Ayah 39:45واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لا یومنون بالاخرۃ واذا ذکر الذین من دونہ
اذاھم یستبشرون اور جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ‘ بھچ جاتے ہیں (نفرت کرتے ہیں ‘ سکڑ جاتے ہیں) اور جب اللہ کے سوا اوروں کا ذکر کرتے ہیں تو وہ کھل جاتے ہیں (خوش ہوجاتے ہیں) یعنی بتوں کے تذکرے سے بڑے خوش ہوتے ہیں۔
بغوی نے حسب بیان مجاہد و مقاتل لکھا ہے اور ابن المنذر نے بھی اس قول کی نسبت مجاہد کی طرف کی ہے کہ یہ خوشی کافروں کو اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ نے سوۂ النجم پڑھی اور شیطان نے آپ کی قرأت کے اندر ومناۃ الثالثہ الاخرٰی کے آگے یہ الفاظ ملا دئیے تِلْکَ الْغَرَ انِیْقُ الْعُلٰی وَاِنَّ شَفَاعَتْھُنَّ لَتُرْجٰی۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ اشْمَاَزَّتْ اور یَسْتَبْشِرُوْنَ دونوں لفظ انتہائی کیفیت پر دلالت کرتے ہیں۔ استبشار (چہرہ کا کھل جانا) اس وقت ہوتا ہے جب دل خوشی اور مسرت سے اتنا پُر ہوجائے کہ اس کے آثار چہرہ پر نمودار ہوجائیں (اور چہرہ شگفتہ ہوجائے) اور اشمئزاز (بھچ جانا ‘ منقبض ہوجانا) اس وقت ہوتا ہے جب دل غم و غصہ سے اتنا بھر جائے کہ چہرہ کی کھال سکڑ جائے ‘ بل پڑجائیں۔
Ayah 39:46قل اللھم فاطر السموت والارض علم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادت فی ما
کانوا فیہ یختلفون آپ کہئے : اے اللہ ! اے آسمانوں کے اور زمین کے پیدا کرنے والے ! باطن اور ظاہر کو جاننے والے ! (قیامت کے دن) تو ہی اپنے بندوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔
جب رسول اللہ ﷺ مشرکوں اور کافروں کے معاملہ میں سخت حیران ہوگئے اور ان کی دشمنی اور بدخلقی سے عاجز آگئے تو اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ اسی سے دعا اور التجا کریں کیونکہ وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ‘ تمام احوال سے وہی واقف ہے۔ جو چیز ہم سے غائب ہے یا ہمارے مشاہدہ میں ہے ‘ وہ سب کا عالم ہے۔
اَنْتَ تَحْکُمُ یعنی اہل حق کو فتح یاب کرے گا اور باطل پرستوں کو بےمدد چھوڑ دے گا۔
ابو سلمہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ سے دریافت کیا : رسول اللہ ﷺ کس کلام سے نماز شب کا آغاز کرتے تھے ؟ ام المؤمنین نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : اَللّٰھُمَّ رَبَّ جِبْرَءِیْلَ وَمِیْکَاءِیْلَ وَاسِرْافِیْلَ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ اَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْ مَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ اِھْدنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِکَ تَھْدِیْ مَنْ تَشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ اے اللہ ! اے جبرئیل و میکائیل و اسرافیل کے رب ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! اے باطن و ظاہر کو جاننے والے ! (قیامت کے دن) تو اپنے بندوں کے درمیان ان مسائل کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے ‘ مجھے اپنے اذن و حکم سے مختلف فیہ مسائل میں حق کے راستہ پر چلا ‘ تو جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔
Ayah 39:47ولو ان للذین ظلموا ما فی الارض جمیعا و مثلہ معہ لا فتدوا بہ من سوء العذاب یوم
القیمۃ وبدالھم من اللہ ما لم یکونوا یحتسبون اور اگر (قیامت کے دن بالفرض) ظالموں (یعنی مشرکوں) کے پاس دنیا بھر کی ساری چیزیں ہوجائیں اور ان کے ساتھ اتنی ہی اور بھی ہوں تو بھی قیامت کے دن سخت عذاب سے چھوٹنے کیلئے دینے لگیں۔ اور اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ معاملہ (یعنی عذاب) آئے گا جس کا ان کو گمان بھی نہ تھا۔
اہل جنت کیلئے فرمایا تھا : فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ اس کے مقابل دوزخیوں کیلئے فرمایا : وَبَدَالَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مَا لَمْ یَکُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ یعنی انتہائی چوٹی کا ایسا سخت عذاب ان کے سامنے آئے گا جس کا ان کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔ مقاتل نے کہا : یعنی دنیا میں ان کو گمان بھی نہ تھا کہ ایسے عذاب سے آخرت میں دوچار ہوں گے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا میں ان کا خیال تھا کہ بت ہماری سفارش کریں گے ‘ یا یہ خیال تھا کہ حشر و نشر کچھ بھی نہ ہوگا ‘ یا یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ آخرت میں ہم مؤمنوں کے مقابلہ میں بہتر حالت میں ہوں گے ‘ قیامت کے دن ان تمام خیالات کے برعکس عذاب سامنے آئے گا۔ سدی نے کہا : دنیا میں وہ سمجھتے تھے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں ‘ یہ نیکیاں ہیں۔ قیامت کے دن ظاہر ہوجائے گا کہ وہ نیکیاں نہیں تھیں ‘ خطاکاریاں تھیں۔ یعنی بتوں کی پوجا وہ قرب الٰہی کے حصول کا ذریعہ سمجھتے تھے ‘ جب آخرت میں بت پرستی کا عذاب ان پر پڑے گا تو ظاہر ہوگا کہ جس بات کا ان کو گمان بھی نہ تھا ‘ وہ اللہ کی طرف سے بت پرستی کے سبب ان کے سامنے آگئی۔
Ayah 39:48وبدالھم سیات ما کسبوا (یعنی اعمال نامے ان کے سامنے آئیں گے تو) اپنے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوں
گی۔ اعمال سے مراد ہے شرک اور مسلمانوں پر ظلم کرنا۔
وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزؤن اور ان کو وہ عذاب گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ مَا کَانُوْا میں اگر مَا موصولہ قرار دیا جائے تو یہی ترجمہ ہوگا اور اگر مصدری مانا جائے تو ترجمہ اس طرح ہوگا : ان کو گھیر لے گی استہزاء کرنے کی سزا۔
Ayah 39:49فاذا مس الانسان ضر دعانا ثم اذا خولنہ نعمۃ منا قال انما اوتیتہ علی علم بلھی فتنۃ
ولکن اکثرھم لا یعلمون پھر جب (کافر) انسان کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے (لیکن) جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کردیتے ہیں تو کہتا ہے : یہ تو مجھے میری تقدیر سے ملی ہے (یہ نعمت یونہی نہیں ملتی) بلکہ یہ ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔
اَلْاِنْسَانَ (میں لام عہدی ہے ‘ اس) سے مراد ہے کافر انسان۔ بعض نے کہا : الف لام جنسی ہے ‘ لیکن کافروں کی کثرت ہے ‘ اسلئے جنس انسان سے کافر انسان مراد ہیں۔ ضُرٌّ کوئی سخت تکلیف۔ اس جملہ کا عطف وَاِذَا ذُکِرَ اللہ وَحْدَہٗ پر ہے ‘ اس سے مقصود ہے کافروں کا عملی تناقض بیان کرنا۔ مطلب اس طرح ہوگا کہ صرف اللہ کا ذکر کرنے کے وقت تو کافروں کے چہر سکڑ جاتے ہیں اور بتوں کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے چہرے کھل جاتے ہیں۔ لیکن جب کوئی دکھ پڑتا ہے تو اس وقت اللہ کو پکارتے ہیں ‘ پھر جب دکھ دور ہوجاتا ہے اور اللہ کی طرف سے کوئی سکھ مل جاتا ہے تو کہتے ہیں : یہ تو ہم کو اپنی تدبیر اور کا ردانی سے ملا ہے۔
خَوَّلْنٰہُ ہم اپنی مہربانی سے کوئی نعمت عطا کردیتے ہیں۔ تخویل مہربانی سے کسی کو کچھ دینا۔ تخویل کا لفظ عطا بمہربانی کیلئے مخصوص ہے۔
عَلٰی عِلْمٍ یعنی کمائی کے ڈھنگ مجھے معلوم تھے ‘ اسلئے مجھے یہ نعمت ملی ‘ یا یہ مطلب ہے کہ مجھے استحقاق تھا ‘ اسلئے مجھے یہ نعمت ملی ‘ میں اس بات کو جانتا ہوں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ میں جانتا تھا کہ مجھے یہ نعمت دینا خدا پر لازم تھا۔
بَلْ ھِیَ فِتْنَۃٌ بلکہ یہ نعمت اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے کہ یہ شخص نعمت کا شکر ادا کرتا ہے یا ناشکری کرتا ہے۔
یا اللہ کی طرف سے یہ ایک ڈھیل ہے تاکہ اس کافر کے عذاب کا سبب بن جائے۔ بعض نے کہا : ھِیَ کی ضمیر کافر انسان کے اس قول کی طرف راجع ہے کہ نعمت مجھے اپنی تدبیر سے حاصل ہوئی ہے ‘ یعنی اسکے یہ الفاظ ایک ایسی آزمائش ہے جو اسکے عذاب کی موجب ہے۔
وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ بیضاوی نے لکھا ہے : یہ جملہ دلالت کر رہا ہے کہ الانسان سے مراد جنس انسان ہے (کیونکہ لٰکن حرف استدراک ہے جو دلالت کر رہا ہے کہ نادانی کا حکم سب انسانوں کیلئے نہیں بلکہ اکثرکیلئے ہے) ۔
میں کہتا ہوں کہ الانسان سے اگر جنس مراد نہ بھی ہو اور کافر انسان ہی مراد ہو (تب بھی مطلب صحیح ہوسکتا ہے) تو اکثر کافروں سے مراد کل کافر ہوں گے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بعض کافروں کو خود یقین تھا کہ ہم باطل پر ہیں ‘ لیکن محض ضد اور عناد کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لاتے تھے (پس اکثر کافر بےعلمی کی وجہ سے کافر رہے اور بعض کافر باوجود جاننے اور سمجھنے کے محض بغض وعناد کی وجہ سے ایمان نہیں لائے) ۔
Ayah 39:50قد قالھا الذین من قبلھم فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون۔ یہ بات (بعض) ان لوگوں نے بھی کہی تھی جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں ‘ سو ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی ‘
Ayah 39:51فاصابھم سیات ما کسبوا والذین ظلموا من ھولاء سیصیبھم سیات ما کسبوا وماھم بمعجزین ان کی تمام بداعمالیاں ان پر آپڑیں اور ان میں سے جو ظالم (یعنی کافر) ہیں ‘ ان کی بداعمالیاں بھی ان پر عنقریب آ پڑنے والی ہیں ‘ اور یہ (خدا تعالیٰ کو) ہرا نہیں سکتے۔
الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ مقاتل نے کہا : اس سے مراد قارون ہے ‘ قارون نے کہا تھا : اِنَّمَا اوتیتہ علٰی عِلْم عِنْدِی اور چونکہ اس کے ساتھی اس کے اس قول سے متفق تھے ‘ اس لئے سب کو اس قول کا قائل قرار دیا۔
فَمَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ یعنی وہ خزانے جن کی کنجیاں ایک طاقتور گروہ اٹھایا کرتا تھا ‘ کچھ کام نہ آئے۔
سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوْا یعنی بداعمالیوں کی سزا۔ سیّآت کی سزا کو ‘ سّیآت صرف تقابل کی وجہ سے قرار دیا۔
مِنْ ھآؤُلَآء یعنی مکہ کے کافروں میں سے (یا اہل مکہ میں سے ‘ مترجم) ۔
سَیُصِیْبُھُمْ چناچہ کفار مکہ سات سال تک قحط میں مبتلا رہے ‘ پھر بدر میں ان کے بڑے بڑے مکھیا مارے گئے اور دوزخ میں داخل کئے گئے۔ صرف وہ لوگ محفوظ رہے جنہوں نے توبہ کرلی اور مسلمان ہوگئے۔
وَمَاھُمْ بِمُعْجِزِیْنَ اللہ تعالیٰ کو ہرا نہیں سکتے ‘ یعنی اللہ کی گرفت سے چھوٹ نہیں سکتے۔
Ayah 39:52اولم یعلموا ان اللہ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر ان فی ذلک لایت لقوم یومنون کیا ان
کو معلوم نہیں کہ اللہ جس کو چاہتا ہے ‘ رزق کی فراخی دیتا ہے اور (جس کو کم دینا چاہتا ہے اس کو) نپی تلی روزی دیتا ہے۔ اس (رزق کی کشائش و تنگی) میں ایمان والوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں۔
استفہام انکاری ہے ‘ یعنی اللہ بطور آزمائش جس کو چاہتا ہے ‘ کشادہ حال کردیتا ہے اور بطور امتحان جس کو چاہتا ہے ‘ تنگ دست کردیتا ہے۔ لوگ دعویٰ تو کرتے ہیں کہ یہ دولت ہم نے اپنی تدبیر سے کمائی اور اتنا نہیں جانتے کہ رزق کی تنگی ‘ فراخی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ کبھی ایسے لوگ تنگدست ہوجاتے ہیں جو کمائی کے بہت طریقوں سے واقف ہوتے ہیں اور کبھی ایسے لوگ بڑے فراخ دست ہوجاتے ہیں جو کمائی کے طریقے بھی نہیں جانتے اور ان کو کوئی بھی ذاتی استحقاق نہیں ہوتا۔
لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ یعنی ان لوگوں کیلئے اس میں نشانیاں ہیں جو اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ تمام حوادث اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور بظاہر اسباب کا سلسلہ اپنے معمول پر چلتا ہے (یعنی بظاہر نتائج ‘ اسباب سے وابستہ ہیں اور اسباب ‘ نتائج کو پیدا کرتے ہیں) ۔
شیخین نے صحیحین میں بیان کیا ہے کہ کچھ مشرک ایسے تھے ‘ جنہوں نے بہت آدمیوں کو قتل کیا تھا اور ارتکاب زنا بھی بہت کیا تھا۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : آپ جو کچھ فرماتے ہیں اور جس امر کی دعوت دیتے ہیں ‘ وہ ہے تو اچھا ‘ کیا آپ بتائیں گے کہ اس سے ہماری بداعمالیوں کا بھی کفارہ ہوجائے گا ؟ اس پر سورة فرقان کی آیت والَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللہ اِلٰھًا اٰخَرَ .... غَفُوْرًا رَّحِیْمًا تک اور آیت قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلآی اَنْفُسِھِمْ الخ نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم نے بسند صحیح بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ آیت مشرکین مکہ کے متعلق نازل ہوئی۔ بغوی نے بروایت عطاء بھی اس قول کی نسبت حضرت ابن عباس کی طرف کی ہے۔
طبرانی نے ضعیف سند سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وحشی کو جو حضرت حمزہ کا قاتل تھا ‘ اسلام کی دعوت دینے کیلئے ایک شخص کو بھیجا ‘ وحشی نے جواب دیا : آپ مجھے اپنے مذہب میں داخل ہونے کی دعوت کس طرح دے رہے ہیں ؟ آپ کا قول یہ ہے کہ جو شخص قتل کرے گا ‘ یا شرک کرے گا ‘ یا زنا کرے گا اس کو قیامت کے دن دوہرا عذاب ہوگا اور میں نے یہ سب کچھ کیا ہے۔ اس پر آیت الاَّ مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا نازل ہوئی۔ وحشی نے کہا : یہ شرط تو سخت ہے ‘ شاید میں ایسا نہ کرسکوں ‘ کیا اس کے علاوہ بھی کوئی صورت ہے ؟ اس پر آیت اِنَّ اللہ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشآء نازل ہوئی۔ وحشی نے کہا : (اس آیت میں مغفرت کو مشیت پر موقوف رکھا گیا ہے) میں اشتباہ میں پڑا ہوا ہوں ‘ معلوم نہیں کہ (اگر میں شرک سے توبہ کرلوں تو) میری مغفرت ہوگی یا نہیں ہوگی۔ اس پر آیت قُلْ یَا عِبَادِیَ الخ نازل ہوئی۔
بغوی کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ مسلمانوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ بات صرف وحشی کیلئے خاص ہے یا تمام مسلمانوں کیلئے عمومی (حکم) ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : (نہیں) بلکہ سارے مسلمانوں کیلئے یہ عام ہے۔
حاکم نے ابن مسعود کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ہم کہتے تھے کہ مسلمان ہونے اور ایمان لانے کے بعد جو لوگ مصائب میں مبتلا ہو کر اپنا دین چھور بیٹھے ‘ ان کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ لیکن جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لے آئے تو ان ہی لوگوں کے متعلق اللہ نے آیت قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَالخ نازل فرمائی۔ بغوی نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ اس آیت کا نزول عیاش بن ربیعہ ‘ ولید بن ولید اور مسلمانوں کی ایک ایسی جماعت کے حق میں ہوا کہ (شروع میں) وہ ایمان لے آئے تھے ‘ پھر جب ان کو دکھ اور تکلیفیں دی گئیں تو وہ فتنہ میں پڑگئے “ یعنی اسلام چھوڑ بیٹھے۔ ہم کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کا کوئی عمل کبھی قبول نہیں کرے گا ‘ نہ نفل نہ فرض ‘ یعنی کسی طرح ان کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ یہ لوگ اول تو مسلمان ہوگئے ‘ پھر دکھ پڑنے پر اپنا دین چھوڑ بیٹھے ‘ اس پر اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ حضرت عمر نے اپنے ہاتھ سے یہ آیات لکھ کر عیاش بن ربیعہ ‘ ولید بن ولید اور دوسرے لوگوں کو بھیج دیں۔ تحریر ملنے کے بعد وہ لوگ مسلمان ہوگئے اور مکہ چھوڑ کر مدینہ میں آگئے۔
Ayah 39:53قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا
آپ کہہ دیجئے کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے (کفر و شرک کر کے) اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں ‘ تم اللہ کی رحمت سے نراس مت ہو۔ یقیناً اللہ (تمہارے) تمام (گذشتہ) گناہوں کو معاف فرما دے گا۔
الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلآی اَنْفُسِھِمْ یعنی کفر و معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو حد سے بڑھ کر مجرم بنا دیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عمر نے فرمایا : اسراف سے مراد کبیرہ گناہوں کا ارتکاب ہے۔ لاَ تَقْنَطُوْا یعنی اگر تم ایمان لے آئے اور توبہ کرلی تو اللہ کی مہربانی اور مغفرت سے ناامید نہ ہو۔ مغفرت کیلئے ایمان کی شرط باتفاق علماء ثابت ہے۔ اللہ نے اپنے کلام میں خود اس کی صراحت کردی ہے اور فرما دیا ہے : اِنَّ اللہ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ الخ آیت مندرجۂ بالا کی شان نزول کے بیان میں جو روایات آئی ہیں ‘ ان سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
جَمِیْعًا یعنی شرک سے توبہ کرلو گے اور اللہ کی وحدانیت کو مان لو گے تو اللہ گذشتہ چھوٹے بڑے سارے گناہ معاف فرما دے گا۔ حضرت عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسلام پچھلے گناہوں کو ڈھا دیتا ہے (مسلم) ۔
آیت کی شان نزول خاص ہے ‘ ایک خاص واقعہ سبب نزول ہے۔ ان لوگوں کے حق میں آیت کا نزول ہوا تھا ‘ جنہوں نے مشرک ہونے کی حالت میں کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ‘ پھر شرک سے توبہ کی اور مسلمان ہوگئے ‘ لیکن آیت کے الفاظ عام ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بندہ ہو بشرطیکہ مؤمن ہوچکا ہو ‘ ایمان لا چکا ہو (ا اللہ نے عباد کی نسبت اپنی ذات کی جانب کی جس سے محاورۂ قرآنی کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ مؤمن بندے ہی مراد ہیں) اگر اس نے اسلام کے بعد بھی کبائر کا ارتکاب کیا ہو تو امید ہے اللہ معاف فرما دے گا۔ اس کو ناامید نہ ہونا چاہئے خواہ گناہوں سے توبہ نہ کی ہو ‘ کیونکہ اللہ نے دوسری آیت میں وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآء فرما دیا ہے۔ پھر اگلی آیت ہے۔
انہ ھو الغفور الرحیم بلاشبہ وہ ہی ہے بڑا بخشنے والا ‘ نہایت مہربان۔ اس آیت میں غیر مشرک کی مغفرت عمومی (حسب
مشیت) کئی وجوہ سے ثابت ہو رہی ہے : نمبر 1 الغفور مبالغہ کا صیغہ ہے۔ نمبر 2 الغفور الف لام کے ساتھ مفید حصر ہے۔ نمبر 3 الغفور کے بعد الرحیم کہہ کر وعدۂ رحمت کیا ہے۔ نمبر 4 عبادی لفظ عباد مؤمنوں کی عاجزی پر اور اپنی ذات کی نسبت کرنا اختصاص پر دلالت کر رہا ہے اور ان دونوں اوصاف کا تقاضا ہے کہ رحم کیا جائے اور عبادی سے کلام کا آغاز ہی عموم مغفرت پر دلالت کرتا ہے۔ نمبر 5 اسراف کو انفس عباد کے ساتھ خاص کیا۔ نمبر 6 مغفرت کا تو ذکر ہی کیا ہے ‘ رحمت سے بھی ناامید ہونے کی ممانعت فرما دی۔ نمبر 7 عموم مغفرت کی علت اِنَّ اللہ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا کو قرار دیا۔ نمبر 8 بجائے ضمیر کے لفظ اللہ کو صراحۃً ذکر کیا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ (بندوں کے گناہوں اور فرمانبرداروں سے) مستغنی ہے ‘ وہ بہرحال منعم ہے۔ نمبر 9 الذنوب کی تاکید جمیعًا کے لفظ سے کردی۔
متعدد احادیث بھی عمومی مغفرت کو بتارہی ہیں اور اتفاق امت بھی اسی پر ہے۔
مقاتل بن حبان نے بتوسط نافع حضرت ابن عمر کا بیان نقل کیا ہے ‘ حضرت ابن عمر نے فرمایا : ہم گروہ صحابہ خیال کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہماری ہر نیکی ضرور قبول ہوگی۔ اس کے بعد جب آیت یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوا اللہ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلاَ تُبْطِلُوْا اَعْمَالَکُمْ (اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول کے فرمان پر چلو اور اپنے اعمال کو بیکار نہ کر دو ) نازل ہوئی تو ہم اپنے اعمال کو سوائے اس کے کہ کبیرہ گناہ کریں اور فواحش کا ارتکاب کریں اور کس طرح باطل کرسکتے ہیں ‘ یہ خیال کرنے کے بعد جب ہم کسی کو کوئی کبیرہ گناہ کرتے دیکھتے تو کہتے : یہ شخص تباہ ہوگیا۔ اس کے بعد یہ آیت (قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا) نازل ہوئی تو ہم اپنے دونوں قولوں سے رک گئے۔ اس کے بعد ہم کسی کو کوئی گناہ کرتے دیکھتے تو ہم کو اس کے متعلق (بربادئ اعمال کا) خوف ہوجاتا اور اگر کسی نے ارتکاب گناہ نہ کیا ہوتا تو ہم کو اس کے متعلق (قبول اعمال کی) امید ہوتی۔
روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود مسجد میں تشریف لے گئے ‘ وہاں ایک واعظ ‘ وعظ کہہ رہا تھا اور دوزخ کا اور دوزخ کے طوق و زنجیر کا ذکر کر رہا تھا۔ آ جا کر اس کے سر کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور کہا : اے وعظ کرنے والے ! لوگوں کو ناامید کیوں کر رہا ہے ؟ پھر آپ نے آیت قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا الخ پڑھی۔
حضرت اسماء بنت زید کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا ‘ رسول اللہ ﷺ نے پڑھا تھا : قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلآی اَنْفُسِھِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہ اِنَّ اللہ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا وَّلاَ یُبَالِیْ (یعنی اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو ‘ اللہ سب گناہ معاف کر دے گا اور (کسی کے) گناہ کی پروا نہیں کرے گا۔ چونکہ راویہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ پڑھ رہے تھے ‘ اس لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وَلَا یُبَالِیْ کا لفظ آیت کے اندر داخل ہے) رواہ احمد والترمذی ‘ ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے ‘ لیکن ..... شرح السنۃ میں پڑھنے کی بجائے فرمانے کا لفظ آیا (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت لفظ جمیعًا پر ختم ہوگئی اور ولا یبالی کا لفظ حضور ﷺ نے آیت کے بعد خود پڑھا ‘ یہ آیت کا جزء نہیں ہے) ۔
حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو ننانوے آدمیوں کو قتل کرچکا تھا۔ پھر (توبہ کی غرض سے) ایک تارک الدنیا درویش کے پاس گیا اور اس سے (اپنی توبہ کے متعلق) مسئلہ دریافت کیا۔ درویش نے کہا : تیرے لئے کوئی توبہ (کی گنجائش) نہیں ہے۔ سائل نے یہ جواب سن کر اس درویش کو بھی قتل کردیا۔ اس کے بعد لوگوں سے دریافت کرتا پھرا کہ اب میں کس سے مسئلہ پوچھوں ؟ ایک شخص نے کہا : فلاں بستی میں جاؤ ‘ وہاں ایک بڑا عالم ہے ‘ اس سے دریافت کرو۔ حسب ہدایت یہ قاتل اس بستی کی طرف چل دیا۔ (راستہ میں) اس کو موت آپہنچی ‘ لیکن (مرتے مرتے) اس نے اپنا سینہ اس بستی کی طرف کر اٹھا دیا ‘ یعنی بڑھا دیا (اور مرگیا) رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں اس شخص کے متعلق اختلاف ہوگیا۔ اللہ نے ایک طرف (یعنی بستی کی طرف) والی زمین کو حکم دیا : تو قریب ہوجا اور دوسری طرف والی زمین کو حکم دیا (یعنی جہاں سے وہ شخص چلا تھا ‘ اس زمین کو حکم دیا) تو دور (یعنی لمبی) ہوجا۔ فرشتوں نے (حسب الحکم) دونوں طرف کی زمین کو ناپا اور موازنہ کیا تو بستی کی طرف والی زمین کو ایک بالشت کم پایا ‘ پس اس شخص کی مغفرت ہوگئی (متفق علیہ) ۔
مسلم بن حجاج نے بھی یہ حدیث بیان کی ہے ‘ اس روایت کے مطابق حدیث کے یہ الفاظ ہیں : اس قاتل کو ایک راہب کا پتہ بتایا گیا ‘ قاتل نے اس راہب سے جا کر کہا : میں نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا ہے ‘ کیا میری توبہ (قبول) ہوسکتی ہے ؟ راہب نے کہا : نہیں۔ اس شخص نے راہب کو بھی قتل کردیا ‘ اس طرح (100) سو کی تعداد پوری ہوگئی۔ پھر لوگوں سے دریافت کیا : (اب) اس زمین کے رہنے والوں میں سب سے بڑا کون ہے ؟ کسی نے ایک اور عالم کا پتہ بتادیا ‘ اس قاتل نے اس عالم سے جا کر کہا : میں نے (100) سو قتل کئے ہیں ‘ کیا میری توبہ (قبول) ہوسکتی ہے ؟ عالم نے جواب دیا : ہاں ! توبہ قبول ہونے میں کون رکاوٹ ہوسکتا ہے ؟ تم فلاں مقام پر جاؤ ‘ وہاں کچھ لوگ اللہ کی عبادت میں مشغول ملیں گے۔ تم بھی ان کے ساتھ مل کر اللہ کی عبادت میں مشغول ہوجاؤ اور اب لوٹ کر اپنی بستی کو نہ جانا ‘ وہ بری (یعنی گناہوں کی) سرزمین ہے۔ یہ بات سن کر یہ قاتل ‘ عالم کی بتائی ہوئی بستی کی طرف چل دیا ‘ آدھا راستہ طے کیا تھا کہ موت آپہنچی۔ اس کے متعلق رحمت اور زحمت کے فرشتوں میں اختلاف ہوگیا۔ ایک فرشتہ اپنی صورت بدل کر (ان کا اختلاف دور کرنے کیلئے) آگیا ‘ فرشتوں نے اس کو پنچ بنا لیا ‘ پنچ نے فیصلہ کیا کہ دونوں طرف کی زمین ناپ لو ‘ جس طرح کی زمین کم ہو ‘ اسی کے حکم میں اس شخص کو داخل کرو۔ فرشتوں نے زمین کی پیمائش کی تو اس طرف کی زمین کم پائی جہاں (عبادت کیلئے) جانے کا اس نے ارادہ کیا تھا ‘ چناچہ رحمت کے فرشتوں نے اس روح پر قبضہ کرلیا۔
بخاری اور مسلم نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک آدمی تھا ‘ جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی۔ جب مرنے لگا تو اس نے گھر والوں کو وصیت کی کہ مجھے مرنے کے بعد جلا ڈالنا ‘ پھر جلی ہوئی خاک کو آدھی سمندر میں اور آدھی خشکی میں اڑا دینا ‘ کیونکہ اگر خدا کا مجھ پر قابو چل گیا تو خدا کی قسم ! وہ مجھے ایسا عذاب دے گا جو سارے جہان میں کسی کو نہیں دے گا۔ جب وہ شخص مرگیا اور گھر والے وصیت کے موافق عمل کرچکے تو اللہ نے سمندر کو حکم دیا تو سمندر نے وہ خاک یکجا کردی جو اس میں اڑائی گئی تھی اور خشکی کو حکم دیا تو اس نے اپنے اندر کی ساری خاک جمع کردی۔ پھر اللہ نے اس شخص سے پوچھا : تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا : اے میرے رب ! تیرے ڈر سے ‘ تو خوب واقف ہے۔ اللہ نے اس کو بخش دیا۔ بغوی نے لکھا ہے : ضمضم بن جوش نے کہا : میں مدینہ کی مسجد میں داخل ہوا تو ایک بوڑھے آدمی نے (جس کو میں پہچانتا نہ تھا) مجھے پکار کر کہا : اے شخص ! کسی آدمی سے تو ہرگز یہ نہ کہنا کہ اللہ تیری مغفرت نہ کرے گا اور تجھے جنت میں داخل نہ کرے گا۔ میں نے کہا : آپ پر اللہ کی رحمت ہو ‘ آپ کون ہیں ؟ ان بزرگ نے کہا : میں ابوہریرہ ہوں۔ میں نے کہا : یہ لفظ تو ایسا ہے جو نفرت کے وقت ہر شخص کہتا ہے ‘ غصہ ہوتا ہے تو اپنے گھر والوں کو بھی کہتا ہے اور بیوی کو بھی اور خدمتی آدمیوں کو بھی۔ بزرگ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ بنی اسرائیل میں دو آدمی تھے جو باہم دوست تھے ‘ ایک عبادت میں بڑی محنت کرتا تھا اور دوسرا گناہ کرتا رہتا تھا۔ عابد اپنے گناہگار دوست سے کہتا تھا : اب اپنی ان حرکتوں سے باز آ جا۔ گناہگار جواب دیتا تھا : میں جانوں اور میرا رب ‘ تو مجھے یونہی رہنے دے۔ ایک روز عابد نے اپنے دوست کو کسی بڑے گناہ میں مبتلا پایا تو (حسب معمول) کہا : اب باز آ جا۔ اس نے جواب دیا : مجھے یونہی رہنے دے۔ کیا تجھے میرا نگران (محتسب) بنا کر بھیجا گیا ہے ؟ عابد نے کہا : خدا کی قسم ! اللہ تجھے کبھی معاف نہیں کرے گا اور نہ جنت میں کبھی تجھے داخل کرے گا۔ غرض اللہ کی طرف سے جب ملک الموت نے آکر دونوں کی روحیں قبض کرلیں اور دونوں اللہ کے پاس جمع ہوئے تو اللہ نے اس گناہگار کو حکم دیا : تو میری رحمت سے جنت میں چلا جا ‘ اور دوسرے سے فرمایا : کیا تو میرے بندوں سے میری رحمت کو روک سکتا ہے ؟ بندہ نے کہا : نہیں ‘ پروردگار ! (ایسا تو ممکن نہیں) اللہ نے فرمایا : اس کو دوزخ میں لے جاؤ۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! اس نے جو بات کہی تھی ‘ اسی نے دنیا و آخرت میں اس کو تباہ کیا۔ امام احمد نے بھی حضرت ابوہریرہ کی روایت سے یہ حدیث یوں ہی بیان کی ہے۔
حضرت ثوبان راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے نزدیک دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں اس آیت کے مقابلہ میں پسند نہیں (سب ہیچ ہیں) قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلآی اَنْفُسِھِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہ ِالخ رواہ احمد بسند حسن وابن جریر والطبرانی فی الاوسط والبیہقی فی شعب الایمان ‘ بیہقی کی روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اور جس نے شرک کیا ہو (کیا اللہ اس کو بھی معاف فرما دے گا ؟ ) حضور ﷺ نے کچھ دیر کیلئے سر جھکا لیا ‘ پھر تین بار فرمایا : مگر جس نے شرک کیا (یعنی شرک پر آخر وقت تک قائم رہا ‘ اس کی مغفرت نہ ہوگی) ۔
حضرت جندب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا : ایک آدی نے کہا : خدا کی قسم ! اللہ فلاں شخص کی مغفرت نہیں فرمائے گا۔ اللہ نے فرمایا : یہ کون ہے جو میری قسم کھا کر کہہ رہا ہے کہ فلاں شخص کی میں مغفرت نہیں کروں گا ؟ میں نے اس شخص کو بخش دیا اور (اے کہنے والے ! ) تیرے اعمال کو اکارت کردیا۔ اوکما قال (علیہ السلام) رواہ مسلم ! حضرت ابن عباس نے آیت الاَّ اللّٰمَمْ کے متعلق بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ لمم (صغیرہ گناہ یا کبیرہ گناہ جن کو کرنے کے بعد ندامت ہوئی ہو) کو معاف کر دے گا ‘ سب (گناہوں) کو بخش دے گا۔ (اے اللہ ! ) تیرے کونسا بندہ ہے جس نے ارتکاب گناہ نہیں کیا ہے ؟ رواہ الترمذی ‘ ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح غریب کہا ہے۔
حضرت ابوذر کی روایت سے ایک طویل حدیث قدسی آئی ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (یعنی اللہ کا فرمان نقل کیا) میں جو چاہتا ہوں ‘ کرتا ہوں۔ میری نوازش کلام ہے اور میرا عذاب بھی کلام ہے۔ کسی چیز کے متعلق اگر میں اس (کو موجود کرنے) کا ارادہ کروں ‘ میرا امر بس یہ ہے کہ میں کُن (ہو جا) کہہ دوں ‘ فوراً وہ چیز ہوجاتی ہے ‘ رواہ احمد و ابن ماجہ والترمذی۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کے اندر اللہ بعض نیک لوگوں کے درجات (ان کے اعمال سے زیادہ) اونچے کر دے گا۔ وہ عرض کریں گے : اے رب ! یہ درجات ہمارے لئے کہاں سے (کیسے) مل گئے ؟ اللہ فرمائے گا : تیرے لئے ‘ تیری اولاد کی دعاء مغفرت کرنے سے ‘ رواہ احمد۔
حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قبر کے اندر مردہ ایسا ہوتا ہے ‘ جیسے کوئی ڈوبنے والا فریادی ہو (جو غرق ہونے سے بچنے کیلئے چلا رہا ہو) وہ انتظار کرتا ہے کہ باپ ‘ یا ماں ‘ یا بھائی ‘ یا کسی دست کی طرف سے دعاء مغفرت اس کو پہنچ جائے۔ یہ دعا اس کو دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے زیادہ پیاری ہوتی ہے اور زمین کے رہنے ولوں کی دعا سے اہل قبور کو اللہ پہاڑوں جیسا ثواب عنایت کرتا ہے۔ زندوں کی جانب سے مردوں کو ہدیہ یہ ہے کہ ان کیلئے دعاء مغفرت کی جائے ‘ رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔
حضرت ابوذر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اپنے بندے کو ضرور بخش دے گا ‘ بشرطیکہ پردہ نہ پڑجائے۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! پردہ کیا ؟ فرمایا : کسی شخص کا مشرک ہونے کی حالت پر مرجانا ‘ رواہ احمد والبیہقی فی کتاب البعث والنشور۔
یہ بھی حضرت ابوذر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اللہ سے ایسی حالت میں ملے (یعنی ایسی حالت میں مرجائے) کہ دنیا میں کسی چیز کو اس کے برابر نہ قرار دیتا ہو تو خواہ پہاڑوں کے برابر بھی اس کے گناہ ہوں ‘ اللہ معاف فرما دے گا۔ رواہ البیہقی فی کتاب البعث والنشور۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی سو رحمتیں ہیں جن میں سے ایک رحمت اللہ نے جن و انس ‘ چوپایوں اور کیڑوں مکوڑوں کی تقسیم کی ہے ‘ اس نازل کردہ رحمت کی وجہ سے یہ آپس میں مہربانیاں اور رحم کرتے ہیں۔ وحشی جانور بھی اسی کی وجہ سے اپنے بچوں کو پیار کرتے ہیں۔ ننانوے رحمتیں اللہ نے اپنے لئے چھوڑ رکھی ہیں ‘ وہ رحمتیں قیامت کے دن اپنے بندوں پر مبذول فرمائے گا (متفق علیہ) ۔
حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا : کچھ قیدی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کئے گئے۔ قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کے پستان سے دودھ ٹپک رہا تھا اور وہ (ادھر ادھر) دوڑتی پھر رہی تھی۔ قیدیوں میں جو شیرخوا ربچہ اس کو ملتا ‘ وہ اس کو لے کر اپنے پیٹ سے چمٹا لیتی اور دودھ پلاتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچہ کو کبھی آگ میں پھینک سکتی ہے (جبکہ وہ دوسروں کے بچوں کو اتنا پیار کر رہی ہے) ہم نے عرض کیا : جب تک اس میں طاقت ہوگی ‘ وہ اپنے بچہ کو آگ میں نہیں پھینکے گی۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : تو اللہ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہے (متفق علیہ) ۔
حضرت ابو درداء راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر فرما رہے تھے : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ یہ میں نے خود سنا تھا۔ میں نے عرض کیا : (یا رسول اللہ ﷺ ! ) خواہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو ؟ حضور ﷺ نے دوبارہ یہی آیت پڑھ دی۔ میں نے دوبارہ کہا : خواہ اس نے زنا اور چوری کی ہو ؟ حضور ﷺ نے تیسری بار یہی آتی پڑھ دی۔ جب میں نے تیسری بار کہا ..... یا رسول اللہ ﷺ ! خواہ اس نے زنا اور چوری کی ہو ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا : خواہ ابو درداء کی ناک مٹی میں رگڑ جائے (تب بھی زانی اور سارق کا داخلہ جنت میں ہوگا۔ ناک کا مٹی میں رگڑنا ایک محاورہ ہے ‘ یعنی چاہے ابو درداء کیسی ہی ناک زمین پر رگڑے اور کیسا ہی اس کی مرضی کے خلاف ہو ‘ تب بھی اللہ کا فیصلہ نہیں بدلے گا) رواہ احمد۔
حضرت عامر کا بیان ہے : ہم حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک شخص چادر (یا کمبل) اوڑھے آیا ‘ کوئی چیز اس کے ہاتھ میں تھی جو چادر (کے کونے) میں لپٹی ہوئی تھی۔ اس نے عرض کیا : میں درختوں کی ایک جھاڑی کی طرف سے گذرا ‘ اس کے اندر کسی پرندے کے چوزوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ میں نے ان کو پکڑ کر اپنی چادر میں رکھ لیا۔ اتنے میں ان کی ماں آگئی اور میرے سر کے آس پاس گھومنے لگی۔ میں نے چادر ہٹا کر بچوں کو اس کے سامنے کردیا تو فوراً وہ بچوں پر ٹوٹ پڑی ‘ میں نے سب کو اپنی چادر میں لپیٹ لیا ‘ اب وہ سب میرے پاس موجود ہیں۔ حضور ﷺ نے حکم دیا : ان کو رکھ دو ۔ اس نے (چادر کھول کر) سب کو رکھ دیا ‘ مگر بچوں کی ماں بچوں سے چمٹی رہی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگوں کو تعجب ہو رہا ہے کہ ماں ان بچوں پر کیسی مہربان ہے (کہ بچوں کو چھوڑ کر ‘ اپنی جان بچا کر اڑ نہیں جاتی) قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ جتنی ان بچوں کی ماں اپنے بچوں پر مہربان ہے ‘ اس سے زیادہ اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ جا ‘ ان کو لے جا اور جہاں سے تو نے ان کو پکڑا ہے ‘ وہیں لے جا کر رکھ دے۔ حسب الحکم وہ شخص ان سب کو لے گیا ‘ رواہ ابو داؤد۔
حضرت عبد اللہ بن عمر کا بیان ہے کہ ہم کسی جہاد میں رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب تھے۔ کچھ لوگوں کی طرف سے آپ کا گذر ہوا ‘ دریافت فرمایا : کون لوگ ہو ؟ انہوں نے عرض کیا : ہم مسلمان ہیں۔ ان میں ایک عورت بھی تھی جو ہانڈی میں سالن پکا رہی تھی ‘ اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔ جب کوئی شعلہ اٹھتا تھا تو وہ بچہ کو الگ کرلیتی تھی۔ وہ حضور ﷺ کی خدمت میں آئی اور عرض کیا : کیا آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : ہاں۔ کہنے لگی : آپ پر میرے ماں باپ قربان ! کیا اللہ ارحم الراحمین نہیں ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : کیوں نہیں۔ کہنے لگی : کیا ماں جتنی اپنے بچہ پر مہربانی کرتی ہے ‘ اس سے زیادہ اللہ اپنے بندوں پر مہربان نہیں ہے ؟ فرمایا : کیوں نہیں۔ کہنے لگی : ماں اپنے بچہ کو آگ میں نہیں ڈالتی۔ یہ سن کر حضور اقدس ﷺ سرنگوں ہوگئے اور رونے لگے ‘ کچھ دیر کے بعد سر اٹھایا اور فرمایا : اللہ اپنے بندوں میں سے صرف اسی کو عذاب دے گا جو اس سے سرکشی اور سخت سرکشی کرنے والا ہو اور لَآ اِلٰہَ الاَّ اللہ کہنے سے انکار کر دے ‘ رواہ ابن ماجۃ۔
حضرت ابوذر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس بندہ نے لَآ اِلٰہَ الاَّ اللہ کہا (یعنی اقرار توحید کیا) پھر اسی حالت میں مرگیا ‘ وہ جنت میں ضرور داخل ہوگا۔ میں نے عرض کیا : خواہ اس نے زنا کیا ہو ‘ چوری کی ہو ؟ فرمایا : خواہ اس نے زنا کیا ہو ‘ چوری کی ہو۔ میں نے کہا : خواہ اس نے زنا کیا ہو ‘ چوری کی ہو ؟ فرمایا : خواہ اس نے زنا کیا ہو ‘ چوری کی ہو۔ میں نے پھر کہا : خواہ اس نے زنا کیا ہو ‘ چوری کی ہو ؟ فرمایا : خواہ اس نے زنا کیا ہو ‘ چوری کی ہو (وہ ضرور جنت میں جائے گا) اگرچہ ابوذر کتنی ہی ناک زمین پر رگڑے (متفق علیہ) ۔
اس موضوع کی بکثرت احادیث آئی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مآل کار مؤمن جنت میں جائے گا ‘ اسلئے معتزلہ کا قول غلط ہے کہ مرتکب کبیرہ مسلمان اگر توبہ نہ کرے تو ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔
فرقۂ مرجۂ کا قول ہے کہ گناہ چھوٹے ہوں یا بڑے ‘ اگر ایمان سالم ہے تو ان سے مؤمن کو (آخرت میں) کوئی ضرر نہیں پہنچے گا ‘ جس طرح کہ کفر کی حالت میں کوئی طاعت سود مند نہیں۔ احادیث مذکورہ سے فرقۂ مرجۂ استدلال کرتا ہے ‘ مگر ان کا یہ قول غلط ہے ‘ اس سے تو ان آیات و احادیث کا انکار لازم آتا ہے جن میں گناہوں کی ممانعت کی گئی اور چھوٹے بڑے گناہوں کو اللہ کی ناراضگی اور عذاب کا سبب بتایا گیا ہے ‘ اسلئے اہل سنت و جماعت ہی کا مسلک حق ہے کہ کفر کی موجودگی میں کوئی طاعت سود مند نہیں ‘ کیونکہ ایسی طاعت ‘ طاعت ہی نہیں ہے۔ طاعت تو وہی ہے جو خالص اللہ کیلئے ہو ‘ اگر خلوص نہیں تو طاعت ‘ معصیت ہے۔ ایمان اسی طرح طاعت کی شرط ہے جس طرح وضو نماز کیلئے ‘ البتہ معصیت کا ذاتی تقاضا عذاب ضرور ہے ‘ لیکن یہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے ‘ وہ چاہے تو معاصی کو معاف کر دے اور معاف کرنا نہ چاہے تو عذاب دے۔ معافی توبہ سے ہو ‘ یا رسول اللہ ﷺ کی شفاعت سے ‘ یا کسی ولی کی سفارش سے ‘ یا محض اللہ کی مہربانی اور رحمت سے ‘ اگر گناہگار مؤمن کو اللہ عذاب بھی دے گا تو وہ عذاب دوامی نہ ہوگا ‘ کیونکہ اللہ نے ہر نیکی کے ثواب کا وعدہ فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا ہے : وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَاَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ ۔ اور ایمان سب سے بڑی نیکی ہے (ہر نیکی کا مدار ایمان پر ہے) اور اللہ کے وعدہ کے خلاف ہونا ناممکن ہے اور مقام ثواب صرف جنت ہے (لامحالہ ہر مؤمن جنت میں جائے گا عذاب پانے کے بعد یا بغیر عذاب کے) مؤمن اپنا ایک گناہ بھی ایسا سمجھتا ہے جیسے وہ پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہو اور پہاڑ اوپر سے گرنے والا ہو اور کافر اپنے گناہوں کو ایسا سمجھتا ہے جیسے ناک پر مکھی بیٹھی ہو اور ہاتھ کے اشارے سے اس کو اڑا دے ‘ رواہ البخاری۔
Ayah 39:54وانیبوا الی ربکم واسلموا لہ من قبل ان یاتیکم العذاب ثم لا تنصرون اور تم اپنے رب کی
طرف رجوع کرو (یعنی شرک سے توبہ کرو) اور (اسلام قبول کرنے میں) اس کی فرمانبرداری کرو ‘ قبل اس کے کہ تم پر عذاب واقع ہونے لگے (اور) پھر (کسی کی طرف سے) تمہاری مدد نہ کی جائے۔
اَسْلِمُوْا لَہٗ اس کی فرمانبرداری کرو۔ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمْ الْعَذَابُ (حضرت مفسر کے نزدیک) العذاب سے مراد ہے قبر کا عذاب ‘ یا قیامت کے دن کا عذاب جبکہ ایمان سودمند نہ ہوگا۔ یعنی قبر کے اندر یا قیامت کے دن عذاب الٰہی میں مبتلا ہونے سے پہلے توبہ کرلو اور فرمانبردار ہوجاؤ ‘ کیونکہ اس وقت تمہاری کہیں سے مدد نہیں کی جائے گی۔
Ayah 39:55واتبعوا احسن ما انزل الیکم من ربکم من قبل ان یاتیکم العذاب بغتۃ وانتم لا تشعرون
اور تمہارے رب کی طرف سے جو بہترین ہدایت تمہارے پاس بھیجی گئی ہے ‘ اس پر چلو ‘ قبل اس کے کہ اللہ کا عذاب ناگہاں تم پر آپڑے اور تم کو خیال بھی نہ ہو (کہ کہاں سے آیا اور کیسے آیا) ۔ اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ سے مراد ہے قرآن مجید ‘ کیونکہ ہر کلام سے یہ بہتر اور اعلیٰ ہے ‘ یا عزائم مراد ہیں (یعنی عزائم پر چلو ‘ رخصتوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ) ۔
Ayah 39:56ان تقول نفس یا حسرتی علی ما فرطت فی جنب اللہ وان کنت لمن المسخرین (کبھی
کل قیامت کے دن) کوئی کہنے لگے کہ افسوس ! اس کوتاہی پر جو میں نے کی ‘ خدا کی جناب میں کی اور (احکام خداوندی پر) ہنستا ہی رہا۔
اَنْ تَقُوْلَ یعنی ایسا نہ ہو کہ کوئی کہنے لگے۔ نفسٌ میں تنوین تکثیر کیلئے ہے یا تقلیل کیلئے ‘ کیونکہ قیامت کے دن ایسا کہنے والے کچھ ہی لوگ ہوں گے۔
حسرت غمگین کا غم بڑھ جانا۔ عَلٰی مَا فَرَّطْتُّ ‘ مَا مصدری ہے یعنی تقصیر ‘ کوتاہی کرنی۔ فِیْ جَنْبِم اللہ یعنی اللہ کی اطاعت میں (حسن) یا اللہ کے معاملہ میں (مجاہد) یا اللہ کے حق میں ( سعید بن جبیر) بعض کے نزدیک جنب اللہ سے ذات خدا مراد ہے اور مضاف محذوف ہے ‘ یعنی ذات الٰہی کی طاعت میں یا اس کا قرب حاصل کرنے میں میں نے کوتاہی کی۔ بعض نے جنب کا معنی جانب بیان کیا ہے ‘ یعنی اس جانب میں نے کوتاہی کی جو مجھے اللہ کی رضامندی تک پہنچا دیتا۔
وَاِنْ کُنْتَ لَمِنَ السَّخِرِیْنَ- اِنْ مخففہ ہے ‘ یعنی بلاشبہ میں اللہ کے دن ‘ اس کی کتاب ‘ اس کے رسول اور مؤمنوں پر ہنستا تھا۔
Ayah 39:57اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ
یا کوئی یہ کہنے لگے کہ اگر (دنیا میں) اللہ مجھے ہدایت کردیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں سے ہوتا۔
المتقین سے مراد ہیں بچنے والے۔ یعنی شرک اور گناہوں سے بچنے والے
Ayah 39:58او تقول حین تری العذاب لو ان لی کرۃ فاکون من المحسنین یا کوئی عذاب کو دیکھ کر یوں کہنے
لگے کہ کاش ! دنیا میں ایک بار مجھے لوٹ جانا مل جائے تو میں بھی نیک بندوں میں سے ہوجاؤں۔
فَاکُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ نیک عمل مؤمنوں میں سے ہوجاؤں ‘ یعنی قیامت کے دن حسرت سے اس قسم کی باتیں کہنے کی گنجائش نہ رہے ‘ یا اس قسم کی بیکار باتیں نہ کہنے پائے۔
Ayah 39:59بلی قد جاء تک اتی فکذبت بھا واستکبرت وکنت من الکفرین ہاں ! بیشک تیرے پاس میری
آیات پہنچی تھیں (مگر) تو نے ان کو جھوٹ سمجھا اور تو نے غرور کیا (اسلئے سرتابی کی) اور کافروں میں شامل رہا۔
یہ آیت گذشتہ آیت لَوْ اَنَّ اللہ ھَدٰں نِیْ لَکُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ کی مکمل تردید ہے ‘ کیونکہ سابق آیت میں اگر ہدایت سے رہنمائی مراد ہو تو اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ پیغمبر اور کتاب کے ذریعہ سے اللہ نے رہنمائی تو کردی تھی مگر تو نے سب کی تکذیب کی ‘ اس صورت میں لَوْ اَنَّ اللہ ھَدٰں نِیْ کا مطلب یہ ہوگا کہ میرے پاس کوئی پیغمبر ہی نہیں آیا ‘ نہ کسی پیغمبر نے مجھے اللہ کا پیام پہنچایا۔ حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن حضرت نوح کو طلب کیا جائے گا اور دریافت کیا جائے گا : کیا تو نے (اپنی امت کو میرا) پیام پہنچا دیا تھا ؟ حضرت نوح عرض کریں گے : جی ہاں ! پھر ان کی امت کو طلب کیا جائے گا اور ان سے دریافت کیا جائے گا : کیا تمہارے پاس اللہ کا پیام پہنچا تھا ؟ وہ انکار کردیں گے اور کہیں گے : ہمارے پاس تو نہ کوئی بشارت دینے والا پہنچا ‘ نہ ڈرانے والا۔ ہم نے یہ حدیث آیت وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِالخ اور آیت فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْھِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ کی تفسیر کے ذیل میں ذکر کردی ہے۔
اور اگر ہدایت سے تخلیق ہدایت اور منزل مقصود تک پہنچانا مراد ہو تو اس صورت میں لَوْ اَنَّ اللہ ھَدٰں نِیْ کا یہ مطلب ہوگا کہ میں مجبور تھا ‘ اللہ ہی نے مجھے ہدایت نصیب نہیں کی ‘ ایمان وطاعت کو اختیار کرنے کی میرے اندر طاقت ہی نہ تھی ‘ کیونکہ اللہ نے مجھے اس کی قدرت دی ہی نہ تھی۔ اللہ نے اس آیت (بلٰی قَدْ جَآءَتُکَ اٰیٰتِیْالخ) میں اس قول کی تردیدکر دی اور فرمایا : کیوں نہیں ‘ ہم نے تو تجھے قدرت دی تھی کہ جس راستہ کو اختیار کرنا چاہے اختیار کرلے ‘ اسی پر عذاب وثواب کی عمارت کی بناء ہے ‘ لیکن جب میری آیات تیرے پاس پہنچیں تو تو نے اپنے اختیار سے ان کی تکذیب کی۔ اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے کہ بندوں کے افعال میں قدرت خداوندی دخیل اور اثر انداز ہے ‘ یہ آیت اہل سنت کے مسلک کے خلاف نہیں ہے۔
Ayah 39:60ویوم القیمۃ تری الذی کذبوا علی اللہ وجوھھم مسودۃ الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین
اور جن لوگوں نے اللہ پر دروغ بندی کی (یعنی اللہ کو صاحب اولاد مانا ‘ یا ان صفات کی اس کی طرف نسبت کی جو اس کی شان کے مناسب نہیں ہیں) تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ان کے چہرے کالے ہوں گے۔ کیا جو لوگ (ایمان سے روگردانی کرتے ہیں اور) غرور کرنے والے ہیں ‘ ان کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے ؟
استفہام تقریری ہے ‘ یعنی ضرور ان کی یہ حالت نظر آئے گی۔
Ayah 39:61وینجی اللہ الذین اتقوا بمفازتھم لا یمسھم السوء ولا ھم یحزنون اور جو لوگ (شرک و کفر)
سے بچتے تھے ‘ ان کو کامیابی کے ساتھ اللہ (جہنم سے) بچا لے گا ‘ ان کو تکلیف چھوئے گی بھی نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
مَفَازَۃ فلاح ‘ کامیابی۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد ہے نجات ‘ کیونکہ سب سے بڑی اور اہم کامیابی یہی ہے۔ بعض کے نزدیک خوش نصیبی اور عمل صالح مراد ہے۔ یہ دونوں کامیابی کے اسباب ہیں ‘ مسبب بول کر سبب مراد لیا گیا ہے۔
Ayah 39:62اللہ خالق کل شیء وھو علی کل شیء وکیل اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔
اَللّٰہُ خَالِقُ یعنی خیر ‘ شر ‘ ایمان ‘ کفر ‘ سب کا وہی خالق ہے۔ اس جملہ کا اتصال سابق آیت (اَﷲُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ ) سے ہے اور درمیان میں تمام جملے معترضہ ہیں۔
وَکِیْلٌ یعنی تمام چیزیں اسی کی سپردگی میں ہیں اور وہی سب کا نگران اور محافظ ہے۔
Ayah 39:63لہ مقالید السموت والارض اسی کے قبضہ میں ہیں کنجیاں آسمانوں کی اور زمین کی۔
مَقَالِیْدُ ‘ مقلاد یا مقلید کی جمع ہے ‘ جیسے مفتاح کی جمع مفاتیح اور مندیل کی جمع منادیل ہے۔ یعنی آسمانوں کے اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں ‘ سارا جہان اسی کی ملک ہے ‘ کوئی بھی اس کے سوا ان خزانوں میں تصرف نہیں کرسکتا۔
قتادہ اور مقاتل نے کہا : مقالید سے مراد ہے رزق اور رحمت۔ کلبی نے کہا : (مقالید السمٰوٰت سے) مراد ہیں بارش کے خزانے اور (مقالید الارض سے مراد ہیں) سبزے کے خزانے۔ حضرت عثمان کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مقالید کی تفسیر پوچھی تو حضور ﷺ نے فرمایا : اس کی تفسیر ہے لَآ اِلٰہَ الاَّ ھُوَ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَسُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ وَاَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَلاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ الاَّ باللّٰہِ ھُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔
حضرت ابن عمر کی روایت سے ابویعلی نے مسند میں اور ابن ابی حاتم نے تفسیر میں اور عقیلی نے الضعفاء میں اور طبرانی نے الدعاء میں اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں یہ حدیث ذکر کی ہے اور ابن جوزی نے اس کو موضوعات میں درج کیا ہے۔ 1
میں کہتا ہوں : شاید حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جن صفات خداوندی کا مذکورہ الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے ‘ وہ صفات مقالید (کنجیاں) ہیں ‘ یعنی جو ذات ان صفات سے موصوف ہے ‘ وہی آسمان و زمین کے سارے خزانوں کی مالک ہے ‘ اسی کے قبضہ میں سب کی حکومت ہے اور وہی ان خزانوں میں تصرف کرسکتا ہے اور جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے اور اللہ کی ان صفات کا ذکر کرتا ہے ‘ وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کیلئے دنیا میں یا آخرت میں ان خزانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں۔
والذین کفروا بایت اللہ اولئک ھم الخسرون اور جو لوگ اللہ کی آیتوں کو نہیں مانتے ‘ وہ بڑے خسارے
میں رہیں گے۔ آیات اللہ سے مراد ہیں کلمات تمجید و توحید ‘ یا قرآن مجید ‘ یا اللہ کی قدرت مستقلہ کے نشانات و علامات۔
ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ وہی خسارہ پانے والے ہیں۔ خسارہ کو کافروں میں ہی محصور کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کافروں کے علاوہ دوسروں کو رحمت وثواب کا کچھ حصہ ضرور ملے گا۔ اگر دنیوی آسائش و نعمت سے وہ محروم بھی ہوں ‘ تب بھی آخرت میں دنیوی نعمتوں کا عوض ان کو ضرور حاصل ہوگا اور ایسی نعمتیں ملیں گی جو نہ کسی آنکھ نہ دیکھی ہوں گی نہ کسی کان نے ان کا ذکر سنا ہوگا (اور نہ کسی کے دل میں ان کا خیال آیا ہوگا) رہے کافر تو دنیا میں ان کا رزق اور رحمت کے خزانوں میں سے جب حصہ مل جاتا ہے تو شکر کا کوئی حصہ ان کو نہیں ملتا ‘ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ رحمت کا کوئی حصہ آخرت میں ان کو نصیب نہ ہوگا اور دنیا میں یہ خوش نصیبیاں آخرت میں ان کیلئے وبال بن جائیں گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت کا ربط سابق آیت وَیُنَجِّی اللہ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا سے ہو اور درمیان کے جملے معترضہ ہوں اور یہ بتانا مقصود ہو کہ اللہ اپنے بندوں کے احوال کا نگران ہے ‘ ان کے افعال و اعمال سے پورا پورا واقف ہے اور سب کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اسلوب ادا کا تغیر اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ اہل ایمان کی فلاح ‘ اللہ کے فضل پر موقف ہے اور کافروں کی ناکامی ان کے کفر سے وابستہ ہے۔ اس میں وعدۂ ثواب کی صراحت کردی گئی ہے اور وعید عذاب کو درپردہ بیان کردیا گیا ہے۔
طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو اتنا مال دینے کی پیشکش کی کہ آپ مکہ میں سب سے زیادہ مالدار ہوجائیں اور یہ بھی درخواست کی کہ جس عورت کو آپ پسند کریں ‘ ہم اس کو آپ کی زوجیت میں دے دیں گے ‘ شرط یہ ہے کہ ہمارے معبودوں کو برا کہنے سے زبان روک لیں اور برے لفظوں سے ان کا ذکر نہ کریں۔ اگر آپ کو یہ منظور نہ ہو تو ایسا کرلیجئے کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی پوجا کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : میں اس کا جواب اس وقت دوں گا جب میرے پاس میرے رب کی طرف سے کوئی وحی آجائے ‘ میں وحی کا انتظار کروں گا۔ اس پر سورة قُلْ یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ آخر تک نازل ہوئی اور آیت ذیل بھی نازل ہوئی۔
Ayah 39:64قل افغیر اللہ تامرونی اعبد ایھا الجھلون آپ (ان کے جواب میں) کہہ دیجئے کہ اے جاہلو ! کیا پھر بھی تم
مجھ کو غیر اللہ کی عبادت کا مشورہ دیتے ہو ؟ بیہقی نے دلائل میں حسن بصری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا : محمد ! ﷺ تم اپنے باپ دادا کو گمراہ قرار دیتے ہو ؟ اس پر آیت مذکورہ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ تک نازل ہوئی۔
بغوی نے مقاتل کا بیان نقل کیا ہے کہ مکہ کے کافروں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے آباؤ اجداد کے مذہب پر واپس آنے کی دعوت دی تھی ‘ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
اَفَغَیْرَ میں ہمزہ انکاری ہے اور فَ کا عطف محذوف پر ہے اور غَیْر ‘ اَعْبُد کا مفعول ہے اور تَاْمُرُوْٓنِّیْ جملۂ معترضہ ہے۔ محل انکار غیر اللہ کا لفظ ہے ‘ اسلئے فعل پر اس کو مقدم کردیا گیا ہے) یعنی اہمیت کی وجہ سے مفعول کو فعل سے پہلے ذکر کردیا) مطلب اس طرح ہوگا : کیا میں کفر کروں اور غیر اللہ کی عبادت کروں ‘ تم مجھے (اس کا) مشورہ دے رہے ہو ؟
Ayah 39:65ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیجبطن عملک ولیکونن من
الخسرین اور آپ کی طرف بھی اور جو پیغمبر آپ سے پہلے گذرے ہیں ‘ انکی طرف بھی یہ وحی بھیج دی گئی ہے کہ (اے عام مخاطب ! ) اگر تو شرک کرے گا تو تیرا کیا کرایا سب غارت ہوجائے گا۔ یہ کلام مبنی برفرض ہے ‘ اس سے مراد ہے کافروں کو ناامید کرنا اور امت کو درپردہ متنبہ کرنا۔ اسی آیت کی روشنی میں ہم کہتے ہیں کہ مرتد ہوجانے سے تمام گذشتہ نیکیوں کا ثواب ساقط کردیا جاتا ہے۔ جس طرح اسلام تمام سابق گناہوں کو ڈھا دیتا ہے ‘ اسی طرح ارتداد ساری گذشتہ نیکیوں کو اکارت کردیتا ہے۔
اگر کوئی شخص مرتد ہونے کے بعد مسلمان ہوگیا اور ایسے وقت مسلمان ہوا کہ نماز کا وقت باقی ہے تو ارتداد سے پہلے اگرچہ بحالت اسلام وہ اس وقت کی نماز پڑھ چکا ہو ‘ پھر بھی دوبارہ اس کو اس وقت کی نماز پڑھنی لازم ہے (سابق نماز کالعدم ہوگئی) اسی طرح اگر پہلے حج فرض کرچکا ہے ‘ پھر مرتد ہوگیا اور دوبارہ پھر مسلمان ہوگیا تو اس کو دوبارہ حج فرض کرنا ہوگا ‘ کذا قال الامام ابن الہمام۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ حبط اعمال کا حکم شاید انبیاء کیلئے مخصوص ہو ‘ کیونکہ انبیاء کا شرک کرنا امت کے شرک کے مقابلہ میں بہت ہی برا ہے ‘ یا یوں کہا جائے کہ ارتداد سے اعمال سابقہ کا حبط اس وقت ہوگا ‘ جب ارتداد کی حالت میں ہی مرجائے۔ دوسری آیت میں اس کی صراحت آگئی ہے ‘ فرمایا ہے : وَمَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَھُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓءِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ ۔ تم میں سے جو شخص اپنے دین سے لوٹ جائے گا ‘ پھر کافر ہونے کی حالت میں مرجائے گا تو اس کے (گذشتہ نیک) اعمال ناکارہ ہوجائیں گے۔
بیضاوی کا یہ قول غلط ہے۔ ارتداد سے گذشتہ نیکیوں کے حبط ہوجانے کی انبیاء کے ساتھ خصوصیت بدترین تصور ہے ‘ کیونکہ کلام کی بناء محض فرض محال پر ہے اور (مقصود خطاب حقیقت میں امت ہے اور) امت ہی کو تنبیہ کرنا اصل غرض ہے (انبیاء کی شان میں تو شرک کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا) رہی آیت میں مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ الخ تو اس سے ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ اگر مرتد کی موت کفر کی حالت میں نہ ہو تو اس کی سابق نیکیاں اکارت نہیں جائیں گی۔ اس آیت میں ضرور حبط اعمال کو موت علی الکفر کے ساتھ مقید کیا گیا ہے ‘ لیکن آیت مندرجۂ صدر میں مرتد کے حبط اعمال کی کوئی قید نہیں لگائی گئی اور کوئی ضرورت نہیں کہ مطلق کو بھی ہم مقید قرار دیں ‘ مطلق اپنے اطلاق پر باقی رہے گا۔
Ayah 39:66بل اللہ فاعبد (غیر اللہ کی پوجا نہ کرنا) بلکہ اللہ ہی کی عبادت کرنا۔ کافروں نے رسول اللہ ﷺ کو جو مشورہ دیا تھا ‘
یہ اس کی تردید ہے۔ اَﷲَ کو فاعْبُدْ سے پہلے ذکر کرنا مفید حصر ہے۔
وکن من الشکرین اور (ا اللہ کی نعمتوں کا) شکرگذار رہنا۔ یعنی اللہ نے جو انعام تجھ پر کیا ہے ‘ اس کا شکر ادا کر۔ ترمذی
نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک یہودی ‘ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے گذرا ‘ اور بولا : ابو القاسم ! جب اللہ آسمانوں کو اس (انگلی) پر اور زمینوں کو اس پر ‘ اور سمندروں کو اس پر اور پہاڑوں کو اس پر رکھے گا تو تمہارا کیا خیال ہے (وہ پھر کیا کرے گا) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔