Ayahs 13:25–26آیت نمبر 25 تا 26
قولہ تعالیٰ : والذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ جب اللہ تعالیٰ اپنے عہد کو پورا کرنے والوں اور اپنے حکم پر عمل پیرا ہونے والوں کا ذکر فرما چکا تو اب ان کا ذکر فرما رہا ہے جو ان کے برعکس ہیں۔ ” نقض المیثاق “ سے مراد اس کے حکم کا ترک ہے۔ ایک قول یہ ہے : اپنے عقلوں کو مہمل چھوڑ دینا مراد ہے، کہ وہ عقل کے ذریعے تدبر نہیں کرتے تاکہ اللہ کو پہچان لیں۔ ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل یعنی قطع تعلق کرتے ہیں اور تمام انبیاء پر ایمان لانے کے عہد کو قطع کرتے ہیں۔ ویفسدون فی الارض یعنی کفر اور گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اولئک لھم اللعنۃ یعنی رحمت سے دوری اور محرومی۔ ولھم سوء الدار اس سے مراد سؤ المنقلب ہے اور وہ جہنم ہے۔ حضرت سعد بن وقاص ؓ نے فرمایا : اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ! یہ آزاد لوگ ہیں۔
قولہ تعالیٰ : اللہ یبسط الرزق لمن یشآء ویقدر جب اللہ تعالیٰ نے مومن و کافر کے انجام کو ذکر فرمایا تو پھر یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں رزق کو کشادہ بھی کرتا ہے اور تنگ بھی کیونکہ یہ دار الامتحان ہے، پس کافر پر رزق کی کشادگی اس کی عزت کی دلیل نہیں اور نہ ہی کسی مومن پر رزق کی تنگی اس کی اہانت کی دلیل ہے۔ یقدر کا معنی ” یضیق “ ہے یعنی وہ تنگ کرتا ہے۔
اسی سے ومن قدر علیہ رزقہ (الطلاق :7) ہے یعنی اس نے تنگ کیا اور ایک قول کے مطابق یقدر سے مراد یہ ہے کہ وہ ضرورت کی مقدار عطا فرماتا ہے۔ وفرحوا بالحیوۃ الدنیا یعنی مشرکین مکہ دنیا پر خوش ہیں اور اس کے علاوہ سے واقف نہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اس سے جاہل ہیں۔ یہ یفسدون فی الارض پر معطوف ہے۔ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے تقدیر عبارت یہ ہے : والذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ ویقطعون ما امر اللہ بہ أن یوصل ویفسدون فی الارض وفرحوا بالحیاۃ الدنیا۔
وما الحیوۃ الدنیا فی الاخرۃ، فی الاخرۃ سے مراد فی جنب الاخرۃ ہے یعنی آخرت کے پہلو میں الا متاع یعنی متاع من الأمتعۃ جس طرح پیالا اور وہ چھوٹا برتن جس میں سالن کھایا جاتا ہے۔ مجاہد نے کہا : تھوڑی چیز جو چلی جانے والی ہے، دن چڑھا تو اسے زوال لازمی آئے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ اس طرح کا زادرہ ہے جس طرح ایک چروا ہے کے پاس زادراہ ہوتا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے : متاع الحیاۃ الدنیا د سے مراد دنیوی زندگی کا وہ حصہ ہے جس سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ ایک قول کے مطابق : اس سے مراد تقوی اور نیک عمل میں سے جو اس دنیا سے آخرت کی طرف بطور زادراہ لے جاتا ہے وہ ہے۔
Ayahs 13:27–28آیت نمبر 27 تا 28
قولہ تعالیٰ : ویقول الذین کفروا لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر واضح فرما دیا ہے کہ کفار کا سچائی پر دلالت کرنے والی ایک نشانی کو دیکھ لینے کے بعد رسولوں پر کئی نشانیوں کو پیش کرنے کا مطالبہ جہالت پر مبنی ہے اور یہ کہنے والے عبد اللہ بن ابی امیۃ اور اس کے وہ ساتھی ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے نشانیوں کا مطالبہ کیا۔ قل ان اللہ عزوجل یضل من یشآء یعنی جس طرح اس نے کئی آیات کے نزول کے بعد تمہیں گمراہ کیا اور ان سے استدلال سے تمہیں محروم رکھا اسی طرح وہ ان کے علاوہ کئی آیات کے نزول کے وقت تمہیں گمراہ کرے گا۔ ویھدی الیہ من اناب۔ اناب سے مراد ہے جس نے رجوع کیا۔ اور الیہ کی ضمیر حق، اسلام یا اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے یعنی وہ اپنے دین اور اطاعت کی طرف اسے ہدایت دیتا ہے جو اپنے دل کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اور ایک قول کے مطابق الیہ کی ضمیر نبی کریم ﷺ کی طرف راجع ہے۔
قولہ تعالیٰ : الذین امنوا، الذین مفعول ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے ؛ یعنی یھدی اللہ الذین آمنوا اور ایک قول یہ ہے کہ یہ من اناب کے ارشاد سے بدل ہے۔ وہ بھی محل نصب میں ہے۔ وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کے ذریعے سکون پذیر اور مانوس ہوتے ہیں تو مطمئن ہوجاتے ہیں، یعنی وہ اپنی زبانوں کے ذریعے اللہ کا ذکر کرکے ہمیشہ اپنے دلوں کو اطمینان دیتے ہیں، یہ قتادہ ؓ کا قول ہے۔ مجاہد اور قتادہ وغیرہ نے کہا : ذکر سے مراد قرآن ہے۔ حضرت سفیان بن عیینہ نے کہا : اس سے مراد اللہ کا امر ہے۔ مقاتل کے نزڈیک اللہ کا وعدہ اور حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک اس کے نام کی قسم ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے فضل و انعام کے ذکر کے ذریعے وہ اطمینان حاصل کرتے ہیں، جس طرح اس کے عدل، انتقام اور قضا کے ذکر سے کا نپتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے بذکر اللہ سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور اسکی آیات میں غور و فکر کرتے ہیں تو بصیرت سے اس کی قدرت کے کمال کو پہچانتے ہیں۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب یعنی مومنین کے دل۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا تعلق قسم کے ساتھ ہے، جب مد مقابل اللہ کے نام کی قسم اٹھاتا ہے تو بندہ مومن کا دل مطمئن ہوجاتا ہے۔ ایک قول یہ ہے : بذکر اللہ سے مراد اللہ کی اطاعت ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے : اس سے اللہ کا ثواب مراد ہے۔ ایک قول کے مطابق اللہ کا وعدہ مراد ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے صحابہ ہیں۔
Ayah 13:29آیت نمبر 29
قولہ تعالیٰ : الذین امنوا وعملوا الصلحت طوبی لھم مبتدا اور خبر ہے ایک قول یہ ہے : اس کا معنی لھم طوبی ہے، طوبی مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ محل نصب میں ہو اس صورت میں تقدیر عبارت : جعل لھم طوبی ہوگی اور مذکورہ دونوں صورتوں میں وحسن ماب کا اس پر عطف ہوگا، تو اس کو رفع بھی دیا جاسکتا ہے اور نصب بھی۔ عبد الرزاق نے ذکر کیا : ہمیں معمر نے عن یحییٰ بن ابی کثیر عن عمر و بن ابی یزید نکالی عن عتبہ بن عبد السلمی بیان کیا ہے انہوں نے کہا : ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، اس نے آپ سے جنت اور حوض کوثر کے بارے میں پوچھا اس نے کہا : کیا اس میں پھل ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ایک درخت ہے جسے طوبی کہا جاتا ہے “۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہماری زمین میں کون سا درخت اس کے مشابہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” تیری زمین کے درختوں میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں کیا تو شام گیا ہے وہاں ایک درخت ہے جسے ” جوزہ “ کہا جاتا ہے جو تنے پر اگتا ہے اور اپنے اوپر والے حصے کو پھیلا دیتا ہے۔ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس کے تنے کی موٹائی کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اگر تو اپنے گھر والوں کے اونٹوں مکیں سے جذعۃ کے ساتھ سفر کرے تو تب بھی تو اس کے تنے کا احاطہ نہیں کرسکتا یہاں تک کہ بڑھاپے کے سبب اس کی ہنسلی کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں “۔ اور داوی نے حدیث ذکر کی، اور ہم نے اسے ” التذکرہ “ میں ” ابواب الجنۃ “ میں مکمل طور پر لکھ دیا ہے۔ والحمدللہ۔
ابن مبارک نے ذکر کیا اور کہا : أخبرنا معمر عن الأشعث عن عبد اللہ عن شھر بن حوشب عن ابی ہریرہ ؓ آپ نے فرمایا : جنت میں ایک درخت ہے اسے ” طوبی “ کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے فرماتا ہے : میرے بندے کے لیے وہ پیدا کر جو یہ چاہے تو وہ اس کے لیے زین، لگام اور اس کی ہیبت سمیت ایک گھوڑا پیدا کرے گا جس طرح وہ چاہے گا، اور سواری والے جانور سے کجاوے، مہار اور اس کی ہیئت سمیت پیدا کرے گا جو وہ چاہے گا یعنی خالص حصے اور کپڑے۔ حضرت ابن وہب نے شہر بن حوشب والی حدیث حضرت ابو امامہ باہلی سے روایت کی ہے آپ نے کہا : ” طوبیٰ “ جنت میں ایک درخت ہے ہر گھر میں اس کی کوئی نہ کوئی ٹہنی ہوگی، کوئی خوبصورت پرندہ نہیں جو اس میں نہ ہو اور نہ ہی کوئی پھل ہے جو اس میں نہ ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے : اس کی اصل جنت میں نبی کریم ﷺ کے محل میں ہوگی، پھر اس کی ٹہنیاں اہل جنت کے گھروں میں تقسیم ہوں گی جس طرح تمام اہل دنیا میں آپ کی بارگاہ سے علم اور ایمان پھیلتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : طوبی لھم کا مطلب ہے کہ ان کے لیے خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ آپ ہی سے مروی ہے کہ طوبی حبشی زبان میں جنت کا نام ہے، یہ حضرت سعید بن جبیر ؓ کا قول بھی ہے۔
حضرت ربیع بن انس نے کہا : ہندی زبان میں یہ باغ ہے، قشیری نے کہا : اگر یہ صحیح ہے تو پھر یہ دو زبانوں کو جوڑتا ہے۔ حضرت قتادہ نے کہا : طوبیٰ لھم یعنی ان کے لیے بھلائی ہے، عکرمہ نے کہا : ان کے لیے نعمت ہے۔ حضرت ابراہیم نخعی نے کہا : ان کے لیے بہتری ہے، انہیں سے مروی ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے عزت ہے۔ ضحاک نے کہا : ان کے لیے خوشی و سرور ہے۔ نحاس نے کہا : یہ سارے اقوال قریب قریب ہیں، کیونکہ ” طوبی “ طیب سے فعلی کا وزن ہے، یعنی ان کے لیے پاکیزہ زندگی ہوگی اور یہ ساری چیزیں پاکیزہ چیز کی طرف ہی راجع ہیں۔ زجاج نے کہا :” طوبی “ طیب سے فعلی کا وزن ہے، اور یہ ان کی پاکیزگی کی حالت ہے، اس کی اصل طیبی ہے، ” یا “ ساکن ما قبل مضموم واو سے بدل گئی جس طرح کہ : موسز اور موقن۔
میں (قرطبی) نے کہا : صحیح بات یہ ہے کہ یہ درخت ہے، اس کی دلیل ہماری ذکر کردہ مرفوع حدیث ہے، یہ روایت سہیلی کی ذکر کردہ شرائط کے مطابق صحیح ہے، اس کو ابو عمر نے ” التمہید “ میں ذکر کیا ہے، اور اسی سے ہم نے اسے نقل کیا ہے۔ اسی طرح ثعلبی نے اپنی تفسیر میں اسے ذکر کیا ہے۔ المہدوی اور قشیری نے بھی اسے معاویۃ بن قرہ عن ابیہ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” طوبی “ جنت میں ایک درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے دست (قدرت) سے لگایا اور اس میں اپنی روح پھونکی زیورات اور حلے اگاتا ہے اور اس کی ٹہنیاں جنت کی دیواروں کے پیچھے سے دکھائی دیتی ہیں۔ جو اس سے زیادہ معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے وہ ثعلبی کا مطالعہ کرے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ” طوبی “ جنت میں ایک درخت ہے اس کی اصل حضرت علی ؓ کے گھر میں ہے اور ہر مومن کے گھر میں اس کی ایک ٹہنی ہے۔ حضرت ابو جعفر محمد بن علی نے کہا : نبی کریم ﷺ سے طوبی لھم وحسن ماب کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” یہ ایک درخت ہے جس کی اصل میرے گھر میں اور اس کی ٹہنیاں جنت میں ہیں “۔ آپ کو عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اصلھانی دار علی وفروعھا فی الجنۃ۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” کل جنت میں میرا گھر اور علی کا گھر ایک ہی جگہ پر ایک ہی ہوگا “۔ آپ ﷺ سے ہی مروی ہے : ” یہ ایک درخت ہے جس کی اصل میرے گھر میں ہے اور تم میں سے ہر ایک کے گھر میں اس کی ٹہنی لٹکی ہوئی ہے “۔ وحسن ماب جب کوئی واپس لوٹے تو ” آب “ کہا جاتا ہے۔ ایک قول کے مطابق تقدیر کلام یہ ہوگا : الذین آمنوا وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ وعملوا الصالحات طوبی لھم۔
Ayah 13:30آیت نمبر 30
قولہ تعالیٰ : کذلک ارسلنک فی امۃ قد خلت من قبلھا امم یعنی ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا جس طرح آپ سے پہلے انبیاء کو بھیجا، یہ حضرت حسن کا قول ہے۔ ایک قول یہ ہے : جس کی طرف حضرت محمد ﷺ کو بھیجا گیا اس پر ہونے والے انعام کو اللہ تعالیٰ نے اس کے اوپر ہونے والے انعام کے ساتھ تشبیہہ دی ہے جس کی طرف آپ سے پہلے انبیاء کو بھیجا گیا۔ لتتلوا علیھم الذی اوحینا الیک یعنی قرآن وھم یکفرون بالرحمن مقاتل اور ابن جریج نے کہا : یہ صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی جب انہوں نے کتاب الصلح لکھنا چاہی، تو نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو فرمایا : بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھو “ سہیل بن عمرو اور مشرکین نے کہا : ہم سوائے صاحب یمامہ کے رحمن کو نہیں جانتے، صاحب یمامہ سے ان کی مراد مسیلمہ کذاب تھا، لہٰذا اکتب باسمک اللھم اسی طرح زمانہ جاہلیت میں لوگ لکھتے تھے، نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو فرمایا : ” یہ لکھو جس پر محمد رسول اللہ ﷺ کی صلح ہوئی ہے “۔ قریش کے مشرکین نے کہا : اگر آپ رسول تھے تو ہم نے آپ کے ساتھ جنگ کی اور تیرا راستہ روکا تو گویا ہم نے آپ کے ساتھ ظلم کیا ہے، (وہ نہ لکھو) بلکہ یہ لکھو : یہ ہے جس پر محمد بن عبد اللہ نے صلح کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ نے کہا : ہمیں چھوڑ دیجئے ہم ان کے ساتھ جنگ کریں گے، آپ نے فرمایا : ” نہیں بلکہ وہ لکھو جو یہ چاہتے ہیں “۔ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ قریش کفار کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب نبی کریم ﷺ نے انہیں فرمایا : أسجد واللرحمن رحمن کو سجدہ کرو۔ تو انہوں نے کہا : رحمن کون ہے ؟ تو یہ حکم نازل ہوا کہ قل سے محمد ﷺ ! جنہوں نے آپ کا انکار کیا ہے انہیں فرمائیے ھو ربی لا الہ الا ھو اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اپنی ذات میں یکتا ہے اگرچہ اس کے صفاتی نام مختلف ہیں۔ علیہ توکلت یعنی میں نے اعتماد اور بھروسہ کیا والیہ متاب یعنی کل میرا لوٹنا اسی کی طرف ہوگا اور آج بھی میں نے اسی پر اعتماد اور بھروسہ کیا ہے میں اس کی قضا پر راضی اور اس کے حکم کو تسلیم کرتا ہوں۔ ایک قول یہ بھی ہے : ابو جہل نے نبی کریم ﷺ کو حجر میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا : اے اللہ اے رحمن تو اس نے کہا : محمد ہمیں کئی معبودوں کی عبادت سے روکتا ہے اور خود دو
معبودوں کو پکارتا ہے، تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور یہ بھی نازل ہوئی قل ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن (الاسراء : 110)
Ayah 13:31آیت نمبر 31
قولہ تعالیٰ : ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ کے ساتھ متصل ہے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ کا ایک گروہ جس میں ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ مخزومی بھی تھے کعبہ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف پیغام بھیجا آپ ان کے پاس آئے تو عبد اللہ نھے آپ کو کہا : اگر آپ کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ ہم آپ کی اتباع کریں تو قران کے ذریعے ہمارے پہاڑ کو چلا، اس کو ہم سے دور لے جا یہاں تک یہ پھٹ جائے، یہ تنگ زمین ہے اور اس میں ہمارے لیے چشمے اور نہریں بنا دے تاکہ ہم اس میں درخت لگائیں اور فصلیں کاشت کیرں، آپ کے خیال کے مطابق آپ اپنے رب کے نزدیک داؤد سے زیادہ کمزور نہیں ہیں کہ ان کے لیے اللہ نے پہاڑوں کو مسخر کیا وہ ان کے ساتھ چلتے تھے۔ اور ہمارے لیے ہوا کو مسخر کرو، ہم ان پر سوار ہو کر شام کو جائیں اسی پر اپنی ضروریات اور کام کریں، پھر آج ہی واپس لوٹ آئیں، آپ کے خیال کے مطابق سلیمان کے لیے ہوا مسخر تھی آپ اپنے رب کے نزدیک سلیمان بن داؤد سے زیادہ کمزور نہیں۔ ہمارے لیے اپنے دادا کی پرانی ہڈی کو زندہ کیجئے یا ہمارے مردوں میں سے جس کو چاہو زندہ کردو تاکہ ہم اس سے سوال و جواب کریں کہ کیا جو کچھ آپ کہتے ہیں یہ حق ہے یا باطل ؟ عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرتے تھے، اور آپ اپنے رب کے نزدیک ان سے زیادہ کم مرتبہ نہیں، تو اللہ تعالیٰ نے : ولا ان قرانا سیرت بہ الجبال الایۃ نازل فرمائی۔ فرمایا : زبیر بن عوام ؓ ، قتادہ اور ضحاک نے اس کا یہ معنی بیان کیا ہے اور جواب محذوف ہے اس کی تقدیر لکان ھذا القران ہے، لیکن اسے ایجاز احذف کردیا گیا کیونکہ کلام کے ظاہر میں اس پر دلالت موجود تھی۔ جس طرح امرؤ القیس نے کہا :
فلوأنھا نفس تموت جمیعۃ ولکنھا نفس تساقط انفسا
اس سے مراد ہے کہ لھن علی یہ حضرت قتادہ کے قول کا معنی ہے، آپ نے کہا : اگر تمہارے قران سے پہلے کسی قران نے ایسا کیا ہے تو تمہارا قرآن بھی ضرور ایسا کرے گا۔ ایک قول یہ ہے : اس کا جواب مقدم ہے، اور کلام میں تقدیم و تاخیر ہے، یعنی وھم یکفرون بالرحمن لو أنزلنا القران وفعلنا بھم ما اقترحوا۔ فرا نے کہا : جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” اگر قرآن ان کے ساتھ یہ بھی کردیتا تو بھی وہ رحمن کا انکار کرتے “۔ زجاج نے کہا : ولو ان قرانا سے لے کر الموتی تک پڑھنے کے بعد جواب ہے لما آمنوا کہ تب بھی وہ ایمان نہ لاتے یہاں تو مضمر جواب ولو اننا نزلنا الیھم الملئکۃ سے لے کر ما کانوا لیؤمنوا الا ان یشآء (انعام :111) تک کے ارشاد سے زیادہ ظاہر ہے۔ بل اللہ الامر جمیعا یعنی وہ تمام امور کا مالک ہے، اس میں سے جو چاہتا ہے کرتا ہے، جو تم چاہتے ہو یہ قران کے ذریعے نہیں ہوگا بلکہ اللہ کے امر کے ذریعے ہوگا۔
قولہ تعالیٰ : افلم یایئس الذین امنوا، فراء نے کہا کہ کلبی نے کہا ہے : نخع کی لغت یہ ہے کہ ییئس بمعنی یعلم ہے اس کو قشیری نے حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کیا ہے ؛ یعنی أفلم یعلموا جو ہری نے ” الصحاح “ میں بھی یہی بیان کیا ہے۔ ایک قول کے مطابق : یہ ہوازن کی لغت ہے ؛ یعنی أفلم یعلم ؛ حضرت ابن عباس ؓ، مجاہد اور حسن سے بھی مروی ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : أفلم یعلموا ویتبینوا یعنی کیا وہ نہیں جانتے اور انکو واضح نہیں ہوا، اس سلسلہ میں ابو عبیدہ نے مالک بن عوف نصری کا شعر پڑھا ہے :
أقول لھم بالشعب إذ بیسروننی ألم تیاسوا أتی ابن فارس زھدم
ألم تیأسوا شعر میں بھی ألم یعلموا کے معنی میں ہے۔
یسیروننی، میسر سے ہے سورة ” بقرہ “ میں یہ گزر چکا ہے اور یأسروننی کا لاسر سے مشتق ہونا بھی مروی ہے۔ رجاح بن عدی نے کہا :
ألم ییئس الأقوام انی أنا ابنہ وان کنت عن أرض العشیرۃ نائیآ
یہاں بھی افلم یایئس بمعنی ألم یعلم ہے۔ اور کتاب الرد میں أنی أنا ابنہ ہے۔ غزنوی نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے : یعنی ألم یعلم معنی یہ ہوگا : کیا نہیں جانتے ایمان والے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کو بغیر ان کے نشانیاں دیکھنے کے ہدایت دے دیتا۔ ایک قول یہ ہے : یہ یأس جو کہ معروف ہے اسی سے ہے، یعنی کیا ایمان والے ان کافروں کے ایمان سے مایوس نہیں ہوئے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دینا چاہتا تو ہدایت دے دیتا، کیونکہ مومنین نے کفار کے ایمان میں طمع کرتے ہوئے نزول آیات کی تمنا کی۔ حضرت علی اور حضرت ابن عباس ؓ نے : أفلم یتبین الذین آمنوا پڑھا ہے جو کہ ” البیان “ سے ہے۔ قشیری نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ کو کہا گیا کہ لکھا ہوا تو أفلم یایئس ہے آپ نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ کاتب نے اسے لکھا تو وہ اونگھ کی حالت میں تھا، یعنی اس نے کچھ حروف زیادہ کر دے حتیٰ کہ یائیس ہوگیا۔ ابوبکر انبیاری نے کہا : عکرمہ نے ابن ابی نجیح سے روایت کیا ہے کہ اس نے أفلم یتبین الذین آمنوا پڑھا ہے۔ اور جس نے اس کی تلاوت میں درست سمجھا اس نے اس سے ہی استدلال کیا ہے اور یہ حضرت ابن عباس ؓ سے باطل ہے، کیونکہ مجاہد اور سعید بن جبیر عن ابن عباس ؓ ہے۔ پھر اسکا معنی : أفلم یتبین ہے، پس اگر اللہ کی مراد اس لفظ کے تحت ہے جس کے ذریعے انہوں نے اجماع کی مخالفت کی ہے تو ہماری قرأت اس پر واقع ہوگی اور اس کی تاؤیل آئے گی اور اگر اللہ تعالیٰ نے وہ دوسرا معنی مراد لیا ہے جس میں یاس ہے جو علم کے طریق سے نہیں تو جو اعتراض انہوں نے کیا ہے وہ ساقط ہوگیا، اور جہاں تک اس کے سقوط کا تعلق ہے تو یہ قران کو باطل کردیتا ہے اور قران والوں پر بہتان لازم آتا ہے۔ ان لو یشآء اللہ، أن مخففہ من المثقلہ ہے۔ یعنی ان لو یشآء اللہ، لھدی الناس جمیعا یہ قدریہ وغیرہ کا رد ہے۔
قولہ تعالیٰ : ولا یزال الذین کفروا تصیبھم بما صنعوا قارعۃ یعنی مصیبت جو ان کو ان کے کفر اور سرکشی کی وجہ سے پریشان کرے گی، جب کسی کو مصیبت لاحق ہو تو قرعہ أمر کہا جاتا ہے، اس کی جمع قوارع ہے اور قرع میں اصل ضرب المثل ہوتی ہے شاعر نے کہا :
أفنی تلادی وما جمعت من نشب قرع القوافیر أفواہ الأباریق
یعنی کفار اس حالت میں رہیں گے کہ جس طرح مشرکین کے سرداروں کو استہزاء کی وجہ سے عذاب نے پکڑا تھا اسی طرح ان کو بھی بجلی کی کڑک سے ہلاک کردینے والی مصیبت و صدمہ پہنچتا رہے گا جس طرح اربد کو لاحق ہوا تھا اسی طرح قتل، قید، قحط سالی یا اس کے علاوہ عذاب و آزمائش کی صورتوں میں سے کوئی نہ کوئی صدمہ انہیں ملتا رہے گا۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہوئے کہا : القارعۃ کا معنی النکبۃ یعنی مصیبت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور عکرمہ نے یہ بھی کہا ہے : القارعۃ سے مراد وہ جنگیں اور سرایا ہیں جو نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے بھیج دئیے تھے۔ او تحل یا مصیبت اترتی رہے گی قریبا من دارھم یہ حضرت قتادہ اور حسن کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : أوتحل أنت قریبا من دارھم۔ ایک قول یہ ہے : آیت مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی ہے، یعنی ان پر مصیبت نازل ہوتی رہے گی پس وہ ان کے صحن میں یا ان کے بالکل قریب نازل ہوئی جس طرح مدینہ اور مکہ کے گاؤں ہیں۔ حتی یاتی وعد اللہ یعنی فتح مکہ میں، یہ حضرت مجاہد و قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ مکہ میں نازل ہوئی، یعنی ان پر مصیبت نازل ہوتی رہے گی، اور اے محمد ! ﷺ آپ ان کے پاس سے نکل کر مدینہ چلے جائیں گے، تو یہ مصیبت ان کے گھروں کے قریب یا ان کا محاصرہ کرتے ہوئے اترے گی اور یہ محاصرہ اہل طائف کا اور خیبر کا قلعہ کا تھا اور آپ کے پاس ان کے ساتھ جنگ اور سختی کرنے کی اجازت کے ذریعے اللہ کا وعدہ آجائے گا۔ حضرت حسن نے کہا : اللہ کے وعدہ سے مراد قیامت کا دن ہے۔
Ayahs 13:32–34آیت نمبر 32 تا 34
قولہ تعالیٰ : ولقد استھزی برسل من قبلک فاملیت للذین کفروا ثم اخذتھم۔ الاستھزاء کا معنی سورة ” بقرہ “ میں اور الإملاء کا معنی ” آل عمران “ میں گزر چکا ہے، یعنی ان کا تمسخر اڑایا گیا اور ان کے ساتھ زیادتی کی گئی، پس میں نے کافروں کو کچھ مدت مہلت دی تاکہ جو میرے علم میں تھے کہ ایمان لائیں گے وہ ایمان لے آئیں، جب قضاء پوری ہوئی تو میں نے عقوبت کے ذریعے انہیں پکڑ لیا۔ فکیف کان عقاب یعنی آپ نے کیسا دیکھا جو میں نے ان کے ساتھ کیا ؟ پس آپ کی قوم کے مشرکین کے ساتھ بھی میں اسی طرح کروں گا۔
قولہ تعالیٰ : افمن ھو قآئم علی کل نفس بما کسبت یہ قیام وہ نہیں جو قعود کی ضد ہوتا ہے بلکہ مخلوق کے امور کی ولایت کے معنی میں ہے، جس طرح کہا جاتا ہے : قام فلان بشغل کذا، فانہ قائم علی کل نفس بما کسبت یعنی وہ ہر نفس کے اعمال کی نگہبانی کرتا ہے، اسے پیدا کرتا ہے، اسے رزق دیتا ہے، اسکی حفاظت کرتا ہے اور اس کے عمل پر اسے جزا دیتا ہے، معنی یہ ہوگا کہ وہ ایسا حفاظت کرنے والا ہے جو غافل نہیں ہوتا، جو اب محذوف ہے۔ مطلب یہ ہوگا : کیا غافل نہ ہونے والا نگہبان اس کی طرح ہے جو غافل ہوتا ہے۔ ایک قول یہ ہے : افمن ھو قآئم میں قآئم کا معنی عالم جاننے والا ہے۔ یہ اعمش کا قول ہے۔ شاعر نے کہا :
فلولا رجال من قریش أعزۃ سرقتم ثیاب البیت واللہ قائم
اللہ جانتا ہے کہ اگر قریش کے سرداروں کا تجھے خوف نہ ہوتا تو تم بیت اللہ کا غلاف بھی چرا لیتے۔
واللہ قائم یعنی واللہ عالم، پس اللہ تعالیٰ ہر نفس کے اعمال کو جاننے والا ہے۔ ایک قول کے مطابق ضحاک کے نزدیک : اس سے مراد وہ ملائکہ ہیں جو بنی آدم کے مؤکل ہیں وجعلوا حال ہے، یعنی قد جعلوا یا استھزئ پر عطف ہے یعنی استھزئ وجعلوا، یعنی انہوں نے نام رکھ دیا للہ شرکآء جو اللہ کے شریک ہیں، شرکآء سے مراد وہ بت ہیں جن کو انہوں نے معبود بنا رکھا ہے۔ قل سموھم یعنی اے محمد ! آپ ان کو فرمائیے : سموھم یعنی ان کے نام تو بیان کرو، یہ دھمکی کے طور پر ہے، یعنی انہوں نے نام بھی رکھے ہوئے ہیں : لات، مناۃ اور ہبل وغیرہ۔ ام تنبئونہ بما لا یعلم فی الارض۔ ام استفہامیہ بطور توبیخ ہے یعنی کیا تم اسے آگاہ کرتے ہو۔ درحقیقت یہ گزشتہ استفہام پر عطف معنوی ہے، کیونکہ سموھم کا معنی ہے ألھم أسماء الخالقین۔ ام تنبئونہ بما لا یعلم فی الارض ؟ ایک قول یہ بھی ہے : معنی یہ ہے کہ آپ ان کو فرمائیے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو کسی باطنی بات سے آگاہ کرنا چاہتے ہو جسے وہ نہیں جانتا یا ظاہری قول کی بات کرتے ہو جسے وہ جانتا ہے، اگر وہ کہیں کہ باطن کے متعلق جس کو وہ نہیں جانتا تو یہ محال ہے اور اگر وہ کہیں ظاہر کی بات ہے جسے وہ جانتا ہے تو آپ انہیں فرمائیے : ان کے نام تو بتاؤ، پھر اگر وہ لات و عزی کا نام لیں تو آپ انہیں فرمائیں : اللہ تو اپنے لیے کسی کو شریک نہیں جانتا۔ ایک قول کے مطابق : ام تنبئونہ کا عطف افمن ھو قآئم پر ہے۔ یعنی کیا وہ جو نگہبان ہے یا تم اللہ تعالیٰ کو ایسی چیز سے آگاہ کرنا چاہتے ہو جس کو وہ نہیں جانتا، یعنی تم اللہ کا شریک بناتے ہو جبکہ اللہ تعالیٰ اپنے لیے کسی شریک کو نہیں جانتا، کیا تم اسے زمین میں اپنے کسی شریک سے آگاہ کرتے ہو حالانکہ وہ اسے نہیں جانتا ؟ اور زمین میں شریک کے ہونے کی نفی اس لیے کی ہے کہ زمین کے علاوہ کسی اور مقام پر تو اس کا کوئی شریک ہے ہی نہیں کیونکہ مشرکین نے زمین میں ہی اس کے شرکاء کا دعوی کیا ہے۔ ام بظاھر من القول کا معنی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انبیاء پر نازل فرمایا حضرت قتادہ نے کہا : اس کا معنی باطل ہے، اسی سے شاعر کا قول ہے :
أعیرتنا البانھا ولحومھا وذالک عار یا بن ریطۃ ظاھر
عار ظاھر سے مراد باطل ہے۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد بکذب من القول یعنی یا وہ گوئی ہے۔ اور پانچواں احتمال یہ بھی ہوسکتا ہے نظاھر من القول ایک ایسی محبت ہوگی جس کو وہ اپنی گفتگو کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں اور کلام کا معنی یہ ہوگا : کیا تم اسے اس کی خبر مشاہدہ کرکے دیتے ہو یا بطور دلیل تم یہ بات کرتے ہو، بل زین للذین کفروا مکرھم یعنی اس کو چھوڑئیے، بلکہ کافروں کے لیے ان کا مکرو فریب آراستہ کردیا گیا ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس طریقے سے یہ استدراک ہے، یعنی اللہ کا کوئی شریک نہیں، لیکن کافروں کے لیے ان کا مکرو فریب آراستہ کردیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے بل زین للذین کفروا مکرھم پڑھا ہے یعنی فعل مجہول کے بجائے فعل معروف۔ اور جماعت کی قرات کے مطابق جس ذات نے کافروں کے لیے ان کے مکرو فریب کو آراستہ کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ایک قول کے مطابق : وہ شیطان ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کفر کو ہی مکر کہہ دیا گیا ہو، کیونکہ رسول کے ساتھ ان کا مکر کفر ہی تھا۔ وصدوا عن السبیل یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں راہ (راست) سے روک دیا، یہ حمزہ اور کسائی کی قرات ہے جبکہ باقیوں نے فتحہ کے ساتھ اسے پڑھا ہے یعنی صدوا ابو حاتم نے بھی اللہ تعالیٰ کے دیگر ارشادات کی وجہ سے اسے ہی اختیار کیا ہے جیسے وتصدون عن سبیل اللہ (الاعراف : 86) اور ھم الذین کفروا وصدوکم عن المسجد الحرام (الفتح : 25) اور زین اور صدوا میں ضمہ کی قرات بھی عمدہ ہے کیونکہ اہل سنت کے مذہب میں یہ معلوم بات ہے کہ اس کا فاعل اللہ تعالیٰ ہی ہے، تو اس آیت میں قدر کا اثبات ہے یہی ابو عبید کا مختار ہے۔ یحییٰ بن وثاب اور علقمہ نے اسے صدوا صاد کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، اسی طرح ھذہ بضاعتنا ردت الینا میں ردت کو را کے کسرہ کے ساتھ مجہول پڑھا ہے۔ ان کی اصل صدور اور رددت ہے، جب پہلی دال کا دوسری دال میں ادغام کیا گیا تو اس کی حرکت ما قبل کو دی گئی تو پہلے حرف پر کسرہ آگیا۔ ومن یضلل اللہ یعنی اس کی ذلت و رسوائی کے ذریعے فما لہ من ھاد۔ ھاد سے مراد توفیق دینے والا ہے۔ اس صورت میں کو فیوں اور ان کے متبعین کی قرات کا ثبوت ہے، اس کی دلیل اللہ کا ارشاد ومن یضلل اللہ اور وصدوا ہے، جبکہ بڑے بڑے قراء بغیر یا کے دال پر وقف کرتے ہیں، اسی طرح دال اور واق وغیرہ کیونکہ آپ کسی آدمی کے بارے میں کہتے ہیں : ھذا قاض و وال وھاد تو آپ یا کو اس کے ساکن ہونے اور تنوین کے ساتھ التقاء کی وجہ سے حذف کردیتے ہیں۔ اس کو فما لہ من ھادی و والی وواقی یا کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، یہ ان لوگوں کی لغت کے مطابق ہوگا جو ھذا داعی و والیو واقی یا کے ساتھ پڑھتے ہیں، کیونکہ یا کا حذف تو حالت و صل میں تنوین کے ساتھ التقاء ساکنین کی وجہ سے ہوتا ہے، اور ہماری یہ قرات وقف کی صورت میں ہے، لہٰذا واپس لوٹ آئے گی تو ھادی، والی اور واقی ہوجائے گا۔ خلیل نے قاض کی ندا کے بارے میں : یا قاضی یا کو ثابت رکھ کر کہا ہے، کیونکہ نداء کی صورت میں تنوین نہیں آتی جس طرح الداعی اور المتعالی کی صورت میں تنوین نہیں آتی۔
قولہ تعالیٰ : لھم عذاب فی الحیوۃ الدنیا یعنی راہ راست سے روکے ہوئے مشرکین کے لیے دنیا میں قتل، قید و بند اور اس کے علاوہ بیماریوں اور مصائب کی صورت میں عذاب ہے۔ ولعذاب الاخرۃ اشق یعنی اشد زیادہ سخت، جس طرح آپ کا قول : شق علی کذا یشق۔ وما لھم من اللہ من واق یعنی کوئی ایسا مانع نہیں جو انہیں اس کے عذاب سے بچا سکے اور نہ ہی کوئی دفاع کرنے والا ہے۔ اور من زائدہ ہے۔
Ayah 13:35آیت نمبر 35
قولہ تعالیٰ : مثل الجنۃ التی وعد المتقون، مثل کے رفع میں نحویوں کا اختلاف ہے۔ سیوبیہ نے کہا : مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور خبر محذوف ہے یعنی فیما یتلی علیکم مثل الجنۃ خلیل نے کہا : مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، جبکہ اس کی خبر تجری من تحتھا الانھر ہے یعنی صفۃ الجنۃ التی وعد المتقون تجری من تحتھا الانھار، جس طرح کہ تیرا قول : قولی یقوم زید میں قولی مبتدا ہے اور یقوم زید اس کی خبر، اور مثل بمعنی صفت تو موجود ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذلک مثلھم فی التورۃ ومثلھم فی الانجیل (الفتح : 29) مثلھم سے مراد صفتھم ہے۔ اور وللہ المثل الاعلی (النحل :60) یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے صفت علیا ہے، ابو علی نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا ہے : مثل بمعنی صفت سنا ہی نہیں گیا، اس کا معنی شبہ ہے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اسے اس کی جگہوں اور متصرفات میں استعمال کیا جاتا ہے جیسے عربوں کا قول : مررت برجل مثلک اور یوں بھی کیا جاتا ہے : مررت برجل شبھک اور معنی کے اعتبار سے بھی یہ درست نہیں کیونکہ مثل کا معنی جب صفت لیا جائے گا تو تقدیر کلام ہوگا : صفۃ الجنۃ التی فیھا أنھار۔
اس کی جنت کی صفت جس میں نہریں ہیں، تو یہ معنی درست نہیں، کیونکہ جنت میں انھار بذات خود ہیں جنت کی صفت نہیں، زجاج نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ہم سے غیب چیز کی مثال ایسی چیز کے ساتھ بیان فرمائی جس کو ہم دیکھتے ہیں، معنی یہ ہوگا کہ جنت کی مثال ایسی جنت (باغ) کی طرح ہے جس کے نیچے نہریں رواں ہیں۔ ابو علی نے اس کا بھی انکار کیا ہے اور کہا : اس قول کے مطابق مثل یا صفت ہوگی یا شبہ، تو ان دونوں صورتوں میں جو کچھ کہا گیا وہ درست نہیں، کیونکہ اگر یہ بمعنی صفت ہو تب بھی صحیح نہیں کیونکہ جب آپ، صفۃ الجنۃ جنۃ کہتے گے تو آپ کے جنۃ کو خبر بنا دیا جو کہ درست نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ الجنۃ صفت نہیں ہوتی، اسی طرح جنت کی شبہ جنت بھی نہیں ہوتی، آپ نہیں دیکھتے کہ شبہ تو دو متماثل چیزوں کے درمیان پائی جانے والی مماثلت ہوتی ہے تو یہ حدث ہے جب کہ جنت تو حدث نہیں، وہ تو پہلی اور دوسری نہیں ہوتی۔ فراء نے کہا : المثل صرف تاکید کے لیے ہے، اور معنی ہوگا : الجنۃ التی وعد المتقون، تجری من تحتھا الانھر اور عرب مثل کے ذریعے ایسا اکثر کرتے ہیں جس طرح اللہ کا ارشاد : لیس کمثلہ شیء (الشوری :11) یعنی لیس ھو کشی ایک قول کے مطابق تقدیر پر کلام ہی صفۃ الجنۃ التی وعد المتقون۔ صفۃ جنۃ، تجری من تحتھا الانھر ایک قول کے مطابق اس کا معنی ہے : اس جنت کا حسن، نعمت اور ہمیشہ رہنے میں مشابہت جس کا پرہیزگاروں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، اسی طرح ہے جس طرح دوزخ کا عذاب، شدت اور ہمیشہ رہنے میں مشابہت ہے۔ یہ مقاتل کا قول ہے، اکلھا دآئم ختم نہیں ہوتا، حدیث میں ہے : ” جب ایک کھجور لے لی جائے گی تو اس کی جگہ دوسری آجائے گی “۔ ہم (قرطبی) نے اسے ” التذکرہ “ میں بیان کردیا ہے۔ وظلھا یعنی اس کا سایہ بھی اسی طرح ہے۔ اس کو حذف کردیا گیا۔ یعنی اس کا پھل ختم نہیں ہوتا اور اس کا سایہ زائل نہیں ہوتا۔ یہ جہمی فرقے کا رد ہے جن کا خیال یہ ہے کہ جنت کی نعمت زائل بھی ہوتی ہے اور فنا بھی۔ تلک عقبی الذین اتقوا، وعقبی الکفرین النار یعنی مکذبین کے معاملے کی عاقبت اور ان کی آخرت دوزخ ہے جس میں وہ داخل ہوں گے۔
Ayah 13:36آیت نمبر 36
قولہ تعالیٰ : والذین اتینھم الکتب یفرحون بما انزل الیک یعنی بعض اہل کتاب قرآن کی وجہ سے خوش ہو رہے ہیں جس طرح ابن سلام اور سلمان، اور وہ لوگ جو حبشہ سے آئے، لفظ عام ہے جب کہ مراد مخصوص۔ حضرت قتادہ نے فرمایا : وہ حضرت محمد ﷺ کے اصحاب ہیں جو قرآن کے نور سے خوش ہوتے ہیں۔ مجاہد اور ابن زید کا بھی یہی قول ہے۔ اور مجاہد سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ اہل کتاب کے مومن ہیں۔ ایک قول یہ ہے : یہ یہودی و نصاریٰ میں سے اہل کتاب کی ایک جماعت ہے جو نزول قرآن کی وجہ سے اس لیے خوش ہیں کہ یہ ان کی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔ اکثر علماء نے کہا : ابتدائی نزول میں قرآن میں الرحمن کا ذکر کم تھا، جب حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ اور ان کے دوستوں نے اسلام قبول کیا تو قرآن میں الرحمن کے ذکر کی کمی انہیں اچھی نہ لگی کیونکہ تورات میں ان کا ذکر زیادہ تھا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا، تو اللہ نے : قل ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن، ایاما تدعوا فلہ الاسماء الحسنی (الاسراء : 110) کا ارشاد نازل فرمایا۔ قریش نے کہا : محمد ﷺ کو کیا ہوا دعوت تو ایک معبود کی طرف دیتا ہے تو آج اس نے دو معبودوں کی دعوت دینا شروع کردی، ایک اللہ اور ایک الرحمن، اللہ کی قسم ! ہم تو سوائے یمامہ کے رحمن کے کسی اور کو نہیں جانتے یمامہ کے رحمن سے ان کی مراد مسیلمۃ کذاب تھی، تو یہ آیت نازل ہوئیں : وھم بذکر الرحمن ھم کفرون۔ (الانبیاء) وھم یکفرون بالرحمن (الرعد :30) تو اہل کتاب رحمن کے ذکر کی وجہ سے خوش ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے : والذین اتینھم الکتب یفرحون بما انزل الیک کا ارشاد نازل فرمایا۔
ومن الاحزاب یعنی مشرکین مکہ، اور یہود، نصاری اور مجوسیوں میں سے جو ایمان نہ لائے۔ ایک قول یہ ہے : اس سے مراد وہ عرب ہیں جو نبی کریم ﷺ کے پاس وفد لے کر آتے رہے۔ ایک قول یہ ہے : مسلمانوں کے دشمنوں میں سے وہ مراد ہیں جو قرآن کے بعض حصے کا انکار کرتے ہیں، چونکہ ان میں وہ لوگ بھی تھے جو اس بات کا اعتراف کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ قل انمآ امرت ان اعبد اللہ ولا اشرک بہ۔ اشرک میں جماعت کی قراءت اعبد پر عطف کی وجہ سے نصب دی ہے۔ ابو خالد نے جملہ مستانفہ کی حیثیت سے اس کو مرفوع پڑھا ہے، یعنی میں عبادت کے سلسلہ میں اسے یکتا مانتا ہوں کوئی اس کا شریک نہیں اور مشرکین سے جس نے المسیح بن اللہ، عزیر بن اللہ کہا اور یہود کی طرح تشبیہ کا عقیدہ رکھنے والے سے بیزار ہوں۔ الیہ ادعوا یعنی اس کی عبادت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہوں والیہ ماب یعنی اپنے تمام امور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
Ayah 13:37آیت نمبر 37
قولہ تعالیٰ : وکذلک انزلنہ حکما عربیا یعنی جس طرح ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا تو بعض لوگوں نے اس کا انکار کیا اسی طرح ہم نے اسے عربی زبان میں فیصلہ نازل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی صفت، عربیا، بیان فرمائی کیونکہ اللہ نے حضرت محمد ﷺ پر اس کو اس حالت میں نازل فرمایا کہ یہ عربی ہے، تو انھیں لوگوں نے اس فیصلے کا بھی انکار کیا۔ ایک قول کے مطابق نظم آیت ہے کہ جس طرح ہم نے رسولوں پر ان کی زبان میں کتابیں نازل کیں اسی طرح ہم نے آپ پر قرآن کو عربی زبان میں فیصلہ نازل فرمایا، عربیا سے مراد ” عربی زبان میں “ ہے۔ اور حکم سے مراد وہ احکامات ہیں جو اس میں ہیں۔ ایک قول یہ ہے : ” حکم عربی “ سے مراد سارا قرآن ہے کیونکہ یہ حق و باطل میں فرق اور فیصلہ کرتا ہے۔ ولئن اتبعت اھوآءھم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کی عبادت اور غیر کعبہ کی طرف متوجہ ہونے میں مشرکین کی خواہشات (کی اگر آپ نے پیروی کی) بعد ما جآءت من العلم، مالک من اللہ من ولی ولا واق یعنی ایسا مددگار جو تیری مدد کرے گا۔ ولا واق جو تمہیں اسکے عذاب سے بچائے گا۔ خطاب حضرت محمد ﷺ کو ہے اور مراد امت ہے
Ayah 13:38آیت نمبر 38
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: کہا گیا ہے کہ یہودیوں نے نبی کریم ﷺ پر ازواج مطہرات کے حوالے سے نقطہ چینی کی انھوں نے کہا : ہم اس آدمی کے سوائے بیویوں اور نکاح کے کوئی خواہش نہیں دیکھتے، اگر یہ نبی ہوتا تو امر نبوت اس کو نکاح سے مشغول رکھتا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کو حضرت داود و سلمان (علیہما السلام) کا معاملہ یاد دلاتے ہوئے فرمایا : ولقد ارسلنا رسلا من قبلک وجعلنا لھم ازواجا وذریۃ یعنی ہم نے ان کو بشر بنایا اور شہوات دنیا میں جو اللہ نے حلال کیں ان کو وہ پورا کرتے ہیں ان کی تخصیص صرف وحی
میں ہے (یعنی ان کے پاس وحی آتی ہے)
مسئلہ نمبر 2: یہ آیت نکاح میں ترغیب پر دلالت کرتی ہے اور اس پر ابھارتی ہے، جبکہ تبثل یعنی ترک نکاح سے روکتی ہے، اس آیت کے مطابق یہ رسولوں کی سنت ہے اور سنت بھی اس کے معنی پر وارد ہوئی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم شادیاں کرو، میں تمہاری وجہ سے دیگر امتوں پر کثرت دکھانے والا ہوں گا “۔ الحدیث، سورة ” آل عمران “ میں یہ گزر چکی ہے۔ آپ نے فرمایا : ” جس نے شادی کی اس نے نصف دین کی تکمیل چاہی پس اسے دوسرے نصف کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح زنا سے بچاتا ہے اور پاکدامنی ان دو خصلتوں میں سے ہے جن کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے جنت کی ضمانت دی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” جس کو اللہ تعالیٰ نے دو کے شر سے محفوظ رکھا وہ جنت میں داخل ہوگیا (ایک) جو دو جبڑوں کے درمیان ہے (زبان) اور (دوسرا) جو ٹانگوں کے درمیان ہے (شرمگاہ) “۔ اس کو مؤطا اور دیگر کتب کے مصنفین نے روایت کیا ہے۔ اور صحیح بخاری میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے آپ نے فرمایا : تین آدمیوں کا گروہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آیا وہ نبی کریم ﷺ کی عبادت کے متعلق پوچھتے رہے، جب انہیں بتایا گیا تو گویا انہوں نے اپنی عبادت کو کم سمجھا، انھوں نے کہا : ہم نبی کریم ﷺ کے مقابلے میں کیا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اگلے پچھلے گناہوں سے محفوظ رکھا، ان میں سے ایک نے کہا : میں ہمیشہ رات کو نماز پڑھوں گا۔ دوسرے نے کہا : میں ساری زندگی روزہ رکھوں گا اور افطار نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا : میں عورتوں سے الگ رہوں گا بس شادی نہیں کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے آپ نے فرمایا : ” تم وہ لوگ ہو جنہوں نے یہ، یہ کہا، اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں تمہیں اللہ سے ڈراتا ہوں اور اس کی پرہیز گاری اختیار کرنے کا حکم دیتا ہوں لیکن میں روزہ رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ میں سے نہیں “۔ امام مسلم نے اس کو بالمعنی روایت کیا، اور یہ واضح ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے آپ نے کہا : اگر آپ انہیں اجازت دے دیتے تو ضرور ہم اپنے آپ کو خصی کرلیتے۔ ” آل عمران “ میں بچے کی طلب پر ابھارنا اور جو اس سے ناواقف ہے اسکی تردید گزر چکی ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے آپ فرماتے تھے : میں عورت کے ساتھ شادی کرتا ہوں حالانکہ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، اور میں اس کے ساتھ وطی کرتا ہوں حالانکہ مجھے اس کی کوئی خواہش نہیں۔ آپ کو کہا گیا : اے امیر المومنین ! کون سی چیز آپ کو اس پر ابھارتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس بات کی محبت کہ اللہ تعالیٰ مجھ میں سے وہ اولاد پیدا کرے جس کی وجہ سے قیامت کے دن حضرت محمد ﷺ دیگر انبیاء پر فخر کریں گے۔ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا ہے : ” تمہارے اوپر باکرہ عورتوں کے ساتھ شادی کرنا لازم ہے بیشک وہ منہ کے اعتبار سے بہت زیادہ میٹھی، اخلاق کے لحاظ سے بہت زیادہ عمدہ اور بچے پیدا کرنے کے اعتبار سے بہت زیادہ ہوتی ہیں اور میں قیامت کے دن تمہارے ذریعے ایگر امتوں پر فخر کروں گا “۔ اتتق ارحاما سے آپ نے زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت مراد لی ہے ؛ زیادہ بچے پیدا والی عورت کو ناتق کہا جاتا ہے۔ ابو داؤد نے حضرت معقل بن یسار سے روایت نقل کی ہے آپ نے فرمایا : ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اس نے کہا : مجھے ایک حسب نسب والی عورت مل رہی ہے لیکن وہ بچے نہیں جنتی، کیا میں اس کے ساتھ شادی کرلوں ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں “ پھر وہ دوبارہ آپ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے اسے پھر منع فرمایا، پھر تیسری مرتبہ آپ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت کے ساتھ شادی کرو، میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دیگر امتوں پر فخر کروں گا “۔ ابو محمد عبد الحق نے اس کو صحیح قول قرار دیا ہے۔
قولہ تعالیٰ : وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ انھوں نے آیات کے نزول کی خواہش کی تھی جس کا ذکر اسی سورت میں ہی گزر چکا ہے۔ دوبارہ اسی کے بارے میں کلام فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا۔ کلام کا ظاہر تو ممانعت پر دلالت کرتا ہے مگر اس کا معنی نفی ہے کیونکہ جس کی کوئی استطاعت ہی نہ رکھتا ہو اس کے حوالے سے اس کو منع نہیں کیا جاسکتا۔ لکل اجل کتاب یعنی ہر وہ کام جس کا اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا وہ اللہ کے ہاں لکھا ہوا ہے، یہ حضرت حسن کا قول ہے : اس میں تقدیم و تاخیر ہے، معنی یہ ہوگا : لکل کتاب اجل یہ فراء اور ضحاک کا قول ہے یعنی ہر کام جس کو اللہ نے لکھ دیا ہے اس کی مدت مقرر اور وقت معلوم ہے، اس کی مثال لکل نبا مستقر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان فرما دیا ہے کہ عذاب کے نازل ہونے میں قوموں کے مطالبے بنیاد نہیں ہوتے بلکہ اس کی بنیاد لکل اجل کتاب ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مدت کے لیے لکھی ہوئی کتاب اور امر مقدر ہوتا ہے جس پر فرشتے بھی آگاہ نہیں ہوتے۔ حکیم ترمذی نے ” نوادر الاصول “ میں شہر بن حوشب عن ابی ہریرہ ؓ ذکر کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے طور سیناء میں ارتقا فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی انگلی میں انگوٹھی ملاحظہ فرمائی تو فرمایا : اے موسیٰ ! یہ کیا ہے ؟ حالانکہ وہ ان سے زیادہ اس کو جانتا تھا، آپ نے عرض کیا : مرد کے زیورات میں سے ایک چیز ہے، اللہ نے فرمایا : کیا اس پر میرے اسماء یا کلام میں سے کچھ لکھا ہوا ہے ؟ آپ نے عرض کیا : نہیں، تو اللہ نے فرمایا : اس پر لکل اجل کتاب لکھ دو ۔