Ayah 39:23اللہ نزل احسن الحدیث کتبا متشابھا مثانی اللہ ہی نے سب سے اچھا کلام نازل فرمایا جو ایسی کتاب ہے
کہ باہم ملتی جلتی ہے ہے ‘ بار بار دہرائی گئی ہے۔
اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ یہ آیت تائید ہے آیت اِنَّآ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ کی ‘ اور درمیان میں تمام جملے معترضہ ہیں۔ نَزَّلَ سے پہلے اللّٰہُ کہنے کے تین فائدے ہیں : (1) اللہ کی طرف قرآن نازل کرنے کی نسبت پختہ ہوگئی (2) نازل شدہ قرآن کی عظمت شان کا اظہار ہوگیا (کہ یہ اللہ ہی کا بھیجا ہوا کلام ہے) (3) قرآن کے احسن ہونے کی شہادت دے دی گئی (کہ اللہ ہی نے اس کلام کو اتارا اور اس کے احسن الحدیث ہونے کی شہادت دی ہے) ۔
مُتَشَابِھًا یہ کتابًا کی صفت ہے اور کتابًا احسن الحدیث سے بدل ہے۔ متشابہ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ تمام آیات صحت معنی ‘ حسن عبارت اور افادۂ عام میں ایک جیسی ہیں اور کوئی آیت دوسری آیت کی تکذیب نہیں کرتی (تمام آیات باہم تصدیق کرتی ہیں۔ یہ سمجھنے والے کی علمی بےبضاعتی اور فہم کی کجی کا قصور ہے کہ وہ بعض آیات کو بعض کے خلاف سمجھتا ہے۔ مترجم)
مَثَانِیَ یہ بھی کتابًا کی صفت ہے۔ مثانی ‘ مثناۃ کی جمع ہے اور مثناۃ اسم ظرف ہے۔ قرآن کے اندر بار بار وعد و وعید ‘ امر و نہی ‘ اخبار اور احکام کا ذکر ہے ‘ اسلئے اس کو بار بار دہرائی جانے والی کتاب فرمایا ‘ گویا تفصیلات کے لحاظ سے اس کو مثانی کہا گیا ‘ جیسے ہم اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ قرآن سورتیں ہیں اور آیات ہیں ‘ یا یوں کہیں کہ انسان رگیں ہے ‘ اعصاب ہے ‘ ہڈیاں ہے ‘ گوشت ہے (یعنی ان کا مجموعہ ہے) ۔
یا مثانی ‘ مُثْنِیَۃٌ کی جمع ہے ‘ ثناء کرنے والیاں یعنی اس کی آیات اللہ کی صفات اور ذات کی ثناء بیان کرتی ہیں۔
تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربھم ثم تلین جلودھم وقلوبھم الی ذکر اللہ جس سے ان
لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ‘ پھر ان کے بدن اور دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ یعنی اللہ کی رحمت اور عموم مغفرت کا جب وہ ذکر کرتے ہیں تو اس ذکر کی وجہ سے ان کے دلوں میں سکون و اطمینان پیدا ہوجاتا ہے۔ ذکر اللہ کے ساتھ رحمت کا ذکر نہیں کیا ‘ کیونکہ اصل تو رحمت ہی ہے ‘ اللہ کی رحمت ‘ غضب پر غالب ہے۔ الٰی ذکر اللہ میں الٰی بمعنی لام ہے ‘ یعنی اللہ کے ذکر کی وجہ سے ‘ لیکن ذکر کے اندر چونکہ سکون و اطمینان کا مفہوم داخل ہے ‘ اسلئے بجائے لام کے الٰی کہا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ جب قرآن میں آیات وعید کا ذکر آتا ہے تو مؤمنوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ‘ جلد بدن سکڑ جاتی ہے ‘ اس میں انقباض پیدا ہوجاتا ہے اور جب آیات وعدہ کا ذکر آتا ہے تو کھالوں کا انقباض جاتا رہتا ہے ‘ کھالیں نرم ہوجاتی ہیں اور دلوں میں سکون پیدا ہوجاتا ہے۔
پہلے کتابًا کی صفت مثانی بیان کی تھی ‘ یعنی اس میں فرمانبرداروں کیلئے وعدۂ ثواب اور نافرمانوں کیلئے وعید عذاب کا بار بار ذکر ہے۔ اس آیت میں وہ اثر بیان کردیا جو وعد و وعید سے مؤمنوں پر پڑتا ہے۔
حضرت عباس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ کے خوف سے بندہ کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح درخت کے سوکھے پتے ‘ رواہ الطبرانی بسند ضعیف ورواہ البغوی ‘ بغوی کی دوسری روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے : جب اللہ کے خوف سے بندہ کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں تو اللہ اس کو دوزخ کیلئے حرام کردیتا ہے۔
ایک شبہ : بعض عاشقان الٰہی قرآن سننے سے بےہوش ہوجاتے ہیں ‘ کیا ایسا ہونا کوئی پسندیدہ صفت ہے ؟ امام محی السنۃ بغوی نے تو اس کو سخت برا کہا ہے اور اس سلسلہ میں قتادہ کا بیان نقل کیا ہے کہ اللہ کے خوف سے رونگٹے کھڑے ہوجانا اولیاء اللہ کی صفت ہے۔ اللہ نے ان کی یہی صفت بیان کی ہے ‘ اولیاء کی یہ صفت بیان نہیں کی کہ قرآن سننے سے ان کی عقلیں جاتی رہتی ہیں اور وہ بےہوش ہوجاتے ہیں۔ یہ کیفیت اہل بدعت کی ہوتی ہے اور شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر نے فرمایا : میں نے اپنی دادی حضرت اسماء بنت ابی بکر سے پوچھا : (اس عبادت میں شاید یہ سہو ہے ‘ کیونکہ حضرت اسماء کو حضرت عبد اللہ نے جدتی کہا ہے ‘ لیکن حضرت اسماء حضرت عبد اللہ کی والد تھیں ‘ دادی نہیں تھیں۔ جدۃ ماں کو نہیں کہتے ‘ ہاں ام کا اطلاق کبھی جدۃ پر آجاتا ہے۔ مترجم) رسول اللہ ﷺ کے صحابیوں کے سامنے جب قرآن پڑھا جاتا تو ان کی کیا حالت ہوتی تھی ؟ حضرت اسماء نے فرمایا : ان کی حالت وہی ہوتی تھی جیسی اللہ نے بیان فرمائی ہے کہ آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے اور بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے۔ میں نے کہا : کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ بےہوش ہو کر گرپڑتے ہیں۔ حضرت اسماء نے (جواب میں) فرمایا : میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں (یعنی یہ حرکت شیطان مردود کی ہے) ۔
بغوی کا بیان ہے کہ ایک عراقی شخص گرا پڑا ہے ‘ حضرت ابن عمر کا ادھر سے گذر ہوا ‘ دریافت فرمایا : اس کی کیا حالت ہے ؟ لوگوں نے کہا : اس شخص کے سامنے جب قرآن پڑھا جاتا ہے اور یہ اللہ کا ذکر سنتا ہے تو بےہوش ہو کر گر جاتا ہے۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا : ہم بھی اللہ سے ڈرتے ہیں لیکن (قرآن سن کر بےہوش ہو کر) گر نہیں پڑتے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ شیطان بعض لوگوں کے اندر گھس جاتا ہے (اور بےہوش کر کے گرا دیتا ہے) رسول اللہ ﷺ کے صحابہ تو ایسا نہیں کرتے تھے ‘ یہ فعل ان کا نہ تھا۔
شبہ کا جواب : میں کہتا ہوں : جب برکات اور تجلیات کی بارش بکثرت ہوتی ہے اور صوی کا حوصلہ تنگ اور استعداد کمزور ہوتی ہے تو (صوفی برداشت نہیں کرسکتا اسلئے) بےہوشی کی حالت طاری ہوجاتی ہے۔ صحابہ کے ظرف وسیع تھے اور صحبت رسول کی برکت سے استعداد قوی تھی ‘ اسلئے باوجود برکات کی کثیر بارش کے ان پر بےہوشی طاری نہیں ہوتی تھی۔ صحابیوں کے علاوہ دوسروں کو یہ چیز میسر نہیں ‘ اسلئے دو وجہوں سے ان پر بےہوشی طاری ہوجاتی ہے : نمبر 1 یا نزول برکات ہی کم ہوتا ہے ‘ نمبر 2 یا ان کا ظرف تنگ ہوتا ہے اور حوصلہ میں سمائی نہیں ہوتی۔
تعجب ہے کہ امام محی السنۃ نے ان صوفیوں کو برا کہا جن پر قرآن سننے سے بےہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ وہ بھول گئے کہ اللہ نے فرمایا ہے : حتّٰی اذا فزع عن قلوبھم قالوا ما ذا قال ربکم قالوا الحق ‘ وھو العلی الکبیر۔ امام موصوف نے اس آیت کی تفسیر میں خود ہی حضرت نواس بن سمعان کی روایت سے مندرجہ ذیل حدیث نقل کی ہے کہ جب اللہ کسی بات کا ارادہ کرتا ہے اور وحی کے الفاظ فرماتا ہے تو اللہ کے خوف سے آسمانوں میں ایک شدید لرزہ آجاتا ہے ‘ آسمان والے اس کو سن کر بےہوش ہوجاتے ہیں اور سجدہ میں گرپڑتے ہیں ‘ پھر سب سے پہلے سر اٹھانے والے جبرئیل ہوتے ہیں ‘ الحدیث۔
بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے ایسی ہی حدیث نقل کی ہے لیکن الفاظ (میں کچھ تغیر ہے اور الفاظ) اس طرح ہیں : جب اللہ آسمان پر کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے کلام کو سن کر عاجزی کے ساتھ ملائکہ اپنے بازو پھڑپھڑاتے ہیں (اور ایسی آواز آتی ہے) جیسے پتھر کی چٹان پر زنجیر لگنے سے پیدا ہوتی ہے ‘ پھر جب ان کے دلوں کی وہ ہیبت دور ہوجاتی ہے تو (بعض ملائکہ بعض سے) کہتے ہیں : تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ وہ جواب دیتے ہیں (جو کچھ فرمایا) حق ہے ‘ الحدیث۔ ایک اور آیت میں (حضرت موسیٰ کے بےہوش ہوجانے کا ذکر کیا اور) فرمایا ہے : فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا۔
رہا حضرت ابن عمر کا یہ قول کہ شیطان لوگوں کے خون کے اندر گھس جاتا ہے ‘ اسی طرح حضرت اسماء کا اعوذ باللہ الخ پڑھنا تو ظاہر ہے کہ انکے حوصلے قوی اور ظرف وسیع تھے ‘ جن کے اندر تمام تجلیات کی سمائی تھی ‘ اسلئے انکی اور ان جیسے دوسرے صحابیوں کی بےہوشی کی حالت نہیں ہوتی تھی۔ جب ان بزرگوں نے دو آدمیوں کو بےہوش پایا تو (ان پر چونکہ کبھی یہ حالت طاری نہیں ہوئی تھی اسلئے) خیال کرلیا کہ یہ فریبی ہیں ‘ مکر سے بےہوش بنے ہیں۔ اس بات کی تائید اس قصہ سے بھی ہوتی ہے کہ جب ابن سرین کے سامنے ذکر کیا گیا کہ کچھ لوگ قرآن سن کر بےہوش ہوجاتے ہیں تو فرمایا : ایسے آدمی کو کسی چھت کے کنارے پر نیچے کو پاؤں لٹکا کر بٹھایا جائے ‘ پھر قرآن پڑھا جائے ‘ اگر وہ قرآن سن کر بےہوش ہو کر نیچے گرپڑے تو سمجھ لو سچا ہے (ورنہ جھوٹا ہے ‘ مکار ہے) ۔
ابن سیرین کے قول سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اکثر اس طرح کے آدمیوں کو بناوٹی اور مکار خیال کرتے تھے۔
تنبیہ : ملائکہ سے انسان کی استعداد زیادہ قوی اور حوصلہ زیادہ وسیع ہے ‘ اس کے ثبوت کیلئے آیت اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً سے اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ تک کافی ہے۔ اسی وسعت حوصلہ اور قوت استعداد کو ظاہر کرنے کیلئے فرمایا : اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمَلْنَھَا وَاَشْفَقْنَ مِنْھَا وَحَمَلَھَا الْاِنْسَانُ ۔ یہی وجہ ہے کہ فرشتوں نے جب بھی وحی (کی آواز) سنی تو ان پر غشی طاری ہوگئی ‘ لیکن آدمی کی حالت ایسی نہیں ہے۔ اگر (عروج کے بعد) انسان کا نزول بھی مکمل ہوجائے تو سوائے کسی نادر مثال کے عام طور پر ایسے عارفوں کی حالت میں کوئی تغیر نہیں آتا اور اگر نزولی حالت کامل نہ ہو ‘ ناقص ہو تو اکثر حالات میں تغیر آجاتا ہے (اور ناقص النزول عارف کلام اللہ سب کر بےہوش ہوجاتا ہے) ۔
جب صوفی سکر کی حالت میں ہوتا ہے اور شعر و غناء میں محبوب کا ذکر سنتا ہے تو اکثر اس کی حالت بگڑ جاتی ہے (رقص کرتا ہے ‘ لوٹتا ہے ‘ تڑپتا ہے ‘ بےہوش ہوجاتا ہے) اسلئے صوفیہ سماع کو پسند کرتے ہیں۔ لیکن قرآن تو شعر و غناء سے بہت زیادہ بلند مقام رکھتا ہے ‘ اس کو سن کر حالت میں کوئی تغیر نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت کرنے یا سننے کے وقت ذاتی صفات و تجلیات سے تعلق رکھنے والی برکات کا اتنی کثرت سے فیضان و نزول ہوتا ہے کہ جو صوفی اپنے مقام پر رکے ہوئے ہیں اور احتباس کی حالت میں ہیں ‘ ان کی رسائی بھی ان برکات تک نہیں ہو پاتی ‘ یہی احتباس گانا سننے کے وقت تو ان کی حالت میں تغیر پیدا کردیتا ہے اور قرآن سننے کے وقت حالت میں کوئی تغیر نہیں آتا۔ لیکن جو صوفی افق پر پہنچ گئے ہوں اور مقام دَنٰی فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی تک ان کی رسائی ہوگئی ہو ‘ ان کی حالت میں تغیر (بےہوشی کی حد تک نہیں بلکہ) صحابہ کی طرف ہوجاتا ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں ‘ بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ذکر رب سے دلوں میں سکون و اطمینان پیدا ہوجاتا ہے۔
ذلک ھدی اللہ یھدی بہ من یشاء ومن یضلل اللہ فما لہ من ھاد یہ اللہ کی ہدایت ہے اسکے ذریعے
سے وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت یاب کرتا ہے اور جس کو اللہ گمراہ کر دے ‘ اس کا کوئی ہادی نہیں۔
ذٰلِکَ یہ یعنی خوف وامید یا قرآن مجید۔
وَمَنْ یُّضْلِلْ یعنی جس کو اللہ بےمدد چھوڑ دے اس کو کوئی گمراہی سے نہیں نکال سکتا۔
Ayah 39:24افمن یتقی بوجھہ سواء العذاب یوم القیمۃ وقیل للظمین ذوقوا ما کنتم تکسبون بھلا جو
شخص اپنے منہ کو قیامت کے دن سخت عذاب کی سپر بنا دے گا اور ایسے ظالموں کو حکم ہوگا کہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے ‘ اب اس کا مزہ چکھو۔
اَفَمَنْ استفہام انکاری ہے۔ یَّتَّقِیْ بِوَجْھِہٖ یعنی اپنے آپ کو بچانے کیلئے اپنے منہ کو سپر کی طرح آگے بڑھا دے گا۔ قاعدہ ہے کہ ہر حملہ کو آدمی اپنے ہاتھوں پر روکتا ہے ‘ سامنے سے ہونے والے حملہ کو روکنے کیلئے اپنے ہاتھ آگے بڑھا دیتا ہے تاکہ چہرہ محفوظ رہے ‘ لیکن کافر کو جب دوزخ میں ڈالا جائے گا تو اس کے ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہوں گے ‘ وہ اپنے چہرے کو بچا نہ سکے گا اور چہرہ پر ہی عذاب لے گا۔ مجاہد نے کہا : منہ کے بل سرنگوں کر کے کافروں کو آگ میں کھینچا جائے گا ‘ اسلئے سب سے پہلے آگ اس کے چہرے ہی کو لگے گی۔ مقاتل نے کہا : کافر کے ہاتھ گردن میں باندھ کر دوزخ میں پھینکا جائے گا اور کوہ عظیم کے برابر گندھک کی ایک چٹان اس کے گلے میں لٹکی ہوئی ہوگی ‘ فوراً اس پتھر میں آگ لگ جائے گی اور وہ بھڑک جائے گا۔
مطلب یہ ہے کہ ایسا کافر جو اپنے منہ کو ہی عذاب سے بچنے کیلئے سپر بنائے گا ‘ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو ہر عذاب سے محفوظ رہے گا۔ اس جملہ میں خبر محذوف ہے (رفتار عبارت حذف خبر پر دلالت کر رہی ہے) ۔
وَقِیْلَ للظَّلِمِیْنَ بجائے ضمیر غائب کے ظالمین کی صراحت کردی تاکہ ایسے کافروں کے ظالم ہونے کا محکم ثبوت ہوجائے اور عذاب چکھنے کا جو حکم ان کو دیا جائے گا ‘ اس کی وجہ بھی معلوم ہوجائے۔
Ayah 39:25کذب الذین من قبلھم فاتھم العذاب من حیث لا یشعرون ان (کفار مکہ) سے پہلے بھی کافروں
نے (اپنے اپنے زمانہ میں انبیاء کی) تکذیب کی ‘ سو ان پر اس طرف سے عذاب آپہنچا جو ان کے خیال میں بھی نہیں تھا۔ یعنی ان کے دلوں میں تصور بھی نہ تھا کہ عذاب اس طرف سے آجائے گا۔
Ayah 39:26فاذاقھم اللہ الخزی فی الحیوۃ الدنیا ولعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون سو اللہ نے ان
کو ایسی دنیوی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب تو اور بھی بڑا ہے۔ کاش ! یہ لوگ سمجھ جاتے (تو تکذیب انبیاء نہ کرتے) ۔
الْخِزْی ذلت ‘ جیسے صورتیں بگڑ جانا ‘ زمین میں دھنسایا جانا ‘ مارا جانا ‘ طوفان میں مبتلا ہوجانا ‘ غیبی چیخ سے جگر پھٹ جانا ‘ ان پر اوپر سے پتھر برسنا ‘ غرق کیا جانا وغیرہ۔
وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ یعنی آخرت میں جو عذاب ان کیلئے تیار ہے۔
اَکْبَرُ اس دنیوی عذاب سے بہت بڑا ہے ‘ شدید بھی ہے اور لازوال بھی ہے۔
لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ یعنی کاش وہ تکذیب انبیاء کے برے نتیجہ کو سمجھ لیتے تو تکذیب نہ کرتے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اہل مکہ اگر اہل بصیرت اور ارباب نظر ہوتے تو پہلے لوگوں کے حالات سے عبرت حاصل کرتے۔
Ayah 39:27ولقد ضربنا للناس فی ھذا القران من کل مثل لعلھم یتذکرون۔ اور ہم نے لوگوں کی ہدایت کیلئے اس قرآن میں ہر قسم کے (ضروری) عمدہ مضامین بیان کئے ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں ‘
Ayah 39:28قرانا عربیا غیر ذی عوج لعلھم یتقون عربی میں نازل کیا جس میں ذرا کجی نہیں (اور) تاکہ لوگ ڈریں۔
مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ہر طرح کا عمدہ مضمون جو دینی امور پر غور کرنے والوں کیلئے ضروری ہے۔
غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ یعنی اس میں کسی طرح کا اختلال نہیں۔ مستقیم سے غیر ذی عوج کا لفظ زیادہ بلیغ ہے (ہر قسم کی کجی کی نفی کر رہا ہے) اور معانی (میں اختلال نہ ہونے) کیلئے یہ لفظ مخصوص ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس کا معنی یہ ہے کہ اس میں کوئی اختلاف (بیان) نہیں۔ مجاہد نے کہا : اس میں کوئی اشتباہ اور شک نہیں۔ سدی نے کہا : یہ مخلوق نہیں (خرابی ‘ اختلاف اور شک تو مخلوق کے کلام میں ہوتا ہے اور یہ مخلوق ہی نہیں ہے) امام مالک بن انس کا قول بھی اس لفظ کی تفسیر میں یہی آیا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ سفیان بن عیینہ نے ستر تابعین کا (بالاتفاق) قول نقل کیا کہ قرآن نہ خالق ہے نہ مخلوق۔ اس قول کا مطلب یہ ہے کہ قرآن اللہ کی صفت (کلامیہ) ہے ‘ عین ذات خداوندی نہیں کہ خالق ہوجائے اور غیر ذات بھی نہیں کہ ذات سے جدا ہو اور حادث و مخلوق ہوجائے۔ یہ قول دلالت کر رہا ہے کہ تابعین کے نزدیک اللہ کا کلام لفظی بھی قدیم ہے اور اللہ کی ایک صفت ہے ‘ کیونکہ کلام نفسی (جس پر کلام لفظ دلالت کر رہا ہے) عربی نہیں ہوسکتا (عربی اور عجمی ہونا تو الفاظ کی صفت ہے ‘ الفاظ کے معانی نہ تو عربی ہوتے ہیں نہ عجمی) یہ شبہ نہ کیا جائے کہ کلام لفظ میں ایک حرف کے بعد دوسرا حرف بولا جاتا ہے (اور اس طرح پورا جملہ اور کلام بن جاتا ہے) اور ترتیب حروف حادث ہونے کی علامت ہے ‘ کیونکہ یہ ترتیب حروف تو مخلوق کے کلام کیلئے ضروری ہے۔ محل کلام تنگ ہے ‘ اسلئے ایک حرف کے بعد دوسرا حرف آتا ہے اور پورا کلام حادث ہوجاتا ہے۔ اللہ کا کلام تو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے ‘ اس کے کلام میں تعاقب حروف کا تصور بھی غلط ہے ‘ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے حاضر پر غائب کو قیاس کرلیا جائے۔ رویت خداوندی کا انکار کرنے والے اسی تو ہم میں مبتلا ہوگئے کہ انہوں نے دیدار مخلوق پر دیدار خالق کو قیاس کرلیا۔ مخلوق کو دیکھنے کیلئے تو رخ اور مسافت وغیرہ ضروری ہے ‘ لیکن خالق کی رویت ان سب سے پاک ہے۔ اس کی مثل کوئی چیز نہیں ‘ نہ اس کی ذات میں اس کا کوئی مماثل ہے ‘ نہ کسی صفت میں ‘ شان اعلیٰ اسی کی ہے وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔
لَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ تاکہ وہ کفر و معاصی سے اجتناب کریں۔ یہ دوسری علت ہے جو پہلی علت لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ پر مرتب ہے ‘ یا اس سے بدل ہے ‘ یا اس کا بیان ہے۔
Ayah 39:29ضرب اللہ مثلا رجلا فیہ شرکاء متشکسون ورجلا سلما لرجل ھل یستوین مثلا اللہ نے
(موحد و مشرک کے فرق کو واضح کرنے کیلئے) ایک مثال بیان کی کہ ایک شخص (غلام) ہے جس میں کئی ساجھی ہیں جن میں باہم ضدا ضدی بھی ہے اور ایک اور شخص (غلام) ہے جو (صرف) ایک ہی شخص کا ہے۔ کیا دونوں کی حالت یکساں ہوسکتی ہے ؟
مُتَشٰکِسُوْنَ باہم اختلاف رکھنے والے ‘ یعنی ایسا مشترک غلام ‘ مشرک کی طرح ہے۔ مشرک بھی متعدد معبودوں کا دعویٰ کرتا اور ان کی پوجا کرتا ہے اور مشترک غلام بھی کشاکش میں مبتلا رہتا ہے ‘ کبھی کوئی مالک اس کو کھینچتا ہے ‘ کبھی دوسرا مالک۔ اپنے اپنے مختلف کاموں میں باری باری سے اس غلام کو تمام مالک لگائے رکھتے ہیں اور بیچارہ غلام حیران و پریشان ہوتا ہے ‘ اس کو سکون قلب حاصل نہیں ہوتا (وہ تمام آقاؤں کے مختلف کام کس طرح پورے کرے اور کس طرح سب کو راضی رکھے ‘ ہر وقت یہی پریشانی اس کو رہتی ہے) ۔
وَرَجُلاً سَلَمًا لِّرَجُلٍ یہ مثال مؤمن موحد کی ہے۔ ایک مالک کا غلام پریشان نہیں ہوتا ‘ یہی حالت موحد کی ہوتی ہے۔
ھَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلاً استفہام انکاری ہے ‘ یعنی دونوں غلاموں کی حالت برابر نہیں ہوسکتی۔ یہ استفہام تقریری بھی ہے ‘ مخاطب کو آمادہ کیا گیا ہے کہ وہ دونوں غلاموں کی حالت ایک جیسی نہ ہونے کا اقرار کرے۔ یہ حاصل مثل ہے ‘ مثال بیان کرنے کا مقصد یہی ہے۔
الحمد اللہ بل اکثرھم لا یعلمون الحمد اللہ (قبول تو لیا) ان میں سے اکثر سمجھتے بھی نہیں۔
یعنی تمام ستائش اللہ ہی کیلئے ہے۔ حقیقت میں مستحق حمد ہونے میں کوئی اس کا ساجھی نہیں ‘ وہی اصل منعم اور مالک کل ہے۔
بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ‘ بَلْ کا لفظ ابتدائیہ ہے جو جاہلوں کی حالت بیان کر رہا ہے ‘ یعنی اکثر لوگ اپنی انتہائی جہالت کی وجہ سے دوسروں کو خدا کا ساجھی قرار دیتے ہیں۔
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ الحمد سے پہلے لفظ قل محذوف ہے ‘ یعنی آپ کہہ دیجئے کہ اللہ نے نعمت توحید عطا فرمائی اور یہ نعمت دینے والا خاص وہی ایک مستحق ستائش ‘ مالک کل ہے ‘ اس پر اس کیلئے ساری حمد زیبا ہے۔
Ayah 39:30انک میت وانھم میتون۔ بلاشبہ آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے ‘
Ayah 39:31ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون پھر تم (سب اپنے مقدمات) اپنے رب کے سامنے پیش کرو گے (وہی تمہارا آخری فیصلہ کر دے گا) ۔
اِنَّکَ مَیِّتٌ ہر شخص کی موت یقینی ہے ‘ اسلئے بجائے فعل مضارع (تموت اور یموتون) کے صفت مشبہ کا صیغہ جو دوام و ثبوت پر دلالت کرتا ہے ‘ استعمال کیا (یعنی میت اور میتون فرمایا) فراء اور کسائی کی تحقیق ہے کہ مَیِّت اس شخص کو کہتے ہیں جو آئندہ مرنے والا ہو ‘ ابھی مرا نہ ہو اور مَیْت اس کو کہتے ہیں جس کی جان نکل چکی ہے ‘ اسلئے میّت اور میّتون بتشدید یؔ فرمایا۔
محلی نے لکھا ہے کہ کفار مکہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جلد وفات پاجائیں ‘ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ آپ بھی یقیناً مریں گے اور وہ یعنی کفار مکہ یا سب لوگ بھی مریں گے ‘ پھر رسول اللہ ﷺ کی وفات سے ان کو خوشی نہ ہونی چاہئے۔
ثُمَّ اِنَّکُمْ یعنی آپ اور کفار مکہ ‘ یا سب لوگ۔
تَخْتَصِمُوْنَ آپس میں جھگڑو گے ‘ اپنے مقدمات پیش کرو گے۔
رسول اللہ ﷺ عرض کریں گے : اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو بکواس قرار دے رکھا تھا۔ انہوں نے میری تکذیب کی باوجودیکہ میں حق پر تھا ‘ توحید کو پیش کر رہا تھا اور یہ باطل پر تھے ‘ مشرک تھے۔ میں نے ان کو راستہ دکھانے اور تیرے احکام پہنچانے کی بہت کوشش کی اور یہ اپنی سرکشی اور تکذیب پر اڑے رہے۔ کفار اپنے عذر میں غلط باتیں کہیں گے ‘ کہیں گے : ہم اللہ کی جو ہمارا رب ہے ‘ قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم مشرک نہیں تھے۔ یہ بھی کہیں گے کہ ہمارے پاس کو بشیر و نذیر (پیغمبر) ہی نہیں آیا۔ یہ بھی کہیں گے کہ ہم اپنے سرداروں کے اور بڑوں کے کہنے پر چلے اور اس چیز کی تقلید کی جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔
لوگ آپس میں بھی اپنے حقوق کی بابت جھگڑا کریں گے۔ سب سے پہلے آپس کی خوں ریزیوں کا فیصلہ کیا جائے گا۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن لوگوں کے باہمی مقدمات میں سب سے پہلے خونوں کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ترمذی اور ابن ماجہ اور طبرانی اور مردویہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : میں نے خود حضور ﷺ سے سنا کہ مقتول اپنے ایک ہاتھ میں اپنا سر لٹکائے اور دوسرے ہاتھ سے قاتل کو پکڑے ہوئے آئے گا ‘ اس وقت اس کی گردن کی رگوں سے خون ابل رہا ہوگا اور عرش الٰہی کے پاس پہنچ کر رب العالمین کی بارگاہ میں عرض کرے گا : اس نے مجھے قتل کیا تھا۔ اللہ قاتل سے فرمائے گا : تو ہلاک ہو۔ پھر اس کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔
طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مقتول ‘ قاتل کو پکڑ کرلے آئے گا ‘ اس کی گردن کی رگوں سے اس وقت خون اچھل رہا ہوگا۔ عرض کرے گا : اے میرے رب ! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا ؟ قاتل کہے گا : میں نے اس کو اسلئے قتل کیا تھا کہ فلاں شخض کو عزت (غلبہ) حاصل ہو۔ اللہ فرمائے گا : عزت تو (ساری) اللہ ہی کیلئے ہے۔ ابن حاتم نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے (کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :) قاتل اور مقتول دونوں کو لا کر رحمن کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور قاتل سے پوچھا جائے گا : تو نے اس کو کیوں قتل کیا ؟ اگر اس نے اللہ کیلئے قتل کیا ہوگا تو کہہ دے : میں نے اس کو اسلئے قتل کیا تھا کہ غلبہ اللہ (کے دین) کا ہو۔ جواب دیا جائے گا : بیشک عزت (غلبہ) اللہ ہی کیلئے ہے۔ اور اگر قاتل نے کسی مخلوق کیلئے قتل کیا ہوگا تو وہ کہے گا : میں اس کو اسلئے قتل کیا تھا کہ فلاں شخص کو غلبہ حاصل ہو۔ ارشاد ہوگا : اس کیلئے تو عزت نہیں۔ غرض جس ظالم نے کسی کو قتل کیا ہوگا ‘ اس سے انتقام لیا جائے گا اور اتنے دنوں اس کو موت کا مزہ چکھایا جاتا رہے گا جتنے دنوں اس نے دنیا میں مقتول کو زندگی سے محروم کیا تھا۔
امام احمد ‘ ترمذی اور حاکم نے حضرت عبد اللہ بن زبیر کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت زبیر نے فرمایا : جب آیت اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ ز ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ نازل ہوئی تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا ہمارے آپس کے خاص خاص جرائم کو دوبارہ ہمارے سامنے لایا جائے گا ؟ فرمایا : ہاں ‘ ضرور دوبارہ ان کو سامنے لایاجائے گا ‘ یہاں تک کہ ہر حقدار کو اس کا حق پہنچ جائے گا۔ حضرت زبیر نے کہا : وا اللہ ! معاملہ بڑا سخت ہوگا۔
طبرانی نے ناقابل اعتراض سند سے حضرت ابو ایوب انصاری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن مرد و عورت کا جھگڑا پیش ہوگا۔ خدا کی قسم ! مرد زبان سے کچھ نہ کہے گا ‘ بلکہ عورت کے ہاتھ پاؤں خود اس کے خلاف شہادت دیں گے کہ یہ اپنے شوہر کی فلاں فلاں عیب چینی کرتی تھی ‘ پھر مرد کے ہاتھ پاؤں ان باتوں کی شہادت دیں گے جو عورت پر وہ زیادتی کرتا تھا۔ اسی طرح آدمی کو اس کے خدمتگاروں کے ساتھ طلب کیا جائے گا ‘ پھر بازار والوں کو بلایا جائے گا ‘ وہاں دانگ اور کیرٹ تو ہوں گے نہیں بلکہ (ظالم کی) نیکیاں مظلوم کو دے دی جائیں گی اور مظلوم کے گناہ ظالم پر ڈال دئیے جائیں گے ‘ پھر ظالموں کو آہنی گرزوں (کے گھیرے) میں لایا جائے گا اور حکم ہوگا : ان کو دوزخ کی طرف اتار دو ۔
امام احمد نے سند حسن سے حضرت عقبہ بن عامر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن سب سے اول دو ہمسائے (اپنا مقدمہ پیش کرنے) آئیں گے۔
بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کی طرف اسکے بھائی کا کوئی حق ہو ‘ اسکو دنیا ہی میں ا سے خلاصی حاصل کر لینی چاہئے ‘ کیونکہ وہاں نہ دینار ہوگا ‘ نہ درہم۔ اگر اسکا کوئی نیک عمل ہوگا تو اس سے وہ عمل لے کر حقدار کو اسکے حق کے موافق دے دیا جائے گا اور اگر اس (ظالم) کی نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کے گناہ لے کر ظالم پر لاد دئیے جائیں گے۔
مسلم اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : ہم میں مفلس وہی ہوت ہے جس کے پاس نہ روپیہ ہو نہ سامان۔ فرمایا : میری امت کا مفلس وہ ہوگا جو نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ (سب کچھ) لے کر آئے گا (لیکن) کسی کو گالی دی ہوگی ‘ کسی پر تہمت لگائی ہوگی ‘ کسی کا مال کھایا ہوگا ‘ کسی کا خون بہایا ہوگا ‘ کسی کو مارا ہوگا ‘ چناچہ اس کو پکڑا جائے گا اور اس کی کچھ نیکیاں ایک (حقدار) کو بطور بدلہ دے دی جائیں گی اور کچھ دوسرے کو ‘ اگر بدلہ پورا ہوئے بغیر اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو حقداروں کے کچھ گناہ لے کر اس پر ڈال دئیے جائیں گے ‘ پھر اس کو آگ میں پھینک دیا جائے گا۔
میں کہتا ہوں : مظلوم ‘ ظالم کی نیکیاں لے لے گا ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ علاوہ ایمان کے دوسری نیکیوں کا ثواب لے لے گا ‘ کیونکہ کفر کے علاوہ ہر قسم کے حقوق اور گناہوں کی سزا غیر متناہی نہیں ہے (کبھی ختم ہوجائے گی) یہی قول اہل سنت کے مسلک کے مطابق ہے ‘ اہل سنت کے نزدیک مرتکب کبیرہ ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہے گا اور ایمان کی جزا دوامی جنت ہے اور جنت کی کوئی حد نہیں۔ لہٰذا جو چیز متناہی بدلہ والی ہے (یعنی اللہ کا گناہ یا بندوں کی حق تلفی) اس کا عوض وہ چیز نہیں ہوسکتی جو غیرمتناہی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اگر گناہوں کا بدلہ پورا ادا ہوئے بغیر ظالم کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی اور صرف ایمان باقی رہ جائے گا تو کفر کے علاوہ مظلوموں کے گناہ ظالم پر لاد دئیے جائیں گے (مظلوم کا کفر ظالم پر نہیں ڈالا جائے گا ‘ کیونکہ کفر کی سزا تو غیرمتناہی ہے اور گناہوں کی سزا متناہی ہے اور متناہی گناہوں کی سزا غیرمتناہی سے نہیں بدل سکتی) پھر اگر مظلوم انکار کرے گا تو ظالم کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا اور اتنی مدت تک وہاں رکھا جائے گا جتنی مدت ان گناہوں کی سزا کیلئے مقرر ہوگی۔ جب گناہوں کی سزا پوری ہوجائے گی تو اس ظالم کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کردیا جائے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ میں نے جو تشریح کی ہے ‘ وہی بیہقی نے بھی کی ہے۔
مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن حقداروں کو انکے حقوق واپس دلائے جائیں گے ‘ یہاں تک کہ منڈی بکری کو بھی سینگوں والی بکری سے (اگر اس نے منڈی بکری کو مارا ہوگا تو) بدلہ دلوایا جائے گا۔ ایک روایت میں آیا ہے : منڈی کو سینگوں والی سے اور (مظلوم) چھوٹی سرخ چیونٹی کو (ظالم) سرخ چیونٹی سے بدلہ دلوایا جائے گا۔
بیہقی نے حضرت زبیر بن عوام کی روایت سے بیان کیا کہ جب آیت ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ نازل ہوئی تھی تو ہم نے کہا تھا : ہم آپس میں (قیامت کے دن) کیسے جھگڑیں گے ؟ ہمارا رب ایک ہے ‘ ہمارا دین ایک ہے اور ہماری کتاب ایک ہے ‘ یہاں تک کہ میں نے (اب) دیکھ لیا کہ ہم میں بعض ‘ بعض کے چہروں پر تلواریں مار رہے ہیں۔ اب میں نے پہچانا کہ یہ آیت ہمارے حق میں نازل ہوئی۔ حضرت ابن عمر کی روایت بھی اسی طرح آئی ہے۔
حضرت ابو سعید خدری نے اس آیت کے ذیل میں فرمایا : ہم کہتے تھے : ہمارا رب ایک ہے ‘ ہمارا نبی ایک ہے ‘ ہماری کتاب ایک ہے ‘ پھر (قیامت کے دن) یہ باہمی حق طلبی کیا ہوگی ؟ آخر جب جنگ صفین کا دن آیا اور ہم میں سے بعض نے بعض پر تلواروں سے حملے کئے تو ہم نے کہا : ہاں ‘ یہ وہی ہے۔
ابراہیم کا بیان ہے کہ جب آیت ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا : ہم تو بھائی بھائی ہیں ‘ ہمارا باہم جھگڑا کس طرح ہوگا ؟ لیکن جب حضرت عثمان شہید کر دئیے گئے تو لوگوں نے کہا : یہ ہے ہمارا باہمی جھگڑا۔
ان تمام مندرجۂ بالا اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ یہ سمجھتے تھے کہ قتل و خون کے جھگڑے مسلمانوں اور کافروں کے درمیان ہوں گے (مسلمانوں کے آپس میں نہیں ہوں گے) لیکن جب بغاوتیں ہوئیں اور مسلمانوں کے آپس میں فساد ہونے لگے ‘ اس وقت ظاہر ہوا کہ خصومت اور جھگڑا مسلمانوں کے آپس میں بھی ہوگا۔
تیئیسواں پارہ ختم ہوا ‘ اللہ کی مدد سے چوبیسواں پارہ شروع کیا جاتا ہے۔
Ayah 39:32فمن اظلم ممن کذب علی اللہ وکذب بالصدق اذ جاء ہ الیس فی جھنم مثوی للکفرین
اس شخص سے زیادہ بےانصاف کون ہے جس نے اللہ پر دروغ بندی کی اور (ا اللہ کی طرف سے رسول خدا ﷺ کے ذریعہ سے) جب سچائی (ا اللہ کی کتاب) اس کے پاس آگئی تو اس نے سچائی کو جھوٹا بتایا ‘ کیا (ایسے) کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے ؟
فَمَنْ اَظْلَمُ اس میں فَ سببی ہے ‘ کافروں کا رسول اللہ ﷺ سے جھگڑا کرنا ‘ ان کے بےانصاف ہونے کا سبب ہے۔ سوال انکاری ہے ‘ یعنی ایسے شخص سے زیادہ بےانصاف اور کوئی نہیں۔ کَذَبَ عَلَی اللہ اللہ پر دروغ بندی کی ‘ اس کیلئے اولاد قرار دی اور دوسروں کو اس کا ساجھی بنایا۔
وَکَذَّبَ بالصِّدْقِ اور جب سچ یعنی قرآن اور پیام خدا اس کو پہنچ گیا تو بغیر سوچے سمجھے فوراً اس کی تکذیب کی ‘ یہ بھی نہیں دیکھا کہ اس کی سچائی کے دلائل اور اس کے صادق ہونے کے بکثرت شواہد موجود ہیں۔
اَلَیْسَ فِیْ جَھَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکَافِرِیْنَ ‘ مثوٰی اترنے کی جگہ ‘ ٹھہرنے کا مقام۔ یہ استفہام تقریری ہے۔ اِنک میّت سے اس آیت تک پورا کلام اپنے اندر رسول اللہ ﷺ کیلئے ایک خاص تسلی و اطمینان کا حامل ہے کہ یہ لوگ جو آپ کی تکذیب کر رہے ہیں ‘ آپ کچھ غم نہ کریں ‘ نہ ان سے انتقام کی کوئی فکر کریں ‘ ان کو ان کے اعمال کی سزا دینے کیلئے جہنم کافی ہے۔
Ayah 39:33والذین جاء بالصدق وصدق بہ اولئک ھم المتقون اور جو لوگ سچی بات لے کر آئے اور خود بھی اسکو
سچا مانا ‘ یہی لوگ اہل تقویٰ ہیں (یعنی اللہ سے ڈرنے والے پرہیزگار ہیں) ۔
اَلَّذِیْ جَآء بالصِّدْقِ الخ (سے صرف رسول اللہ ﷺ ہی مراد نہیں ہیں بلکہ) تمام انبیاء اور مؤمنوں کو یہ لفظ شامل ہے ‘ کیونکہ اگلی آیت میں اولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ بصیغۂ جمع فرمایا ہے۔ حضرت ابن مسعود کی قرأت میں والَّذِیْنَ جَآءُوْا بالصِّدْقِ آیا ‘ اس سے بھی قول کی تصدیق ہوتی ہے ‘ لیکن
حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ (صدق یعنی) لَآ اِلٰہَ الاَّ اللہ کو رسول اللہ ﷺ لائے اور آپ کے خود اسکی تصدیق کی ‘ یعنی لوگوں تک اس کو پہنچایا ‘ اس تفسیر پر اولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ سے رسول اللہ ﷺ اور آپ کی پیروی کرنے والے اہل ایمان کی طرف ‘ یعنی سب کی طرف اشارہ ہوگا جیسے اسی طرح کا استعمال ایک اور آیت میں آیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ لَعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ بصیغۂ جمع سے مراد ہیں حضرت موسیٰ مع اپنے تابعین کے۔
سدی نے کہا : قرآن لانے والے جبرئیل تھے اور اس کی تصدیق کرنے والے رسول اللہ ﷺ ‘ آپ نے جبرئیل کی لائی ہوئی سچائی کو قبول کرلیا۔ کلبی اور ابو العالیہ نے کہا : قرآن لانے والے رسول اللہ ﷺ تھے اور اسکی تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق۔ زجاج نے حضرت علی کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت میں بھی اسی طرح آیا ہے۔
قتادہ اور مقاتل نے کہا : سچائی کو لے کر رسول اللہ ﷺ آئے اور اسکی تصدیق مؤمنوں نے کی۔
عطاء نے کہا : سچائی کو لانے والے تمام انبیاء تھے اور اس کی تصدیق کرنے والے ان کے پیرو تھے۔
صاحب مدارک اور بیضاوی نے لکھا ہے کہ تقاضاء عربیت یہی ہے کہ جَآء اور صَدَّقَ کا فاعل ایک ہو (جو لے آیا ‘ اسی نے تصدیق کی) کیونکہ اگر صَدَّقَ کا فاعل وہ نہ ہوگا جو لے کر آیا تو صَدَّقَ سے پہلے الَّذِیْ محذوف ماننا پڑے گا اور یہ جائز نہیں ‘ یا فاعل کی ضمیر محذوف ماننا پڑے گی ‘ لیکن ضمیر کا مرجع مذکور نہیں ہے۔
میں کہتا ہوں : بیضاوی اور صاحب مدارک نے یہ کیسے لکھ دیا کہ موصول (یعنی الذی) کو صَدّق سے پہلے محذوف کرنا جائز نہیں ؟ کلبی ‘ قتادہ ‘ مقاتل اور ابو العالیہ جیسے علماء تفسیر نے تو وہی ذکر کیا ہے جو ہم نے اوپر نقل کردیا۔ حضرت حسان کا شعر ہے جس میں موصول کو محذوف کیا گیا ہے
اَمَنْ یَّھْجُوْ رَسُوْل اللہ مِنْھُمْ وَیَمْدَحُہٗ وَیَنْصُرُہٗ سَوَآءٌ
کیا ان میں سے وہ شخص جو رسول اللہ ﷺ کی ہجو ‘ اور (وہ شخص جو) آپ کی تعریف کرتا ہے اور آپ کی مدد کرتا ہے ‘ برابر ہوسکتے ہیں ؟
صاحب بحر مواج نے لکھا ہے : ممکن ہے کہ کلام میں لف و نشر اجمالی ہوں ‘ جیسے آیت قالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ الاَّ مَنْ کَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصَارٰی یعنی قالَتِ الْیَھُوْدُ لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ الاَّ مَنْ کَانَ ھُوْدًا - وَّقَالَتِ النَّصَارٰی لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ الاَّ مَنْ کَانَ نَصَارٰی۔
یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ الذی سے فریق مراد ہے ‘ یعنی اَلْفَرِیْقُ الَّذِیْ جَآءَالخ فریق کے اندر رسول اللہ ﷺ بھی شامل ہیں اور حضرت ابوبکر صدیق بھی ‘ پھر رسول اللہ ﷺ کی ذات کو پیش نظر رکھ کر جَآءَ کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع کردی اور حضرت ابوبکر کی شخصیت کے لحاظ سے صَدّق کی ضمیر ان کی طرف راجع کردی اور دونوں ضمیروں کا مرجع الّذی ہی ہے۔
Ayah 39:34لھم ما یشاء ون عند ربھم ذلک جزا المحسنین ان کیلئے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہے ‘ جو
وہ چاہیں گے۔ یہ صلہ ہے نیکوکاروں کا۔
یعنی جنت میں جو کچھ چاہیں گے ‘ وہ ان کے رب کے پاس موجود ہے۔
ذٰلِکَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ یعنی یہ صلہ ہے نیکوں کے نیکی کرنے کا۔
Ayah 39:35لیکفر اللہ عنھم اسوا الذی علموا ویجزیھم اجرھم باحسن الذی کانوا یعلمون تاکہ اللہ
ان سے ان کے برے اعمال (کی سزا) کو دور کر دے (یعنی معاف کر دے اور قیامت کے دن چھپائے رکھے) اور ان کے نیک کاموں کے عوض ان کو ان کا ثواب عطا فرمائے۔ اَسْوَاَ (بہت برے) بطور مبالغہ ( کلام کو پرزور بنانے کیلئے) فرمایا ‘ کیونکہ جب سب سے برے اعمال کو اللہ معاف فرما دے گا تو کم درجہ کے برے اعمال کی معافی تو بہرحال ہو ہی جائے گی۔ یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ کبیرہ گناہ معاف ہوجائیں گے ‘ پس معتزلہ کا قول غلط ہے جو عفو کبائر کے قائل نہیں۔ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا کہنے سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ وہ ہر گناہ کو جو ان سے صادر ہو اجائے (خواہ وہ چھوٹا ہو) سب سے برا سمجھتے ہیں ‘ گویا تمام (چھوٹے بڑے) گناہ ان کی نظر میں بڑے ہی ہیں۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہَ اسْوَاَ سے مراد تفضیل اضافی نہیں بلکہ تفضیل ذاتی ہے (یعنی کسی دوسرے گناہ کے مقابلہ میں زیادہ برا ظاہر کرنا مراد نہیں ہے بلکہ فی نفسہٖ عمل کا بہت برا ہونا مراد ہے) ۔
اَجْرَھُمْ یعنی ان کے اعمال ثواب بِاَحْسَنِ الَّذِیْ الخ یعنی ان کے اچھے اعمال کا (خواہ وہ سب سے اچھے نہ ہوں) بدلہ اتنا عطا فرمائے گا جو سب سے بہتر عمل کا مقرر ہے ‘ کیونکہ ان کا ہر نیک عمل اخلاص کے ساتھ ہوتا ہے ‘ یا یوں کہا جائے کہ اَحْسَنَ (اسم تفضیل) سے یہاں بھی فضیلت مراد ہے (حسن اضافی مراد نہیں ہے) اسلئے مقاتل نے کہا کہ اللہ ان کے اچھے اعمال کا بدلہ دے گا اور برے اعمال کا بدلہ نہیں دے گا۔
Ayah 39:36الیس اللہ بکاف عبدہ کیا اللہ اپنے بندے (یعنی محمد ﷺ کی حفاظت اور نصرت) کیلئے کافی نہیں ہے ؟
استفہام انکاری ہے اور انکار نفی ‘ پرزور ثبوت پر دلالت کرتا ہے ‘ یعنی ضرور کافی ہے۔
ویخوفونک بالذین من دونہ ومن یضلل اللہ فما لہ من ہاد۔ اور یہ لوگ آپ کو ان (جھوٹے معبودوں) سے ڈراتے ہیں جو اللہ کے سوا (انہوں نے بنا رکھے) ہیں
Ayah 39:37ومن یھد اللہ فما لہ من مضل الیس اللہ بعزیز ذی انتقام
اور جس کو اللہ بےمدد چھوڑ دے اس کو کوئی راہ پر لانے والا نہیں ہے اور جس کو اللہ راہ پر لگا دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا اللہ زبردست (اور) انتقام لینے والا نہیں ہے ؟
وَیُخَوِّفُوْنَکَ بغوی نے لکھا ہے کہ بت پرست لوگ رسول اللہ ﷺ کو بتوں کی ناراضگی سے ڈراتے تھے اور کہتے تھے : تم ان کو برا کہنے سے اپنی زبان روکو ‘ ورنہ یہ تمہیں بدحواس اور پاگل بنا دیں گے۔ عبدالرزاق نے بھی یہ روایت بیان کی ہے۔
وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ یعنی اللہ جس کو بےمدد چھوڑ دے کہ وہ اللہ کے اپنے بندہ کی حفاظت کیلئے کافی ہونے سے غافل ہوجائے اور ایسی چیزوں سے ڈرنے لگے جو نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں ‘ نہ فائدہ۔
فَمَا لَہٗ مِنْ ھَادٍ اس کیلئے کوئی ہدایت دینے والا نہیں کہ سیدھے راستہ پر اس کو چلا سکے۔
فَمَا لَہٗ مِنْ مُّضِلٍّ اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ‘ کیونکہ اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت کو کوئی روک نہیں سکتا۔
اَلَیْسَ اللّٰہُ بِعَزِیْزٍ استفہام انکاری ‘ یعنی اللہ غالب ہے (اپنے فرمانبرداروں کو) نفع بخشتا ہے اور انتقام لینے والا ہے ‘ اپنے دشمنوں سے انتقام لیتا ہے (ان کو سزا دیتا ہے) ۔
Ayah 39:38ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیقولن اللہ قل افرایتم ما تدعون من دون اللہ ان
ارادنی اللہ بضر ھل ھن کشفت ضرہ او ارادنی برحمۃ ھل ھن ممسکت رحمتہ اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو (یہی) کہیں گے کہ اللہ نے (ان کو پیدا کیا) آپ ان سے کہئے کہ بھلا پھر یہ تو بتاؤ کہ اللہ کے سوا تم جن معبودوں کو پوجتے ہو ‘ اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا (تمہارے) یہ معبود اس کی دی ہوئی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں ‘ یا اگر وہ اپنی رحمت سے نوازنا چاہے تو کیا یہ معبود اس کی (عطا کردہ) رحمت کو روک سکتے ہیں ؟
وَلَءِنْ سَاَلْتَھُمْ یعنی اگر آپ کفار مکہ سے پوچھیں۔
لَیَقُوْلُنَّ اللہ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ یہ اللہ کے خالق ہونے کا ثبوت ہے کھلا ہوا۔ اور بتوں میں خلاقیت کی قابلیت نہیں ہے ‘ یہ بھی ظاہر ہے تو لامحالہ وہ اللہ کی خلاقیت کا اعتراف کریں گے۔ کفار مکہ کو اس کا اقرار بھی تھا۔
اَفَرَاَیْتُمْ یعنی تم اس بات کا اعتراف کرتے ہو کہ اللہ ہی خالق کائنات ہے ‘ اس کے سوا کوئی پیدا کرنے ولا نہیں تو مجھے بتاؤ۔ بِضُرِّ تکلیف ‘ مصیبت۔ ھَلْ ھُنَّ کیا وہ بت۔ استفہام انکاری ہے ‘ یعنی تنہا اللہ کی خلاقیت کا اقرار کرنے کے بعد ان پر اس بات کا اقرار لازم ہوجاتا ہے کہ بت نہ دکھ کو دور کرسکتے ہیں ‘ نہ سکھ دے سکتے ہیں ‘ نہ اللہ کی بھیجی ہوئی مصیبت کو دفع کرسکتے ہیں ‘ نہ اس کی عطا کردہ نعمت کو لوٹا سکتے ہیں۔
مقاتل کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (اس آیت کے نزول کے بعد) مشرکوں سے یہ سوال کیا تھا ‘ لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
قل حسبی اللہ علیہ یتوکل المتوکلون آپ کہہ دیجئے : میرے لئے اللہ کافی ہے ‘ بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔
حَسْبِیَ اللہ یعنی سکھ دینے اور دکھ کو دور کرنے کیلئے میرے واسطے اللہ کافی ہے۔
عَلَیْہِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُوْنَ اسی پر مؤمن توکل کرتے ہیں ‘ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ کے سوا نہ کوئی ضرر پہنچا سکتا ہے ‘ نہ فائدہ دے سکتا ہے۔ مؤمنوں کے ایمان کا تقاضا ہے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں ‘ اسلئے ان کو متوکل فرمایا۔
Ayah 39:39قل یقوم اعملوا علی مکانتکم انی عامل فسوف تعلمون۔ آپ کہہ دیجئے : اے میری قوم ! (جب تم میری تکذیب کر رہے ہو تو) تم اپنی حالت پر عمل کئے جاؤ ‘ میں بھی عمل کر رہا ہوں۔ اب جلد ہی تم کو معلوم ہوجائے گا
Ayah 39:40من یاتیہ عذاب یخزیہ ویحل علیہ عذاب مقیم کہ کس پر دنیا میں ایسا عذاب آیا چاہتا ہے جو رسوا کر دے گا اور (مرنے کے بعد) دوامی عذاب بھی اس پر نازل ہوگا۔
مَکَانَۃٌ ظرف مکان ہے (بمعنی جگہ) اس جگہ مجازاً مراد حالت ہے ‘ جیسے حیْثُ اور ھُنَا ظرف زمان ہیں اور کبھی بطور مجاز مکان مراد لے لیا جاتا ہے۔
اِنِّیْ عَامِلٌ یعنی میں اپنی حالت پر عمل کر رہا ہوں۔ یہاں مکانتی کا لفظ اختصاراً حذف کردیا گیا ‘ اس سے وعید میں زور بھی پیدا ہوگیا (کہ میں کامیاب ہوں گا اور تم دنیا و آخرت میں تباہ ہو گے) مکانتی کے لفظ کو حذف کردینے سے اس طرف بھی اشارہ نکلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ موجودہ حالت پر ہی نہیں ٹھہر جائیں گے بلکہ جتنا زمانہ گذرتا جائے گا ‘ آپ کو قوت اور نصرت زیادہ حاصل ہوتی جائے گی ‘ اسی لئے کافروں کو دھمکایا کہ میں دونوں جہان میں کامیاب رہوں گا۔
عَذَابٌ یُّخْزِیْہِ دشمنوں کی رسوائی رسول اللہ ﷺ کے آغالب آجانے کی دلیل ہے۔ بدر کی لڑائی میں اللہ نے کفار مکہ کو رسوا کر بھی دیا۔
مُقِیْمٌ دوامی یعنی دوزخ کا عذاب۔
Ayah 39:41انا انزلنا علیک الکتب للناس بالحق فمن اھتدی فلنفسہ ومن ضل فانما یضل لیھا وما
انت علیھم بوکیل ہم نے ہی آپ پر لوگوں (کی ہدایت اور دونوں جہان کی فلاح) کیلئے کتاب نازل کی ‘ اب جو شخص راہ راست پر آئے گا تو اپنے نفع کیلئے (آئے گا) اور جو بےراہ ہوگا تو اس کا بےراہ ہونا (یعنی اس کے بےراہ ہونے کا وبال) اسی پر پڑے گا ‘ آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَاالخ اس پورے جملہ کا ربط آیت وَلَقَدْ ضَرَبْنَا للنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰن سے ہے اور درمیان میں سب جملے معترضہ ہیں۔ لِلنَّاس یعنی معاش و معاد ‘ دونوں میں حصول منافع و مصالح کے راستہ پر چلنے کیلئے۔
فَمَنِ اھْتَدٰی یعنی اس کتاب سے جو ہدایت یاب ہوا۔
مَنْ ضَلَّ جس نے اپنے منافع کے راستہ کو کھو دیا۔
مَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ یعنی آپ کو اس امر کا ذمہ دار نہیں بنایا گیا کہ ہدایت یاب ہونے پر ان کو مجبور کریں۔ آپ کو حکم صرف پیام الٰہی کو پہنچانے کا دیا گیا ہے اور آپ ایسا کرچکے ہیں ‘ پس ان کے گمراہ رہنے سے آپ کا کوئی نقصان نہ ہوگا۔
Ayah 39:42اللہ یتوفی الا نفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا اللہ ہی قبض کرلیتا ہے جانوں کو انکے مرنے
کے وقت اور ان جانوں کو جو مرتی نہیں (قبض کرلیتا ہے) سونے کی حالت میں۔
یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ یعنی بدنوں سے لے کر قبضہ میں کرلیتا ہے ‘ جس کی دو صورتیں ہوتی ہیں : نمبر ا بدنوں سے جانوں کا تعلق بالکل منقطع کردیتا ہے ‘ بدن پر جان کا نہ بیرونی تصرف باقی رہتا ہے ‘ نہ اندرونی۔ ایسا مرنے اور بدن سے بالکل جان کھنچ جانے کے بعد ہوتا ہے۔ نمبر 2 جانوں پر مکمل نہیں بلکہ کسی قدر قبضہ کرلیتا ہے ‘ بدن پر جان کا بیرونی تصرف ختم ہوجاتا ہے ‘ نہ بدن میں بیرونی حس باقی رہتی ہے ‘ نہ حرکت ارادیہ۔ اس عالم ظاہر سے روح کا علاقہ باقی نہیں رہتا ‘ اللہ اس کو عالم مثال (عالم اشباہ) کے مطالعہ کی طرف متوجہ کردیتا ہے۔ باہر کے تعلق سے روح خالی ہوجاتی ہے ‘ اس کا رخ مثال کی طرف ہوجاتا ہے (عالم مثال میں گذشتہ اور آئندہ واقعات و احوال کی صورتیں بالفعل حاضر ہیں ‘ روح ان کا مطالعہ کرتی ہے ‘ کبھی اس کو پچھلے واقعات دکھائی دیتے ہیں ‘ کبھی آگے آنے والے احوال کی تصویریں سامنے آجاتی ہیں) ایسا سونے کی حالت میں ہوتا ہے۔ توفّی کے دونوں معنی ہیں : اول معنی (وفات دینا ‘ پورا پورا قبضہ کرلینا اور بدن سے بالکل نکال لینا) حقیقی ہے اور دوسرا معنی مجازی ہے ‘ یہاں عموم مجاز کے طور پر مطلق قبض مراد ہے خواہ صرف بیرونی قبضہ ہو (یعنی روح کو بیرونی تصرفات سے روک دیا جائے ‘ بدن کی ظاہری حس معطل اور اعضاء کی ارادی حرکت ختم ہوجائے) یا بیرونی اور اندرونی ‘ دونوں قسم کے تصرف سے روک دیا جائے (روح کا بدن سے تعلق بالکل ہی منقطع کردیا ‘ نہ اندرونی نظام زندگی باقی رہے ‘ نہ بیرونی احساس و حرکت یعنی موت آجائے اور بدن سے روح نکل جائے) ۔
یا الّتی لم تمت سے پہلے دوسرا فعل محذوف قرار دیا جائے اور پورا کلام اس طرح مانا جائے کہ اللہ مرنے کے وقت جانوں پر پورا پورا قبضہ کرلیتا ہے (بدن کو بالکل بےجان بنا دیتا ہے) اور جو جانیں مرتی نہیں ‘ ان پر صرف خواب میں قبضہ کرلیتا ہے (بیرونی احساس و حرکت سے ان کو محروم کردیتا ہے) ۔
بعض اہل علم کا قول ہے کہ ہر انسان کا ایک نفس ہے اور ایک روح۔ سونے کی حالت میں نفس ‘ بدن سے نکل جاتا ہے اور روح (یعنی جان) باقی رہتی ہے (اور مرنے کے وقت روح بھی نکل جاتی ہے) اس قول میں نفس سے مراد ہے سمجھنے اور تمیز کرنے کی قوت (یعنی بیرونی حواس و قوت شعور) مطلب یہ کہ سونے کے وقت حواس و شعور کی قوت سلب کرلی جاتی ہے اور روح جس سے زندگی اور احساس و شعور کی قوت وابستہ ہے ‘ باقی رہتی ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : سونے کے وقت روح نکل جاتی ہے ‘ صرف اس کی شعاع جسم کے اندر باقی رہتی ہے۔ 1 اسی وجہ سے وہ خواب دیکھتا ہے ‘ پھر جب بیدار ہوتا ہے تو روح ایک پل سے بھی پہلے بدن کی طرف لوٹ آتی ہے۔
اگر یہ اثر صحیح ہو تو میرے نزدیک اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سونے کے وقت بدن سے روح کے نکلنے سے مراد یہ ہے کہ عالم ملکوت میں روح عالم مثال کے مطالعہ کی جانب متوجہ ہوجاتی ہے اور عالم مثال بدن سے بہرحال باہر ہی ہے اور بدن کے اندر روح کی شعاع باقی رہنے سے یہ مراد ہے کہ حسب سابق بدن سے روح کا تعلق باقی رہتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ خروج روح (یعنی عالم مثال کی طرف متوجہ ہونے سے) آدمی خواب دیکھتا ہے ‘ پھر آدمی بیدار ہوجاتا ہے تو روح لوٹ آتی ہے ‘ یعنی پل بھر سے بھی پہلے روح کا تعلق بدن سے حسب سابق ہوجاتا ہے۔
فیمسک التی قضی علیھا الموت پھر ان جانوں کو روک لیتا ہے جن کی موت کا حکم دے چکا ہے۔ یعنی نفخۂ
قیامت تک ان کی جانوں کو بدنوں کی طرف نہیں لوٹاتا۔
ویرسل الاخری الی اجل مسمی اور باقی جانوں کو ایک میعاد معین تک کیلئے رہا کردیتا ہے۔
یعنی سونے والوں کی جانوں کو ہوش اور احساس (بیرونی) کی طرف لوٹا دیتا ہے۔ اِلآی اَجَلٍ مُسَمًّی یعنی اس وقت تک کیلئے رہا کردیتا ہے جو مرنے کا مقرر ہے۔
صحیحین میں حضرت براء بن عازب کی روایت سے بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو خوابگاہ (بستر) پر چلے جاتے تو (دائیں کروٹ پر لیٹ کر دائیں) ہاتھ کو رخسار کے نیچے رکھ کر فرماتے : اَللّٰھُمَّ بِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیٰی اے اللہ ! میری زندگی اور موت تیرے ہی ہاتھ میں ہے (بِکَ میں ب اعانت اور قبضہ پر دلالت کر رہی ہے) اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے : اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَحْیَانَا بَعْدَ مَآ اَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم کو موت دینے کے بعد زندگی عطا فرما دی اور اسی کی طرف (قیامت کے دن) اٹھ کر جانا ہے۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے جب کوئی اپنے بستر کی طرف (لیٹنے کے ارادہ سے) جائے تو (پہلے) اپنی لنگی کے ایک پلو سے بستر کو جھاڑ دے کیونکہ اس کو نہیں معلوم کہ اس کی جگہ (بستر پر) کون آموجود ہوا (یعنی سانپ ‘ بچھو ‘ کیڑے مکوڑے) پھر کہے : اے میرے اللہ ! میں تیرے ہی نام کی برکت اور مدد سے اپنا پہلو (بستر پر) رکھتا ہوں اور تیرے ہی نام سے اس کو اٹھاتا ہوں۔ اگر تو میری جان کو روک لے تو اس پر رحم فرمانا اور اگر رہا کر دے تو جس چیز کے ساتھ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے ‘ اسی چیز کے ساتھ میری جان کی بھی حفاظت رکھنا۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ دائیں پہلو پر لیٹ کر یہ الفاظ کہے اور بستر کو جھاڑنے کے سلسلہ میں فرمایا : تین بار اپنے کپڑے کے پلو سے جھاڑ دے۔
ان فی ذلک لایت لقوم یتکفرون اس میں بکثرت دلائل ہیں ان لوگوں کیلئے جو سوچنے کے عادی ہیں۔
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ اس میں ‘ یعنی روحوں پر قبضہ کرنے ‘ پھر بعض کو روک رکھنے اور بعض کو رہا کردینے میں۔
لَاٰیٰتٍ بیشک بکثرت نشانیاں ہیں جو اللہ کی قدرت کاملہ ‘ حکمت (دقیقہ) اور رحمت عامہ پر دلالت کر رہی ہیں۔
یَتَفَکَّرُوْنَ جو غور کرتے اور سوچتے ہیں کہ روحوں کا اجسام سے تعلق کیسے ہوا اور کیسا ہے ‘ پھر کس طرح مرنے کے وقت بدنوں سے ان کا تعلق کٹ جاتا ہے اور کس طرح ان کو روک لیا جاتا ہے (یا واپس کردیا جاتا ہے) اور بدن کے فنا ہوجانے کے بعد ان کا بقاء کیسے رہتا ہے ‘ پھر ان کی سعادت و شقاوت کے احوال کیسے ہیں اور کیوں ہیں اور کیا حکمت ہے کہ ان کو کچھ دیر کیلئے ظاہری طور پر قبض کرلیا جاتا ہے کہ کچھ وقت کیلئے حس شعور سے یہ معطل ہوجاتی ہیں اور پھر ان کو وقتاً فوقتاً قبض کرنے اور رہا کرنے کا سلسلہ وقت موت تک جاری رہتا ہے۔ جو ان امور پر غور کرتے ہیں ‘ وہ جان لیتے ہیں کہ جو ذات ان تمام امور پر قادر ہے ‘ وہی قیامت کے دن زندہ کر کے ان کو اٹھانے پر بھی قدرت رکھتی ہے۔ یہ آیت علت ہے آیت عَلَیْہِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُوْنَ کی۔
Ayah 39:43ام اتخذوا من دون اللہ شفعآ قل اولو کانوا لا یملکون شیئا ولا یعقلون کیا انہوں نے اللہ
کے سوا دوسروں کو معبود بنا رکھا ہے جو ان کے سفارشی ہوں گے ؟ آپ کہہ دیجئے : (کیا تم ایسی حالت میں بھی ان کو معبود بناتے ہو جبکہ) وہ نہ کچھ قدرت رکھتے ہیں ‘ نہ ان کو کچھ علم ہے ؟
اَمِ اتَّخَذُوْا میں اَمْ ہمزۂ انکار کے معنی میں ہے اور ابتدائیہ ہے۔
یا بَلْ (اضرابیہ) کے معنی میں ہے اور منقطعہ ہے۔ قُلْ اے محمد ﷺ ! آپ کہہ دیجئے۔
اَوَلَوْ کَانُوْاالخ یہ ہمزۂ انکاریہ ہے ‘ اصل کلام اسی طرح تھا : کیا وہ تمہاری شفاعت کریں گے ‘ اگرچہ ان کی یہ حالت ہے جو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے کہ جمادات ہیں ‘ نہ کچھ سمجھتے ہیں ‘ نہ کچھ کرسکتے ہیں۔ ممکن تھا کہ مشرکوں کی طرف سے یہ کہا جاتا کہ ہم ان مورتیوں کو نہیں پوجتے ‘ بلکہ ان اشخاص کی پوجا کرتے ہیں جو بارگاہ خداوندی کے مقرب ہیں اور یہ انہی کی مورتیاں ہیں۔ اس قول کی تردید میں اور لا یملکون کی علت بیان کرتے ہوئے آگے فرمایا :
Ayah 39:44قل اللہ الشفاعۃ جمیعا آپ کہہ دیجئے کہ سفارش تو تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ یعنی کوئی بھی کسی امر میں اسکی اجازت اور رضامندی کے بغیر سفارش کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔
لہ ملک السموت والارض ثم الیہ ترجعون تمام آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور اسی کے پاس تم لوٹا کرلے جائے جاؤ گے۔ یعنی قیامت کے دن اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے ‘ اس وقت بھی اسی کی حکومت ہوگی۔