Ayah 39:67وما قدروا اللہ حق قدرہ والارض جمیعا قبضتہ یوم القیمۃ والسموت مطویت بیمینہ
سبحنہ و تعلی عما یشرکون اور ان لوگوں نے اللہ کی ایسی عظمت نہیں کی جیسی عظمت اس کے لائق تھی ‘ قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اسکے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔ وہ ان لوگوں کی شرک آفرینیوں سے پاک اور برتر ہے۔
یعنی ان لوگوں نے عظمت الٰہی کو ویسا نہیں جانا جیسا عظمت کا حق تھا (جیسی عظمت ہونی چاہئے تھی) کہ دوسروں کو اس کا شریک قرار دیا اور ان صفات کا حامل اس کو مانا جو اس کی شان کیلئے نازیبا ہیں ‘ نہ اس کی اس طرح عبادت کی جس طرح کرنی چاہئے تھی اور نہ اس کی نعمتوں کا ویسا شکر کیا جیسا کرنا لازم تھا اور مرنے کے بعد دوبارہ جی کر اٹھنے کا انکار کردیا۔
وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا یعنی ساتوں زمینیں تمام اندرونی اور بیرونی اجزاء کے ساتھ۔
قَبْضَتُہٗ قبضہ ‘ ایک بار قبض کرنا۔ اس سے مراد ہے وہ چیز جو مٹھی میں بند ہو (مصدر بمعنی اسم مفعول) یا مضاف محذوف ہے ‘ یعنی اس کے قبضہ والی چیزیں۔
یہ آیت متشابہات میں سے ہے جس کی حقیقی مراد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ‘ اس سے مقصود ہے اللہ کی عظمت عالیہ اور قدرت کاملہ پر تنبیہ کرنا اور یہ بتانا کہ وہ عظیم الشان کام جہاں انسانی فہم حیرت میں پڑجاتی ہے ‘ اللہ کیلئے آسان ہیں ‘ اس کی قدرت کاملہ سے باہر نہیں اور اس سارے جہان کی توڑ پھوڑ اس کیلئے دشوار نہیں۔
علماء بلاغت کہتے ہیں کہ یہ کلام بطور تمثیل و تخییل ہے ‘ نہ حقیقی معنی مراد ہیں ‘ نہ مجازی۔ جیسے عرب کہتے ہیں : شابت لِمَّۃُ اللّیل رات کے گیسو سفید ہوگئے۔
آیت کے نزول کی وجہ یہ ہے کہ یہودی نے جب آسمانوں کے اور زمینوں اور پہاڑوں وغیرہ کے سلسلہ میں ایک بات کہی تھی تو یقیناً وہ توریت سے ہی نقل کی تھی ‘ اس آیت میں اس کی تصدیق کردی گئی کہ اللہ کی کتابیں باہم تصدیق ہی کرتی ہیں ‘ ایک دوسری کی تکذیب نہیں کرتیں۔ صحیحین میں حضرت ابن مسعود کی روایت حدیث مذکور میں ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے کہ ایک یہودی عالم ‘ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : محمد ! ﷺ قیامت کے دن اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا اور زمینوں کو ایک انگلی پر اور پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر اور پانی اور ثرٰی (نمناک مٹی جو زمین کی تہہ میں ہے) کو ایک انگلی پر اور باقی مخلوق کو ایک انگلی پر ‘ پھر ان کو حرکت دے گا اور فرمائے گا : میں ہوں بادشاہ ‘ میں ہوں اللہ۔ اس عالم کے قول پر تعجب کرتے ہوئے ‘ اس کی تصدیق کیلئے حضور ﷺ مسکرا دئیے ‘ پھر آپ نے پڑھا : وَمَا قَدَرُوا اللہ حَقَّ قَدْرِہٖالخ ترمذی اور صحیحین کی حدیثوں میں بظاہر تعارض ہے (ترمذی کی روایت میں ہے کہ یہودی کے بیان کے بعد آیت مذکورہ نازل ہوئی اور صحیحین کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی عالم کے بیان کے بعد حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی) دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاسکتی ہے کہ یہودی کے بیان کے بعد آیت نازل ہوئی اور آپ نے یہودی کے سامنے اس وقت پڑھ دی۔
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ زمین کو مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر فرمائے گا : (آج) میں بادشاہ ہوں ‘ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟
مسلم نے حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ کر فرمائے گا : کہاں ہیں زبردست طاقتوں والے ‘ کہاں ہیں غرور کرنے والے ؟ پھر زمین کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ (دوسری روایت میں بائیں کی جگہ دوسرے کا لفظ آیا ہے) میں لے کر فرمائے گا : میں ہوں (آج) بادشاہ ‘ کہاں ہیں زبردست طاقتوں والے ‘ کہاں ہیں غرور کرنے والے ؟ ابو الشیخ نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ آسمانوں کو اور ساتوں زمینوں کو اپنی مٹھی میں سمیٹ کر فرمائے گا : میں ہوں اللہ ‘ میں ہوں رحمان ‘ میں ہوں بادشاہ ‘ میں (تمام عیوب سے) سے پاک ہوں ‘ میں امن دینے والا ہوں ‘ میں نگراں ہوں ‘ میں غالب ہوں ‘ میں بہت بڑی طاقت والا ہوں ‘ میں بڑائی والا ہوں ‘ میں نے ہی دنیا کو ابتداء میں پیدا کیا جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھی اور میں ہی اس کا اعادہ کر رہا ہوں (آج) بادشاہ کہاں ہیں (اور) بڑی طاقتوں والے کہاں ہیں ؟
قاضی عیاض نے کہا : قبض ‘ طی اور اخذ تینوں کا معنی ہے اکٹھا کرنا (اس وقت) آسمان پھیلے ہوئے ہیں ‘ زمین بھی بچھی ہوئی ہے ‘ پھر ان الفاظ کا معنی ہوگیا : اٹھانا ‘ ہٹانا ‘ بدل ڈالنا۔ قرطبی نے کہا : طی سے مراد ہے فنا کردینا۔
ابن ابی حاتم نے حسن بصری کا قول نقل کیا ہے کہ یہودیوں نے (پہلے مخلوق کی) گنتی کی اور آسمان و زمین و ملائکہ کی تخلیق پر غور کیا۔ جب اس سے فراغت ہوگئی تو اللہ کا اندازہ کرنے لگے ‘ اس پر آیت وَمَا قَدَرُوا اللہ حَقَّ قَدْرِہٖالخ نازل ہوئی۔ سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ یہودیوں نے رب کی صفات میں کلام کیا اور صفات کے متعلق ایسی باتیں کہیں جن کا نہ ان کو علم تھا ‘ نہ انہوں نے اللہ کی ان صفات کو دیکھا تھا ‘ اس پر آیت وَمَا قَدَرُوا اللہ حَقَّ قَدْرِہٖالخ نازل ہوئی۔
ابن المنذر نے بروایت ربیع بن انس بیان کیا ہے کہ جب آیت وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ نازل ہوئی تو صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! جب یہ کرسی ایسی (وسیع) ہے تو عرش کی کیا کیفیت ہوگی ؟ اس پر آیت وَمَا قَدَرُوا اللہ حَقَّ قَدْرِہٖالخ نازل ہوئی۔
سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی یعنی جس ذات کی ایسی (ہمہ گیر) قدرت ہے ‘ وہ ان مشرکوں کی شرک آفرینیوں سے بہت دور اور بالا ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ شرک کی جو نسبت اس کی طرف کی جاتی ہے ‘ اس سے وہ پاک اور برتر ہے۔
Ayah 39:68ونفخ فی الصور فصعق من فی السموت ومنفی الارض الا من شاء اللہ ثم نفخ فیہ اخری
فاذاھم قیام ینظرون اور (قیامت کے دن) صور میں پھونک ماری جائے گی تو فوراً تمام آسمانوں والوں اور زمین والوں کے ہوش اڑ جائیں گے ‘ مگر جس کو اللہ چاہے گا (وہ بےہوشی سے محفوظ رہے گا) پھر اس (صور) میں دوبارہ پھونک ماری جائے گی تو دفعۃً سب کے سب (قبروں سے نکل کر) کھڑے ہوجائیں گے اور (چاروں طرف) دیکھنے لگیں گے۔
وَنُفِخَ یعنی پہلی بار صور میں پھونک ماری جائے گی۔
فَصَعِقَ تو آسمان و زمین والے سب بیہوش ہوجائیں گے ‘ یعنی مرجائیں گے۔
اِلاَّ مَنْ شَآءَ اللہ بیہوشی کی حالت سے کون مستثنیٰ ہوگا ‘ اس کی تفصیل ہم نے سورة نمل کی آیت وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مِنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ الاَّ مَنْ شَآءَ اللہ کی تفسیر میں کردی ہے۔
فَاِذَاھُمْ قِیَامٌ تو یکدم لوگ قبروں سے نکل کر کھڑے ہوجائیں گے اور حیرانی کے ساتھ ہر طرف نظریں گھما کر دیکھیں گے ‘ یا یَنْظُرُوْنَ کا یہ مطلب ہے کہ وہ انتظار کریں گے کہ آئندہ ہمارے متعلق کیا حکم صادر ہوگا اور ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔
دونوں مرتبہ صور پھونکے جانے میں چالیس روز کا فصل ہوگا۔ سورة والنازعات میں ہم نے اس موضوع کی حدیثیں نقل کردی ہیں۔
Ayah 39:69واشرقت الارض بنور ربھا ووضع الکتاب وجائ بالنبین والشھداء وقضی بینھم بالحق
وھم لا یظلمون اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا جائے گی اور (ہر ایک کا) اعمال نامہ (اس کے سامنے) رکھ دیا جائے گا ‘ اور پیغمبروں اور گواہوں کو لایا جائے گا اور انصاف کے ساتھ سب کا فیصلہ کردیا جائے گا اور (کسی پر) ظلم نہیں کیا جائے گا۔
وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ یعنی میدان قیامت کی زمین روشن ہوجائے گی۔
بِنُوْرِ رَبِّھَا اپنے خالق کے نور سے۔ بغوی نے لکھا ہے : جب اللہ بندوں کا فیصلہ کرنے کیلئے جلوہ فرما ہوگا تو جس طرح کھلے ہوئے آسمان پر چمکتے سورج کو دیکھنے میں کوئی شبہ نہیں ہوتا ‘ اسی طرح نور رب کو دیکھنے میں لوگوں کو کوئی شبہ نہیں ہوگا۔
حسن بصری اور سدی نے کہا : نور رب سے مراد ہے عدل و انصاف۔ عدل سے آبادیوں کی زینت اور اظہار حقوق ہوتا ہے (اور نور سے بھی مقامات کے حسن اور اشیاء کا انکشاف ‘ جیسے ظلم کو تاریکی کہا جاتا ہے ‘ اسی طرح عدل کو نور قرار دیا گیا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن ظلم (تہہ بر تہہ بہت سی) تاریکیاں ہوجائے گا ‘ متفق علیہ من حدیث ابن عمر۔
وَوُضِعَ الْکِتَاب یعنی ہر شخص کے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا۔ بیہقی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمام اعمال نامہ عرش کے نیچے ہیں (جب موقف ہوگا ‘ یعنی قیامت کے دن حساب فہمی کیلئے لوگوں کو ایک میدان میں کھڑا کیا جائے گا) تو اللہ ایک ہوا بھیجے گا جو اعمال ناموں کو اڑا کر لائے گی اور دائیں بائیں ہاتھوں میں ان کو پہنچا دے گی۔ اعمال ناموں میں سب سے پہلی تحریر یہ ہوگی : اِقْرَأْ کِتَابِکَ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا (اپنا اعمال نامہ پڑھ لے ‘ تو ہی آج اپنا محاسبہ کرنے کیلئے کافی ہے) ابو نعیم نے حضرت ابن مسعود کی موقوف روایت سے اور دیلمی نے حضرت ابوہریرہ کی مرفوع روایت سے بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن مؤمن کے اعمال نامہ کا عنوان ہوگا : حسن ثناء الناس۔
وَجِآیْءَ بالنَّبِیّٖنَ سیوطی کا قول ہے کہ علماء نے کہا کہ حساب انبیاء کی موجودگی میں ہوگا (یعنی انبیاء کے سامنے حساب فہمی ہوگی) ابن مبارک نے سعید بن مسیب کا قول نقل کیا ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ صبح و شام رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپ کی امت کو نہ لایا جاتا ہو۔ آپ ان کی صورتوں کو اور ان کے اعمال کو پہچان لیتے ہیں ‘ اسی لئے قیامت کے دن ان کے متعلق شہادت دیں گے۔
وَالشُّھَدَآء حضرت ابن عباس نے فرمایا : وہ یعنی رسول اللہ ﷺ کی امت والے پیغمبروں کی طرف سے شہادت دیں گے کہ انہوں نے (اپنی امتوں کو) احکام خداوندی پہنچا دئیے تھے۔ عطاء نے کہا : الشہداء سے مراد ہیں اعمال نامے لکھنے والے فرشتے۔ اسی پر دلالت کر رہی ہے آیت وَجَآءَتُ کُلُّ نَفْسٍ مَّعَھَا سَآءِقٌ وَّشَھِیْدٌ۔
وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ یعنی بندوں کے درمیان۔ بِالْحَقِّ انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔
وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ یعنی کسی کی بدیاں بڑھائی نہیں جائیں گی اور نہ کسی کی نیکیاں گھٹائی جائیں گی۔
Ayah 39:70ووفیت کل نفس ما عملت وھو اعلم بما یفعلون اور ہر شخص کو اسکے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور
وہ (ا اللہ) سب کے کاموں کو (بغیر کسی کے خبر دئیے خود ہی) خوب جانتا ہے۔ عطاء نے کہا : مراد یہ ہے کہ بندوں کے افعال کا اللہ خود عالم ہے ‘ سب اعمال کو جانتا ہے۔ اس کو نہ کسی کاتب کی ضرورت ہے ‘ نہ گواہ کی۔ یہ اعمال نامے اور گواہ تو حسب عادت کافروں کے جرائم ثابت کرنے کیلئے ہوں گے۔
آئندہ آیت میں اعمال کا پورا پورا بدلہ دینے کی تفصیل بیان فرمائی۔
Ayah 39:71وسیق الذین کفروا الی جھنم زمرا اور ہنکائے جائیں گے کافر جہنم کی طرف گروہ گروہ۔
زُمْرًا یعنی متعدد ‘ متفرق ٹولیاں ‘ ایک کے پیچھے دوسری ‘ گمراہ ہونے کے درجات کے لحاظ سے جماعت بندی اور ترتیب ہوگی۔ ابوعبیدہ اور اخفش نے کہا : زمر ‘ زمرۃ کی جمع ہے ‘ زَمر کا معنی ہے آواز۔ جماعت کے اندر بھی کچھ آوازیں ہوتی ہی ہیں ‘ اسی مناسبت سے زمر سے زمرۃ کو مشتق کیا گیا۔ اس جگہ زمر سے مراد ہیں ایک فرقہ کی مختلف ٹولیاں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ زمرۃ (آدمیوں کی چھوٹی جماعت) شَاۃٌ زَمِرۃٌ سے ماخوذ ہو۔ کم بالوں والی بکری کو زَمِرۃٌ کہا جاتا ہے اور رجلٌ زَمِرٌ کم مروت والے آدمی کو کہتے ہیں ‘ اسی مناسبت سے کم تعداد والی جماعت کو بھی زمرہ کہا جاتا ہے۔
حتی اذا جاء وھا فتحت ابوا بھا وقال لھم خزنتھا الم یاتکم رسل منکم یتلون علیکم
ایت ربکم وینذرونکم لقاء یومکم ھذا یہاں تک کہ جب جہنم پر پہنچیں گے تو جہنم کے دروازے (ان کیلئے) کھول دئیے جائیں گے اور دوزخ کے کارندے ان سے کہیں گے : کیا تمہارے پاس تم میں سے پیغمبر نہیں پہنچے تھے جو تم کو تمہارے رب کی آیتیں پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور تم کو اس دن (یعنی اس وقت) کے پیش آنے سے ڈرایا کرتے تھے ؟
حَتّآی اِذَا جَآءُوْھَا یعنی جہنم میں داخل کئے جائیں کیلئے جب کافر جہنم پر پہنچیں گے تو دوزخ کے ساتوں دروازے جو پہلے بند ہوں گے ‘ ان کیلئے کھول دئیے جائیں گے۔
وَقَالَ لَھُمْ خَزَنَتُھَا اور جھڑکی کے ساتھ توبیخ کرتے ہوئے دوزخ کے کارندے ان سے کہیں گے۔
مِنْکُمْ تم میں سے ‘ یعنی تمہاری نوع میں سے۔
یَوْمِکُمْ ھٰذَا یوم سے مراد ہے دوزخ میں داخل ہونے کا وقت۔
بیضاوی نے (مسلک شافعی کو ثابت کرنے کیلئے) کہا : آیت میں دلیل ہے اس امر کی کہ شریعت آنے سے پہلے کوئی شخص (توحید کا بھی) مکلف نہیں ہے ‘ جب ہی تو دوزخ کے کارندے ‘ پیغمبروں کے پہنچنے اور احکام الٰہیہ پہنچا دینے کو اپنے زجر و توبیح کیلئے علت کے طور پر ذکر کریں گے۔
میں کہتا ہوں : اس آیت سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ اگر پیغمبر نہ پہنچیں (اور کتب الٰہیہ کا علم نہ ہو) تو شرک کرنے پر عذاب نہ ہوگا ‘ بلکہ آیت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ کے کارندے ڈانٹ کر کہیں گے کہ جب تمہارے پاس پیغمبر بھی پہنچ گئے اور اللہ کا کلام انہوں نے تم کو پڑھ کر سنا بھی دیا تھا اور تمام حجتیں پوری ہوگئی تھیں تو پھر تم کیوں ایمان نہ لائے اور کیوں شرک سے باز نہ آئے۔ بات یہ ہے کہ احکام خداوندی کو جاننے کیلئے اگرچہ تنہا عقل کافی نہیں ہے ‘ لیکن اللہ کے ایک ہونے پر دلالت کرنے والے براہین فطرت تو موجود ہیں اور ان دلائل فطرت کی روشنی میں عقل ‘ توحید خداوندی کو جاننے کیلئے کافی ہے ‘ پھر اس کے ساتھ جب اللہ نے پیغمبروں کو بھی بھیج دیا اور کتابیں بھی نازل کردیں اور طریق حق بالکل واضح کردیا تو اب کسی طرح شرک و کفر کی معذرت کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔
قالوا بلی ولکن حقت کلمۃ العذاب علی الکفرین وہ کہیں گے : (پیغمبر آئے) کیوں نہیں ‘ لیکن عذاب کا وعدہ کافروں پر پورا ہو کر رہا۔ یعنی کافروں کے متعلق اللہ کا کلمۂ عذاب اور بدبختوں کیلئے حکم ازلی پورا ہو کر رہا۔
الْکَافِرِیْنَ کا لفظ صراحۃً بجائے ضمیر کے ذکر کرنے سے یہ امر معلوم ہوا کہ اس حکم کی خصوصیت کافروں کے ساتھ ہوگی۔
Ayah 39:72قیل ادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فبئس مثوے المکتبرین کہا جائے گا : جہنم کے دروازوں
میں داخل ہوجاؤ (اور) ہمیشہ اس میں رہو ‘ تکبر کرنے والوں کا (یعنی اللہ کے احکام کے مقابلہ میں تکبر کرنے والوں کا) وہ برا ٹھکانہ ہے۔
قِیْلَ ادْخُلُوْا جو بات کافروں سے کہی جائے گی وہ بڑی ہولناک ہوگی ‘ اسلئے کہنے والے کا نام مبہم رکھا صراحت سے ذکر نہیں کیا۔
الْمُتَکَبِّرُیْنَ الف لام جنسی ہے اور فَبِءْسَ میں فَ سببی ہے ‘ آیت سے درپردہ یہ بات معلوم ہو رہی ہے کہ جہنم کافروں کا ٹھکانہ صرف اس وجہ سے ہوگا کہ حق کے مقابلہ میں انہوں نے تکبر کیا تھا (اور حق کو حقیر سمجھ کر قبول نہیں کیا تھا) ۔
ایک شبہ : اوپر کی آیت میں تو یہ صراحت کی تھی کہ کافروں کا دوزخ میں داخلہ محض اس وجہ سے ہوگا کہ اللہ کا ازلی حکم عذاب پورا ہوجائے ‘ کافروں کو عذاب دینے کا جو وعدہ اللہ نے پہلے سے کرلیا ہے ‘ اس کا پورا ہونا ضروری ہوگا ‘ اسلئے کافروں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا ‘ لیکن اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافروں کا دوزخ میں داخلہ تکبر کی وجہ سے ہوگا۔
ازالہ : کافروں کا تکبر اور ساری گناہگاریاں ازلی وعدہ کے سبب سے ہی ہوتی ہیں ‘ وعدۂ عذاب کی وجہ سے ہی کافر حق کو حقیر سمجھ کر اس سے روگرداں ہوتے ہیں ‘ اسلئے دونوں آیتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
حضرت عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک طویل حدیث بیان کرتے ہوئے اس میں فرمایا کہ اللہ جس بندہ کو جنت کیلئے پیدا کرتا ہے ‘ اس سے اہل جنت کے کام کراتا ہے ‘ یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مرجاتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے اور جس بندہ کو دوزخ کیلئے پیدا کرتا ہے ‘ اس سے دوزخیوں کے عمل کراتا ہے ‘ یہاں تک کہ وہ دوزخیوں کے عمل پر ہی مرجاتا ہے اور دوزخ میں چلا جاتا ہے ‘ رواہ مالک و ابو داؤد والترمذی۔
Ayah 39:73وسیق الذین اتقوا ربھم الی الجنۃ زمرا حتی اذا جاؤھا وفتحت ابوابھا وقال لھم خزنتھا
سلم علیکم طبتم فادخلوھا خلدین اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے ‘ وہ گروہ در گروہ ہو کر جنت کی طرف روانہ کئے جائیں گے ‘ یہاں تک کہ اس جنت کے پاس پہنچیں گے اور اسکے دروازے پہلے سے کھلے ہوں گے اور وہاں کے محافظ (فرشتے) ان سے کہیں گے : سلامٌ علیکم ‘ کہ تم مزے میں رہو اور اس جنت میں ہمیشہ رہنے کیلئے داخل ہوجاؤ۔
وَسِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا یعنی جنت کی طرف متقیوں کو تیزی کے ساتھ چلایا جائے گا تاکہ مقام عزت تک ان کو جلد پہنچا دیا جائے۔ بعض علماء نے کہا : اہل جنت کی سواریوں کو جنت کی طرف جلد ہنکایا جائے گا ‘ کیونکہ جنت میں ان کا داخلہ سوار ہونے کی حالت میں ہی ہوگا۔
زُمْرًا گروہ گروہ بنا کر۔ جیسا جس کا درجہ ہوگا ‘ اسی درجہ کے گروہ میں اس کو شامل کیا جائے گا۔
وَفُتِحَتْ اَبْوَابُھَا یہ جملہ حالیہ ہے ‘ یعنی جس وقت وہ جنت پر پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھلے ہوئے ملیں گے ‘ یہ اہل جنت کا اعزاز ہوگا کہ دروازے کھلنے کا انتظار نہ کرنا پڑے گا۔
سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ تم پر سلامتی کا نزول ہو ‘ یعنی کبھی کوئی ناگوار امر تم پر نہ آئے۔
طِبْتُمْ یعنی گناہوں کے میل کچیل سے پاک صاف ہو۔ یہ پاکیزگی یا تو اس وجہ سے ہوگی کہ انہوں نے کبھی کوئی قابل مؤاخذہ) گناہ کیا ہی نہ ہوگا ‘ یا اس وجہ سے ہوگی کہ اللہ نے بغیر عذاب دئیے ان کے گناہ معاف کر دئیے ہوں گے ‘ یا سزا دے کر ان کو پاک کردیا ہوگا۔ قتادہ نے کہا : جب اہل جنت ‘ دوزخ کی مسافت طے کر کے گذر جائیں گے تو جنت سے پہلے ان کو ایک پل پر روک لیا جائے گا تاکہ وہ آپس کے حقوق کا بدلہ باہم چکا سکیں۔ جب ایک دوسرے سے اپنے حق کا بدلہ لے چکے گا اور سب صاف ستھرے اور پاک ہوجائیں گے تو رضوان اور اس کے ساتھی (بطور استقبال) کہیں گے : سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْھَا خٰلِدِیْنَ ۔
حضرت علی نے فرمایا : جب ان (اہل جنت) کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا اور وہ جنت کے دروازے پر پہنچ جائیں گے تو دروازے کے پاس ان کو ایک درخت ملے گا جس کے نیچے سے دو چشمے رواں ہوں گے ‘ ایک چشمہ میں مؤمن نہائے گا تو بیرونی جسم کی طہارت ہوجائے گی اور دوسرے چشمے کا پانی پئے گا تو اندرونی طہارت بھی حاصل ہوجائے گی۔ فرشتے جنت کے دروازے پر اس کا استقبال کریں گے اور کہیں گے : سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْھَا خٰلِدِیْنَ ۔ زجاج نے کہا : طبتم کا یہ مطلب ہے کہ تم دنیا میں شرک اور معاصی کی گندگیوں سے پاک تھے۔ حضرت ابن عباس نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ تمہارا (یہ) مقام پاک ہے۔
فَادْخُلُوْھَا اس جملہ میں فَ سببی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کا پاک ہونا ہی جنت میں داخل ہونے اور وہاں ہمیشہ رہنے کا سبب ہوگا ‘ اس کی توجیہات وہی ہوں گی جو کفر کے سبب کافروں کے دوزخ میں داخل ہونے کی کی گئی تھیں۔ حضرت ابن عباس کے قول پر یہ توجیہ ہوگی کہ جنت چونکہ پاک مقام ہے ‘ اسلئے اہل جنت کی قیام گاہ ہونے کی اسی میں صلاحیت ہے۔
خٰلِدِیْن یعنی جنت میں ہمیشہ رہنا تمہارے لئے مقرر کردیا گیا ہے۔ 1
Ayah 39:74قالوا الحمد اللہ الذی صدقنا وعدہ واورثنا الارض نتبوا من الجنۃ حیث نشاء اور کہیں گے :
ا اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہم کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں ‘ مقام کریں۔
وَقَالُوْا الْحَمْدُلِلّٰہِ یعنی کارگذاران جنت جب مؤمنوں سے کہیں گے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ تو وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور جنت کے اندر وہ نعمتیں پائیں گے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوں گی ‘ نہ کسی کان نے سنی ہوں گی ‘ نہ کسی کے دل میں ان کا تصور آیا ہوگا اور کہیں گے : اللہ کا شکر ہے الخ۔
وَعْدَہٗ یعنی جنت میں داخلہ کا وعدۂ خداوندی اور ان پوشیدہ چیزوں کے عطا کا وعدہ جن کو دیکھنے سے خنکئ چشم حاصل ہوگی۔
وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ یعنی زمین جنت کا ہم کو مالک بنا دیا۔ وارث ہونے سے مراد ہے مالک بنا دینا۔
نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَآءُ ج یعنی ہم میں سے ہر ایک کے حصہ میں جو (الگ الگ) وسیع جنت آئی ہے ‘ اس جنت کے اندر وہ جس جگہ چاہے قیام پذیر ہوسکتا ہے اور اگر انبیاء اور دوسرے اونچے درجات والوں کی ملاقات کی خواہش ہو تو وہ بھی آسانی سے میسر آسکتی ہے۔ طبرانی ‘ ابو نعیم اور ضیاء نے حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ مجھے اپنی جان اور اہل و عیال سے بھی زیادہ پیارے ہیں۔ میں گھر میں ہوت ہوں اور آپ کی یاد آتی ہے تو جب تک آپ کے پاس آکر آپ کا دیدار نہ کرلوں مجھے صبر نہیں آتا ‘ لیکن جب مجھے اپنے مرنے اور آپ کی وفات پانے کا خیال آتا ہے اور جانتا ہوں کہ آپ جنت میں داخل ہو کر انبیاء کے ساتھ ہوں گے اور میں اگر جنت میں داخل ہوا تو مجھے ڈر ہے کہ آپ کو نہ دیکھ پاؤں گا (تو دل میں بڑی بےچینی پیدا ہوجاتی ہے) حضور ﷺ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ‘ یہاں تک کہ جبرئیل یہ آیت لے کر نازل ہوئے : وَمَنْ یُّطِعِ اللہ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓءِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللہ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَآءِ وَالصَّالِحِیْنَ وَحَسُنَ اُولٰٓءِکَ رَفِیْقًا اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے ‘ وہ انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہدا اور صالح لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ کا انعام ہوگا ‘ یہ سب بہت اچھے ساتھی ہوں گے۔
فنعم اجر العملین غرض (نیک) عمل کرنے والوں کا اچھا بدلہ ہے۔
Ayah 39:75وتری الملئکۃ حافین من حول العرش یسبحون بحمد ربھم وقضی بینھم بالحق وقیل
الحمد اللہ رب العلمین اور آپ فرشتوں کو دیکھیں گے کہ (حساب کے وقت) عرش کے گرداگرد حلقہ باندھے ہوں گے (اور) اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے ہوں گے اور تمام بندوں میں ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ساری خوبیاں اللہ کو زیبا ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
حَآفِّیْنَ گھیرے ہوئے ‘ حلقہ بنائے ہوئے۔
یُسَبِّحُوْنَ فرشتوں کی یہ تسبیح ‘ تسبیح عبادت نہ ہوگی ‘ عبادت کا حکم تو اس وقت ساقط ہوچکا ہوگا ‘ بلکہ تسبیح تلذذ ہوگی ‘ فرشتے اس تسبیح سے لذت اندوز ہوں گے۔
بَیْنَھُمْ یعنی مخلوق کے درمیان۔
بِالْحَقِّ انصاف کے ساتھ ‘ یعنی مؤمنوں کو جنت میں اور کافروں کو دوزخ میں داخل کرنے کا حکم دے دیا جائے گا۔
بعض اہل تفسیر نے بَیْنَھُمْ کی تفسیر ملائکہ کی طرف راجع کی ہے ‘ یعنی ملائکہ کو ان کے مراتب کے مطابق مقامات پر کھڑا کیا جائے گا ‘ کسی کی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔
وَقِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰہِجب اللہ کا وعدہ پورا ہوجائے گا اور مؤمن بہشت میں چلے جائیں گے تو بطور شکر الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کہیں گے۔
بعض علماء کا قول ہے کہ جب اللہ اپنے دوستوں کو جنت میں اور دشمنوں کو دوزخ میں داخل کر دے گا تو ملائکہ بطور شکر ‘ یہ جملہ کہیں گے۔
حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر رات (سورۂ ) بنی اسرائیل اور (سورۂ ) زمر پڑھتے تھے ‘ رواہ الترمذی والنسائی والحاکم۔
سورۃ الزمر کی تفسیر یکم رمضان 1207 ھ کو ختم ہوئی
انشاء اللہ سورة مؤمن کی تفسیر اس کے بعد آئے گی۔