28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 28:77

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور جو (مال) تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی خدا نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو۔ اور ملک میں طالب فساد نہ ہو۔ کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

واتبغ فیما اتک اللہ الدار الاٰخرۃ ولا تنس نصیبک من الدنیا واحسن کما احسن اللہ الیک ولاتبغ الفساد فی الارض ان اللہ لا یحب المفسدین . اور تجھ کو خدا نے جتنا دے رکھا ہے اس میں عالم آخرت کی بھی جستجو کیا کر اور دنیا سے اپنا حصہ (آخرت میں لے جانا) فراموش نہ کر اور جس طرح خدا نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی (اس کے بندوں کے ساتھ) احسان کیا کر اور دنیا میں بگاڑ کا خواہاں نہ ہو۔ بیشک اللہ اہل فساد کو پسند نہیں کرتا۔ فِیْ مَا اٰتٰکَ اللّٰہُ یعنی اللہ نے جو دنیوی نعمتیں تجھے عطا فرمائی ہیں۔ اَلدَّرَالْاٰخِرَۃَ یعنی جنت کی طلب کر۔ مطلب یہ ہے کہ خداداد نعمتوں کا شکر کر اور ان کو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے راستہ میں خرچ کر۔ وَلاَ تَنْسَ نہ بھول یعنی بھولی بسری چیز کی طرح دنیا سے اپنا حصہ ترک نہ کر یعنی دنیا سے اتنا حصہ ضرور حاصل کر جس سے آخرت میں جنت تجھے مل جائے۔ دنیا آخرت کی کھیتی ہے ‘ انسان کا دنیا میں اصلی نصیب وہ ہے جس سے آخرت کو حاصل کرلے۔ کذا قال مجاہد و ابن زید۔ سدی نے کہا : نَصِیْبَکَ مِنَ الدَّنْیَا سے مراد ہے خیرات دنیا اور کنبہ پروری کرنا۔ حضرت علی نے فرمایا : اپنی صحت ‘ قوت ‘ جوانی اور مالداری کو آخرت کے حصول کے لئے صرف کرنے کو ترک نہ کر۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھ : اپنی زندگی کو مرنے سے پہلے ‘ اپنی صحت کو بیماری سے پہلے ‘ اپنی فرصت کو مشغولیت سے پہلے ‘ اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے اور اپنی مالداری کو افلاس سے پہلے۔ رواہ الحاکم والبیہقی بسند صحیح و احمد فی الزہد وروی البغوی و ابن حبان و ابونعیم فی الحلیتہ عن عمر بن میمون الاودی مرسلا نحوہ۔ حسن نے کہا : حکم دیا گیا تھا کہ ضرورت سے زائد جو چیز ہے اس کو راہ خدا میں پیش کر دے اور بقدر کفالت روک لے۔ منصور بن زاذان نے کہا : دنیا سے اپنا حصہ نہ بھول یعنی اپنی اور اپنے اہل و عیال کی روزی ترک نہ کر۔ وَاَحْسِنْ یعنی اللہ کے بندوں سے بھلائی کر یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی عبادت اچھی طرح کر ‘ ہمیشہ اس کی یاد کر ‘ اس کا شکر کر ‘ اس کی طاعت میں سرگرم رہ ‘ جیسا کہ اللہ نے تیرے ساتھ بھلائی کی ہے کہ اپنی متواتر ‘ بیشمار ‘ ان گنت نعمتیں تجھے عطا کی ہیں۔ وَلاَ تَبْعِ الْفَسَاد اور زمین پر فساد (بگاڑ) کا خواستگار نہ ہو۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ اس سے مراد ہے ظلم و بغی کی ممانعت۔ بغوی نے لکھا ہے کہ جس نے اللہ کی نافرمانی کی وہ زمین پر فساد کا طلب گار ہوا (یعنی گناہ اور اللہ کی نافرمانی ہی فساد اور تباہی ہے) ۔ لاَ یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ یعنی بداعمالوں کی بداعمالی کی وجہ سے اللہ ان کو پسند نہیں کرتا۔
Ayah 28:78

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

بولا کہ یہ (مال) مجھے میری دانش (کے زور) سے ملا ہے کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا نے اس سے پہلے بہت سی اُمتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ہلاک کر ڈالی ہیں۔ اور گنہگاروں سے اُن کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا

قال انما اوتیتہ علی علم عندی . قارون نے کہا کہ مجھے جو کچھ ملا ہے (مجھے دیا گیا ہے) وہ مجھے میرے علم کی وجہ سے ملا ہے۔ قوم والوں نے قارون سے کہا تھا : اَحْسِنْ کَمَا اَحْسَنَ اللہ اِلَیْکَ قارون نے اس کا تردیدی جواب یہ دیا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے میرے ساتھ کوئی احسان نہیں کیا مجھے اس کا استحقاق تھا اس کی کوئی مہربانی نہیں جس کا شکریہ ادا کرنا مجھ پر لازم ہو اور اس کے بندوں سے بھلائی کرنا مجھ پر فرض ہوجائے۔ مجھے جو کچھ عزت ‘ مال اور سیادت ملی وہ میرے علم کی وجہ سے ملی۔ بعض علماء نے کہا کہ علم سے مراد ہے کیمیا گری۔ سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ کیمیا بنافی جانتے تھے۔ آپ نے علم کیمیا کا ایک حصہ تو یوشع بن نون کو سکھا دیا اور ایک تہائی حصہ کالب بن یوقنا کو اور ایک تہائی قارون کو۔ قارون نے یوشع اور کالب کو فریب دے کر وہ حصہ بھی معلوم کرلیا جو انہوں نے سیکھا تھا اس طرح پورا علم کیمیا اس کو حاصل ہوگیا۔ اس کی مالداری کا یہی گر تھا۔ بعض اہل علم نے کہا کہ قارون نے جو لفظ علم بولا تھا اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ میں تجارت کے گر جانتا ہوں ‘ کاشتکاری کے فن سے خوب واقف ہوں اور کمائی کے دوسرے راستے مجھے معلوم ہیں ‘ انہی ذرائع سے میرے پاس مال آیا ہے۔ سہل نے کہا : جس نے اپنے کو دیکھا (یعنی اترایا) اس نے فلاح نہیں پائی۔ خوش نصیب وہ ہے جس نے اپنے اوپر (غرور کی) نظر نہ ڈالی اور (نظر غرور سے) اپنے افعال و اعمال کو نہیں دیکھا اور بدبخت وہ ہے جس کی نظر میں اس کے اپنے اقوال ‘ اعمال اور احوال پسندیدہ بنا کر دکھا دئیے ہوں اور ان پر فخر کرنے لگا ہو۔ عنقریب کسی دن ایسا بدنصیب ہلاک کردیا جائے گا جس طرح کہ قارون کو زمین میں دھنسا دیا گیا جب کہ اس نے اپنے لئے برتری کا دعویٰ کیا تھا۔ اولم یعلم ان اللہ قد اھلک من قبلہ من القرون من ھو اشد منہ قوۃ واکثرجمعا . کیا اس کو معلوم نہ ہوا کہ اس سے پہلے اللہ گزشتہ اقوام میں ایسوں کو ہلاک کرچکا ہے جو (مالی) قوت میں بھی اس سے کہیں بڑھے ہوئے تھے اور جتھا بھی ان کا اس سے زیادہ تھا۔ اَلَمْ یَعْلَمْ استفہام تعجبی ہے یا انکاری۔ کیا اس کو اتنا بھی معلوم نہ ہوا ؟ اگر معلوم ہوتا تو مال پر غرور نہ کرتا اور جماعت کی کثرت پر نہ اتراتا اور جان لیتا کہ اللہ ہی ہلاک کرنے والا ہے۔ وہی دینے والا اور وہی روک لینے والا ہے ‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ اسی نے قوم عاد کو ہلاک کردیا جو (جسمانی طاقت اور مال کی کثرت اور تعداد میں اس سے زائد تھی۔ شداد بن عاد تو بہت بڑا بادشاہ تھا ‘ ساری زمین پر حکومت کرتا تھا) ۔ ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون . اور مجرموں سے ان کے قصوروں کے متعلق (تحقیق کی غرض سے) نہیں پوچھا جائے گا۔ کیونکہ اللہ کو پہلے ہی ان کے جرائم معلوم ہوں گے ‘ اس کو پوچھنے اور دریافت کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسی لئے دنیا میں وہ بغیر دریافت کئے جرائم کی سزا میں ہلاک کرتا ہے اور آخرت میں دوزخ میں داخل کرے گا۔ پہلے اللہ نے ایسے لوگوں کو ہلاک کرنے کا ذکر کیا جو مالدار بھی بہت تھے اور تعداد میں بھی بہت تھے تاکہ قارون کے دل میں اپنی ہلاکت کا خوف پیدا ہو۔ اس آیت میں فرمایا کہ یہ عذاب انہی کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ اللہ تمام اگلے پچھلے مجرموں کے جرائم پر مطلع ہے ‘ سب کو سزا دے گا۔ قتادہ نے لاَ یُسْءَلُ کا یہ مطلب بیان کیا کہ بغیر پوچھے اور بغیر حساب لئے ان کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ مجاہد نے کہا کہ فرشتے ان سے ان کے جرائم کا سوال نہیں کریں گے بلکہ چہروں سے ہی پہچان لیں گے۔ حسن نے کہا کہ دریافت حال اور تحقیق کے لئے ان سے نہیں پوچھا جائے گا بلکہ توبیخ و زجر کی غرض سے بازپرس کی جائے گی۔
Ayah 28:79

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (اور ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ جیسا (مال ومتاع) قارون کو ملا ہے کاش ایسا ہی ہمیں بھی ملے۔ وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے

فخرج علی قومہ فی زینتہ قال الذیہ یریدون الحیوۃ الدنیا یلیت لنا مثل ما اوتی قارون انہ لدو حظ عظیم . پھر (ایک بار) وہ اپنی قوم کے سامنے بن سنور کر (شان و شوکت کے ساتھ) نکلا تو (اس کی برادری میں سے) جو لوگ (صرف) دنیاوی زندگی کے طلب گار تھے انہوں نے کہا کہ کاش ! ہمارے پاس بھی ویسی ہے (دولت و راحت) ہوتی جو قارون کو دی گئی ہے ‘ یہ یقیناً بڑا خوش نصیب ہے۔ ابراہیم نخعی نے کہا کہ قارون اور اس کی قوم والے (نوکر چاکر اور کنبہ ‘ خاندان کے آدمی) سبز سرخ لباس پہن کر نکلے۔ ابن زید نے کہا کہ قارون ستر ہزار آدمیوں کو جو زعفرانی لباس میں تھے ‘ ساتھ لے کر نکلا۔ مجاہد نے کہا کہ قارون اپنے ساتھیوں کو جو زعفرانی لباس میں تھے اور سفید خچروں پر سوار تھے جن پر ارغوانی رنگ کی زینیں کسی ہوئی تھیں ‘ ساتھ لے کر نکلا۔ مقاتل نے کہا کہ قارون سفید خچر پر نکلا ‘ خچر پر سنہری ارغوانی زین تھی۔ چار ہزار سوار تھے ‘ ان سواروں کے گھوڑے ارغوانی تھے۔ تین سو باندیاں بھی سفید خچروں پر سوار ساتھ تھیں ‘ باندیاں گوری گوری ‘ زیور اور سرخ لباس سے آراستہ تھیں۔ بنی اسرائیل (اگرچہ دنیا کے طلب گار تھے لیکن) مؤمن تھے اس لئے یہ نہیں کہا کہ قارون کی دولت ہم کو مل جاتی ‘ یہ تو حسد ہوجاتا بلکہ یوں کہا کہ قارون کی دولت کی طرح کاش ہم کو بھی دولت مل جاتی۔
Ayah 28:80

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس۔ مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا

وقال الذین اوتو لعلم ویلکم ثواب اللہ خیر لمن امن وعمل صالحا ولا یلقھا الا الصبرون اور جن لوگوں کو (دین کا) علم دیا گیا تھا ‘ انہوں نے کہا : ارے تمہارا برا ہو ! اللہ کے گھر کا ثواب (ہزار درجہ) بہتر ہے جو ان لوگوں کو ملے گا جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے اور (کامل طور پر) انہی لوگوں کو دیا جائے گا جو (حرص و طمع سے) اپنے آپ کو روکنے والے ہیں۔ اُوْتُوْا لْعِلْمَ یعنی جو لوگ اس ثواب سے واقف تھے جس کا وعدہ اللہ نے مؤمنوں سے کیا ہے ‘ انہوں نے ان تمنا کرنے والوں سے کہا۔ وَیْلَکُمْ لفظ وَیْل مصدر ہے ‘ اس کا معنی ہے ہلاکت۔ یہ فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے یعنی تم مرو ‘ ہلاک ہوجاؤ۔ حقیقت میں اس لفظ کا مفہوم ہے بددعا لیکن اس کا استعمال ناپسندیدہ کام سے روکنے اور زجر کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ وَلاَ یُلَقّٰھَا الاَّ الصّٰبِرُوْنَ یعنی یہ بات (کہ اللہ کا ثواب بہتر ہے) نہیں سکھائی جاتی مگر اہل صبر کو یا اللہ کی طرف سے ثواب نہیں دیا جاتا مگر صابروں کو۔ اَلصَّابِرُوْنَ یعنی وہ لوگ جو اللہ کی طاعت پر جمے رہتے ہیں اور گناہوں سے اور دنیا کی حرص سے اپنے آپ کو روکے رکھتے ہیں۔
Ayah 28:81

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی۔ اور نہ وہ بدلہ لے سکا

فخسفنا بہ وبدارہ الارض فما کان لہ من فءۃ ینصرونہ من دون اللہ وما کان من المنتصرین پھر ہم نے اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا ‘ سو اس کی کوئی جماعت ایسی نہ ہوئی کہ اللہ کے عذاب سے اس کو بچا سکتی اور نہ وہ خود اپنے آپ کو بچا سکا۔ مِنْ فِءَۃٍ (فیئی لوٹنا ‘ رجوع کرنا) فِءَۃ وہ مددگار جن کی طرف مصیبت کے وقت آدمی رجوع کرتا ہے۔ یَنْصُرُوْنَہٗ یعنی اللہ کے عذاب کو دفع کرسکتے۔ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ یعنی خود بھی وہ اپنے کو عذاب خسف سے محفوظ نہ رکھ سکا۔ نَصَرَہ اس کی مدد کی ‘ اِنْتَصَر (وہ مدد پا گیا) محفوظ ہوگیا۔ اہل روایت نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے بعد قارون سب سے بڑا عالم تھا اور توریت کا سب سے بڑا قاری تھا ‘ سب سے زیادہ حسین آواز اور مالدار بھی تھا لیکن اس نے سرکشی کی اور حدود خداوندی سے آگے بڑھ گیا۔ سرکشی اور نافرمانی کی ابتداء اس واقعہ سے ہوئی کہ اللہ نے حصرت موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ اپنی قوم کو حکم دے دو کہ ہر شخص اپنی چادر کے چاروں کونوں پر ایک ایک نیلا آسمانی رنگ کا دھاگہ باندھ لیں تاکہ دھاگہ کو دیکھ کر آسمانی رنگ ان کی نظر کے سامنے آجائے اور آسمانی رنگ کو دیکھ کر آسمان کی طرف نگاہ اٹھائیں اور ان کو یاد ہوجائے کہ اس آسمان سے اللہ نے اپنا کلام اتارا ہے۔ حضرت موسیٰ نے عرض کیا : اے میرے رب ! کیا تیرا حکم اس طرح نہیں پورا ہوسکتا کہ وہ اپنی پوری چادریں نیلے رنگ میں رنگ لیں کیونکہ بنی اسرائیل ان دھاگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھیں گے۔ فرمایا : موسیٰ ! میرا چھوٹا حکم بھی چھوٹا نہیں ہوتا۔ اگر وہ میرا چھوٹا حکم بھی نہیں مانیں گے تو بڑا حکم بدرجۂ اولیٰ نہیں مانیں گے۔ حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو جمع کیا اور فرمایا : اللہ کا حکم ہے کہ تم اپنی چادروں پر آسمانی رنگ کے دھاگے باندھ لیا کرو تاکہ ان کو دیکھ کر تم کو اپنے رب (کے کلام) کی یاد ہوجائے۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ کے حکم کی تعمیل کی ‘ لیکن قارون نے حکم نہیں مانا اور غرور سے کہنے لگا (موسیٰ سب کو غلام بنا لینا چاہتے ہیں) ایسا عمل تو آقا اپنے غلاموں کے ساتھ کرتے ہیں تاکہ ان کے غلام دوسرے غلاموں سے الگ معلوم ہوجائیں۔ قارون کی نافرمانی اور سرکشی کا یہی آغاز تھا۔ پھر جب حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو لے کر دریا کے پار پہنچ گئے تو بنی اسرائیل کی ساری قربانیوں کی نگرانی حضرت ہارون کے سپرد کردی اور ان کو افسر قربانی بنا دیا۔ بنی اسرائیل اپنی اپنی قربانیاں حضرت ہارون کے پاس لاتے تھے اور ہارون ان قربانیوں کو قربانی کی جگہ میں رکھ دیتے ‘ پھر آسمان سے ایک آگ آکر قربانی کو کھا جاتی تھی۔ قارون کو حضرت ہارون کی اس سرداری کا بھی رنج ہوا اور حضرت موسیٰ کے پاس آکر کہنے لگا : موسیٰ ! تمہارے لئے تو رسالت ہوگئی اور ہارون کے لئے قربانی کی افسری اور میں جو توریت کا سب سے بڑا قاری ہوں ‘ مجھے کچھ نہیں ملا۔ میں اس بات پر صبر نہیں کرسکتا ہوں۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا : میں نے ہارون کو خود یہ عہدہ نہیں دیا ہے بلکہ اللہ نے یہ عہدہ ان کو دیا ہے۔ قارون نے کہا : میں تو تمہاری بات اس وقت تک سچ نہیں مانوں گا جب تک تم اس کا ثبوت مجھے دکھا نہ دو ۔ حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ ہر شخص اپنی اپنی لاٹھی لے کر آئے اور اس خیمہ کے اندر لا کر درخت کی طرح گاڑ دے۔ حسب الحکم سب لوگوں نے اپنی اپنی لاٹھیاں مقررہ خیمہ کے اندر لا کر کھڑی کردیں۔ رات یوں ہی گزر گئی ‘ صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ حضرت ہارون کی لاٹھی ایک درخت کی سرسبز ہوگئی اور اس میں ہرے ہرے پتے نکل آئے۔ قارون کہنے لگا : موسیٰ جو جادو تم بناتے رہے ہو ‘ اس سے زیادہ تعجب آفریں جادور یہ نہیں ہے۔ اس کے بعد قارون حضرت موسیٰ سے الگ ہوگیا۔ حضرت موسیٰ قرابت کی وجہ سے اس سے نرمی کا سلوک کرتے رہے مگر وہ ہر وقت آپ کو دکھ ہی دیتا رہا۔ اس کی سرکشی ‘ نافرمانی اور دشمنی بڑھتی ہی گئی۔ اس نے حضرت موسیٰ سے کٹ کر اپنا ایک مکان تعمیر کیا جس کا دروازہ سونے کا بنوایا اور دیواروں پر سونے کی پتریں لگوائیں۔ بنی اسرائیل کے بڑے بڑے آدمی روزانہ صبح شام اس کے پاس آتے ‘ باتیں کرتے ‘ ہنسی مذاق کرتے اور قارون سب کو کھانا کھلاتا (یہ محفل عیش روزانہ گرم ہوتی تھی) ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جب حضرت موسیٰ کو زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا (اور حضرت موسیٰ ) نے بنی اسرائیل کو وہ حکم سنایا) تو قارون نے ماننے سے انکار کردیا۔ آخر حضرت موسیٰ نے ایک فی ہزار کی شرط پر قارون سے مصالحت کرلی۔ قارون نے وعدہ کرلیا کہ ہزار دینار میں ایک دینار ‘ ہزار درہم میں ایک درہم اور ہزار بکریوں میں ایک بکری مد زکوٰۃ میں ادا کرے گا۔ جب قارون اس اقرار کے بعد اپنے گھر پہنچا اور حساب لگایا تو بڑی رقم ہوگئی اور اس کے دل نے اتنا کثیر مال دینے کی اجازت نہیں دی۔ آخر (سوچ کر ایک تدبیر کی) بنی اسرائیل کو جمع کیا اور سب سے خطاب کر کے کہا : لوگو ! موسیٰ نے جو حکم بھی تم کو دیا ‘ تم نے اس کی تعمیل کی۔ اب (یہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ) وہ تمہارے مال بھی لے لینا چاہتا ہے۔ بنی اسرائیل نے کہا کہ آپ ہمارے بڑے ہیں ‘ جو آپ کی منشاہو حکم دیجئے۔ قارون نے کہا : میں حکم دیتا ہوں کہ تم فلاں زانیہ عورت کو لے آؤ ‘ ہم کچھ معاوضہ دے کر اس سے طے کرلیں گے کہ وہ موسیٰ کو اپنے ساتھ زنا کرنے کی تہمت لگائے۔ اگر اس نے ایسا کرلیا تو بنی اسرائیل موسیٰ کو چھوڑ دیں گے اور اس کے حلقہ سے باہر نکل جائیں گے۔ چناچہ لوگوں نے اس عورت کو بلوایا ‘ قارون نے ایک ہزار درہم معاوضہ دینا منظور کرلیا۔ بعض روایات میں ہزار دینار ‘ بعض میں سونے کا ایک طشت دینا طے کیا۔ بعض اہل روایت نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ قارون نے اس سے کہا : ئجھے مالدار بنا دوں گا اور تجھے اپنی بیویوں میں شامل کرلوں گا بشرطیکہ کل صبح بنی اسرائیل موسیٰ کے پاس جمع ہوں تو موسیٰ کو اپنے ساتھ زنا کرنے پر تو متہم کر دے۔ جب دوسرا دن ہوا تو قارون نے بنی اسرائیل کو جمع کیا پھر موسیٰ کے پاس گیا اور کہا : بنی اسرائیل آپ کے برآمد ہونے کا انتظار کر رہے ہیں ‘ آپ باہر آکر ان کو وعظ و نصیحت کریں۔ حضرت موسیٰ باہر آئے ‘ بنی اسرائیل اس وقت کھلے میدان میں جمع تھے۔ آپ تقریر کرنے کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے بنی اسرائیل ! (سنو) جو چوری کرے گا ہم اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے ‘ جو کسی پر زنا کی تہمت لگائے گا ہم اس کے کوڑے ماریں گے اور جو زنا کرے گا ہم اس کے کوڑے ماریں گے بشرطیکہ اس کی بیوی نہ ہو اور بیوی ہوتے ہوئے اگر زنا کرے گا تو ہم پتھر مار مار کر اس کو ہلاک کردیں گے۔ قارون بولا : خواہ تم ہی ایسے ہو (تب بھی اپنے کو یہی سزا دو گے) حضرت موسیٰ نے فرمایا : خواہ میں ہی ہوں۔ قارون کہنے لگا : بنی اسرائیل کا خیال ہے کہ تم نے فلاں عورت سے زنا کیا ہے۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا : اس عورت کو بلواؤ ‘ اگر وہ یہ بات کہہ دے تو وہی بات (صحیح) ہوگی جو وہ کہہ دے گی۔ عورت آئی ‘ حضرت موسیٰ نے اس سے کہا : اے عورت ! کیا میں نے تیرے ساتھ ایسا کیا ہے ؟ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں ؟ حضرت موسیٰ نے اس الزام کا بڑا اثر لیا اور اس خدا کا حوالہ دیا جس نے بنی اسرائیل کے لئے دریا کو پھاڑ دیا اور توریت نازل فرمائی اور فرمایا : کیا تو سچ سچ نہیں کہے گی ؟ اللہ نے اس عورت کا خیال پلٹ دیا اور اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ آج توبہ کر لیناا اللہ کے رسول کو دکھ دینے سے بہتر ہے۔ کہنے لگی : نہیں ‘ یہ لوگ جھوٹ کہتے ہیں بلکہ قارون نے مجھے معاوضہ دینا طے کیا تھا اگر میں آپ پر زنا کی تہمت لگا دوں۔ حضرت موسیٰ یہ سنتے ہی سجدہ میں گرپڑے اور رو رو کر کہنے لگے : اے اللہ ! اگر میں تیرا رسول ہوں تو میری وجہ سے اس پر غضب فرما۔ اللہ نے وحی بھیجی کہ زمین کو تمہارے زیر حکم کردیا گیا ‘ تم جو حکم چاہو اس کو دو ‘ یہ حکم کی تعمیل کرے گی۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا : اے بنی اسرائیل ! اللہ نے جس طرح مجھے فرعون کے پاس بھیجا تھا ‘ اسی طرح قارون کے پاس بھی بھیجا گیا تھا۔ اب جو اس کے ساتھ رہنا چاہے وہ اس کے پاس ٹھہرا رہے اور جو میرا ساتھ دینا چاہے وہ اس کے پاس سے الگ ہوجائے۔ یہ سنتے ہی سب لوگوں نے قارون کا ساتھ چھوڑ دیا۔ سب اس کے پاس سے ہٹ آئے ‘ صرف دو آدمی اس کے پاس رہ گئے۔ پھر حضرت موسیٰ نے (زمین کو حکم دیا اور) فرمایا : اے زمین ! ان کو لے لے۔ زمین نے ان کے قدم کھینچ لئے۔ ایک روایت میں آیا کہ وہ اپنے تخت اور فرش پر اس وقت موجود تھا ‘ زمین نے اس کے تخت کو نگل لیا ‘ پھر آپ نے زمین کو حکم دیا کہ لے لے ‘ زمین نے گھٹنوں تک ان کو نگل لیا ‘ پھر آپ نے فرمایا : ان کو لے ‘ زمین نے کمر تک ان کو نگل لیا ‘ پھر آپ نے فرمایا : زمین ! ان کو لے ‘ زمین ان کو گلے تک نگل گئی۔ قارون اور اس کے ساتھی برابر موسیٰ سے منت وزاری کرتے رہے اور قارون برابر حضرت موسیٰ کو اللہ کا اور قرابت کا واسطہ دیتا رہا یہاں تک کہ ستر بار اس نے واسطہ دیا لیکن شدت غضب کی وجہ سے حضرت موسیٰ نے اس کی طرف کوئی التفات نہیں کی اور زمین کو حکم دیا کہ ان کو لے۔ غرض زمین نے سب کو نگل لیا۔ ا اللہ نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی اور فرمایا : تمہارا دل بھی کیسا سخت ہے ‘ قارون نے ستر بار تم سے فریاد کی مگر تم نے ایک بار بھی اس کی فریاد رسی نہیں کی۔ قسم ہے اپنی عزت و عظمت کی ! اگر وہ ایک بار بھی مجھ سے فریاد کرتا تو میں اس کی فریادرسی ضرور کرتا۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ اللہ نے فرمایا : آئندہ میں زمین کو کسی کا تابع حکم نہیں بناؤں گا۔ قتادہ نے کہا : زمین نے قارون کو اپنے اندر دھنسا لیا اور وہ روز بقدر قد آدم زمین کے اندر دھنس رہا ہے اور یونہی دھنستا رہے گا مگر قیامت تک انتہائی گہرائی کو نہ پہنچ سکے گا۔ قارون کے زمین میں گھس جانے کے بعد بنی اسرائیل آپس میں کہنے لگے کہ موسیٰ نے قارون کے لئے بددعا صرف اس لئے کی کہ خود اس کی جگہ اس کا مکان ‘ خزانے اور سارا مال متاع لینا چاہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ نے دعا کی ‘ آپ کی دعا سے اللہ نے اس کے ساتھ اس کے گھر اور خزانوں اور مال متاع کو بھی زمین میں دھنسا دیا۔ یہی مضمون ہے آیت فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْارْضَ فَمَا کَانَ لَہٗ مِنْ فِءَۃٍ یَّنْصُرُوْنَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کا۔
Ayah 28:82

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو کل اُس کے رتبے کی تمنا کرتے تھے صبح کو کہنے لگے ہائے شامت! خدا ہی تو اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اگر خدا ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ ہائے خرابی! کافر نجات نہیں پا سکتے

واصبح الذین تمنوا مکانہ بالامس یقولون ویکان اللہ یبسط الرزق لمن یشآء من عبادہ ویقدر اور جو لوگ قارون جیسے (مالدار) ہونے کی کل تمنا کر رہے تھے (اب) کہنے لگے : ارے ! ایسا لگتا ہے کہ اللہ جس شخص کی روزی فراخ کرنا چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور جس کی روزی نپی تلی کرنا چاہتا ہے نپی تلی کردیتا ہے۔ مَکَانَہٗ یعنی قارون کے مقام پر پہنچنے کی تمنا جو لوگ کل یعنی کچھ وقت پہلے کرتے تھے۔ وَیْکَاَنَّ بصرہ کے علماء نحو کے نزدیک یہ لفظ وَےْ اور کَاَنَّسے مرکب ہے ‘ وَےْ کلمۂ تعجب ہے اور کَاَنَّ تشبیہ۔ اَﷲُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ یعنی رزق کی فراخی اور تنگی دونوں اللہ کی مشیت سے وابستہ ہیں۔ نہ رزق کی فراخی عند اللہ معزز ہونے کی علامت ہے (کہ کافر کو نہ ملے) نہ رزق کی تنگی اللہ کی طرف سے بےعزتی کا نشان ہے (کہ مؤمن صالح کا رزق تنگ نہ ہو) خلیل نے کہا : لفظ وے اسم فعل ہے ‘ تعجب اور ندامت کے اظہار کے لئے اس کا استعمال کیا گیا ہے۔ وہ لوگ اپنی پچھلی تمنا پر پشیمان ہوئے تھے اور انہوں نے پشیمان ہو کر ایسا کہا تھا اور کانَّ کا معنی ہے ایسا انداز ہوتا ہے ‘ ایسا خیال ہوتا ہے ‘ ایسا لگتا ہے۔ قطرب نے کہا : وَیْکَ اصل میں وَیْلَکَ تھا دونوں کا معنی ایک ہی ہے ‘ لام حذف کردیا گیا۔ اَنَّا اللہ فعل محذوف کا مفعول ہے۔ ترجمہ اس طرح ہے : ارے جان لے کہ اللہ رزق کشادہ کرتا ہے۔ بعض نے کہا : وَیْکَاَنَّ پور ایک لفظ ہے جو تنبیہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ حسن نے کہا : وَیْکَ کلمۂ ابتدائیہ ہے۔ مجاہد نے کہا : اس کا ترجمہ کے کیا تو نہیں جانتا۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی ہے کیا تو نے نہیں دیکھا۔ فراء نے کہا : یہ کلمۂ تقریر ہے جیسے کوئی کہے اَمَا تَرٰی اِلٰی صنِع اللہ وَاحسَانِہ کیا اللہ کے حسن سلوک اور احسان کو تو نہیں دیکھ رہا ہے یعنی ضرور دیکھ رہا ہے۔ فراء نے کہا : میں نے خود سنا کہ ایک بدوی عورت نے اپنے شوہر سے کہا : بیٹا کہاں ہے ؟ اس نے جواب دیا : ویکانہ وراء البیت یعنی کیا دیکھ نہیں رہی کہ وہ گھر کے پیچھے ہے۔ لولا ان من اللہ علینا لخسف بنا ویکانہ لا یفلح الکفرون . اور اگر اللہ ہم پر احسان نہ کرتا تو (قارون کی طرح) ہم کو بھی دھنسا دیتا۔ ارے کیا تم نہیں جانتے کہ کافر فلاح نہیں پاتے یعنی آخرت کے یا پیغمبروں کے یا پیغمبروں کے وعدۂ ثواب کے منکر فلاح یاب نہیں ہوتے۔ اس جگہ معنی تشبیہ کے علاوہ وَیْکَاَنَّہٗ کا ہر معنی درست ہوسکتا ہے۔
Ayah 28:83

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

وہ (جو) آخرت کا گھر (ہے) ہم نے اُسے اُن لوگوں کے لئے (تیار) کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے اور انجام (نیک) تو پرہیزگاروں ہی کا ہے

تلک الدار الاٰخرۃ نجعلھا للذین لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادًا والعاقبۃ للمتقین یہ عالم آخرت ہم ان ہی لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ بڑے بننے کے خواستگار ہیں نہ فساد کرنے کے۔ تِلْکَ الدَّارُ الْاخِرَۃُ یعنی یہ دار آخرت کی خبر تم نے سنی اور جس کے حالات کی اطلاع تم کو دی گئی۔ عُلُوَّا فِی الْاَرْضِ مقاتل اور کلبی نے کہا : یعنی جو لوگ ایمان سے غرور کی وجہ سے سرکشی نہیں کرتے۔ عطاء نے کہا : لوگوں پر جبر اور چیرہ دستی نہیں کرتے اور ان کو حقیر نہیں جانتے۔ حسن نے کہا : حاکموں اور سرداروں کے پاس عزت و مرتبہ کے طلب گار نہیں ہوتے۔ حضرت علی نے فرمایا : اس آیت کا نزول ان حاکموں کے متعلق ہوا جو باوجود قدرت کے تواضع کرتے ہیں۔ آپ کا مقصد یہ ہے کہ جو حاکم اور صاحب قدرت متواضع ہوتا ہے وہ ملک میں خود اونچا اٹھنے (اور سب پر فوقیت حاصل کرنے) کا خواستگار نہیں ہوتا۔ کلبی نے کہا : فساد سے مراد اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کی طرف بلانا۔ عکرمہ نے کہا : ناحق (ظلم سے) لوگوں کا مال لینا مراد ہے۔ ابن جریح اور مقاتل نے کہا : گناہ کرنا مراد ہے۔ وَالْعَاقِبَۃُ قتادہ نے کہا : عاقبت سے مراد جنت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نیکیوں کے بعدجو نتیجہ (یعنی ثواب) آتا ہے اس کو عاقبت کہا جاتا ہے اور برائیوں کے بعد آنے والے نتیجہ (یعنی عذاب) کو عقاب کہا جاتا ہے۔
Ayah 28:84

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو شخص نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے اس سے بہتر (صلہ موجود) ہے اور جو برائی لائے گا تو جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو بدلہ بھی اسی طرح کا ملے گا جس طرح کے وہ کام کرتے تھے

من جآء بالحسنۃ فلہ خیر منھا ومن جآء بالسیءۃ فلا یجزی الذین علموا السیات الا ما کانوا یعلمون . جو شخص (قیامت کے دن) نیکی لے کر آئے گا اس کو نیکی کی مقدار سے اچھا ملے گا اور جو شخص بدی لے کر آئے گا سو ایسے لوگوں کو جو برے کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا وہ کرتے تھے۔ فلہ خیر منھا یعنی دس گنا سے سات سو گنا تک اور اس سے آگے جتنا اللہ کو منظور ہو۔ فَلاَ یُجْزَی الَّذِیْنَ عَمِلُوْا السَّیِّاٰتِ فَلاَ یُجْزَوْنَ کی جگہ فلاَ یُجْزٍ الَّذِیْنَ عَمِلُوْا السَّیِّاٰتِ فرمایا تاکہ بدی کی نسبت کی تکرار ہوجائے اور ان کی بری حالت کا بیان ہوجائے۔ اِلاَّ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ یعنی جتنا عمل ہوا سی کے برابر سزا ہوگی ‘ عمل اور سزا باہم بالکل مساوی ہوں گے۔
Ayah 28:85

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

(اے پیغمبر) جس (خدا) نے تم پر قرآن (کے احکام) کو فرض کیا ہے وہ تمہیں بازگشت کی جگہ لوٹا دے گا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار اس شخص کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت لےکر آیا اور (اس کو بھی) جو صریح گمراہی میں ہے

ان الذی فرض علیک القراٰن لرآدک الی معاد . جس خدا نے آپ پر قرآن کو فرض کیا وہ آپ کو آپ کے اصل وطن میں لوٹا کرلے آئے گا۔ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ یعنی جس نے آپ پر قرآن نازل کیا۔ اکثر مفسرین نے یہی تفسیر کی ہے۔ کذا قال البغوی۔ عطاء نے کہا : جس نے آپ پر قرآن کی تلاوت ‘ تبلیغ اور اس کے مطابق عمل فرض کیا ہے۔ اِلٰی مَعَادٍ معاد سے مراد ہے مکہ ‘ چناچہ اس وعدہ کے مطابق اللہ نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ کو مکہ میں لوٹا بھی دیا۔ عوفی نے حضرت ابن عباس کا یہی قول بیان کیا ہے۔ مجاہد کا بھی یہی قول ہے۔ قتیبی نے کہا : کسی شخص کا معاد اس کا شہر ہوتا ہے جہاں وہ لوٹ کر آتا ہے۔ معادٍ میں تنوین تنکیر اظہار عظمت و شان کے لئے ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں اللہ کا رسول اللہ کے دشمنوں پر غالب آیا ‘ کفر کو شکست ہوئی اور اسلام کا بول بالا ہوا۔ بغوی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ جب (مکہ کو چھوڑ کر) مدینہ کی طرف جانے کے لئے غار (ثور) سے نکلے تو تعاقب کے اندیشہ سے عام راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ پر چل دئیے ‘ پھر جب کوئی اندیشہ نہ رہا تو اصل راستہ پر آگئے اور جحفہ کے مقام پر پہنچے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے (یہاں سے مکہ کو بھی راستہ جاتا ہے اور مدینہ کو بھی) مکہ کی جانب والا راستہ دیکھ کر آپ کو مکہ کا شوق پیدا ہوا۔ جبرئیل نے کہا : کیا آپ کے دل میں اپنے شہر اور جنم بھومی کا شوق پیدا ہوگیا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : جی ہاں۔ جبرئیل نے کہا : اللہ فرماتا ہے : اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ چناچہ فتح مکہ کے دن اللہ نے آپ کو لوٹا کر مکہ پہنچا دیا۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس کا قول بیان کیا ہے کہ معاد سے مراد موت ہے۔ میں کہتا ہوں : موت اصلی حالت کی طرف واپس ہونے کا نام ہے اس لئے معاد موت ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : کُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ تم بےجان تھے اللہ نے تم کو جاندار بنایا پھر وہ تم کو بےجان کر دے گا۔ زہری اور عکرمہ نے کہا : معاد سے مراد قیامت ہے۔ بعض نے کہا : اس سے جنت مراد ہے کیونکہ اللہ نے جب صراحت فرما دی کہ عاقبت یعنی اچھا انجام متقیوں کے لئے خاص ہے تو نیکوکاروں کو ثواب دینے اور بدکاروں کو عذاب دینے کا وعدہ کر کے اس کی تائید و تاکید کردی اور دونوں جہاں میں ان کے اچھے انجام کا وعدہ فرما لیا۔ کفار مکہ نے رسول اللہ سے کہا تھا کہ تم کھلی گمراہی میں ہو۔ اس کے جواب میں اللہ نے آیت ذیل نازل فرمائی۔ قل ربی اعلم من جآء بالھدی . آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو ہدایت لے کر آیا ہے اور اس بات کو بھی خوب جانتا ہے کہ وہ ہدایت لانے والا کس ثواب اور امداد کا مستحق ہے۔ ومن ھو فی ضلل مبین . اور اس کو بھی (خوب جانتا ہے) جو کھلی ہوئی گمراہی میں پڑا ہوا ہے (اور کس عذاب و ذلت کا مستحق ہے) اول سے مراد ہیں رسول اللہ اور گمراہی میں پڑے رہنے والوں سے مراد ہیں مشرکین۔ اس آیت میں سابق وعدہ کی مزید تاکید ہے۔
Ayah 28:86

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

اور تمہیں اُمید نہ تھی کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی۔ مگر تمہارے پروردگار کی مہربانی سے (نازل ہوئی) تو تم ہرگز کافروں کے مددگار نہ ہونا

وما کنت ترجوآ یلقی الیک الکتب الا رحمۃ من ربک . اور آپ کو تو کوئی امید نہیں تھی کہ آپ کو قرآن دیا جائے گا (اور آپ کے پاس وحی آئے گی) مگر ایسا تو محض آپ کے رب کی رحمت کی وجہ سے ہوا۔ فراء نے کہا : اس جگہ استثناء منقطع ہے اور اِلَّا کا معنی ہے لیکن۔ لیکن آپ کے رب نے اپنی رحمت سے آپ کو قرآن عطا کردیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ استثناء منفصل مفرغ ہو ‘ گویا مطلب اس طرح ہوگا کہ آپ کے رب نے یہ قرآن کسی اور وجہ سے (یعنی استحقاق وغیرہ کی وجہ سے) نہیں دیا ‘ مگر اپنی رحمت کی وجہ سے دیا۔ فلا تکونن ظھیرًا للکفرین . سو آپ کافروں کے مددگار نہ بنیں کہ آپ ان سے نرمی کریں ‘ ان کی بیہودگیوں کو برداشت کریں اور جس بات کی طرف وہ آپ کو بلائیں آپ اس طرف چلے جائیں۔ مقاتل نے کہا : کافروں نے رسول اللہ کو دین آباء و اجداد اختیار کرنے کی دعوت دی تھی ‘ اس کے جواب میں اللہ نے آپ کو اپنی نعمتیں یاد دلائیں اور کافروں کی پشت پناہی و امداد سے روک دیا۔
Ayah 28:87

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور وہ تمہیں خدا کی آیتوں کی تبلیغ سے بعد اس کے کہ وہ تم پر نازل ہوچکی ہیں روک نہ دیں اور اپنے پروردگار کو پکارتے رہو اور مشرکوں میں ہرگز نہ ہو جیو

ولا یصدنک عن اٰیٰت اللہ بعد اذا نزلت الیک . اور (یہ کافر) آپ کو نہ روکیں اللہ کی آیات (کو پڑھنے اور ان پر عمل کرنے) سے بعد اس کے کہ وہ اتار کر آپ کی طرف بھیج دی گئی ہیں۔ وادع الی ربک . اور آپ اپنے رب کی (توحید اور معرفت و عبادت کی) طرف (لوگوں کو) بلائیں۔ ولا تکونن من المشرکین . اور (کافروں کی مدد و پشت پناہی کر کے) مشرکوں میں سے آپ ہرگز نہ ہوجائیں۔
Ayah 28:88

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور خدا کے ساتھ کسی اور کو معبود (سمجھ کر) نہ پکارنا اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کی ذات (پاک) کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے

ولا تدع مع اللہ الھا اخر . اور اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو آپ نہ پکاریں۔ یہ اور اس سے اوپر والی آیات میں حکم دیا ہے کہ کافروں کی امیدوں کو بالکل قطع کر دو ۔ وہ کوئی امید اس بات کی نہ کریں کہ آپ ان کی مدد کریں گے۔ لا الہ الا ھو . کیونکہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ کلام سابق کی علت ہے۔ کل شیء ھالک الاوجھہ . اس کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاکت پذیر ہے کیونکہ اللہ کے سوا ہر چیز ممکن ہے اور ممکن وہی ہوتا ہے جو فی نفسہ معدوم الوجود ہوتا ہے (اس کا کوئی وجود ذات نہیں ہوتا) ہر چیز کا وجود ایک عاریت ہے ‘ اللہ نے بطور عاریت عطا فرما دیا ہے۔ بعض نے کُلُّ شَیْءٍ ھَالِکٌ کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ جس عمل کا مقصد ذات الٰہی (کی خوشنودی کا حصول) نہ ہو وہ لغو اور باطل ہے۔ یہ کلام سابق کی علت ہے۔ لہ الحکم . اسی کے لئے حکم دینا خاص ہے یعنی اس کا حکم مخلوق میں جاری ہے۔ والیہ ترجعون . اور (آخرت میں) تم لوگ اسی کی طرف لوٹا کرلے جائے جاؤ گے یعنی وہی تم کو تمہارے اعمال کی سزا جزا دے گا۔ (28/ربیع الاول 1206 ھ ؁ کو سورة القصص کی تفسیر ختم ہوئی۔ بحمد اللہ تعالیٰ )