21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 21:83–84

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور ایوب (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے ولا ہے

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے عطا فرمائے اور اپنی مہربانی سے ان کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے یہ نصیحت ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وایوب اذ نادیٰ ربہ یعنی یاد کرو ایوب کو جب پکارا انہوں نے اپنے رب کو انی مسنی الضر میرے بدن میں اور میرے مال اور اہل میں مجھے تکلیف پہنچی ہے۔ حضرت اببن عباس ؓ نے فرمایا : ایوب کو اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والے تھے۔ روایت ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) روم کے ایک مالدار آدمی تھے۔ انتہائی نیکو کار اور متقی تھے۔ مسکینوں پر بہت رحم فرماتے تھے۔ یتیموں اور بیوائوں کی کفالت تھے۔ مہمان کی عزت کرتے تھے۔ مسافر کو مال پہنچاتے تھے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر کرنے والے تھے۔ وہ اپنی قوم کے ساتھ ایک جابر شخص کے پاس گئئے پس انہوں نے اسے ایک کام کے لیے مخاطب کیا حضرت ایوب اس کے لیے نرمی سے بات کر رہے تھے اپنی کھیتی کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ نے مال اور اہل لے کر اور جسم میں تکلیف دے کر انہیں آزمائش میں ڈال دیا آپ کے جسم سے گوشت گرگیا تھا اور جسم میں کیڑے پڑگئے تھے حتیٰ کہ شہر والوں نے آپ کو شہر سے باہر نکال دیا آپ کی بیوی آپ کی خدمت کرتی تھی۔ حسن نے کہا : آپ نو سال چھ ماہ اسی کیفیت میں رہے جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی تکلیف دور کرنے کا ارادہ کیا تو فرمایا : ارکض برجلک ھذا مغتسل باردو شراب۔ (ص) اس پانی میں تمہاری شفا ہے میں تجھے تیرے اہل، مال اور اولاد بھی واپس کردیے اور ان کی مثل ان کے ساتھ اور بھی عطا کیے۔ مزید تفصیل سورة (ص) میں آئے گی۔ اور جو کچھ مفسرین نے لکھا ہے کہ شیطان کو آپ پر تسلط دیا گیا تھا اور مفسرین کا رد بھی انشاء اللہ آئے گا۔ حضرت ایوب کے قول : مسنی الضر میں پندرہ اقوال ہیں۔ (1) آپ نماز پڑھنے کے لیے اٹھے تو آپ نہ اٹھ سکے تو آپ نے عرض کی : مسنی الضر یہ آپ نے اپنی حالت کو بیان کرنے کے لیے کہا : مصیبت کی وجہ سے شکویٰ نہیں۔ حضرت انس نے اس کو مرفوع ذکر کیا ہے۔ (2) یہ عجز کا اقرار ہے یہ صبر کے منافی نہیں۔ (3) اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبان پر یہ جاری فرمایا تاکہ آپ کے بعد آنے والے اہل بلا کے لیے حجت ہوجائے، وہ مصیبت میں یہ اظہار کرسکیں۔ (4) یہ آپ کی زبان پر جاری فرمایا یہ لازم کرنے کے لیے انسان تکلیف برداشت کرنے میں ضعیف اور کمزور ہے۔ (5) چالیس دن آپ سے وحی کا سلسلہ منقطع رہا آپ اپنے رب کو چھوڑنے سے خوفزدہ ہوئے اور عرض کی : مسنی الضر ؛ یہ جعفر بن محمد کا قول ہے۔ (6) آپ کے تلامذہ آپ سے وحی اور دین کی باتیں لکھتے تھے جب آپ کی تکلیف اس انتہا کو پہنچی تو انہوں نے اس کو مٹانا شروع کردیا اور انہوں نے کہا : اللہ کی بارگاہ میں ان کی کوئی قدر نہیں ہے۔ پس آپ نے وحی کے ضائع ہونے اور لوگوں کے ہاتھوں سے دین کے چلے جانے کی تکلیف محسوس کی۔ اس کی سند صحیح نہیں۔ واللہ اعلم ؛ یہ ابن عربی کا قول ہے (7) کیڑا آپ کے جسم سے گرا تو آپ نے اسے پکڑ اور اسے اپنے جسم پر اپنی جگہ پر رکھ دیا اس نے آپ کو کاٹا تو آپ نے چیختے ہوئے کہا : مسنی الظر تو کہا گیا : کیا تو ہم پر صبر کرتا ہے ؟ ابن عربی نے کہا : یہ بہت بعید قول ہے نیز اس کے لیے نقل صحیح کی بھی ضرورت ہے اور اس کے وجود کا کوئی راستہ نہیں۔ (8) کیڑے آپ کو کھاتے رہے تو آپ صبر کرتے رہے حتیٰ کہ ایک کیڑے نے دل پر حملہ کیا اور دوسرے نے زببان پر حملہ کیا تو آپ نے کہا : مسنی الضر تاکہ لوگوں کے ذکر سے محروم نہ ہو جائوں۔ ابن عربی نے کہا : یہ عمدہ قول ہے اگر اس کی سند ہو جبکہ دعویٰ لمبا چوڑا نہیں ہے۔ (9) اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوبب (علیہ السلام) کو مصیبت میں گرفتار کرنے کی جہت کو مخفی رکھا کیا یہ تادیب بھی یا تعذیب، یا تخصیص تھی یا تمحیص یا ذخر تھا یا طہر تھا۔ آپ نے عرض کی : مسنی الضر یعنی تکلیف میں مبتلا کرنے کی جہت میں اشکال کی تکلیف مراد ہے۔ اببن عربی نے کہا یہغلو ہے اس کی ضرورت نہیں۔ (10) حضرت ایوب (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ تم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرو۔ آپ نے کہا : میں ستر سال نعمتوں میں رہا اور سات سال مصیبت میں گرفتار رہا ہوں اس وقت اس وقت میں اس سے سوال کروں آپ نے اتنا عرض کیا : مسنی الضر اببن عربی نے کہا : یہ ممکن ہے لیکن آپ کی مدت اقامت کے بارے میں کوئی خبر صحیح نہیں ہے۔ اور نہ آپ کے واقعہ میں کوئی حدیث صحیح ہے۔ (11) آپ کی بیوی کو شیطان نے کہا : تو میرے لیے سجدہ کر تو اس قول نے آپ کو تکلیف پہنچائی۔ آپ کو اندیشہ ہوا کہ میری بیوی کا ایمان ضائع ہوجائے گا اور وہ ہلاک ہوجائے گی۔ اور آپ بغیر کسی کفیل کے رہ جائیں گے۔ (12) جب آپ پر آزمائش ظاہر ہوئی تو آپ کی قوم نے کہا : اس کا ہمارے ساتھ ہونا ہمیں تکلیف دیتا ہے پس اسے ہم سے دور کرنا چاہیے۔ آپ کی بیوی آپ کو شہر سے باہر نکال کرلے گئی لوگ جب آپ کو دیکھتے تو دیکھ کر بری فال پکڑتے پھر انہوں نے کہا : اسے اتنا دور ہونا چاہیے کہ ہم اسے دیکھ نہ سکیں۔ پھر آپ شہر سے باہر نکال کرلے گئی لوگ جب آپ کو دیکھتے تو دیکھ کر ببری فال پکڑتے پھر انہوں نے کہا : اسے اتنا دور ہونا چاہیے کہ ہم اسے دیکھ نہ سکیں۔ پھر آپ شہر سے ببہت دور چلے گئے۔ آپ کی بیوی آپ کی دیکھ ببھال کرتی اور آپ کی طرف کھانا لے جاتی۔ لوگوں نے کہا : یہ عورت اس کے پاس جاتی ہے پھر ہمارے پاس آتی ہے کہیں ایسا نہ ہو اس کے سبب اس کی تکلیف ہماری طرف لوٹ آئے۔ لوگوں نے بیوی کو حضرت ایوب (علیہ السلام) سے روکنے کا ارادہ کیا تو آپ نے کہا : مسنی الضر۔ (13) عبداللہ بن عبید بن عمیر نے کہا : حضرت ایوب کے دو بھائی تھے وہ آپ کے پاس آئے اور دور کھڑے ہوگئے آپ کی بدببو کی وجہ سے وہ آپ کے قریب نہیں آسکتے تھے ایک نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ ایوب میں کوئی خیر دیکھتا تو اس تکلیف میں مبتلا نہ کرتا۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اس سے زیادہ تکلیف دہ کلمہ سنا اس وقت آپ نے عرض کی : مسنی الضر پھر آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے کبھی سیر ہو کر رات نہیں گذاری میں بھوکے کے مکان کو جانتا ہوں پس تو میری تصدیق فرما۔ آسمان سے ایک ندا دینے والے نے ندا دی میرے بندے نے سچ کہا۔ وہ دونوں بھائی سجدہ میں گر گئے۔ (14) مسنی الضر کا معنی ہے دشمن خوش ہو رہے ہیں، اسی وجہ سے آپ سے پوچھا گیا : تمہاری تکلیف میں کونسی چیز آپ پر شدید تھی ؟ فرمایا : دشمنوں کا خوش ہونا۔ ابن عربی نے کہا : یہ ممکن ہے کیونکہ کلیم سے ان کے بھائی نے اس وجہ سے عافیت کا سوال کیا تو آپ نے کہا : ان القوم استضعوفنی وکادوا یقتلوننی فلا تشمت بی الاعدآء (الاعراف :150) (15) آپ کی ببیوی کی مینڈھیاں تھیں جب وہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی خدمت کی وجہ سے کوئی کام نہیں کرسکتی تھی تو اس نے اپنی مینڈھیاں سے سہارا لیتے تھے۔ جب انہیں نہ پایا اور حرکت کرنے کا ارادہ کیا تو حرکت نہ کرسکے اس وقت عرض کی : مسنی الضر بعض علماء نے کہا : جب آپ کی بیوی نے اپنی مینڈھیوں کے بدلے خوراک خریدی تو ابلیس لغتہ اللہ علیہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے پاس انسانی شکل میں آیا اور کہا تیری بیوی نے بدکاری کی ہے اور وہ پکڑی گئی ہے اور اس کے بال مونڈ دئیے گئے ہیں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے قسم اٹھائی کہ وہ اسے کوڑے ماریں گے تو عورت کے دل پر محبت، حضرت ایوب کے دل پر محبت سے زیادہ سخت تھی۔ میں کہتا ہوں : (16) سولہواں قول وہ ہے جو ابن المبارک نے ذکر کیا ہے ہمیں یونس بن یزید نے بتایا انہوں نے عقیل سے اور انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک دن حضرت ایوب (علیہ السلام) اور ان کی آزمائش کا ذکر کیا اس میں ہے کہ ” آپ کا ایک بھائی آپ کے ساتھ لازم رہا اس نے کہا : اے اللہ کے نبی ! مجھے تیرے معاملہ نے تعجب میں ڈالا میں اس کا ذکر تیرے بھائی اور تیری ساتھی سے کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے تجھے اہل اور مال کے تلف کرنے اور جسم میں بیماری پیدا کرنے کے ساتھ اٹھارہ سال سے آزمایا ہے حتیٰ کہ تو اس کیفیت میں پہنچ گیا جو تو دیکھ رہا ہے کیا وہ تجھ پر حم نہیں کرتا کہ وہ تجھ سے تکلیف دور کر دے۔ تو نے کوئی ایسا گناہ کیا ہے جو میرے خیال کے مطابق کسی نے ایسا نہیں کیا۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے کہا : میں نہیں جانتا جو وہ کہتے ہیں مگر میرا رب جانتا ہے کہ میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرتا ہوں وہ گمان کرتے ہیں اور ہر ایک اللہ کی قسم اٹھاتا ہے یا ایک جماعت سے گزرتا ہوں جو گمان کرتے ہیں پھر میں اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتا ہوں پھر میں ان کی قسموں کا کفارہ دیتا ہوں اس ارادہ سے کہ کوئی گنہگار نہ ہو جو اس نے ذکر کیا ہے۔ اور کوئی اسے ذکر نہ کرے مگر حق کے ساتھ پس حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا : مسنی الضر وانت ارحم الرحمین۔ آپ کی دعا بڑی طویل تھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا پیش کی اس تکلیف کی وجہ سے جو آپ کو پہنچی ہوئی تھی آپ اس تکلیف پر صبر کرنے واللے تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی تھی۔ (17) سترواں قول یہ ہے کہ جو میں نے سنا ہے اور میں اس پر واقف نہیں ہوں : ایک کیڑا آپ کے جسم سے گرا تو آپ نے اسے تللاش کیا تاکہ اسے اپنی جگہ لوٹا دیں تو وہ آپ کو نہ ملا آپ نے عرض کی : مسنی الضر جب آپ کو اس کیڑے کی تکلیف کو اجر نہ ملا آپ چاہتے تھے کہ عافیت کے وقت پورا اجر ملتا رہے۔ یہ عمدہ قول ہے مگر سند کا محتاج ہے۔ علماء نے فرمایا : مسنی الضر یہ بطور گھبراہٹ نہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شان میں فرمایا : انا وجدنہ صابراً (ص :44) ہم نے ایوبب کو صبر کرنے والا پایا بلکہ یہ آپ کی طرف سے یہ دعا تھی۔ الجزع وہ شکویٰ ہے جو مخلوق کی طرف ہو۔ اللہ کی بارگاہ میں عرض شکویٰ نہیں ہوتا۔ دعا، رضا کے منافی نہیں ہے۔ ثعلبی نے کہا : میں نے اپنے استاذ ابوالقاسم بن حبیب کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں سلطان کے دربار میں فقہاء اور ادباء کی مجلس میں حاضر تھا مجھ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا اس پر اجماع کے بعد کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قول شکایت تھا جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انا وجدنہ صابراً (ص : 44) ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا۔ میں نے کہا : یہ شکایت نہیں تھی یہ دعا تھی۔ اس کا بیان فاستجبنالہ ہے دعا کے بعدقبولیت ہوتی ہے نہ کہ شکایت کے بعد قبولیت ہوتی ہے۔ علمائء نے اس جواب کو اچھا سمھا اور اس سے خوش ہوئے۔ جنید سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : سوال کے فاقہ کا اظہار کیا تھا تاکہ اس پر نوال ل کے کرم کے ساتھ احسان کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فکشفنا مابہ من ضرواتینہ اھلہ ومثلھم معھم مجاہد اور عکرمہ نے کہا : حضرت ایوب (علیہ السلام) سے کہا گیا ہم نے تجھے جنت میں تیرے اہل عطا کیے اگر تو چاہے تو ہم تیرے لیے انہیں جنت میں رہنے دیں اور اگر تو چاہے تو ہم انہیں دنیا میں تجھے عطا کردیں۔ مجاہد نے کہا : اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت ایوب کے لیے جنت میں چھوڑ دیا اور دنیا میں ان کی مثل انہیں عطا فرمائے۔ نحاس نے کہا : ان دونوں سے اس کی سند صحیح ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ مہدوی نے حضرت ابن عباس ؓ سے حکایت کیا ہے۔ ضحاک نے کہا : حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا حضرت ایوب (علیہ السلام) کے اہل، بیوی کے سوا سب فوت ہوگئے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آنکھ جھپکنے سے کم وقت میں انہیں زندہ کردیا اور ان کی مثل ان کے ساتھ عطا فرمائے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ کے بیٹے فوت ہوگئے تھے پس آپ کی خاطر انہیں زندہ کیا گیا اور ان کی مثل ان کے ساتھ اور پیدا ہوئے ؛ یہ قتادہ، کعب احبار اور کلبی وغیرہم کا قول ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : آپ کی اولاد فوت ہوگئی اور وہ سات مرد تھے اور سات عورتیں تھیں۔ جب آپ کو صحت دی گئی تو وہ آپ کے لیے اٹھائے گئے اور آپ کی بیوی نے سات بیٹے اور سات بیٹیاں جنم دیں۔ ثعلبی نے کہا : یہ قول ظاہر آیت کے زیادہ مناسب ہے۔ میں کہتا ہوں : وہ بطور آزمائش اپنی مدت عمر سے پہلے فوت ہوگئے تھے جیسا کہ سورة بقرہ میں الذین خرجوا من دیارھم الخ، (البقرہ :243) کے واقعہ میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔ اور وہ ستر افراد جن کو کڑک نے آلیا تھا اور وہ مر گئے تھے پھر وہ زندہ کیے گئے یہ اس لیے ہوا کہ وہ اپنی مدت عمر سے پہلے فوت ہوگئے تھے۔ یہاں بھی اسی طرح ہوا۔ مجاہد اور عکرمہ کے قول پر معنی یہ ہوگا ہم نے اسے اجرت میں اس کے اہل عطا فرمائے اور دنیا میں ان کی مثل ان کے ساتھ۔ اور خبر میں ہے اللہ تعالیٰ نے جبریل امین کو آپ کی طرف بھیجا جب آپ نے زمین پر پائوں مارا تھا اور گرم پانی کا چشمہ ظاہر ہوا تھا حضرت جبریل نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور اسے جھاڑا تو آپ کے کیڑے سارے گر گئے۔ اور آپ پانی میں داخل ہوئے تو گوشت پیدا ہوگیا اور آپ اپنی جگہ پر لوٹ آئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو آپ کے اہل اور ان کی مثل ان کے ساتھ اور عطا فرما دئیے۔ اور ایک بادل آپ کے گھر کی بنیادوں کی مقدار ظاہر ہوا اور وہ تین دن اور تین راتیں سونے کی مکڑیاں برساتا رہا۔ حضرت جبریل نے آپ کو کہا : کیا آپ سیر ہوگئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کے فضل سے کون سیر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ میں نے آزمائش سے پہلے اور آزمائش کے بعد تیری صبر کے ساتھ تعریف کی ہے اگر میں نے خود تیرے ہر بال کے نیچے صبر نہ رکھا ہوتا تو تو صبر نہ کرتا۔ رحمۃ من عندنا یہ سب کچھ ہم نے اپنی رحمت کی بنا پر کیا۔ بعض علماء نے فرمایا : ہم نے اسے آزمایا تاکہ کل اس کا ثواب زیادہ ہو۔ وذکری للعبدین۔ عبادت گزاروں کے لیے نصیحت ہے کیونکہ جب وہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی آزمائش اس پر ان کا صبر اور محنت کو یاد کریں گے جبکہ وہ اپنے زمانہ کے سب لوگوں سے افضل تھے تو وہ بھی دنیا کی تکالیف پر اپنے نفسوں کو صبر کا عادی بنائیں گے جیسا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے کیا تھا۔ پس یہ ان کے لیے ہمیشہ عببادت کرنے اور تکلیف برداشت کرنے پر تنبیہ ہے اور حضرت ایوب (علیہ السلام) کتنی مدت آزمائش میں رہے اس میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : آزمائش کی مدت سات سال اور سات مہینے اور سات دن اور سات راتیں تھیں۔ وہب نے کہا : تیس سال تھی۔ حسن نے کہا : سات سال اور چھ مہینے تھی۔ میں کہتا ہوں : ان میں سے اصح اٹھارہ سال ہے۔ ابن شہاب نے نبی کریم ﷺ سے یہ روایت کیا ہے اور ابن المبارک نے اس کو ذکر کیا ہے۔
Ayahs 21:85–86

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا، بلاشبہ وہ نیکوکار تھے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واسمعیل وادریس ادریس، اخنوح تھے یہ پہلے گزر چکا ہے۔ وذالکفل یعنی اسماعیل، ادریس اور ذوالکفل کو یاد کرو۔ ترمذی الحکیم نے نوادر الاصول میں حضرت ابن عمر کی حدیث نقل کی ہے جو نہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے فرمایا : بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس کو ذوالکفل کہا جاتا تھا وہ کسی گناہ سے بچتا نہیں تھا اس نے ایک عورت کا پیچھا کیا اس سے بدکاری کرنے کے لیے اسے ساٹھ دینار دیے جب وہ اس کے قریب بیٹھا تو وہ کا نپنے لگی اور رونے لگی ذوالکفل نے کہا : کیا میں نے تجھے مجبور کیا ہے ؟ اس عورت نے کہا : نہیں لیکن مجھے حاجت نے مجبور کیا ہے۔ ذوالکفل نے کہا : تو چلی جا وہ رقم بھی تیری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں اس کے بعد کبھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کروں گا پھر وہ رات کو فوت ہوگیا لوگوں نے اس کے دروازے پر یہ لکھا ہوا پایا : ان اللہ قد غفر لذی الکفل اللہ تعالیٰ نے ذوالکفل کی بخشش کردی ہے۔ اس کو ابو عیسیٰ ترمذی نے بھی تخریج کیا ہے۔ اس کے لفظ حضرت ابن عمر سے مروی ہیں فرمایا : میں نے نبی کریم ﷺ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا : ” اگر میں نے اس کو نہ سنا مگر ایک یا دو مرتبہ حتیٰ کہ سات مرتبہ کو شمار کیا۔ تو میں اسے بیان نہ کرتا لیکن میں نے اس سے زیادہ مرتبہ سنا ہے۔ میں نے نبی پاک ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ” ذوالکفل بنی اسرائیل کا ایک شخص تھا جو کسی گناہ سے نہیں بچتا تھا جس کو وہ کرنا چاہتا تھا۔ ایک عورت اس کے پیچھے آئی اس نے اسے ساٹھ دینار دیے اس شرط پر کہ وہ اس کے ساتھ وطی کرے گا جب وہ اس کے قریب بیٹھا تو وہ کا نپنے لگی اور رونے لگی۔ ذوالکفل نے پوچھا : تو کیوں رو رہی ہے ؟ کیا میں نے تجھے مجبور کیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں لیکن یہ ایسا گناہ ہے جو میں نے کبھی نہیں کیا ہے اور مجھے اس پر حاجت نے ابھارا ہے۔ ذوالکفل نے کہا : تو ایسا کرتی ہے اور میں نے ایسا نہیں کیا تو چلی جا اور پیسے بھی تیرے ہیں۔ ذوالکفل نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اس کے بعد کبھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کروں گا وہ اسی رات فوت ہوگیا۔ صبح اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا : اللہ تعالیٰ نے ذوالکفل کو بخش دیا ہے۔ “ فرمایا : یہ حدیث حسن ہے (1) ۔ بعض نے کہا : الیسع جب وہ بوڑھا ہوگیا تو کہا : اگر میں لوگوں پر کسی کو خلیفہ بنائوں حتیٰ کہ میں دیکھوں کہ وہ کیسے عمل کرتا ہے آپ نے فرمایا : تین دن کی کون مجھے ضمانت دے گا دن کو روزہ رکھے، رات کو قیام کرے اور فیصلہ کرتے وقت غصہ میں نہ آئے۔ عیص کی اولاد میں سے ایک شخص نے کہا : میں۔ آپ نے اسے رد کردیا۔ پھر دوسرے دن بھی اسی طرح فرمایا تو اسی شخص نے کہا : میں نے اسے خلیفہ بنایا۔ پس اس نے وعدہ وفا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تعریف فرمائی اور اس کا نام ذوالکفل رکھا کیونکہ اس نے ایک امر کی ضمانت دی تھی، یہ حضرت ابو موسیٰ ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے۔ عمربن عبدالرحمن بن حرث نے کہا : حضرت ابو موسیٰ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ ” ذوالکفل نبی نہیں تھا لیکن وہ عبد صالح تھا اپنی موت کے وقت ایک نیک شخص کے عمل کی ضمانت لی تھی۔ وہ ہر روز اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے سو رکعت نماز پڑھتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی تعریف فرمائی “ ( 2) ۔ کعب نے کہا : بنی اسرائیل میں ایک کافر بادشاہ تھا اس کے شہر سے ایک نیک شخص گزرا تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر میں اس شہر سے نکلوں گا تو اس بادشاہ پر اسلام پیش کروں گا۔ اس نے اس بادشاہ پر اسلام پیش کیا اس بادشاہ نے پوچھا : میری کیا جزا ہوگی ؟ اس نے کہا : جنت۔ اور اس کے لیے جنت کی صفت بیان کی۔ بادشاہ نے کہا : مجھے اس کی کون ضمانت دے گا ؟ اس شخص نے کہا : میں۔ پس وہ بادشاہ اسلام لایا اور اپنی مملکت سے علیحدہ ہوگیا اور اپنے رب کی طاعت کی طرف متوجہ ہوا حتیٰ کہ وہ فوت ہوگیا۔ وہ دفن کیا گیا صبح ہوئی تو لوگوں نے اس کا ہاتھ قبر سے باہر دیکھا اس کے ہاتھ میں سبز رقعہ تھا جس میں سفید نور کے ساتھ یہ لکھا ہوا تھا : ان اللہ قد غفرلی وأدخلنی الجنۃ ووفی عن کفالۃ فلان۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کردیا ہے اور مجھے جنت میں داخل کیا ہے اور فلاں کی کفالت کو پورا کیا ہے۔ لوگ اس شخص کی طرف دوڑ کر گئے تاکہ وہ ان پر ایمان کا عہد لے اور ان کے لیے کفیل بن جائے، جس طرح بادشاہ کے لیے کفیل بنا تھا۔ اس نے ایسا ہی کیا وہ تمام لوگ ایمان لے آئے اور اس کا نام ذوالکفل رکھا گیا۔ بعض نے کہا : وہ پاکدامن شخص تھا ہر انسان کا کفیل بن جاتا تھا جو کسی مصیبت یا تہمت یا مطالبہ میں گرفتار ہوتا تھا پس اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں گرفتار شخص کو نجات دیتا تھا۔ بعض علماء نے فرمایا : ذوالکفل نام اس لیے تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے عمل وسعی کی کفالت دی تھی باوجود اس کے کہ اس کے زمانہ کے دوسرے انبیاء کی بنسبت اس کا عمل کمزور تھا۔ جمہور علماء کا قول ہے کہ وہ نبی نہیں تھا۔ حسن نے کہا : حضرت الیاس سے پہلے وہ نبی تھا۔ بعض نے کہا کہ یہ حضرت زکریا (علیہ السلام) تھے انہوں نے حضرت مریم کی کفالت کی تھی۔ کل من الصبرین۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم، طاعت کے قیام اور گناہوں سے اجتناب پر صبر کرنے والے تھے۔ وادخلنھم فی رحمتنا ہم نے انہیں جنت میں داخل کیا
Ayahs 21:87–88

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور ذو النون کو (یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے، آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے (اور) بیشک میں قصوروار ہوں

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وذالنون اس سے پہلے اذکر فعل مخذوف ہے یعنی ذوالنون کو یاد کرو۔ یہ یونس بن متی کا لقب ہے کیونکہ مچھلی نے آپ کو نگل لیا تھا۔ النون سے مراد مچھلی ہے۔ حضرت عثمان کی حدیث میں ہے کہ انہوں ایک ملیح بچہ دیکھا تو فرمایا : اس کی ٹھوڑی پر سیاہ نشان لگا دو تاکہ اسے نظر نہ لگے۔ ثعلب نے ابن اعرابی سے روایت کیا ہے کہ النوفۃ وہ گڑھا ہوتا ہے جو چھوٹے بچے کی تھوڑی میں ہوتا ہے۔ اذذھب مغاضباً حسن، شعبی اور سعید بن جبیر نے کہا : اپنے رب کے لیے ناراض ہو کر گیا۔ اس مفہوم کو طبری اور قتبی نے اختیار کیا ہے۔ مہدوی نے اس کو مستحسن سمجھا ہے۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے نحاس نے کہا : جو لوگ لغت کو نہیں جانتے انہوں نے اس کا انکار کیا ہے حالانکہ یہ صحیح قول ہے۔ معنی یہ ہے کہ اپنے رب کی خاطر ناراض ہوا جیسے تو کہتا ہے : غضبت لک یعنی تمہاری وجہ سے ناراض ہوا۔ مومن اللہ تعالیٰ کے لیے ناراض ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جاتی ہے۔ اکثر اہل لغت کا خیال ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ کو اسی وجہ سے فرمایا تھا : اشترطی لھم الولاء (ان کے لیے ولاء کی شرط منظور کرلو) قتبی نے اس قول کی تائید میں مبالغہ کیا ہے۔ حدیث میں حضرت یونس کے وصی میں ہے ” آپ کا سینہ تنگ تھا جب آپ نے نببوت کا بوجھ اٹھایا تو اس کے نیچے آپ کا سینہ اس طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا جس طرح موسم ربیع میں پیدا ہونے والا اونٹ کا بچہ بھاری بوجھ کے نیچے ٹوٹ جاتا ہے “ پس حضرت یونس (علیہ السلام) بھاگے ہوئے غلام کی طرح چل پڑے (1) ۔ یہ آپ کا غصہ کرنا صغیرہ تھا آپ اللہ تعالیٰ پر ناراض نہیں ہوئے تھے بلکہ اللہ کے لیے ناراض ہوئے تھے جب ان کی قوم سے عذاب اٹھایا گیا تھا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : وہ اپنے ربب سے بھاگا یعنی اپنے رب کے حکم سے بھاگا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم سے عذاب اٹھانے کے بعد ان کی طرف لوٹ آنے کا حکم دیا، کیونکہ حضرت یونس (علیہ السلام) اپنی قوم کو ایک معلوم وقت میں عذاب کے نزول کی دھمکی دے چکے تھے پس اس وقت آپ ان سے نکل گئے۔ ان کی قوم پر عذاب آپیا تو وہ گڑ گڑانے لگے۔ پس ان سے عذاب اٹھا لیا گیا اور حضرت یونس (علیہ السلام) کو ان کی توبہ کا علم نہ تھا، اسی وجہ سے وہ غضبناک ہو کر نکلے تھے۔ اس کے حق میں تھا کہ وہ نہ جاتے مگر اجازت کے ساتھ۔ حسن نے کہا : اللہ تعالیٰ انہیں اپنی قوم کی طرف جانے کا حکم دیا تو آپ نے مہلت کا سوال کیا تاکہ تیاری کریں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جلدی کرنے کا کہا حتیٰ کہ انہوں نے جوتا لینے کو کہا تاکہ اسے پہن لیں لیکن مہلت نہ دی گئی۔ آپ کو کہا گیا : حکم اس سے جلدی کا ہے۔ آپ کے خلق میں تنگی تھی آپ اپنے رب پر ناراض ہو کر نکلے۔ یہ ایک قول ہے لیکن نحاس کا قول عمدہ ہے یعنی اپنے رب کی خاطر غضبناک ہو کر نکلے یعنی اپنی قوم پر ناراض ہوئے کیونکہ ان کی قوم نے کفر کیا تھا۔ بعض نے فرمایا : وہ اپنی قوم سے ناراض ہوئے جب ان پر ان کا امر طویل ہوگیا اور ان کی سر کشی طویل ہوگئی تو آپ اپنے نفس پر ناراض ہو کر نکلے ان کی اذیت پر صبر نہ کیا جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے ساتھ رہنے کا حکم دیا تھا اور دعا کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان کا ذنب یہی تھا۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نکلے تھے۔ یہ مفہوم حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک سے مروی ہے حضرت یونسعلیہ السلام جوان تھے اور انہوں نے نبوت کا ببوجھ نہیں اٹھایا تھا اسی وجہ سے نبی اکرم ﷺ کو کہا گیا : ولا تکن کصاحب الحوت (القلم :48) (تم مچھلی والے کی طرح نہ ہو جائو) ضحاک سے مروی ہے (1 کہ وہ اپنی قوم پر غضبناک تھے انہوں نے کفر کیا تو ان پر ناراض ہونا واجب تھا ہر ایک پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اس پر ناراض ہو جو اللہ تعالیٰ کی نافرماین کرے۔ ایک جماعت نے کہا جن میں اخفش بھی ہے : وہ اس بادشاہ پر ناراض ہو کر نکلے تھے جو ان کی قوم پر مقرر تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : شعیا نبی اور وہ بادشاہ جو اس وقت موجود تھا جس کا نام حزقیا تھا انہوں نے ارادہ کیا کہ حضرت یونس علیہ السللام کا نینویٰ کے بادشاہ کی طرف بھیجیں اس نے بنی اسرائیل سے جنگ کی تھی اور ان میں سے اکثر کو قیدی بنالیا تھا تاکہ نینویٰ کے بادشاہ نے حضرت یونس (علیہ السلام) بات کریں تاکہ وہ بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دے۔ اس وقت انبیاء کی طرف وحی کی جاتی تھی اور سیاسی امور بادشاہ کے پاس ہوتے تھے جس کو وہ انبیاء منتخب کرتے تھے پس وہ بادشاہ اپنے نبی کی وحی کے مطابق عمل کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے شعیا نبی کو وحی فرمائی کہ حزقیا بادشاہ کو کہو کہ وہ بنی اسرائیل میں سے ایک قوت والا امین خبر دینے والا چنے اور اسے اہل نینویٰ کی طرف بھیجیں اور وہ انہیں حکم دے کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردیں۔ میں ان کے بادشاہوں اور جابروں کے دل میں ان کو علیحدہ کرنے کا حکم ڈال دوں گا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے شعیا کو کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے مجھے نکالنے کا حکم دیا ہے ؟ شعیا نے کہا : نہیں۔ پوچھا : کیا اس نے تجھ سے تیرا نام لیا ہے ؟ شعیا نے کہا : نہیں۔ فرمایا : وہ انبیاء امین اور قوت والے تھے۔ پس انہوں نے حضرت یونس (علیہ السلام) پر نکلنے کے لیے اصرار کیا تو حضرت یونس علیہ السللام اس نبی اور بادشاہ پر اور اپنی قوم پر ناراض ہو کر نکلے۔ آپ بحر روم پر آئے پھر آپ کو مچھلی کے منہ میں چلے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ آپ کو مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی آزمائش میں ڈالا گیا۔ کیونکہ آپ نے شعیا نبی کے حکم کو ترک کیا تھا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فالتقمہ الحوت وھو ملیم۔ (الصافات) ملیم اسے کہتے ہیں جو ایسا فعل کرے جس پر ملامت کی جاتی ہو۔ آپ نے جو فعل کیا وہ یا صغیرہ تھا یا ترک اولیٰ تھا۔ بعض علماء نے فرمایا : آپ جب نکلے تھے تو آپ اس وقت نبی نہ تھے لیکن آپ کو بنی اسرائیل کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ نے نینویٰ کی طرف جانے کو کہا تاکہ آپ انہیں شعیا کی طرف بلائیں تو آپ نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی امر سے جانے کو ناپسند کیا پس آپ بادشاہ پر ناراض ہو کر نکلے۔ جب آپ نے مچھلی کے پیٹ میں نجات پائی تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قوم کی طرف بھیجا آپ نے انہیں بلایا اور وہ آپ پر ایمان لے آئے۔ قشیری نے کہا : اظہر یہ ہے کہ یہ غضبناک ہونا اللہ تعالیٰ کے ارسال کے بعد تھا اور قوم پر عذاب کے اٹھائے جانے کے بعد آپ نے ان سے عذاب کے اٹھائے جانے کو پسند نہ کیا۔ میں کہتا ہوں : یہ سب سے بہتر ہے جو اس کے متعلق کہا گیا ہے جیسا کہ انشاء اللہ تعالیٰ سورة الصافات میں اس کا بیان آئے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : آپ کی قوم کے اخلاق میں سے تھا کہ جس کے متعلق انہیں جھوٹ بولنے کا پتہ چل جاتا اسے قتل کردیتے تھے۔ پس آپ کو قتل ہوجانے کا اندیشہ ہوا تو آپ ناراض ہوئے۔ آپ نکل پڑے حتیٰ کہ آپ ایک کشتی میں سوار ہوئے وہ کشتی ٹھہر گئی اور چلتی نہیں تھی کشتی والوں نے کہا : کیا تم میں سے کوئی بھاگنے والا ہے ؟ حضرت یونس (علیہ السلام) نے کہا : وہ میں ہوں، پھر واقعہ ہوا جو ہوا۔ آپ کو گناہ صغیرہ سے پاک کرنے کے لیے مچھلی کے پیٹ میں مبتلا کیا گیا جیسا کہ اہل احد کے بارے میں فرمایا : حتی اذا فلتم… ولیمحص اللہ الذین آمنوا۔ انبیاء کے گناہ بخشے ہوئے ہوتے ہیں لیکن ان پر تمحیص جاری ہوتی ہے اور اس کے ضمن میں دوبارہ ایسا کرنے سے زجر ہوتی ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ آپ اپنے رب پر اور اپنی قوم پر ناراض نہیں ہوئے تھے۔ یہ عربوں کے قول غضب سے مشتق ہے جب کوئی ناپسندیدگی کا اظہار کرے۔ فاعل کبھی ایک فاعل کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب آپ نے قوم کو عذاب کا وعدہ دیا اور آپ ان سے نکل گئے تو انہوں نے توبہ کرلی اور ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔ جب آپ واپس آئے تو آپ کو معلوم ہوا کہ وہ تو ہلاک نہیں ہوئے آپ نے اس کو ناپسند کیا اور آپ بھاگ نکلے۔ یہ شعر اس مفہوم میں بطور دلیل پڑھا جاتا ہے۔ واغضب ان تھجی تمیم بدارم۔ یہاں اغضب بمعنی آنف ناپسند کرنا ہے۔ اس قول میں نظر ہے کیونکہ اس قول والے کو کہا جاتا ہے کہ یہ مغاضبت اگرچہ انفت کی وجہ سے تھی۔ الانفۃ (نفرت، ناپسندیدگی) کو غضب بھی لاحق ہوتا ہے وہ غضب تو ہے اگرچہ جس پر ہو قلیل بھی ہو آپ تو کہتے ہیں کہ وہ اپنے رب پر اور اپنی قوم پر ناراض نہیں ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فظن ان لن نقدر علیہ فنادیٰ فی الظلمت بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے ابلیس نے آپ کو پھسلایا اور آپ کے گمان میں اس کا امکان واقع ہوا کہ اللہ تعالیٰ انہیں سزا دینے پر قادر نہ ہوگا۔ یہ قول مردود اور قابل توجہ نہیں ہے کیونکہ یہ کفر ہے۔ سعید بن جیر سے مروی ہے مہدوی نے ان سے حکایت کیا ہے اور ثعلبی نے حسن سے روایت کیا ہے۔ ثعلبی نے کہا : عطا اور سعید بن جبیر اور کثیر علماء نے کہا : اس کا معنی ہے کہ اس نے گمان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر تنگی نہیں کرے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے ہے : اللہ یبسط الرزق لمنن یشآء ویقدر (الرعد :26) یعنی اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو کشادہ فرماتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ فرماتا ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ قول سعید اور حسن کے قول کے مشابہ ہے۔ قدر، قدر، قتر اور قتر ہم معنی ہیں یعنی تنگ کیا گیا ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے جس کو ماوردی اور مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ القدر سے مشتق ہے۔ جس کا معنی قضا اور فیصلہ ہے، یعنی آپ نے گمان کیا کہ ہم آپ پر عقوبت کا فیصلہ نہیں کریں گے ؛ یہ قتادہ، مجاہد اور فراء کا قول ہے۔ یہ القدر سے ماخوذ ہے جس کا معنی فیصلہ ہے نہ کہ قدرت و استطاعت سے ماخوذ ہے۔ ابوالعباس احمد بن یحییٰ ثعلب سے مروی ہے انہوں نے فظن ان لن نقدر عیہن کے متعلق فرمایا : یہ تقدیر سے ہے نہ کہ القدرۃ سے کہا جاتا ہے : قدر اللہ لک الخیر یقدرہ قدراً اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے خیر کو مقدر کیا۔ ثعلب نے بطور استشہاد یہ اشعار پڑھے : فلیست عشیات اللوی برواجع لنا ابداً ما أورق السلم النضر ولا عائد ذالک الزمان الذی مضی تبارک ما تقدر یقع ولک الشکر ما تقدر بمعنی ما تقدرہ وتقضی ہے ان دو تاویلوں پر علماء کا نظریہ ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز اور زہری نے فظن ان لن نقدر علیہ نون کے ضمہ اور دال کی شد کے ساتھ تقدیر سے پڑھا ہے۔ یہ قرأت ماوردی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے۔ عبید بن عمیر، قتادہ اور اعرج نے ان لن نقدر علیہ یاء کے ضمہ اور دال کی شد کے ساتھ فعل مجہول پڑھا ہے۔ یعقوب عبداللہ بن ابی اسحاق، حسن، حضرت ابن عباس ؓ نے بھی یقدر علیہ یاء کے ضمہ اور دال کے فتحہ کے ساتھ تخفیفاً مجہول کا صیغہ پڑھا ہے۔ حسن سے بھی فظن ان لن نقدر علیہ، مروی ہے باقی قراء نے نقدر نون کے فتحہ اور دال کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور تمام کے نزدیک بمعنی تقدیر ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ دونوں تاویلیں ایسی ہیں جن کو علماء نے اس شخص کے قول میں بھی استعمال کیا ہے جس نے کبھی کوئی خیر کا عمل نہیں کیا تھا۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا تھا : جب وہ مر جائے تو اسے جلا دینا فو اللہ لئن قدر اللہ علی (اللہ کی قسم اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر سزا کا فیصلہ کیا) پہلی تاویل کے مطابق اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اگر مجھ پر تنیہ فرمائی اور میرے محاسبہ میں مبالغہ کیا اور مجھے میرے گناہوں پر جزا دی تو ایسا ہوگا پھر اس نے افراط خوف کی وجہ سے گھر والوں کو جلانے کا حکم دیا۔ دوسری تاویل پر معنی یہ ہوگا اگر اللہ تعالیٰ تقدیر اور فیصلہ میں ہر مجرم کو اس کے جرم کی سزا دینے کا معاملہ طے کرچکا ہے تو اللہ تعالیٰ مجھے اپنے گناہوں اور جرموں کی ایسی سزا دے گا جو میرے سوا تمام جہانوں میں سے کسی کو بھی نہیں دے گا۔ اس حدیث کو ائمۃ حدیث نے موطا وغیرہ میں نقل کیا ہے۔ وہ شخص مومن، موحد تھا۔ بعض احادیث میں ہے ” اس نے سوائے توحید کے کوئی خیر کا عمل نہیں کیا تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا : تو نے ایسا کیوں کیا ؟ تو اس نے کہا : من خشیتک یا رب ! اے میرے رب ! تیری خشیت کی وجہ سے ایسا کیا تھا اور خشیت مومن مصدق میں ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انمایخشی اللہ من عبادہ العلموا (فاطر : 28) بعض علماء نے فرمایا : فظن ان لن نقدر علیہ کا معنی استفہام ہے اس کی تقدیر أفظن ہے۔ الف استفہام اختصاراً حذف کیا گیا ہے۔ یہ سلیمان ابوالمعتمر کا قول ہے۔ قاضی منذربن سعید نے حکایت کیا ہے۔ کہ بعض نے افظن الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فنادی فی الظلمت ان لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔ فنادی فی الظلمت علماء کا الظلمت کے بارے میں اختلاف ہے کہ اس سے کیا مراد ہے ؟ ایک جماعت نے کہا : جن میں حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ بھی ہیں کہ اس سے مراد رات کی تاریکی، سمندر کی تاریکی اور مچھلی کی تاریکی ہے۔ ابن ابی الدنیا نے کہا ہمیں یوسف بن موسیٰ نے بتایا انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن موسیٰ نے بتایا انہوں نے اسرائیل سے انہوں نے ابو اسحاق سے انہوں نے عمروبن میمون سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا ہمیں حضرت عبداللہ بن مسعود نے بیت المال میں بتایا کہ جب حضرت یونس (علیہ السلام) کو مچھلی نے نگل لیا اور وہ انہیں زمین کی تہہ کی طرف لے گئی تو حضرت یونس (علیہ السلام) نے کنکریوں کی تسبیح سنی۔ تو آپ نے ان تاریکیوں میں پکارا۔ وہ تین تاریکیاں تھیں مچھلی کے پیٹ کی تاریکی، رات کی تاریکی اور سمندر کی تاریکی : ان لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین۔ فنبذنہ بالعرآء وھو سقیم۔ (الصافات :145) جیسے اس چوزے کی ہئیت ہوتی ہے جس پر بال نہ ہوں۔ ایک جماعت نے کہا جن میں سالم بن ابی الجعد بھی ہیں کہ تاریکیوں سے مراد سمندر کی تاریکی۔ اس مچھلی کی تاریکی جس نے مچھلی کو نگلا تھا اور یہ بھی صحیح ہے کہ پہلی مچھلی کے پیٹ کی تاریکی کو الظلمات سے تعبیر کیا گیا ہو جیسا کہ فرمایا : فی غیبت الجب (یوسف : 10) چونکہ ہر جہت میں تاریکی تھی تو اس کا جمع ذکر کرنا ناجائز ہے۔ ماوردی نے ذکر کیا ہے : یہ بھی احتمال ہے کہ خطا کی ظلمت، شدت کی ظلمت اور تنہائی کی ظلمت کو الظلمت سے تعبیر کیا گیا ہو۔ روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کی طرف وحی فرمائی یونس کے ایک بال کو بھی اذیت نہ دینا۔ میں نے تیرے پیٹ کو اس کی قید بنایا ہے میں نے اسے تیری خوراک نہیں بنایا ہے۔ روایت ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ میں سجدہ کیا جب سمندر کی گہرائی میں مچھلیوں کی تسبیح سنی۔ ابن ابی الدنیا نے ذکر کیا ہے انہوں نے کہا ہمیں عباس بن یزید عبدی نے بتایا انہوں نے کہا ہمیں اسحاق بن ادریس نے بتایا کہ انہوں نے کہا ہمیں جعفر بن سلیمان نے بتایا انہوں نے عوف سے انہوں نے سعید بن ابی حسن سے روایت کیا ہے فرمایا : جب مچھلی نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو نگل لیا تو انہوں نے گمان کیا کہ وہ فوت ہوگئے ہیں پس انہوں نے اپنی ٹانگوں کو لمبا کیا جبکہ وہ فوت نہیں ہوئے تھے۔ آپ اپنی عادت کے مطابق نماز کے لیے کھڑے ہوئے آپ نے اپنی دعا میں کہا : میں نے تیرے لیے ایسی جگہ کو مسجد بنایا جس کو کسی نے مسجد نہیں بنایا۔ ابوالمعالی نے کہا : نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے لا تفضلونی علی یونس بن متی (1) اس کا معنی ہے میں جب سدرۃ المنتہیٰ میں تھا میں اللہ تعالیٰ کے قریب ان سے زیادہ تھا جبکہ وہ مچھلی کے پیٹ میں سمندر کی گہرائی میں تھے۔ یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی جہت میں نہیں۔ یہ مفہوم سورة بقرہ اور سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ ان لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین۔ آپ نے قوم کے ساتھ رہنے کو ترک کیا تھا اور ان پر صبر نہیں کیا تھا وہ ظلم مراد ہے۔ بعض نے فرمایا : بغیر اجازت کے نکلنا مراد ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عقوبت نہیں تھی کیونکہ انبیاء کرام کو عقاب نہیں کیا جاتا یہ تمحیص (پاک و صاف کرنا) تھا کبھی کبھی اسے ادب سکھایا جاتا ہے جو عقاب کا مستحق نہیں ہوتا جیسے بچے ہوتے ہیں ؛ یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے میں نے اپنی قوم پر عذاب کی عدا کر کے قصور کیا حالانکہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لیے بد دعا کی تو ان کا مواخذہ نہ ہوا۔ واسطی نے کہا : اس کا معنی ہے اپنے رب کی ظلم سے پاکیزگی بیان کی اور استحقاق و اعتراف کی بناء پر ظلم کی نسبت اپنی طرف کی، اسی کی مثل حضرت آدم علیہ اور حضرت حواء (علیہما السلام) کا قول ہے۔ ربنا ظلمنا انفسنا (الاعراف : 23) جب انہوں نے اپنے آپ کو اپنے منصب پر نہ رکھا تو وہ زمین میں اتارے گئے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ابو دائود نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : ” حضرت یونس (علیہ السلام) کی مچھلی کے پیٹ میں یہ دعا تھی۔ لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین جس مسلمان نے اس دعا کے ساتھ کسی مسئلہ میں دعا مانگی تو وہ قبول کی گئی “ (1) بعض علماء نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے اس کو حضرت سعد نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ خبر میں ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی شرط ہے اس شخص کے لیے جو اس سے دعا مانگے تو وہ اس کی دعا قبول فرمائے گا جس طرح حضرت یونس (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی تھی اور اسے نجات دے گا جس طرح انہیں نجات دی تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انی کنت من الظلمین۔ آپ نے ظلم کا اعتراف کیا پس یہ اشارہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکذلک نجی المومنین۔ یعنی جو عمل ان سے ہوا اس کی وجہ سے جس پریشانی میں ہوتے ہیں اس سے انہیں ہم خلاصی دیتے ہیں وہ یہ ارشاد ہے : فلولا انہ کان من المسبحین۔ فی بطنہ الی یوم یبعثون۔ (الصافات) اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے حضرت یونس (علیہ السلام) کی حفاظت ہے۔ اس کے حق تعبد کی رعایت کی اور جو انہوں نے طاعت میں سے پہلے کیا تھا اس کے حق کی حفاظت فرمائی۔ استاذ ابو اسحاق نے فرمایا : حضرت یونس (علیہ السلام) تھوڑے دن مچھلی کے ساتھ رہے تو قیامت تک انہیں ذوالنون کہا جائے گا تو تیرا اس بندے کے متعلق کیا گمان ہے جس نے ستر سال عبادت کی، اس کے نزدیک یہ رائیگاں جائے گی یہ تو گمان ہی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ من الغم یعنی مچھلی کے پیٹ سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکذلک نجی المومنین۔ اکثر کی قرأت دونوں کے ساتھ ہے۔ یہ انجی ینجی سے مشتق ہے۔ ابن عامر نے نجی ایک نون اور جیم مشدد اور یاء کے سکون کے ساتھ ماضی کا صیغہ پڑھا ہے اور مصدر کا اضمار کیا ہے یعنی کذلک نجی النجاء المومنین۔ جیسے تو کہتا ہے : ضرب زیداً بمعنی ضرب الضرب زیداً اور بطور استشہاد یہ شعر پڑھا ہے :۔ ولو ولدت قفیرۃ جرو کلب لست بذلک الجرو الکلابا تو شاعر نے لسب السب بذالک الجرو کا ارادہ کیا ہے یا کو ان کی لغت کے مطابضق ساکن کیا گیا ہے جو یا کو حرکت دئیے بغیر کہتے ہیں بقی ورضی۔ حسن نے : وذروامابقی من الربوا (البقرہ :278) پڑھا کیونکہ یا ما قبل مکسور کو حرکت دینے سے ثقل پیدا ہوتا ہے اور یہ اشعار پڑھے ہیں : خمر الشیب لمتی تخ میرا وحدا بی الی القبور البعیرا لیت شعری اذا القیامۃ قامت ودعی بالحساب این المصیرا یاء کو دعی میں ساکن کیا گیا کیونکہ اس کو حرکت دینے اور اس کے ماقبل کسرہ سے ثقل پیدا ہوتا ہے۔ حدا کا فاعل المشیب ہے یعنی وحد المشیب البعیر لیت شعری المصیر أین ھوغ یہ تاویل فراء ابو عبید اور ثعلب نے کی ہے۔ اسی قرأت کو درست کرنے کے لیے ابو حاتم اور زجاج نے غلطی کی ہے کہ انہوں نے کہا : یہ غلطی ہے کیونکہ نائب الفاعل کو نصب دی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے : نجی المؤمنون جیسے کہا جاتا ہے : کرم الصالحون اور ضرب زیدا ا بمعنی ضرب الضرب زیداً کہنا جائز نہیں، کیونکہ نون کا مخرج جیم کے مخرج سے دور ہے اس لیے ادغام نہیں ہوگا۔ من جآء بالحسنۃ (الانعام :160) میں مجاء بالحسنۃ جائز نہیں۔ نحاس نے کہا : میں نے جو بات علی بن سلیمان سے سنی ہے اس سے بہتر کوئی بات نہیں سنی۔ انہوں نے کہا : اصل میں ننجی تھا ایک نون کو حذف کیا گیا کیونکہ دونوں جمع ہوئے ہیں جیسا کہ ایک تاء کو حذف کیا جاتا ہے جب دونوں جمع ہوجاتی ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما تفرقوا (الشوریٰ :14) اصل میں لا تنفرقوا تھا محمد بن السمیقع اور ابوالعالیہ نے وکذلک نجی المومنین پڑھا ہے یعنی نجی اللہ المومنین۔ یہ عمدہ ہے۔
Ayahs 21:89–90

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑو اور تو سب سے بہتر وارث ہے

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی پکار سن لی اور ان کو یحییٰ بخشا اور ان کی بیوی کو اولاد کے قابل بنادیا یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید اور خوف سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وزکریا اذ نادیٰ ربہ یعنی زکریا کو یاد کرو۔ ان کا ذکر سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ رب لا تذرنی فرداً یعنی اکیلا اور بغیر بیٹے کے نہ چھوڑ۔ وانت خیر الوارثین۔ یعنی تو ہر مرنے والے کے بعد جو باقی رہنے والے ہیں ان سے ببہتر ہے۔ فرمایا : وانت خیر الوارثین۔ کیونکہ پہلے یرثنی گزر چکا ہے، یعنی میں جانتا ہوں تو اپنے دین کو ضائع نہیں کرے گا، لیکن یہ امر دین کی حفاظت کی فضیلت میری نسل سے منقطع نہ کر، جیسا کہ پہلے سورة مریم میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاستجبنالہ یعنی ہم نے اس کی دعا قبول کی۔ ووھبنالہ یحییٰ ان کا ذکر تفصیلاً گزر چکا ہے۔ واصلحنا لہ زوجہ قتادہ، سعید بن جبیر اور اکثر مفسرین نے کہا : ان کی بیوی بانج تھی تو اسے بچے جنم دینے والی بنا دیا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور عطا نے کہا : وہ تند خو تھی اور زبان دراز تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اصلاح فرمائی اور اسے اچھے اخلاق والا بنا دیا۔ میں کہتا ہوں : دونوں مفہوم جمع بھی ہو سکتے ہیں اسے حسن اخلاق بھی دے دیا ہو اور بچے جننے والی بھی بنا دیا ہو۔ انھم، ھم ضمیر سے مراد وہ انبیاء کرام ہیں جن کا اس سورت میں نام لیا گیا ہے۔ کانوا یسرعون فی الخیرت بعض علماء نے فرمایا : ضمیر کا مرجع حضرت زکریا، ان کی زوجہ اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ویدعوننا رغباً ورھباً اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: ویدعوننا رغبا ورھبا وہ ہماری بارگاہ میں پناہ لیتے ہیں اور سختی اور خوشحالی میں ہمیں پکارتے ہیں۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے وہ عبادت کے وقت ہمیں پکارتے ہیں جبکہ وہ امید اور خوف کی حالت میں ہوتے ہیں کیونکہ رغبت اور رہبت ایک دوسرے کو متلازم ہں۔ بعض نے فرمایا : الرغب کا مطلب ہے آسمان کی طرف ہتھیلیوں کے باطن کو بلند کرنا اور الرھب کا مطلب ہے ان کی پیٹھوں کو آسمان کی طرف بلند کرنا ؛ یہ خصیف کا قول ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : اس کی تلخیص یہ ہے کہ ہر دعا مانگنے والا انسان اپنے ہاتھوں سے مدد طلب کرتا ہے۔ پس رغببت اس حیثیت سے کہ وہ طلب ہے۔ تو ہتھیلی کے باطن کو مطلوب منہ کی طرف متوجہ کرنا بہتر ہے کیونکہ وہ عطا کرنے کی جگہ ہے یا اس کے ذریعے انسان مالک ہوتا ہے اور الرھب اس حیثیت سے کہ تکلیف کو دور کرنا ہے تو اس کے ساتھ اس کو پھینکنا اچھا ہوتا ہے اور جانے کی طرف اشارہ کرنا ہے ہاتھ جھاڑ کر اسے بچانا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ترمذی نے حضرت عمر بن خطاب سے روایت کیا ہے فرمایا : نبی کریم ﷺ جب دعا میں ہاتھ اٹھاتے تھے تو انہیں نیچے نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ انہیں اپنے چہرے پر پھیر لیتے تھے (1) ۔ ہاتھوں بلند کرنے کے متعلق اختلاف سورة ۃ الاعراف میں گزر چکا ہے۔ یہ حدیث اور دوسری احادیث وہاں ہم نے ذکر کی ہیں ہاتھوں کو بلند کرنے کے متعلق کو بلند کرنے کے قول پر پھر اس کی صفت اور کہاں تک اٹھانے ہیں اس میں اختلاف ہے۔ بعض پسند کرتے ہیں کہ وہ اپنی ہتھیلیوں کو اپنے سینے کے برابر اٹھاتے ہوئے پھیلائیں اور ان کا باطن اس کے چہرے کی طرف ہو۔ حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : حضرت علی ؓ اپنی ہتھیلیوں کے باطن کے ساتھ دعا مانگتے تھے اور حضرت انس سے اس کی مثل مروی ہے۔ یہ جامع ترمذی کی حدیث کا ظاہر ہے اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : ” جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اپنی ہتھیلیوں کے باطن کے ساتھ اس سے سوال کرو اور ہتھیلیوں کے پیٹھوں کے ساتھ سوال نہ کرو اور انہیں اپنے چہروں پر پھیرو۔ “ حضرت ابن عمر اور حضرت ابن زبیر سے چہرے تک بلند کرنا مروی ہے انہوں نے حضرت ابو سعید خدری کی حدیث سے حجت پکڑی ہے۔ فرمایا : نبی پاک ﷺ عرفہ میں ٹھہرے تو آپ نے دعا مانگنی شروع کی آپ نے اپنی ہتھیلیوں کی پشت کو اس سمت کیا جو چہرے کی طرف تھی اور انہیں اپنے سینہ سے بلند کیا اور کندھوں سے نیچے کیا (1) ۔ بعض نے فرمایا : حتیٰ کہ چہرے کے برابر کیا اور ان کی پشتیں چہرہ کی سمت تھیں۔ ابو جعفر طبری نے کہا : یہ کہنا صحیح ہے کہ تمام آثار جو نبی کریم ﷺ سے مروی ہیں متفق اور متحد ہیں اور یہ تمام صورتیں نبی کریم ﷺ سے مروی ہوں دعا کے احوال اختلاف کی وجہ سے جیسا کہ حضرت ابن عبب اس ؓ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی ایک انگلی کے ساتھ اشارہ کرے تو وہ اخلاص ہے اور جب اپنے ہاتھوں کو سینہ کے برابر کرے تو وہ دعا ہے۔ جب انہیں اتنا بلند کرے کہ سر سے اوپر لے جائے اور ان کا ظاہر چہرے کی طرف ہو تو یہ اببتہال (گڑ گڑانا) ہے۔ طبری نے کہا : قتادہ نے حضرت انس سے روایت کیا ہے فرمایا : میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنی ہتھیلیوں کے ظاہر و باطن کے ساتھ دعا مانگتے ہوئے دیکھا (2) رغباً ورھبامصدر کی بنا پر منصوب ہیں۔ یعنی یرغبون رغباً ویرھبون رھباً مصدر کی بنا پر منصوب ہیں یعنی یرغبون رغباً ویرھببون رھباً یا مفعول لاجلہ کی بنا پر منصوب ہیں یعنی للرغب والرھب یا حال کی بنا پر منصوب ہیں۔ طلحہ بن مصرف نے یدعونا ایک نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اعمش نے راء کے ضمہ اور غین کے سکون اور ھا کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے : جیسے : السقم اور البخل اور العدم اور الضر یہ دونوں لغتیں ہیں۔ ابن وثاب اور اعمش نے رغباً ورھباً را پر فتحہ اور غین اور ھا میں تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جیسے نھر اور نھر، صحر اور صخر یہ قرأت ابو عمرو سے مروی ہے۔ وکانوا لنا خشعین تواضع کرنے والے اور عاجزی کرنے والے۔
Ayah 21:91

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفت کو محفوظ رکھا تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کو ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنادیا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والتی اخصنت فرجھا یعنی مریم کو یاد کرو جس نے محفوظ رکھا اپنی عصمت کو۔ حضرت مریم کا ذکر کیا حالانکہ وہ انبیاء میں سے نہیں تھی اس لیے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر مکمل ہو اسی وجہ سے فرمایا : وجعلنھا وابنھا ایۃ للعلمین۔ آیتیں نہیں فرمایا کیونکہ کلام کا معنی یہ ہے کہ ہم نے ان دونوں کے امر، واقعہ اور شان کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنایا۔ زجاج نے کہا : دونوں میں نشانی ایک تھی کیونکہ حضرت مریم نے انہیں بغیر باپ کے جنم دیا تھا۔ سیبویہ کے مذہب پر تقدیر یہ ہے : وجعلنا ھا آیۃ للعالمین وجعلنا ابنھا آیۃ للعالمین پھر حذف کیا گیا اور فراء کے مذہب پر تقدیر یہ ہوگی : وجعلنا ھا آیۃ للعالمین وابنھا جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ (التوبہ :62) بعض علماء نے فرمایا : ان کی آیات میں سے یہ تھا کہ حضرت مریم پہلی عورت تھیں جو عبادت خانہ میں نذر کے طور پر قبول کی گئی تھیں۔ یہ بھی نشانی سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو اپنی جناب سے رزق دیا تھا اور بندوں کے ہاتھ پر ان کا رزق جاری نہیں فرمایا تھا۔ بعض نے فرمایا : حضرت مریم نے پستان نہیں چوسا تھا۔ احصنت برائی سے محفوظ رہیں۔ بعض نے فرمایا فرج سے مراد قمیض کی فرج ہے یعنی ان کے کپڑے کے ساتھ کبھی کوئی مشکوک چیز معلق نہ ہوئی آپ پاکیزہ لباس تھیں قمیص کی فروج چار ہوتی ہیں۔ دو آستینیں۔ اعلیٰ اور اسفل۔ سہیلی نے کہا : تیرا خیال کسی دوسری چیز کی طرف نہ جائے کیونکہ یہ لطیف کنایہ ہے کیونکہ قرآن معنی کے اعتبار سے پاکیزہ ہے اور لفظ کے اعتبار سے موزوں ہے اس میں لطیف اشارہ اور خوبصورت عبارت ہے چہ جائے کہ کسی جاہل کا وہم اس کی طرف جائے، خصوصاً روح قدس کا پھوکنا، قدوس کے حکم سے تھا۔ قدس کی نسبت قدوس کی طرف کی اور جھوٹے گمان سے مقدسہ و مطہرہ کو پاک فرمایا۔ فنفخنا فیھا من روحنا یعنی ہم نے جبریل کو حکم دیا اور انہوں نے مریم کی قمیص کے گریبان میں پھونک ماری پھر اس پھونک سے ہم نے مریم کے بیٹے مسیح کو پیدا کیا۔ سورة مریم اور سورة النساء میں یہ گزر چکا ہے۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔ آیۃ اس سے مراد علامت اور مخلوق کے لیے عجیب بات ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا علم اور جس میں ہم چاہتے ہیں اپنی قدرت کے نفوذ پر دلالت ہے۔
Ayah 21:92

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ جب انبیاء کرام کا ذکر فرمایا تو فرمایا : یہ تمام توحید پر جمع تھے۔ یہاں امۃ سے مراد دین ہے اور وہ اسلام ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد و غیر ہما کا قول ہے۔ رہے مشرک تو انہوں نے تمام انبیاء کی مخالفت کی۔ وانا ربکم یعنی صرف میں ہی تمہارا پروردگار ہوں۔ فاعبدوں صرف میری عبادت کرو۔ عیسیٰ بن عمر اور ابن ابی اسحاق نے ان ھذہ امتکم واحدۃ پڑھا ہے اور یہ حسن نے ابو عمرو سے روایت کیا ہے۔ باقی قراء نے امۃ واحدۃً پڑھا ہے۔ اس پر نصب قطع کی بنا پر ہے کہ کلام مکمل کرنے کے بعد نکرہ آیا ہے۔ فراء کا قول ہے نحاس نے کہا : امۃ پر نصب حال کی بنا پر ہے یعنی حق پر جمع ہونے کی حالت پر یعنی یہ امت ایک امت رہی اور تم توحید پر جمع رہے اور جب تم جدا جدا ہوگئے اور اختلاف کیا تو جو حق کی مخالفت کرنے والا تھا وہ دین حق کے اہل میں سے نہ رہا جیسے تو کہتا ہے : فلان صدیقی عفیفاً یعنی جب تک وہ پاک تھا میرا دوست تھا جب عفت میں مخالف ہوا تو میرا دوست نہ تھا۔ رہا رفع تو یہ امتکم سے بدل ہونے کی بنا پر یا مبتدا کے اضمار کی بنا پر ہوگا یعنی ان ھذہ امتکم ھذہ امۃ واحدۃ یا یہ دوسری خبر ہوگی اور اگر تو ھذہ سے بدل کی بنا پر امتکم کو نصب دے تو بھی جائز ہے اور امۃ واحدۃ ان کی خبر ہوگی۔
Ayah 21:93

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وتقطعوا امرھم بینہم یعنی دین میں تقسیم ہوگئے ؛ یہ مفہوم کلبی نے بیان کیا ہے۔ اخفش نے کہا : دین میں انہوں نے اختلاف کیا مراد مشرک ہیں۔ انہوں نے چونکہ حق کی مخالفت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت فرمائی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کو خدا بنایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی۔ ازہری نے فرمایا : اس کا مطلب ہے وہ اپنے معاملہ میں پارہ پارہ و گئے۔ امرھم پر نصب فی کے حذف کے ساتھ ہے۔ اس مفہوم پر تقطع فعل لازم ہوگا اور پہلے مفہوم پر متعدی ہوگا اور مراد تمام مخلوق ہے یعنی انہوں نے اپنے اپنے دین کو پارہ پارہ کردیا اور اسے آپس میں تقسیم کرلیا کوئی موحد تھا کوئی یہودی تھا کوئی نصرانی تھا۔ کچھ نے بادشاہ کی عببادت کی، بعض نے بتوں کی عبادت۔ کل الینا رجعون یعنی سب نے ہمارے حکم کی طرف لوٹ کر آنا ہے پس ہم انہیں جزا دیں گے۔
Ayah 21:94

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی اور ہم اس کے لئے (ثواب اعمال) لکھ رہے ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فمن یعمل من الصلحت وھو مومن من، بعضیہ ہے جنس کے لیے نہیں ہے کیونکہ کسی مکلف کو یہ طاقت نہیں کہ وہ تمام طاعات فرض، نفل کو ادا کرے۔ معنی یہ ہے جو بھی کوئی طاعت کرے گا خواہ وہ فرض ہو یا نفل جبکہ وہ موحد مسلم ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جبکہ وہ حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کرنے والا ہو۔ فلا کفران لسعیہ اس کے عمل کا انکار نہیں یعنی اس کی جزا کو ضائع نہیں کیا جائے گا اور اس کی جزا کو چھپایا نہیں جائے گا۔ کفر کی ضد ایمان ہے اور کفر کا معنی نعمت کی ناشکری کرنا بھی ہے یہ شکر کی ضد ہوگا۔ وقد کفرہ کفوراً وکفراناً اور حضرت ابن مسعود ؓ کے الفاظ ہیں : فلا کفر لسعیہ ہے وانا لہ کتبون۔ اس کے عمل کو ہم لکھنے والے ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکرا وانثیٰ (آل عمران : 195) یعنی سب محفوظ ہوگا تاکہ اس کی جزا دی جائے۔