Ayah 38:34ولقد فتنا سلیمن والقینا علی کرسیہ جسدا ثم اناب اور ہم نے (ایک اور طرح سے بھی) سلیمان کی
جانچ کی اور اس کی کرسی پر ایک (ادھورا) دھڑ لا ڈالا ‘ پھر اس نے اللہ کی طرف رجوع کیا۔
فَتَنَّاہم نے جانچ کی ‘ امتحان میں مبتلا کیا۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (ایک روز) حضرت سلیمان نے کہا کہ آج رات میں ننانوے عورتوں (اور ایک روایت میں ننانوے کی جگہ سو (100) کا لفظ آیا ہے) کا چکر لگاؤں گا (یعنی سب سے قربت کروں گا) جن میں سے ہر عورت کے بطن سے ایک شہسوار راہ خدا کا مجاہد پیدا ہوگا۔ فرشتے نے کہا : انشاء اللہ بھی کہو۔ لیکن حضرت سلیمان کو خیال نہیں رہا اور انہوں نے انشاء اللہ نہیں کیا ‘ چناچہ سب عورتوں کا آپ نے چکر لگایا اور سوائے ایک کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس ایک کے بھی ادھورا دھڑ پیدا ہوا۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ! اگر وہ انشاء اللہ کہہ دیتے تو سب سے شہوار اللہ کی راہ کے مجاہد پیدا ہوتے (متفق علیہ) ۔
دایہ نے وہ دھڑ لا کر حضرت سلیمان کی کرسی پر ڈال دیا۔ آیت مذکورہ کا یہی مطلب ہے۔
ثُمَّ اَنَاب یعنی آئندہ انشاء اللہ نہ کہنے سے انہوں نے رجوع کرلیا (اور عہد کرلیا کہ آئندہ ضرور انشاء اللہ کہا کروں گا) کذا قال طاؤس۔ ہم نے اوپر جو تفسیر کی وہ بہت زیادہ قوی ہے ‘ کیونکہ صحیحین کی حدث میں یہی آیا ہے۔ جَسَدًا اسی جسم کو کہتے ہیں جس کے اندر جان نہ ہو ‘ تفسیر مذکور کی بناء پر یہ مفہوم جسد بھی بلاشبہ صادق آ رہا ہے ‘ پھر انبیاء کی پاکدامنی بھی داغدار نہیں ہوتی۔ لیکن طبرانی نے اولاوسط میں اور ابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان کا ایک بیٹا پیدا ہوا۔ جنات نے کہا : اگر یہ بیٹا زندہ رہے گا تو ہم اس جبری فرمانبرداری سے کبھی نجات نہیں پائیں گے۔ ہمارے لئے یہ ایک راستہ ہے کہ یا تو اس کو قتل کردیں یا اس کو پاگل بنا دیں۔ حضرت سلیمان کو جنات کی اس بات کی اطلاع مل گئی ‘ آپ نے جنات کے فریب کے ڈر سے بچہ کو لے جا کر بادل میں چھپا دیا ‘ پھر آپ کو بچہ کی کوئی خبر بھی اس وقت تک نہ ہوئی جب تک کہ کرسی پر اس کو مردہ حالت میں پڑا ہوا نہ پایا۔ یہ حضرت سلیمان کو ان کی لغزش پر تنبیہ تھی کہ انہوں نے رب پر بھروسہ نہیں کیا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ محمد بن اسحاق نے وہب بن منبہ کی روایت سے بیان کیا ‘ وہب نے کہا : حضرت سلیمان نے سنا کہ سمندر میں کوئی جزیرہ ہے جس کا نام صیدون ہے ‘ وہاں کا ایک بڑا بادشاہ ہے۔ جزیرہ کا محل وقوع چونکہ سمندر میں ہے ‘ اسلئے کوئی شخص صیدون تک نہیں پہنچتا (اور بادشاہ آزاد ہے ‘ کسی کا تابع نہیں) اللہ نے حضرت سلیمان کو وہ حکومت عطا کی تھی کہ ان کی حکومت سے بحر و بر میں کوئی چیز باہر نہیں تھی۔ آپ ہوا پر سوار ہو کر ہر جگہ پہنچ جاتے تھے ‘ یہ اطلاع ملنے کے بعد آپ ہوا پر سوار ہو کر اس شہر کی طرف روانہ ہوگئے اور جن و انس کے لشکر سمیت وہاں پہنچ کر اتر گئے ‘ بادشاہ کو قتل کیا اور جزیرہ میں جو کچھ تھا ‘ اس پر بطور مال غنیمت قبضہ کرلیا۔ من جملہ دیگر اشیاء کے آپ کو وہاں بادشاہ کی ایک لڑکی بھی ملی جس کو جرادہ کہا جاتا تھا ‘ ایسی حسین و جمیل لڑکی کسی نے نہیں دیکھی۔ آپ نے اپنے لئے اس کا انتخاب کرلیا۔ اول اس کو دعوت اسلام دی ‘ وہ ناگواری خاطر کے ساتھ مسلمان ہوگئی ‘ آپ نے اس سے نکاح کرلیا۔ آپ کو اس سے اتنی محبت ہوگئی کہ اور کسی بیوی سے نہیں تھی۔ وہ لڑکی حضرت سلیمان کے پاس اتنے مرتبہ پر پہنچنے کے بعد بھی ہمیشہ غمگین رہتی ‘ اس کا آنسو نہیں رکتا تھا۔ حضرت سلیمان کیلئے یہ بات تکلیف دہ تھی ‘ آپ نے اس سے فرمایا : اس کی کیا وجہ کہ تیرا غم دور نہیں ہوتا اور آنسو نہیں تھمتے ؟ کہنے لگی : مجھے اپنے باپ کی ‘ اس کی حکومت کی اور اس پر جو مصیبت پڑی ‘ اس کی یاد آتی ہے جو مجھے غمگین بنائے رکھتی ہے۔ حضرت سلیمان نے فرمایا : اس کے عوض تو اللہ نے تجھے وہ ملک عطا کردیا جو اس کے ملک سے بڑا ہے اور ایسی حکومت عنایت کردی جو اس کی حکومت سے عظیم ہے اور مسلمان ہوجانے کی تجھے توفیق دی جو سب سے بہتر (نعمت) ہے۔
وہ کہنے لگی : ہاں ! یہ تو سب کچھ ہے ‘ پھر بھی مجھے جب باپ کی یاد آتی ہے تو وہ غم چھا جاتا ہے ‘ جو آپ دیکھتے ہی ہیں۔ اگر آپ حکم دے کر جنات سے اس مکان کے اندر جس میں میں رہتی ہوں ‘ میرے باپ کی مورتی بنوا دیں اور میں صبح و شام اس کو دیکھتی رہوں تو امید ہے کہ میرا غم دور ہوجائے گا اور میرے دل کو کچھ تسلی ہوگی۔
حضرت سلیمان نے جنات کو حکم دیا کہ اس کے باپ کی ایک مورت اس کے گھر کے اندر بنا دو ‘ کوئی فرق نہ ہو ‘ جنات نے ایسی مورتی بنا دی۔ اس عورت نے دیکھ لیا کہ بعینہ یہ اس کا باپ ہے ‘ فقط اتنی بات ہے کہ اس میں جان نہیں ہے۔ پھر اس کو کرتہ پہنایا ‘ صافہ باندھا اور چادر اڑھا دی اور ویسے ہی کپڑے پہنا دئیے جو وہ (اپنی زندگی میں) پہنا کرتا تھا۔ حضرت سلیمان جب اس کے گھر سے باہر نکل جاتے تو وہ صبح و شام اپنی لونڈیوں اور باندیوں کو ساتھ لے کر مورتی کے پاس جاتی اور جیسا باپ کی زندگی میں اس کا دستور تھا ‘ اسی کے مطابق مورتی کو خود بھی سجدہ کرتی اور باندیاں بھی اس کے ساتھ سجدہ کرتیں۔ چالیس روز تک حضرت سلیمان کو اس کا کوئی علم نہ ہوا۔ آصف بن برخیا کو اس کی اطلاع مل گئی ‘ آپ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گہرے دوست تھے ‘ حضرت سلیمان کے دروازے آپ کیلئے ہر وقت کھلے رہتے تھے ‘ جس وقت چاہتے ‘ حضرت سلیمان کے جس گھر میں چاہتے داخل ہوجاتے ‘ کوئی آپ کو لوٹا نہیں سکتا تھا ‘ حضرت سلیمان گھر میں موجود ہوں یا نہ ہوں۔ ایک روز حضرت سلیمان سے انہوں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میں بوڑھا ہوگیا ہوں ‘ ہڈیاں ضعیف ہوگئیں ‘ عمر ختم ہونے کے قریب آگئی ‘ جانے کا وقت آگیا۔ اب میں چاہتا ہوں کہ مرنے سے پہلے کسی ایک جگہ کھڑا ہو کر اللہ کے پیغمبروں کا تذکرہ کروں اور اپنی معلومات کے مطابق ان کے اوصاف بیان کروں اور انبیاء کے متعلق جو بعض باتیں لوگ نہیں جانتے ہیں ‘ ان کو بتاؤں۔ حضرت سلیمان نے فرمایا : (جیسا چاہو) کرو۔ حضرت سلیمان نے آصف کی تقریر سننے کیلئے لوگوں کو جمع کردیا ‘ آصف تقریر کرنے کھڑے ہوگئے۔ گذشتہ انبیاء کا ذکر کیا ‘ ہر نبی کے خصوصی اوصاف جو اس میں تھے ‘ بیان کئے اور جو فضیلت اللہ نے اس کو (خاص طور پر) دی تھی ‘ وہ ظاہر کی۔ تقریر کرتے کرتے حضرت سلیمان کے تذکرے پر آئے تو کہا : آپ بچپن میں بڑے عقلمند ‘ حلیم ‘ بڑے پرہیزگار اور بڑے پر حکمت حکم دینے والے تھے اور چھوٹی عمر میں ہر امر مکروہ سے بہت دور تھے۔ یہ کہہ کر تقریر ختم کردی۔ حضرت سلیمان نے فرمایا : آصف ! تم نے گذشتہ انبیاء کا تذکرہ کیا اور ہر عمر کے ان کے اچھے اوصاف بیان کئے ‘ لیکن جب میرا تذکرہ کیا تو چھوٹی عمر کے میرے اچھے اوصاف تم نے بیان کئے اور بڑے ہونے کے بعد جو میرے اوصاف تھے ‘ ان کی طرف سے خاموشی اختیار کرلی۔ آخر بڑا ہو کر میں نے کونسی نئی بات کرلی ؟ حقیقت میں حضرت سلیمان نے آصف کی تقریر کو برا محسوس کیا ‘ اتنا کہ غصہ سے بھر گئے اور گھر جا کر آصف کو بلوا کر یہ بات کہی ‘ آصف نے جواب دیا : ایک عورت کی محبت کی وجہ سے آپ کے گھر کے اندر چالیس روز سے صبح کو اللہ کے سوا دوسرے کی پوجا ہو رہی ہے۔ حضرت سلیمان نے کہا : کیا میرے گھر میں ؟ آصف نے کہا : (ہاں) آپ کے گھر میں۔ حضرت سلیمان نے کہا : اِنَّا لِلّٰہ وانَّا الیہ راجعون میں تو جانتا ہی تھا کہ تم نے جو کچھ کہا ‘ وہ بےوجہ نہیں کہا ‘ یقیناً تم کو کوئی اطلاع ملی ہے۔ پھر آپ اس عورت کے گھر میں گئے ‘ بت کو توڑا ‘ عورت کو سخت سزا دی اور اپنا لباس اتار کر دوسرے کپڑے پہنے جن کا سوت صرف دوشیزہ (نابالغ ‘ معصوم) لڑکیوں نے کاتا تھا اور دوشیزہ لڑکیوں نے ہی بنا تھا ‘ کسی بالغہ نے چھوا بھی نہ تھا۔ یہ لباس پہن کر تنہا جنگل کو نکل گئے ‘ وہاں چولھے کی راکھ کا بستر بچھوایا ‘ پھر توبہ کرنے کیلئے اس خاکی بستر پر بیٹھے اور کپڑوں سمیت اس پر لوٹے ‘ اللہ کے سامنے گڑگڑائے اور زاری کی ‘ دعا کرتے رہے ‘ روتے رہے اور جو کچھ گھر میں ہوا ‘ اس کی معافی مانگتے رہے۔ شام تک اسی میں مشغول رہے ‘ شام ہوگئی تو گھر واپس آگئے۔
آپ کی ایک ام ولد (وہ باندی جو بچہ کی ماں ہوگئی ‘ آقا کی کوئی اولاد اس کے پیٹ سے ہوگئی) تھی جس کو امینہ کہا جاتا تھا ‘ آپ جب بیت الخلاء جاتے یا کسی بی بی سے قربت صنفی کرنے کا ارادہ کرتے تو اپنی مہر امینہ کے پاس رکھ دیتے تھے اور جب تک ضرورت سے فراغت کے بعد بالکل پاک نہ ہوجاتے ‘ مہر کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے ‘ اسی مہر سے آپ کی حکومت وابستہ تھی۔ ایک روز امینہ کے پاس مہر رکھ کر بیت الخلاء کو چلے گئے ‘ آپ کے جانے کے بعد سمندری شیطان جس کا نام صخر تھا ‘ حضرت سلیمان کی شکل میں امینہ کے پاس آیا اور مہر طلب کی۔ امینہ نے اس شکل میں حضرت سلیمان کی شکل سے کوئی غیریت محسوس نہیں کی اور سلیمان سمجھ کر مہر دے دی۔ صخر نے وہ مہر اپنے ہاتھ میں پہن لی اور باہر جا کر حضرت سلیمان کے تخت پر بیٹھ گیا اور سارے پرندے ‘ جنات اور انسان اس کے پاس آکر (حسب معمول) جمع ہوگئے۔ حضرت سلیمان بیت الخلاء سے نکل کر امینہ کے پاس پہنچے اور کہا : امینہ ! میری انگوٹھی لاؤ۔ چونکہ ہر دیکھنے والے کو آپ کی حالت اور ہیئت بدلی ہوئی دکھائی دیتی ‘ اسلئے امینہ بھی نہ پہچان سکی اور بولی : تو کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں سلیمان بن داؤد ہوں۔ امینہ نے کہا : تو جھوٹا ہے۔ ابھی سلیمان میرے پاس آکر مہر لے کر گئے ہیں اور تخت حکومت پر اس وقت بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضرت سلیمان سمجھ گئے کہ یہ گناہ کا وبال آپہنچا۔ آپ بنی اسرائیل کے گھروں پر جاتے اور خانہ بخانہ چکر لگاتے اور کہتے کہ میں سلیمان بن داؤد ہوں ‘ لیکن لوگ (دیوانہ سمجھ کر) آپ کے اوپر مٹی ڈالتے اور گالیاں دیتے اور کہتے : اس دیوانہ کو ذرا دیکھو ‘ کیا کہتا ہے ؟ اپنے کو سلیمان سمجھتا ہے۔ حضرت سلیمان نے یہ حالات دیکھے تو سمندر کی طرف چلے گئے اور دریا کے ٹھیکیداروں کی مچھلیاں اپنے اوپر لاد کر بازار تک پہنچاتے اور صاحب مال آپ کو روزانہ دو مچھلیاں مزدوری میں دے دیتا تھا۔ شام ہوتی تو آپ ایک مچھلی فروخت کر کے روٹیاں لے لیتے اور دوسری مچھلی بھون لیتے۔ چالیس روز اسی حالت میں رہے ‘ چالیس ہی دنوں تک آپ کے گھر کے اندر بت کی پوجا ہوئی تھی۔
آصف اور دوسرے علماء بنی اسرائیل نے دشمن خدا کے احکام کو اس چلہ میں پہلے کے مقابلہ میں کچھ بدلا ہوا محسوس کیا ‘ اسلئے آصف نے کہا : اے گروہ بنی اسرائیل ! کیا تم نے بھی ابن داؤد کے احکام کو کچھ پہلے کے مقابلے میں بدلا ہوا محسوس کیا جیسا میں محسوس کر رہا ہوں ؟ علماء نے کہا : جی ہاں۔ آصف نے کہا : تو اتنا توقف کرو کہ میں سلیمان کی بیویوں سے جا کر پوچھ لوں کہ کیا انہوں نے بھی اندرونی حالت میں کچھ تغیر محسوس کیا ہے ‘ جیسا کہ ہم بیرونی عام حالت میں محسوس کر رہے ہیں ؟ چناچہ آصف عورتوں کے پاس گئے اور کہا : کیا تم نے بھی ابن داؤد کے اندرونی حالات میں کچھ تغیر پایا ہے ‘ جیسا کہ ہم نے باہر محسوس کیا ہے ؟ عورتوں نے جواب دیا : اس سے بھی زیادہ ‘ وہ تو ہم میں سے کسی عورت کو خون کی حالت میں بھی نہیں چھوڑتا اور غسل جنابت بھی نہیں کرتا۔ آصف نے کہا : اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ 5 بلاشہ یہ کھلی ہوئی سخت آزمائشی مصیبت ہے۔ آصف نے واپس آکر بنی اسرائیل سے کہہ دیا کہ خاص احوال تو عام حالات سے بھی بڑھ چڑھ کر ہیں۔ چالیس روز گزر گئے تو شیطان مردود اپنی جگہ سے اٹھ کر دریا پر گیا اور دریا میں مہر پھینک دی ‘ جس کو ایک مچھلی نے نگل لیا اور کسی شکاری نے وہ مچھلی پکڑ لی۔ حضرت سلیمان نے دن کے ابتدائی حصہ میں (حسب معمول) اپنا کام کیا ‘ شام ہوئی تو شکاری نے آپ کو ایک (معمولی) مچھلی دے دی اور دوسری وہ مچھلی جس کے پیٹ میں مہر تھی ‘ دے دی۔ حضرت سلیمان دونوں مچھلیاں لے کر آگئے۔ معمولی مچھلی کے بدلے تو روٹیاں لے لیں اور جس مچھلی کے پیٹ میں مہر تھی ‘ اس کا بھوننے کیلئے پیٹ چاک کیا۔ پیٹ کے اندر سے مہر نکلی ‘ آپ نے مہر لے کر ہاتھ میں پہن لی ‘ اور سجدہ میں گرگئے۔ اس کے بعد پرندے اور جنات آپ کے پاس آکر جمع ہوگئے اور آدمی بھی آپ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ حضرت سلیمان سمجھ گئے کہ یہ جو مصیبت ان پر آئی تھی ‘ یہ اسی بات کی پاداش میں تھی جو ان کے گھر کے اندر ہوئی تھی۔
غرض آپ کو حکومت واپس مل گئی اور آپ نے اپنے گناہ سے علی الاعلان توبہ کی اور جنات کو حکم دیا کہ صخر کو پکڑ کر لاؤ۔ شیاطین نے اس کو ڈھونڈ نکالا اور پکڑ کر حاضر کردیا۔ حضرت سلیمان نے پتھر کی ایک چٹان میں شگاف کر کے صخر کو اس میں بند کر کے اوپر سے ایک چٹان اور رکھ کر لوہے اور رانگ سے اس کی مضبوط بندش کردی ‘ پھر سمندر میں پھینک دینے کا حکم دے دیا۔ یہ سارا وہب کا بیان ہے۔
سدی کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان کی سرگذشت کا سبب یہ تھا کہ آپ کی سو (100) بیبیاں تھیں ‘ ان میں سے ایک کا نام جرادہ تھا۔ جرادہ حضرت سلیمان کی نظر میں سب سے زیادہ چہیتی اور سب سے پکی امانتدار تھی۔ آپ جب ضرورت کو جاتے تو اسی کے پاس مہر رکھ دیا کرتے تھے۔ ایک دن جرادہ نے آپ سے کہا : میرے بھائی اور فلاں شخص کے درمیان کچھ جھگڑا ہے ‘ میں چاہتی ہوں کہ میرا بھائی جب آپ کے پاس آئے تو آپ اس کے حق کے حق میں ڈگری دے دیں۔ حضرت سلیمان نے کہا : اچھا (آپ نے وعدہ و کرلیا) لیکن کیا نہیں۔ اس قول پر ہی آپ مبتلاء آزمائش کر دئیے گئے۔
غرض ایک روز مہر جرادہ کو دے کر بیت الخلاء کو چلے گئے۔ آپ کے پیچھے شیطان (یعنی کوئی جن) آپ کی صورت بنا کر آیا اور جرادہ سے مہر لے گیا اور جا کر حضرت سلیمان کے تخت پر بیٹھ گیا۔ حضرت سلیمان جب بیت الخلاء سے آئے اور جرادہ سے مہر طلب کی تو اس نے کہا : کیا آپ نے ابھی لے نہیں لی تھی ؟ آپ نے کہا : نہیں۔ پھر آپ یہاں سے نکل کر کہیں اپنے مقام پر چلے گئے اور چالیس روز تک شیطان لوگوں پر حکومت کرتا رہا۔ لوگوں نے اس کے احکام کو (حضرت سلیمان کے احکام سے) بدلا ہوا محسوس کیا تو بنی اسرائیل کے علماء اور قراء آپ کی بیویوں کے پاس گئے ‘ اور ان سے کہا : ہم کو احکام سلیمانی سے اس کے احکام غیر نظر آتے ہیں ‘ اگر یہ سلیمان ہے تو یقیناً اس کی عقل جاتی رہی ہے۔ عورتیں رونے لگیں۔ علماء اور قراء چلے آئے اور آکر توریت کھول کر اس کی تلاوت میں مشغول ہوگئے۔ شیطان نے جو یہ دیکھا تو ان کے سامنے سے اڑ کر روشندان میں جا پڑا ‘ مہر اس کے پاس ہی رہی ‘ پھر وہاں سے اڑ کر سمندر کی طرف چلا گیا۔ مہر اس کے ہاتھ سے سمندر میں گرگئی ‘ جس کو ایک مچھلی نے نگل لیا۔ حضرت سلیمان بھی شکاریوں کے پاس پہنچ گئے اور تھے بہت سخت بھوکے ‘ اسلئے ایک شکاری سے اس کے شکار کی ایک مچھلی کھانے کیلئے مانگی اور کہا : میں سلیمان ہوں۔ یہ بات سن کر ایک شکاری نے اٹھ کر آپ کے لاٹھی ماری اور سر پھاڑ دیا۔ آپ سمندر کے کنارے بیٹھے خون دھونے لگے۔ دوسرے شکاریوں نے مارنے والے کو ملامت کی اور جو مچھلیاں پکڑی تھیں ‘ ان میں سے دو مچھلیاں آپ کو دے دیں۔ آپ نے دونوں کا پیٹ چاک کیا اور دھونے لگے۔ ایک مچھلی کے اندر سے آپ کو اپنی مہر مل گئی اور آپ نے اس کو پہن لیا۔
اس طرح اللہ نے آپ کو حکومت اور شان و شوکت واپس دے دی اور پرندے آپ کے گرد گھومنے لگے ‘ اس وقت ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ سلیمان یہ ہیں ‘ اور لگے اپنی حرکت پر معذرت کرنے۔ آپ نے فرمایا : نہ میں تمہاری اس معذرت کی تعریف کرتا ہوں نہ تمہارے فعل پر تمہیں ملامت کرتا ہوں ‘ یہ تو ہونا ہی تھا۔ اس کے بعد آپ اپنی حکومت پر آگئے اور جس شیطان نے مہر اڑائی تھی ‘ اس کی گرفتاری کا حکم دیا۔ وہ گرفتار ہو کر آگیا تو آپ نے لوہے کے ایک صندوق کو بند کر کے صندوق کو مقفل کر کے اس پر اپنی مہر لگا کر سمندر میں پھینکوا دیا۔ آج تک وہ اسی حالت میں ہے اور زندہ بھی ہے۔
سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان تین روز تک لوگوں سے پردے میں رہے (کسی سے ملامقات کو نہیں آئے نہ سامنے آئے) اللہ نے وحی بھیجی اور فرمایا : تم تین روز لوگوں سے پردے میں رہے اور میرے بندوں کے معاملات پر نظر نہیں کی (اس لغزش پر) اللہ نے آپ کو آزمائش میں ڈال دیا۔ اس سے آگے سعید نے مہر کا قصہ اور شیطان کے اس پر قبضہ کرلینے کا ذکر کیا ہے۔ حسن نے کہا : اللہ ایسا نہ تھا کہ سلیمان کی بیبیوں پر شیطان کو مسلط کردیتا۔ انتہیٰ کلام البغوی
عبد بن حمید اور نسائی اور ابن مردویہ نے وہب بن منبہ کے بیان کی طرح یہ قصہ بیان کیا اور روایت کی نسبت حضرت ابن عباس کی طرف کی ہے اور ابن جریر نے یہ قصہ بروایت سدی ‘ وہب بن منبہ کی طرح بیان کیا ہے ‘ مگر ان کے بعض طرق روایت میں آیا ہے کہ صخر جنّی حضرت سلیمان کے تخت پر بیٹھ گیا تو اللہ نے سوائے سلیمان کی ذات اور ان کی بیبیوں کے ‘ ہر چیز میں اس کے حکم کو نافذ کردیا۔ بغوی کی روایت میں حسن کا بھی یہی قول آیا ہے کہ اللہ ایسا نہ تھا کہ شیطان کو حضرت سلیمان کی بیبیوں پر مسلط کردیتا۔
بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ مہر اور شیطان اور حضرت سلیمان کے گھر میں بت کی پوجا کا ذکر محض یہودیوں کی خرافات ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ بعض روایات میں آیا ہے : جب حضرت سلیمان فتنہ میں پڑگئے تو مہر ان کے ہاتھ سے نکل کر گرگئی۔ آپ نے دوبارہ ہاتھ میں ڈالی ‘ تب بھی نکل کر گرگئی اور چونکہ آپ کی حکومت انگوٹھی سے ہی وابستہ تھی ‘ اسلئے آپ کو مصیبت کا یقین ہوگیا۔ اتنے میں آصف آگئے اور حضرت سلیمان سے کہنے لگے : آپ اپنے قصور کی وجہ سے آزمائش میں پھنس گئے ‘ یہ مہر آپ کے ہاتھ میں 14 روز تک نہیں رکے گی۔ حضرت سلیمان اپنے تہ خانے میں بھاگ کر چلے گئے اور آصف نے انگوٹھی اٹھا کر اپنی انگلی میں پہن لی تو انگوٹھی رک گئی (انگلی سے نکل کر نیچے نہیں گری) آیت وَاَلْقَیْنَا عَلٰی کُرْسِیِّہٖ جَسَدًا میں جسد سے یہی مراد ہے (یعنی جسد سے مراد ہیں آصف) آصف 14 روز تک حکومت پر قائم رہے اور حضرت سلیمان ہی کے طریقہ پر حکومت کرتے رہے۔ اس کے بعد اللہ نے حضرت سلیمان کو حکومت لوٹا کر عطا فرما دی اور وہ اپنی کرسی پر بیٹھ گئے اور دوبارہ اپنی انگوٹھی ہاتھ میں پہن لی۔
میں کہتا ہوں : وہب کی روایت غلط ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہب کی روایت کے بموجب صیدون نام کا کوئی جزیرہ تھا ‘ اس جزیرہ میں کوئی عظیم الشان بادشاہ تھا جس کی وہاں حکومت تھی۔ جزیرہ چونکہ سمندر میں واقع تھا ‘ اسلئے وہاں تک کسی شخص کی رسائی نہ تھی۔ پانی کی سطح پر جو ہوا تھی ‘ حضرت سلیمان اپنے لشکر سمیت اس ہوا کے دوش پر سوار ہو کر اس جزیرہ میں جا اترے (گویا پہلے سے ہوا آپ کے حکم کی تابع ہوچکی تھی) حالانکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ اس مصیبت اور انابت و استغفار کے بعد اللہ نے ہوا کو سلیمان کا تابع حکم بنایا تھا ‘ فرمایا ہے : فسخرنا لہ الریح یعنی اس واقعہ کے بعد ہم نے ہوا کو سلیمان کا تابع حکم بنا دیا۔ (ف تعقیب و ترتیب کیلئے ہے جو تسخیر ہوا کے مؤخر ہونے پر دلالت کر رہی ہے۔ مترجم) ۔
اس قصہ کے بعد ہی آپ نے دعا کی تھی اور کہا تھا : رَبِّ ھَبْ لِیْ مُلْکًا الخ (یہ دعا قبول ہوئی اور ہوا کو مسخر کردیا گیا) ۔
اگر وہب کے بیان کردہ قصہ کو صحیح مان لیا جائے ‘ تب بھی حضر سلیمان سے کسی گناہ کا صدور لازم نہیں آتا۔ مورتیاں بنانا ان کی شریعت میں جائز تھا اور حضرت سلیمان کی لاعلمی میں مورتی کو سجدہ کرنے سے آپ کو مجرم نہیں قرار دیا جاسکتا۔
Ayah 38:35قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی سلیمان نے کہا : اے میرے رب ! میرے
قصور معاف کر دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے سوا (میرے زمانے میں) کسی کو میسر نہ ہو۔
انک انت الوھاب بلاشتہ تو ہی بڑا دینے والا ہے۔
انبیاء اور صالحین کا طریقہ ہے کہ پہلے استغفار کرتے ہیں ‘ پھر اللہ سے کچھ مانگتے ہیں۔ حضرت سلیمان نے بھی ایسا ہی کیا ‘ پہلے درخواست مغفرت کی ‘ پھر حکومت کا سوال کیا۔ آیت کی رفتار بتارہی ہے کہ حضرت سلیمان پر جو یہ مصیبت پڑی ‘ وہ محض اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا تاکہ دنیا اور آخرت میں آپ کا مرتبہ اونچا کیا جائے ‘ جس طرح کہ حضرت ایوب پر وقوع بلا ترقی درجات کیلئے ہوا۔ حضرت سلیمان نے نہ کسی گناہ کا ارتکاب کیا تھا نہ آپ سے کوئی لغزش ہوئی تھی ‘ ورنہ ندامت و استغفار بہت ہی زاری کے ساتھ گڑگڑا کر کرتے اور درخواست مغفرت و توبہ کے علاوہ کوئی لفظ زبان پر بھی نہ لاتے (حکومت مانگنے کا تو ذکر ہی کیا ہے) اور جس طرح اللہ نے حضرت داؤد کے متعلق فرمایا تھا ‘ ویسے ہی آپ کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ فرماتا : فَغَفَرْنَا لَہٗ ذٰلِکَ ۔
مقاتل اور ابن کیسان نے ترجمہ کیا ہے : میرے زمانہ کے بعد۔ بعض علماء نے کہا : مِنْم بَعْدِیْ کا مطلب یہ ہے کہ میرے سوا میرے زمانہ میں ایسی حکومت کسی کو میسر نہ ہو ‘ جیسے اللہ نے ایک آیت میں فرمایا ہے : فَمَنْ یَّھْدِیْہِ مِنْم بَعْدِ اللّٰہِ اللہ کے سوا اس کو ہدایت کون دے۔ عطاء بن رباح نے کہا کہ یَنْببَغِیْم لِاَحَدٍ مِنْم بَعْدِیْ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اب تو نے مجھ سے حکومت لے کر دوسرے کو دے دی ‘ اسی طرح آخری عمر میں مجھ سے حکومت لے کر دوسرے کو نہ دے دینا۔ ایسی درخواست حضرت سلیمان نے کیوں کی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ اپنی نبوت کی خاص نشانی اور خاص معجزہ کے خواستگار تھے (طلبگار دنیا نہ تھے) ۔
مقاتل نے کہا : حضرت سلیمان بادشاہ تھے اور لاَ یَنْببَغِیْم لِاَحَدٍ مِنْم بَعْدِیْ کہہ کر ہوا ‘ جنات اور پرندوں پر حکومت کرنا چاہتے تھے ‘ بعد والا کلام اسی مفہوم پر دلالت کر رہا ہے۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک دیو (شریر جن) آج رات تھوک اڑاتا (بدبو پھیلاتا) ہوا میری نماز تڑوانے کیلئے آیا ‘ لیکن اللہ نے اس پر مجھے قابو دے دیا اور میں نے اس کو پکڑ کر چاہا کہ مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ (صبح کو) تم سب اس کو دیکھ سکو ‘ پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی دعا یاد آئی کہ انہوں نے درخواست کی تھی : رَبِّ ھَبْ لِیْ مُلْکًا لاَ یَنْببَغِیْم لِاَحَدٍ مِنْم بَعْدِیْ تو میں نے اس کو لوٹا دیا (متفق علیہ) ۔
میں کہتا ہوں : اس جملہ کی یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ جو شخص مرتبہ میں میرے بعد ہے ‘ اس کو وہ حکومت میسر نہ ہو ‘ ایسی حکومت مجھے عطا فرما۔ حضرت سلیمان نے یہ درخواست لوگوں کی بھلائی اور ان کی ہمدردی کیلئے کی تھی۔ مطلب یہ کہ میری طرح جس کی مشغولیت دنیا سے نہ ہو اور ہر وقت اللہ سے ہی لَو لگی ہوئی ہو ‘ اس کو تو کوئی چیز ضرر نہیں پہنچا سکتی ‘ نہ اللہ سے کوئی شے غافل بنا سکتی ہے ‘ اس کیلئے دنیا کا حصول نیکیاں حاصل کرنے کا مزید ذریعہ ہوتا ہے ‘ لیکن جو ایسا نہ ہو اس کو دنیا خدا سے غافل بنا دیتی ہے اور ایسے آدمی کیلئے دنیا سم قاتل کا حکم رکھتی ہے۔
ایک شبہ : ایک حدیث کا مضمون آپ کے بیان کے خلاف ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا مرتبہ حضرت سلیمان کے مرتبے سے زائد تھا ‘ اس کے باوجود حضور ﷺ کو حضرت سلیمان جیسی حکومت نہیں دی گئی اور اسی لئے آپ نے اس دیو کو ستون سے نہیں باندھا۔
ازالہ : بیشک رسول اللہ ﷺ کا مرتبہ حضرت سلیمان کے مرتبہ سے اعلیٰ تھا ‘ لیکن یہ بات قابل تسلیم نہیں کہ حضرت سلیمان کی دعا کی وجہ سے حضور ﷺ کو حکومت عطا نہیں کی گئی۔ اللہ نے تو آپ کو اختیار دے دیا تھا کہ نبوت کے ساتھ چاہیں تو بادشاہ بھی بن جائیں یا غریب بندہ رہنا چاہیں تو ایسے ہی رہیں (اور آپ کو یہی چھوڑ دیا جائے) آپ نے نبوت کے ساتھ (غریب) بندہ رہنا پسند کیا ‘ کیونکہ آپ کے نزدیک بادشاہت سے فقیری افضل تھی۔ رہی دیو کو ستون سے باندھے والی حدیث تو خود اس میں صراحت ہے کہ دیو کو اللہ نے آپ کے قابو میں کردیا تھا اور آپ اس کو ستون سے باندھ سکتے تھے ‘ لیکن حضرت سلیمان کی دعا کا لحاظ کرتے ہوئے خود ہی نہیں باندھا۔ رسول اللہ ﷺ کا حکم تو جن و انس ‘ سب پر چلتا تھا۔
تاتی بدعوتہ الاشجار ساجدۃ
تمشی الیہ علی ساق بلا قدم
آپ کے بلانے سے تو درخت سجدہ کرتے ہوئے ‘ بغیر قدموں کے ‘ صرف تنا کے سہارے سے چلتے ہوئے آپ کے پاس آجاتے تھے۔
فقراء کی زندگی اور ان کا لباس آپ کو محبوب تھا۔ خلفاء راشدین کی بھی یہی حالت تھی کہ خلافت کے ساتھ فقر ان کو پسند تھا اور دونوں گروہوں کے فضائل انہوں نے جمع کر لئے تھے۔
اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّاب یعنی تو جس کو جتنا چاہتا ہے ‘ دیتا ہے۔ تیرے دینے کو کوئی روکنے والا نہیں اور نہ دے تو کوئی دینے والا نہیں۔
Ayah 38:36فسخرنا لہ الریح تجری بامرہ رخاء حیث اصاب سو (ہم نے اس کی دعا قبول کی اور) ہوا کو ہم نے
اس کا تابع بنا دیا کہ وہ اس کے حکم سے جہاں وہ (جانا) چاہتا ‘ نرمی سے چلتی۔ سخرنا لہ الریح یعنی ہم نے ہوا کو ان کا فرمانبردار بنا دیا۔
رخائنرم رفتار والی ہوا ‘ جو تند نہ ہو یا ان کی مرضی کے خلاف نہ چلے۔ اَصَابَ کا معنی ہے اَرَادَ (جہاں کا وہ ارادہ کریں) عرب کہتے ہیں : اصاب الصواب فاخطأ الجواب اس نے صحیح جواب دینا چاہا ‘ لیکن جواب میں غلط کی۔
Ayah 38:37والشیطن کل بناء وغواص اور جنات کو بھی ان کا تابع بنا دیا ‘ عمارتیں بنانے والوں کو اور غوطہ خوروں کو بھی
Ayah 38:38واخرین مقرنین فی الاصفاد اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے۔
کل بنائجو قلعے اور محلات بناتے تھے۔ وغوّاص جو سمندروں میں غوطے مار کر موتی نکال کر لاتے تھے۔ حضرت سلیمان ہی پہلے شخص تھے جنہوں نے سمندروں سے موتی نکلوائے۔ مقرّنین زنجیروں میں جکڑے ہوئے۔ حضرت سلیمان نے جنات کے دو گرہ کر دئیے تھے : (1) کچھ جنات کو بھاری دشوار کاموں پر لگا دیا تھا جیسے معمار اور غوطہ زن (2) کچھ شریر تھے تو ان کو زنجیروں میں جکڑ دیا تھا تاکہ لوگ ان کی شرارت سے محفوظ رہیں۔
میں کہتا ہوں : شاید حضرت سلیمان کو ابلیس پر تسلط اسلئے عطا نہیں کیا کہ اس سے آزاد رہنے کا وعدہ کرلیا گیا تھا اور اللہ نے اس سے فرما دیا تھا : اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ 5۔
Ayah 38:39ھذا عطاؤنا فامنن او امسک بغیرحساب۔ (اور ہم نے کہا :) یہ ہماری دین ہے ‘ اب تم کسی کو دو یا نہ دو ‘ تم سے کچھ داروگیر نہیں۔
Ayah 38:40وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب اور (علاوہ اس کے) اس کیلئے ہمارے یہاں (خاص) قرب بھی ہے اور اچھا انجام بھی۔
ھٰذَا عَطَآءُنَا یعنی ہم نے سلیمان سے کہا کہ یہ حکومت اور ایسا تسلط جو کسی اور کو نہیں دیا گیا ‘ صرف تم کو دیا گیا ہے ‘ ہمارا خاص عطیہ ہے۔ فَامْنُنْ سو جس کو چاہو دو ۔ اَوْ اَمْسِکْ اور جس سے چاہو روک رکھو ‘ نہ دو ۔
بغیر حسابتم سے اس کی حساب فہمی نہ ہوگی کہ کیوں دیا اور کیوں نہ دیا ‘ کیونکہ تصرف کا پورا اختیار تم کو دے دیا گیا ہے۔ حسن نے کہا : اللہ نے جس نعمت سے سرفراز کیا ‘ آخرکار وہ نعمت اس کیلئے انجام بد بن گئی سوائے حضرت سلیمان کے ‘ کیونکہ ان کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ کسی کو دیں تو ان کو ثواب ملے گا ‘ نہ دیں تو انجام میں مواخذہ نہ ہوگا۔
بغیر حساب کا تعلق عطاء سے بھی ہوسکتا ہے ‘ اس صورت میں عطاء سے مراد عطاء کثیر ہوگی ‘ یعنی بےحساب ‘ ان گنت نعمت ہم نے تم کو دی ہے۔
مقاتل نے کہا : ھذا عطاؤنا کا یہ مطلب ہے کہ یہ یعنی جنات کی تسخیر ہمارا خاص علیہ ہے جو ہم نے تم کو دیا ہے۔ فَامْنُنْ سو تم جس کو ان میں سے چاہو ‘ چھوڑ دو اور جس کو اپنی بندش میں رکھنا چاہو ‘ رکھو۔ چھوڑنے اور بند رکھنے کا تم سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔
لَزُلْفٰی یعنی دنیا کی حکومت کے ساتھ آخرت میں ان کو ہمارا قرب بھی حاصل ہوگا اور لوٹنے کی جگہ اچھی ہوگی ‘ یعنی جنت۔
Ayah 38:41واذکر عبدنا ایوب اذ نادی ربہ انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب اور ہمارے بندے ایوب
کا تذکر کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو رنج و آزار پہنچایا ہے۔
اَنِّیْ مَسَّنِیَ الخ حضرت ایوب کے کلام کی نقل ہے۔ بِنُصْبٍ ‘ نصب مشقت ‘ تکلیف ‘ عذاب ‘ علم (رنج) مقاتل اور قتادہ نے کہا : نصب سے مراد ہے جسمانی دکھ اور عذاب سے مراد ہے مالی تباہی۔ حضرت ایوب کے دکھ اور تکلیف کا مفصل ذکر اور ان کا پورا قصہ ہم نے سورة انبیاء میں بیان کردیا ہے اور یہ بھی لکھ دیا ہے کہ کتنی مدت تک یہ آزمائش ہوتی رہی۔ غرض جب مدت ابتلاء ختم ہوگئی تو اللہ نے فرمایا۔
Ayah 38:42ارکض برجبلک ھذا مختسل بارد و شراب اپنا پاؤں مارو ‘ یہ نہانے کا ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا۔
اُرْکُضْیعنی ہم نے ایوب سے کہا کہ اپنا پاؤں زمین پر مارو۔ انہوں نے پاؤں مارا ‘ فوراً ایک چشمہ نکل آیا۔ ہم نے کہا : یہ نہانے کا ٹھنڈا پانی ہے ‘ اس میں غسل کرو اور یہ پینے کا پانی ہے ‘ اس کو پیو۔ انہوں نے غسل کرلیا تو ظاہر جلد کے سارے روگ دور ہوگئے اور پانی پیا تو اندرونی بیماریاں زائل ہوگئیں۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت ایوب نے دو مرتبہ زمین پر پاؤں مارا ‘ ایک بار مارنے سے سرد چشمہ نکل آیا اور دوسری بار پاؤں مارنے سے گرم چشمہ برآمد ہوگیا۔ ایک سے وہ نہائے اور دوسرے کا پانی پیا۔ عبد بن حمید اور ابن المنذر نے مجاہد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت ایوب نے اپنا دایاں پاؤں مارا تو ایک چشمہ پھوٹ نکلا اور دایاں ہاتھ پشت کے پیچھے مارا تو دوسرا چشمہ نکل آیا۔ ایک کا پانی انہوں نے پیا اور دوسرے کے پانی سے غسل کیا۔
Ayah 38:43ووھبنا لہ اھلہ ومثلھم معھم رحمۃ منا وذکری لاولی الالباب اور ہم نے ان کو ان کے گھر والے
(بھی) عطا کر دئیے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی اپنی رحمت کے طور پر اور عقل والوں کی یادگار کیلئے۔
Ayah 38:44وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث اور تم اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو۔
ضغث مٹھی بھر درخت کی ٹہنیاں یا گھاس ‘ یعنی ایک مٹھا سینکوں کا ہاتھ میں لے کر اپنی بیوی کے مارو اور اپنی قسم پوری کرلو۔ حضرت ایوب نے قسم کھائی تھی کہ بیوی کے سو (100) کوڑے ماریں گے (ا اللہ نے قسم پوری کرنے کیلئے آپ کو یہ سہولت دی) آپ نے حسب الحکم اذخر (مرچیاگند) وغیرہ کی سو شاخیں لیں اور مٹھا بنا کر ایک بار بی بی کے مار دیا ‘ اس طرح آپ کی قسم پوری ہوگئی۔
انا وجدنہ صابرا (ان کب جو جانی ‘ مالی اور عیالی دکھ پہنچا تھا) ہم نے (اس دکھ پر) ان کو صابر پایا۔
یہ جملہ عطاء صحت اور موہبت مال و عیال کی علت ہے۔ حضرت ایوب نے شیطان کی درازدستی کا اللہ سے شکوہ ضرور کیا تھا لیکن یہ شکوہ صبر کے منافی نہیں۔ اس کو بےصبری اور جزع نہیں کہا جاسکتا ‘ عافیت کی آرزو اور شفا کی طلب کو بےصبری نہیں کہہ سکتے۔
اس مقام پر ہمارے شیخ شہید (یعنی حضرت مرزا جان جاناں شہید) کا بہت اونچا کلام ہے ‘ آپ نے فرمایا : جب حضرت ایوب (علیہ السلام) دکھ اور مصیبت پر برسوں صبر کرچکے اور اللہ نے چاہا کہ ان کے دکھ اور تکلیف کو دور کر دے تو ان کے دل میں یہ بات خود ہی پیدا کردی کہ اللہ تجھ سے دعا اور زاری کا خواستگار ہے ‘ تو بارگاہ الٰہی میں اپنی عاجزی اور احتیاج کا اظہار کر ‘ تاکہ اللہ اس مصیبت کو دور کر دے۔ چناچہ آپ نے اپنے طبعی تقاضا کے خلاف جو صبر کا خواستگار تھا ‘ مرضی رب کو حاصل کرنے کیلئے دعا اور زاری کو ترجیح دی ‘ اس طرح مقام صبر سے ترقی کر کے مقام رضا میں پہنچ گئے اور اللہ نے بھی آپ کے صبر کی قدردانی کی اور فرمایا : انّا وَجَدْنَاہُ صَابِرًا اور مقام رضا پر پہنچنے کا اگلی آیت میں اظہار فرمایا اور ارشاد فرمایا :
نعم العبد انہ اواب وہ اچھا بندہ تھا ‘ بلاشبہ وہ (مکمل طور پر) اللہ کی طرف توجہ کرنے والا تھا۔
Ayah 38:45واذکر عبدنا ابرھیم واسحق و یعقوب الی الایدی والابصار اور تذکرہ کرو ہمارے (خاص) بندوں
کا یعنی ابراہیم کا اور اسحاق و یعقوب کا ‘ جو ہاتھوں والے (بھی) تھے اور آنکھوں والے (بھی) ۔
ابراہیم و اسحاق و یعقوب ‘ عبادٰناکا عطف بیان ہے۔ اولی الایدی یعنی اطاعت خداوندی میں مستعد و طاقتور اور دین و معرفت الٰہیہ میں بصیرت مند تھے۔ حضرت ابن عباس ‘ قتادہ اور مجاہد نے یہی تشریح کی ‘ اطاعت اور بدنی اعمال کی تعبیر لفظ ایدی (ہاتھ) سے کی ‘ کیونکہ ہاتھوں سے اکثر اعمال کئے جاتے ہیں اور ابصار سے معرفت خداوندی کی تعبیر کی ‘ کیونکہ آنکھیں ہی خدا شناسی میں قوی ترین ذریعہ ہیں (خلاصہ یہ کہ تینوں حضرات عملی اور علمی قوتوں کے مالک تھے ‘ عملی قوت کو اللہ کی اطاعت میں صرف کرتے تھے اور علمی قوت سے معرفت خداوندی اور دینی دانش حاصل کرتے تھے۔ مترجم) اس میں جاہلوں پر تعریض ہے کہ جاہل لوگ اپاہج اور اندھے ہوتے ہیں۔
Ayah 38:46انا اخلصنھم بخالصۃ ذکر الدار۔ ہم نے ان کو ایک خاص بات کیلئے مخصوص کرلیا تھا اور وہ بات تھی آخرت کی یاد ‘
Ayah 38:47وانھم عندنا لمن المصطفین الاخیار اور وہ ہمارے نزدیک منتخب اور سب سے اچھے لوگوں میں تھے۔
ذِکْرَی الدَّار یعنی ہمیشہ دار آخرت کی یاد رکھنے اور لوگوں کو یاد دلانے کیلئے ہم نے ان کو مخصوص کرلیا تھا ‘ انبیاء کا یہی شیوہ ہوتا ہے۔ یہ یاد آخرت ‘ خلوص طاعت کا ذریعہ ہوتی ہے۔ انبیاء کے پیش نظر اور ان کا اصل مقصد اللہ سے ملنا اور مقام قرب میں پہنچنا ہوتا ہے اور یہ آخرت میں ہوگا ‘ اسلئے وہ آخرت کی یاد رکھتے ہیں۔ ذکری الدارکا ایک مطلب ذکرٰی صاحب الدار (بحذف مضاف) بھی بیان کیا گیا ہے ‘ یعنی دار الآخرت کے مالک کی یاد کیلئے اللہ نے ان کو مخصوص کرلیا تھا۔ صرف الدار بول کر دار آخرت مراد لینے سے اس طرف اشارہ ہے کہ حقیقت میں رہنے کا ٹھکانا تو آخرت ہی ہے ‘ دنیا تو ایک گذرگاہ اور پل ہے ‘ رہنے کا مقام نہیں ہے ‘ اس کو دار کہا ہی نہیں جاسکتا۔
مالک بن دینار نے یہ مطلب بیان کیا کہ ہم نے ان کے دلوں سے دنیا کی محبت اور یاد نکال دی اور آخرت کی یاد و محبت کیلئے ان کو مخصوص کردیا۔ مقاتل نے کہا : وہ لوگوں کو آخرت کی طرف بلاتے تھے اور اللہ کی طرف آجانے کی دعوت دیتے تھے۔ سدی نے کہا : آخرت کا ڈر رکھنے کیلئے ان کو مخصوص کرلیا گیا تھا۔ ابن زید نے کہا : یہاں مضاف محذوف ہے ‘ یعنی ہم نے آخرت کی بہترین چیزوں کی یاد کیلئے ان کو مخصوص کرلیا تھا۔
وَاِنَّھُمْ عِنْدَنَا الخ یعنی ان کو ان جیسے دوسرے لوگوں پر اللہ نے برگزیدگی عطا کی تھی اور ان میں سے انہیں منتخب کرلیا تھا۔
اَخْیَار ‘ خَیْرکی یا خَیّر کی جمع ہے ‘ جیسے اموات ‘ مَیْت کی یا میّت کی جمع ہے۔
Ayah 38:48واذکر اسمعیل والیسع و ذا الکفل وکل من الاخیار اور ذکر کرو اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کا ‘ سب سے اچھے لوگوں میں سے تھے۔ الیسع ‘ اخطوب کے بیٹے تھے ‘ بنی اسرائیل نے ان کو اپنا سردر بنا لیا تھا (سب پر حکومت کرتے تھے) پھر اللہ نے نبی بھی بنا دیا۔
ذوالکفل حضرت الیسع کے چچا زاد بھائی تھے ‘ یا بشر بن ایوب کے بیٹے تھے ‘ آپ کی نبوت کے متعلق اختلاف ہے (کوئی آپ کو نبی کہتا ہے ‘ کوئی صرف مرد صالح اور اللہ کا ولی۔ مترجم) ذوالکفل لقب ہوجانے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل میں سے سو آدمی ان کے پاس آگئے ‘ آپ نے ان کو پناہ دی اور ان کی ذمہ داری لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک نیک آدمی تھا ‘ روزانہ سو بار نماز پڑھتا تھا (کمائی کیلئے وقت نہیں بچتا تھا) آپ نے اس کے کام کا ذمہ لے لیا تھا (اور معاش کی کفالت کرلی تھی) ۔
Ayah 38:49ھذا ذکر وان للمتقین لحسن ماب یہ ایک نصیحت کا مضمون تو ہوچکا اور پرہیزگاروں کیلئے آخرت میں اچھا ٹھکانہ ہے۔
ھٰذَا یہ یعنی مقدم الذکر واقعات انبیاء ان کیلئے ایک شرف تھا ‘ یا یہ قرآن جو پڑھا جا رہا ہے ‘ ایک حسین یاد دہانی ہے۔
انبیاء اور ان کے راستہ پر چلنے والے تمام لوگوں کے متعلق آگے فرمایا کہ تقویٰ والوں کیلئے بہترین لوٹنے کا مقام (اور انجام) ہے ‘ یعنی :
Ayah 38:50جنت عدن مفتحۃ لھم الابواب یعنی ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کیلئے کھلے ہوں گے۔
عدن (دوامی قیام) یہ ایک جنت کا نام بھی ہے۔ دوسری آیت میں آیا ہے : جَنّٰتِ عَدْنِ انِلَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنَ عِبَادَہٗ ۔
Ayah 38:51متکئین فیھا یدعون فیھا بفاکھۃ کثیرۃ و شراب ان باغوں میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور وہاں (جنت
کے خادموں سے) بہت سے لذیذ پھل اور پینے کی چیزیں منگوائیں گے۔
شراب میں تنوین تکثیر سے مراد ہے کثیر نوشیدنی شربت۔ پہلے فاکھۃ کثیرۃ کہا جا چکا ‘ اسلئے دوبارہ شراب کے ساتھ لفظ کثیر ذکر کرنے کی ضرورت نہیں (مطاعم اور مآکل کی بجائے) صرف فاکہہ کا ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ اہل جنت کا کچھ کھانا محض لذت اندوزی کیلئے ہوگا ‘ حصول غذائیت کیلئے نہیں ہوگا۔ غذا کی ضرورت تو اسلئے ہوتی ہے کہ اجزاء جسم کو تحلیل شدہ قوت کو بدل جائے (اور جنت کے اندر قوت کے تحلیل ہونے اور کمزور پڑجانے کا کوئی احتمال ہی نہیں ہے) ۔
Ayah 38:52وعندھم قصرت الطرف اتراب۔ اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والیاں ہم جولیاں حاضر ہوں گی
Ayah 38:53ھذا ما تو عدون لیوم الحساب (اے مسلمانو ! ) یہ وہ (نعمت) ہے جس کا روز حساب آنے پر تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔
قٰصِرٰتُ الطَّرْف یعنی ایسی عورتیں جن کی نگاہیں شوہروں کے سوا دوسروں پر نہ پڑیں گی (یعنی ان کی نگاہ آوارہ نہ ہوگی) ۔
اَتْرَاب یہ ترب کی جمع ہے ‘ ہم عمر ‘ سب کی عمر 33 سال کی ہوگی۔ مجاہد نے کہا : سب آپس میں بہنوں بہنوں کی طرح ہوں گی ‘ یہاں کی سوکنوں کی طرح ان میں جلن نہ ہوگی نہ حسد ہوگا۔
لِیَوْمِ الْحِسَاب لام اجلیہ ہے ‘ حساب کے دن کی وجہ سے ہی تو مذکورہ نعمتوں تک رسائی ہوگی یا لام بمعنی فِیْ ہے یعنی روز حساب میں۔
Ayah 38:54ان ھذا لرزقنا ما لہ من نفاذ بلاشبہ یہ ہماری عطا ہے ‘ جس کا (کبھی) اختتام نہیں (ہوگا) ۔
Ayah 38:55ھذا وان للطغین لشر ماب۔ یہ بات (تو ہوچکی) اور سرکشوں کیلئے برا ٹھکانہ ہے ‘
Ayah 38:56جھنم یصلونھا فبئس المھاد یعنی جہنم سو وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔
طَاغِیْنَ سے مراد ہیں کافر۔ مآب لوٹنے کی جگہ ‘ لوٹ کر پہنچنے کا مقام۔ مہاد بستر ‘ بطور کنایہ جہنم کو بستر فرمایا۔
Ayah 38:57ھذا فلیذوقوہ حمیم وغساق یہ کھولتا ہوا پانی اور پیپ ان کو پینا پڑے گا۔
Ayah 38:58واخر من شکلہ ازواج اور اسی قسم کی دوسری طرح طرح کی چیزیں (ان کیلئے) ہوں گی۔
ھٰذَایہ عذاب ہوگا ‘ یا ازطعام مہمانی یہ ہے۔ حَمِیْم گرم کھولتا ہوا پانی۔ غسّاقبروزن فعّال۔ غسّاق کا معنی مختلف طور پر کیا گیا ہے ‘ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ایسی برفیلی سخت ٹھنڈک جو اس طرح دوزخیوں کو جلا دے گی ‘ جس طرح آگ اپنی گرمی سے جلائے گی۔
مجاہد اور مقاتل نے کہا : جس چیز کی برودت انتہائی درجہ کی ہو ‘ وہ غساق ہے۔ بعض نے کہا : یہ ترکی لفظ ہے ‘ ترکی زبان میں غساق انتہائی بدبودار چیز کو کہتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : غساق کا معنی ہے صبّاب یعنی سیال۔ غَسَقَتْوہ چیز بہہ گئی۔ اس جگہ مراد ہے : وہ پیپ اور کچ لہو جو دوزخیوں کی کھال اور گوشت اور زانیوں کی شرمگاہوں سے بہے گا۔
بیہقی نے عطیہ کا قول نقل کیا ہے کہ غساق سے مراد ہے سیال کچ لہو۔ ابراہیم اور ابو زرین کا بھی یہی قول منقول ہے۔
ابن ابی حاتم ‘ ابن ابی الدنیا اور ضیاء نے کعب کا قول بیان کیا ہے کہ غساق جہنم کے اندر ایک چشمہ ہے جس میں ہر زہریلے جانور ‘ جیسے سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع کردیا جائے گا ‘ پھر آدمی کو اس میں ایک غوطہ دیا جائے گا ‘ ایک ہی غوطے میں اس کی کھال اور گوشت ہڈیوں سے الگ ہو کر ٹخنوں میں جا پڑیں گے اور جس طرح آدمی کپڑا گھسیٹتا چلتا ہے ‘ اسی طرح دوزخی اس کو کھینچے کھینچے پھرے گا۔
وَاٰخَرُ مِنْ شَکْلِہٖ یعنی ایک اور عذاب ہوگا جو مذکورہ حمیم و غساق کی طرح ہوگا۔ اَزْوَاجٌ یہ قسم قسم کا ہوگا۔
Ayah 38:59ھذا فوج مقتحم معکم یہ ایک جماعت اور آئی جو تمہارے ساتھ (عذاب میں شریک ہونے کیلئے دوزخ میں
بے تابانہ) گھس رہے ہیں۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ دوزخ کے کارندوں کا کلام ہوگا ‘ جو جہنمی لیڈروں سے وہ کہیں گے۔ اس کی صورت یہ ہوگی کہ کافروں کے پیشوا اور لیڈر جب دوزخ میں چلے جائیں گے تو ان کے بعد ان کے پیرو بھی آکر دوزخ میں داخل ہوجائیں گے ‘ اس وقت دوزخ کے کارندے ان پیشواؤں سے یہ بات کہیں گے۔
بعض علماء نے کہا : یہ پیشواؤں کا کلام ہوگا جو ایک دوسرے سے کہے گا کہ یہ لو تمہارے متبعین کی جماعت بھی تمہارے ساتھ (عذاب میں شریک ہونے کو) دوزخ میں گھس رہی ہے۔ اقتحام کا معنی ہے بیتابی کے ساتھ (یعنی اضطراری طور پر) کسی چیز میں گھس پڑنا۔ کلبی نے کہا : ان کو گرزوں سے مارا جائے گا ‘ گرزوں کے خوف سے وہ خود اپنے آپ کو دوزخ میں ڈال دیں گے۔
میں کہتا ہوں : یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے خلفاء لوگوں کو پیچھے سے کمر پکڑ کر دوزخ میں گرنے سے روکتے ہیں اور ایسے کاموں سے روکتے ہیں جن کا ارتکاب موجب جہنم ہے ‘ مگر لوگ نہیں مانتے ‘ خود ہی دوزخ میں گھسے پڑتے ہیں اور ایسے کام کرتے ہیں جو جہنم میں لے جانے والے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخض نے آگ جلائی ہو ‘ جب آگ روشن ہوگئی تو پروانے اور یہ کیڑے مکوڑے آ آکر اس میں گرنے لگے۔ وہ ہرچند گرنے سے روکتا تھا ‘ مگر آگ میں گرنے والے (پروانے اور کیڑے) اس پر غالب آکر گھسے چلے جاتے تھے (آخر سوختہ ہوجاتے تھے) میں بھی تم کو دوزخ میں گرنے سے ہرچند روکتا ہوں اور کہتا ہوں : دوزخ سے ہٹ جاؤ ‘ آگ سے بچ جاؤ ‘ مگر تم مجھ پر غالب آتے اور دوزخ میں گھسے پڑتے ہو (متفق علیہ) ۔
خلاصہ یہ کہ بعض کافر بعض سے کسی تیسرے فریق کے متعلق کہیں گے کہ یہ بھی تمہارے ساتھ عذاب میں شریک ہونے کیلئے دوزخ میں گھس رہے ہیں ‘ یا ایک سردار کفار دوسرے پیشوا سے متبعین کے حق میں کہے گا۔ وہ پیشوا کہیں گے :
Ayah 38:60لا مرحبا بھم انہم صالوا النار۔ ان کیلئے مرحبا نہیں (یعنی ان پر خدا کی مار) یہ بھی دوزخ ہی میں داخل ہو رہے ہیں۔
Ayah 38:61قالوا بل انتم لا مرحبا بکم انتیم قد متموہ لنا فبئس القرار
وہ (آنے والے) کہیں گے (ہم پر نہیں) بلکہ تم پر خدا کی مار ‘ تم ہی تو یہ مصیبت ہمارے آگے لائے ہو۔ سو (یہ) جہنم (تمہارا ہمارا) بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔
لاَ مَرْحَبًامبِھِمْیہ بددعائیہ جملہ ہے جو پیشوا اپنے اتباع کرنے والوں کے متعلق کہیں گے۔ اِنَّھُمْ صَالُوا النَّار یعنی ہماری طرح اپنے اعمال کی وجہ سے یہ بھی آگ میں آ رہے ہیں۔ لا مرحبا بھم ‘ فوجٌکی صفت ہے ‘ یعنی ان کے گھسنے والوں کے متعلق یہ لفظ کہا جائے گا۔ کسی کے آنے کے موقع پر خوش آمدید کی جگہ عرب مرحبا کہتے ہیں۔ رحب کا معنی ہے کشادہ جگہ اور وسعت۔ اس لفظ کو کہنے سے آنے والے کا اعزاز مقصود ہوتا ہے ‘ لیکن بددعا کے موقع پر لا مرحبا کہا جاتا ہے اور اس سے مقصود ہوتی ہے آنے والے کی تذلیل۔
قالُوْا لاَ مَرْحَبًامبِکُمْیعنی اتباع کرنے والے اپنے پیشواؤں سے کہیں گے کہ تم نے جو کچھ کہا یا ہمارے متعلق جو کچھ کہا گیا ‘ اس کے تم زیادہ مستحق ہو۔ تم خود بھی گمراہ ہوئے اور ہم کو بھی گمراہ کیا۔
اَنْتُمْ قَدَّ مْتُمُوْہُ لَنَا اس عذاب کو یا داخلۂ جہنم کو تم ہی ہمارے آگے لائے۔
قالوا ربنا من قدم لنا ھذا فزدہ عذابا ضعفا فی النار متبعین کہیں گے : اے ہمارے رب ! جو شخص ہمارے
آگے یہ (جہنم) لایا ‘ اس کو آگ کے اندر (ہمارے عذاب سے) دوگنا عذاب دے۔
Ayah 38:62قالوا ما لنا لا نری رجالا کنا نعدھم من الاشرار اور وہ کہیں گے : کیا بات ہے (دوزخ کے اندر) ہم کو
وہ لوگ دکھائی نہیں دیتے جن کو ہم برے آدمیوں میں شمار کرتے تھے۔ اشرار ‘ شریر کی جمع ہے ‘ شر ‘ خیر کی ضد ہے۔ خیر وہ چیز ہے جس کی طرف سب کو رغبت ہوتی ہے اور شر وہ چیز ہوتی ہے جس سے ہر شخص نفرت کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا میں ان کو برا سمجھتے تھے اور ان کی تحقیر کرتے تھے ‘ آج وہ یہاں کیوں نظر نہیں آتے۔ ان کی مراد یہ ہوگی کہ فقراء مؤمنین جیسے حضرت عمار ‘ حضرت صہیب ‘ حضرت بلال ‘ حضرت ابن مسعود وغیرہ یہاں کیوں نہیں دکھائی دیتے۔ دنیا میں وہ کافر ان مخلص غریب مؤمنوں کو رذیل جانتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔
Ayah 38:63اتخذناھم سخریا کیا ہم نے ان کی ہنسی بنا رکھی تھی ؟ یہ استفہام انکاری ہے۔
ام زاغت عنھم الابصار یا ان سے ہماری نگاہ چوک رہی ہے (کہ ہم ان کو نہیں دیکھ پاتے) فراء نے کہا : یہ استفہام
توبیخی تعجبی ہے اور ایک جملہ محذوف ہے ‘ پوری عبارت اسی طرح تھی : کیا بات ہے کہ ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جن کا ہم مذاق بنایا تھا ‘ کیا وہ یہاں نہیں ہیں یا ہماری نظریں چوک رہی ہیں ‘ اسلئے ہم کو یہاں وہ نظر نہیں آتے ؟
Ayah 38:64ان ذلک لحق تخاصم اھل النار بیشک یہ بات یعنی دوزخیوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا بالکل سچی بات ہے۔
اِنَّ ذٰلِکَ بیشک یہ جو کچھ دوزخیوں کے متعلق ہم نے بیان کیا۔ لَحَقٌّ بلاشبہ صحیح ہے ‘ وہ ضرور ایسی گفتگو کریں گے۔ تَخَاصُمُیہ حَقٌّسے بدل ہے ‘ یا مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ دوزخیوں کے باہم سوال جواب اور آپس کی گفتگو فریقین معاملہ کی گفتگو کے مشابہ ہوگی ‘ اسلئے اس کو تخاصم (باہمی رگڑا جھگڑا) فرمایا۔ اس کے علاوہ پیشواؤں کا متبعین کے متعلق لا مرحبا بکم کہنا اور لوٹ کر پھر ان کو بل لا مرحبا بکم کہنا ایک قسم کا تخاصم ہے اور ساری گفتگو میں تخاصم بھی شامل ہے ‘ اسلئے پوری گفتگو کو ہی تخاصم فرما دیا۔
Ayah 38:65قل انما انا منذر وما من الہ الا اللہ الواحد القھار۔ (اے محمد ﷺ ! مکہ کے مشرکوں سے) آپ کہہ دیں کہ میں تو (تم کو عذاب خداوندی سے) صرف ڈرانے والا ہوں اور سوائے اللہ کے کوئی لائق عبادت نہیں۔
Ayah 38:66رب السموت والارض وما بینھما العزیز الغفار وہی یگانہ ‘ سب پر غالب ‘ آسمانوں کا ‘ زمین کا اور ان دونوں کی درمیانی کائنات کا مالک و منتظم ہے ‘ زبردست (اور گناہوں کو) بہت بخشنے والا ہے۔
اِنَّمَا اَنَا مُنْذِرٌکا تعلق کافروں کے سابق مقولے سے ہے ‘ کافروں نے جو کہا تھا : ھٰذا ساحر کذّاب اس کا جواب دینے کیلئے فرمایا : آپ کہہ دیجئے کہ میں تو ڈرانے والا ہوں ‘ اللہ کے عذاب سے ڈرا رہا ہوں ‘ یعنی میں ساحر و کذاب نہیں ہوں۔ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ الاَّ اللّٰہُاس جملہ کا رخ اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًاکی طرف ہے اور اس سے اس کا تعلق ہے۔ الواحد (بہمہ جات) ایک نہ اپنی ذات میں کسی کی شرکت رکھتا ہے ‘ نہ اپنی کسی صفات میں۔ القھّار ہر شے پر غالب ‘ اس لفظ میں کافروں کیلئے دھمکی ہے۔ العزیز ایسا زبردست کہ اگر سزا دے تو کوئی مقابلہ پر آکر اس پر غالب نہ آسکے۔ الغفّار چھوٹے بڑے گناہ جس کے چاہے ‘ معاف کر دے۔ ان صفات سے توحید کا مکمل اثبات ہوجاتا ہے ‘ اس میں درپردہ موحدین کیلئے وعدہ اور مشرکوں کیلئے انتقام و عذاب کی دھمکی ہے۔ القھار کہنے سے خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ شاید اللہ کی صفت قہر ہی ہے ‘ اس خیال کو زائل کرنے کیلئے الغفار فرمایا۔
Ayah 38:67قل ھو نبؤا عظیم۔ (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ وہ (یعنی قرآن۔ ایک عظیم الشان خبر (یعنی مضمون) ہے
Ayah 38:68انتم عنہم معرضون جس سے تم کترا رہے ہو۔
بعض کے نزدیک ھو سے مراد ہے روز قیامت۔ دوسری آیت میں آیا ہے : عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ - عَنِ النَّبَأِ الْعَظِیْمِاس آیت میں نباء عظیم سے مراد روز قیامت ہی ہے۔ بعض لوگوں نے کہا : مطلب یہ ہے کہ میں جو تم کو اطلاع سے رہا ہوں اور اس خدا کے عذاب سے جس کی یہ یہ صفات ہیں ‘ ڈرا رہا ہوں ‘ وہ عظیم الشان خبر ہے ‘ اس صورت میں آیت کا تعلق آیت اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ الاَّ اللّٰہ الْوَاحِدُ سے ہوگا۔
اَنْتُمْ عَنْہُ مُعْرِضُوْنَ یعنی اہل دانش کو مناسب نہیں کہ ایسی خبر سے اعراض کریں ‘ مگر تم غفلت میں ایسے سرگرداں ہو کہ اس کی طرف سے کترا رہے ہو۔ توحید ذاتی و صفاتی کی دلائل تو سطور بالا میں گذر چکیں ‘ نبوت کے ثبوت کا اظہار آئندہ آیت میں فرمایا۔
Ayah 38:69ما کان لی من علم بالملا الا علی اذ یختصمون۔ مجھے عالم بالا کی بحث و گفتگو کی کچھ بھی خبر نہیں تھی ‘ جبکہ وہ (تخلیق آدم کے بارے میں) جھگڑ رہے تھے۔