Ayah 38:70ان یوحی الی الا انما انا نذیر مبین میرے پاس جو وحی آتی ہے تو اس سبب سے آتی ہے کہ میں (منجانب اللہ) کھلا ہوا پیغمبر ہوں (یہ ترجمہ مولانا اشرف علی تھانوی کے ترجمہ کی بنیاد پر کیا گیا ہے ‘ اس میں زیادہ الفاظ مولانا تھانوی کے ہیں۔ مترجم)
الْمَلَاِ الْاَعْلٰی یعنی فرشتے۔ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَجب ملائکہ بحث و گفتگو کر رہے تھے۔ ملائکہ کی گفتگو اور سوال و جواب کی کتب سابقہ کی صراحتوں کے موافق خبر ‘ جبکہ ملائکہ کی گفتگو نہ سنی ہو نہ کوئی آسمانی کتاب پڑھی ہو ‘ بغیر وحی کے ناممکن ہے۔
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ملائکہ کی گفتگو جو تخلیق آدم کے سلسلے میں تھی ‘ یختصمون میں وہی مراد ہے۔ اللہ نے فرشتوں سے فرمایا تھا : اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً ۔ فرشتوں نے سوال کیا : اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَآءَ ۔
حضرت عبدالرحمن بن عائش حضرمی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : میں نے اپنے رب کو نہایت ہی حسین شکل میں دیکھا۔ رب نے مجھ سے فرمایا : محمد ﷺ ! عالم بالا والے کس بات میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : اے میرے رب ! تو ہی خوب جانتا ہے ‘ یہ بات دو مرتبہ فرمائی۔ میرے رب نے میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنی ہتھیلی رکھ دی جس کی خنکی مجھے سینہ کے الے حصہ میں بھی محسوس ہوگئی اور آسمان و زمین میں جو کچھ (ہو رہا) تھا ‘ مجھے معلوم ہوگیا۔ پھر حضور ﷺ نے آیت وَکَذٰلِکَ نُرِیْٓ اِبْرَاھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ الْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ تلاوت کی ‘ اور فرمایا : اس کے بعد میرے رب نے پوچھا : محمد ﷺ ! عالم بالا والے کس بات میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : کفارات کے متعلق بحث کر رہے ہیں (یعنی کن کن چیزوں سے گناہوں کا اتار اور کفارہ ہوجاتا ہے) فرمایا : کفارات کیا (کیا) ہیں ؟ میں نے عرض کیا : پاؤں سے چل کر (نماز کی) جماعتوں کی طرف جانا ‘ نماز کے بعد (دوسری نماز کے) انتظار میں (مسجدوں میں) بیٹھا رہنا اور ناگوار امور (مثلاً برفیلا ٹھنڈا پانی اور سخت سردی) کے باوجود پورا پورا فضو کرنا۔ فرمایا : جو ایسا کرے گا ‘ وہ بخیریت زندہ رہے گا ‘ بخیریت مرے گا اور اس کے گناہ (معاف کر دئیے جائیں گے اور) ایسے (دور) ہوجائیں گے جیسے اس روز تھے جبکہ وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا ‘ اور (کفارات کے بعد) درجات (کے حصول کے ذرائع) میں سے ہے (بھوکوں کو) کھانا کھلانا ‘ اور (مسلمانوں کو) سلام کرنا اور رات کو جب سب لوگ سوتے ہوں (نماز کیلئے) کھڑا ہونا۔ رب نے فرمایا : (محمد ﷺ کہو : اے اللہ ! میں تجھ سے پاک چیزیں مانگتا ہوں اور بری چیزیں (ممنوع) چھوڑ دینے کی توفیق چاہتا ہوں اور مسکینوں کی محبت کا خواستگار ہوں اور اس بات کا طلبگار ہوں کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور جب تو کس قوم کو آزمائش میں ڈالنا چاہے تو مجھے آزمائش میں ڈالنے سے پہلے ہی وفات دے دے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ! بلاشبہ یہ سب باتیں سچی ہیں ‘ رواہ البغوی فی شرح السنۃ وتفسیرہ) ۔
دارمی کی روایت ولیکون من الموقنین تک ہے۔ ترمذی نے یہ حدیث بغوی کی روایت سے بحوالۂ حضرمی بھی بیان کی ہے اور حضرت ابن عباس اور حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے کچھ بدلے ہوئے الفاظ کے ساتھ اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ہے۔
کفارات کے معاملہ میں ملاء اعلیٰ کی بحث سے شاید یہ مراد ہو کہ فرشتوں کی ایک جماعت ان نیکیوں کو لکھنے میں ایک دوسرے سے پیش دستی کرتے ہیں تاکہ اللہ کے سامنے سب سے پہلے وہی پیش کریں۔ جیسا کہ حضرت رفاعہ بن رافع کی روایت میں آیا ہے ‘ حضرت رفاعہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ‘ جونہی آپ نے رکوع سے سر اٹھا کر سمع اللہ لمن حمدہکہا ‘ فوراً پیچھے (مقتدیوں میں سے) ایک شخص نے رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارْکًا فِیْہِ کہا۔ حضور ﷺ نے نماز پوری کرلی تو فرمایا : ابھی کس نے یہ بات کہی تھی ؟ اس شخص نے کہا : میں نے کہی تھی ؟ اس شخص نے کہا : میں نے کہی تھی۔ فرمایا : کچھ اوپر تیس فرشتوں کو دیکھا کہ وہ پیش دستی کر رہے تھے کہ کون ان کلمات کو پہلے لکھے (رواہ البخاری) ۔
اِنَّمَآ اَنَا نَذیْرٌ مُّبِیْنٌیا یُوْحٰیکانائب فاعل ہے ‘ یعنی میرے پاس بس وحی آتی ہے کہ میں تم کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں ‘ یا فقرۂ مذکورہ مفعول لہٗ اور علت ہے اور یوحٰی کا نائب فاعل وہ مصدر ہے جو فعل سے سمجھ میں آ رہا ہے ‘ یعنی میرے پاس وحی بس اس غرض سے آتی ہے کہ میں نذیر مبین ہوں۔ پیغمبری کا مقصود ہی نافرمانوں کو عذاب سے ڈرانا ہے۔
بعض علماء کہتے ہیں کہ نباء عظیم سے مراد ہے حضرت آدم اور ابلیس کا قصہ ‘ اور بغیر سنے اس کی خبر دینا ‘ اور ملاء اعلیٰ سے مراد ہیں افراد قصہ ‘ یعنی ملائکہ اور آدم اور ابلیس ‘ یہ سب آسمان پر تھے اور ان کی باہم گفتگو ہوئی تھی۔
Ayah 38:71اذ قال ربک للملئکۃ انی خالق بشرا من طین جبکہ آپ کے رب نے ملائکہ سے فرمایا تھا کہ میں گارے
سے ایک انسان کو بنانے والا ہوں۔
اِذْ قَالَ ‘ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَکا بدل ہے ‘ اور تشریح سے سورة بقرہ میں ملائکہ اور ابلیس کی تخلیق آدم اور ان کے استحقاق خلافت کے متعلق گفتگو اور ان کا مسجود ملائکہ ہونا تفصیل سے بیان کردیا گیا ہے ‘ یہاں اس مفصل قصہ کو مختصر طور پر بیان کردیا گیا ہے اور قصہ کا جو اصل مقصد تھا ‘ اس کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔ حضرت آدم کے مقابلہ میں ابلیس نے غرور کیا اور راندۂ درگاہ ہوگیا۔ مشرک بھی رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے ‘ ان کا بھی ابلیس کی طرح خوار و ذلیل ہونا ضروری ہے (یہ ہے اصل مقصود بیان) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی فرشتہ کی وساطت سے اللہ نے ملاء اعلیٰ سے کلام کیا ہو۔ یا ملاء اعلیٰ سے مراد کائنات بالا ہو ‘ جو اللہ اور ملائکہ سب ہی کو شامل ہے۔
Ayah 38:72فاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سجدین۔ سو جب میں اس کو پورا بنا چکوں اور اس کے اندر اپنی جان ڈال دوں تو تم (سب کے سب) اس کے آگے سجدہ میں گرپڑنا۔
Ayah 38:73فسجد الملئکۃ کلھم اجمعون۔ پس (جب اللہ اس کو بنا چکا تو) سب کے سب فرشتوں نے اس کو سجدہ کیا (یعنی اس کی طرف سجدہ کیا)
Ayah 38:74الا ابلیس استکبر وکان من الکفرین سوائے ابلیس کے کہ وہ غرور میں آگیا اور منکرین (حکم) میں سے ہوگیا۔
اِذَا سَوَّیْتُہٗ جب میں اس کی بناوٹ پوری کر چکوں۔ اِسْتَکْبَرَ وہ بڑا بنا ‘ مغرور ہوگیا۔ کَانَ ہوگیا ‘ یعنی اللہ کے حکم کے مقابلہ میں کے مقابلہ میں اس نے غرور کیا ‘ یا اطاعت حکم سے اس نے اپنے کو اونچا سمجھا۔ یا (کَانَکا اصل معنی ہی مراد ہے یعنی) اللہ کے علم میں وہ پہلے ہی کافروں میں سے تھا۔
Ayah 38:75قال یا بلیس ما منعک ان تسجد لما خلقت بیدی استکبرت ام کنت من العالمین اللہ
نے فرمایا : اے ابلیس ! جس چیز کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ‘ اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس بات نے روکا ؟ کیا تو غرور میں آگیا یا (واقع میں) تو بڑے درجہ والوں میں سے ہے ؟
خَلَقْتُ بِیَدَیَّ ‘ یَدَیَّکا لفظ متشابہات میں سے ہے۔ علماء سلف اس کی کوئی (مرادی) تاویل نہیں کرتے ‘ بس اتنا ایمان رکھتے ہیں کہ یدیّ کا ترجمہ ہے : میرے دونوں ہاتھ۔ لیکن ہاتھوں سے کیا مراد ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم کو نہیں معلوم ‘ اللہ ہی جانے۔ علماء متاخرین کہتے ہیں : اپنے ہاتھوں سے پیدا کرنے سے یہ مراد ہے کہ میں نے براہ راست ‘ ماں باپ کے توسط کے بغیر اس کو پیدا کیا۔
یَدَیَّ (اپنے دونوں ہاتھوں سے) تثنیہ کا صیغہ ظاہر کر رہا ہے کہ اللہ نے تخلیق آدم اپنی کامل قدرت سے کی۔
اَسْتَکْبَرْتَ استفہام توبیخی ‘ زجری اور انکاری ہے۔ اصل میں اَ اِسْتَکْبَرْتَ تھا ‘ یعنی کیا تو بغیر کسی استحقاق کے بڑا بننے کا مدعی ہوگیا ؟ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ یا واقع میں تو اونچے درجے کا استحقاق رکھنے والوں میں سے ہے ؟
Ayah 38:76قال ابلیس نے کہا۔
انا خیر منہ میں اس سے افضل ہوں۔ ابلیس نے سجدہ نہ کرنے کی وجہ بیان کی کہ میں آدم سے افضل ہوں اور یہ دلیل پیش کی کہ
خلقنی من نار وخلقتہ من طین تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اس کو گارے سے بنایا۔ اسکی تفسیر پہلے گذر چکی ہے۔
Ayah 38:77قال فاخرج منھا فانک رجیم اللہ نے فرمایا : تو یہاں سے نکل جا ‘ بلاشبہ تو مردود ہے۔
منھا یعنی جنت سے یا آسمان سے نکل جا۔ حسن اور ابو العالیہ نے کہا : اس بناوٹ (اور خوبصورت تخلیق) سے نکل جا ‘ جس میں تو بنایا گیا ہے۔ حسن بن فضل نے کہا : یہ تشریح اچھی ہے ‘ چناچہ اس حکم کے بعد ابلیس کا رنگ سیاہ ہوگیا اور خوبصورتی ‘ بدصورتی سے بدل گئی۔
فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ5 رجیم ‘ مردود ‘ راندۂ درگاہ ‘ یعنی تو آدم سے افضل نہیں ہے۔ یہ جملہ حکم خروج کی علت ہے (یعنی تجھے نکل جانے کا حکم اسلئے دیا گیا کہ اب تو راندۂ درگاہ ہوگیا) ۔
Ayah 38:78وان علیک لعنتی الی یوم الدین اور بیشک تجھ پر میری لعنت رہے گی روز جزا تک۔
اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنَ کہنے سے یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ قیامت آنے پر لعنت ختم ہوجائے گی ‘ بلکہ مراد یہ ہے کہ قیامت تک تو پھٹکار میں مبتلا رہے گا ‘ اور اس کے بعد لعنت کے ساتھ عذاب میں بھی گرفتار ہوگا۔
Ayah 38:79قال رب فانظرنی الی یوم یبعثون ابلیس بولا : تو اے میرے رب ! مجھے اس دن تک مہلت دے جس دن لوگوں کو زندہ کر کے قبروں سے اٹھایا جائے گا (یعنی روز قیامت تک) ۔ سابقہ جملہ اس جملہ کا سبب ہے اور فا سببت کیلئے ہے ‘ آدم کی دشمنی کی وجہ سے راندۂ درگاہ ہوجانا ہی اس مہلت طلبی کا سبب تھا تاکہ وہ بنی آدم کو اغواء کرسکے۔
اس جگہ فا سببت کیلئے ہے ‘ ابلیس کا سوال اس جواب کا سبب ہے۔
Ayah 38:80فرمایا بیشک تو مہلت دیے جانے والوں میں سے ہے
اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ جملۂ اسمیّہ ہے جو اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ ابلیس کو مقرر وقت تک مہلت دینا اللہ کو پہلے ہی معلوم تھا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے ابلیس کا سوال پر پورا کردیا اور دعا قبول کرلی۔
Ayah 38:81مگر ایک مقررہ وقت تک
یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْم اس سے مراد ہے پہلی مرتبہ صور پھونکے جانے کا وقت۔ سورة الحجر میں اس کی تفصیل گذر چکی ہے۔
Ayah 38:82قال فبعزتک لاغوینہم اجمعین۔ ابلیس کہنے لگا : (جب تو نے مجھے مہلت دے دی) تو تیری عزت کی قسم ! میں ان سب کو گمراہ کر دوں گا
Ayah 38:83الا عبادت منھم المخلصین سوائے ان تیرے بندوں کے جو ان میں سے (تیرے) منتخب ہوں گے
فَبِعِزَّتِکَ میں بھی فاء سببی ہے۔ ابلیس کو مہلت مل جانا ہی عزم اغواء کا سبب ہے ‘ اگر اللہ کی طرف سے اس کو مہلت نہ ملتی تو وہ اغواء پر قادر نہ ہوتا۔ ابلیس ملعون نے اللہ کی عزت یعنی غلبۂ کامل اور ہمہ گیر قدرت کی قسم کھائی تاکہ اس ذریعہ سے اس کو بنی آدم کے اغواء پر تسلط حاصل ہوجائے۔
الْمُخْلَصِیْنَ یعنی وہ لوگ جن کو اللہ نے اپنی طاعت کیلئے منتخب کرلیا ہے اور گمراہی سے محفوظ بنا دیا ہے
Ayah 38:84قال فالحق والحق اقول ارشاد ہوا : (میری بات) سچ ہے اور میں تو سچ ہی کہا کرتا ہوں
Ayah 38:85لا ملأن جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین کہ تجھ سے اور ان (انسانوں) میں سے جو بھی تیرا ساتھ دیں گے ‘ ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔
وَالْحَقَّ اَقُوْلُ جملۂ معترضہ ہے۔ مِنْکَ یعنی تجھ سے اور تیری نوع کے افراد سے ‘ اسی لفظ کے تحت تمام شیاطین جن آگئے۔
مِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْیعنی تیرا آدمیوں میں سے جو تیرے ساتھی ہوں گے ‘ سب کو جہنم میں بھر دوں گا ‘ کسی کو نہ چھوڑوں گا ‘ نہ تم میں سے نہ ان میں سے۔ مَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ سے مراد ہیں کافر لوگ۔
Ayah 38:86قل ما اسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکفین (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس کا (یعنی تبلیغ قرآن کا یا ڈرانے کا) نہ کوئی معاوضہ چاہتا ہوں ‘ نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں ‘ یعنی قرآن خود بنانے والا نہیں ہوں۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو کسی ایسی چیز کے مدعی بن بیٹھتے ہیں جو ان کے اندر نہیں ہوتی ‘ مطلب یہ ہے کہ میں واقعی نبی ہوں ‘ میری نبوت کا دعویٰ جھوٹا نہیں ہے۔
بخاری نے حضرت عمر کا قول نقل کیا ہے کہ ہم کو بناوٹ سے منع کردیا گیا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ مسروق نے کہا : ہم حضرت ابن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ آپ نے فرمایا : اگر کوئی شخص کوئی بات جانتا ہو تو کہہ دے اور معلوم نہ ہو تو ” اللہ جانے “ کہہ دے ‘ کیونکہ جس بات کو نہ جانتا ہو ‘ اس کے متعلق ” اللہ اعلم “ کہہ دینا بھی علم ہی کی ایک شاخ ہے۔ اللہ نے اپنے نبی سے فرمایا ہے : قُلْ مَآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ ۔
میں کہتا ہوں : مَآ اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ- مَآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍکی تاکید ہے ‘ کیونکہ جو شخص کسی معاوضہ کا طلبگار نہ ہو ‘ وہ بات میں بناوٹ نہیں کرتا۔
Ayah 38:87ان ھو الا ذکر للعلمین یعنی یہ (قرآن) تو بس دنیا جہان والوں کیلئے ایک نصیحت ہے۔ یعنی جن و انس کیلئے نصیحت نامہ ہے جو میرے پاس وحی کے ذریعہ سے آیا ہے اور میں تم کو پہنچا رہا ہوں۔
Ayah 38:88ولتعلمن نبأہ بعد حین اور تھوڑے دنوں کے بعد تم کو اس کا حال معلوم ہوجائے گا ‘ یعنی جو وعد و وعید اس کے اندر موجود
ہے ‘ اسے کچھ مدت کے بعد تم جان لو گے ‘ یا اس کی سچائی کو کچھ وقت کے بعد جان لو گے۔
بَعْدَ حِیْنَ سے حضرت ابن عباس و قتادہ کے نزدیک مراد ہے : مرنے کے بعد۔ عکرمہ نے کہا : قیامت کے دن جان لو گے۔
حسن نے کہا : مرنے کے وقت آدمی کے سامنے سچی یقینی خبر آجاتی ہے۔
بتوفیق اللہ تعالیٰ سورة صٓ کی تفسیر 6/رجب 1207 ھ کو ختم ہوئی ‘ اس کے بعد سورة الزمر کی تفسیر انشاء اللہ آئے گی
والحمد اللہ ربّ العٰلمین وصلّی اللہ تعالیٰ عَلٰی خیر خلقہ محمد واٰلہٖ و اصحابہ اجمعین
بعونہ تعالیٰ تفسیر مظہری متعلق سورة صٓ کا ترجمہ 22/ رمضان 1392 ھ کو ختم ہوا۔
فشکرًا اللہ تعالیٰ والحمد لہ اوّلاً واٰخِرً