21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 21:34–35

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کو بقائے دوام نہیں بخشا بھلا اگر تم مرجاؤ تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور ہم تم لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں اور تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد دنیا میں ہمیشہ باقی رہنا۔ کفار نے کہا : ہم محمد ﷺ پر گردش زمانہ کا انتظار کرتے ہیں۔ مشرکین آپ ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے : یہ شاعر ہے ہم ان پر گردش زمانہ (موت) کا انتظار کرتے ہیں شاید یہ فوت ہوجائے گا جیسا کہ بنی فلاں کا شاعر فوت ہوگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ سے پہلے انبیاء کا وصال ہوا۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خود حفاظ کرتا ہے اسی طرح ہم آپ کے دین اور شریعت کی حفاظ کریں گے۔ افائن مت فھم الخلدون۔ اھم یعنی کیا وہ ہمیشہ رہیں گے : شاعر نے کہا : رفونی و قالوا یا خولد لا ترع فقلت و أنکرت الوجوہ ھم ھم یعنی أھم۔ یہ استفہام انکاری ہے۔ فراء نے کہا : یہ فاء کے ساتھ آیا تاکہ شرط پر دلالت کرے۔ یہ ان کے قول سیموت (وہ فوت ہوجائے گا) کا جواب ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ فاء کے ساتھ لایا گیا کیونکہ اس کی تقدیر یوں ہے : أفھم الخالدون ان مت۔ فراء نے کہا : فاء کا حذف اور اس کا اضمار دونوں جائز ہیں، کیونکہ ھم میں اعراب ظاہر نہیں ہوتا، یعنی ان مت فھم یموتون ایضا اگر آپ کا انتقال ہوگا تو یہ بھی مریں گے۔ پس آپ کے وصال پر خوشی نہیں کرنی چاہیے۔ مت اور مت، میم کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کل نفس ذآئقۃ الموت یہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ و نبلوکم بالشر والخیر فتنۃ، فتنۃ غیر لفظ پر مصدر ہے یعنی ہم شدت، رخوت، حلال اور حرام کے ساتھ تمہیں آزمائیں گے پھر دیکھیں گے تم کیسے شکر و صبر کرتے ہو ؟ و الینا ترجعون اعمال کی جزا کے لیے ہماری طرف لوٹنا ہے۔
Ayah 21:36

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے استہزاء کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے ؟ حالانکہ وہ خود رحمن کے نام سے منکر ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و از راک الذین کفروا ان یتخذونک الا ھزواً اس آیت میں ان نافیہ ہے۔ الھزء کا معنی مزاق کرنا ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ استہزاء کرنے والے وہی ہیں جن کا ذکر سورة الحجر میں انا کفینک المستھزء ین۔ (الحجر) کے تحت گزر چکا ہے۔ وہ اس کو مبعوث سمجھتے تھے جو ان کے بتوں کے الہ ہونے کا انکار کرتا تھا اور خود رحمن کی الوہیت کا انکار کرتے تھے۔ یہ انتہائی جہالت ہے۔ اھذا الذی یعنی وہ کہتے ہیں : کیا یہ ہے وہ ؟ قول کو مضمر کیا گیا ہے اور وہ اذا کا جواب ہے۔ ان یتخذونک الا ھزواً ، اذا اور اس کے جواب کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ یذکر الھتکم یعنی برائی اور عیب کے ساتھ خداؤں کا ذکر کرتا ہے : عشرہ کا قول ہے : لا تذکری مھری وما أطعمتہ فیکون جلدک مثل جلد الاجرب یعنی میرے مہر کو عیب نہ لگا۔ وھم بذکر الرحمن یعنی وہ قرآن کا انکار کرتے ہیں۔ ھم کفرون۔ دوسرا ھم ان کے کفر کی تاکید ہے، یعنی وہ ہی انکار کرنے والے ہیں۔ ان کے وصف کفر میں مبالغہ کیا۔
Ayahs 21:37–38

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان (کچھ جلدباز ہے کہ گویا) جلد بازی ہی سے بنایا گیا ہے میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھلاؤں گا تو تم جلدی نہ کرو

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعید (ہے وہ) کب آئے گا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : خلق الانسان من عجل یعنی عجلت پر مکرکب کیا گیا ہے۔ اس کی فطرت میں تیزی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ الذی خلقکم من ضعف (الروم :54) یعنی انسان ضعیف پیدا کیا گیا ہے کہا جاتا ہے : خلق الانسان من الشر یعنی شریر پیدا کیا گیا ہے۔ جب کسی کے وصف شر میں مبالغہ کرنا ہو تو اس طرح کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : أنت ذھاب و مجی یعنی تو آنے، جانے والا ہے، یعنی انسان کی طبع میں عجلت رکھی گئی ہے۔ بہت سی اشیاء کے لیے جلدی کرتا ہے اگرچہ وہ اس کے لیے مضر بھی ہوں پھر بھی بعض علماء نے فرمایا : انسان سے حضرل مراد آدم (علیہ السلام) ہیں۔ سعید بن جبیر اور سدی نے کہا : جب روح حضرت آدم (علیہ السلام) کی آنکھوں میں داخل ہوئی تو انہوں نے جنت کے پھلوں کو دیکھا جب روح پیٹ میں داخل ہوئی تو کھانے کا شوق کیا، ٹانگوں میں روح پہنچنے سے پہلے جنت کے پھلوں کی طرف جلدی کی اللہ تعالیٰ کے ارشاد : خلق الانسان من عجل سے یہی مراد ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت آدم (علیہ السلام) کو جمعہ کے دن آخری وقت میں پیدا کیا گیا جب اللہ تعالیٰ نے ان کے سر کو زندہ کیا تو انہوں نے جلدی کی اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے اس میں روح پھونکنے کی تکمیل طلب کی، یہ کلبی اور مجاہد وغیرہ کا قول ہے۔ ابو عبیدہ اور بہت سے اہل معانی نے کہا : حمیر قبیلہ کی لغت میں العجل مٹی کو کہتے ہیں اور بطور استشہادیہ شعر پڑھا : والنخل ینبت بین الماء والعجل بعض علماء نے فرمایا : انسان سے مراد تمام انسان ہیں۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد نضر بن حرث بن علقمہ بن کلدہ بن عبد الدار ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی تفسیر میں ہے جو حقیر مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی آیات اور رسول کریم ﷺ کے معجزات سے استہزاء مناسب نہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ مقلوب ہے یعنی خلق العجل من الانسان، یہ ابو عبیدہ کا مذہب ہے۔ نحاس نے کہا : یہ قول ایسا ہے کہ کتاب اللہ میں اس کے ساتھ جواب دینا مناسب نہیں کیونکہ قلب اشعار میں اضطراری طور پر واقع ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا : کان الزنا فریضۃ الرجم زنا (رجم کا فریضہ ہے) اس کی مثال یہ آیت ہے : خلق الانسان من عجل یہ سورة سبحان میں گزر چکا ہے۔ ساوریکم ایتی فلا تستعجلون۔ یہ پہلے کی تائید کرتا ہے۔ طبع انسان میں عجلت ہے اس کی ایسی تخلیق کی گئی ہے کہ یہ برداشت نہیں کرتا جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ یہ سورة سبحان میں گزر چکا ہے۔ اور آیات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت محمد ﷺ کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں۔ وہ محمود انجام ہے جو اپنے محبوب کے لیے بنایا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : آیات سے مراد وہ عذاب ہے جو انہوں نے طلب کیا تھا اور انہوں نے استعجال کا ارادہ کیا تھا انہوں نے کہا : متی ھذا الوعد انہیں معلوم نہیں تھا کہ ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ یہ نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور انہوں نے جب کہا : ان کان ھذا ھو الحق (الانفال :32) (اگر یہ حق ہے) اخفش سعید نے کہا : خلق الانسان من عجل اس کا معنی ہے اس کو کہا گیا : کن (ہو جا) فکان (تو ہوگیا) فلا تستعجلون اس قول کی بناء پر جو کہ کسی چیز کو کن کہتا ہے تو وہ ہوجاتی ہے۔ وہ بات جس کے لیے وہ جلدی کر رہے ہیں اس کا اظہار کرنا اس کو عاجز نہیں کرتا۔ ویقولون متی ھذا الوعد یعنی اس کا وعدہ کیا گیا ہے جیسے کہا جاتا ہے : اللہ رجائنا بمعنی مرجونا۔ بعض نے فرمایا : الوعید یہاں بمعنی وعید ہے یعنی جس عذاب کا وہ ہم سے وعدہ کرتا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد قیامت ہے۔ ان کنتم صدقین۔ اے مومنین کے گروہ ! اگر تم سچے ہو۔
Ayahs 21:39–41

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

اے کاش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے من ہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھ پر سے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ (قیامت) ان پر ناگہاں آواقع ہوگی اور انکے ہوش کھو دے گی پھر نہ تو وہ اس کو ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا رہا ہے تو جو لوگ ان میں تمسخر کیا کرتے تھے، ان کو اسی (عذاب) نے جس کی ہنسی اڑاتے تھے آگھیرا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لو یعلم الذین کفروا یہاں علم بمعنی معرفت ہے جو مفعول ثانی کا تقاضا نہیں کرتا جیسے : لا تعلمونھم، اللہ یعلمھم (الانفال :60) اور لو کا جواب محذوف ہے، یعنی اگر وہ اس وقت کو جان لیتے جس میں وہ اپنے چہروں سے اور اپنی پیٹھوں سے آگ کے شعلوں کو نہ روک سکیں گے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی اگر وہ اسکو جان لیتے تو وعید کے لیے جلدی نہ کرتے۔ زجاج نے کہا : اگر وہ جان لیتے تو وعدہ کی سچائی کو جان لیتے۔ بعض نے فرمایا : اگر وہ اسے جان لیتے تو وہ کفر پر قائم نہ رہتے اور ایمان لے آتے۔ کسائی نے کہا : یہ قیامت کے وقوع کے تحقیق پر تنبیہ ہے، یعنی اگر وہ علم یقین سے جان لیتے تو جان لیتے کہ قیامت آنے والی ہے اور اس پر دلیل بل تاتیھم بغتۃ ہے یعنی قیامت ان کے پاس آئے گی۔ بغتۃ سے مراد قیامت ہے۔ بعض نے کہا : عقوبت ہے۔ بعض نے فرمایا : وہ آگ ہے جس سے بچائو کے کسی حیلہ پر قادر نہ ہوں گے۔ فتمھتھم جوہر نے کہا : بھتہ بھتا اس کا معنی اچانک پکڑ لینا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بل تاتیھم بغتتۃ فتمھتھم۔ فراء نے کہا : اس کا معنی ہے وہ انہیں حیران و ششدر کر دے گی۔ کہا جاتا ہے : بھتہ یبھتہ جب کوئی کسی چیز کے سامنے آئے اور وہ اسے حیران کر دے۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ ان کے پاس اچانک آئے گی۔ فلا یستطیعون ردھا وہ اپنی پیٹھوں سے اسے دور نہیں کرسکیں گے۔ ولا ھم ینظرون۔ انہیں توبہ کرنے اور عذر کرنے کی مہلت نہیں دی جائے گی۔
Ayah 21:42

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

کہو کہ رات اور دن میں خدا سے تمہاری کون حفاظت کرسکتا ہے ؟ بات یہ ہے کہ یہ اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے ہوئے ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل من یکلوکم یکلو کا معنی حفاظت کرنا اور نگرانی کرنا۔ الکلاء کا معنی حفاظت کرنا ہے۔ کلاہ اللہ کلاہءۃ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی۔ کہا جاتا ہے : اذھب فی کلاءۃ اللہ و اکتلات منھم یعنی حفاظت کی۔ شاعر نے کہا : ان سلیمی واللہ یکلوھا ضنت بشیء ما کان یرزوھا دوسرے شاعر نے کہا : انخت بعیری و اکتلات بعینیہ کسائی نے اور فراء نے حکایت کیا ہے : قل من یکلوکم لام کے فتحہ اور واو کے سکون کے ساتھ۔ ان دونوں نے من یکلاکم کو دونوں صورتوں میں ہمزہ کی تحفیف کے ساتھ حکایت کیا ہے۔ اور معروف ہمزہ کی تحقیق ہے یہ اکثر کی قرأت ہے اور رہا یکلاکم دو اعتبار سے خطا ہے، یہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔ (1) ہمزہ کا بدل شعر میں ہوتا ہے۔ (2) دونوں ماضی میں کلیتہ کہتے ہیں۔ معنی بدل جاتا ہے کیونکہ کلیتہ کا معنی ہے أوجعت کلیتہ میں نے اسے گردے میں تکلیف پہنچائی اور جو کسی کو کہتا ہے : کلاک اللہ تو وہ اسے بد دعا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے گردے کی تکلیف پہنچائے۔ پھر کہا گیا کہ لفظ کا مخرج، استفہام کا مخرج ہے اس سے مراد نفی ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہوگی۔ قل لا حافظ لکم تمہارا کوئی محافظ نہیں۔ بالیل جب تم سوتے ہو۔ والنھار جب تم اٹھتے ہو اور اپنے امور میں تصرف کرتے ہو۔ من الرحمن یعنی رحمن کے عذاب سے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فمن ینصرنی من اللہ (ہود :63) یعنی اللہ کے عذاب سے یہ خطاب ان میں سے اسے ہے جو صانع کا اعتراف کرتا ہے، یعنی جب تم اقرار کرتے ہو کہ خالق ہے تو پھر وہ اس عذاب کے اتارنے پر بھی قادر ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو۔ بل ھم عن ذکر ربھم ذکر سے مراد قرآن ہے۔ بعض نے کہا : مواعظ ہیں۔ بعض نے کہا : معرفت ہے۔ معرضون غافل ہیں۔
Ayah 21:43

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو (مصائب سے) بچا سکیں ؟ وہ آپ اپنی مدد تو کر ہی نہیں سکتے اور نہ ہم سے پناہ میں دئیے جائیں گے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ام لھم الھۃ، ام تھم کا معنی ألھم ہے۔ میم صلہ (زائدہ) ہے۔ تمنعھم من دوننا یعنی من عذابنا ہمارے عذاب سے۔ لا یستطیعون یعنی یہ کفار جہ کہتے ہیں کہ ان کی مدد کریں گے جو اپنی مدد نہیں کرسکتے وہ ان کی مدد کیسے کریں گے ؟ ولا ھم منا یصحبون، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یصحبون کا معنی یمنعون یعنی وہ ہم سے بچائے نہیں جائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا معنی یجارون بھی مروی ہے یعنی وہ پناہ نہیں دیے جائیں گے، یہ طبری کا مختار ہے۔ عرب کہتے ہیں : انلک جارو صاحب من فلان : شاعر نے کہا : یندی بأعلی صوتہ متعوذا لیصحب منھا و الرماح دوانی معمر نے ابن ابی نجیح سے انہوں نے مجاہد سے روایت کیا ہے فرمایا : ینصرون یعنی وہ حفاظت نہیں کیے جائیں گے۔ قتادہ نے کہا : اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو انکا ساتھی نہیں بنائے گا۔
Ayah 21:44

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں ؟ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں ؟

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بل متعنا ھولآء و ابآء ھم حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد اہل مکہ ہیں یعنی ہم نے ان کے لیے اور ان کے لیے اپنی نعمتوں کو پھیلایا۔ طال علیھم العمر اور ان نعمتوں میں عرصہ دراز گزر گیا انہوں نے سمجھا کہ یہ نعمتیں ان سے زائل نہیں ہوں گی پس وہ فریب میں مبتلا ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حجج کی تدبیر سے اعراض کیا۔ افلا یرون اناناتی الارض ننقصھا من اطرافھا یعنی اے محمد ﷺ ایک علاقہ کے بعد دوسرے علاقہ پر علبہ اور ایک شہر کے بعد دوسرے شہر کی فتح تمہیں عطا کر کے زمین کو سمیٹ رہے ہیں، یہ اس کا معنی حسن وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ بعض نے فرمایا : قتل اور قیدہ بنا کر، یہ معنی کلبی نے بیان کیا ہے۔ دونوں کا مفہوم ایک ہے اس پر تفصیلی کلام سورة الرعد میں گزر چکی ہے۔ افھم الغلبون۔ یعنی ان کی اطراف کو سمیٹنے کے بعد کفار مکہ ہی کیا غالب ہیں بلکہ آپ ان پر غالب اور آپ کو ان پر فتح نصیب ہوگی۔
Ayahs 21:45–46

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

کہ دو کہ میں تم کو حکم خدا کے مطابق نصیحت کرتا ہوں اور بہروں کو جب نصیحت کی جائے تو وہ پکار کو سنتے ہی نہیں

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کمبختی ہم بیشک ستمگار تھے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل انما انذرکم بالوحی یعنی میں تمہیں قرآن کے ذریعے ڈراتا ہوں۔ ولا یسمع الصم الدعآء یعنی اللہ تعالیٰ جن کے دل کو بہرہ کردیتا ہے اور جن کے کانوں پرم مہر لگا دیتا ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے وہ آیات کو سمجھنے اور حق کو سننے سے اندھے اور بہرے ہوجاتے ہیں۔ ابو عبد الرحمن سلمی اور محمد بن سمیقع نے یسمع یاء مضمومہ اور میم کے فتحہ کے ساتھ مجہول کا صیغہ پڑھا ہے۔ الصم کو مرفوع پڑھا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ انہیں نہیں سناتا۔ ابن عامر اور سلمی، ابو حیوہ اور یحییٰ بن حرث نے لا تمبع تاء مضمومہ اور میم کے کسرہ کے ساتھ اور الصم کو منصوب پڑھا ہے۔ یعنی اے محمد ! ﷺ آپ بہروں کو آواز نہیں سناتے۔ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے۔ اس قرات کو بعض اہل لغت نے رد کیا ہے اور کہا : پھر یہ کہنا واجب تھا اذا ما تنذرھم۔ نحاس نے کہا : یہ جائز ہے کیونکہ معنی معروف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولئن مستھم نفحۃ من عذاب ربک۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : نفحۃ سے مراد طرف ہے۔ قتادہ نے کہا : عقوبت ہے۔ ابن کیسان نے کہا : تھوڑی اور ادنی شی مراد ہے یہ نفح المسک سے ماخوذ ہے۔ شاعر نے کہا : وعمرۃ من سراوت النساء تنیح بالمسک اردانھا ابن جریج نے کہا : اس سے مراد حصہ ہے جیسا کہا جاتا ہے : نفح فلان لفلان من عطائہ جب کوئی کسی کو مال کا ایک حصہ عطا کرے۔ شاعر نے کہا : لما أتیتک أرجو فضل نائلکم نفحتنی نفحۃ طابت لھا العرب یعنی اس کا نفس خوش ہوا۔ لغت میں النفحہ کا معنی دفعۃ یسیرہ ہے یعنی اگر انہیں عذاب کا ایک جھونکا بھی چھولے۔ لیقولن یویلنا ان کنا ظلمین۔ یعنی ہم ہی حد سے تجاوز کرنے والے تھے۔ وہ اس وقت اعتراف کریں گے جب ان کا اعتراف نفع بخش نہ ہوگا۔
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاحاضر کریں گے اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و نضع الموازین القسط لیوم القیمۃ فلا تظلم نفس شیئا الموازین جمع ہے میزان کی۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ بظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ہر مکلف کے لیے ایک میزان ہوگا جس کے ذریعے اس کے اعمال کا وزن کیا جائے گا پس نیکیوں کو ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور برائیوں کو ایک پلڑے میں رکھا جائے گا۔ بعض نے فرمایا : یہ بھی جائز ہے کہ وہاں ایک عامل کے لیے بہت سے میزان ہوں ان میں سے ہر میزان کے ساتھ اس کے اعمال کی ایک قسم کا وزن کیا جائے گا جیسا کہ شاعر نے کہا : ملک تقوم الحادثات لعدلہ فلکل حادثۃ لھا میزان اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک میزان ہوا سے جمع کے لفظ تے تعبیر کیا گیا ہو۔ الکانی حافظ ابو القاسم نے اپنی سنن میں حضرت انس سے روایت کیا ہے اور حضرت انس نے اسے مرفوع ذکر کیا ہے کہ ” ایک فرشتہ میزان پر مقرر ہوگا۔ ابن آدم کو لایا جائے گا تو اسے میزان کے دونوں پلڑوں کے درمیان روکا جائے گا اگر اس نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوگا تو وہ فرشتہ بلند آواز سے ندا دے گا جسے ساری مخلوق سن لے گی : سعد فلاتن سعادۃ لا یشقی بعدھا ابدا فلاں ایسی سعادت سے مشرف ہوا کہ اس کے بعد کبھی بد بخت نہ ہوگا ن اور اگر اس کی نیکیوں والا پلڑا ہلکا ہوا تو فرشتہ ندا دے گا فلاں ایسی شقاوت کے ساتھ شقی ہوا کہ اس کے بعد کبھی سعادت مند نہ ہوگا “۔ (1) حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے فرمایا : قیامت کے روز صاحب میزان جبریل ہوگا “۔ بعض علماء نے فرمایا : میزان کے دو پلڑے ہوں گے دھاگے ہوں ایک اس کی زبان ہوگی اور ترازو کا عمود ہوگا۔ ان کی وجہ سے میزان کو جمع ذکر کیا گیا ہے۔ مجاہد، قتادہ اور ضحاک نے کہا : میزان کا ذکر ایک مثال ہے وہاں کوئی میزان نہ ہوگا مراد عدل ہے اور جس پر اخبار وارد ہیں اور جو سواد اعظم کا نظریہ ہے وہ پہلا قول ہے۔ اس کا بیان سورة اعراف اور سورة کہف میں گزر چکا ہے۔ ہم نے کتاب التذکرہ میں تفصیلاً اس پر گفتگو کی ہے۔ القسط کا معنی عدل ہے یعنی وہ کمی اور ظلم نہ ہوگا جس طرح دنیا کے وزن میں ہوتا ہے۔ القسط موازین کی صفت ہے مفرد اس لیے ہے کیونکہ یہ مصدر ہے کہا جاتا ہے : میزان قسط، میزانان قسط، موازین قسط، جیسے رجال عدل و رضا۔ ایک جماعت نے القصط پڑھا ہے۔ لیوم القیمۃ یعنی اہل قیامت کے لیے۔ بعض نے فرمایا : فی یوم القیامۃ قیامت کے دن۔ فلا تظلم نفس شیئا محسن کے احسان میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور کسی مجرم کے جرم میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ وان کان مثقال حبۃ من خر دل، نافع، شیبہ اور ابو جعفر نے مثقال حبۃ یہاں رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة لقمان میں اس معنی پر کہ اگر واقع ہو یا حاضر ہو۔ پس اس صورت میں کان تامہ ہوگا اور خبر کا محتاج نہیں ہے۔ باقی قراء نے مثقال کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس معنی پر کہ ان کان العمل او ذالک الشئی مثقال۔ مثقال الشی اس کی مثل کا میزان۔ اتینا بھا الف مقصورہ جمہور کی قرأت ہے یعنی ہم انہیں حاضر کریں گے اور ہم انہیں جزا دینے کے لیے یا سزا دینے کے لیے لے آئیں گے۔ ھاضمیر سے مراد حبۃ ہے۔ اگر بہ ہوتا تو بھی جائز ہوتا۔ بعض علماء نے فرمایا : مثقال الحبۃ، حبۃ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اسی وجہ سے فرمایا : اتینا بھا مجاہد اور عکرمہ نے آتینا مد کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کا معنی ہے جازینابھا ہم اس کے ساتھ انہیں جزا دیں گے۔ کہا جاتا ہے : آتی یواتی مواتاہ۔ وکیف بنا حسبین خیرو شر میں سے جو انہوں نے آگے بھیجا اس پر جزا دینے والے۔ بعض علماء نے فرمایا : حسبین یعنی کوئی ہم تے جلدی حساب لینے والا نہیں۔ الحساب کا معنی شمار کرنا ہے۔ ترمذی نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے سامنے بیٹھا اور عرض کی : یارسول اللہ ﷺ میرے غلام ہیں جو مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں اور مجھ سے خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں، میں انہیں گالیاں دیتا ہوں اور انہیں سزا دیتا ہوں میں ان میں سے کیسا ہوں ؟ فرمایا : ” جو وہ خیانت کرتے ہیں، نافرمانی کرتے ہیں اور تجھ سے جھوٹ بولتے ہیں اب سب کا ان سب سے محاسبہ ہوگا اور تیرا انہیں سزا دینا اگر تو ان کے جرم کے مطابق ہے تو یہ برابر گا نہ تیرے حق میں ہوگا نہ تیرے خلاف ہوگا اور اگر تیری سزا ان کے جرم سے کم ہوگی تو تیرے لیے فضل ہوگا اگر تیری سزا ان کے جرم سے زیادہ ہوگی تو زیادتی کا تجھ سے بدلہ لیا جائے گا “۔ فرمایا : وہ شخص پیچھے ہٹا اور زور زور سے رونے لگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کیا تو کتاب اللہ پڑھتا ہے۔ و نضع الموازین القسط لیوم القیمۃ فلا تظلم نفس شیئا۔ اس شخص نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں اپنے لیے اور ان کے لیے ان کو جدا کرنے سے بہتر کوئی چیز نہیں دیکھتا میں آپ کو گواہ بناتا ہو کہ یہ تمام آزاد ہیں (1 ) ۔ یہ حدیث غریب ہے۔
Ayahs 21:48–50

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو (ہدایت و گمراہی میں) فرق کردینے والی اور (سرتاپا) روشنی اور نصیحت (کی کتاب) عطا کی (یعنی) پرہیزگاروں کے لئے

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو ؟

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد اتینا موسیٰ و ھرون الفرقان و ضیاء حضرت ابن عباس ؓ اور عکرمہ نے الفرقان و ضیآء حال کی بناء بغیر واو کے پڑھا ہے۔ فراء کا خیال ہے کہ واو حذف کرنا اور نہ کرنا ایک جیسا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انا زینا السماء الدنیا بزینۃ الکواکب۔ و حفظا (الصافات :6) یعنی حفظاً اس قول کا زجاج نے رد کیا ہے انہوں نے فرمایا : واو ایک معنی کے لیے ہوتی ہے پس اسے زیادہ نہیں کیا جائے گا۔ فرمایا : الفرقان سے مراد تورات ہے کیونکہ ان میں حرام اور حلال کے درمیان فرق ہے۔ فرمایا : وضیائً فیہ ھذی و نور کی مثل ہے۔ ابن زید نے کہا : فرقان سے مراد دشمنوں پر مدد ہے، اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : مآانزلنا علی عبدنا یوم الفرقان (الانفال :41) یعنی بدر کے دن۔ ثعلبی نے کہا : یہ قول ظاہر آیت کے زیادہ مشابہ ہے، الضیاء میں واو کے دخول کی وجہ سے۔ پس آیت کا معنی یہ ہوگا ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نصرت اور تورات عطی کی جو روشنی اور نصیحت ہے۔ للمنقین۔ الذین یخشون ربھم بالغیب عین غائبین کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا بلکہ انہوں نے نظر و استدلال کے ذریعے پہچانا کہ ان کے لیے رب ہے جو قادر ہے اعمال پر جزا دے گا وہ اپنے دل میں اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور خلوتوں میں بھی خشیت ظاہر رہتی ہے جہاں وہ لوگوں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ وھم من الساعتہ توبہ سے پہلے قیامت ہے۔ میفقون۔ ڈرتے رہتے ہیں۔ وھذا ذکر مبرک انزلنہ اس سے مراد قرآن ہے۔ افانتم لہ اے معثر عرب منکرون۔ تم انکار کرتے ہو کہ قرآن معجزہ ہے اس کی مثل لانے پر تم قادر نہیں ہو۔ فراء نے کہا : وھذا ذکر مبرک انزلنہ بمعنی انزلنا مبارکا ہے، ہم نے اسے برکت والا نازل کیا۔
Ayah 21:51

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم ان کے حال سے واقف تھے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد اتینآ ابرھیم رشدہ فرائے نے کہا : ہم نے ابراہیم کو اپنی ہدایت عطا کی، من قبل نبوت سے پہلے یعنی ہم نے اسے غور و فکر کرنے کی توفیق بخشی جب اس پر تاریک ہوئی تو انہوں نے چاند، سورج اور ستارے کو دیکھا۔ بعض نے فرمایا : من قبل سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون سے پہلے۔ نبوت پر دانشمندی۔ پہلا قول اکثر مفسرین کا ہے۔ جس طرح یحییٰ کو فرمایا : و اتینہ الحکم صبیا۔ (مریم) قرطبی نے کہا : رشدہ سے مراد اس کی اصلاح ہے۔ و کنا بہ علمین۔ یعنی ہم جانتے تھے کہ وہ رشد کے عطا کرنے کے اہل تھے اور نبوت کی صلاحیت رکھتے تھے۔
Ayahs 21:52–56

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ یہ کیا مورتیں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (و قائم ہو) ؟

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ ہم اپنے باپ داد کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا کہ تم بھی (گمراہ ہو) اور تمہارے باپ داد بھی صریح گمراہی میں پڑے رہے

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس (واقعی) حق لائے ہو یا (ہم سے) کھیل (کی باتیں) کرتے ہو ؟

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ تمہارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے، جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور میں اس (بات) کا گواہ (اور اسی کا قائل) ہوں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذ قال لابیہ بعض علماء نے فرمایا : یعنی تو یاد کر جب اس نے اپنے باپ کو کہا۔ پس کلام وکنا بہ علمین پر مکمل ہوگی۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے ہم جانتے تھے جب انہوں نے کہا۔ اس مفہوم پر کلام متصل ہوگی اور عالمین پر وقف نہ گا لابیہ سے مراد آزر ہے۔ قومہ نمرود اور اس کے پیروکار۔ ما ھذہ التماثیل اس سے مراد مورتیاں ہیں۔ التماثیل ہر اس شی کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے مشابہ بنائی گئی ہو۔ کہا جاتا ہے : مثلث الشئی بالشئی میں نے ایک چیز کو دوسری چیز سے مشابہت دی۔ اس ممثل کا اسم تماثل ہے۔ التی انتم لھا عکفون۔ یعنی تم ان کی عبادت پر قائم ہو۔ قالوا وجدنا لھا عبدین۔ ہم اپنے اسلام کی تقلید میں ان کی عبادت کرتے ہیں۔ قال لقد کنتم انتم و ابائو کم فی ضلل مبین۔ ان کی عبادت کی وجہ سے گمراہی میں ہیں، کیونکہ یہ جمادات ہیں جو نہ نفع دیتے ہیں نہ نقصان اور نہ کچھ جانتے ہیں۔ قالوا اجئتنا بالحق یعنی کیا تو حق کو لانے والا ہے اپنی بات میں ؟ ام انت من العبین۔ یا تو مزاح کرنے والا ہے۔ قال بل ربکم رب السموات والارض میں مزاح کرنے والا نہیں ہوں بلکہ تمہارا پروردگار اور تمہاری تدبیر کو قائم کرنے والا آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ الذی فطر ھن جس نے انہیں پیدا کیا۔ وان علی ذلکم من الشھدین۔ میں گواہ ہوں کہ وہ آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ شاھد حکم کو بیان کرتا ہے : اسی سے ہے شھد اللہ (آل عمران :18) اللہ نے بیان کیا معنی یہ ہے کہ میں جو کہتا ہوں دلیل ہے، بیان کرتا ہوں۔
Ayah 21:57

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور خدا کی قسم جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے بتوں سے ایک چال چلوں گا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و تا للہ لا کی دن اصنامکم بتایا کہ حضرت ابراہم نے زبانی حجت پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کے بتوں کو توڑا آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر وثوق تھا اور دین کے دفاع میں تکلیف برداشت کرنے پر نفس مطمئن تھا۔ تا للہ میں تا اللہ تعالیٰ کے اسم کے ساتھ قسم اٹھانے میں مختص ہے وائو ہر ظاہر اسم کے ساتھ مختص ہے اور باء ظاہر و ضمیر کے ساتھ استعمال ہوتی ہے۔ شاعر نے کہا : تا للہ یبق علی الایام ذوحید بمشمخر بہ الظیان و الاس حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ کی حرمت کی قسم ! میں تمہارے بتوں کا بندوبست کروں گا۔ میں ان کے ساتھ ضرور مکر کروں گا۔ الکید کا معنی مکر ہے۔ کا دہ یکیدہ کیدا و مکیدۃ اسی طرح المکایدۃ ہے جنگ کو کید کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے : غزا فلان فلاں نے جنگی کی لیکن لڑائی کو نہ پایا۔ ہر وہ چیز جس کا تو برا ارادہ کرے تو اس کے لیے کہا جاتا ہے : أنت تکیدہ۔ بعد ان تولو مدبرین۔ یعنی تمہارے چلے جانے کے بعد۔ ان کی ہر سال عید ہوتی تھی جس میں وہ جمع ہوتے تھے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا : اگر تو ہمارے ساتھ ہماری عید کی طرف نکلے تو تو ہمارے دین کو پسند کرے گا، یہ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے جیسا کہ اس کا بیان سورة الصافات میں آئے گا۔ حضرت ابراہیم نے دل میں کہا : تا للہ لا کی دن اصنامکم میں تمہارے بتوں کا بندوبست کروں گا۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا : یہ حضرت ابراہیم نے اپنی قوم سے چھپا کر کہا تھا اس کو صرف ایک آدمی نے سنا تھا اور اسی نے آپ کا یہ راز افشا کیا تھا۔ ایک کی خبر کو جمع کے لفظ کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے جب دوسرے لوگ اس کی خبر پر راضی ہوں، جیسے اس آیت میں ہے : یقولون لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعز منھا الاذل (المنافقون :8) بعض علماء نے فرمایا : یہ آپ نے قوم کے نکلنے کے بعد کہا تھا۔ اور ان میں سے صرف وہ کمزور لوگ باقی تھے جنہوں نے آپ کی بات کو سنا تھا۔ حضرت ابراہیم نے ان سے پیچھے رہنے کا حیلہ کیا فرمایا : انی سقیم۔ (الصا افا) یعنی میں حرکت کرنے میں کمزور ہوں۔
Ayah 21:58

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

پھر ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا مگر ایک بڑے (بت) کو (نہ توڑا) تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فجعلھم جذ ذا ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ الجذو الذاذ جو توڑا گیا ہو۔ ضمہ، کسرہ سے افصح ہے، یہ جوہری کا قول ہے۔ کسائی نے کہا : سونے کے پتھروں کو جذاذ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ کسائی، اعمش اور ابن محیص نے جذا ذجیم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ جذیز کی جمع ہے۔ ریزہ ریزہ جیسے خفیف کی جمع خفاف اور ظریف کی جمع ظراف آتی ہے۔ شاعر نے کہا : جذذ الاصنام فی محرابھا ذاک فی اللہ العلی المقتدر باقی قراء نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم نے اس کو اختیار کیا ہے جیسے الحطام اور الزفات وغیرہ یہ جذاذۃ کی جمع ہے یہ وہ کید ہے جس کی آپ نے قسم اٹھائی تھی کہ آپ ضرور ایسا کریں گے۔ فرمایا : فجعلھم کیونکہ قوم کا اپنے بتوں کے بارے الہ (خدا) ہونے کا عقیدہ تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ ابو نہیک اور ابو السمال نے دذاذ جیم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے فتح اور کسرہ دونوں لغتیں ہیں، جیسے الحصاد اور الحصاد۔ ابو حاتم نے کہا : فتحہ، کسرہ اور ضمہ ہم معنی ہیں، یہ قطرب نے حکایت کیا ہے۔ الا کبیراً لھم حجم میں بڑا خدا۔ حضرت ابراہیم نے بڑے بت کو نہیں توڑا تھا۔ سدی اور مجاہد نے کہا : آپ نے بڑے بت کو چھوڑ دیا اور اس ہتھوڑے کو اس کی گردن میں لٹکا دیا جس کے ساتھ دوسرے بتوں کو توڑا تھا تاکہ اس کے ذریعے ان پر حجت قائم کریں۔ لعلھم الیہ شاید حضرت ابراہیم اور اس کے دین کی طرف یرجعون۔ لوٹیں جب ان پر حجت قائم ہوجائے۔ بعض نے کہا : الیہ کی ضمیر کی مرجع بڑا بت ہے۔ یرجعون ان کے توڑنے میں۔
Ayahs 21:59–63

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا ؟ وہ تو کوئی ظالم ہے

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

لوگوں نے کہا کہ ہم نے ایک جوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اس کو ابراہیم کہتے ہیں

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

وہ بولے کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ وہ گواہ رہیں

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

(جب ابراہیم آئے تو بت پرستوں نے) کہا کہ ابراہیم ! بھلا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کیا ہے ؟

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ یہ ان کے اس بڑے (بت) نے کیا (ہوگا) اگر یہ بولتے ہوں تو ان سے پوچھ لو

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالو من فعل ھذا با لھتنا انہ لمن الظلمین۔ جب وہ اپنے میلے سے لوٹ کر آئے اور ان کے بتوں کا جو حشر ہوچکا تھا تو بحث و انکار کی حجت سے یہ کہا : من فعل۔ الخ، بعض نے فرمایا : من استفہامیہ نہیں بلکہ یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر لمن الظلمین ہے یعنی ایسا کرنے والا ظالم ہے۔ پہلا قول اصح ہے کیونکہ ارشاد ہے : سمعنا فتی یذکرھم یہ من فعل ھذا کا جواب ہے۔ قالوا میں ضمیر ان کمزور لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے حضرت ابراہیم کی بات سنی تھی یا وہ ایک شخص ہے جس نے آپ کا جملہ سنا تھا۔ یذکرھم کا معنی ہے وہ انہیں عیب لگاتا ہے اور انہیں برا بھلا کہتا ہے۔ شاید اس نے یہ کیا ہو۔ ابراہیم پر رفع کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ زجاج نے کہا : یقال لہ ابراھیم۔ کے معنی پر مرفوع ہے اس صورت میں مبتدا محذوف کی خبر ہوگا اور جملہ محکیہ ہوگا اور یہ بھی جائز ہے کہ ندا کی بنا پر مرفوع ہو اور ضمہ مبنی ہونے کی بنا پر ہوا اور نائب الفاعل کے قائم مقام ہو۔ اور بعض نے کہا : اس کو رفع نائب الفاعل کی بنا پر ہے اس بنا پر ابراہیم مخصوص شخص پر دلالت کرنے والا نہ بنایا جائے بلکہ اس کے ساتھ بولنا اس لفظ کی بنا پر دلالت کرنے کے لیے ہو یعنی اس کے لیے یہ قول اور یہ لفظ بولا جاتا ہے جسا کہ تو کہتا ہے : زید فعل کے وزن پر ہے یا زید تین حرف ہیں۔ اور یہ کسی وجہ سے شخص پر دلالت نہیں کرتا بلکہ تو نے اسے قول اور کلام کے قائم مقام رکھا اس کے بعد فعل کو مجہول بنانے میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ یہ رفع میں ابن عطیہ کا اختیار ہے۔ استاذ ابو الحجاج اشبیل اعلم نے کہا : یہ اہمال کی بنا پر رفع ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : جب اس نے رفع کی وجوہ دیکھیں تو گویا وہ معنی واضح نہیں کر تیں جن کا انہوں نے قصد کیا ہے تو انہوں نے بغیر کسی چیز کے اس کو رفع دیا جیسا کہ عوامل سے خالی ہونے کی وجہ سے مبتدا کو رفع دیا جاتا ہے۔ الفتی کا معنی نوجوان ہے اور الفتاہ کا معنی جوان لڑکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر نوجوان (1) پھر یہ آیت پڑھی : سمعنا فتی یذکرھم اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالوا فوتو بہ علی اعین الناس۔ اس میں ایک مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ جب نمرود اور اس کے حواریوں کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے بغیر دلیل کے حضرت ابراہیم کو پکڑنا ناپسند کیا انہوں نے کہا : اسے لوگوں کے سامنے لے آئو تاکہ اسے دیکھیں۔ لعلھم یشھدون۔ تاکہ وہ اس کے خلاف گواہی دیں جو اس نے کہا ہے، تاکہ اس حجت قائم ہوجائے۔ بعض علماء نے فرمایا : لعلھم یشھدون تاکہ اس کے سزا کا مشاہدہ کریں تاکہ اس کے بعد اس جیسا کوئی اقدام نہ کرے یا یہ مطلب ہے کہ تاکہ لوگ گواہی دیں کہ انہوں نے یہ ان کے بتوں کو برا بھلا کہا ہے تاکہ وہ جان لیں کہ یہ سزا کا مستحق ہے۔ میں کہتا ہوں : اس دلیل ہے کہ کسی سے صرف کسی دعوی کا بنا پر مواخذہ نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاتوا بہ علی اعین الناس لعلھم یشھدون۔ ہماری شریعت میں بھی یہی عمل ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مسئلہ نمبر 1: جب سماع عام نہ تھا اور شہادت ثابت نہ تھی تو انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پوچھا : کیا انہوں نے یہ کیا ہے ای نہیں ؟ اس کلام میں حذف ہے یعنی ابراہیم آئے جب انہیں لایا گیا تو انہوں نے پوچھا : کیا تو نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کیا ہے ؟ حضرت ابراہیم نے ان پر حجت کرنے کے لیے یہ کہا : بل فعلہ، کبیرھم ھذا یہ دھوکا اور غضب ہے کہ اس کی اور اس کے ساتھ چھوٹے بتوں کی عبادت کی جائے پھر اس نے ان کے ساتھ یہ کیا ہوا اگر یہ بولتے ہیں تو ان سے پوچھو۔ بڑے بت کے فعل کو دوسروں کے بولنے کے ساتھ معلق کیا ہے انہیں ان کے بد عقیدہ پر تنبیہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے گویا فرمایا : بلکہ یہ اس بڑے نے کیا ہے اگر یہ بولتے ہیں۔ اس تاویل پر کلام میں تقدیم ہے۔ فسئلو ھم ان کانوا ینطقون۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ بلکہ بڑے نے کیا ہوگا اگر یہ بولتے ہیں یہ بیان کیا کہ جو بولتے نہیں ہیں اور کچھ جانتے بھی نہیں ہیں وہ عبادت کے مستحق نہیں ہیں۔ اس کا یہ قول تعریض تھا اور معارض۔ جھوٹ سے بچنے کے لیے ہوتی ہیں یعنی ان سے پوچھیے۔ اگر یہ بولتے ہیں تو وہ سچے ہیں اگر یہ نہیں بولتے تو وہ ایسا کرنے والا نہیں۔ اس کلام کے ضمن میں اعتراف ہے کہ وہ ایسا کرنے والا ہے۔ یہ صحیح ہے کیونکہ انہوں نے اپنے نفس پر اس کو شمار کیا۔ پس یہ دلیل ہے کہ آپ نے یہ کلام تعریض کی حیثیت سے ذکر کی ہے۔ یہ اس لیے کہ وہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے اللہ کو چھوڑ کر انہیں معبود بناتے تھے جیسا کہ حضرت ابراہیم نے اپنے رب سے کہا تھا : یابت لم تعبد مالا یسمع ولا یبصر (مریم :42) حضرت ابراہیم نے فرمایا : فل فعلہ، کبیرھم ھذا تاکہ وہ اپنی زبان سے اعتراف کریں کہ یہ بولتے نہیں یہ نہ نفع دیتے ہیں اور نہ نقصان دیتے ہیں۔ پس پھر انہیں آپ کہیں کہ تم ان کی عبادت کیوں کرتے ہو اور ان پر حجت قائم ہوجائے۔ اسی وجہ سے امت کے نزدیک خصم کے ساتھ باطل کا فرض کرنا جائز ہے تاکہ خصم خود ہی حق کی طرف لوٹ آئے کیونکہ یہ چیز حجت کے زیادہ قریب ہوتی ہے اور شبہ کو ختم کرنے والی ہوتی ہے جیسا کہ آپ نے اپنی قوم سے کہا : ھذا ربی (الانعام :77) ھذا ختی، انی سقیم۔ (الصافات) بل فعلہ کبیرھم ھذا، ابن سمیقع نے بل فعلہ لام کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ شاید ایسا کرنے والا ان کا بڑا ہو۔ کسائی نے کہا : بل فعلہ پر وقف ہوگا یعنی اس نے کیا جس نے کیا پھر کبیرھم ھذا سے نئی کلام ہوگی۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ان کے بڑے نے ایسا کیا ہے اس کا کیوں انکار کرتے ہیں۔ یہ خبر کے لفظ کے ساتھ الزام ہے یعنی جو ان کی عبادت کا اعتقاد رکھتا ہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ ان کے لیے فعل کا بھی اثبات کرے۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیز تمہیں لازم ہے اس کے اعتبار سے تو ان کے بڑے نے یہ عمل کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 2: بخاری، مسلم اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” حضرت ابراہم نے کبھی (بظاہر) بھی جھوٹ نہیں بولا (بظاہر) تین مواقع پر۔ آپ نے کہا : انی سقیم۔ (الصافات) اور حضرت سارہ کے متعلق کہا یہ میری بہن اور فرمایا : بل فعلہ کبیرھم (1) یہ ترمذی کے الفاظ ہیں۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں واقعہ معراج میں ہے فرمایا : ” ستارے کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : ھذا ربی (الانعام :77) اس بنا پر کذبات کی تعداد چار ہوگی لیکن نبی کریم ﷺ نے اس کی نفی کی فرمایا : ” ابراہیم (علیہ السلام) نے کبھی جھوٹ نہیں بولا مگر بظاہر تین مواقع پر دو مواقع پر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے تھا۔ فرمایا : انی سقیم۔ (الصافات) اور بل فعلہ کبیرھم اور ایک سارہ کے بارے تھا “۔ یہ الفاظ مسلم کی حدیث کے ہیں۔ ستارے کے بارے میں جو کہا تھا : ھذا ربی (الانعام :77) یہ بھی کذب میں داخل ہے لیکن اس کو کذب شمار نہیں کیا کیونکہ آپ نے بچپن میں کیا تھا جب کہ آپ مکلف نہ تھے یا آپ نے توبیخ و انکار کے بنا پر ان سے سوالیہ انداز میں یہ کہا اور ہمزہ استفہام حذف کیا گیا یا اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے کہا : اس بات پر تنبیہ کرتے ہوئے کہ جو متغیر ہوتا ہے وہ رب ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہ تمام وجوہ سورة الانعام میں واضح طور پر گزر چکی ہیں۔ الحمد اللہ۔ مسئلہ نمبر 3: قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : اس حدیث میں ایک عظیم نکتہ ہے جو پیٹھ کو توڑ دیتا ہے وہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” حضرت ابراہم نے جھوٹ بولا مگر بظاہر تین صورتوں میں دو ایسی صورتیں تھیں جن سے انہوں نے اپنے دین کا دفاع کیا وہ یہ تھیں آپ نے فرمایا : انی سقیم۔ (الصافات) اور فرمایا : بل فعلہ کبیرھم “ اور ھذا ختی (سارہ میری بہن ہے) کو ذات الہٰی میں شمار نہیں کیا اگرچہ انہیں آپ نے مجبور ہونے کی صورت میں جابر بادشاہ کے پاس بھیجا تھا لیکن اس میں چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنی فراش کے حفاظت اور اپنے گھروالوں کی حمایت کا کچھ حصہ تھا تو اسے اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے نہیں بنایا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے صرف وہ عمل ہوتا ہے جو خالصۃ اللہ کی رضا کے لیے ہو اور دنیا کے ثواب سے پاک ہو اور وہ معاریض (ایسی کلام جس کو سننے والا اور مفہوم میں سمجھے اور متکلم کا ارادہ کچھ اور ہو) جو نفس کی طرف لوٹتی ہیں جب وہ خالص دین کے لیے ہوں تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الا للہ الدین الخالص (الزمر :3) یہ اگر ہماری طرف سے صادر ہوں تب بھی اللہ تعالیٰ کے لیے ہوں لیکن حضرت ابراہیم کا مقام بلند اسی بات کا مقتضی ہے۔ مسئلہ نمبر 4: ہمارے علماء نے فرمایا : کذب (جھوٹ) کا مطلب ہے کسی چیز کے باے میں ایسی خبر دینا جو اس کی حقیقت کے خلاف ہو۔ ظاہر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قول تعریض اور توریہ تھا۔ معاریض، حسنات اور حجج اور دلالات جائز ہوتی ہیں لیکن مرتبہ کی کمی میں موثر ہوتی ہیں اور محمود مرتبہ سے کم کردیتی ہیں اور ان کا قائل ان سے احیا کرتا ہے جیسا کہ حدیث شفاعت میں وارد ہے انبیاء کرام ایسی باتوں سے ڈرتے ہیں جن سے دوسرے لوگ نہیں ڈرتے۔ (1) یہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتا ہے کیونکہ وہ ذات جو نبوت اور خلت کے مرتبہ پر فائز ہے وہ حق کو واضح کرے اور امر کا صراحۃ بیان کرے جیسا بھی ہو لیکن انہیں رخصت دی گئی تھی تو انہوں نے رخصت کر قبول کرلیا تھا پس ان کے قصہ میں یہی ہوا تھا اسی وجہ سے حدیث شفاعت میں ہے : انما أتحذت خلیلا من وراء وراء وراء مبنی ہونے کی وجہ سے منصوب ہے جیسے خمسۃ عشر ہے اور جس طرح عرب کہتے ہیں : جاری بیت بیت اور مسلم کے بعض نسخوں میں من ورای من ورای، من کے اعادہ کے ساتھ ہے اس صورت میں مبنی بر فتحہ جائز نہیں ان میں سے ایک مبنی پر ضمہ ہوگا کیونکہ مقطوع الاضافہ ہے اور مضاف کے نیت کی گئی ہے جیسے : قبل و بعد میں ہوتا ہے اور اگر مضاف کی نیت نہ ہو تو معرب ہوتا ہے اور منون ہوتا ہے لیکن وراء غیر منصرف ہے کیونکہ اس کی الف تانیث کے لیے ہے کیونکہ عرب اس کی تصغیر میں ورئیۃ کہتے ہیں۔ جوہری نے کہا : یہ شاذ ہے اس بنا پر من کے موجود ہونے کے ساتھ ہی دونوں میں فتحہ ہو صحیح ہوگا۔ معنی یہ ہے کہ میں خلیل تھا جو دوسروں سے پیچھے تھا۔ اس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ خلت اپنے کمال کے ساتھ صحیح نہیں ہے مگر اس کے لیے اس دن مقام محمود پر فائز ہونا صحیح ہوگا جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، وہ ہمارے نبی کریم ﷺ ہیں۔
Ayah 21:64

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

انہوں نے اپنے دل میں غور کیا تو آپس میں کہنے لگے بیشک تم ہی بےانصاف ہو

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فرجعوا الی انفسھم یعنی وہ ایک دوسرے کی طرف اس طرح لوٹے جس طرح وہ شخص رجوع کرتا ہے جس کے پاس دلیل باقی نہیں رہتی اور اپنے مقابل کی حجت کی صحت کو سمجھ لیتا ہے۔ پس انہوں نے کہا : تم ہی ظالم ہو یعنی ایسی مورتیوں کی عبادت کر کے تم ظلم کرتے ہو جو ایک لفظ بول نہیں سکتی ہیں۔ اور ایک لمحہ کے لیے اپنے آپ کی مالک نہیں ہیں۔ وہ اپنے عبادت گزاروں کو کیسے نفع دیں گے اور ان سے تکلیف کو کیسے دور کریں گی جو اپنے سر سے ہتھوڑے کے وار کو دور نہ سکیں۔
Ayahs 21:65–73

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر (شرمندہ ہو کر) سرنیچا کرلیا (اس پر بھی ابراہیم سے کہنے لگے کہ) تم جانتے ہو یہ بولتے نہیں

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا پھر تم خدا کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہو جو تمہیں نہ کچھ فائدہ دے سکیں اور نہ نقصان پہنچاسکیں ؟

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تف ہے تم پر اور جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو ان پر بھی، کیا تم عقل رکھتے ؟

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

(تب وہ) کہنے لگے کہ اگر تمہیں (اس سے اپنے معبود کا انتقام لینا اور) کچھ کرنا ہے تو اس کو جلادو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

ہم نے حکم دیا اے آگے سرد ہوجا اور ابراہیم پر (موجب) سلامتی (بن جا)

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

ان لوگوں نے برا تو ان کا چاہا تھا، مگر ہم نے انہی کو نقصان میں ڈال دیا

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور ابراہیم اور لوط کو اس سرزمین کی طرف بچانکالا جس میں ہم نے اہل عالم کے لئے برکت رکھی ہے

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق عطا کئے اور مستزاد براں یعقوب اور سب کو نیک بخت کیا

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ان کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کو نیک کام کرنے اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم بھیجا اور وہ ہماری عبادت کیا کرتے تھے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم نکسوا علی رئو سھم یعنی وہ پانی جہالت اور عناد کی طرف لوٹ گئے انہوں نے کہا : لقد علمت ما ھولاء ینطقون۔ تو حضرت ابراہیم نے ان کے بکواسات کو توڑتے ہوئے اور ان کی غلط باتوں کا قلع قمع کرتے ہوئے کہا : افتعبدون من دون اللہ مالا ینفعکم شیئا ولا یضرکم۔ اف لکم، تف ہے تہمارے لیے۔ ولما تعبدون من دون اللہ، افلا تعقلون۔ بعض نے فرمایا : ثم نکسوا علی رئوسھم کا معنی ہے حضرت ابراہیم کے سامنے شرمندگی اور خجالت کی وجہ سے انہوں نے سر جھکا دیئے۔ اس میں نظر ہے کیونکہ اگر یہ معنی ہوتا تو عبارت یوں ہوتی نکسوا رئو وسھم کاکے فتحہ کے ساتھ بلکہ یہاں کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے تو اس کا مطلب ہے وہ اپنے پہلے امر کی طرف لوٹ گئے۔ اسی طرح حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ان کو شقاوت نے گھیر لیا اور اپنے کفر کی طرف لوٹ گئے۔