38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 38:24

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملالے بےشک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔ اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔ ہاں جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اور داؤد نے خیال کیا کہ (اس واقعے سے) ہم نے ان کو آزمایا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگی اور جھک کر گڑ پڑے اور (خدا کی طرف) رجوع کیا

قال لقد ظلمک بسؤال نعجتک الی نعاجہ وان کثیرا من الخلطاء لیبغی بعضھم علی بعض الا الذین امنوا وعملوا الصلحت وقلیل ما ھم داؤد نے کہا : بلاشبہ اس نے تجھ پر ظلم کیا کہ اپنی دنبیوں میں تیری دنبی کو (چھین کر) ملا لینے کا طلبگار ہوا اور اکثر شرکاء کی عادت ہے کہ ایک دوسر پر (یونہی) زیادتی کیا کرتے ہیں ‘ مگر ہاں جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ‘ وہ مستثنیٰ ہیں اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں۔ قَال یعنی مدعیٰ علیہ کے اقرار کے بعد حضرت داؤد نے کہا۔ لقد ظلمک بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اگر تیری بات صحیح ہے تو بلاشبہ اس نے تیری حق تلفی کی۔ جملہ کو مؤکد بقسم ذکر کرنے سے مدعیٰ علیہ کے فعل کی برائی اور اس کے ناجائز لالچ کی مذمت پر زور طور پر کرنا مقصود ہے۔ الْخُلَطَاء یعنی شرکاء جو آپس میں اپنا مال مخلوط کرلیتے ہیں۔ خلطاء ‘ خلیط کی جمع ہے۔ قَلِیْلٌ مَّا ھُمْ اس میں مَا زیادہ ہے جو ابہام اور تعجب کو ظاہر کرنے کیلئے بڑھا دیا گیا ہے۔ غرض داؤد نے جب ان کا فیصلہ کردیا تو ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسا ‘ پھر دونوں آسمان کی طرف چڑھ (کر غائب ہو) گئے۔ وظن داود انما فتنہ فاستغفر ربہ وخر راکعا واناب اور داؤد کو خیال آیا کہ ہم نے ان کا امتحان لیا ہے ‘ فوراً وہ اپنے رب سے معافی کے خواستگار ہوئے اور سجدے میں گرپڑے اور (ہماری طرف) رجوع ہوئے۔ وظنّ داوٗدیعنی حضرت داؤد سمجھ گئے اور ان کو یقین ہوگیا کہ ہم نے انکی جانچ کی ہے کہ اس مقدمہ سے وہ بیدار ہوتے ہیں یا نہیں۔ سدی نے اپنی سند سے بیان کیا ہے کہ جب ایک نے ان ھذا اخی الخ کہا تو حضرت داؤد نے دوسرے سے پوچھا : تو کیا کہتا ہے ؟ اس نے جواب دیا : بیشک میرے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور اس کی ایک دنبی ہے۔ میں اس کی دنبی لے کر اپنی سو (100) دنبیاں پوری کرنا چاہتا ہوں ‘ مگر اس کو یہ بات ناگوار ہے۔ حضرت داؤد نے فرمایا : تو میں تجھ کو اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ اگر تو نے اس کا ارادہ بھی کیا تو میں اس پر (ناک پر) اور اس پر (ناک کی جڑ پر) اور اس پر (تیری پیشانی پر) ماروں گا۔ اس نے کہا : داؤد ! آپ اس (سزا) کے زیادہ مستحق ہیں۔ اور یا کی تو ایک ہی عورت تھی اور آپ کی ننانوے تھیں۔ آپ برابر اس کے مارے جانے کے درپے رہے۔ آخر وہ قتل ہوگیا اور آپ نے اس کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس کے بعد حضرت داؤد نے جو دیکھا تو کوئی بھی نظر نہ آیا (دونوں غائب ہوگئے) اس وقت حضرت داؤد سمجھ گئے کہ میں کیسی مصیبت میں مبتلا ہوگیا۔ بعض علماء جو انبیاء کو اس طرح کے عیوب سے پاک مانتے ہیں ‘ اس قصہ کے متعلق ان کا قول ہے کہ حضرت داؤد کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اور یا کی بیوی کو اپنے لئے بنائے جانے کی دل میں تمنا کی تھی۔ اتفاقاً اور یا کسی جہاد پر گیا اور لڑای میں آگے بڑھ کر شہید ہوگیا۔ حضرت داؤد کو اس کے قتل ہوجانے کی خبر ملی تو آپ اس کے مارے جانے پر ایسے رنجیدہ نہیں ہوئے جیسے آپ کی عادت تھی کہ فوج کا جو سپاہی مارا جاتا تو آپ کو اس کا سخت رنج ہوتا اور آپ غمگین ہوجاتے تھے۔ اس کے بعد آپ نے اور یا کی بیوہ سے نکاح کرلیا ‘ اتنے ہی قصور پر آپ پر اللہ کی طرف سے عتاب ہوا ‘ کیونکہ انبیاء کا مرتبہ اللہ کے نزدیک چونکہ بہت اونچا ہے اسلئے انبیاء کے چھوٹے گناہ بھی خدا کی نظر میں بڑے ہوتے ہیں۔ بعض اہل علم نے کہا کہ حضرت داؤد کا قصور صرف یہ تھا کہ اور یا نے ایک عورت کو نکاح کا پیام بھجوایا ‘ پھر کسی جہاد پر چلا گیا اور غائب ہوگیا۔ اس کے غائب ہوجانے کے بعد حضرت داؤد نے اس عورت کو اپنے نکاح کا پیام بھیجا اور اس سے نکاح کرلیا۔ اور یا (کو اس کی اطلاع ملی تو وہ) بہت رنجیدہ ہوا اور حضرت داؤد پر اللہ کا عتاب نازل ہوا کہ اس ایک عورت کو بھی انہوں نے (اول) پیام نکاح بھیجنے والے کیلئے نہیں چھوڑا ‘ باوجودیکہ ان کے پاس ننانوے عورتیں موجود تھیں۔ بغوی نے حضرت انس بن مالک کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ حضرت انس نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ داؤد نبی نے جو اس عورت کی طرف نظر کی تو دل میں ایک ارادہ کیا اور سپہ سالار کو حکم بجھوا دیا کہ جب دشمن کا مقابلہ ہو تو فلاں شخص کو تابوت کے آگے کردینا۔ اس زمانہ میں تابوت کی برکت سے ہی اللہ کی نصرت طلب کی جاتی تھی۔ جو شخص تابوت سے آگے ہوتے ‘ وہ لوٹ نہیں سکتا تھا ‘ یا مارا ماتا یا فتحیاب ہوتا اور دشمن کو شکست ہوجاتی۔ چناچہ اس عورت کا شوہر شہید ہوگیا اور دو فرشتے نازل ہوئے اور انہوں نے (مذکورۂ بالا) قصہ بیان کیا۔ اس وقت حضرت داؤد حقیقت کو سمجھ گئے ‘ فوراً سجدہ میں گرگئے اور چالیس روز تک سجدہ میں پڑے رہے ‘ یہاں تک کہ آپ کے آنسوؤں سے گھاس اگ کر سر کے اوپر آگئی اور مٹی نے پیشانی (کی کھال) کو کھالیا۔ سجدہ کی حالت میں وہ برابر کہہ رہے تھے : اے میرے رب ! داؤد سے وہ عظیم ترین لغزش ہوگئی جو مشرق و مغرب کے درمیانی فاصلہ سے بھی بڑی ہے۔ اے میرے رب ! اگر تو داؤد کی کمزوری پر رحم نہیں کرے گا اور اس کے گناہ کو معاف نہیں کرے گا اور آنے والی مخلوق کیلئے داؤد کے قصور کو کہانی بنا دے گا (تو پھر داؤد پر کون رحم کرے گا) چالیس روز کے بعد حضرت جبرئیل نازل ہوئے اور کہا : داؤد ! اللہ نے تمہارا وہ ارادہ (یعنی گناہ کا ارادہ) معاف کردیا جو تم کرچکے تھے۔ داؤد نے کہا : بیشک میرا رب میرے (گناہ کے) ارادہ کو معاف کردینے کی قدرت رکھتا ہے ‘ لیکن میں جانتا ہوں کہ اللہ منصف ہے (خلاف عدل) کسی کی طرف اس کا جھکاؤ نہ ہوگا ‘ پھر قیامت کے دن جب فلاں شخص (آئے گا اور بطور استغاثہ) کہے گا : اے میرے رب ! میرا خون جو داؤد کے ذمے ہے (اس کا عوض دلوا دے) جبرئیل نے کہا : اس کے متعلق تو میں نے آپ کے رب سے کچھ دریافت نہیں کیا ‘ اگر آپ کی خواہش ہے تو میں ایسا ضرور کروں گا (اور آپ کو فرمان خداوندی بتادوں گا) ۔ حضرت داؤد نے کہا : ہاں (میری خواہش یہی ہے) جبرئیل اوپر چڑھ گئے اور داؤد سجدہ میں پڑگئے اور وقت حسب مشیت خدا گذرتا رہا۔ پھر جبرئیل اترے اور کہا : داؤد ! میں نے اللہ سے اس بات کے متعلق جس کیلئے آپ نے مجھے بھیجا تھا ‘ دریافت کیا تھا ‘ اللہ نے فرمایا : داؤد سے کہہ دے کہ قیامت کے دن اللہ تم کو اور اس کو جمع کرے گا اور اس سے فرمائے گا کہ جو خون تیرا داؤد کے ذمے ہے ‘ وہ مجھے بخش دے۔ وہ جواب دے گا : اے میرے رب ! میں نے تجھے (اختیار) دیا۔ اللہ فرمائے گا : اس کے عوض جنت کے اندر تو جو کچھ چاہے اور جس چیز کی تجھے خواہش ہو ‘ لے لے۔ کعب احبار اور وہب بن منبہ کا بالاتفاق بیان ہے کہ جب دونوں فرشتے حضرت داؤد کے پاس آئے اور حضرت داؤد نے اپنے ہی خلاف مقدمہ کا فیصلہ کردیا تو دونوں اپنی اصلی صورتوں میں آگئے اور یہ کہتے ہوئے اوپر چڑھ گئے کہ اس شخص نے اپنے ہی خلاف فیصلہ کردیا اور داؤد بھی سمجھ گئے کہ وہ مصیبت میں مبتلا ہوگئے ‘ فوراً سجدہ میں گرپڑے اور چالیس روز سجدے میں پڑے رہے ‘ نہ کچھ کھاتے تھے نہ کچھ پیتے تھے ‘ روتے رہتے تھے ‘ یہاں تک کہ گھاس ان کے سر کے اردگرد اگ آئی۔ برابر اللہ کو پکارتے اور قبول توبہ کی درخواست کرتے رہے۔ حضرت داؤد سجدہ کی حالت میں یہ دعا کرتے تھے : پاک ہے وہ بادشاہ جو سب سے بڑی عظمت والا ہے ‘ مخلوق کی جس طرح چاہتا ہے آزمائش کرتا ہے۔ پاک ہے نور کا خالق ‘ پاک ہے وہ جو دلوں کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ‘ پاک ہے نور کا خالق۔ اے میرے معبود ! تو نے مجھے اور میرے دشمن ابلیس کو خالی چھوڑ دیا ‘ پھر جب فتنہ مجھ پر آپڑا تو اس میں میں کھڑا نہ رہ سکا۔ پاک ہے نور کا خالق ‘ داؤد کیلئے ہلاکت ہوگی اس روز جب اس کا پردہ فاش ہوجائے گا اور فرشتہ کہے گا : یہ ہے خطاکار داؤد۔ پاک ہے نور کا پیدا کرنے والا۔ اے میرے معبود ! میں کس آنکھ سے (سر اٹھا کر) تیری طرف دیکھوں گا ‘ ظالم تو پوشیدہ نظروں سے اس روز دیکھیں گے ‘ پاک ہے نور کو پیدا کرنے والا۔ اے میرے معبود ! میں کن قدموں سے اس روز تیرے سامنے چلوں گا ‘ جبکہ گنہگاروں کے قدم ڈگمگا رہے ہوں گے ‘ پاک ہے نور کو پیدا کرنے والا۔ اے میرے معبود ! مجھ میں تیرے سورج کی گرمی (برداشت کرنے) کی طاقت نہیں ‘ تیری دوزخ کی گرمی کیسے برداشت کرسکوں گا ؟ اے میرے معبود ! میں تیرے رعد کی آواز (کو سننے) کی طاقت نہیں رکھتا تو جہنم کی آواز (کو سننے) کی طاقت میرے اندر کیسے ہوگی ؟ پاک ہے نور کو پیدا کرنے ولا۔ ہلاکت ہے داؤد کی اس گناہ کی وجہ سے جس کا اس نے ارتکاب کیا ‘ پاک ہے نور کا پیدا کرنے والا۔ اے میرے معبود ! تو میری اندرونی اور بیرونی باتوں کو جانتا ہے ‘ میری معذرت کو قبول فرما ‘ پاک ہے نور کا خالق۔ اے میرے معبود ! اپنی رحمت سے میرے گناہ بخش دے اور مجھے ذلیل کرنے کیلئے اپنی رحمت سے مجھے دور نہ کر (یعنی اگر تو نے مجھے اپنی رحمت سے دور کردیا تو میں ذلیل ہوجاؤں گا) پاک ہے نور کا خالق۔ اے میرے رب ! میں تیری ذات کریم کے نور کی ان گناہوں سے پناہ چاہتا ہوں جنہوں نے مجھے ہلاک کردیا ‘ پاک ہے نور کو پیدا کرنے والا۔ اے میرے معبود ! میں تیرے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار اور اپنی خطا کا اعتراف کرتا ہوں ‘ مجھے ناامید نہ کر اور قیامت کے دن مجھے رسوا نہ کر ‘ پاک ہے نور کا خالق۔ مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت داؤد چالیس روز تک یونہی سجدہ میں پڑے رہے ‘ سر اوپر نہ اٹھایا ‘ اور روتے رہے یہاں تک کہ آپ کے آنسوؤں سے گھاس اگ آئی ‘ جس نے آپ کے سر کو چھپالیا۔ چالیس روز کے بعد ندا آئی : داؤد ! کیا تو بھوکا ہے کہ تجھے کھانا دے دیا جائے ‘ یا پیاسا ہے کہ تجھے پانی پلا دیا جائے ‘ یا ننگا ہے کہ تجھے لباس دے دیا جائے ؟ میں تو بلامانگے یہ چیزیں تجھے دیتا ہوں۔ حضرت داؤداتنا روئے کہ آپ کے سینہ کی گرمی سے لکڑی بھڑکنے لگی اور جل گئی۔ اس کے بعد اللہ نے قبول توبہ اور مغفرت کا حکم نازل فرمایا۔ وہب کا بیان ہے : حضرت داؤد کو ندا آئی کہ میں نے تجھے بخش دیا۔ حضرت داؤد نے عرض کیا : یہ کیسے ہوگا ‘ تو تو کسی پر ظلم نہیں کرتا (پھر اور یا کے حق کا کیا ہوگا ؟ ) حکم ہوا : اور یا کی قبر پر جاؤ اور اس کو پکارو ‘ میں تمہاری آواز اس کو سنا دوں گا ‘ اس کے حق سے تم سبکدوش ہوجاؤ گے۔ حسب الحکم حضرت داؤد روانہ ہوگئے۔ کمبل کا لباس پہن لیا اور اور یا کی قبر کے پاس بیٹھ کر اس کو آواز دی ‘ اور یا نے کہا : کون ہے جس نے میرے مزے میں خلل ڈالا اور مجھے بیدار کردیا ؟ حضرت داؤد نے کہا : میں داؤد ہوں۔ اور یا نے کہا : اے اللہ کے نبی : آپ کو کیا چیز یہاں لائی ؟ حضرت داؤد نے کہا : میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ میری طرف سے جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا ‘ اس سے تم مجھے سبکدوش کر دو ۔ اور یا نے کہا : آپ کی طرف سے میرے ساتھ کیا برا سلوک ہوگیا ؟ حضرت داؤد نے کہا : میں نے تم کو قتل ہونے کی پیشکش کی۔ اور یا نے کہا : آپ تو میرے سامنے جنت لے آئے ‘ آپ میری طرف سے سبکدوش ہیں۔ اللہ نے حضرت داؤد کے پاس وحی بھیجی اور فرمایا : داؤد ! کیا تم نہیں جانتے کہ میں عادل حاکم ہوں ‘ کسی کی جانبداری میں فیصلہ نہیں کرتا۔ تم نے اس کو یہ کیوں نہیں بتایا کہ تم نے اس کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے۔ حضرت داؤد پھر اور یا کی قبر کی طرف لوٹے اور اس کو آواز دی ‘ اور یا نے جواب میں کہا : کون ہے جس نے میرے مزے میں خلل ڈالا ؟ حضرت داؤد نے کہا : میں داؤد ہوں۔ اور یا نے کہا : اے اللہ کے نبی ! کیا میں نے آپ کو معاف نہیں کردیا ؟ حضرت داؤد نے کہا : ہاں (یہ تو کیا تھا) لیکن میں نے تیرے ساتھ تیری بیوی کیلئے ایسا کیا تھا ‘ چناچہ میں نے اس سے نکاح کرلیا۔ اور یا خاموش ہوگیا ‘ پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ بار بار حضرت داؤد نے پکارا ‘ مگر اور یا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ حضرت داؤد اس کی قبر کے پاس سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے سر پر خاک ڈالنے لگے اور پکارنے لگے : داؤد کی ہلاکت ہوگی اس روز جبکہ انصاف کی ترازوئیں قائم کی جائیں گی ‘ پاک ہے نور کا خالق۔ ہلاکت ہوگی ‘ پھر بڑی ہلاکت ہوگی داؤد کی جبکہ اس کو ٹھوڑی پکڑ کر مظلوم کے حوالے کردیا جائے گا ‘ پاک ہے نور کا پیدا کرنے والا۔ ہلاکت ہوگی ‘ پھر بڑی ہلاکت ہوگی داؤد کی جبکہ منہ کے بل اس کو کھینچ کر دوزخ میں گنہگاروں کے ساتھ ڈال دیا جائے گا ‘ پاک ہے نور کو پیدا کرنے والا۔ آسمان سے ندا آئی : داؤد ! میں نے تیری خطا معاف کردی ‘ مجھے تیرے رونے پر رحم آگیا اور میں نے تیری دعا قبول کرلی اور تیری لغزش سے درگذر کی۔ حضرت داؤد نے عرض کیا : اے میرے رب ! یہ کیسے ہوگا ‘ صاحب حق نے تو مجھے معاف نہیں کیا۔ اللہ نے فرمایا : داؤد ! میں قیامت کے دن اتنا ثواب دوں گا کہ اس کی آنکھوں نے دیکھا ہوگا نہ اس کے کانوں سے سنا ہوگا ‘ پھر میں اس سے کہوں گا : تو میرے بندے داؤد سے راضی ہوگیا ؟ وہ کہے گا : اے میرے رب ! مجھے یہ ثواب کہاں سے مل گیا ‘ میرے اعمال تو یہاں تک پہنچانے کے قابل نہ تھے۔ میں کہوں گا : یہ میرے بندے داؤد کے (جرم کے) بدلے میں تجھے دیا گیا ہے ‘ اب میں تجھ سے اس کے جرم معاف کردینے کا خواستگار ہوں۔ آخر وہ میری وجہ سے تجھے معاف کر دے گا۔ حضرت داؤد نے کہا : اب میں نے جان لیا کہ تو نے مجھے معاف کردیا۔ خَرَّ رَاکِعًا داؤد سجدہ میں گرگئے۔ سجود کو رکوع کہا گیا ہے کیونکہ رکوع ‘ سجود کا مبدء ہے (یعنی رکوع کے بعد سجود ہوتا ہے) ۔ بعض اہل علم نے یہ مطلب بیان کیا کہ داؤد راکع ہونے کی حالت میں سجدہ میں گرگئے ‘ گویا انہوں نے نماز استغفار کی دو رکعتوں کیلئے احرام کیا تھا (نیت کی تھی اور تکبیر تحریمہ کہی تھی) پھر نماز میں ہی سجدہ میں گرگئے اور اللہ کی طرف رجوع کیا ‘ توبہ کی۔ علماء حنفیہ نے یہیں سے استدال کیا ہے کہ جس نے آیت سجدہ پڑھی ‘ پھر فوراً سجدۂ تلاوت کی نیت سے رکوع کرلیا تو اس کیلئے کافی ہے (سجدۂ تلاوت ہوگیا) کیونکہ آیت خَرَّ رَاکِعًا میں رکوع کو سجدہ پر اطلاق کیا گیا ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ تلاوت سجدہ میں سجدہ مقصود نہیں ہے بلکہ تعظیم خداوندی مقصود ہے اور تعظیم کا مفہوم سجدہ اور رکوع دونوں میں ایک جیسا ہے۔ ا اللہ کی تعظیم کی ضرورت یا تو اس وجہ سے ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کی تعظیم کی ہے ان کی پیروی ہوجائے ‘ یا جن لوگوں نے اللہ کے سامنے غرور کیا ہے ان کی مخالفت ہوجائے ‘ تقاضائے قیاس یہی ہے۔ امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد کہتے ہیں کہ سجدۂ تلاوت کی جگہ صرف رجوع کافی نہیں ہے (قیاس جلی کا تقاضا اگرچہ وہی ہے جو حنفیہ نے بیان کیا لیکن) استحسان (یعنی قیاس خفی) کا تقاضا اس کے خلاف ہے (استحسان چاہتا ہے کہ رکوع بجائے سجدہ کے کافی نہ ہو) کیونکہ سجدۂ تلاوت کی آیت پڑھنے سے جو تعظیم واجب ہوجاتی ہے وہ (عام بہمہ ہیئت تعظیم نہیں بلکہ) بصورت سجدہ واجب ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت تلاوت (نماز میں) پڑھنے کے بعد اگر فوراً رکوع نہیں کیا اور اس کے بعد دوسری آیت کی قرأت لمبی کرلی اور پھر رکوع تلاوت کیا تو کسی امام اور عالم کے نزدیک یہ رکوع خواہ بنیت سجود تلاوت کیا ہو ‘ کافی نہ ہوگا۔ اس مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں۔ رہی آیت تو اس میں راکِعًا کا ترجمہ ساجدًا کرنا اور رکوع سے سجدہ مراد لینا ناقابل تسلیم ہے۔ اور اگر مان بھی لیا جائے تو یہ صرف مجازی معنی ہوگا ‘ مجازی معنی مراد لینے سے یہ لازم نہیں کہ (ہر جگہ) مجاز حقیقت کی جگہ یا حقیقت مجاز کی جگہ لے لے۔ امام ابوحنیفہ نے اس جگہ قیاس جلی کو استحسان پر ترجیح دی ہے کیونکہ اس جگہ قیاس کی تاثیر قومی ہے کیونکہ قیاس کی تائید اور تقویت ایک صحیح حدیث سے بھی ہوتی ہے ‘ روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عمر نے نماز کے اندر (آیت سجدہ پڑھنے کے بعد) رکوع کو سجدہ کی جگہ کافی قرار دیا ہے اور کسی دوسرے صحابی کا اس سے اختلاف کسی روایت میں نہیں آیا (اس سے معلم ہوا کہ یہ اجماعی فیصلہ ہے) ۔ قیاس خفی (استحسان) کی قیاس جلی پر ترجیح صرف خفی (اور عمیق و دقیق) ہونے کی وجہ سے نہیں ہوتی ‘ نہ ظاہر کی خفی پر ترجیح محض ظاہر ہونے کی بناء پر ہوتی ہے بلکہ دوسرے معانی کی وجہ سے ہوتی ہے جو ظاہر یا خفی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ خفی کے مقابلے میں ظاہر متبادر کی ترجیح کچھ اوپر دس موقعوں پر ہوتی ہے جن کی تفصیل اصول فقہ میں بیان کردی گئی ہے ‘ البتہ استحسان کی ترجیح کے مواقع محدود نہیں ہیں۔ مسئلہ : آیت سجدہ کی تلاوت کے فوراً بعد اگر رکوع کرلیا اور رکوع کی شکل میں سجدۂ تلاوت ادا کرنے کی نیت نہیں کی ‘ پھر سجدہ کرلیا تو یہ نما زکا سجدہ ‘ سجدۂ تلاوت کے قائم مقام ہوجائے گا ‘ سجدۂ تلاوت کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو۔ اگر آیت سجدہ پڑھنے کے بعد ایک یا دو آیتیں اور پڑھ لیں ‘ پھر رکوع کیا اور رکوع کے بعد حسب معمول نماز کا سجدہ کیا تب بھی امام ابوحنیفہ کے نزدیک سجدۂ تلاوت ادا ہوجائے گا ‘ لیکن جمہور (یعنی باقی تینوں اماموں) کے نزدیک اس صورت میں سجدۂ تلاوت ‘ نماز کا سجدہ کرنے سے ادا نہ ہوگا۔ اگر آیت سجدہ کی تلاوت کے بعد دو سے زائد آیات پڑھ لیں ‘ پھر رکوع کیا اور سجدۂ صلاۃ کیا تو کسی امام کے نزدیک سجدۂ تلاوت ادا نہیں ہوگا خواہ سجدۂ تلاوت کی نیت ہی کی ہو۔ مسئلہ : امام ابوحنیفہ کے نزدیک جب تک نماز میں ہے ‘ سجدۂ تلاوت کی قضا واجب ہے۔ جمہور احناف کا یہی قول ہے۔ محمد بن سلمہ نے کہا : سجدۂ صلاۃ کا سجدۂ تلاوت کے قائم مقام بن جانا محض تقاضاء قیاس ہے ‘ استحسان اس کی اجازت نہیں دیتا ‘ استحسان تو کہتا ہے کہ نماز کا سجدہ بجائے خود فرض ہے ‘ وہ کسی دوسرے سجدہ کا قائم مقام نہیں ہوسکتا ‘ جیسے رمضان کا روزہ کسی دوسرے فوت شدہ روزے کا قائم مقام نہیں ‘ نہ کوئی فوت شدہ روزہ رمضان کے اندر کسی روزہ سے ادا ہوسکتا ہے۔ یہاں قیاس کو استحسان پر ترجیح حاصل ہے البتہ سجدۂ تلاوت کے قائم مقام رکوع کا ہوجانا تو یہ خلاف قیاس ہے اور یہ ظاہر ہے استحسان کی رو سے اس کے جواز کا قول کیا گیا ہے اور یہ قیاس خفی ہے۔ مسئلہ : سورت صٓ کی یہ آیت پڑھنے سے امام ابوحنیفہ کے نزدیک سجدۂ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔ امام مالک ہر سجدۂ تلاوت کو سنت کہتے ہیں (واجب نہیں مانتے) اسلئے ان کے نزدیک اس جگہ بھی سجدۂ تلاوت مسنون ہے۔ امام شافعی اور امام احمد کے مشہور قول میں یہ سجدۂ شکر ہے جو نماز کے اندر ناجائز ہے اور نماز سے باہر مستحب ہے۔ ابن جوزی نے کہا : یہ سجدۂ عزائم (واجب) سجدہ میں سے نہیں ہے۔ دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو سورة صٓ میں سجدہ کرتے دیکھا (مگر) یہ عزائم سجدوں میں سے نہیں ہے۔ رواہ ابن الجوزی من طریق الترمذی ‘ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ میں کہتا ہوں : بخاری نے صحیح میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : آ کا سجدہ واجب سجدوں میں سے نہیں ہے (مگر) میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ مجاہد نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس سے پوچھا : کیا میں سورت صٓ میں سجدہ کروں ؟ آپ نے پڑھا : وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ سُلَیْمَانَ.... فَبِھُدَاھُمُ اقْتَدِہْ تک اور فرمایا : تمہارے نبی کو حکم دیا گیا ہے کہ دوسرے انبیاء کی اقتداء کریں۔ حضرت ابن عباس کا یہ جواب دلالت کر رہا ہے کہ آپ کے نزدیک بھی اس جگہ سجدہ واجب ہے۔ یہ روایت ہمارے لئے حجت اور ہمارے قول کی دلیل ہے۔ رہا حضرت ابن عباس کا یہ قول کہ یہ واجب سجدہوں میں سے نہیں ہے تو یہ روایت موقوف ہے ‘ اس کے مقابل حضرت ابن عباس کا مؤخر الذکر قول مرفوع ہے جو رسول اللہ ﷺ کا عمل ہے۔ ابن جوزی نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے استدلال کیا ہے ‘ حضرت ابو سعید نے فرمایا : ایک روز رسول اللہ ﷺ نے ہم کو خطاب کیا (اور) سورت صٓ پڑھی۔ جب آیت سجدہ پر پہنچے تو (منبر سے) اتر کر سجدہ کیا ‘ ہم نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا۔ پھر (دوران خطبہ) آپ نے یہی سورت پڑھی ‘ جب آیت سجدہ پر پہنچے تو ہم سجدہ کرنے کیلئے منتشر ہوگئے۔ حضور ﷺ نے ہم کو (اس حالت میں) دیکھ کر فرمایا : یہ تو ایک نبی کی توبہ کا سجدہ ہے ‘ مگر میں تم کو دیکھ رہا ہوں کہ تم سجدہ کیلئے تیار ہو۔ پھر آپ نے منبر سے اتر کر سجدہ کیا اور ہم نے بھی سجدہ کیا۔ رواہ ابن الجوزی من طریق الدارقطنی۔ اس حدیث میں بھی ہمارے قول کے خلاف کوئی دلیل نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ اتنا مستفاد ہوتا ہے کہ عام سجدۂ تلاوت واجب نہیں (مسنون ہے) جیسا کہ جمہور کا مسلک ہے اور میرے نزدیک فتویٰ کیلئے یہی مناسب بھی ہے۔ احناف میں سے طحطاوی کا قول امام ابوحنیفہ کے قول کے خلاف ہے (طحاوی سجدۂ تلاوت کو مسنون کہتے ہیں) ۔ ہماری ایک دلیل حضرت ابوہریرہ کا بیان بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صٓ میں سجدہ کیا۔ رواہ ابن الجوزی من طریق الدارقطنی۔ حضرت ابو سعید کا قول بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صٓ میں سجدہ کیا۔ رواہ الطحاوی و ابوداؤد والحاکم۔ بیہقی نے بیان کیا ہے کہ متعدد صحابہ نے صٓ میں سجدہ کیا۔ حضرت سائب بن یزید کا بیان ہے : میں نے حضرت عمر کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی ‘ آپ نے سورت صٓ پڑھی اور اس میں (تلاوت کا) سجدہ کیا۔ نماز ختم ہونے کے بعد ایک شخص نے دریافت کیا : امیر المؤمنین ! کیا یہ واجب سجدوں میں سے ہے ؟ فرمایا : رسول اللہ ﷺ اس میں سجدہ کرتے تھے۔ ابو مریم راوی ہیں کہ حضرت عمر جب شام میں آئے تو حضرت داؤد کے عبادت خانہ میں بھی گئے ‘ وہاں آپ نے نماز پڑھی اور سورت صٓ پڑھی ‘ جب آیت سجدہ پر پہنچے تو سجدہ کیا۔ حضرت ابن عباس کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صٓ میں سجدہ کیا اور فرمایا : داؤد نے سجدۂ توبہ کیا تھا اور ہم سجدۂ شکر کرتے ہیں۔ رواہ النسائی من حدیث حجاج بن محمد عن عمر بن ذر موصولاً ورواہ الدارقطنی والشافعی فی الام عن ابن عیینۃ عن ایوب عن عکرمۃ عن ابن عباس عن النبی ﷺ ۔ دوسرا سلسلۂ روایت اس طرح ہے : عبد اللہ بن بزیع عن عمر بن ذر عن ذر عن سعید بن جبیر عن ابن عباس عن النبی ﷺ ۔ ابن بزیع کی وجہ سے یہ سلسلہ معلل مجروح ہے ‘ ابن السکن نے اس کی تصحیح کی ہے۔ اور ابن عدی نے غیر معتبر کہا ہے : کذا قال ابن حجر۔ ابن ہمام نے کہا : اس حدیث سے زائد سے زائد یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت داؤد کے متعلق اس سجدہ کی وجہ بیان کردی اور ہمارے لئے اس کی وجہ بیان کردی (حضرت داؤد کیلئے توبہ کے طور پر اور ہمارے لئے شکر کے طور پر) لیکن بطور شکر اس سجدہ کا ہونا اس کے واجب ہونے سے تو نہیں روکتا۔ تمام فرائض وواجبات کا وجوب اللہ کے پیہم اور مسلسل نعمتوں کا شکر ادا کرنے کیلئے ہی تو ہوا ہے۔ امام ابوحنیفہ نے مسند میں بروایت سماک بن حرب از عیاش اشعری از حضرت ابو موسیٰ اشعری بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صٓ میں سجدہ کیا۔ امام احمد نے بکر بن عبد اللہ مزنی کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت ابو سعید خدری نے بیان کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں سورة صٓ لکھ رہا ہوں۔ جب آیت سجدہ پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ دوات قلم اور ہر چیز جو میرے سامنے موجود تھی ‘ الٹ کر سربسجود ہوگئی۔ میں نے یہ خواب رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا لیکن آپ نے سجدہ نہیں کیا۔ ابن ہمام نے کہا : اس سے معلوم ہوا کہ صٓ میں دوسری آیات سجدہ کی طرح سجدہ کی پابندی کا حکم ہوگیا اور اسی پر استقرار رہا ‘ اس سے پہلے اس کی عزیمت نہ تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ سابق میں جو ابو سعید کی روایات ہیں ‘ وہ اس قصہ سے پہلے کی تھیں۔ فصل حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ ایک شخص خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے آی رات خواب میں دیکھا کہ میں ایک درخت کی آڑ میں نماز پڑھ رہا ہوں۔ جب میں نے سجدہ کیا تو میرے سجدہ کے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا اور میں نے سنا کہ سجدہ میں اس نے کہا : اے اللہ ! یہ سجدہ میرے لئے اپنے پاس باعث اجر بنا اور اس کی وجہ سے میرا گناہ ساقط فرما اور اپنے پاس میرے لئے اس کو جمع رکھ اور میری طرف سے اس کو قبول فرما جیسے تو نے اپنے بندے داؤد کا سجدہ قبول فرمایا تھا۔ میں نے خود سنا کہ (اس بیان کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے آیت سجدہ پڑھی ‘ پھر سجدہ کی اور اس شخص نے درخت کے جو الفاظ نقل کئے تھے ‘ وہی الفاظ حضور ﷺ نے بھی فرمائے۔ رواہ الترمذی ‘ ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ ابن حبان ‘ حاکم اور ابن ماجہ نے یہ حدیث بیان کی ہے ‘ لیکن ان حضرات نے (آخری عبارت یعنی) میری طرف سے اس سجدہ کو قبول فرما ‘ جیسے تو نے اپنے بندے داؤد کا سجدہ قبول فرمایا تھا ‘ نقل نہیں کی۔
Ayah 38:25

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو بخش دیا۔ اور بےشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے

فغفرنا لہ ذلک وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب پس ہم نے ان کا وہ قصور (جس کی انہوں نے معافی مانگی تھی) معاف کردیا اور بلاشبہ (اس مغفرت کے بعد) ان کیلئے ہماری بارگاہ میں (خاص) قرب اور خوبی انجام ہے۔ لَزُلْفٰی یعنی ناقابل بیان ‘ بےکیف قرب اور وہ اعلیٰ درجہ جو ندامت و استغفار کے بعد ان کو حاصل ہوا ‘ اگر ان سے وہ لغزش نہ ہوتی توہ وہ مرتبہ ان کو حاصل نہ ہوتا۔ بعض اہل علم کے نزدیک زلفٰی سے مراد ہے دنیاوی خیر کی زیادتی اور آخرت میں اعلیٰ درجہ۔ مَاٰب انجام ‘ نتیجہ جس کی طرف وہ لوٹیں گے۔ میں کہتا ہوں : جس راوی نے حضرت داؤد کے متعلق یہ بیان کیا کہ آپ اور یا کا قتل ہوجانا ہی چاہتے تھے تاکہ اس کی بیوی سے نکاح کرلیں اور اسی لئے انہوں نے بار بار میدان جنگ میں بھیجا ‘ یہ سراسر جھوٹ اور پیغمبر پر تہمت تراشی ہے اور آپ اس تہمت سے پاک تھے۔ قرآنی الفاظ سے تو اتنا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت داؤد نے اپنے لئے اس بات (یعنی غیر عورت سے نکاح) کی خواہش کی جو ان کو حاصل نہ تھی ‘ باوجودیکہ ان کو اس جیسی ننانوے (عورتیں) حاصل تھیں۔ اس پر تنبیہ کرنے کیلئے اللہ نے مقدمہ کی شکل دے کر فرشتوں کو بھیجا۔ حضرت داؤد فوراً متنبہ ہوگئے اور انہوں نے توبہ و استغفار کی۔ مفسر مدارک نے لکھا ہے کہ حضرت داؤد کے زمانہ والوں میں ایک رواج عام تھا اور ہمدردی کے طور پر لوگ ایسا کرلیا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص (یعنی دوست) دوسرے شخص سے درخواست کرتا کہ تو اپنی بیوی کو چھوڑ دے تاکہ میں اس سے نکاح کرلوں تو وہ ایسا کردیتا تھا ‘ جیسے انصار نے مہاجرین کی ہمدردی میں ایسا کیا تھا۔ اتفاقاً جب حضرت داؤد کی نظر اور یا کی بیوی پر پڑگئی اور وہ عورت آپ کو پسند آگئی تو حسب رواج آپ نے اور یا سے خواہش کی کہ وہ اپنی بی بی کو طلاق دے دے۔ اور یا کو حضرت داؤد کی درخواست مسترد کرنے سے شرم آئی اور اس نے طلاق دے دی اور حضرت داؤد نے اس کی مطلقہ سے نکاح کرلیا۔ میں کہتا ہوں کہ حضرت داؤد نے وہ طریقہ اختیار نہیں کیا جو ہمارے پیغمبر ﷺ نے اختیار کیا تھا۔ جب حضرت زید کی بیوی حضرت زینب کی جانب رسول اللہ ﷺ کا میلان خاطر ہوگیا تو آپ نے حضرت زید سے طلاق دینے کی درخواست نہیں کی ‘ بلکہ فرمایا : اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ اپنے پاس اپنی بیوی کو روکے رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ لیکن (بالآخر نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت زید نے طلاق دے دی اور) اللہ نے زینب سے آپ کا نکاح کرا دیا۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت داؤد پر اللہ کی طرف سے عتاب ہوا اور آپ نے توبہ و استغفار کی (جو قبول ہوگئی اور معافی مل گئی) قرآن مجید کے الفاظ بھی اس بیان کی تائید کر رہے ہیں ‘ کیونکہ جب مدعی نے دعویٰ کیا تو مدعیٰ علیہ کے خلاف اس نے یہ کہا کہ یہ کہتا ہے اَکْفِلْنِیْھَا۔ مدعی نے مدعیٰ علیہ پر یہ دعویٰ نہیں کیا کہ مجھے قتل کرنا چاہتا ہے اور حضرت داؤد نے بھی فیصلہ میں یہ کہا : قَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ لَعْجَتِکَ اِلٰی نِعَاجِہٖ (اور یہ نہیں فرمایا کہ اس نے جو تجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا ‘ یہ ظلم کیا) وا اللہ اعلم۔ بغوی نے لکھا ہے کہ وہب بن منبہ نے بیان کیا : جب اللہ نے حضرت داؤد کی توبہ قبول کرلی ‘ تب بھی آپ برابر اپنے قصور پر روتے رہے ‘ رات دن کسی وقت آپ کے آنسو نہ رکتے تھے۔ اس وقت آپ کی عمر ستر سال کی تھی ‘ اس قصور کے بعد آپ نے اپنی عمر کے چار حصے کر دئیے : ایک دن بنی اسرائیل کے معاملات کے فیصلہ کرنے کیلئے مقرر کیا ‘ ایک دن عورتوں کیلئے ‘ ایک دن جنگلوں اور پہاڑوں میں جا کر اللہ کی پاکی بیان کرنے (اور حمد و ثنا کرنے) کا اور ایک روز اپنے گھر کے اندر رہ کر نوحہ کرنے کا۔ آپ کے گھر کے اندر چار ہزار عبادت کے مقام تھے ‘ جب آپ گھر میں خلوت گزیں ہوجاتے تو (چار ہزار) تارک الدنیا درویش آپ کے پاس آکر جمع ہوجاتے ‘ پھر آپ ان درویشوں کے ساتھ نوحہ کرتے اور درویش بھی اس رونے میں آپ کے مددگار ہوتے۔ پھر جب جنگل میں پھرنے کا دن ہوتا تو آپ صحراء میں نکل جاتے اور (زیر و بم یعنی) لَے کے ساتھ اونچی آواز سے روتے ‘ پہاڑ اور پتھر اور چوپائے اور پرندے بھی آپ کے ساتھ روتے ‘ یہاں تک کہ ان سب کے رونے سے نالے بہہ نکلتے۔ پھر آپ دریا کے کنارے پر پہنچتے اور لے کے ساتھ اونچی آواز سے نوحہ کرتے اور مچھلیاں اور دریائی چوپائے اور دریائی پرندے اور درندے ‘ سب ہی آپ کے ساتھ رونے میں شریک ہوتے ‘ پھر آپ شام کے وقت وہاں سے لوٹتے تھے۔ گھر کے اندر نوحہ کا دن ہوتا تو ایک منادی ندا کرتا : آج داؤد کے گریہ و بکا کا دن ہے ‘ جو شخص اس رونے میں ان کی موافقت کرنا چاہے ‘ وہ آجائے۔ پھر عبادت گاہوں کے احاطے کے اندر آپ تین فرش بچھوا دیتے جن کے اندر کھجور کی چھال کے ریشے بھرے ہوتے تھے ‘ آپ فرش پر جا کر بیٹھ جاتے ‘ پھر چار ہزار درویش اپنی لمبی لمبی ٹوپیاں پہنے ‘ لاٹھیاں ہاتھوں میں لئے اندر آکر فرش پر بیٹھ جاتے۔ حضرت داؤد اپنے گناہ پر اونچی آواز سے رونا شروع کرتے اور درویش بھی آپ کے ساتھ اونچی آوازوں سے نوحہ کرتے۔ روتے روتے یہ حالت ہوجاتی کہ فرش آپ کے آنسوؤں میں ڈوب جاتا اور آپ اس میں گر کر چوزۂ مرغ کی طرح تڑپنے لگتے۔ اس کے بعد حضرت سلیمان آکر آپ کو (اپنے ہاتھوں میں) اٹھاتے تھے۔ حضرت داؤد دونوں ہاتھوں کا چلو بنا کر آنسوؤں کا پانی اس میں بھر کر اپنے چہرے پر مل لیتے اور کہتے : اے میرے رب ! میرا قصور معاف فرما دے۔ اگر حضرت داؤد کے رونے کا ساری دنیا کے رونے والوں سے موازنہ کیا جائے تو برابر ہی ہوگا۔ وہب کا بیان ہے : حضرت داؤد اوپر سر نہیں اٹھاتے تھے۔ جب فرشتے نے آپ سے کہا : داؤد ! تمہارا آغاز گناہ اور انجام مغفرت ہے ‘ اپنا سر اٹھاؤ ‘ اس وقت آپ نے سر اٹھایا۔ اس کے بعد زندگی بھر جب تک پانی میں آپ نے اپنے آنسوؤں کو شامل نہ کرلیا ‘ پانی نہ پیا اور جب تک کھانے کو اشکوں سے تر نہ کرلیا ‘ نہ کھایا۔ اوزاعی نے حدیث مرفوع بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : داؤد کی دونوں آنکھیں دو مشکیزوں کی طرح (ہر وقت) پانی ٹپکاتی ہی رہتی تھیں۔ چہرے پر آنسو بہنے سے ایسے گڑھے پڑگئے تھے جیسے زمین میں پانی (جاری ہونے) سے گڑھے پڑجاتے ہیں۔ وہب نے بیان کیا : جب اللہ نے حضرت داؤد کی توبہ قبول کرلی تو حضرت داؤد نے عرض کیا : اے میرے رب ! تو نے میرا قصور معاف کردیا ‘ لیکن یہ کیسے ہو کہ اپنے گناہ کو (کبھی) نہ بھولوں اور ہمیشہ معافی مانگتا رہوں اپنے لئے بھی اور دوسرے گناہگاروں کیلئے بھی۔ اس درخواست پر اللہ نے ان کے دائیں ہاتھ پر ان کا گناہ لکھ دیا (جس کا مٹنا ناممکن تھا) جب آپ ہاتھ سے کھانا یا پانی لیتے تو گناہ نظر کے سامنے آجاتا اور جب لوگوں کو خطاب کرنے کھڑے ہوتے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے تو لوگ گناہ کی تحریر دیکھنے آگے آجاتے اور جب دعا کرتے تو اس گناہ کو سامنے رکھ کر اپنے لئے استغفار سے پہلے دوسرے گناہگاروں کیلئے استغفار کرتے۔ قتادہ نے حسن کا بیان نقل کیا ہے کہ اس گناہ کے بعد حضرت داؤد ہمیشہ گناہگاروں کے ساتھ ہی بیٹھتے تھے اور فرماتے تھے : آؤ داؤد ! گناہگاروں کے پاس آؤ ‘ اور جب تک پانی میں اپنے آنسو شامل نہ کرلیتے ‘ کبھی پانی نہ پیتے تھے اور خشک روٹی کے ٹکڑے کو رو رو کر اشکوں سے بھگو لیتے ‘ پھر اس پر کچھ نمک اور خاک چھڑک کر کھاتے اور فرماتے : گناہگاروں کا یہی کھانا ہے۔ اس گناہ سے پہلے حضرت داؤد آدھی رات سوتے اور نصف ایام (یعنی ایک روز بیچ میں ناغہ کر کے) روزے رکھتے تھے ‘ لیکن اس گناہ کے بعد ہمیشہ ہی دن میں روزے رکھتے اور رات بھر نماز پڑھتے تھے۔ ثابت کا بیان ہے : جب حضرت داؤد اللہ کے عذاب کو یاد کرتے تو آپ کا جوڑ جوڑ ڈھیلا پڑجاتا کہ بغیر بندھن سے باندھنے کے ان میں قوت نہ آتی تھی اور جب اللہ کی رحمت کو یاد کرتے تو جوڑ اپنے اصلی ٹھکانوں پر آجاتے۔ اس قصہ میں یہ بھی (بعض روایات میں) آیا ہے کہ پہلے آپ کی تلاوت سننے کیلئے جنگلی جانور اور پرندے جمع ہوجاتے تھے ‘ لیکن جب آپ سے قصور سرزد ہوگیا تو چوپائے اور پرندے آپ کی آواز کو نہیں سنتے تھے اور کہتے تھے : آپ کا گناہ آپ کی آواز کی مٹھاس کو لے گیا۔
Ayah 38:26

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں بادشاہ بنایا ہے تو لوگوں میں انصاف کے فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے رستے سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ خدا کے رستے سے بھٹکتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب (تیار) ہے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا

یا داود (اور ہم نے کہا :) اے داؤد ! انا جعلنک خلیفۃ فی الارض ہم نے تم کو زمین پر (اپنا نائب یا گذشتہ انبیاء کا) جانشین بنا دیا ہے۔ 1 ؂ فاحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللہ سو لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے رہنا اور نفسانی جھکاؤ کے پیچھے نہ جانا ‘ وہ اللہ کے راستہ سے تم کو بہکا دے گا۔ بِالْحَقِّ یعنی اللہ کے حکم کے موافق۔ وَلاَ تَتَّبِعِ الْھَوٰی اور اس بات کے پیچھے نہ چل دینا ‘ جس کو تمہارا نفس چاہتا ہو۔ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یعنی جو دلائل اللہ نے حق (کو ثابت کرنے) کیلئے قائم کر دئیے ‘ نفس کی خواہش ان دلائل سے تم کو بھٹکا دے گی۔ آیت بتارہی ہے کہ میلان نفس پر چلنے والوں کی رائے میں خلل آجاتا ہے اور وہ اپنے اجتہاد میں بھی سیدھے راستہ سے بھٹک جاتے ہیں ‘ جیسا کہ مسلمانوں کے بہتر (72) فرقوں کا حال ہے۔ ان الذین یضلون عن سبیل اللہ لھم عذاب شدید بما نسوا یوم الحساب جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں ان کیلئے سخت عذاب ہوگا ‘ اس وجہ سے کہ وہ روز حساب کو بھولے رہے۔ (مَانَسُوْا میں مَا مصدری ہے) یعنی روز حساب کو بھولے رہنے کی وجہ سے ان پر سخت عذاب ہوگا ‘ کیونکہ روز حساب کی یاد کا تقاضا ہے کہ اللہ کی راہ پر قائم رہیں اور خواہشات نفس کی مخالفت کریں۔
Ayah 38:27

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کائنات ان میں ہے اس کو خالی از مصلحت نہیں پیدا کیا۔ یہ ان کا گمان ہے جو کافر ہیں۔ سو کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے

وما خلقنا السماء والارض وما بینھما باطلا اور ہم نے آسمان و زمین کو اور دونوں کے درمیان کی کائنات کو خالی از حکمت نہیں پیدا کیا۔ بَاطِلاً خالی از مصلحت و حکمت ‘ یا بیکار محض کھیل کے طور پر ‘ یا باطل سے مراد ہے : اتباع خواہشات جو حق کے مقابل ہے۔ اس ساری کائنات سے خالق کا وجود پر استدلال اور اس کے احکام کی تعمیل کی صورت میں اس کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنا حق ہے اور خواہشات نفس کا اتباع باطل ہے (پس اس کائنات کو اللہ نے اسلئے نہیں پیدا کیا کہ انسان اپنے نفس کے میلان و خواہش کا بندہ بن جائے ‘ نہ خالق کے وجود کو مانے نہ اس کے اوامرو نواہی کی پابندی کرے (بلکہ خواہش پرست بنا رہے) ۔ ذلک ظن الذین کفروا فویل للذین کفورا من النار یہ (کائنات کا خالی از حکمت ہونا) ان لوگوں کا خیال ہے جو کافر ہیں۔ سو (آخرت میں) کافروں کیلئے بڑی خرابی ہے ‘ یعنی دوزخ۔ کیونکہ ایسے لوگ قیامت کے منکر ہیں ‘ خالق کے فرمانبرداروں کے ثواب اور نافرمانوں کے عذاب کو نہیں مانتے اور اس انکار کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اس کائنات کی تخلیق کو خالی از حکمت قرار دیتے ہیں۔ فَوَیْلٌ پس بڑا عذاب ہے۔ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا اس فقرہ میں کفروا کی دوبارہ صراحت کافروں کی مذمت اور برائی کو ظاہر کرنے کیلئے کی گئی۔ مِنَ النَّار میں مِن سببیہ ہے۔
Ayah 38:28

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے۔ کیا ان کو ہم ان کی طرح کر دیں گے جو ملک میں فساد کرتے ہیں۔ یا پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کر دیں گے

ام نجعل الذین امنوا وعملوا الصلحت کالمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کالفجار ہاں تو کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے ‘ ان کے برابر کردیں گے جو دنیا میں تباہی پھیلانے والے ہیں ‘ یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کردیں گے ؟ اَمْ نَجْعَلُ میں اَمْ بمعنی بَلْ ہے۔ عالم کی تخلیق کو اگر بےکار مانا جائے تو یہ تسلیم کرنا لازم ہوجائے گا کہ کافر و مؤمن میں کوئی فرق نہیں ‘ دونوں برابر ہیں۔ اس مساوات کی نفی کیلئے انکاری سوال کیا گیا اور بَلْ کے ذریعہ سے آسمان و زمین کے بیکار پیدا کرنے سے اعراض مستفاد ہوگیا۔ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ میں سوال انکاری ہے۔ پہلے مؤمنوں اور کافروں کی مسافات کی نفی کی گئی تھی ‘ اس جملہ میں مؤمنوں کے خاص درجہ والے لوگوں اور کفر کے اسفل درجہ میں گرنے والے لوگوں یعنی فاجروں کے درمیان برابر ہونے کا خصوصی انکار کیا۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس انکار کو انکار اول کی تکرار قرار دیا جائے اور تقویٰ و فجور کو عدم تسویہ کی علت کہا جائے۔ اس آیت میں وجوب حشر کی ایک عقلی برہان ہے جو دلالت کر رہی ہے کہ اقرار حشر لازم ہے ‘ کیونکہ اس زندگی میں دونوں فریقوں کے درمیان برابری نہیں بلکہ تقاضاء حکمت کے خلاف اس دنیا میں کافروں کو مؤمنوں پر (مال ‘ دولت ‘ اولاد وغیرہ کے لحاظ سے) عموماً برتری حاصل ہے ‘ اسلئے ضروری ہے کہ کوئی دوسری زندگی میں ہر فریق کو اس کی (فکری و عملی) حالت کے موافق بدلہ ملے۔ مقاتل نے کہا : کفار قریش کہا کرتے تھے کہ آخرت میں جو بھلائی تم کو ملے گی ‘ ہم کو بھی ملے گی۔ اس قول کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 38:29

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

(یہ) کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں

کتب انزلنہ الیک مبارک لیدبروا ایتہ ولیتذکر اولوا الالباب یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے آپ کے پاس اتاری ہے ‘ تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور سمجھ دار لوگ نصیحت پذیر ہوں۔ کِتٰبٌیعنی یہ قرآن اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی کتاب ہے۔ مبارک یعنی اس کے اندر خیر اور منفعت کثیر ہے۔ لیدبّروا تاکہ لوگ غور کریں ‘ یعنی آپ اور آپ کی امت کے علماء غور کریں ‘ اس کے ظاہر کو پڑھیں اور صحیح تاویلات کو سمجھیں اور صحیح طور پر معانی کا استنباط کریں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ تمام اہل دانش غور کریں اور سمجھیں کہ اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے ‘ انسان کی ساختہ پرداختہ ہونے کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ حسن نے کہا : تدبر آیات سے مراد ہے آیات کا اتباع کرنا (اور ان کے احکام پر چلنا) ۔ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَاب یعنی صحیح دانش اور سلیم عقل والے نصیحت اندوز ہوں۔ خارجی دلائل کی روشنی میں معرفت خداوندی کے حصول پر سلیم عقل والوں کو فطری طور پر قدرت حاصل ہے ‘ صحیح دانش والوں کی عقلوں میں دلائل سے معرفت کا حصول مذکور ہے۔ اللہ کی بھیجی ہوئی کتابوں سے ان افکار و احکام کا علم حاصل ہوجاتا ہے جو تنہا عقل کی رسائی اور دائرۂ دانش سے خارج ہیں اور بغیر شرع کے صرف عقل اپنی فکری جو لانی سے وہاں تک نہیں پہنچ سکتی ‘ اسلئے ہوسکتا ہے کہ آیت مذکور میں تذکّر سے مراد ہو اس کتاب کے ذریعے سے اس معرفت کا استحضار اور پیش نظر لانا جو انسانی عقل میں مرکوز و مخفی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تدبر سے معلوم اول کا تعلق ہو اور (بار بار یاد رکھنا یعنی) تذکر سے معلوم دوم کا۔
Ayah 38:30

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے۔ بہت خوب بندے (تھے اور) وہ (خدا کی طرف) رجوع کرنے والے تھے

ووھبنا لداود سلیمن نعم العبد انہ اواب اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا۔ وہ بہت اچھا بندہ تھا۔ بلاشبہ وہ اللہ کی طرف بہت رجوع ہونے والا تھا۔ اِنَّہٗ اَوَّابٌ یہ پہلے کلام کی علت ہے ‘ یعنی سلیمان اللہ کے اچھے بندے اسلئے تھے کہ وہ توبہ کی صورت میں یا تسبیح کی شکل میں ‘ بہرطورا اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے۔
Ayah 38:31

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

جب ان کے سامنے شام کو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے

اذ عرض علیہ بالعشی الصفنت الجیاد یاد کرو کہ جب پچھلے دن میں اس کے سامنے اصیل اور عمدہ گھوڑے لائے گئے (یعنی وہ گھوڑوں کے ملاحظہ میں مشغول ہوئے) ۔ بِالْعَشِیِّ دوپہر کے بعد ‘ یعنی پچھلا دن۔ الصّٰفِنٰتُ ‘ صافن اس گھوڑے کو کہتے ہیں جو تین ٹانگوں پر کھڑا ہوتا ہے اور چوتھی ٹانگ کے سم کی فقط ایک نوک (اس پر زور دئیے بغیر) زمین سے لگی ہوتی ہے ‘ یہ (گھوڑے کے اصیل ہونے کی علامت ہے اور) اچھی صفت مانی جاتی ہے۔ الجیاد ‘ جواد کی یا جود کی جمع ہے ‘ تیز رفتار گھوڑے کو کہتے ہیں۔ بعض کے نزدیک جیاد ‘ جید کی جمع ہے (کھرا گھوڑا) حضرت ابن عباس نے فرمایا : سب سے آگے بڑھ جانے والے گھوڑے مراد ہیں۔ بعض نے کہا : آیت میں گھوڑوں کی دونوں اچھی صفتیں بیان کی گئی ہیں : صافن ہونا اور جودت۔ جب گھوڑا کھڑا ہو تو اس کی صفت صافن ہونا ہے کہ سکون و اطمینان کے ساتھ تین ٹانگوں پر کھڑا ہو اور جب چل رہا ہو تو سبک رفتار اور تیز رو ہو۔ یہ جودت کی نشانی ہے۔ کلبی نے بیان کیا کہ حضرت سلیمان نے دمشق اور نصیبین والوں سے جہاد کیا اور وہاں سے ایک ہزار گھوڑے آپ کے ہاتھ لگے۔ مقاتل نے کہا : حضرت داؤد کی میراث میں حضرت سلیمان کو ہزار گھوڑے ملے تھے۔ یہ قول غلط ہے ‘ حدیث کے خلاف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم گروہ انبیاء کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے ‘ ہمارا چھوڑا ہوا مال خیرات ہوتا ہے۔ عبد بن حمید ‘ فریابی ‘ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابراہیم تیمی کے حوالہ سے بیان کیا کہ وہ بیس ہزار گھوڑے تھے اور (پرندوں کی طرح) بازوؤں والے تھے ‘ ان کو حضرت سلیمان نے ذبح کرا دیا تھا۔ عبد بن حمید اور ابن المنذر نے بروایت عوف بیان کیا کہ حسن نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جن گھوڑوں کو حضرت سلیمان نے ذبح کیا تھا ‘ وہ (پرندوں کی طرح) پروں والے تھے اور حضرت سلیمان کیلئے سمندر سے برآمد کئے گئے تھے۔ آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کسی کو دریائی گھوڑے نہیں ملے۔ بغوی نے بروایت عکرمہ بیان کیا کہ وہ بیس ہزار پر دار گھوڑے تھے۔ اہل روایت کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان ظہر کی نماز کے بعد اپنی کرسی پر بیٹھے ‘ (قطار در قطار) گھوڑے آپ کے ملاحظہ میں لائے جانے لگے۔ نو سو گھوڑے پیش ہوچکے تو نماز عصر کا آپ کو خیال ہوا ‘ دیکھا تو سورج غروب ہوچکا تھا اور عصر کی نماز فوت ہوگئی اور ڈر کے مارے کسی نے آپ کو اطلاع نہیں دی۔ آپ کو اس کا بڑا رنج ہوا۔
Ayah 38:32

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی۔ یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا

فقال انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی پھر اس نے کہا : (افسوس) میں اس مال کی محبت میں (لگ کر) اپنے رب کی یاد سے غافل ہوگیا۔ الْخَیْرِکثیر مال ‘ مراد وہ گھوڑے جن کے معائنہ میں مشغول رہنے کی وجہ سے عصر کی نماز فوت ہوگئی تھی ‘ یا یوں کہا جائے کہ خیر کا اطلاق خیل (گھوڑوں) پر (اصالۃً اور لغۃً ) عربی میں کیا ہی جاتا ہے ‘ عرب راء کی جگہ لام اور لام کی جگہ راء بول دیتے ہیں جیسے اِخْتَلْتُْ کی جگہ اِخْتَرْتُ (میں نے اس کو دھوکا دیا) کہہ دیتے ہیں۔ گھوڑوں کو خیر کہنے کی یہ وجہ بھی بیان کی گئی ہے کہ گھوڑوں کی پیشانیوں سے خیر وابستہ ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : روز قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں سے خیر وابستہ رہے گی ‘ ثواب اور مال غنیمت۔ رواہ الشیخان فی صحیحہما عن صحابۃٍ عدیدۃ۔ عربی کا اصل ضابطہ یہ ہے کہ جب احببت کا معنی اٰثرت (میں نے ترجیح دی) لیا جائے تو اس کے بعد علٰی آنا چاہئے (عَنْ نہیں آنا چاہئے) اور عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ کی بجائے علٰی ذِکْرِ رَبِّیْہونا چاہئے) لیکن اس جگہ چونکہ ترجیح دینے کے اندر اعراض کا مفہوم بھی ہے ‘ اسلئے علیٰ کی جگہ عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ کہا گیا۔ بعض اہل لغت نے کہا : اَحْبَبْتُکا معنی ہے بیٹھ رہا اور حُبّ الخیرمفعول لہ ہے اور بیٹھے رہنے کی علت ہے (یعنی گھوڑوں کی محبت کی وجہ سے بیٹھا رہا) ۔ حتی تو ارت بالحجاب یہاں تک کہ آفتاب (مغرب کے) پردہ میں چھپ گیا۔ عشیکا لفظ چونکہ آفتاب پر (ضمناً یا التزاماً ) دلالت کر رہا تھا ‘ اسلئے (لفظ شمس کا ذکر کرنے کے بغیر) تَوَارَتْکی ضمیر آفتاب کی طرف راجع کردی گئی۔ بغوی نے لکھا ہے : لوگ کہتے ہیں کہ حجاب ایک پہاڑ ہے جو کوہ قاف سے پرے ایک سال کی مسافت پر ہے ‘ سورج اس کی آڑ میں غروب ہوتا ہے۔
Ayah 38:33

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

(بولے کہ) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ۔ پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے

ردوھا علی گھوڑوں کو میرے پاس واپس لاؤ۔ فطفق مسحا بالسوق والاعناق (گھوڑے واپس آگئے) تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر (تلوار سے ہاتھ) صاف کرنا شروع کردیا۔ یعنی حضرت سلیمان نے تلوار سے گھوڑوں کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹنی شروع کردیں۔ مَسَحَ عَلٰی وَرِیْدِہٖ اس کی گردن مار دی۔ حضرت ابن عباس ‘ حسن ‘ قتادہ ‘ مقاتل اور اکثر اہل تفسیر نے یہی معنی بیان کئے ہیں۔ ابن المنذر نے بطریق ابن جریج بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : حضرت سلیمان نے تلوار سے ان کی پنڈلیاں کاٹ دیں۔ طبرانی نے اولاسط میں اور اسماعیل نے معجم میں اور ابن مردویہ نے عمدہ سند کے ساتھ حضرت ابی بن کعب کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تلوار سے ان کی پنڈلیاں اور گردنیں باذن خدا کاٹ دیں۔ اس عمل کا باعث تھا ذکر خدا سے غافل رہ جانے کے گناہ سے توبہ کرنا ‘ قرب خدا کے حصول کی طلب اور مرضی رب پالینے کا جذبہ۔ حسن نے کہا : جب حضرت سلیمان نے گھوڑوں کو قتل کردیا تو ان کے عوض اللہ نے آپ کو ایسی سواری عنایت کی جو گھوڑوں سے بہتر اور ان سے زیادہ تیزرفتار تھی ‘ یعنی ہوا کو آپ کا تابع حکم بنا دیا۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ حضرت سلیمان نے گھوڑوں کو ذبح کر کے ان کا گوشت خیرات کردیا۔ گھوڑے کا گوشت ان کی شریعت میں حلال تھا ‘ ہماری شریعت میں بقول جمہور حلال ہے ‘ صرف امام ابوحنیفہ کے نزدیک مکروہ ہے۔ زہری نے حضرت علی کا ایک قول نقل کیا ہے کہ حضرت سلیمان نے جو رُدُّوْھَا عَلَیَّکہا تھا ‘ وہ فرشتوں سے کہا تھا ‘ یعنی آفتاب پر مؤکل جو ملائکہ تھے ‘ بحکم خدا ان سے کہا تھا کہ سورج کو واپس لوٹا لاؤ کہ میں عصر کی نماز پڑھ لوں۔ چناچہ فرشتے سورج کو واپس لوٹا لائے اور آپ نے عصر کی نماز بروقت پڑھ لی۔ زہری اور ابن کیسان نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ‘ ان پر پڑا ہوا غبار صاف کرنے کیلئے محبت اور پیار سے ہاتھ پھیرنے لگے۔ بغوی نے لکھا ہے : یہ تفسیر ضعیف ہے ‘ مشہور پہلا ہی قول ہے۔ میں کہتا ہوں کہ حضرت سلیمان نے بطور افسوس کہا تھا : اِنِّیْٓ اَحْبَبْتَ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ حَتّٰی تَوَارَتْ بالْحِجَابِ آپ کا یہ قول زہری کی تفسیر کو غلط ثابت کر رہا ہے۔