Ayahs 13:12–13آیت نمبر 12 تا 13
قولہ تعالیٰ : ھو الذی یریکم البرق خوفا وطمعا وینشی السحاب الثقال یعنی بارش کے ذریعے۔ السحاب جمع ہے اور واحد سحابۃ ہے، سحب اور سحاب بھی جمع آتی ہے۔ ویسبح الرعد بحمدہ والملئکۃ من خیفتہ، ویرسل الصواعق رعد، برق اور صواعق کے بارے میں سورة البقرہ میں گفتگو گزر چکی ہے اس لیے اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور آیت سے مقصود اپنی قدرت کے کمال کو بیان کرنا ہے۔ اور سزا میں تاخیر عاجزی کی وجہ سے نہیں، یعنی مسافر کو ڈرانے کے لیے آسمان میں تمہیں بجلی دکھاتا ہے، تو وہ بارش، دھول اور کڑکتی بجلی سے پہنچنے والے نقصان کی اذیت سے خوف زدہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اذی من مطر (النساء :102) اور مقیم کو اس بات کی امید لانے کے لیے کہ اس کڑک کے بعد بارش اور شادابی ہوگی ؛ یہ معنی حضرت قتادہ، مجاہد اور دیگر لوگوں نے بیان کیا ہے۔ حضرت حسن نے کہا : بجلی کی کڑک سے ڈراتے ہوئے اور اس کی بارش جو قحط کو ذائل کرنے والی ہوگی اس سے امید دلاتے ہوئے۔ وینشئ السحاب الثقال مجاہد نے کہا : پانی کے ذریعے ویسبح الرعد بحمدہ جس نے کہا کہ کڑک بادل کی آواز ہے تو اس صورت میں ممکن ہے کہ کڑک پاکی بیان کرتا ہو، اس قول کی صحت پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے کہ والملئکۃ من خیفتہ یہی اگر رعد فرشتہ ہوتا تو پھر تو سب فرشتوں کے تحت داخل تھا۔ جس کا نقطہ نظر یہ ہے رعد فرشتہ ہے تو اس کے نزدیک من خیفتہ کا معنی من خیفۃ اللہ ہوگا۔ یہ طبری وغیرہ کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : فرشتے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں مگر وہ ابن آدم کی طرح نہیں ڈرتے بلکہ ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں پہچانتا کہ اس کے دائیں کون ہے اور بائیں کون ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے نہ انہیں کھانا روکتا ہے اور نہ پینا۔ آپ نے ہی فرمایا : رعد فرشتہ ہے جو بادلوں کو ہانکتا ہے اور پانی کے بخارات اس کو انگوٹھے کے پورے میں ہوتے ہیں وہ بادلوں کا موکل ہے ان میں اسی طرح تصرف کرتا ہے جس طرح اسے حکم ہوتا ہے اور وہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ جب رعد تسبیح کرتا ہے تو آسمان کا ہر فرشتہ تسبیح کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتا ہے، تو اس وقت بارش برستی ہے۔ آپ ہی سے مروی ہے کہ جب آپ رعد کی آواز سنتے تو کہتے : سبحان الذی سبحت لہ پاک ہے وہ ذات جس کی تو نے پاکی بیان کی ہے۔ امام مالک نے حضرت عامر بن عبد اللہ عن ابیہ روایت کیا ہے کہ جب وہ رعد کی آواز سنتے تو کہتے : پاک ہے وہ ذات کہ رعد جس کی پاکی بیان کرتا ہے اس کی حمد کے ساتھ اور فرشتے بھی اس کے خوف سے (اس کی تسبیح کرتے ہیں) ۔ پھر کہتے کہ یہ اہل زمین کے لیے سخت وعید ہے۔ ایک قول یہ ہے : یہ ایک فرشتہ ہے جو آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوتا ہے، اس کے دائیں جانب ایک ہزار فرشتہ ہے اور بائیں جانب بھی اتنے ہی فرشتے ہیں، جب دائیں جانب والوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور تسبیح کرتا ہے تو سارے اللہ کے خوف سے تسبیح کرتے ہیں اور جب بائیں جانب متوجہ ہو کر تسبیح کرتا ہے تو وہ سارے اللہ کے خوف سے تسبیح کرتے ہیں۔ ویرسل الصواعق فیصیب بھا من یشاء ماوردی نے حضرت ابن عباس، حضرت علی بن ابی طالب اور مجاہد سے یہ بات ذکر کی ہے یہ آیت ایک یہودی کے بارے میں نازل ہوئی۔ جس نے نبی کریم ﷺ کو کہا : مجھے بتائیے آپ کا رب کس چیز سے بنا ہوا ہے کیا لؤلؤ سے یا یاقوت سے ؟ تو بجلی کی کڑک آئی اور اس نے اسے جلا دیا۔ ایک قول یہ ہے، یہ عرب کے کسی کافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت حسن نے کہا : عرب کے سرکشوں میں سے ایک آدمی تھا نبی کریم ﷺ نے ایک جماعت اس کی طرف بھیجی تاکہ وہ اسے اللہ، اس کے رسول اور اسلام کی طرف دعوت دیں تو اس نے انہیں کہا : مجھے محمد ﷺ کے رب کے بارے میں بتاؤ کہ کیا ہے اور کس چیز سے بنا ہوا ہے کیا چاندی سے یا لوہے سے یا نحاس سے ؟ قوم نے اس کی بات کو بہت بڑا سمجھا، تو اس نے کہا : میں محمد ﷺ کو اس کے رب کے بارے میں جواب دیتا ہوں جس کو وہ پہچانتا ہی نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے بار بار اس کی طرف وفد بھیجا تو وہ ایسا ہی کہتا، تو وہ جماعت اس کے ساتھ جھگڑا کر ہی رہی تھی اور اسے دعوت دے ہی رہی تھی کہ ایک بادل اٹھا اور ان کے سروں پر آگیا، وہ کڑکا، چمکا اور اس نے بجلی پھینکی، تو اس بجلی نے کافر کو جلا دیا اور وہ بیٹھے رہے۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس واپس لوٹ کے آئے تو بعض صحابہ کرام نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے کہا : تمہارا صاحب (مخالف) جل گیا۔ وفد نے کہا : تمہیں کہاں سے پتہ چلا ؟ انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے بنی کریم ﷺ کی طرف وحی فرمائی کہ ویرسل الصواعق فیصیب بھا من یشآء اس کو ثعلبی نے حضرت حسن سے ذکر کیا ہے اور قشیری نے حضرت انس سے روایت بالمعنی بیان کی ہے۔ وہ عنقریب آئے گی۔ ایک قول یہ ہے : یہ آیت لبید بن ربیع کے بھائی اربد بن ربیع اور عامر طفیل کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : عامر بن طفیل اور اربد بن ربیع دونوں نبی کریم ﷺ کو ملنے کے ارادے سے آئے آپ ﷺ صحابہ کی جماعت میں مسجد میں تشریف فرما تھے۔ دونوں مسجد میں داخل ہوئے، لوگوں نے عامر کے جمال کو دیکھنا چاہا وہ بھینگا تھا اور بڑا خوبصورت تھا۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے کسی آدمی نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ عامر بن طفیل آپ کی طرف آرہا ہے۔ آپ نے فرمایا : اسے چھوڑو اگر اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے ہدایت دے دے گا۔ وہ آگے بڑھاحتٰی کہ آپ کے پاس کھڑا ہوگیا اور کہا : اے محمد ! اگر میں اسلام قبول کرلوں تو میرے لیے کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا :ْْتیرے لیے وہی ہوگا جو مسلمانوں کے لئے ہے اور تیرے ذمہ داری وہی ہوگی جو دوسرے مسلمانوں کی ہے۔ اس نے کہا : کیا اپنے بعد آپ مجھے خلیفہ بنائیں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” میں تجھے گھوڑوں کی مدد دوں گا جن کے ذریعے تو اللہ کے رستے میں جہاد کرے گا “۔ اس نے کہا : کیا آج میرے پاس گھوڑے نہیں ہیں ؟ میرے ساتھ اٹھو میں آپ کے ساتھ گفتگو کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ اس کے ساتھ اٹھے اور عامر نے اربد کی طرف اشارہ کیا تھا کہ جب تو مجھے ان کے ساتھ گفتگو کرتے دیکھے گا تو ان کے پیچھے چکر لگانا اور تلوار کے ساتھ ان کو شہید کردینا۔ اس نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ جھگڑا شروع کردیا۔ اربد تلوار کے لر ایک بالشت چلا پھر اللہ نے اسے روک لیا، اور وہ تلوار کو نہ سونت سکا اور تلوار پر ہی اس کا ہاتھ خشک ہوگیا۔ اللہ نے آندھی اور چیخ و پکار والے دن اس پر بجلی کی کڑک ڈالی جس نے اسے جلا دیا اور عامر سرپٹ بھاگتا ہوا واپس لوٹا اور کہا : اے محمد ﷺ ! آپ نے اربد کے لیے بدعا کی یہاں تک کہ اس نے اسے مار دیا، اللہ کی قسم ! میں تم پر باریک بالوں والے گھوڑے اور بےریش جوانوں کی بھرمار کر دوں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اور قبلیے کے بیٹے (یعنی اوس و خزرج) کے نوجوان تجھے اس کام سے روکیں گے “۔ عام سلولیہ عورت کے گھر پہنچا اور صبح کے وقت کہتا جا رہا تھا : اللہ کی قسم ! اگر محمد اور اس کا دوست یعنی ملک الموت مجھے صحراء میں مل گئے تو میں دونوں سے اپنا تیر گزاردوں گا، تو اللہ نے ایک فرشتہ بھیجا جس نے اپنے پر کے ساتھ اسے طمانچہ مارا اور اسے مٹی میں گر دیا اور اس کے گھٹنے پر ایک بہت بڑا پھوڑا نکل آیا۔ وہ سلولیہ کے گھر واپس لوٹا اور کہتا جا رہا تھا : اونٹ کے پھوڑے کی طرح پھوڑا اور سلولیہ کے گھر میں موت، پھر اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور اس کی پیٹھ پر ہی مرگیا۔ لبید بن ربیع نے بھائی کا مرثیہ کہا ہے :
یا عین ھلا بکیت اربد إذقمنا وقام الخصوم فی کبد
أخشی علی أربد الحتوف ولا ارھب نؤ السماک والأسد
فجعنی الرعد والصواعق بالغا رس یوم الکریھم النجد
اور اس کے متعلق اس نے یہ بھی کہا ہے :
إن الرزیۃ لا رزیۃ مثلھا فقدان کل أخ کضؤ الکوکب
یا أرید الخیر الکریم جدودہ أفردتنی أمشی بقرن أعضب
مسئلہ : حضرت أبان نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے کو بجلی نہیں پکڑتی “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے فرمایا : نبی کریم ﷺ جب کڑک کی آواز سنتے تو کہتے : سبحان من یسبح الرعد بحمدہ والملائکۃ من خیفتہ وھو علی کل شئ قدیر (جس نے یہ کلمات کہے) اسے اگر بجلی آلے تو اس کی دیت مجھ پر ہے۔ خطیب بغدادی نے سلیمان بن علی کی حدیث حضرت عبد اللہ بن عباس عن أبیہ عن جدہ ذکر کی ہے آپ نے کہا : ہم ایک سفر میں حضرت عمر ؓ کے ساتھ تھے کہ ہمیں کڑک اور بادلوں کی ہوا نے آلیا، تو حضرت کعب نے ہمیں کہا : جس آدمی نے کڑک کی آواز سن کر سبحان من یسبح الرعد بحمدہ والملائکۃ من خیفتہ کے کلمات تین مرتبہ کہے تو اس کڑک میں موجود (نقصان) سے اسے معانی مل گئی، تو ہم نے ایسا ہی کیا تو ہم بچ گئے، پھر میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کو ملا تو بادلوں کی ہوا آپ کے ناک کو لگی اور اثر انداز ہوگئی، میں نے کہا : اے امیر المومنین یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : بادلوں کی ہوا میرے ناک کو لگی اور اثر انداز ہوگئی، تو میں نے کہا : کڑک کی آواز سن کر حضرت کعب نے ہمیں کہا تھا : جس نے کڑک کی آواز سن کر سبحان من یسبح الرعد بحمدہ والملائکۃ من خیفتہ تین بار کہا تو اسے کڑک میں موجود (نقصان) سے نجات مل گئی، تو ہم نے یہ کلمات کہے تو ہمیں نجات مل گئی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : تم نے ہمیں کیوں نہ کہا تاکہ ہم بھی کہہ لیتے ؟ اس کی تفصیل سورة ” بقرہ “ میں گزر چکی ہے۔
قولہ تعالیٰ : وھم یجادلون فی اللہ یعنی یہودی کا جھگڑا جب اس نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں پوچھا کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا ہے ؟ یہ مجاہد کا قول ہے۔ ابن جریج نے کہا : اس سے مراد ربد کا جھگڑا ہے۔ جب اس نے نبی کریم ﷺ کو شہید کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے وھم یجادلون فی اللہ حال ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ عطف منقطع ہو۔ حضرت انس نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کے ایک بڑے آدمی کے پاس وفد بھیجا تاکہ وہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے، تو اسنے رسول اللہ ﷺ کو کہا : مجھے اپنے معبود کے بارے میں بتاؤ ! کیا وہ چاندی کا ہے، سونے کا ہے یا نحاس کا ؟ تو اس وفد نے اس کو بڑی جسارت سمجھا۔ آپ کے پاس وفد واپس آیا اور اس نے آپ کو اس بات سے آگاہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا : ” اس کے پاس واپس جاؤ اور اسے دعوت دو “ وفد واپس پہنچا تو بجلی کی کڑک اسے اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی اور وہ وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس لوٹا تو وھم یجادلون فی اللہ کا ارشاد نازل ہوا۔ وھو شدید المحال ابن اعرابی نے کہا : المحال کا معنی مکر ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکر کا معنی حق کی تدبیر ہوتا ہے۔ نحاس نے کہا : اللہ کی طرف سے مکر ناپسندیدہ چیز کو ایسے طریقے سے اس کے مستحق کے سپرد کرنا ہے کہ جس سے احساس بھی نہ ہو۔ ابن یزیدی نے ابو زید سے روایت کیا کہ وھو شدید المحال کا معنی ہے کہ وہ سخت بدلہ لینے والا ہے۔ ازہری نے کہا : المحال یعنی قوت اور شدت اور المحل سے مراد شدت ہے اس کی میم اصلی ہے، ما حلت فلانا محالا یعنی میں نے اسے پکڑا یہاں تک کہ واضح ہوگیا کہ کون سخت ہے۔ ابو عبید نے کہا : المحال یعنی سزا اور ناپسندیدہ بات۔ ابن عرفہ نے کہا : المحال سے مراد جلال اور جھگڑا ہے۔ ماحل عن أمرہ کہا جاتا ہے جس کا معنی ہی جادل اس نے جھگڑا کیا۔ قتیبی نے کہا : اس سے مراد سخت چال ہے، اس کی اصل حیلہ سے ہے، اس کی میم اصلی ہے، جب تو کسی لفظ کو فعال کے وزن پر دیکھے جس کا پہلا حرف مکسور ہو تو وہ اصلی ہوتا ہے، جیسے مھاد، ملاک اور مر اس وغیرہ۔ اور منعل جب ثلائی ہو تو وہ واو کے اظہار کے ساتھ آتا ہے جیسے مزود، محول اور محور وغیرہ۔ ازہری نے کہا : اعرج نے اسے وھو شدید المحال میم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس قرأت کے مطابق اس کی تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ حول سے مشتق ہے۔ یہ سارا ابو عبد ہر دی نے ذکر کیا ہے سوائے اس کے جو پہلے ابن اعرابی کے حوالے سے گزر چکا ہے۔ صحابہ وتابعین کی اس کے معنی کے متعلق تاویلات آٹھ ہیں۔
1: شدید المحال کا معنی شدید العداوۃ یعنی دشمنی کی شدت ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔
2: اس کا معنی شدید الحول یعنی قوت وقدرت کی شدت والا ہے، یہ بھی حضرت ابن عباس ؓ کا ارشاد ہے۔
3: معنی شدید الاخذ یعنی پکڑ کی شدت والا ہے، یہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ کا قول ہے۔
4: شدید العقد دلی دشمنی کی سختی والا، یہ بھی حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔
5: شدید القوۃ قوت کی شدت والا، یہ مجاہد کا قول ہے۔
6: شدید الغضب غضب کی سختی والا، یہ وہب بن منبہ کا قول ہے۔
7: شدید الھلات بالمحل یعنی قحط کے ذریعے ہلاکت کی شدت والا، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔
8: شدید الحیلۃ یعنی حلیۃ کی شدت والا، یہ حضرت قتادہ کا قول ہے۔
ابو عبیدہ معمر نے کہا : المحال اور المماحلۃ سے مراد مما کرہ اور مغالبہ ہے۔
أعشی نے شعر کہا ہے۔
فرع نبع یھتنر فی غضن المجد کثیر الندی شدید المحال
ایک اور شاعر نے کہا :
ولبس بین اقوام فکل أعدلہ الشغازب والمحالا
عبد المطلب نے کہا :
لاھم إن المرئ یمنع رحلہ فأمنع حلالک
لا یغلبن صلیھم ومحالھم عدوا محالک
Ayah 13:14آیت نمبر 14
قولہ تعالیٰ : لہ دعوۃ الحق یعنی اللہ کو پکار ناسچ ہے۔ حضرت ابن عباس، حضرت قتادہ اور دیگر لوگوں نے کہا : لا الہ الا اللہ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ حضرت حسن نے کہا : بیشک اللہ ہی حق ہے، پس اس کی دعوت، دعوت حق ہے۔ ایک قول یہ ہے : دعا میں اخلاص حق کی پکار ہے، یہ بعض متاخرین کا قول ہے۔ ایک قول کے مطابق : حق کی دعوت، خوف کے وقت اس سے دعا ہے، خوف میں صرف اسی سے دعا کی جاتی ہے، جس طرح کہ اللہ کا ارشاد ہے : ضل من تدعون الا ایاہ (الاسراء :67) جس نے اس کے علاوہ کو پکارا وہ گمراہ ہوگیا۔ ماوردی نے کہا : یہ سیاق آیت کے مشابہہ ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا : والذین یدعون من دونہ اس سے مراد بت (اصنام واوثان) ہیں۔ لا یستجیبون لھم بشیء یعنی ان کی دعا کو وہ قبول نہیں کرتے اور نہ ان کی ندا کو سنتے ہیں۔ الا کباسط کفیہ الی المآء لیبلغ فاہ وما ھو ببالغہ ان کی دعاؤں کے جواب سے ان کی مایوسی کی پانی کے ساتھ ضرب المثل بیان کی ہے کیونکہ عرب لاحاصل کام کی سعی کرنے والے کی ضرب المثل ہاتھ کے ساتھ پانی پکڑنے کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ شاعر نے کہا :
فاصبحت مما کان بینی وبینھا من الود مثل القابض الماء بالید
میری اور اس (عورت) کے درمیان جو محبت تھی اس میں میں ہاتھ کے ساتھ پانی پکڑنے والے کی طرح ہوگیا۔ اس ضرب المثل کے معنی کی تین صورتیں ہیں :
1: وہ آدمی جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور معبود کو پکارتا ہے تو وہ اس پیاسے کی طرح ہے جو دور سے پانی کو اپنے منہ کی طرف بلاتا ہے اور زبان کے ذریعے اس پر قادر نہیں ہوتا، اپنے ہاتھ کے ساتھ اس کی طرف اشارہ کرتا ہے تو وہ کبھی بھی اس کے پاس نہیں آئے گا کیونکہ پانی جواب نہیں دینا اور نہ ہی پانی اس تک پہنچ پاتا ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔
2: وہ اس پیاسے کی طرح ہے جو اپنے خیال میں پانی کو دیکھتا ہے اور اپنا ہاتھ اس کی طرف پھیلا دیتا ہے تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے لیکن وہ نہیں ہوتا کیونکہ اسکا خیال جھوٹا اور اس کے وہم میں فساد ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔
3: وہ ایسے آدمی کی طرح ہے جو پانی کی طرف اپنی ہتھیلی کو پھیلاتا ہے تاکہ اس کو پکڑلے مگر اس کی ہتھیلی میں پانی میں سے کچھ بھی نہیں ٹھہرتا۔ قرأء کا خیال ہے کہ ” الماء “ سے یہاں مراد کنواں ہے، کیونکہ یہ پانی کا معدن ہوتا ہے اور ضرب المثل یہ ہے کہ یہ آدمی اس آدمی کی طرح ہے جو بغیر رسی و ڈول کے اپنے ہاتھ کو کنویں کی طرف پھیلاتا ہے۔ بطور استشہاد یہ شعر ہے :
فان الماء ماء أبی وجدی وبئری ذو حفرت و ذو طویت
اس شعر میں ماء سے مراد کنواں ہے۔
حضرت علی ؓ نے کہا : یہ آدمی اس پیاسے کے طرح ہے جو کنویں کے کنارے پر ہوتا ہے، وہ کنویں کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہی پانی اس تک بلند ہوتا ہے۔ اور الا کباسط کا معنی ہے الا کا ستجابۃ باسط کفیہ ہے۔ مصدر باسط کی طرف مضاف ہے پھر مضاف کو حذف کردیا گیا ہے اور مصدر مضاف کا فاعل ہی معنی میں مراد ہے اور وہ ہے ” الماء “ معنی یہ ہوگا : إلا کإجابۃ باسط کفیہ إلی الماء اور لیبلغ فاہ میں لام باسط کے متعلق ہوگی اور اللہ کا ارشاد : وما ھو ببالغہ پانی سے کنایۃ ہے، یعنی وما الماء ببالغ فاہ اور پانی اس کے منہ تک پہنچنے والا نہیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ھو منہ سے کنایۃ ہو یعنی ما الفم ببالغ الی الماء منہ پانی تک پہنچنے والا نہیں۔ وما دعآء الکفرین الا فی ضلل یعنی کافروں کا بتوں کی پوجا کرنا سوائے گمراہی کے کچھ نہیں، کیونکہ یہ شرک ہے، ایک قول کے مطابق : الا فی ضلل کا معنی یہ ہے کہ وہ دعا ان سے دور ہوجاتی ہے پس وہ اس سے کوئی حصہ نہیں پاتے جس طرح اللہ نے ارشاد فرمایا : این ما کنتم تشرکون۔ من دون اللہ قالوا ضلوا عنا (المومن) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ کافروں کی آواز اللہ تعالیٰ سے چھپ جاتی ہے پس وہ ان کی دعائیں سنتا ہی نہیں۔
Ayah 13:15آیت نمبر 15
قالہ تعالیٰ : وللہ یسجد من فی السموت والارض طوعا وکرھا حضرت حسن اور قتادہ وغیرہ نے کہا : مومن خوشی سے سجدہ کرتا ہے اور کافر تلوار سے مجبور ہوکر۔ حضرت قتادہ سے ہی مروی ہے کہ کافر کو جب ایمان کوئی فائدہ نہیں دیتا تو وہ مجبورا سجدہ کرتا ہے۔ زجاج نے کہا : کافر کا سجدہ مجبورا ہوتا ہے اس میں نہ خضوع ہوتا ہے اور نہ ہی عمل کا اثر۔ ابن زید نے کہا : طوعا سے مراد وہ ہے جو اسلام میں رغبت و شوق سے داخل ہوا اور کرھا سے مراد وہ ہے جو تلوار سے ڈر کر اسلام میں داخل ہوا۔ ایک قول یہ ہے : طوعا سے مراد وہ ہے جس کے اسلام کی مدت لمبی ہے اور اس نے اس لمبی عمر کو سجدوں میں مصروف رکھا اور کرھا سے مراد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی ذات کو حقیر اور ناپسندیدہ سمجھتا ہے، تو اس صورت میں آیت مومنوں کے حوالے سے ہی ہے اس اعتبار سے والارض سے مراد بعض من فی الارض ہے۔ قشیری نے کہا : آیت میں دو مسلک ہیں۔ ایک یہ کہ آیت عام ہے اور اس کی مراد مخصوص ہے، مون خوشی سے سجدہ کرتا ہے اور بعض کفار منافقین کی طرح مجبورا اور خوف سے سجدہ کرتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ آیت مومنین کے بارے میں ہے۔ ان میں سے بعض خوشی سے سجدہ کرتے ہیں ان پر سجدہ بھاری نہیں ہوتا اور بعض پر بھاری ہوتا ہے کیونکہ امور تکلیفیہ کا التزام مشقت ہے مگر وہ مشقت کو اخلاص اور ایمان کے ساتھ برداشت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ حق کو پالیتے ہیں اور اس پر عمل پیرا رہتے ہیں۔ اور دوسرا مسلک یہ ہے کہ مومن خوشی سے سجدہ کرتا ہے جبکہ کافر کو سجدہ کا حکم ہے اور اس پر اس کا مواخذہ بھی ہوگا۔ دوسرا مسلک اور یہی حق ہے کہ مومن اپنے بدن کے ساتھ خوشی سے سجدہ کرتا ہے اور مومن و کافر ہر مخلوق اس اعتبار سے سجدہ کرتی ہے کہ وہ مخلوق ہے، جس طرح اللہ کا ارشاد ہے : وان من شیء الا یسبح بحمدہ (الاسراء :44) کوئی شے نہیں مگر وہ اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ تو یہ تسبیح دلالۃ ہوتی ہے عبادۃ نہیں۔ وظللھم بالغدو والاصال یعنی مخلوق کے سائے صبح و شام اللہ کو سجدہ کرتے ہیں، کیونکہ یہ (سائے) ان دو وقتوں میں جدا ہوتے ہیں، اور ایک طرف سے دوسری طرف جھکتے ہیں۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا تصرف ہے جس طرح وہ چاہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرف ہے : اولم یروا ما خلق اللہ من شیء یتفیواظللہ عن الیمین والشمائل سجدا للہ وھم دخرون (النحل) کیا انہوں نے نہیں دیکھا ان اشیاء کی طرف جنہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے کہ بدلتے رہتے ہیں ان کے سائے دائیں سے (بائیں طرف) اور بائیں سے (دائیں طرف) سجدہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو اس حال میں کہ وہ اظہار عجز کر رہے ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر لوگوں کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : مومن کا سایہ خوشی سے سجدہ کرتا ہے کیونکہ وہ خوش ہوتا ہے جبکہ کافر کا سایہ مجبوراً سجدہ کرتا ہے کیونکہ وہ مجبور ہے۔ ابن انباری نے کہا : سایوں کی بھی عقلیں بنا دی جاتی ہے جن کے ذریعے وہ سجدہ کرتے ہیں اور ان پر خشوع طاری ہوتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کی سمجھ بنا دی ہے یہاں تک کہ وہ مخاطب ہوتے ہیں اور انہیں مخاطب کیا جاتا ہے۔ قشیری نے کہا : اس میں نظر ہے، کیونکہ پہاڑ کی تو آنکھ ہے ممکن ہے زندگی کی تقدیر کی شرط کے ساتھ اس کی عقل بھی ہو جبکہ سائے تو آثار اور اعراض ہیں، ان کے لیے زندگی مقصود نہیں۔ اور سجود جھکنے کے معنی میں ہے، پس سایوں کے سجود سے مراد ان کا ایک طرف سے دوسری طرف جھکنا ہے، سجدت النخلۃ کہا جاتا ہے یعنی کھجور کا درخت جھک گیا۔ الاصال، أصل کی جمع اور أصل، أصیل کی جمع ہے، اس سے مراد عصر سے لے کر غروب آفتاب کے درمیان کا وقت ہوتا ہے۔ پھر أصائل جمع المجمع ہے۔ أبو ذؤیب ہذلی نے کہا :
لعمری لأنت البیت اکرم أھلہ وأقعد فی أفیائہ بالأصائل
اور ظللھم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ من پر اس کا عطف ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو اور خبر مخدوف ہو، تقدیر پر عبارت یوں ہو : وظلالھم سجد بالغدو و الاصال۔ الغدو مصدر بھی ہوسکتا ہے اور غداۃ کی جمع بھی ہوسکتا ہے، اور الاصال جمع کے مقابلے میں اس کا آنا اس کی جمع ہونے کی تقویت دیتا ہے۔
Ayah 13:16آیت نمبر 16
قولہ تعالیٰ : قل من رب السموت والارض اللہ تعالیٰ نے بنی کریم ﷺ کو فرمایا کہ آپ مشرکین کو فرمائیں : قل من رب السموت والارض پھر اللہ نے فرمایا کہ اگر وہ اس کا جواب نہ دیں یا وہ اس سے ناواقف ہوں تو آپ خود ہی فرمائیے کہ وہ اللہ ہے۔ قل اقاتخذتم من دونہ اولیآء کے ذریعے استدلال نہ کیا جاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا ایک اور ارشاد بطور دلیل پیش بھی کیا جاسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیقولن اللہ (لقمان : 25) اور اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ اب آیت کا معنی یہ ہوگا کہ جب تم نے اعتراف کرلیا تو پھر اس کے علاوہ کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ اور وہ غیر کوئی نفع اور نقصان بھی نہیں دے سکتا۔ یہ الزام صحیح ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے ایک ضرب المثل بیان فرمائی ہے فرمایا : قل ھل یستوی الاعمی والبصیر پس اسی طرح وہ مومن جو حق کو دیکھتا ہے وہ اور مشرک جو حق کو نہیں دیکھتا برابر نہیں ہوسکتے۔ ایک قول یہ ہے : اعمیٰ ان لوگوں کی مثال ہے جو اللہ کے علاوہ کی پوجا کرتے ہیں اور بصیر ان کی مثال ہے جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ ام ھل تستوی الظلمت والنور یعنی شرک اور ایمان۔ ابن محیصن، ابوبکر، أعمش، حمزہ اور کسائی نے پہلے فعل کی وجہ سے ” یستوی “ یا کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ الظلمت کی تانیث حقیقی نہیں، جبکہ باقیوں نے تا کے ساتھ پڑھا ہے ابو عبیدہ کے نزدیک بھی یہی مختار ہے۔ ابو عبید نے کہا : اس کی وجہ یہ ہے کہ فعل اور مؤنث کے درمیان کوئی فاصلہ بھی نہیں۔ اور الظلمت و النور ایمان اور کفر کی طرح ہے اور اس کی کیفیت سے واقف ہیں۔ ام جعلوا للہ شرکاء خلقوا کخلقہ فتشابہ الخلق علیہھم یہ آیت استدلال کی تکمیل ہے، یعنی غیر اللہ نے اللہ کی طرح کوئی چیز تخلیق کی ہے تو یوں تخلیق ان پر مشتبہ ہوگئی۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے معبودوں نے کس چیز کو تخلیق کیا ہے۔ قل اللہ خالق کل شیء یعنی اے محمد ﷺ ! فرمائیے : اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ ہر چیز اس کی عبادت کرے۔ یہ آیت ان مشرکین اور قدریہ کا رد ہے جن کا گمان یہ ہے کہ انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی طرح تخلیق کی ہے۔ وھو الواحد یعنی ہر چیز سے پہلے القھار یعنی ہر چیز پر غالب، ابو لنصر قشیری نے کہا : یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں کہ آیت کریمہ ایسے لوگوں کے لیے نازل ہوئی ہو جو صانع کا اعتراف نہیں کرتے، یعنی آپ ان سے آسمانوں اور زمین کے خالق کے بارے میں پوچھیں، کیونکہ یہ ان کے خلاف اس سلسلہ میں حجت قائم کرنے کے لئے اور تقرب الی الافہام کے لیے آسان تھا۔ کہ جمادات اور ہر مخلوق کا آسمانوں اور زمین سے عاجز آنا تو (سب کے نزدیک) معلوم ہے۔ جب یہ بات پختہ ہوجائے گی اور ظاہر ہوجائے گا کہ صانع تو اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر اس کا شریک ٹھہرانا کیسے ممکن رہے گا ؟ اور دوران کلام یہ بات تو واضح ہوچکی ہے کہ اگر ان جہان کے دو صانع ہوں تو تخلیق مشتبہ ہوجائے گی اور ایک کا فعل دوسرے کے فعل سے جدا نہیں ہوسکے گا، تو کیسے معلوم ہوگا کہ فعل دو کی طرف سے ہے ؟
Ayahs 13:17–19آیت نمبر 17 تا 19
قولہ تعالیٰ : انزل من السماء مآء فسالت او دیۃ بقدرھا فاحتمل السیل زبداً رابیاً اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے لیے ضرب المثل بیان فرمائی ہے کفر کو اس جھاگ کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو پانی پر اٹھتی ہے، یہ ختم ہوجاتی ہے اور وادیوں کی ایک جانب میں جمع ہوتی ہے اور ہوائیں اسے دھکیل کرلے جاتی ہیں پس اسی طرح کفر بھی چلا جاتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے۔ مجاہد نے کہا : فسالت اودیۃ بقدرھا، بقدرھا سے مراد بقدر ملئھا ہے یعنی اپنے بھرنے کے اندازے کے مطابق۔ ابن جریج نے کہا : اس سے مراد اپنے چھوٹے اور بڑے ہونے کے حساب سے۔ اشہب عقیلی اور حضرت حسن بصری نے بقدرھا دال کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ اور ایک قول یہ ہے : اس کا معنی ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر فرمایا۔ الأودیہ وادی کی جمع ہے اور اس کو وادی اس لیے کہتے ہیں کہ یہ نکلتی اور بہتی ہے۔ اس بنیاد پر وادی بہنے والے پانی کا نام ہے۔ ابو علی نے کہا : أودیۃ توسع ہے یعنی اس کا پانی بہنے لگا تو اسے حذف کردیا گیا، یعنی سال ماءھا اور بقرھا کا معنی بقدر میائھا ہے، کیونکہ وادی بذات خود اپنے اندازے سے نہیں بہتی۔ فاحتمل السیل زبدا رایبا یعنی پانی کے اوپر اٹھنے اور بلند ہونے والی، مجاہد کا کہا گیا کلام یہاں ختم ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ومما یوقدون علیہ فی النار یہ دوسری ضرب المثل ہے۔ ابتغآء حلیۃ یعنی سونے اور چاندی کے زیور۔ او متاع زبد مثلہ مجاہد نے کہا : متاع سے مراد لوہا، بحاس اور کچ ہے اور زبد مثلہ سے مراد ہے کہ یہ چیزیں جھاگ پھینکتی ہیں جس طرح کہ پانی کا بہاؤ پھینکتا ہے اور صرف پانی کا بہاؤ جھاگ پھینکتا ہے کیونکہ پانی میں زمین کی مٹی شامل ہوجاتی ہے تو وہ اس کو جھاگ بنا دیتی ہے۔ اسی طرح جواہرات، سونے اور چاندی وغیرہ میں سے وہ چیزیں جو زمین کے معاون میں سے ہیں ان کو جب آگ پر گرم کیا جاتا ہے تو مٹی ان کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے۔ تو انہیں آگ پر گرم کیا جاتا ہے تاکہ وہ پگھل جائیں تو زمین کی مٹی زائل ہوجاتی ہے۔ کذلک یضرب اللہ الحق والباطل، وما الذبد فیذھب جفاء مجاہد نے جفاء کا معنی جمودا کیا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا کہ ابو عمرو بن علاء نے کہا ہے : جب ہانڈی میں ابال آئے اور جھاگ کو باہر پھینک دے تو أجفأت القدر کہا جاتا ہے۔ اور جفاء سے مراد وہ ہے وادی نے جسے باہر پھینک دیا ہو۔ ابو عبیدہ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رؤبۃ کو جفالا پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : جب ہانڈی جھاگ کو باہر پھینک دے تو اجفلت القدر کہا جاتا ہے، اور جب ہوا بادلوں کو ختم کر دے تو أجلفت الریح السحاب کہا جاتا ہے۔ واما ما ینفع الناس فیمکث فیا لارض مجاہد نے کہا : اس سے مراد خالص اور صاف شفاف پانی ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس سے مراد پانی اور سونے، چاندی، لوہے، نحاس اور کچ میں سے جو خالص ہوچکا ہو وہ ہے۔ ان دونوں ضرب الامثال کو اللہ تعالیٰ نے حق کے ثبات کے سلسلہ میں حق کے لیے اور باطل کے اضمحلال کے سلسلہ میں باطل کے لیے بیان کیا ہے، باطل اگرچہ بعض حالات میں بہت بلند ہوتا ہے تاہم جھاگ اور خبث کی طرح ختم ہوجاتا ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس سے مراد یہ ضرب المثل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن اور قرآن میں سے جو دلوں میں داخل ہوتا ہے اس کی مثال بیان فرمائی ہے، قران کو بارش کے ساتھ تشبیہ دی وجہ شبہ اس کی بھلائی کا عام ہونا اور اس کے نفع کا باقی ہونا ہے اور دلوں کو وادیوں کے ساتھ تشبیہ دی کہ ان میں قران داخل ہوتا ہے جس طرح کہ وادیوں میں ان کی وسعت اور تنگی کے حساب سے داخل ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : انزل من السمآء مآء، یعنی قرانا۔ فسالت اودیۃ بقدرھا آپ نے فرمایا : أودیۃ بندوں کے دل میں۔ صاحب ” سوق العروس “ نے کہا : اگر یہ معنی صحیح ہے تو معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں قران کی مثال پانی کے ساتھ بیان فرمائی اور دلوں کی وادیوں کے ساتھ اور محکم کی صافی جبکہ متشابہ کی ” زبد “ کے ساتھ مثال بیان فرمائی ہے۔
ایک قول کے مطابق جس طرح کہ وادی کا پانی صاف ستھرا چلتا ہے تو وادی میں جو کچھ ہوتا ہے اس کو اٹھالے جاتا ہے اور جہاں تک سونے اور چاندی کے زیورات کی بات ہے تو یہ ان اچھے احوال اور پاکیزہ اخلاق کی طرح ہیں جن کی وجہ سے مردوں کی خوبصورتی اور اعمال کی نیکی کی بنیاد ہے، جس طرح سونے اور چاندی سے عورتوں کی زینت ہے اور ان کی وجہ سے اشیاء کی قیمت ہے۔ حمید، ابن محیصن، أعمش، حمزہ، کسائی اور حفص نے یوقدون یا کے ساتھ پڑھا ہے اور ابو عبیدہ نے بھی ینفع الناس کی وجہ سے اسی کو اختیار کیا تو اس لیے خبر دینا مقصود ہے اور یہاں مخاطبت کی کوئی صورت نہیں جبکہ باقی قرأء نے کلام کے آغاز میں افاتخذتم من دونہ اولیاء کی وجہ سے تا کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور فی النار محذوف کے متعلق ہوگا یہ حال کی جگہ پر ہے جبکہ ذوالحال علیہ کی ھا ضمیر ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی : ومما توقدون علیہ ثانتا فی النار أو کائنا اور فی النار میں ایک ضمیر مرفوع ہے جو اس ھا کی طرف لوٹتی ہے جو ذوالحال کا اسم ہے۔ اور فی النار کو یؤقدون کے متعلق کرنا درست نہیں کیونکہ أوقدت علیہ فی النار درست نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ موقد علیہ نار میں ہوگا تو اس صورت میں توفی النار کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ابتغاء حلیۃ مفعول لہ ہے۔ زبد مثلہ مبتدا اور خبر ہیں، یعنی زبد مثل السبیل ایک قول یہ ہے کہ زبد کی خبر فی النار ہے۔ کسائی کے نزدیک زبد مبتدا ہے اور مثلہ اس کی صفت ہے اور خبر اس سے ماقبل جملے میں ہے اور وہ مما یوقدون کا جملہ ہے۔ کذلک یضرب اللہ الامثال یعنی جس طرح اس نے تمہارے لیے یہ مثالیں بیان فرمائیں ہیں اسی طرح وہ دلائل بیان فرماتا ہے۔ پھر فرمایا : للذین استجانوا لربھم یعنی جنہوں نے اپنے رب کا حکم مان لیا، استجاب بمعنی أجاب ہے شاعر نے کہا ہے :
فلم یستجبہ عند ذاک مجیب
لم یستجبہ بمعنی لم یجبہ ہے۔
یعنی انہوں نے توحید اور نبوت وغیرہ میں سے جن کی طرف اللہ نے دعوت دی ہے ان کو مان لیا۔ الحسنی کیونکہ یہ بات بھلائی کی انتہا میں ہے۔ ایک قول یہ ہے : الحسنی سے مراد دنیا میں مدد اور کل باقی رہنے والی نعمت یعنی جنت ہے۔ والذین لم یستجیبوا لہ یعنی اس پر ایمان لانے کو جنہوں نے نہیں مانا۔ لو ان لھم ما فی الارض جمیعا یعنی مال وغیرہ میں سے و مثلہ معہ یعنی یہ ان کی ملکیت میں ہو۔ لافتدوا بہ قیامت کے دن کے عذاب کا فدیہ دیں، اس کی مثال سورة ” آل عمران “ میں ہے کہ : ان الذین کفروا لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولادھم من اللہ شیئا (آل عمران :10) بیشک جنہوں نے کفر اختیار کیا نہ بچا سکیں گے انہیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ (کے عذاب) سے کچھ نہیں۔ ان الذین کفروا وماتؤادھم کفار فلن یقبل من احدھم ملء الارض ڈھبا ولو افتدی بہ (آل عمران : 91) جن لوگوں نے کفر کیا اور مرگئے کفر ہی کی حالت میں تو ہرگز نہ قبول کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے کسی گناہ سے صرف نظر کیا جائے گا۔ فرقد سخی نے کہا کہ حضرت ابراہیم نخعی نے کہا : اے فرقد ! کیا تو جانتا ہے کہ سوء الحساب کیا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ! انہوں نے کہا : سوء الحساب یہ ہے کہ آدمی کے تمام گناہوں کا حساب لیا جائے اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑا جائے۔ وما وھم یعنی ان کا مسکن اور مقام جھنم وبئس المھاد یعنی وہ بستر جو خود انہوں نے اپنے لیے تیار کیا ہے۔
قولہ تعالیٰ : افمن یعلم انما انزل الیک من ربک الحق کمن ھو اعمی
یہ ضرب المثل اللہ تعالیٰ نے مومن و کافر کے لیے بیان فرمائی ہے، روایت ہے کہ یہ حضرت حمزہ بن عبد المطلب ؓ اور ابو جہل لغتہ اللہ علیہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اعمی سے مراد دل کا اندھا ہے اور جو دین سے جاہل ہوتا ہے وہ دل کا اندھا ہے۔ انما یتذکر اولوا الباب نصیحت صرف وہی قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔
Ayah 13:20آیت نمبر 20
اس میں دہ مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : الذین یوفون بعھد اللہ یہ عقلمندوں کی صفت ہے یعنی نصیحت صرف وہی عقلمند قبول کرتے ہیں جو اللہ کے ساتھ کیے ہوئے وعدہ کو پورا کرتے ہیں۔ العھد اسم جنس ہے یعنی اللہ کے تمام وعدے اور وہ اس کے وہ أوامر اور نواہی ہیں جو اس نے اپنے بندوں کو فرمائے ہیں۔ ان الفاظ کے تحت تمام فرائض کا التزام اور تمام گناہوں سے بچنا شامل ہے۔ ولاینقضون المیثاق اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تو تمام وعدوں کی جنس مراد ہو یعنی جب وہ اللہ کی اطاعت میں کوئی وعدہ کرتے ہیں تو اسکو نہیں توڑتے۔ حضرت قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے وعدوں کو توڑنے اور ان سے روکنے کے بارے میں بیس اور کچھ آیات اپنے بندوں کو دی ہیں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس کے ذریعے کسی معین وعدہ کی طرف اشارہ مقصود ہو، اور یہ وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے اس وقت لیا تھا جب اس نے انہیں اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کی صلب سے نکالا تھا۔ قفال نے کہا : اس سے مراد توحید نبوت کے وہ دلائل ہیں جو اس نے بندوں کی عقل میں ڈال دئیے ہیں۔
مسئلہ نمبر 2: ابو داؤد اور دیگر لوگوں نے حضرت عوف بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ہم سات، آٹھ یانو آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا :ْْکیا تم رسول اللہ ﷺ کی بیعت نہیں کرتے ؟ٗٗٗاور ہم بیعت کے ذریعے عہد کے متعلق گفتگو کر رہے تھے تو ہم نے عرض کیا : ہم نے آپ کی بیعت کرلی ہے۔ آپ نے تین دفعہ یہ الفاظ ارشاد فرمائے، تو ہم نے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے اور آپ کی بیعت کرلی، ایک کہنے والے نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کی بیعت کرلی تھی تو ہم کس بات پر آپ کی بیعت کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” اس بات پر کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، پانچ نمازیں پڑھو گے، تو جہ سے سنو گے اور اطاعت کرو گے “۔ اور آپ نے راز داری سے ایک کلمہ ارشاد فرمایا۔ اور فرمایا ” لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کروگے “ حضرت عوف بن مالک ؓ نے فرمایا کہ اس جماعت کے کسی بندے کا چابک بھی گر جاتا تو وہ اسے بھی پکڑانے کے لئے کسی سے سوال نہ کرتا۔ ابن عربی نے کہا : نصیحت میں بڑے وعدوں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی سے سوال نہ کیا جائے۔ حضرت ابو حمزہ خراسانی اللہ کے (نیک) بندوں میں سے تھے انہوں نے سنا کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی اس بات پر بیعت کی ہے کہ وہ کسی سے سوال نہیں کریں گے، تو ابو حمزہ نے کہا : اے پروردگار ! ان لوگوں نے تو تیرے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو یہ وعدہ کیا میں تیرے ساتھ وعدہ کرتا ہوں کہ کسی سے کچھ بھی نہیں مانگوں گا۔ شام سے مکہ کی طرف حج کے ارادے سے نکلے رات کے وقت راستے میں چل رہے تھے کہ اپنے دوستوں سے کسی عذر کی وجہ سے پیچھے رہ گئے پھر ان کے پیچھے پیچھے چلتے رہے، اسی دوران راستے کے کنارے پر واقع ایک کنوئے میں گر گئے۔ جب کنوئے کے پیندے میں پہنچے تو سوچا کی کسی سے مدد طلب کروں ہوسکتا ہے کوئی سن لے۔ پھر سوچا کہ جس کے ساتھ میں نے عہد کیا ہوا ہے وہ مجھے دیکھ بھی رہا ہے اور سن بھی رہا ہے، اللہ کی قسم ! کسی انسان کے لیے ایک حرف بھی نہیں بولوں گا، پھر تھوڑی ہی دیر گزری کہ اس کنویں سے ایک وفد گزرا جب انہوں نے کنویں کو راستے کے کنارے پر دیکھا تو انہوں نے کہا : اس کنویں کو بند کردینا چاہیے، انہوں نے لکڑیاں کاٹیں اور انہیں کنویں کے منہ پر رکھ کر مٹی کے ساتھ انہیں ڈھانپ دیا، جب ابو حمزہ نے یہ دیکھا تو سوچا : یہ تو ہلاکت گاہ ہے، پھر لوگوں سے مدد طلب کرنا چاہی مگر کہا : اللہ کی قسم ! میں کبھی بھی اس عہد سے نہیں نکلوں گا، پھر اپنے نفس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : کیا تو نے اس کے ساتھ عہد نہیں کر رکھا جو تجھے دیکھ رہا ہے ؟ پس خاموش ہوگئے اور توکل کرلیا، پھر اپنے معاملہ میں غور و فکر کرتے ہوئے کنویں کے پیندے میں ٹیک لگالی تو اچانک مٹی پڑی اور لکڑی اوپر اٹھ گئی اور اسی دوران کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا : اپنا ہاتھ لاؤ ! ابو حمزہ نے کہا : میں نے اسے اپنا ہاتھ دے دیا تو اس نے ایک جست میں مجھے کنویں کے کنارے پر پہنچا دیا، باہر نکلا تو کسی کو بھی نہ پایا، غیب سے آواز سنی جو کہہ رہا تھا : تو نے توکل کا پھل کیسا پایا ؟ تو ابو حمزہ نے یہ اشعار کہے :
نھانی حیائی منک أن أکشف الھوی فاغنیتنی بالعلم منک عن الکشف
تلفت فی امری فأبدیت شاھدی إلی غائبی واللطف یدرک باللطف
ترائیت لی بالعلم حتی کا نما تخبرنی بالغیب أنک فی کف
أرانی وبی من ھیبتی لک وحشۃ فتونسنی باللطف منک وبالعطف
وتحیی محبا أنت فی الحب حتفہ وذا عجب کیف الحیاۃ مع الحتف
ابن عربی نے کہا : یہ ہے وہ آدمی جس نے اللہ کے ساتھ عہد کیا تو اسے تمام و مکمل پورا کیا، پس اس کی اقتدا کرو انشاء اللہ ہدایت پاجاؤ گے۔ ابو الفرج نے کہا : اس آدمی نے اس مقام پر بزعم خویش جو توکل اختیار کیا یہ درست نہیں۔ اگر وہ توکل کا معنی سمجھ لیتا تو اسے پستہ چل جاتا کہ اس حالت میں کسی سے مدد طلب کرنا توکل کے منافی نہیں، جس طرح رسول اللہ ﷺ کا مکہ سے چھپ کر نکلنا توکل سے خارج نہیں پھر آپ کا کوئی حیلہ سوچنا، اس معاملہ کا پوشیدہ رکھنا اور اپنے آپ کو غار میں چھپانا اور سراقہ کو اخف عنا کے الفاظ ارشاد فرمانا (توکل کے منافی نہیں) پس وہ توکل جو قابل تعریف ہے وہ کسی ممنوع فعل کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا، اور کنویں میں یہ صورت اختیار کرنا اس کے لئے ممنوع تھا۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کے لیے آلات پیدا فرمائے ہیں جن کے ذریعے وہ ضرر کو دور کرسکتا ہے اور ایسے آلات بھی پیدا فرمائے ہیں جن کے ذریعے وہ ضرر کو دور کرسکتا ہے اور ایسے آلات بھی پیدا فرمائے ہیں جن کے ذریعے وہ نفع حاصل کرسکتا ہے، اگر وہ ان آلات کو توکل کا دعویٰ کرتے ہوئے معطل کر دے تو یہ اس کی توکل سے عدم واقفیت اور تواضح کی حکمت کی تردید پر دلیل ہے، کیونکہ توکل تو اللہ تعالیٰ کی ذات پر دل کے اعتماد کا نام ہے اور اسباب کو ختم کردینا توکل کی ضرورت میں سے نہیں ہے۔ اگر کوئی آدمی بھوکا ہو اور کسی سے کچھ نہ مانگے اور مر جائے تو جہنم میں جائے گا، یہ حضرت سفیان ثوری اور دیگر لوگوں کا قول ہے، کیونکہ اسلام کے طریقوں کی جانب اس کی رہنمائی کی گئی ہے، اب اگر اس نے وہ طریقے اختیار نہیں کیے تو خود اپنے قتل پر اپنی معاونت کی ہے۔ ابو الفرج نے کہا : ابو حمزہ کے قول فجاء اسد فاخرجنی (شیر آیا تو اس نے مجھے نکالا) قابل التفات نہیں کیونکہ اگر یہ صحیح بھی ہوتب بھی ایسا اتفاقاً ہوا ہے اور ایک جاہل آدمی پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہوئی ہے اور اس کا تو کوئی بھی انکار نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ مہربانی کی ہوگی، انکار تو اس کے اپنے فعل کا ہے جو اس نے کیا، کیونکہ اس کا اپنا فعل خود اس کی اپنی جان کے قتل پر معاونت تھی جو جان اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت تھی اور اللہ نے اسے اس کی حفاظت کا حکم فرما رکھا تھا۔
Ayahs 13:21–24آیت نمبر 21 تا 24
قولہ تعالیٰ : والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل حضرت قتادہ اور اکثر مفسرین کے نزدیک یہ صلہ رحمہ کے بارے میں ظاہر ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ تمام علامات کو بھی شامل ہے۔ ویخشون ربھم ایک قول یہ ہے : قطع رحم کے بارے میں وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں جبکہ ایک قول کے مطابق تمام نافرمانیوں اور گناہوں سے ڈرتے ہیں۔ ویخافون سوء الحساب، سوء الحساب سے مراد یہ ہے کہ حساب میں سختی اور مناقشہ کیا جائے گا اور جس سے تفصیلی حساب سختی سے لیا گیا اسے عذاب دیا (ہی) جائے گا۔ حضرت ابن عباس اور سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا : یصلون ما امر اللہ بہ کا معنی تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانا ہے۔ حضرت حسن نے کہا : یہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ صلہ رحمہ کے بارے میں ہے اور چوتھا احتمال یہ بھی ہے کہ نیک عمل کے ساتھ ایمان پر کاربند رہیں، ویخشون ربھم اور ایسے معاملات کے بارے میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں جن کو بجالانے کا اس نے انہیں حکم دیا ہے۔ ویخافون سوء الحساب ان معاملاے کو چھوڑنے کے حوالے سے حساب کی سختی سے ڈرتے ہیں ؛ پہلا قول ان سب اقوال کو شامل ہے۔ باللہ توفیقنا۔
قولہ تعالیٰ : والذین صبروا ابتغآء وجہ ربھم ایک قول کے مطابق یہ جملہ مستانفہ ہے کیونکہ صبروا فعل ماضی ہے لہٰذا یوفون پر اس کا عطف نہیں ہوسکتا۔ اور ایک قول یہ ہے : یہ بھی گزشتہ لوگوں کی ہی صفت ہے۔ اور صفت کبھی لفظ ماضی کے ساتھ جائز ہوتی ہے اور کبھی مضارع کے لفظ کے ساتھ، کیونکہ اس صورت میں معنی یہ ہوگا میں یفعل کذا فلہ کذا جو ایسا کرے گا تو اس کے لیے ایسا ہوگا۔ جب والذین متضمن بمعنی شرط ہے اور شرط میں ماضی، مضارع کے معنی میں ہوتی ہے تو ایسا جائز اور درست ہوگا۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے الذین یوفون فرمایا پھر والذین صبروا فرمایا اور پھر اس پر عطف کرتے ہوئے یدرءون بالحسنۃ السیئۃ فرمایا ہے۔ ابن زید نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کیا اور اللہ کی نافرمانی سے صبر کیا۔ عطا نے کہا : انہوں نے مصائب و آلام اور حوادث و نوائب پر صبر کیا۔ ابو عمران جونی نے کہا : جنہوں نے اللہ کی خوشنودی کے لیے اپنے دین پر صبر کیا۔ واقاموا الصلوٰۃ یعنی انہوں نے نمازوں کو ان کے فرائض سمیت اور ان کے اوقات میں خشوع و خضوع سے ادا کیا۔ وانفقوا مما رزقنھم سرا وعلانیۃ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک اس سے مراد فرض زکوٰۃ ہے۔ اس کے بارے میں سورة ” بقرہ “ میں تفصیلی گفتگو گزر چکی ہے۔ یدرءون بالحسنۃ السیئۃ یعنی وہ برے اعمال کو نیک اعمال کے ذریعے رد کرتے ہیں، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ابن زید نے کہا : بھلائی کے ذریعے برائی کو روکتے ہیں۔ حضرت سعید بن جبیر کے نزدیک نیکی کے ذریعے برائی کو دور کرتے ہیں۔ ضحاک نے کہا : سلام کے ذریعے فحش کو دور کرتے ہیں۔ جو یبر نے کہا : عفو کے ذریعے ظلم کو روکتے ہیں۔ ابن شجرہ نے کہا : توبہ کے ذریعے گناہ کو دور کرتے ہیں۔ قتیبی نے کہا : بردباری کے ذریعے جاہل کی بےوقوفی کو روکتے ہیں اور بےوقوفی سے مراد برائی اور بردباری سے مراد نیکی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جب وہ گناہ کا ارادہ کرتے ہیں تو اس سے رجوع کرلیتے ہیں اور استغفار کرتے ہیں، جبکہ ایک قول کے مطابق : لا الہ اللہ کی گواہی کے ذریعے وہ شرک کو دور کرتے ہیں۔ یہ اقوال ہیں اور تمام کا معنی قریب قریب ہے، پہلا معنی بالعموم سب کو شامل ہے اور اس کی مثال : ان الحسنت یذھبن السیات (ہود : 114) ہے (بےشک نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں) اسی سے نبی کریم ﷺ کا حضرت معاذ ؓ کیلئے ارشاد ہے : اتبع السیئۃ الحسنۃ تمحھا و خالق الناس بخلق حسن گناہ کے بعد نیکی کر یہ اس کو مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھی طرح معاملہ کر۔
قولہ تعالیٰ : اولئک لھم عقبی الدار یعنی آخرت کی عاقبت اور وہ دوزخ کے بدلے میں جنت ہے۔ اور مستقبل میں دار دو ہی
ہوں گے، فرماں بردار کے لیے جنت اور نافرمان کے لیے دوزخ، پس جب اطاعت گزاروں کی صفات کو بیان فرمایا تو لامحالہ طور پر ان کا دار جنت ہی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے : دار سے مراد دار دنیا ہے، یعنی جو انہوں نے اطاعت و فرمانبرداری والے کام کیے ہیں ان کی جزا انہیں دار دنیا میں ہی مل جائے گی۔
قولہ تعالیٰ : جنت عدن یدخلونھا یعنی ان کے لئے سدا بہار باغات ہیں، جنت عدن، عقبی سے بدل ہے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ عقبی الدار کی تفسیر ہو یعنی لھم دخول جنات عدن کیوں کہ عقبی الدار حدث ہے اور جنت عدن عین، اور حدث اپنے جیسے حدث کی تفسیر بیان کرتا ہے، پس محذوف مصدر مفعول کی طرف مضاف ہوگا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنت عدن مبتدا محذوف کی خبر ہو اور جنت عدن جنت کا درمیانی اور سب سے بڑا حصہ ہے، اور اس کی چھت رحمن کا عرش ہے۔ یہ ابو نصر عبد الرحیم قشیری کا قول ہے اور صحیح بخاری میں ہے : ” جب تم اللہ سے مانگو تو فردوس کا سوال کرو بیشک یہ اوسط الجنۃ اور اعلیٰ الجنۃ ہے، اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں “۔ ہوسکتا ہے جنت عدن بھی اسی طرح ہو، حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ نے فرمایا : جنت میں ایک محل ہے جسے عدن کہا جاتا ہے اس کے اردگرد بروج اور مروج ہیں، اس میں ایک ہزار دروازہ ہے، ہر دروازے پر پانچ ہزار یمنی منقش چادریں ہیں اس میں صرف نبی، صدیق اور شہید ہی داخل ہوسکتے ہیں۔ عدن، عدن بالمکان سے ماخوذ ہے یہ اس وقت بولتے ہیں جب کوئی مکان میں مقیم ہوجائے، اس کا بیان انشاء اللہ سورة ” کہف “ میں آئے گا۔ ومن صلح من ابآئھم وازواجھم وذریتھم، اولئک پر اس کا عطف بھی ہوسکتا ہے، معنی ہوگا اولئک ومن صلح من آبائھم وأزواجھم وذریاتھم لھم عقبی الدار اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یدخلون میں ضمیر مرفوع پر اس کا عطف ہو اور یہ عطف صحیح و عمدہ بھی ہے کیونکہ ان دونوں کے درمیان ضمیر منصوب حائل ہے اور یہ معنی بھی ہوسکتا ہے : یدخلونھا ویدخلھا من صلح من آبائھم یعنی وہ جو نیک ہو، اور نام و نسب کی وجہ سے وہ داخل نہیں ہوں گے، اور ” من “ محل نصب میں بھی ہوسکتا ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی : وہ ان نیکوں کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے اگرچہ ان کے اعمال ان کی طرح نہیں ہوں گے مگر اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کی عزت کی وجہ سے انہیں بھی ملا دے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ صلاح یا نیکی، اللہ اور رسول پر ایمان لاتا ہے اور اگر انکے پاس ایمان کے ساتھ ساتھ دیگر نیکیاں بھی ہوں گی تو وہ اپنی طاعات کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے نہ کہ ان کے تابع ہونے کی وجہ سے۔ قشیری نے کہا : اس میں نظر ہے کیونکہ ایمان تو ضروری ہے، پس عمل صالح کی شرط کا قول ایسا ہی ہے جیسا کہ ایمان کی شرط کا قول ہے۔
اظہر یہ ہے کہ یہ صلاح تمام اعمال میں ہے اور معنی یہ ہوگا کہ کل بروز قیامت ان پر نعمت اس طرح مکمل ہوگی کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں سمیت جنت میں جمع ہوں گے، اور ہر انسان اپنے ذاتی عمل کے ذریعے جنت میں داخل نہیں ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ساتھ جنت جائے گا۔
قولہ تعالیٰ : والملئکۃ یدخلون علیہم من کل باب یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر مہربانی کرتے ہوئے ہدایا اور تحائف کے ساتھ فرشتے ان کے پاس ہر دروازے سے آئیں گے۔ سلم علیکم یعنی وہ کہیں گے : سلم علیکم، قول کو مضمر کردیا یعنی تم آفات اور ابتلاء سے سلامت ہو۔ ایک قول یہ ہے : اگرچہ وہ سلامت اور محفوظ ہیں تاہم یہ ان کے لیے ہمیشہ کی سلامتی کی دعا ہے : یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں سلامت رکھے گا، یہ خبر ہے اور اس کا معنی دعا ہے، اور عبودیت کے اعتراف کو متضمن ہے۔ بما صبرتم یعنی بصبرکم، ما فعل کے ساتھ آئے تو فعل مصدری معنی میں ہوجاتا ہے اور ما کے ساتھ آنے والی با، علم علیکم کے متعلق ہوگی۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ محذوف کے متعلق ہو یعنی ھذا الکرامۃ بصبرکم یہ عزت تمہارے صبر کی وجہ سے ہے۔ یعنی جو اللہ کے امر اور نہی پر تم نے صبر کیا، یہ حضرت سعید بن جبیر کا قول ہے۔ ایک قول کے مطابق اس سے دنیا میں فقر پر صبر مراد ہے۔ یہ ابو عمران جونی کا قول ہے۔ ایک قول یہ ہے : اللہ کے راستے میں جہاد پر صبر، جس طرح کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کی مخلوق میں سے کون جنت میں داخل ہوگا ؟ “ صحابہ نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔ آپ نے فرمایا : ” وہ مجاہد جن کے ذریعے سرحدیں محفوظ ہوتی ہیں اور جن کے ذریعے ناپسندیدہ کاموں سے بچا جاتا ہے جب ان میں سے کوئی فوت ہوتا ہے اور خود اپنی حاجت کو پورا نہیں کرسکتا تو فرشتے ان کے پاس ہر دروازے سے یہ کہتے ہوئے داخل ہوتے ہیں کہ تم پر تمہارے صبر کی وجہ سے سلامتی ہو پس یہ آخرت کا گھر کیا عمدہ ہے “۔ محمد بن ابراہیم نے کہا : نبی کریم ﷺ ہر سال کے آخر میں شہداء کی قبور پر آتے اور فرماتے : سلم علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار یہی معمول حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان ﷺ کا تھا۔ بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے ذکر کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : نبی کریم ﷺ شہداء کے پاس آتے، جب دو پہاڑوں کے درمیان گھاٹی میں پہنچتے تو فرماتے : سلم علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار پھر نبی کریم ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر ؓ ونہ ایسا کرے، حضرت ابوبکر ؓ کے بعد حضرت عمر ؓ ایسا کرتے اور حضرت عمر ؓ کے بعد حضرت عثمان ؓ ایسا کرتے تھے۔ حضرت حسن بصری (رح) نے فرمایا : بما صبرتم یعنی دنیا کی فضولیات سے، ایک قول یہ ہے : بما صبرتم یعنی طاعت کی ملازمت اور معصیت کی مفارقت پر، یہ معنی فضیل بن عیاض (رح) نے بیان فرمایا ہے۔ ابن زید نے کہا : بما صبرتم یعنی جب کوئی ایسی چیز تم سے بچھڑ جاتی جس کے ساتھ تم محبت کرتے ہوتے تو اس پر صبر۔ اور بما صبرتم کا ساتواں احتمال یہ ہے کہ شہوات کی اتباع سے صبر۔ حضرت عبد اللہ بن سلام اور حضرت علی بن حسین ؓ سے مروی ہے : جب قیامت کا دن ہوگا تو پکارنے والا پکارے گا کہ صبر والے کھڑے ہوجائیں، تو لوگوں میں سے کچھ کھڑے ہوں گے انہیں کہا جائے گا : تم جنت کی طرف چلے جاؤ، تو فرشتے انہیں ملیں گے اور کہیں گے : کدھر جا رہے ہو ؟ وہ کہیں گے : جنت کی طرف، فرشتے کہیں گے : حساب سے پہلے ؟ وہ کہیں گے : ہاں ! فرشتے کہیں گے : تم کون ہو ؟ تو وہ کہیں گے : ہم صبر والے ہیں، فرشتے کہیں گے : تمہارا صبر کیا تھا ؟ وہ کہیں گے : ہم نے اللہ کی طاعت پر اپنے نفس کو صابر رکھا، اللہ کی نافرمانی سے اسے صابر رکھا اور دنیا میں آزمائش اور امتحان میں اسے صابر رکھا۔ حضرت علی بن حسین ؓ نے فرمایا : فرشتے انہیں کہیں گے : جنت میں داخل ہوجاؤ، عمل کرنے والوں کا کتنا عمدہ اجر ہے۔ ابن سلام نے کہا : فرشتے انہیں کہیں گے : سلم علیکم بما صبرتم۔ فنعم عقبی الدار۔ یعنی دار آخرت جس میں تم ہو یہ کتنا عمدہ ہے، اس میں تم نے وہی کام کیا جو تم اس سے پہلے والے دار میں کرتے رہے : عقبی اسی بنیاد پر اہم ہے اور الدار یہ دنیا ہے۔ ابو عمران جونی نے کہا : فنعم عقبی الدار یعنی جنت، دوزخ کی نسبت کتنا عمدہ گھر ہے اور انہیں سے مروی ہے : فنعم عقبی الدار یعنی جنت، دنیا کی نسبت کتنا عمدہ گھر ہے۔