13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسکو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے۔ اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔

آیت نمبر 39 قولہ تعالیٰ : یمحوا اللہ ما یشآء ویثبت یعنی اس کتاب سے جس کو چاہتا ہے وہ اس کے اہل پر واقع ہو اور اس کو پہنچے تو اسے مٹاتا ہے ویثبت جس کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے یعنی اس کے وقت تک اس کو مؤخر کردیتا ہے۔ محوت الکتاب محوا کہا جاتا ہے یعنی میں نے اس کا اثر ختم کردیا۔ ویثبت یعنی یثبتہ جس طرح اللہ کا ارشاد : والذکرین اللہ کثیرا والذکرت (الاحزاب) یعنی والذاکرات اللہ۔ ابن کثیر، ابو عمرو اور عاصم نے ویثبت تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، اور باقیوں نے مشدد پڑھا ہے، یہی حضرت ابن عباس ؓ کی قرات ہے اور زیادہ لوگوں کی قرأت ہونے کی وجہ سے ابو حاتم نے اور ابو عبیدہ نے بھی اسے ہی اختیار کیا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کا ایک اور ارشاد دلیل بھی ہے : یثبت اللہ الذین امنوا (ابراہیم :27) ابن عمر نے کہا : میں نے حضرت محمد ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) باقی رکھتا ہے سوائے سعادت، بدبختی اور موت کے “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سوائے چند اشیاء کے جس کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور باقی رکھتا ہے، تخلیق، اخلاق، موت، رزق، سعادت اور شقاوت۔ آپ ہی سے مروی ہے : سوائے ام الکتاب کے یہ دو کتابیں ہیں، ان دونوں میں سے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور باقی رکھتا ہے، تخلیق، اخلاق، موت، رزق، سعادت اور شقاوت۔ آپ ہی سے مروی ہے : سوائے ام الکتاب کے یہ دو کتابیں ہیں، ان دونوں میں سے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور باقی رکھتا ہے، وعندہ ام الکتب وہ جس میں سے کوئی چیز تبدیل نہیں ہوتی۔ قشیری نے کہا : کہا جاتا ہے کہ سعادت، شقاوت، تخلیق، اخلاق اور رزق میں کوئی تبدیلی نہیں، لہٰذا آیت کریمہ ان چیزوں کے علاوہ کے بارے میں ہے اور اس قسم میں گویا تحکم کی صورت پائی جاتی ہے۔ میں (قرطبی) نے کہا : اس قسم کی چیزوں کی رائے اور اجتہاد کے ذریعے نہیں جانا جاسکتا بلکہ یہ تو حقیقی ہوتی ہیں، پس اگر یہ صحیح ہے تو اس کے مطابق قول لازم ہوتا ہے اور اس کے ہاں روک دیا جاتا ہے ورنہ آیت تمام چیزوں کو عام ہوگی، اور یہی زیادہ ظاہر ہے۔ اللہ اعلم۔ اور یہ معنی حضرت عمر بن خطاب، حضرت ابن مسعود، حضرت ابو وائل، حضرت کعب احبار اور دیگر صحابہ ؓ سے مروی ہے، اور یہی کلبی کا قول ہے۔ حضرت ابو عثمان نہدی ؓ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے : یا اللہ ! اگر تو نے مجھے سعادت مندوں میں لکھ دیا ہے تو مجھے ان میں ثابت رکھ اور اگر اہل شقاوت اور گناہگاروں میں لکھ دیا ہے تو مجھے ان میں سے مٹا دے اور اہل سعادت و مغفرت میں لکھ دے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے عرض کیا : یا اللہ ! اگر تو نے مجھے سعادت مندوں میں لکھا ہے تو ان میں مجھے باقی رکھو، اور اگر بدبختوں میں لکھا ہے تو مجھے ان میں سے مٹا دے اور سعادت مندوں میں لکھ دے، بیشک تو جس کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جس کو چاہے باقی رکھتا ہے، اور تیرے پاس ام الکتاب ہے۔ اور حضرت ابو وائل اکثر دعا مانگتے تھے : یا اللہ ! اگر تو نے ہمیں بد بختوں میں لکھا ہوا ہے تو مٹادے اور سعادت مندوں میں لکھ دے، اور اگر سعادت مندوں میں لکھا ہوا ہے تو باقی رکھ، بیشک تو جس کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور باقی رکھتا ہے، حضرت کعب نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو کہا : اگر اللہ کی کتاب میں آیت نہ ہوتی تو قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے میں تجھے اس سے ضرور آگاہ کردیتا، آیت سے مراد یمحوا اللہ ما یشآء و یثبت، وعندہ ام الکتب۔ حضرت مالک بن دینار نے جس عورت کے متعلق دعا کی تھی (یہی کہا تھا): اے اللہ ! اگر اس کے پیٹ میں بچی ہے تو اسے بچے میں تبدیل فرما بیشک تو جس کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے اور تیرے پاس ام الکتب ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت گزر چکی ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا : میں نے رسول ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ اس کے رزق میں وسعت کی جائے اور اس کی موت میں تاخیر کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے “۔ اسی طرح کی روایت حضرت انس بن مالک ؓ سے بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : من احب جس کو یہ بات پسند ہے۔ باقی حدیث بعینہ وہی ہے یعنی پہلی روایت میں من سرہ کے الفاظ ہیں جبکہ اس میں من احب کے علاوہ باقی الفاظ میں کوئی فرق نہیں۔ اس کی دو تاویلیں ہیں ایک معنوی تاویل ہے، وہ یہ ہے کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو اچھی تعریف، عمدہ ذکر اور اجر متکرر میں سے اس کے بعد باقی رہ جائیں گی، تو ایسا ہوگا کہ گویا وہ مراہی نہیں۔ اور دوسری تاویل یہ ہے کہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی اجل اور وہ اجل جس کے بارے میں اللہ کے علم میں یہ تھا کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اس کو مؤخر کردیا جاتا ہے۔ جس طرح اللہ کا ارشاد : یمحوا اللہ ما یشآء ویثبت، وعندہ ام الکتب ہے۔ جب حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے حدیث صحیح روایت کی کہ آپ نے فرمایا :” جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی عمر اور اجل لمبی ہوجائے اور اس کے رزق میں اضافہ کردیا جائے تو وہ اللہ سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے “۔ تو کہا گیا کہ عمر اور اجل میں کیسے اضافہ کیا جاتا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ عزو جل نے فرمایا : ھو الذی خلقکم من طین ثم قضی اجلا، واجل مسمی عندہ (الانعام :2) وہ وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر اجل کا فیصلہ کیا اور اجل اس کے ہاں مقرر ہے۔ پہلی اجل بندے کی وہ اجل ہے جو اس کی ولادت سے لیکر وفات تک ہوتی ہے جب کہ دوسری اجل یعنی جو اللہ کے ہاں مقرر ہے وہ بندے کی وفات سے لیکر اس دن تک ہے جس دن برزخ میں اس کی ملاقات ہوگی اس کے سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا، جب بندہ تقوی اختیار کرے اور صلہ رحمی کرے تو اللہ تعالیٰ بندے کی برزخ کی اجل سے پہلی عمر کی مدت میں جتنا چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے اور اگر وہ نافرمانی کرے اور قطع رحمی کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا میں جتنی چاہتا ہے عمر کم کرتا ہے، اور اس کی برزخی زندگی کی مدت میں اضافہ فرما دیتا ہے۔ اور جب اللہ کے علم میں اس کی سابق اجل حتمی ہو تو پھر زیادتی اور کمی ممتنع ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذا جآء اجلھم لایستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون۔ (الاعراف) یعنی جب اس کی اجل آجائے گی تو نہ ایک لمحہ تاخیر سے آئے گی اور نہ ہی پہلے۔ پس اس طرح حدیث اور آیت میں مطابقت ہوگئی۔ اور یہی نفس عمر اور اجل میں ظاہری لفظوں کے اعتبار سے اضافہ ہے اسی کو حبر الأمۃ نے اختیار کیا ہے، واللہ اعلم۔ مجاہد نے کہا : اللہ تعالیٰ سال کے معاملات کا رمضان المبارک میں قطعی فیصلہ فرما دیتا ہے پس جو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے سوائے زندگی و موت، اور شقاوت وسعادت کے، اس کے بارے میں پہلے گفتگو ہوچکی ہے۔ ضحاک نے کہا : اللہ تعالیٰ کراما کاتبین کے رجسٹروں سے ایسے امور جن کی کوئی ثواب و سزا نہیں ہوتی ان میں جن کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جن میں ثواب و عقاب ہوتا ہے ان کو باقی رکھتا ہے، اس کا معنی ابو صالح نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ کلبی نے کہا : رزق میں سے مٹاتا ہے اور اضافہ کرتا ہے، اور اجل میں سے مٹاتا ہے اور اضافہ کرتا ہے، اور انہوں نے اس کو نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ پھر کلبی سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا : وہ ساری کی ساری باتیں لکھتا ہے یہاں تک کہ جب جمعرات کا دن آتا ہے تو اس میں سے ہر اس چیز کو علیحدہ کردیا جاتا ہے جس میں ثواب و عقاب نہیں ہوتا، جیسے مثلاً تمہارا قول : میں نے کھایا، میں نے پیا، میں داخل ہوا اور میں نکلا وغیرہ اور اس گفتگو میں بندہ سچا بھی ہو، اور جن میں ثواب و عقاب ہوتا ہے ان کو باقی رکھتا ہے۔ حضرت قتادہ، ابن زید اور سعید بن جبیر نے کہا : اللہ تعالیٰ فرائض و نوافل میں سے جو چاہتا ہے مٹاتا ہے پس انھیں منسوخ کردیتا ہے اور بدل دیتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے ان کو منسوخ نہیں کرتا۔ اور جملہ ناسخ و منسوخ اس کے ہاں ام الکتاب میں ہیں۔ نحاس اور مہدوی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس طرح روایت کیا ہے، نحاس نے کہا : حدثنا بکر بن سہل قال حدثنا ابو صالح عن معاویہ بن صالح عن علی بن أبی طلحہ عن ابن عباس ؓ یمحوا اللہ ما یشآء یعنی اللہ تعالیٰ قرآن سے جو چاہتا ہے تبدیل کردیتا ہے اور اسے منسوخ کردیتا ہے۔ ما یشآء ویثبت یعنی اسے تبدیل نہیں کرتا، وعندہ ام الکتب آپ فرماتے ہیں : ناسخ و منسوخ سب اس کے ہاں ام الکتاب میں ہیں۔ حضرت سعید بن جبیر ؓ نے بھی فرمایا : یمحو ما یشاء یعنی یغفر ما یشاء ہے یعنی اپنے بندوں کے گناہوں میں سے جو چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور یثبت ما یشاء یعنی یترک ما یشاء یعنی جو چاہتا ہے چھوڑ دیتا ہے اور معاف نہیں کرتا۔ عکرمہ نے کہا : یمحو ما یشاء ویثبت یعنی تو بہ کے ذریعے تمام گناہوں کو مٹاتا ہے اور گناہوں کے بدلے نیکیاں لکھ دیتا ہے جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے : الا من تاب وامن و عمل عملا صالحا آیۃ (الفرقان :70) حضرت حسن نے فرمایا : یمحوما یشاء یعنی جس کی اجل آجائے اسے مٹا دیتا ہے ویثبت اور جس کی اجل نہ آئے اسے باقی رکھتا ہے۔ اور حضرت حسن ہی نے کہا : اباء کو مٹاتا ہے اور ابناء کو باقی رکھتا ہے۔ اور آپ ہی سے مروی ہے : کراما کاتبین کو گناہوں میں سے کچھ بھلا دیے جاتے ہیں اور کچھ نہیں بھلائے جاتے۔ سدی نے کہا : یمحوا اللہ ما یشآء۔ یعنی چاند کو مٹاتا ہے ویثبت اور سورج کو باقی رکھتا ہے، اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے : فمحونا ایۃ الیل وجعلنا ایۃ النھار مبصرۃ (الاسراء :12) پس ہم نے رات کی نشانی کو مٹایا اور دن کی نشانی کو دکھائی دینے والا بنایا۔ حضرت ربیع بن انس نے کہا : یہ نیند کی حالت میں ارواح کے حوالے سے ہے، نیند کے وقت وہ اس پر قبضہ کرتا ہے، پھر جب اچانک اس کی موت کا ارادہ کرتا ہے تو اسے روک لیتا ہے، اور جس کو باقی رکھنا چاہتا ہے اس کو ثابت رکھتا ہے اور اسے اپنے صاحب کی طرف لوٹا دیتا ہے۔ اس کا بیان اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں ہے : اللہ یتوفی الانفس حین موتھا الایۃ (الزمر : 42) حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نسلوں اور قوموں میں سے جس کو چاہتا ہے مٹاتا ہے جیسے اللہ کا ارشاد : الم یروا کم اھلکنا قبلھم من القرون (یٰسٓ: 31) کیا انہوں نے نہیں دیکھا ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا ہے۔ اور ان میں جن کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے جیسے اللہ کا ارشاد گرامی : ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین۔ (المومنون) پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قوم کو پیدا کردیا۔ پس ایک نسل کو مٹاتا ہے اور دوسری نسل کو ثابت رکھتا ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس سے مراد وہ آدمی ہے جو عرصہ دراز تک اللہ کی اطاعت پر کاربند رہتا ہے پھر اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اور گمراہی پر ہی مر جاتا ہے، پس یہی ہے جس کو وہ مٹاتا ہے اور جو باقی رہتا ہے اس سے مراد وہ آدمی ہے جو طویل عرصہ تک اللہ کی نافرمانی پر ہی عمل کرتا ہے پھر تو بہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ گناہوں کے رجسٹر سے اسے مٹاتا ہے اور نیکیوں کے رجسٹر میں اسے باقی رکھتا ہے، ثعلبی اور ماوردی نے اسے حضرت ابن عباس ؓ سے ذکر کیا ہے۔ ایک قول کے مطابق : یمحوا اللہ ما یشآء سے مراد ان یا اور یثبت سے مراد آخرت ہے۔ قیس بن عباد نے رجب کے دسویں دن کہا : یہی وہ دن ہے جس میں اللہ جس کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے ؛ جبکہ مجاہد سے مروی روایت گزر چکی ہے کہ یہ رمضان میں ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی سفید پتھر سے بنی ہوئی ایک لوح محفوظ ہے جس کی مسافت پانچ سو سال کی ہے، سیاہ یا قوت کی اس کی دو جلدیں ہیں، اللہ تعالیٰ ہر روز تین سو ستر مرتبہ اسے دیکھتا ہے، جس کی چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے۔ حضرت ابو الدرداء نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا : ” جب رات کی تین ساعتیں باقی ہوتی ہیں تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ ” الذکر “ کو کھولتا ہے، اس کتاب کو دیکھتا ہے جس کو اس کے علاوہ کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا پس جو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے۔ اور عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا، تو یہ مٹانا اور ثابت رکھنا ان امور میں ہوتا ہے جن کے بارے میں قضا گزر چکی ہے، اور یہ پہلے گزر چکا ہے کہ قضا میں وہ بھی ہوتی ہے جو حتمی طور پر وقوع پذیر ہوتی ہے تو یہ ثابت ہے اور قضا کی ایک صورت ایسی ہے جو اسباب کے ذریعے وقوع پذیر ہوتی ہے یہ مٹنے والی ہے۔ واللہ اعلم۔ غزنوی نے کہا : میرے نزدیک یہ ہے کہ لوح میں بعض ملائکہ کے احاطہ کرلینے کی وجہ سے جو غیب سے نکل چکی ہو تو وہ تبدیلی کا احتمال رکھتی ہے، کیونکہ مخلوق کا اللہ تعالیٰ کے سارے علم کا احاطہ کرنا محال ہے اور اشیاء کی تقدیر میں جو اللہ کے علم میں ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ وعندہ ام الکتب یعنی وہ اصل جن میں آجال وغیرہ لکھی ہوئی ہیں۔ ایک قول یہ ہے : ام الکتاب کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ؓ نے فرمایا : جس کا وہ خالق ہے اور جس کو اس نے پیدا کیا ہے وہ اس کے علم کے مطابق عمل پیرا ہوتا ہے سو اللہ نے اپنے علم کو فرمایا : ” تو کتاب بن جا، اور اللہ کے علم میں کوئی تبدیلی نہیں، اور آپ ہی سے مروی ہے کہ یہ الذکر ہے، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر (الانبیاء : 105) اور ہم نے زبور میں الذکر کے بعد لکھ دیا ہے۔ یہ اس کے معنی کو پہلے کی طرف راجع کرتا ہے اور یہی حضرت کعب کے قول کا معنی ہے۔ حضرت کعب احبار نے فرمایا : ام الکتب اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق اور جن کا وہ خالق ہے کے بارے میں علم ہے۔
Ayahs 13:40–41

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی) تمہارے روبرو ان پر نازل کریں۔ یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 13:41 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اسکے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں ؟ اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنیوالا نہیں۔ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔

آیت نمبر 40 تا 41 قولہ تعالیٰ : وان ما نرینک بعض الذی نعدھم ” ما “ زائد ہے، تقدیر عبارت : وان نرینک بعض الذی نعدھم ہے اس سے مراد عذاب ہے ؛ دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لھم عذاب فی الحیوۃ الدنیا (رعد : 34) دنیوی زندگی میں ان کے لیے عذاب ہے۔ اور اللہ کا ارشاد ہے : ولا یزال الذین کفروا تصیبھم بما صنعوا قارعۃ (رعد : 31) یعنی اگر ہم آپ کو اسکا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے او نتوفینک فانما علیک البلغ پس آپ پر سوائے ابلاغ یعنی تبلیغ کے کچھ نہیں۔ وعلینا الحساب حساب سے مراد جزاء و سزا ہے۔ قولہ تعالیٰ : اولم یروا یعنی کیا اہل مکہ نے نہیں دیکھا۔ انا ناتی الارض یعنی ہم اس کا قصد کر رہے ہیں۔ ننقصھا من اطرافھا اس میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے کہا : یہ ننقصھا من اطرافھا ہے یعنی ان کے علماء و صلحاء کی موت کے ذریعے ہم انھیں کم کر رہے ہیں۔ قشیری نے کہا : اس بنیاد پر اطراف سے مراد اشراف ہیں۔ ابن اعرابی نے کہا : الطرف والطرف سے مراد کریم آدمی ہے، لیکن یہ بات بعید از قیاس ہے، کیونکہ آیت کا مقصد یہ ہے : ہم ان کو ان کے معاملات میں نقصان دکھاتے ہیں، تاکہ وہ جان لیں کہ ان سے سزا کی تاخیر عجز کی وجہ سے نہیں۔ البتہ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کو یہود و نصاری کے علماء کی موت پر محول کیا جاسکتا ہے۔ مجاہد، قتادہ اور حسن نے کہا : اس سے مراد مشرکین کے قبضہ میں موجودہ چیزوں میں سے جن پر مسلمانوں نے غلبہ حاصل کرلیا تھا وہ ہیں، یہ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے۔ آپ ؓ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد بےآباد زمین ہے حتی کہ اس کے ایک کونے میں آبادی ہوتی ہے۔ مجاہد سے مروی ہے : اس کے نقصان سے مراد اس کی خرابی اور اس کے اہل کی موت ہے۔ وکیع بن جراع نے عن طلحۃ بن عمیر عن عطاء بن ابی رباح اللہ تعالیٰ کے ارشاد : اولم یروا اناناتی الارض ننقصھا من اطرافھا کا ذکر کرتے ہوئے کہا : اس سے اس کے فقہاء اور باسیوں میں سے بہترین لوگوں کا جانا مراد ہے۔ ابو عمر بن عبد البر نے کہا : اس آیت کی تاویل میں عطا کا قول بہت عمدہ ہے، اہل علم نے اسے تلقی قبول سے نوازا ہے۔ میں (قرطبی) نے کہا : اس کو مہدی نے مجاہد اور حضرت ابن عمر ؓ سے بیان کیا ہے، اور یہ بذات خود پہلے قول کی نص ہے۔ سفیان نے عن منصور عن مجاہد روایت کیا ہے کہ ننقصھا من اطرافھا سے مراد فقہاء و علماء کی موت ہے، اور لغت میں یہ بات معروف ہے کہ الطرف ہر چیز کے بہترین اور کریم حصہ کو کہا گیا ہے۔ اور ابو نصر عبد الرحیم بن عبد الکریم نے حضرت ابن عباس ؓ کے اقوال میں سے جس قول کو منتخب کیا ہے یہ اس کے برعکس ہے۔ عکرمہ اور شعبی نے کہا : اس سے مراد نقصان اور لوگوں کی موت ہے۔ ان میں سے ایک نے کہا : اگر زمین کم ہوتی تو تجھ پر وضو کرنے کی جگہ تنگ ہوجاتی اور دوسرے نے کہا : تجھ پر وہ جگہیں تنگ ہوجاتیں جن میں تو بول و براز کرتا ہے۔ ایک قول کے مطابق : اس سے مراد قریش سے پہلے ہونے والی قوموں کی ہلاکت اور ان کے بعد ان کی زمینوں کی بربادی ہے، اور معنی یہ ہے : کیا قریش نے اپنے سے پہلے لوگوں کی ہلاکت اور ان کے بعد ان کی زمینوں کی بربادی نہیں دیکھی ؟ کیا ہو اس بات سے نہیں ڈرتے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی ایسا ہی نہ ہوجائے ؟ یہ بھی حضرت ابن عباس ؓ، مجاہد اور ابن مریم سے مروی ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ اس نے زمین کی برکات، اس کے پھل اور اس کے باسیوں کو کم کردیا۔ اور ایک قول یہ بھی ہے : اس نے اس سرزمین کے حکمرانوں کے ظلم کی وجہ سے اس کو کم کردیا۔ میں (قرطبی) نے کہا : یہ معنی صحیح ہے، بیشک ظلم و ستم شہریوں کے قتل، اس زمین سے ان کے انخلاء اور زمین سے برکت کے اٹھ جانے کے سبب شہروں کو برباد کردیتا ہے۔ واللہ اعلم۔ قولہ تعالیٰ : واللہ یحکم لا معقب لحکمہ یعنی کوئی بھی اس کے حکم میں نقص یا تبدیلی کے ذریعے ردو بدل نہیں کرسکتا۔ وھو سریع الحساب یعنی کافروں سے انتقام لینے میں اور مومن کو ثواب عطا کرنے میں وہ بہت جلدی کرتا ہے۔ اور ایک قول کے مطابق : اسے اپنے حساب میں دل کے سوچ وبچار اور انگلیوں کے پوروں پر گننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
Ayahs 13:42–43

وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا١ؕ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ Open ayah 13:42 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی (بہتیری) چالیں چلتے رہے ہیں سو چال تو سب اللہ ہی کی ہے۔ ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے۔ اور کافر جلد معلوم کریں گے کہ عاقبت کا گھر (یعنی انجام محمود) کس کے لئے ہے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ Open ayah 13:43 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ تم (خدا) کے رسول نہیں ہو۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا اور وہ شخص جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے گواہ کافی ہے۔

آیت نمبر 42 تا 43 قولہ تعالیٰ : وقد مکر الذین من قبلھم یعنی مشرکین مکہ سے پہلے، ان لوگوں نے رسولوں کے ساتھ مکر کیا، ان کے ساتھ فریب کیا اور ان کا انکار کیا۔ فللہ المکر جمیعا یعنی مکر کرنے والوں کا مکر اسی کا پیدا کردہ ہے، لہٰذا اس کے اذن کے بغیر کوئی نقصان نہیں دیتا۔ ایک قول کے مطابق : فللہ خیر المکر یعنی وہ ان کو اس کی سزا دے گا۔ یعلم ما تکسب کل نفس یعنی خیر اور شر میں سے جو کوئی کرتا ہے وہ جانتا ہے پس اس پر وہ سزا دے گا۔ ویعلم الکافر نافع، ابن کثیر اور ابو عمر کی یہی قرآت ہے جبکہ باقیوں نے الکفار پڑھا ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس سے اللہ تعالیٰ نے ابوجہل کو مراد لیا ہے۔ لمن عقبی الدار یعنی ثواب و عقاب کے اعتبار سے دار دنیا کا انجام یا یہ مراد ہے کہ دار آخرت میں ثواب و عقاب کس کے لیے ہے، یہ تہدید اور وعید ہے۔ قولہ تعالیٰ : ویقول الذین کفروا لست مرسلا حضرت قتادہ نے کہا : یہ عرب کے مشرکین تھے۔ لست مرسلا یعنی تو نہ نبی ہے اور نہ رسول تو صرف جھوٹ بولنے والا ہے (نعوذ باللہ) وہ کسی چیز کا مطالبہ کرتے تو پورا نہ ہونے کی صورت میں یہ کہتے۔ قل کفی باللہ یعنی اے محمد ! ﷺ انھیں فرما دیجئے۔ کفی باللہ یعنی کفی اللہ، اللہ کافی ہے۔ شھیدا بینی وبینکم یعنی میری سچائی اور تمہارے جھوٹ پر بطور گواہ کافی ہے۔ ومن عندہ علم الکتب یہ مشرکین مکہ کے خلاف بطور حجت ہے، کیونکہ وہ تفاسیر میں اہل کتاب کے ایمانداروں کی طرف رجوع کرتے تھے۔ ایک قول کے مطابق : ان کی گواہی مدمقابل کے قول کے لیے قاطع ہوتی تھی اور وہ اہل کتاب کے مومن ہیں جس طرح حضرت عبد اللہ بن سلام، حضرت سلمان فارسی، حضرت تمیم داری، حضرت نجاشی اور اس کے دوست، یہ حضرت قتادہ اور سعید بن جبیر کا قول ہے۔ ترمذی نے حضرت عبد اللہ بن سلام سے روایت کیا : جب حضرت عثمان ؓ کو شہید کرنے کی کوشش کی گئی تو حضرت عبد اللہ بن سلام آئے تو حضرت عثمان نے انہیں کہا : کیا لے کے آئے ہو ؟ انہوں نے کہا : میں آپ کی مدد کے لیے آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا : لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں مجھ سے دور کرو آپ کا باہر ہونا میرے لیے اندر ہونے سے زیادہ بہتر ہے۔ حضرت عبد اللہ بن سلام لوگوں کے پاس گئے اور کہا : اے لوگو ! زمانہ جاہلیت میں میرا نام فلاں تھا، رسول اللہ ﷺ نے میرا نام عبد اللہ رکھا، میرے بارے میں کتاب اللہ کی کچھ آیات نازل ہوئی ہیں : وشھید شاھد من بنی اسراء یل علی مثلہ فامن واستکبرتم، ان اللہ لا یھوی القوم الظلمین۔ (الاحقاف) بنی اسرائیل کے ایک گواہ نے اپنے جیسے آدمی کے خلاف گواہی دی، پس وہ ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا، بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ میرے بارے میں نازل ہوئی ہے اور قل کفی باللہ شھیدا بینی وبینکم، ومن عندہ علم الکتب آیت کریمہ میرے تعلق نازل ہوئی ہے۔ الحدیث۔ اور ہم (قرطبی) نے یہ پوری حدیث کتاب ” التذکرہ “ میں لکھ دی ہے۔ اس کے بارے میں ابو عیسیٰ ترمذی نے کہا ہے : ہذا حدیث حسن غریب۔ زمانہ جاہلیت میں آپ کا نام حصین تھا۔ نبی کریم ﷺ نے عبدا للہ رکھا۔ ابو بشر نے کہا : میں نے سعید بن جبیر کو کہا : ومن عندہ علم الکتب کس نے بارے ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ حضرت عبد اللہ بن سلام ہیں۔ میں (قرطبی) نے کہا : حضرت عبد اللہ بن سلام کیسے مراد ہوسکتے ہیں حالانکہ یہ سورت مکی ہے اور حضرت عبد اللہ بن سلام نے مدینہ میں اسلام قبول کیا ہے ؟ ثعلبی نے اس کو ذکر کیا ہے۔ قشیری نے کہا : ابن جبیر نے کہا کہ سورت مکی ہے اور حضرت ابن سلام نے اس سورت کے نزول کے بعد مدینہ میں اسلام قبول کیا، لہٰذا اس آیت کو ابن سلام پر محمول کرنا درست نہیں۔ ومن عندہ علم الکتب سے جبریل امین مراد ہیں، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ حضرت حسن، مجاہد اور ضحاک نے کہا : وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے : اور وہ ومن عندہ علم الکتب پڑھتے تھے اور جو یہ کہتا کہ یہ حضرت عبد اللہ بن سلام اور حضرت سلمان ؓ ہیں اس کا یہ انکار کرتے تھے، کیونکہ ان کے خیال کے مطابق سورت مکی ہے اور انھوں نے مدینہ میں اسلام قبول کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے ومن عندہ علم الکتب پڑھا، اگرچہ روایت میں ضعف ہے۔ اس کو سیلمان بن ارقم نے عن الزہری عن سالم عن ابیہ عن النبی ﷺ روایت کیا ہے اور محبوب نے اسمعیل بن محمد یمانی سے روایت کیا ہے آپ نے اسی طرح پڑھا ہے یعنی ومن عندہ میم، عین اور دال کے کسرہ کے ساتھ علم الکتب عین کے ضمہ اور کتاب کے رفع کے ساتھ۔ عبد اللہ بن عطا نے کہا : میں نے ابو جعفر بن علی بن حسین بن حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو کہا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ ومن عندہ علم الکتب سے مراد حضرت عبد اللہ بن سلام ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ صرف حضرت علی بن ابی طالب ؓ ہیں، محمد بن حنفیہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ ایک قول کے مطابق : سارے مومنین مراد ہیں۔ واللہ اعلم۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : جہاں تک اس آدمی کا تعلق ہے جس نے کہا ہے کہ یہ حضرت علی ؓ کے متعلق ہے، تو اس کو دو صورتوں میں سے کسی ایک پر محمول کیا جائے گا یا تو اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ان کے نزدیک وہ سب مومنین سے زیادہ عالم ہوں گے جبکہ معاملہ ایسا نہیں، بلکہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، اور حضرت عثمان ؓ ان سے زیادہ عالم تھے یا پھر نبی کریم ﷺ کا ارشاد انا مدینۃ العلم وعلی بابھا کی وجہ سے تو یہ روایت باطل ہے۔ نبی کریم ﷺ علم کا شہر ہیں اور آپ کے صحابہ اس کے دروازے، علوم میں قدر و منزلت کے مطابق ان میں سے کچھ کھلے دروازے ہیں اور کچھ درمیانی درجے کے البتہ جس نے کہا کہ سارے مومنین مراد ہیں اس نے صحیح کہا، کیونکہ ہر مومن کتاب کو جانتا ہے، اس کے اعجاز کی وجہ کا ادراک رکھتا ہے اور نبی کریم ﷺ کے سچا ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ میں (قرطبی) نے کہا : اس بنیاد پر کتاب سے مراد قرآن ہے۔ اور جہاں تک اس آدمی کا تعلق ہے جس نے حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ کو مراد لیا ہے اس نے ترمذی کی حدیث پر بھروسہ کیا ہے، اور یہ ممتنع نہیں کہ حضرت عبد اللہ بن سلام کے بارے میں کوئی بات نازل ہوئی ہو اور مراد سارے مومنین ہوں، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ویقول الذین کفروا ذکر سب کافروں کا ہے اور مراد قریش ہیں، پس جن کے پاس کتاب کا علم ہے وہ یہود و نصاری کے مومنین ہو سکتے ہیں یعنی وہ لوگ وہ ہیں جو بتوں کی پوجا کرنے والوں کی نسبت نبوت اور کتاب کی معرفت کے زیادہ قریب ہیں۔ نحاس نے کہا : اور جس آدمی نے کہا کہ اس سے مراد حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ اور دیگر ہیں تو اس کی بات کا احتمال بھی ہے کیونکہ جب دلائل بھی صحیح ہوں اور یہ بھی معروف ہو کہ نزول قرآن سے پہلے وہ کتابوں کو پڑھتے تھے تو بات اور زیادہ پختہ ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی حقیقت کو بہتر جانتا ہے۔