا امر اللہ تعالیٰ کو تفویض کرو اور اس کی بارگاہ سے کشادگی کی توقع رکھو، یعنی میرے درمیان اور ان جھٹلانے والوں کے درمیان فیصلہ کر اور ان کے خلاف میری مدد فرما۔ سعید نے قتادہ سے روایت کیا ہے فرمایا : انبیاء کرام کہتے تھے : ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق (الاعراف :89) نبی کریم ﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا : رب احکم بالحق یعنی اس وقت آپ یہ کہتے تھے جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا تھا حالانکہ آپ کو یقین کامل تھا کہ آپ حق پر ہیں اور دشمن باطل پر ہے : رب احکم بالحق اے میرے پروردگار حق کے ساتھ فیصلہ فرما۔ ابو عبیدہ نے کہا : یہاں صفت کو موصوف کے قائم مقام رکھا گیا ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے : رب احکم بحکمک الحق اور رب محل نصب میں ہے، کیونکہ یہ ندا مضاف ہے۔ ابو جعفر بن قعقاع اور ابن محیصن نے قل رب احکم بالحق با کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ نحویوں کے نزدیک غلط ہے۔ ان کے نزدیک رجل اقبل کہنا جائز نہیں حتیٰ کہ تم کہو : یا رجل اقبل یا اس کے مشابہ کہو۔ ضحاک، طلحہ اور یعقوب نے قال رب احکم بالحق ہمزہ قطعی کے ساتھ اور کاف مفتوحہ اور میم مضمومہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی حضرت محمد ﷺ نے عرض کی اے میرے رب ! تو ہر حاکم سے زیادہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ جحدری نے قل رب احکم پڑھا ہے، یعنی تمام امور کو حق کے ساتھ پختہ کرنے والا ہے۔
وربنا الرحمن المستعان علی ما تصفون۔ جو تم کفر اور تکذیب میں سے بیان کرتے ہو۔ مفضل اور سلمی نے علی ما یصفون یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے تا کے ساتھ پڑھا ہے۔ واللہ اعلم۔