28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 28:48

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پھر جب اُن کے پاس ہماری طرف سے حق آپہنچا تو کہنے لگے کہ جیسی (نشانیاں) موسٰی کو ملی تھیں ویسی اس کو کیوں نہیں ملیں۔ کیا جو (نشانیاں) پہلے موسٰی کو دی گئی تھیں اُنہوں نے اُن سے کفر نہیں کیا۔ کہنے لگے کہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔ اور بولے کہ ہم سب سے منکر ہیں

فلما جاء ھم الحق من عندنا قالوا لولا اوتی مثل ما اوتی موسیٰ . پھر جب ان کے پاس حق (قرآن یا پیغمبر) ہمارے پاس سے آگیا تو کہنے لگے : اس (پیغمبر) کو ویسا معجزہ کیوں نہیں دیا گیا جیسا موسیٰ کو دیا گیا تھا۔ قَالُوْا یعنی کفار مکہ نے محض ضد اور ہٹ کی وجہ سے کہا۔ مِثْلَ مَا اُوْتِیَ مُوْسٰی یعنی موسیٰ کو جیسے عصا اور ید بیضاء وغیرہ کے معجزات دئیے گئے ایسے معجزات اس پیغمبر کو کیوں نہیں دئیے گئے یا یہ مطلب کہ جیسے پوری کتاب یکدم موسیٰ پر اتاری گئی ویسے یکدم پوری کتاب محمد ﷺ پر کیوں نہ اتاری گئی۔ اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل قالوا سحرن تظھرا . کیا موسیٰ کو جو کچھ پہلے دیا گیا تھا اس کا انہوں نے انکار نہیں کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں جو باہم متفق ہوگئے ہیں (ایک دوسرے کا مددگار ہوگیا ہے) ۔ لَمْ یَکْفُرُوْا سے مراد ہیں کفار مکہ کے ابناء جنس جو رائے و مذہب میں انہی جیسے تھے یعنی حضرت موسیٰ کے زمانہ کے کافر (فرعون اور قوم فرعون) مطلب یہ کہ موسیٰ کے زمانہ کے کافروں نے موسیٰ کی تکذیب کی اور جو معجزات موسیٰ کو دئیے گئے تھے ان کی صداقت کو ماننے سے انہوں نے انکار کردیا۔ پھر یہ کفار مکہ ( جو کفار موسیٰ کی طرح ہیں بلکہ بالکل وہی ہیں ‘ مترجم) کس طرح سے آپ سے موسیٰ کے معجزات جیسے معجزات طلب کرتے ہیں (یہ بھی انکار کردیں گے اور موسیٰ کے معجزات جیسے معجزات کو نہیں مانیں گے ‘ مترجم) ۔ کلبی کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ نے مکہ والوں کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے مدینہ کو علماء یہود کے پاس کچھ آدمی رسول اللہ کے دعویٰ کی صداقت یا کذب کو دریافت کرنے کے لئے بھیجے۔ یہودیوں نے بتایا کہ پیغمبر آخر الزماں یعنی محمد ﷺ کے اوصاف توریت میں موجود ہیں۔ قاصدوں نے واپس آکر مکہ والوں سے یہودیوں کا جواب نقل کردیا لیکن انہوں نے اس جواب کو بھی نہ مانا اور جو کتاب موسیٰ کو دی گئی تھی اس کا بھی انکار کردیا۔ اس شان نزول پر اَوَلَمْ یَکْفُرُوْا کا فاعل حقیقتاً کفار مکہ ہوں گے اور مَا اُوْتِیْ مُوْسٰی سے مراد توریت ہوگی ‘ مترجم) ۔ قَالُوْا سٰحِرٰنِ بقول کلبی مکہ والوں نے کہا کہ محمد ﷺ اور موسیٰ دونوں جادوگر ہیں۔ دوسرے اہل تفسیر کے قول پر ساحران سے مراد ہوں گے موسیٰ اور ہارون۔ تَظَاھَرَا یعنی محمد ﷺ اور موسیٰ دونوں متفق ہوگئے ہیں۔ ایک کی کتاب دوسرے کی کتاب کی تائید کر رہی ہے یا موسیٰ اور ہارون متفق الرائے ہوگئے ہیں۔ وقالوا انا بکل کفرون . اور (کفار مکہ یا موسیٰ کے زمانہ کے کافروں نے) کہا : ہم ان دونوں محمد ﷺ و موسیٰ یا موسیٰ و ہارون میں سے ہر ایک کے منکر ہیں۔ کلبی کا تفسیری قول رفتار کلام کے زیادہ مناسب ہے اور آئندہ آیت سے بھی زیادہ موافق ہے۔
Ayah 28:49

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم خدا کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں (کتابوں) سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔ تاکہ میں بھی اسی کی پیروی کروں

قل فاتوا بکتب من عند اللہ ھوا ھدی منھما اتبعہ ان کنتم صدیقین . (اے محمد ! ) آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو (کہ محمد ﷺ و موسیٰ جادوگر ہیں اور ان کی پیش کردہ کتابیں جادو ہیں) تو اللہ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب پیش کرو جو ان دونوں سے (یعنی محمد ﷺ و موسیٰ کی کتابوں سے) زیادہ ہدایت آفریں ہو کہ میں اس پر چلوں۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ اس میں حرف شک (یعنی ان) اظہار شک کے لئے نہیں ہے بلکہ بطور استہزاء ذکر کیا گیا ہے اور اس سے مراد ہے صرف لاجواب بنا دینا اور الزام دینا۔
Ayah 28:50

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر یہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں۔ اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے۔ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

فان لم یستجیبوا لک فاعلم انما یتبعون اھوآء ھم . پھر اگر یہ آپ کے کہنے کو پورا نہ کرسکیں تو آپ سمجھ لیں کہ یہ لوگ محض اپنی نفسانی خواہشات پر چلتے ہیں۔ یعنی آپ جو ان سے ایسی کتاب پیش کرنے کو کہہ رہے ہیں جو قرآن و توریت سے زیادہ ہدایت آگین ہو۔ اگر یہ لوگ ایسی کتاب پیش نہ کرسکیں تو جان لیجئے کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ‘ اگر کوئی دلیل ہوتی تو پیش کرتے۔ ومن اضل ممن اتبع ھوہ بغیر ھدی من اللہ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین . اور ایسے شخص سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو نفسانی خواہشات پر چلتا ہو بغیر اس کے کہ اللہ کی طرف سے کوئی دلیل اس کے پاس ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے ناحق کوش لوگوں کو اللہ ہدایت نہیں کیا کرتا۔ بِغَیْرِ ھُدًی مِّنَ اللّٰہِ یہ محض تاکید ہے یا قید (احترازی) ہے کیونکہ خواہش نفس کبھی حق کے موافق ہوجاتی ہے بشرطیکہ ایمان کامل ہوجائے۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی شخص (کامل) مؤمن نہیں ہوگا جب تک کہ اس کا میلان نفس اس (حق) کا تابع (نہ) ہوجائے جو میں لے کر آیا ہوں۔ رواہ البغوی فی شرح السنۃ عن عبد اللہ بن عمرو قال النووی حدیث صحیح۔ اَلظَّالِمِیْنَ یعنی جن لوگوں نے خواہشات نفسانیہ میں انہماک کیا ہو اور خود اپنے نفسوں پر ظلم کیا ہو۔
Ayah 28:51

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور ہم پے درپے اُن لوگوں کے پاس (ہدایت کی) باتیں بھیجتے رہے ہیں تاکہ نصیحت پکڑیں

ولقد وصلنا لھم القول لعلھم یتذکرون . اور ہم نے اس کلام (یعنی قرآن) کو ان کے لئے مسلسل نازل کیا (یعنی تازہ بتازہ ایک کے بعد دوسری آیت) تاکہ یہ لوگ (تازہ بتازہ سننے کے بعد) نصیحت حاصل کریں۔ وَلَقَدْ وَصَّلْنَا الخ فراء نے کہا : یعنی ہم نے قرآن کی آیات یکے بعد دیگرے اتاریں۔ بیضاوی نے لکھا ہے : یعنی ہم نے اتارنے میں اتصال رکھا تاکہ یاددہانی ہوتی رہے یا عبارت میں وصل رکھا تاکہ دلائل سے دعوت میں اور وعد و وعید سے مواعظ میں اور عبرتوں سے نصیحتوں میں قوت پیدا ہو۔ مفسر مدارک نے لکھا ہے : توصیل کا معنی ہے تکثیر و تکرار وصل (یعنی بات تفعیل مبالغہ کے لئے ہے ‘ مترجم) حضرت ابن عباس نے وَصَّلْنَا کا ترجمہ کیا ہے بَیَّنَّا ہم نے کھول کر بیان کردیا یعنی بعض آیات دوسری آیات کے مضمون کو کھول کر بیان کرنے والی ہیں۔ قتادہ نے کہا : اس قرآن میں اللہ نے بار بار بیان کیا ہے کہ گزشتہ لوگوں سے کیا سلوک کیا گیا۔ مقاتل نے کہا : ہم نے کفار مکہ کے لئے قرآن میں گزشتہ امتوں کے واقعات بیان کر دئیے اور بتادیا کہ تکذیب و کفر کی وجہ سے ان پر کیسے عذاب آئے۔ ابن زید نے کہا : ہم نے خبر دنیا کے ساتھ خبر آخرت کو ملا دیا ‘ اس قدر کہ گویا انہوں نے دنیا میں آخرت کا معائنہ کرلیا۔ ابن جریر اور طبرانی نے رفاعہ قرظی کا قول نقل کیا ہے کہ آیت وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَھُمُ الْقَوْلَ دس آدمیوں کے حق میں نازل ہوئی جن میں سے ایک میں ہوں۔ ابن جریر نے علی بن رفاعہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ اہل کتاب میں سے دس آدمی جن میں ایک رفاعہ یعنی علی کے باپ بھی تھے ‘ نکل کر رسول اللہ کی خدمت میں پہنچے اور ایمان لے آئے پھر ان کو دکھ دئیے گئے ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 28:52

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں

الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یؤمنون . اس (قرآن یا محمد ﷺ سے پہلے ہم نے جن لوگوں کو کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ابن جریر نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ ہم سے بیان کیا جاتا تھا کہ (بعثت سے پہلے) اہل کتاب میں سے دس آدمی حق پر تھے۔ پھر جب رسول اللہ مبعوث ہوئے تو وہ حضور ﷺ پر ایمان لے آئے ‘ انہی میں سے عبد اللہ بن سلام بھی تھے۔ کذا ذکر البغوی و کذا اخرج ابن مردویہ عن ابن عباس۔ طبرانی نے اولاوسط میں حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت نجاشی کے ساتھیوں میں چالیس آدمی آئے اور غزوۃ خیبر میں شریک ہوئے اور کچھ زخمی بھی ہوئے ‘ شہید کوئی نہیں ہوا۔ پھر خیبر کے واقعہ کے بعد انہوں نے دیکھا کہ مسلمان بہت محتاج ہیں تو خدمت گرامی میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم مالدار ہیں ‘ ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم اپنا مال لے کر آجائیں اور مسلمانوں کی مدد کریں۔ اس پر آیت اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنَھُمْ الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِہٖ ھُمْ بِہٖ یُؤْمِنُوْنَ نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم نے بروایت سعید بن جبیر بیان کیا ہے کہ جب حضرت جعفر اور آپ کے فرقاء نجاشی کے پاس پہنچے تو نجاشی نے ان کی میزبانی کی اور اچھا سلوک کیا۔ جب یہ لوگ لوٹنے لگے تو نجاشی کی حدو و مملکت میں رہنے والوں نے نجاشی سے کہا کہ ہم کو اجازت دیجئے کہ (ہم ان کے ساتھ جائیں اور) سمندر میں ان کی خدمت کریں اور پھر نبی کی خدمت میں پہنچ کر تجدید عہد کریں۔ نجاشی نے اجازت دے دی۔ وہ لوگ اپنے ملک سے روانہ ہو کر خدمت گرامی میں حاضر ہوگئے۔ احد ‘ حنین اور خیبر کی لڑائیوں میں حضور ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے لیکن ان میں سے کوئی شہید نہیں ہوا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گزارش کی کہ ہم کو اپنے دیس کو جانے کی اجازت مرحمت فرما دیجئے ‘ اپنے ملک میں ہمارے پاس مال ہے ‘ ہم وہاں سے مال لا کر مہاجرین کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ مہاجرین سخت محنت (ناداری) میں مبتلا ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اجازت دے دی۔ وہ لوگ چلے گئے ‘ پھر مال لے کر آئے اور مہاجرین کو تقسیم کیا۔ اللہ نے انہی کے بارے یہ آیت نازل فرمائی۔ بغوی نے سعید بن جبیر وغیرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ انہی کے بارے میں اللہ نے آیات اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنَھُمْ الْکِتٰبَ سے وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَتک نازل فرمائیں۔ (بغوی نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ یہ آیت اسی (80) اہل کتاب کے حق میں نازل ہوئی ‘ بیس نجرانی تھے ‘ بتیس حبشی اور آٹھ شامی) ۔ اس سے آگے مؤمنین اہل کتاب کے اوصاف بیان فرمائے ہیں۔
Ayah 28:53

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب (قرآن) اُن کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بیشک وہ ہمارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے اور ہم تو اس سے پہلے کے حکمبردار ہیں

واذا یتلی علیھم قالو امنا بہ انہ الحق من ربنا انا کنا من قبلہ مسلمین . اور جب (قرآن) ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے بلاشبہ یہ ہی سچا ہے ہمارے رب کی طرف سے (اترا ہے) ہم تو اس سے پہلے ہی مسلم (اطاعت گزار) تھے۔ ہم اس پر ایمان لائے یعنی اس بات پر ایمان لائے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ مُسْلِمِیْنَ یعنی اقرار توحید میں مخلص تھے ‘ محمد ﷺ کے نبی ہونے پر ایمان رکھتے تھے۔ پہلے سے رسول اللہ کی نبوت پر ایمان رکھنے کی یہ وجہ تھی کہ حضرت عیسیٰ نے رسول اللہ کی بشارت دے دی تھی اور فرما دیا تھا مُبْشِّرًا بِّرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِیْ اسْمُہٗ اَحْمَدُ اور رسول اللہ کا ذکر توریت میں بھی تھا اور انجیل میں بھی۔ مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ پر ہمارا ایمان نیا نہیں بلکہ پہلے سے ہے۔ ممکن ہے کہ جملہ اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ مُسْلِمِیْنَ استینافیہ نہ ہو بلکہ رَبَّنَا اْمَنَّا بِہٖ کا بیان ہو رَبَّنَا اْمَنَّا میں ایمان جدید و قدیم دونوں کا احتمال تھا۔ اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ سے ایمان جدید کا احتمال زائل ہوگیا۔
Ayah 28:54

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

ان لوگوں کو دگنا بدلہ دیا جائے گا کیونکہ صبر کرتے رہے ہیں اور بھلائی کے ساتھ برائی کو دور کرتے ہیں اور جو (مال) ہم نے اُن کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

اولئک یوتون اجرھم مرتین . ان لوگوں کو ان کا اجر دو مرتبہ دیا جائے گا (دوہرا اجر ملے گا) ۔ ایک بار پنی کتاب پر اور کتاب کی شہادت کے بموجب نزول قرآن سے پہلے قرآن پر ایمان لانے کا اور دوسری مرتبہ نزول قرآن کے بعد اس پر ایمان لانے کا۔ بما صبروا . بوجہ اس کے کہ وہ (نزول قرآن کے بعد اپنے ایمان پر) جمے رہے۔ جس طرح پہلے ایمان رکھتے تھے اسی طرح نزول کے بعد بھی ایمان پر قائم رہے۔ برخلاف دوسرے اہل کتاب کے کہ نزول قرآن سے پہلے تو قرآن پر ان کا ایمان تھا اور کافروں کے مقابلہ میں رسول اللہ کے طفیل سے دعاء فتح کیا کرتے تھے۔ لیکن جب وہ جانا پہچانا قرآن (یا رسول) ان کے پاس آگیا تو محض حسد کی وجہ سے ماننے سے انکار کردیا اور سابق ایمان پر قائم رہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : تین (آدمی) ہیں جن کو دوہرا ایمان ملے گا : ایک وہ کتابی جو اپنے نبی پر بھی ایمان لایا اور محمد پر بھی ایمان لائے ‘ (دوسرا) وہ مملوک غلام جس نے اللہ کا بھی حق ادا کیا اور اپنے آقاؤں کا بھی اور (تیسرا) وہ شخص جس کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اس کو اچھی طرح تربیت وتعلیم دے کر آزاد کر دے ‘ اس سے نکاح کرلے ‘ اس کو بھی دوہرا ثواب ہوگا۔ ویدرء ون بالحسنۃ السیءۃ . اور وہ بھلائی سے برائی کو دفعہ کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : لا الہ الا اللّٰہ کی شہادت دے کر شرک کو دفع کرتے ہیں۔ مقاتل نے کہا : مشرکوں کی طرف سے گالیاں اور برا بھلا سن کر عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں : یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ دشمنوں کی دشمنی کو ان کے ساتھ بھلائی کر کے دفع کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ جس شخص کی تم سے دشمنی ہے (اگر اس کے ساتھ احسان کرو گے) تو وہ ایسا ہوجائے گا کہ گویا وہ گہرا دوست ہے۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ طاعت سے معصیت کو دفع کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ بلاشبہ نیکیاں گناہوں کو زائل کردیتی ہیں۔ رسول اللہ کا ارشاد ہے : بدی کے پیچھے نیکی کرلیا کرو کہ وہ بدی کو مٹا دے گی۔ ومما رزقنھم ینفقون . اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ (راہ خیر میں) خرچ کرتے ہیں۔
Ayah 28:55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال۔ تم کو سلام۔ ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں

واذا سمعوا اللغوا غرضوا عنہ وقالو لنا اعمالنا والکم اعمالکم سلم علیکم لا نبتعی الجھلین اور جب وہ (مشرکوں سے) بیہودہ بات سنتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لئے تمہارے عمل تمہارے لئے (ہمارا دین ہمارے لئے تمہارا دین تمہارے لئے) تم کو سلام ‘ ہم جاہلوں (سے الجھنا) نہیں چاہتے۔ اَللَّغْوَ بیہودہ بات۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مشرکین ‘ مؤمنین اہل کتاب کو گالیاں دیتے اور کہتے تھے کہ تم مرو ‘ تم نے اپنا مذہب چھوڑ دیا۔ مؤمن ان سے منہ پھیر لیتے اور کوئی جواب نہیں دیتے تھے۔ سلام علیکم ‘ اس سے مراد سلام تحیت و دعا نہیں بلکہ سلام ترک مراد ہے۔ مطلب یہ کہ ہم گالیاں نہیں دیں گے ‘ برا نہیں کہیں گے ‘ تم کو جواب نہیں دیں گے۔ لاَ نَبْتَغِیْ الْجَاھِلِیْنَ یعنی ہم جاہلوں کوا دین نہیں چاہتے ‘ تمہارے مذہب کو پسند نہیں کرتے۔ بعض کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ ہم جاہلوں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ہم جاہلوں میں سے ہونا نہیں چاہتے یعنی تم ہم کو گالیاں دیتے ہو ‘ برا کہتے ہیں ‘ اگر جواب میں ہم بھی تم کو گالیاں دیں گے تو تمہاری طرح جاہل ہوجائیں گے اور ہم ایسا ہونا نہیں چاہتے ‘ ہم جاہلوں میں سے ہوجانے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یہ حکم اس وقت تھا جب جہاد کا حکم نہیں ہوا تھا۔ میں کہتا ہوں : بغوی کا یہ قول واقعۂ نزول کے مطابق نہیں ہے کیونکہ اس آیت کا نزول یا حضرت عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کے حق میں ہوا ‘ یہ حضرات تو ہجرت کے بعد اسلام لائے تھے یا ان حبشیوں کی بابت ہوا جو حضرت جعفر بن ابی طالب کے ساتھ نجاشی کے پاس آئے تھے ‘ ان کی آمد بھی 6 ھ ؁ میں غزوۂ خیبر کے وقت ہوئی تھی یا چالیس نجرانیوں اور آٹھ شامیوں کے متعلق ہوا۔ یہ واقعہ بھی ہجرت کے بعد کا ہے اور اس وقت کا جب جہاد کا حکم آچکا تھا۔ مسلم وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ نے اپنے چچا ابو طالب سے فرمایا : آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیجئے تاکہ قیامت کے دن میں آپ کے لئے شہادت دے سکوں۔ ابوطالب نے کہا : اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ قریش کی عورتیں عار دلائیں گی اور کہیں گی (موت کے) خوف سے ابوطالب نے کلمہ پڑھ لیا تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھ ٹھنڈی کردیتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

(اے محمدﷺ) تم جس کو دوست رکھتے ہو اُسے ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہ ہدایت پانیوالوں کو خوب جانتا ہے

انک لا تھدی من اجبت ولکن اللہ یھدی من یشاء وھو اعلم بالمھتدین . بیشک آپ (ہر اس شخص کو) جس کو پسند کریں ہدایت یاب نہیں کرسکتے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت یاب کرتا ہے اور وہی ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔ مَنْ اَجْبَبْتَ یعنی جس کو ہدایت یاب کرنا آپ پسند کریں یا جس سے قرابت داری کی وجہ سے آپ کو محبت ہو۔ الْمُھْتَدِیْنَ مجاہد و مقاتل نے کہا : یعنی ان لوگوں کو اللہ ہی خوب جانتا ہے جن کے لئے ہدایت مقرر کردی گئی ہے۔ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں اور نسائی نے ابو سعید بن رافع کی روایت سے بیان کیا ہے۔ ابو سعید نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر سے دریافت کیا کہ آیت اِنَّکَ لاَ تَھْدِیْ مَنْ اَجْبَبْتَ ابوجہل اور ابوطالب کے متعلق نازل ہوئی تو انہوں نے فرمایا : ہاں۔ شیخین ‘ نسائی ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابوالشیخ ‘ ابن مردویہ اور بیہقی نے سعید بن مسیب کے حوالہ سے ان کے باپ کی روایت نقل کی ہے ‘ سعید کے باپ نے کہا : ابوطالب کے انتقال کا وقت آپہنچا تو رسول اللہ ان کے پاس تشریف لے گئے ‘ ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ وہاں موجود تھے ‘ حضور ﷺ نے فرمایا : میرے چچا لا الہ الا اللہ ایک بار کہہ دیجئے تاکہ اللہ کے سامنے اس کلمہ کو آپ کے لئے حجت میں پیش کرسکوں۔ ابوجہل اور عبد اللہ نے کہا : کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے روگرداں ہوجائیں گے ؟ رسول اللہ برابر کلمہ پیش کرتے رہے اور بار بار دہراتے رہے ‘ بالاخر ابوطالب نے جو آخری لفاظ زبان سے نکالا وہ یہ تھا : علی ملۃ عبدالمطلب عبدالمطلب کے مذہب پر اور لا الہ الا اللہ کہنے سے انکار کردیا۔ رسول اللہ نے فرمایا : جب تک مجھے ممانعت نہ ہوگی میں آپ کے لئے دعاء مغفرت کرتا رہوں گا۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی : مَا کَان لِلّنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ الایۃ نبی کے لئے اور مسلمانوں کے لئے مشرکوں کے لئے دعاء مغفرت کرنی جائز نہیں۔ الایۃ اور ابو طالب کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی : اِنَّکَ لاَ تَھْدِیْ مَنْ اَجْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ۔ ابن جریر نے بروایت عوفی حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ کچھ قریشی لوگوں نے رسول اللہ سے کہا تھا کہ اگر ہم آپ کی پیروی کریں گے تو لوگ ہم کو اچک لیں گے۔ اس پر اللہ نے یہ نازل فرمایا۔
Ayah 28:57

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اُچک لئے جائیں۔ کیا ہم نے اُن کو حرم میں جو امن کا مقام ہے جگہ نہیں دی۔ جہاں ہر قسم کے میوے پہنچائے جاتے ہیں (اور یہ) رزق ہماری طرف سے ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے

وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا . اور انہوں نے یعنی مکہ والوں نے کہا : اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت پر چلیں گے تو ہم ‘ ہماری (اس) زمین سے اچک لئے جائیں گے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یہ آیت حارث بن عثمان بن نوفل بن عبد مناف کے بارے میں نازل ہوئی۔ حارث نے کہا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے لیکن اگر ہم آپ کے کہنے پر چلیں گے تو ہم کو اندیشہ ہے کہ عرب ہم کو مکہ کی سرزمین سے نکال دیں گے۔ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا کا یہی مطلب ہے۔ کذا اخرج النسائی و ابن المنذر عن ابن عباس۔ نسائی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ حارث بن عامر بن نوفل نے یہ بات کہی تھی۔ اِخْتِطَاف (جھپٹ لینا ‘ اچک لینا) تیزی سے چھین لینا۔ اللہ نے اس کی تردید میں فرمایا : اولم نمکن لہم حرما امنا یحجی الیہ ثمرت کل شیء رزقا من لدنا ولکن اکثرھم لا یعلعمون کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں پر ہر قسم کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں جو ہماری طرف سے کھانے کو ملتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ (اس احسان و مصلحت کو) نہیں جانتے۔ اَوَلَمْ نُمَکِنْ لَّھُمْ الخ استفہام انکاری ہے اور محذوف جملہ پر عطف ہے یعنی کیا ہم نے ان کو مکہ کا ساکن نہیں بنایا اور کیا ان کو حرم میں جگہ نہیں دی جو امن والا ہے۔ دور جاہلیت میں عرب باہم قتل و غارت کیا کرتے تھے ‘ لوٹ مار کا عام دستور تھا ‘ کسی جگہ امن نہ تھا لیکن مکہ والے حرم کی حرمت کی وجہ سے امن چین سے رہتے تھے۔ مشہور بات ہے کہ ہرن بھیڑیوں سے اور کبوتر شکاری چیلوں سے محفوظ رہتے ‘ حرم کے اندر کوئی جانور بھی کسی جانور کا شکار نہیں کرتا تھا۔ جب بت پرستی کے دور میں بت پرست حرم کی وجہ سے مامون و محفوظ تھے تو حرمت کعبہ کے ساتھ جب حرمت توحید بھی شامل ہوگئی تو پھر جھپٹ لے جانے پر اللہ کیسے قدرت دے سکتا ہے۔ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لیکن ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ‘ نہ اس بات کو سمجھتے ہیں ‘ نہ غور کرتے ہیں۔ ڈرنا تو کفر و معصیت کی وجہ سے اللہ کے عذاب سے چاہئے نہ کہ ایمان و توحید سے کیونکہ
Ayah 28:58

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو اپنی (فراخی) معیشت میں اترا رہے تھے۔ سو یہ اُن کے مکانات ہیں جو اُن کے بعد آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت کم۔ اور اُن کے پیچھے ہم ہی اُن کے وارث ہوئے

وکم اھلکنا من قریۃ بطرت معیشتھا فتلک مسکنھم لم تسکن من بعدھم الا قلیلا وکنا نحن الوارثین اور ہم بہت سی ایسی بستیاں ہلاک کرچکے ہیں جو اپنے اسباب عیش پر اتراتے تھے سو (دیکھ لو) یہ ان کے گھر (تمہاری نظروں کے سامنے) ہیں کہ ان کے بعد ان گھروں میں آبادی نہیں ہوئی مگر تھوڑے مکانوں میں اور آخرکار ان کے سب مکانوں کے ہم ہی مالک رہے۔ وَکَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ یعنی بہت سی بستیوں والوں کو ہم نے غارت کردیا جن کی حالت تمہاری حالت کی طرح تھی۔ بَطِرَتْ جو نازاں تھی ‘ مغرور تھی ‘ اتراتی تھی یعنی ان کے باشندے اپنی خوش عیشی کے زمانے میں اتراتے تھے ‘ اللہ کی نعمتوں کے شکرگزار نہ تھے۔ عطاء نے کہا : وہ عیش و غرور میں پڑے ہوئے تھے ‘ اللہ کا دیا ہوا رزق کھاتے تھے ‘ مزے اڑاتے تھے اور بت پرستی کرتے تھے ‘ اللہ کی نافرمانی میں غرق تھے۔ مَعِیْشَتَھَا یہ ظرف (مفعول فیہ) ہے یعنی عیش کے زمانہ میں اتراتے رہے۔ آخر اللہ نے ان کو غارت کردیا اور ان کی بستیوں کو تباہ کردیا ‘ سب کو ہلاک کردیا۔ فَتِلْکَ مَسَاکِنُھُمْ پس یہ (قوم ثمود کے حجر میں کھنڈر اور قوم لوط کے ویران دیہات) جو ان کے رہنے کے مقامات تھے ‘ ویران پڑے ہیں۔ مِنْم بَعْدِھِمْ ان کے ہلاک کرنے کے بعد۔ اِلاَّ قَلِیْلاً مگر قلیل سکونت یا تھوڑے وقت کے لئے (اول صورت میں مفعول بہ ہے اور دوسری صورت میں مفعول فیہ ‘ مترجم) ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ان کھنڈروں میں ایک دن یا ایک گھنٹہ کے لئے مسافر اور راہ گیر ٹھہرے اور کوئی ان میں نہیں رہا۔ بعض نے کہا کہ کوئی شخص بھی سوائے تھوڑے سے لوگوں میں وہاں نہیں رہا اور یہ ان کے گناہوں کی نحوست کا نتیجہ رہا۔ وَکُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِیْنَ یعنی ان کا جانشین کوئی نہ رہا کہ ان مکانوں میں رہتا اور ان کی چیزیں استعمال کرتا ‘ ہم ہی آخر مالک رہے۔
Ayah 28:59

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا۔ جب تک اُن کے بڑے شہر میں پیغمبر نہ بھیج لے جو اُن کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں

وما کان ربک مھلک القری حتی یبعث فی امھا رسولا یتلوا علیھم ایتنا وما کنا مھلکی القری الا واھلھا ظلمون اور آپ کا رب ایسا تو نہیں کہ بستیوں کو ہلاک کر دے بغیر اس کے کہ ان کے صدر مقام میں کسی ایسے رسول کو بھیجے جو ہماری آیات ان کو پڑھ کر سنائے ‘ ہم بستیوں کو اسی وقت ہلاک کرتے ہیں جب ان میں رہنے والے بہت ہی شرارت کرنے لگیں۔ وَمَا کَانَ رَبُّکَ یعنی آپ کے رب کا یہ دستور نہیں کہ بغیر رسول بھیجے کسی بستی کو یونہی تباہ کر دے۔ اَلْقُرٰی یعنی کافر بستیاں۔ فیْ اُمِّھَا یعنی ان کی سب سے بڑی بستی میں۔ رَسُوْلاً (یعنی اللہ کے عذاب اور اس کے احکام کی خلاف ورزی سے) ڈرانے والا۔ بڑی بستی کو بعثت رسول کے لئے اس لئے خاص کیا کہ عموماً پیغمبروں کو سرداروں کے پاس ہدایت کرنے کے لئے (پہلے) بھیجا گیا کیونکہ عوام تو کفر و ایمان میں خواص کے تابع ہوتے ہیں اس لئے رسول اللہ نے ہرقل کو نامۂ مبارک بھیجا تھا جس میں لکھا کہ اسلام لاؤ ‘ سالم رہو گے ورنہ تم پر رعایا کا بھی وبال گناہ ہوگا۔ اور سردار لوگ عام طور پر بڑے شہروں میں ہی رہتے ہیں اور مرکزی مقامات ہی میں ان کے مکان ہوتے ہیں۔ یَتْلُوْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتِنَا مقاتل نے کہا کہ رسول ان کو اطلاع دیتا ہے کہ اگر ایمان نہ لائے تو تم پر عذاب نازل ہوگا۔ اَھْلُھَا ظٰلِمُوْنَ یعنی پیغمبروں کو تکذیب اور انکار کر کے اپنے اوپر خود ظلم کرتے ہیں۔
Ayah 28:60

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور جو چیز تم کو دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا فائدہ اور اس کی زینت ہے۔ اور جو خدا کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟

وما اوتیتھم من شیء فمتاع الحیوۃ الدنیا وزینتھا وما عندا اللہ خیرو ابقی افلا تعلمون اور جو کچھ تم کو (مال و اسباب) دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کا (عارضی) سروسمان اور سجاوٹ ہے اور جو (اجر وثواب) اللہ کے ہاں ہے وہ (دنیوی سامان وزینت سے) بہت بہتر اور لازوال ہے ‘ کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ؟ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَزِیْنَتُھَا یعنی دنیوی سامان ہے جس کو تم برتتے ہو اور دنیا کی سجاوٹ ہے جس سے زندگی بھر زینت حاصل کرتے ہو۔ وَمَا عِنْدَ اللہ یعنی جو جنت اور مراتب قرب خَیْرٌ اس سے فی نفسہ بہتر ہے کیونکہ وہ خالص لذت اور کامل سرور ہے۔ وَاَبْقٰی اور بہت زیادہ باقی رہنے والی ہے کیونکہ ابدی (لازوال) ہے۔ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ استفہام انکاری ہے اور عطف محذوف جملہ پر ہے یعنی تم غور نہیں کرتے اور نہیں سمجھتے۔
Ayah 28:61

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا اور اُس نے اُسے حاصل کرلیا تو کیا وہ اس شخص کا سا ہے جس کو ہم نے دنیا کی زندگی کے فائدے سے بہرہ مند کیا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہو جو (ہمارے روبرو) حاضر کئے جائیں گے

افمن وعدنہ وعدا حسنا فھولا قیہ کمن متعنہ متاع الحیوہ الدنیا ثم ھو یوم القیمۃ من المحضرین . کیا وہ شخص جس سے ہم نے پسندیدہ وعدہ کر رکھا اور وہ اس کو (یعنی وعدہ کئے ہوئے ثواب کو) پائے گا بھی اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کو دنیوی فوائد سے تو ہم نے بہرو اندوز کردیا ہے ؟ پھر قیامت کے دن وہ ان لوگوں میں سے ہوگا جو گرفتار کر کے حاضر کئے جائیں گے۔ اَفَمَنْ میں استفہام انکاری ہے اور اس کا عطف محذوف جملہ پر ہے یعنی کیا اس کھلے ہوئے فرق کے باوجود تم نے اس شخص کو جس سے ہم نے ایک اچھا وعدہ کر رکھا ہے۔ الخ وَعْدًا حَسَنًا یعنی جنت کا وعدہ۔ جس چیز کا وعدہ کی اجائے اگر وہ اچھی ہو تو اس کا وعدہ بھی اچھا ہوا ہے۔ جنت بجائے خود اچھی ہے اس لئے اس کا وعدہ بھی اچھا ہے۔ فَھُوَ لاَ قِیْہِ لامحالہ وہ اس کو وعدۂ الٰہی کے مطابق پائے گا کیونکہ اللہ کے وعدہ کے خلاف ہونا ناممکن ہے۔ مَتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدَّنْیَا یعنی وہ حیات دنیوی کا سامان جو آلام سے پر ہے تکالیف اور مصائب نے اس کو مکدر کردیا ہے پھر فانی ہے زوال کے بعد سوائے حسرت کے اس کا اور کوئی نتیجہ نہیں۔ اَلْمُحْضَرِیْنَ یعنی وہ لوگ جن کو حساب یا عذاب کے لئے حاضر کیا جائے گا۔ قتادہ نے کہا : یعنی مؤمن و کافر برابر نہیں ہوسکتا ‘ کافر کا مآل برا اور مؤمن کا اچھا ہوگا۔ بغوی اور ابن جریر نے مجاہد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ یہ آیت رسول اللہ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ دوسرے سلسلۂ روایت سے بغوی نے لکھا ہے کہ یہ آیت حضرت حمزہ اور ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی۔ بغوی نے مقاتل اور محمد بن کعب قرظی کی روایت سے بیان کیا کہ اس آیت کا نزول حضرت حمزہ اور ابوجہل یا حضرت علی اور ابوجہل کے حق میں ہوا۔ بعض نے کہا کہ حضرت عمار اور ولید بن مغیرہ کے متعلق اس کا نزول ہوا۔
Ayah 28:62

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس روز خدا اُن کو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کا تمہیں دعویٰ تھا

ویوم ینادیھم فیقول این شرکاء ی الذین کنتم تزعمون . اور اس دن کو یاد کرو جب اللہ ان (مشرکوں) کو پکار کر فرمائے گا (آج) وہ میرے شریک کہاں ہیں جن کو (دنیا میں میرا شریک) خیال کرتے تھے۔ میں کہتا ہوں کہ شاید شرکاء سے مراد وہ سرداران کفر ہوں کہ جن کی وجہ سے ان کے تابعین نے اللہ کی عبادت چھوڑ کر انہی کی عبادت اختیار کرلی تھی اور انہی کا اتباع کرتے تھے۔ ان کو شرکاء بطور استہزاء کہا گیا ہے۔
Ayah 28:63

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

(تو) جن لوگوں پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ ہمارے پروردگار یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ اور جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے اسی طرح اُن کو گمراہ کیا تھا (اب) ہم تیری طرف (متوجہ ہوکر) اُن سے بیزار ہوتے ہیں یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے

قال الذین حق علیھم القول ربنا ھولاء الذین اغوینا اغوینھم کما غوینا تبرانآ الیک ما کانوا ایانا یعبدون . جن لوگوں پر (خدا کی) بات پوری ہوچکی ہوگی وہ کہیں گے : بیشک یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکا دیا تھا جیسا ہم بہکے تھے ویسا ہی ہم نے ان کو بہکا دیا (آج) ہم تیرے سامنے ان سے دست برادر ہوتے ہیں (کیونکہ) یہ لوگ ہماری پوجا نہیں کرتے تھے۔ قَالَ الَّذِیْنَ یعنی کافروں کے سردار اور لیڈر کہیں گے۔ اَلْقَوْلَ یعنی اللہ کی یہ بات واجب ہوچکی ہوگی کہ میں دوزخ کو جنات سے اور آدمیوں سے سب سے بھر دوں گا اور اس کے علاوہ دوسری آیات وعید عذاب کا وقوع بھی واجب ہوچکا ہوگا۔ اَغْوَیْنَا مفعول کی ضمیر محذوف ہے یعنی یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکا دیا تھا۔ کَمَا غَوَیْنَا یعنی جس طرح ہم بہک گئے تھے ‘ خود اپنے اختیار سے گمراہی میں پڑگئے تھے۔ ہم کو جبراً گمراہ کردینے کا اختیار نہیں تھا ‘ ہم نے تو ان کو ورغلایا تھا ‘ وسوسے پیدا کئے تھے ‘ لالچ دئیے تھے ‘ یہ لالچ میں بڑ گئے۔ ہمارا پرفریب وسوسہ اگرچہ ان کو کفر کی طرف دعوت دے رہے تھا لیکن اللہ نے پیغمبر بھیج دئیے تھے ‘ کتابیں نازل کردی تھیں ‘ ہر طرح کی دلیلیں قائم کردی تھیں ‘ جن کی موجودگی میں ان کو ہمارے بہکاوے میں نہ آنا چاہئے۔ یہ آیت مضمون کے لحاظ سے ایسی ہی ہے جیسی دوسری آیت میں فرمایا ہے : فَقَال الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الخ۔ تَبَرَّاْنَا اِلَیْکَ یعنی آج ہم تیری بارگاہ میں تیرے سامنے ان سے اور جس کفر کو انہوں نے اپنے نفسانی میلان و جھکاؤ سے اختیار کیا تھا سب سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ مَا کَانُوْا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ یعنی یہ ہماری پوجا نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کے پجاری تھے۔
Ayah 28:64

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ تو وہ اُن کو پکاریں گے اور وہ اُن کو جواب نہ دے سکیں گے اور (جب) عذاب کو دیکھ لیں گے (تو تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یاب ہوتے

وقیل ادعوا شرکاء کم فدعوھم فلم یستجیبوا لھم وراوا العذاب لو انھم کانوا یھتدون اور (کافروں سے کہا) جائے گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو (وہ آج آکر تم کو عذاب سے رہا کرائیں) وہ پکاریں گے لیکن وہ جواب نہیں دیں گے اور کافر (اپنے لئے اور اپنے باطل معبودوں کے لئے) عذاب دیکھ لیں گے۔ اگر وہ (دنیا میں) ہدایت یاب ہوچکے ہوتے (تو عذاب ان کے سامنے نہ آتا) ۔ شُرَکَآءَ کُمْ اس جگہ شرکاء سے مراد ہیں بت اور دوسرے باطل معبود۔ فَدَعَوْھُمْ وہ معبودوں کو پکاریں گے۔ یا تو اس کا سبب یہ ہوگا کہ وہ بدحواس ہوچکے ہوں گے ‘ دہشت زدہ ہو کر پکریں گے یا اس لئے پکاریں گے کہ ان کا عقیدہ ہی یہ تھا کہ یہ معبود خدا سے ہماری سفارش کریں گے۔ فلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا یعنی دعوت قبول نہیں کریں گے ‘ مدد کے لئے تیار نہ ہوں گے ‘ کیونکہ مدد کرنے کی ان کو قدرت ہی نہیں ہوگی۔ لَوْ اَنَّھُمْ الخ یعنی اگر وہ دنیا میں ہدایت پالیتے تو آخرت میں یہ عذاب ان کو دیکھنا نہ پڑتا۔ زیادہ صحیح یہ ہے کہ آیت میں لَوْ اظہار تمنا کے لئے ہے یعنی وہ تمنا کریں گے کہ کاش ! وہ ہدایت یاب ہوگئے ہوتے۔
Ayah 28:65

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس روز خدا اُن کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا

ویوم ینادھم فیقول ماذا اجبتم المرسلین فعمیت علھیم الانبآء یومئذ فھم لا یتسآلون اور (یاد کرو اس دن کو) جس دن کافروں سے پکار کر پوچھا جائے گا کہ تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا تھا ‘ سو اس روز ان کے ذہن سے ساری باتیں گم ہوجائیں گی ‘ سو وہ (نہ خود کوئی جواب دیں سکیں گے نہ) ہم باہم پوچھ سکیں گے (کہ پوچھ کر جواب دے سکیں) ۔ اول الذکر سوال زجری سوال تھا جو شرک کے متعلق تھا اور یہ دوسرا سوال پیغمبروں کے انکار سے تعلق رکھتا ہے۔
Ayah 28:66

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

تو وہ اس روز خبروں سے اندھے ہو جائیں گے، اور آپس میں کچھ بھی پوچھ نہ سکیں گے

فَعَمِیَتْ عَلَیْھِمْ الْاَنْبَآء یعنی جواب دینے کے سلسلہ میں وہ اندھوں کی طرح ہوجائیں گے جن کو کوئی راستہ نہیں سوجھتا ‘ پس وہ بھی اسی طرح کچھ بتانے سے عاجز ہوجائیں گے۔ کلام میں زور پیدا کرنے کے لئے اسلوب کو بدل دیا گیا ہے ‘ اصل کلام اس طرح تھا : فَعَمُوْا عَنِ الْاَنْبَآء مقصود یہ ہے کہ دنیا میں جو وجودہ بیان کی جاتی ہیں ‘ وہ عارضی ہوتی ہیں ‘ بیرونی تاثرات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ قیامت کے دن بیرونی اغواء تو ختم ہوچکا ہوگا اور کوئی خارجی حیلہ گری موجود نہ ہوگی اس لئے کوئی جواب دے نہ سکیں گے۔ اَلْاَنْبَآءُ اس سے مراد ہے پیغمبروں کو جھوٹا قرار دینے کا عذر۔ مجاہد نے کہا کہ دلائل مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کچھ نہ کرسکیں گے اور کوئی دلیل پیش نہیں کرسکیں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں ہوگی۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ اس روز ڈر کے مارے جب پیغمبر جواب میں لڑکھڑائیں گے اور جواب کو اللہ کے علم کے سپرد کردیں گے (اور کہیں گے کہ تو جانتا ہے ‘ تیرے علم میں ہے کہ ہم نے ان کو شرک کا حکم نہیں دیا وغیرہ) تو کافر لوگ کس گنتی میں ہوں گے۔ وہ کیا کہہ سکیں گے فَھُمْ لَاَیَتَسَآءَ لُوْنَ وہ آپس میں سوال نہیں کرسکیں گے ‘ دہشت اور خوف کی وجہ سے پوچھنے کی بھی ہمت نہ ہوگی یا اس خیال سے نہیں پوچھیں گے کہ جس سے سوال کیا جائے گا وہ بھی سائل کی طرح (لاجواب) ہوگا ‘ پھر پوچھنے کا کیا حاصل۔
Ayah 28:67

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

لیکن جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو اُمید ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں ہو

فاما من تاب وامن وعمل صالحا فعسی ان یکون من المفلحین . لیکن جس نے (شرک سے) توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کئے (یعنی ایمان کے ساتھ اعمال بھی ٹھیک کر لئے) تو امید ہے (یعنی اس کو امید رکھنی چاہئے کہ اللہ کے نزدیک) وہ فلاح پانے والے لوگوں میں سے ہوگا۔ عَلٰی کا لفظ اس جگہ یا تو اسی طرح استعمال کیا ہے جیسے بادشاہ یقینی بات کو بھی شکی الفاظ میں ظاہر کرتے ہیں یا وہی مطلب ہے جو ترجمہ میں بیان کردیا گیا کہ مؤمن صالح کو امید رکھنی چاہئے (یعنی امید کا رجوع اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔ اللہ امیدوار نہیں ہوتا بندہ امیدوار ہوتا ہے ‘ امید و خوف لازمۂ بندگی ہے ‘ مترجم) ۔
Ayah 28:68

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) برگزیدہ کرلیتا ہے۔ ان کو اس کا اختیار نہیں ہے۔ یہ جو شرک کرتے ہیں خدا اس سے پاک وبالاتر ہے

وربک یخلق ما یشآء ویختار ما کان لھم الخیرۃ سبحن اللہ و تعلی عما یشرکون . اور آپ کا رب جس چیز کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جس حکم کو چاہتا ہے) اختیار کرتا ہے۔ ان لوگوں کو (تخلیق اور تجویز احکام کا) کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی شرک آفرینی سے پاک اور برتر ہے۔ وَیَخْتَار اور جس کو جس چیز کے لئے چاہتا ہے اختیار کرلیتا ہے۔ اس نے تمام لوگوں کو چھوڑ کر نبوت کے لئے محمد ﷺ کا انتخاب کرلیا۔ بغوی نے لکھا ہے : مشرکوں نے کہا تھا کہ یہ قرآن دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہی اتارا گیا یعنی ولید بن مغیرہ ر پر یا عروۃ بن مسعود ثقفی پر ‘ اس قول کے جواب میں آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ مَا کَانَ لَھُمْ الْخِیَرَۃُط خِیَرَۃُ اسم مصدر ہے اور مصدر کے بجائے اس کا استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی اسم مفعول کے معنی میں بھی یہ مستعمل ہے۔ جیسے محمد خیرۃ اللہ من خلقہ اللہ کی مخلوق میں اللہ کی طرف سے برگزیدہ کئے ہوئے محمد ﷺ ہیں۔ آیت کا مقصد یہ ہے کہ بندوں کو اس بات کا اختیار نہیں کہ وہ کہنے لگیں کہ فلاں کو پیغمبر کیوں نہیں بیا گیا۔ گویا یہ جملہ سابق جملہ کی تاکید و تائید ہے ‘ اس کی مزید تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ اس کا نزول مشرکوں کے قول مذکور کے جواب میں ہوا تھا۔ سُبْحَان اللّٰہِ یعنی اللہ پاک ہے اس بات سے کہ کوئی اس کے اختیار میں مداخلت کرے۔ اور ان کی شرک آفرینی سے یا مفروضہ شریکوں کی مشارک سے بالا واعلیٰ ہے۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ مَا کَانَ لَھُمْ میں مَا موصولہ ہے جو یَخْتَارُ کا مفعول ہے اور الْخَیَْرَۃُ کے معنی ہیں خیر اور بہتر یعنی بندوں کے لئے جس چیز میں بہتر ہوتی ہے ‘ اللہ اس کو اختیار کرتا ہے۔ اس تفسیر میں سراسر تکلف ہے ‘ پھر بھی معتزلہ کے دعویٰ کی دلیل اس آیت سے نہیں نکلتی۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ جو زیادہ بہتر ہو اس کو پیدا کرنا اور غیر مفید قبیح کو نہ پیدا کرنا اللہ پر لازم ہے۔ یہ مسئلہ اس آیت سے ثابت نہیں ہوتا ‘ اس آیت کا تو مطلب یہ ہے کہ اللہ اس چیز کو جو تم لوگوں کے لئے بہتر ہو اختیار کرنے کا حق رکھتا ہے یعنی اپنی مہربانی اور کرم سے تمہارے لئے فائدہ رسال بات اختیار کرتا ہے (کیا اللہ پر ایسا کرنا واجب ہے ‘ یہ تو آیت سے ثابت نہیں ہوتا) ۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ آیت اس امر پر دلالت کر رہی ہے کہ انسان اپنے ہر فعل میں مجبور ہے ‘ کوئی (ترجیحی) اختیار نہیں رکھتا۔ مگر یہ استدلال غلط ہے ورنہ الْخِیَرَۃ نہ ہوتا بلکہ خیرَۃ (کوئی اختیار نہیں) مذکور ہوتا ‘ الْخِیَرَۃ تو بتارہا ہے کہ خاص قسم کا اختیار بندہ کو نہیں۔ اس میں الف لام عہدی ہے یعنی کسی کو پیغمبر بنانے کا اختیار بندوں کو نہیں ‘ شان نزول سے یہی معلوم ہوتا ہے۔
Ayah 28:69

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور ان کے سینے جو کچھ مخفی کرتے اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار اس کو جانتا ہے

وربک یعلم ما تکن صدروھم وما یعلنون . اور آپ کا رب جانتا ہے ان باتوں کو جو ان کے سینوں کے اندر چھپی ہوئی ہیں (جیسے رسول اللہ سے حسد و دشمنی) اور جو یہ لوگ ظاہر کرتے ہیں (جیسے رسول اللہ پر طعن و طنز) ۔
Ayah 28:70

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا اور آخرت میں اُسی کی تعریف ہے اور اُسی کا حکم اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

وھو اللہ لا الہ الا ھو . اور وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا قابل عبادت اور کوئی نہیں۔ یہ مذکورہ بالا آیات کی تائید ہے۔ لہ الحمد الاولیٰ ولاٰخرۃ . اسی کو استحقاق ستائش ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ کیونکہ اصلی حسن و جمال اسی کا ہے ‘ دوسروں کے اندر جمال مستعار ہے (حمد کا معنی ہے کسی کی خوبی کی تعریف کرنا زبان سے) وہی ساری نعمتیں عطا کرنے والا یہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ مؤمن دنیا میں بھی اس کی حمد کرتے ہیں اور آخرت میں بھی کریں گے۔ جنت میں داخلہ کے بعد کہیں گے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَن حمد اس خدا کے لئے جس نے ہمارا غم دور کردیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ اس اللہ کے لئے ہر طرح کی ثنا سزاوار ہے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ ولہ الحکم . اسی کا فیصلہ (حکم) ہر چیز میں نافذ ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اہل طاعت کے لئے اس کا حکم مغفرت اور گناہ گاروں کے لئے فیصلۂ بدبختی نافذ ہے۔ والیہ ترجعون . اور اسی (کے حکم) کی طرف تو لوٹائے جاؤ گے ‘ مرنے کے بعد زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے۔
Ayah 28:71

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

کہو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات (کی تاریکی) کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے ہے جو تم کو روشنی لا دے تو کیا تم سنتے نہیں؟

قل ارء یتم ان جعل اللہ علیکم الیل سرمدا الٰی یوم القیمۃ من الہ غیر اللہ یاتیکم بضیآء افلا تسمعون . (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ بھلا بتاؤ تو اگر اللہ روز قیامت تک مسلسل رات ہی رات تم پر کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لئے روشنی لے آئے گا ؟ کیا تم (گوش ہوش سے اتنی بات بھی) نہیں سنتے ؟ اَرَءَ یْتُمْ اے مکہ والو ! مجھے بتاؤ۔ سَرْمَدًا ہمیشہ ‘ یہ لفظ سُرُود سے بنا ہے اور مبالغہ ک صیغہ ہے۔ اس میں میم زائد ہے یعنی قیامت تک سورج نہ نکلے ‘ ہمیشہ رات ہی رات رہے۔ بِضِیَاءٍ کون معبود ہے جو تمہارے لئے روشنی لے آئے جس میں تم اپنی معاش کی تلاش کرتے ہو۔ بیضاوی نے لکھا ہے : ھَلْ اِلٰہٌ کی جگہ مَنْ اِلٰہٌ کہا صرف کافروں کے خیال کے موافق (کہ ان کے معبود صاحب علم وقدرت ہیں) ۔ اَفَلاَ تُسْمَعُوْنَ کیا میری نصیحت ‘ تدبر اور بصیرت کے ساتھ نہیں سنتے ؟
Ayah 28:72

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

کہو تو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت تک دن کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے کہ تم کو رات لا دے جس میں تم آرام کرو۔ تو کیا تم دیکھتے نہیں؟

ق ارء یتم ان جعل اللہ علیکم النھار سرمدًا الی ایوم القیمۃ من الہ غیر اللہ یاتیکم بلیل تسکنون فیہ . آپ کہہ دیجئے کہ بھلا دیکھو تو اگر اللہ تم پر ہمیشہ روز قیامت تک دن ہی دن کر دے تو اللہ کے سوا کون ایسا معبود ہے جو تم پر رات لے آئے جس میں تم آرام پاؤ ؟ کیا تم لوگ (چشم بصیرت اندوز سے) نہیں دیکھتے ؟ اَلنَّھَارَ سَرْمَدًا یعنی سورج کو وسط آسمان میں روک دے اور دن ہی دن رہے۔ اَفَلاَ تُْبْصِرُوْنَ کیا ہماری قدرت کی نشانیوں کا تم مشاہدہ نہیں کرتے ؟ رات کی صفت تَسْکُنُوْنَ فِیْہِ بیان فرمائی لیکن روشنی کی صفت کوئی ذکر نہیں فرمائی کیونکہ روشنی بجائے خود بڑی نعمت ہے۔ رات ایسی چیز نہیں ہے (حضرت مفسر کا خیال ہے) پھر روشنی کے فوائد اتنے ہیں جن کا بیان نہیں کیا جاسکتا اس لئے ضِیَآءٍ کے ساتھ اَفَلاَ تُسْمَعُوْنَ اور لیل کے ساتھ اَفَلاَ تُْبْصِرُوْنَ فرمایا کیونکہ عقل کو سننے سے فوائد بکثرت حاصل ہوتے ہیں ‘ دیکھنے سے اتنے منافع حاصل نہیں ہوتے۔
Ayah 28:73

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات کو اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اس میں اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو

ومن رحمتہ جعل لکم الیل والنھار لیسکنوا فیہ ولتبتغوا من فضلہ ولعلم تشکرون . اور ا اللہ نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تاکہ رات میں تم آرام پاؤ اور (دن میں) اللہ کے فضل کو تلاش کرو اور تاکہ تم (ا اللہ کی نعمتوں کا) شکر ادا کرو۔ مِنْ فَضْلِہٖ یعنی دنیا اور آخرت کے منافع تلاش کرو۔ فِیْہِ کی ضمیر لیل کی طرف لوٹ رہی ہے ‘ اس صورت میں لف و نشر مرتب ہوگا (پہلے دو چیزوں کا ذکر یکجائی کیا پھر ہر ایک کا حکم اور حال ترتیب کے ساتھ الگ الگ بیان کردیا۔ جس چیز کا ذکر پہلے کیا تھا ‘ اس کا حکم پہلے بیان کیا اور جس کا ذکر پیچھے کیا تھا ‘ اس کے حکم کو پیچھے ذکر کیا) زجاج نے کہا کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فِیْہِ سے مراد ہو ھُو فِی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا یعنی رات و دن اس لئے بنائے کہ تم دونوں میں ہر ایک میں آرام پاؤ اور اللہ کے فضل کو تلاش کرو۔ میں کہتا ہوں : چونکہ سکون و آرام کی قسمیں جدا جدا ہیں اور اللہ کے فضل کی طلب بھی رات و دن میں الگ الگ طور سے ہوتی ہے اس لئے اَللَّیْل اور النَّھَار الگ ذکر کیا ‘ دونوں کو ملا کر جَعْلَ لَکُمْ الزَّمَان نہیں فرمایا۔
Ayah 28:74

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس دن وہ اُن کو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک جن کا تمہیں دعویٰ تھا کہاں گئے؟

. ویوم ینادیھم فیقول این شرکاء ی الذین کنتم تزعمون . اور (یاد کرو اس دن کو) جب کہ اللہ ان (کافروں) کو ندا دے گا اور فرمائے گا (آج) کہاں ہیں وہ میرے (فرض کئے ہوئے) شریک جن کو تم (اپنا سفارشی اور عذاب خدا سے بچانے والا) خیال کرتے تھے۔ یہ زجر کے بعد دوسری زجر ہے ‘ یہ تنبیہ ہے اس امر پر کہ اللہ کے غضب کا موجب سب سے بڑھ کر شرک ہے۔ پہلی زجر تھی اس بات پر کہ وہ اپنے سرداروں کے نقش قدم پر چلتے تھے اور سرداروں کا اتباع کر کے انہوں نے اللہ کی عبادت کو ترک کردیا تھا اور یہ دوسری زجر ہے اس بات پر کہ ان کا عقیدہ ہی بگڑا ہوا ہے ‘ وہ پتھروں کو اپنا سفارشی سمجھتے ہیں۔
Ayah 28:75

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم ہر ایک اُمت میں سے گواہ نکال لیں گے پھر کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو تو وہ جان لیں گے کہ سچ بات خدا کی ہے اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا

ونزعنا من کل امۃ شھیدًا فقلنا ہاتوا برھانکم فعلموا ان الحق اللہ وضل عنھم ما کانوا یفترون . اور ہم ہر امت میں سے ایک ایک گواہ (یعنی نبی کو) نکال کر لائیں گے پھر ہم (کافروں سے) کہیں گے کہ اپنی کوئی دلیل پیش کرو سو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ سچی بات خدا ہی کی تھی اور (دنیا میں) جو باتیں گھڑا کرتے تھے ‘ ان میں سے انہیں کسی بات کا پتہ بھی نہ ہوگا۔ نَزَعْنَا ہم نکال کر لائیں گے۔ شَھِیْدًا یعنی پیغمبر کو جو ان کے خلاف شہادت دیں گے۔ بُرْھَانَکُمْ اپنی دلیل یعنی اس بات کی دلیل کہ جس مذہب پر وہ چلتے تھے ‘ وہ صحیح تھا۔ اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰہِ کہ الوہیت اللہ ہی کا حق ہے ‘ الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ ضَلَّ غائب ہوجائیں گی جیسے کوئی کھوئی ہوئی چیز غائب ہوجاتی ہے۔ مَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ یعنی دنیا میں جو بےاصل باتیں گڑھتے تھے۔
Ayah 28:76

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

قارون موسٰی کی قوم میں سے تھا اور ان پر تعدّی کرتا تھا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ اُن کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اُٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اترائیے مت۔ کہ خدا اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا

ان قارون کان من قوم موسیٰ . قارون بلاشبہ موسیٰ کی قوم میں سے تھا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کے چچا کا بیٹا تھا۔ حضرت موسیٰ کے باپ کا نام عمران تھا اور قارون کا باپ یصہر تھا اور عمران و یصہر دونوں قاہت بن لادی بن یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے تھے۔ کذا اخرج ابن المنذر عن ابن جریح۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچا اور عمران کا بھائی تھا اور قارون و عمران دونوں یصہر بن قاہت کے بیٹے تھے اور بنی اسرائیل میں کوئی بھی قارون سے زیادہ توریت کا قاری نہ تھا مگر سامری کی طرح یہ بھی منافق ہوگیا۔ جلال الدین محلی نے لکھا ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کے چچا کا بیٹا بھی تھا اور خالہ کا بیٹا بھی۔ فبغی علیھم واٰتینہ من الکنوزما ان مفاتحہ لتنواء ا بالعصبۃ اولی القوۃ . پھر وہ قوم پر تکبر کرنے لگا کیونکہ ہم نے اس کو اتنے خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو (اٹھانا) بھاری پڑتی تھیں۔ روایت میں آیا ہے کہ فرعون کی طرف سے قارون کو بنی اسرائیل کا سردار بنا دیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرنے لگا (اس تفسیر پر بَغٰی عَلَیْہِمْ کا ترجمہ ہوگا قارون نے ان پر ظلم کیا) ۔ ضحاک نے کہا کہ قارون نے شرک کر کے قوم کے خلاف بغاوت کی۔ بعض لوگوں نے ترجمہ کیا کہ قارون بنی اسرائیل پر تکبر اور غرور کرنے لگا۔ بعض نے کہا : قارون نے ان پر حسد کیا اور سب سے برتروبالا ہونے کا خواستگار ہوگیا۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے بروایت قتادہ بیان کیا ہے کہ قارون موسیٰ کے چچا یعنی موسیٰ کے باپ کے بھائی کا بیٹا تھا اور بنی اسرائیل کے ساتھ دریا کو پار کرنے میں بھی شریک تھا اور بڑا خوش آواز تھا لیکن سامری کی طرح اللہ کا دشمن منافق ہوگیا۔ اللہ نے اس کو غارت کردیا اور کئے کی پوری سزا دی۔ مال و اولاد کی کثرت کی وجہ سے وہ مغرور بن گیا تھا لیکن سورة المؤمن کی آیت وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَا اِلٰی فِرْعَوْنَ وَھَامَانَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سَاحِرٌ کَذَّابٌ (ہم نے اپنی طرف سے نشانیاں دے کر موسیٰ کو فرعون اور ہامان اور قارون کے پاس بھیجا تو ان (تینوں) نے کہا کہ تو بڑا پکا جھوٹا جادوگر ہے) دلالت کر رہی ہے کہ فرعون و ہامان کی طرح قارون بھی کافر تھا۔ نہ ظاہر میں ایمان لایا تھا ‘ نہ باطن میں (یعنی منافق نہ تھا کہ ظاہر میں ایمان لے آیا ہو) ۔ شہر بن حوشب نے کہا : (غرور وتکبر کا مظاہرہ کرنے کے لئے) قارون نے اپنے کپڑوں کی لمبائی (دوسروں کے مقابلہ میں) ایک بالشت بڑھائی تھی (یعنی اس کے کپڑے نیچے لٹکتے تھے) ۔ حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص اپنا کپڑا (ازار یعنی تہبند ‘ لنگی یا کرتا ‘ عبا ‘ چغہ وغیرہ) تکبر سے کھینچ کر چلتا ہے ‘ اللہ اس کی طرف (رحمت کی) نظر نہیں کرے گا۔ رواہ البغوی۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی چادر غرور کی وجہ سے کھینچتا چلتا ہے ‘ اللہ (قیامت کے دن رحمت کی) نظر سے اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ امام احمد اور نسائی نے صحیح سند سے حضرت ابن عباس کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ اللہ (رحمت کی نظر سے) اس شخص کو نہیں دیکھے گا جو اپنی ازار (لنگی یا تہبند) کو گھسیٹتا چلتا ہے۔ مِنَ الْکُنُوْزِ جمع کردہ اموال کے ذخیرے۔ مَفَاتِحَہٗ یعنی مالوں کے صندوق کی کنجیاں۔ مَفَاتِحُ مِفْتَح کی جمع ہے ‘ قتادہ اور مجاہد اور ایک جماعت علماء کا یہی قول ہے۔ بعض نے کہا کہ مَفَاتِح سے مراد خزانے ہیں جیسے اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا ہے : وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ اللہ کے پاس غیب کے خزانے ہیں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ لیکن اس مطلب پر اگلی آیت لَتَنُوْٓءُ ا بالْعُصْبَۃِ اُولِی الْقُوَّۃِ سے قارون کے خزانوں کی زیادہ فراوانی ثابت نہ ہوگی کیونکہ چالیس آدمی (جو عصبہ کا معنی کہا جاتا ہے) چار لاکھ درہم بھی نہیں اٹھا سکتے۔ جریر نے بوساطت منصور خیثمہ کا بیان نقل کیا ہے ‘ خیثمہ نے کہا : میں نے انجیل میں دیکھا تھا کہ قارون کے خزانوں کی کنجیاں ساٹھ خچروں کا بوجھ ہوتی تھیں۔ کوئی کنجی ایک انگلی سے بڑی نہ تھی اور ہر کنجی ایک خزانے کی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قارون جہاں جاتا تھا ‘ اپنے خزانوں کی کنجیاں اپنے ساتھ اٹھا کرلے جاتا تھا اور وہ کنجیاں لوہے کی تھیں۔ جب بوجھ زیادہ ہونے لگا تو اس نے لکڑی کی کنجیاں بنوا لیں پھر ان کنجیوں کا بار بھی زیادہ ہونے لگا تو گائے کے چمڑے کی کنجیاں ایک ایک انگلی کے برابر تیار کرا لیں۔ یہ کنجیاں بھی (اتنی بھاری ہوگئی تھیں کہ) اس کے ساتھ چالیس خچروں پر لد کر جاتی تھیں۔ روایات مذکورہ میں سے کسی روایت کی تائید قرآن سے نہیں ہوتی کیونکہ قرآن مجید میں اَلْعُصْبَۃ کا لفظ ہے اور عصبہ مردوں کی جماعت کو کہتے ہیں ‘ خچروں کی جماعت کو نہیں کہتے۔ بغوی نے لکھا : عُصْبَۃ کی عددی تعیین میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ مجاہد نے کہا : دس سے پندرہ تک کی جماعت کو عصبہ کہتے ہیں۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس کا قول بیان کیا ہے کہ تین سے دس تک عصبہ ہوتا ہے۔ قتادہ نے کہا : دس سے چالیس تک کی جماعت عصبہ ہے۔ قاموس میں بھی یہی کہا گیا ہے۔ بعض نے ستر کی تعداد بیان کی ہے۔ حضرت ابن عباس کا ایک قول آیا ہے کہ اس کی کنجیاں چالیس قوی ترین آدمی اٹھایا کرتے تھے اور لَتَنُؤْٓءُ ا بالْعُصْبَۃِ کا مطلب کا یہ ہے کہ ایک جماعت ان کو لے کر چلتی تھی اور جب وہ گروہ ان کو اٹھاتا تھا تو بوجھ کی وجہ سے وہ نیچے کو جھک جاتے تھے۔ ابوعبیدہ نے کہا کہ آیت میں ترکیب مقلوب ہے ‘ اصل عبارت اس طرح تھی : اِنَّ الْعُصْبَۃَ لَتْنُوءُ لَھَا۔ عرب کہتے ہیں : ناء فلاں بکذا فلاں شخص اس بھاری بوجھ کو لے کر اٹھا۔ اذ قال لہ قومہ لاتفرح ان اللہ لا یحب الفرحین . جب قوم نے اس سے کہا کہ خوشی پر مت اترا ‘ اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ فَرْحٌ کا لغوی ترجمہ یہ خوشی اور مرغوب چیز پا کر سینہ کی کشائش۔ جس فرح کی ممانت کی گئی ہے وہ فرح بمعنی غرور ہے۔ جب انسان اپنے کو غنی پاتا ہے تو اترانے لگتا ہے ‘ مغرور ہوجاتا ہے ‘ تکبر کرنے لگتا ہے۔ ایسی فرح کی ممانعت ہے ‘ اللہ نے اسی کو طیغان (پھولنا نہ سمانا ‘ حد سے تجاوز کرنا) فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے : اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰی اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی انسان نے اپنے کو غنی پایا تو طغیان (غرور ‘ تکبر) کرنے لگا۔ قاموس میں ہے : فرح کا معنی ہے خوشی اور (اپنے کو) دیکھنا۔ بغوی نے لاَ تَفْرَحُ کا ترجمہ کیا ہے نہ اترا ‘ غرور نہ کر ‘ نہ اکڑ۔ فرح یعنی حصول مقصد سے خوشی تو فطری امر ہے ‘ بندہ کے اختیار کو اس میں دخل نہیں اس لئے اس کی ممانعت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ دنیا ملنے پر خوش ہونا مطلقاً مذموم ہے (خواہ غرور وتکبر پیدا ہو یا نہ ہو) کیونکہ دنیا کی محبت اور دنیا کی پسندیدگی موجب ہے زوال دنیا کی طرف سے غافل ہوجانے کی اور فنا وزوال کی طرف سے غافل ہونا بہرحال مذموم ہے یہ سمجھ لینا کہ دنیا فانی ہے ‘ اس کی ہر لذت زوال پزیر ہے ‘ یہ آنی جانی ہے ‘ انسان سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ دنیا سے دل نہ لگائے اسی لئے اللہ نے فرمایا ہے : لاَ تَاْسَوْا عَلٰی مَافَاتَکُمْ وَلاَ تَفْرَحُوْا بِمَا اٰتٰکُمْ جو چیز تم کو نہ ملی اس کا غم نہ کرو اور جو کچھ اللہ نے تم کو عطا فرما دیا ہے اس پر خوش نہ ہو۔ لاَ تَفْرَحْ (یعنی ممانعت فرح) کی علت یہ ہے کہ یہ فرح ہم کو اللہ کی محبت سے روکتی ہے اسی لئے فرمایا۔ اِنَّ اللہ لاَ یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ یعنی جو دنیا کی پرفریب لذتوں سے خوش ہوتے اور غرور وتکبر کرتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے ‘ اللہ ان کو پسند نہیں کرتا۔ بعض اہل تحقیق نے لکھا ہے کہ قرآن مجید کے اندر متعدد آیات میں فرح کی مذمت کی گئی ہے۔ ایک جگہ فرمایا ہے : وَلَمَّا جَآءَ تْھُمْ رُسُلْنَا بالْبَیِّنَاتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَھُمْ مِّنَ الْعِلْمِ ۔ دوسری جگہ فرمایا ہے : وَفَرِحُوْا بالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا۔ تیسری جگہ فرمایا ہے : ذٰلِکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَفْرِحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ۔ ایک اور جگہ فرمایا ہے : حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا بِمَا اُوْتُوْا۔ فرح کی اجازت صرف آیت فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا میں اور آیت وَیَوْمَءِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ بِنَصْرِ اللہ میں دی گئی ہے۔ میرے نزدیک قول فیصل یہ ہے کہ دنیا میں اس نعمت کے ملنے پر جو آخرت میں کام آنے والی ہے ‘ فرح کرنا بہرحال قابل تعریف ہے اور اسی کا حکم آیت فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا میں دیا گیا ہے۔ اور جس دنیاوی نعمت کے ملنے پر اللہ کا شکر بھی ادا کیا جائے اس پر بھی خوش ہونا اچھا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : کھانے والا شکرگزار روزہ دار صابر کی طرح ہے۔ ہاں اگر دنیوی لذتوں کے حصول کے بعد طغیان ‘ سرکشی اور ناشکری پیدا ہوجائے تو قطعاً ایسی نعمت پر خوش ہونا مذموم ہے۔ خوش ہونے کا مذموم یا محمود ہونا شکر اور ناشکری کی بنا پر ہے۔ فی نفسہ بذات خود حصول مطلوب پر خوش ہونا تو فطری امر ہے ‘ انسان کے اختیار کو اس میں دخل نہیں ‘ شریعت کا کوئی حکم ا سے متعلق نہیں (غیراختیاری) چیز کا انسان مکلف نہیں) اگر بندہ کو اللہ سے سچی محبت ہوگی تو وہ اس چیز سے ضرور خوش ہوگا جو اللہ کی خوشنودی حاصل ہونے کا ذریعہ ہو ‘ پس اللہ سے محبت اس کو نہیں ہوسکتی جو اپنے مطلب کے حصول سے صرف اس لئے خوش ہوتا ہے کہ وہ اس کا مطلوب ہے ‘ مرغوب خدا ہونے نہ ہونے کا اس کو کوئی خیال نہیں ہوتا۔